روایت اور درایت

راجہ انور

زمانہ بدل گیا۔ دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی، مگر درسی ملائیت نے اپنی روش نہ بدلی۔ وہ ہمیشہ منجمد اذہان کی تولید گاہ اور فکری رجعت کی آماج گاہ بنی رہی۔ مدارس نے جدید سائنسی علوم کو کفر کا شاخسانہ گردانتے ہوئے ہر نئی ایجاد کو شیطانی بازیچہ قرار دیا۔ لاؤڈ اسپیکر پر بھی الحادکا فتویٰ چسپاں ہوا اور ہوائی جہاز کو بھی ابلیسی پرواز سے عبارت کیا گیا ۔ اس رویے کی وجہ درس نظای کا نصاب تھا جس کی ’’جدیدیت‘‘ کا اندازہ فقط ایک اسی بات سے لگا لیجیے کہ ا س کے نصاب میں شامل جدید ترین کتاب بھی ساڑھے تین سو برس پرانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس آج تک نہ تو شبلی اور حالی کا پرتو پیدا کر سکے اور نہ اقبال یا فیض کا نعم البدل۔نہ منٹو ایسا خاکہ نویس اور نہ کوئی مزاح نگار۔ خیر یہ کچھ تو انھوں نے کیا پیدا کرنا تھا، وہ مولانا امین احسن اصلاحی اور علامہ جاوید غامدی بھی پیدا نہ کر سکے۔ ان کی علمیت اہل دانش پر تبرا کرنے اور بصیرت تاریخ کے پیچھے گھسیٹتے رہنے تک محدود رہی۔ تحریر وتقریر میں جامد الفاظ اور ساکت اصطلاحات کی فراوانی جبکہ مطالب عنقا اور معانی نابود۔

آج سے کوئی آٹھ دس برس پیشتر اخباری کالموں میں مولانا زاہد الراشدی سے میری فکری مڈبھیڑ ہو گئی۔ ’’جہاد‘‘ اور ’’سیاسی اسلام‘‘ کے موضوع پر ہم نے ایک دوسرے کے خلاف کئی کالم لکھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مولانا نے میری گردن فتوے کی دھار سے گزارنے کی بجائے انتہائی بردباری سے کام لیا اور یہ تحریری مکالمہ جاری رہا۔ مولانا کے دلائل کا منبع علم الکلام تھا اور میرے فکری تار وپود کی نمو فلسفے کی وادیوں میں ہوئی تھی۔ وہ روایت کے پیروکار اور ہم درایت کے اسیر۔ وہ امام غزالی کے مقلد اور ہم ابن رشد کے خوشہ چین۔ قارئین نے اس علمی مجادلے کو پسند کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے لوگ طبعاً مجادلہ خوش بھی ہیں اور مجادلہ پسند بھی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ہماری ’’کالمانہ جنگ‘‘ بالآخر سرسید پر منتج ہوئی۔ حسب توقع مولانا نے خالصتاً دیوبندی سُر اور لَے میں سرسید کے مذہبی عقائد کو تو جی بھر کر رگڑا لگایا، تاہم انھوں نے سرسید کی علمی خدمات کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ یہ نظری انگیخت بالآخر مولانا اور میرے درمیان شناسائی کا عنوان ٹھہری۔ 

مولانا ایک بار مجھ سے ملنے اسلام آباد تشریف لائے تو انھوں نے مجھے اپنے والد (مولانا صفدر خان) کی چند تصنیفات بھی عنایت کیں۔ مولانا کے اجداد سوات کے باسی تھے، مگر وہ اب کئی پشتوں سے گوجرانوالہ میں مقیم چلے آ رہے ہیں۔ واپسی پر مولانا نے مجھے اپنا ماہانہ مجلہ ’’الشریعہ‘‘ بھیجنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ اب تک باقاعدگی سے جاری ہے۔ میں ایک آزاد فکر اور آزاد منش انسان ہوں۔ میں ہر طرح کا لٹریچر اور ہر مکتبہ فکر کی کتابیں یکساں دلچسپی سے پڑھنے کا عادی ہوں، لیکن سچ پوچھیے تو میں آہستہ آہستہ ’’الشریعہ‘‘ کا مستقل قاری بن گیا۔ اس کی وجہ اس مجلے کا متوازن مزاج بھی تھا اور اس کا جواں سال ایڈیٹر محمد عمار ناصر خان بھی۔ اس مجلے میں مجھے پروفیسر شاہدہ قاضی کے عالمانہ مگر تلخ حقائق پر مبنی تحقیقی مضامین بھی پڑھنے کو ملے اوران پر پروفیسر انعام ورک کی تنقید بھی۔ محمد عمار ناصر کے مضامین حقائق سے قریب تر بھی محسوس ہوئے اور کلاسیکل ملائیت کی روش سے دور تر بھی۔ چنانچہ میں نے ایک بار اس نوجوان کا حدود اربعہ جاننے کے لیے مولانا کو فون کیا۔ انھوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا: ’’عمار میرا بیٹا ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’مولانا! اس گوہر نایاب کو مدرسوں کے نظام میں نہ جکڑیے کہ وہ نمک کی کان میں نمک بن کر رہ جائے گا۔‘‘ مگر شاید مدارس کے نظام میں بھی ’’امامت‘‘ نسل در نسل ہی چلتی ہے۔ ہمارے سماج کا اصل ’’کمال‘‘ یہی ہے کہ اس میں ہر شعبہ نسل در نسل ہی رواں دواں ہے۔ حاکم کی اولاد حاکم اور محکوموں کے بیٹے محکوم!

گزشتہ دنوں مجھے ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے عنوان سے محمد عمار ناصر خان کی کتاب ملی۔ اگرچہ ا س نازک مضمون پر اپنی کوئی رائے پیش کرنا مشکل ترین کام تھا، تاہم نوجوان محقق نے ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے سماجی، تاریخی اور عقلی پہلووں پر بھی سیرحاصل منطقی بحث کی۔ نیز اس دور کے عرب سماج کی ان روایات اور شرائط کو بھی واضح کیا جو ان سزاؤں کی متقاضی بھی تھیں اور ان سے مانوس بھی۔ دیت کی مانند کچھ سزائیں پہلے سے مروج تھیں جنھیں اسی حالت میں رہنے دیا گیا۔

محمد عمار ناصر کی اس کاوش کا مقام اپنی جگہ مسلم سہی، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام فقط ہاتھ پاؤں کاٹنے ہی کا نام ہے؟ کیا صرف تعزیرات ہی راز حیات اور مقصد کائنات ہیں؟ اگر ایسا نہیں تو پھر سب سے پہلے شرائط اور ایسے حالات کی تخلیق لازم ہے جو سماج میں امن اور انصاف کے ضامن ہوں۔ ریاست عوام کی پیٹھ پر درے برسانے اور ان کا خون نچوڑنے کی بجائے انھیں تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے۔ ریاستی ادارے رشوت اور سفارش کی بیساکھیوں پر چلنے کی بجائے محکمانہ قواعد وضوابط کے مطابق کام کریں۔ سڑکوں پر بھیک مانگتے اور معذوروں کی مالی امداد کا اہتمام ہو اور صحت مند پیشہ ور بھکاریوں کو روزگار مہیا کیا جائے۔ پاکستان ایسا ملک جہاں کوئی شعبہ حیات سالم حالت میں میسر نہ ہو، جس میں سانس لینے کی ہوا بھی دھویں اور گرد وغبار سے مرکب ہو، اس سماج پر حدود وتعزیرات کا نفاذ افغانستان کے سابق حکمران ملا عمر کی مہم جویانہ تقلید کے مترادف ہوگا۔ حضرت عمر نے قحط کے زمانے میں ہاتھ کاٹنے کی سزامنسوخ کر دی تھی، کیونکہ بھوک سے بلکتے لوگوں کے معروضی حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ریاست پہلے انھیں نان ونفقہ بہم پہنچانے کا فریضہ ادا کرے اور پھر ان پر حدود وقیود عائد کرے۔ محمد عمار ناصر خان ایسے اہل علم سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ انھی روایات کی روشنی میں کوئی اجتہادی راہ عمل بھی تلاش کریں گے اور درایت کی جستجو بھی۔

(بشکریہ روزنامہ خبریں)

آراء و افکار