پروفیسر عبد الرؤف صاحب کی تنقید کے جواب میں

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ شمارہ جنوری ۲۰۰۹ میں محترم پروفیسر عبد الرؤف صاحب نے راقم الحروف کے مضمون ’’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟‘‘ کا تنقیدی جائزہ پیش کیاہے۔ درحقیقت صاحب تنقید نے ’تنقید ‘ سے زیادہ ’تبصرہ‘ تحریر فرمایاہے کیونکہ ان کے مضمون کا نصف سے زیادہ حصہ ہمارے مضمون کے خلاصے اور تجزیے پر مشتمل ہے۔ پروفیسر صاحب کی تنقید پڑھنے کے بعد راقم الحروف کسی تفصیلی جواب کا موقع نہیں پاتا کیونکہ پروفیسر صاحب نے ہمارے مضمون کے مرکزی خیال یعنی ’اسلامی معاشیات سرمایہ داری کا ایک نظریہ ہے‘ پر کوئی اصولی نقد پیش کرنے کے بجائے چند جزوی باتوں پر اعتراض اٹھایا ہے۔ اپنی تنقیدمیں پروفیسر صاحب نے نہ تو سرمایہ داری اور سرمایہ دارانہ عمل پر کچھ تحریر فرمایا اور نہ ہی یہ بتایا کہ کس طرح اسلامی معاشیات لبرل سرمایہ داری کے بنیادی مقدمات کی نفی کرکے کسی جدا گانہ معاشی صف بندی کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ انکا زیادہ تر تبصرہ اسلامی معاشیات کے حق میں پیش کردہ عذر (apology)کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ انکے اٹھائے گئے چند جزوی اعتراضات و اشکالات پر مختصراً وضاحت پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ 

۱۔ سب سے پہلے پروفیسر صاحب نے ہمارے انداز بیان کی شدت پر اعتراض کیا ہے۔ اگر امر واقعی ویسا ہی ہے جیسا کہ پروفیسر صاحب نے ارشاد فرمایا تو ہم اسپر معذرت خواہ اور توجہ دلانے کیلئے انکے شکر گزار ہیں۔ امید ہے وہ اسے راقم الحروف کی تحریری کمزوری پر محمول کریں گے، انشاء اللہ مستقبل میں اس قسم کی کمزوری دور کرنے کی کوشش کی جائے گی (ویسے جب غلط بات کو پوری شد و مد کے ساتھ فروغ دیا جارہا ہو تو اسکا رد بھی اتنے ہی زور دار انداز میں کرنا ضروری ہوجاتا ہے ) ۔

۲۔ ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ مولانا تقی عثمانی صاحب کی کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں سے کیا مراد ہے ہم سمجھ نہیں پائے۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب سے استفادہ نہ کیا جائے کہ اسمیں جو کچھ لکھا ہے وہ درست نہیں یا یہ کہ وہ سب کچھ حتمی نہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو مولانا کو کتاب کے سر ورق سے اپنا نام حذف کردینا چاہئے تھا۔ اگر یہ کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں تو اسے ہزاروں کی تعداد میں کئی بار چھپوا کر کیوں پھیلادیا گیا ہے؟ اسے مدارس کے نصاب میں کیوں شامل کرلیا گیا ہے؟ ویسے اس کتاب کے علاوہ اسلامی معاشیات پر مولانا کی دیگر ’باقاعدہ‘ تصا نیف میں بھی انہیں نظریات کا پرچار کیا گیا ہے ۔ (مثلاً دیکھیے ان کی کتاب An Introduction to Islamic Finance ) پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب نے یہ نہیں فرمایاکہ جو کچھ اس کتاب میں کہا گیا ہے وہ تشنہ یا نامکمل ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ عام قاری کے لیے اسے سمجھنا ذرا مشکل ہے ۔

۳۔ ہمیں مولانا تقی عثمانی صاحب کی دینی علوم پر مہارت کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں، البتہ علم معاشیات پر ان کی مہارت کے بارے میں ایسا کہنا اور ماننا مشکل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا نے علم معاشیات کی تفصیلات اور اسکے فکری پس منظر و مغربی فلسفے کی تعلیم کس حد تک اور کن حضرات سے حاصل کی ہے۔ جن دو حضرات (ڈاکٹر ارشد زمان اور سید محمد حسین صاحب) کے نام مولانا نے اپنی کتا ب کے تعارف میں بیان کیے ہیں، اگر واقعی مولانا نے علم معاشیات کی تحصیل ان حضرات سے کی ہے تو ان کی علمی ثقاہت مزید شکوک کا شکار ہوجاتی ہے۔ (مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا کے استاد جناب ارشد زمان صاحب اسلامی بینکاری سے تائب ہوچکے ہیں) ۔

۴۔ پروفیسر صاحب نے مولانا کی کتا ب سے اقتباسات نقل کرکے نتیجے اخذ کرنے کے طریقہ کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ یقیناًیہ طریقہ غیر معتبر ہوتا اگر مولانا کی کتاب سے ابھرنے والا عمومی تصور اور انکی کتاب سے پیش کردہ جزوی حوالوں سے اخذ شدہ تصویر میں تضاد ہوتا۔ اگر واقعی ایسا کوئی تضاد ہے تو پروفیسر صاحب نشاندہی فرمادیں، ہمیں قبول کرنے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔ پروفیسر صاحب نے اپنی بات کو وزنی بنانے کیلئے یہ مثال پیش کی ہے کہ ہم نے مولانا تقی عثمانی صاحب کے ایک اقتباس سے غلط بلکہ غیر ذمہ دارانہ معنی اخذ کئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے یہ معنی زبردستی نہیں بلکہ عین مولانا کی فکر سے نکالے ہیں۔ کیا مولانا تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب میں ’ترقی بطور قدر ‘ اور ’طلب و رسد کے قوانین کو فطری ‘ نہیں مانتے؟ اگر مانتے ہیں جیسا کہ نفس امری ہے تو علم معاشیات کا ادنی طالب علم بھی اس بات سے واقف ہے کہ ترقی بطور قدر کا اثبات خواہشات کی فطری لامحدودیت کے اقرار کے بغیر ممکن نہیں نیز طلب و رسد کے قوانین کے پیچھے جو ذہنیت و عقلیت کار فرما ہے وہ لذت پرستی کے سواء اور کچھ نہیں۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ ’قلیل ذرائع سے زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل‘ کو مولانا ’بنیادی معاشی مسئلے ‘ کے طور پر قبول کرنے کے ’بعد‘ مختلف نظامہائے معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذرائع پیداوار سے زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل کا اسلامی طریقہ کیا ہے (دیکھئے انکی کتاب کے مضامین کی ترتیب)۔

۵۔ پروفیسر صاحب نے مولانا کی بیان کردہ حلال و حرام کی چند تحدیدات کا ذکر کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مولانا کا نظریہ اسلامی معاشیات لبرل سرمایہ داری سے علی الرغم کوئی منفرد شے ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں کیونکہ ہم اپنے مضمون میں بیان کرآئے ہیں کہ : 

اسلامی معاشیات = لبرل سرمایہ داری + چند اسلامی تحدیدت 

مولانا ان تحدیدات کو اس طور پر بیان کرتے ہیں گویا یہ کسی بڑے فطری نظام زندگی کی اصلاح کا ذریعہ ہیں اور سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کو فطری سمجھنا ہی انکی بنیادی غلطی ہے کیونکہ اس اقرار کے بعد سرمایہ دارانہ اہداف کا کوئی علمی رد ممکن نہیں رہتا۔ اسلام کو علمیت کے بجائے محض چند حلال وحرام (Do's and Don'ts)کا مجموعہ سمجھنا اسلامی ماہرین معاشیات کی سخت غلطی ہے ۔

۶۔ پروفیسر صاحب نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ ہم نے اپنی تنقید قرآن وسنت کے بجائے محض عقل کی روشنی میں کی ہے۔ درحقیقت ہر مضمون کا ایک مخصوص پس منظر ہوتا ہے جس کی رعایت کرتے ہوئے اسے تحریر کیا جاتا ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات لبرل سرمایہ داری کو اسلامیانے کے لیے قرآن و سنت جو استدلال پیش کرتے ہیں وہ نہایت سطحی تجزیے پر مشتمل ہوتے ہیں، ان کے استدلال کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک حدیث سے پوری لبرل معاشیات اخذ کرڈالتے ہیں، جبکہ اس حدیث کے اس معنی کے حق میں متقدمین کا کوئی حوالہ تک پیش نہیں کیا جاتا۔ (ان کے استدلال کی نوعیت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی اسلام سے سوشلزم کا اثبات کرنے والے حضرات کی ہوتی ہے)۔ اسلامی معاشیات و بینکاری کے حق میں پیش کردہ اکثر و بیشتردلائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں (مثلاً کمپنی کا جواز بیت المال سے نکالنا) جو ایک عقلی طریقہ استدلال ہے اور ان کا رد بھی اصولاً عقلی بنیادوں پر ہی ہوگا اور اسی کی ہم نے کوشش کی ہے کہ ان قیاسات (مع الفارق) کی خرابی واضح کی جائے۔ ہمارے مضمون کا مقصد بھی اس سطحی انداز استدلال کی غلطی واضح کرنا تھا۔ باقی رہے شرعی دلائل تو الحمدللہ اسلامی بینکاری اور کمپنی وغیرہ کے تصورات پر تفصیلی فقہی تنقید علماے کرام کے متفقہ فتوے میں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے لہٰذا اس پر مزید کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں ۔

۷۔ پروفیسر صاحب نے دبے لفظوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل انہدام کا سبق شاید ہم نے مارکس سے سیکھا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات ہی سرے سے غلط ہے کہ مارکس سرمایہ داری کا مخالف تھا، کیونکہ وہ ’سرمایہ داری ‘ نہیں بلکہ صرف اس کی ایک ’مخصوص تعبیر ‘ کا مخالف تھا۔ سرمایہ داری کے دو بڑے نظریات ہیں: (۱) لبرلزم (جسے عام طور پر مارکیٹ سرمایہ داری (market capitalism)یا محض سرمایہ داری کہہ دیا جاتا ہے)، (۲) اشتراکیت (جسے ریاستی سرمایہ داری (state capitalism)بھی کہتے ہیں)۔ یہ کہناکہ مارکس سرمایہ داری کا مکمل انہدام چاہتا تھا اصولاً غلط دعوی ہے کیونکہ وہ انہیں آدرشوں (آزادی، مساوات اور ترقی) کی تعلیم دیتا اور انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے جنہیں سرمایہ داری حق کہتی ہے البتہ اس کے خیال میں ان اہداف کو حاصل کرنے کا حتمی اور درست طریقہ لبرل سرمایہ داری نہیں بلکہ اشتراکیت (یعنی بڑھوتری سرمائے کے نظام کو تیز ترقی دینے کیلئے پیداواری عمل کو مارکیٹ کے بجائے ریاستی مشنیری کے تابع کرنا)ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ان جاہلانہ اہداف ہی کو رد کرتے ہیں جنہیں سرمایہ داری فرد، معاشرے اور ریاست کا مقصد قرار دیتی ہے اور اسلامی معاشیات جنہیں فطری سمجھ کر اسلامیانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک اسلامی تبدیلی یہ ہے کہ ’تمام سنتوں ‘ کا احیا اور ان پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کے امکانات اور ترجیحات کا فروغ ممکن ہو سکے۔ ان سنتوں میں یہ بھی شامل ہیں: 

  • ایسی کاروبار ی صف بندی ونظم کا احیاء اور تشکیل جو عشاء کے بعد جلد سونے اور عبادت میں مشغولیت کی ترجیحات کو فروغ دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کے بعد جاگنا نا پسند تھا ۔
  • افراد میں بازاروں میں کم از کم وقت گزارنے کی ترغیب دلانا کہ بازار اللہ کے نزدیک برے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی زہداور فقر پر مبنی طرز زندگی کا فروغ کہ سرکار دوعالم نے فقر کو اپنا فخر قرار دیا ۔
  • خیر القرون کے دور کی طرح صلہ رحمی پر مبنی خاندان، برادری اور قبیلے کے اداروں پر قائم معاشرت کا احیاء و استحکام 
  • نظام جبر اور ریاستی فیصلوں کا علمائے کرام کے ماتحت کردینا یعنی theocracyقائم کرنا بھی ہے، یہ چند مثالیں ہیں، تفصیل کا موقع نہیں۔

ہر ریاستی قانون اور پالیسی کا مقصد افراد میں مخصوص نوع کی ترجیحات کو فروغ دینا ہوتا ہے (اس نکتے کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں، مثلاً اگر یہ قانون بنا دیا جائے کہ گاڑی چلانے کی زیادہ سے زیادہ رفتار ۳۰ سے ۴۰ کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی تو لوگوں کی کام کاج کے اوقات و مقامات نیزسفری و رہائشی ترجیحات میں یکسر تبدیلی رونما ہوگی) اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی کاروباری پالیسی مرتب کرے جو افراد میں حرص و حسد (accumulation and competition) نہیں بلکہ قناعت پسندی، فقر ا ور زہد کے جذبات کو ابھارے کیونکہ یہی جذبات توشہ آخرت جمع کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ امام غزالیؒ کی تعلیمات کو فرد کی دنیاوی زندگی سے علیحدہ گردان کر انہیں ’دنیا سے بے رغبتی‘ پر ابھارنے والی کہہ کر نظر انداز (sideline) کرنے کی کوشش ہمارے نزدیک عجیب بات ہے۔ اسلامی انفرادیت وہی ہے جس کی زندگی کا ’ہر فیصلہ‘ (چاہے وہ عمل تجارت کا ہو یا صرف کرنے کا ) ان اقدار و جذبات (sentiments)کا غماز ہوتا ہے جنکی تعلیم امام غزالیؒ نے فرمائی ۔

۸۔ پروفیسر صاحب نے ہم پر تنقید کرنے کیلئے امام غزالیؒ کا کاروبار کرنے کے حوالے سے جو اقتباس پیش کیا ہے وہ اس بحث سے صاف ہوجانا چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کاروبار نہیں کرنا چاہئے، ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ نفع خوری کی بنیاد پر کاروبار کی تنظیم قائم نہیں ہونی چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کاروبار کی ایک مخصوص تنظیم اور صف بندی جسے for profit-maximizing enterprise) کہتے ہیں ( کے خلاف ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امام غزالیؒ کے پیش کردہ اقتباس میں بھی تجارت کو ’عبادت‘ نہ کہ ’profit-maximization‘ کے نظم اجتماعی کے ما تحت کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے۔ پروفیسر صاحب جب یہ کہتے ہیں کہ آجکل کے دور میں صنعتیں لگانے کا مروجہ نظام ہی کاروبار کا طریقہ ہے تو وہ اس طریقے کو گویا غیر اقداری فرض کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اسے کسی بھی قدر سے مزین کیا جاسکتا ہے جبکہ ایسا ہرگز بھی نہیں کیونکہ موجودہ نظم پیداوار مخصوص اخلاق رزیلہ (حرص و حسد جنہیں خوبصورت الفاظ میں accumulation and competition کہا جاتا ہے) کی تشکیل و ترتیب کا نتیجہ اور انکا محافظ ہے۔ حیرت ہے پروفیسر صاحب نے امام غزالیؒ کی کاروبار کرنے کی تلقین تو نقل کی مگر امام صاحب کے کاروبار کرنے کا تجویز کردہ طریقہ وہ نہ دیکھ سکے ۔ مثلاً امام صاحب فرماتے ہیں : 

  • تاجر بازار میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیت سے داخل ہو۔
  • تاجر بازار میں کم سے کم وقت گزارنے کی کوشش کرے ۔
  • تاجر اور خریدار دوران بیع اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہیں ۔
  • تاجر کو اپنا نفع کم سے کم رکھنا چاہے۔
  • تاجر زاہدانہ طرز زندگی اختیار کرے اور جونہی اتنا مال بک جائے جو اس مخصوص طرز زندگی کے لیے کافی ہو تواپنی دکان بند کردے ۔
  • تاجر حرص اور حسد سے کلیتاً اجتنا ب کرے۔
  • مزدوری کا وقت نماز اشراق سے ظہر کے درمیان رکھنا بہتر ہے ۔
  • دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دو دن کی مزدوری پر اکتفا کرنا چاہیے۔ (یعنی ضرورتوں اور پیداواری عمل ہی کو محدود رکھنا چاہیے) ۔ (احیاء العلوم، جلد ۲ ، ۱۴۱-۱۴۶) 

۹۔ پروفیسر صاحب اپنے تجزئیے میں وہی غلطی دہراتے ہیں جو اسلامی ماہرین معاشیات کو لاحق ہے کہ مقاصد سے علی الرغم چند اجزا کی مماثلت کی بنا پر اسلام کو مغربی تناظر میں سمجھنا، جیسا کہ نجی ملکیت کی مثال سے عین واضح ہے۔ اگر پروفیسر صاحب کے نزدیک مقاصد سے علی الرغم ساخت کی درستگی کافی ہے تو وہ بتائیں کہ انہیں ہمارے پیش کردہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ پر کیا اعتراض ہے؟ انہیں ہمارے تجویز کردہ ’طلاق دلوانے کے بزنس‘ میں کیا خرابی نظر آتی ہے؟ اگر ایک شخص سال ختم ہونے سے ایک ماہ یا ایک دن قبل اپنی جائیداد بیوی کے نام کرکے زکوۃ بچالے تو اس میں کیا حرج ہے؟ فقہ کے مشہور قاعدے الامور بمقاصدھا  (یعنی معاملات کو ان کے مقاصد کے اعتبار سے دیکھا جائے گا) کا کیا معنی ہے؟ اصول فقہ کی کتب میں مقاصد الشریعہ کی بحثوں کا تناظر کیا ہے؟ آخر اصحاب السبت کا جرم کیا تھا؟ مقاصد کو پس پشت ڈال کر ساخت کی دستگی پر توجہ دینے پر تفصیلی کلام ہمارے مضمون ’’اسلامی متبادل کے فلسفے کا جائزہ‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے گا۔ (مضمون عمار صاحب کی خدمت میں دو ماہ قبل ہی ارسال کیا جا چکا ہے۔ بس چھپنے کا منتظر ہے) یہاں اس غلطی کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے کہ ’ نجی ملکیت کے معاملے میں لبرل سرمایہ داری اور اسلام مماثل ہیں ‘ کیونکہ لبرل سرمایہ داری نجی ملکیت ختم کرکے کارپوریٹ ملکیت قائم کرتی ہے جو نجی ملکیت کی نفی ہے ۔

۱۰۔ پروفیسر صاحب نے مختلف علما کے اقوال نقل کرکے ’عقلی حکمتوں کی بنیاد پر شریعت میں تبدیلی‘ کرنے کی جو مذمت بیان کی ہے، اس کا نفس مضمون سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم خود بھی اس کے سخت خلاف ہیں اور نہ ہی ہم نے اپنے مضمون میں ایسی کوئی کوشش کی ہے ۔ اس معاملے میں ہم امام اشعریؒ کے مقلد ہیں کہ حسن و قبح افعال کے ذاتی، فطری یا عقلی نہیں بلکہ شرعی اوصاف ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اسلام میں نجی ملکیت کا جو اصول ہے حالات کے تقاضوں کے تحت اسے ختم کردینا چاہئے بلکہ ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ نجی ملکیت کی بقا کے لیے سرمایہ دارانہ (کارپوریٹ) ملکیت ختم کرنا لازم ہے کیونکہ اس کے فروغ کے نتیجے میں نجی ملکیت ناممکن ہوتی چلی جاتی ہے۔ شاید پروفیسر صاحب کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ ہمارا تعلق بھی اس گروہ سے ہے جو مقاصد الشریعہ کی آڑ میں شریعت کی تبدیلی اور نسخ کی بات کرتا ہے۔ الحمدللہ ہم ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کہتے بلکہ ہماری بات اسلامی تاریخ اور علمیت کے تسلسل پر مبنی ہے اور ہم انہی کے احیاء کی دعوت دیتے ہیں۔ ہاں ہمارے مباحث ضرور نئے ہیں جس کی وجہ یہ مجبوری ہے کہ سرمایہ داری کے غلبے نے چند نئے مسائل پیدا کردیے ہیں اور جن کے محاکمے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم اسلامی علمیت اورتہذیبی روایت کی روشنی میں ان کا مطالعہ کیا جائے۔ تجدید اور تجدد پسندی میں یہی فرق ہے کہ تجدید کا مطلب نئے مسائل کا ایسا حل تلاش کرنا ہے کہ خیر القرون کی طرف مراجعت ممکن ہو سکے (اس عمل میں گمراہ کن نظریات کی تنقیح بھی شامل ہے) جبکہ تجدد پسندی کا مطلب اپنی علمی روایت ترک کرکے نئے مسائل اور وقت کے تقاضوں کی روشنی میں دین میں تبدیلی لاناہے۔ دوسرے لفظوں میں تجدید کا معنی ’احیائے دین‘ (revival or refreshal of the tradition) ہے جبکہ تجدد کا مطلب دین کی اصلاح یا تعبیر و تشکیل نوع (Reformation or Reconstruction)کرناہے۔ گویا تجدید اور تجدد میں مشترک شے مسائل و مباحث کی یکسانیت اور فرق کرنے والی شے دونوں کا زاویہ نگاہ (approach) اور نتائج ہیں ۔

۱۱۔ جمہوریت پر ہماری تفصیلی رائے اور اس کے حق میں دیے جانے والے دلائل کے تجزیے پر ہمارا مضمون بھی کئی ماہ سے عمار صاحب کے پاس موجود ہے۔ ان شاء اللہ جلد چھپ کر منظر عام پر آئے گا ۔

امید ہے اس وضاحت سے غلط فہمیاں دور ہوں گی۔

آراء و افکار

(فروری ۲۰۰۹ء)

Flag Counter