ڈاکٹر محمد فاروق خان کے ارشادات پر ایک نظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد فاروق خان نے الشریعہ جنوری ۲۰۰۹ ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں دہشت گردوں کے حوالہ سے ٹی وی چینل پر ہونے والے ایک مذاکرہ میں راقم الحروف کی گفتگو کے بعض مندرجات پر تبصرہ فرمایا ہے جس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ راقم الحروف نے عرض کیا تھا کہ:

’’خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعما ل کیا تھا اور ۱۹۶۵ ؁کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں ا س کا استعمال ناجائز ہوگا۔‘‘

اس پر ڈاکٹر فاروق خان ارشادفرماتے ہیں کہ:

’’مولانا کے اس نقطہ نظر سے مجھے بصد ادب واحترام اختلاف ہے۔ حسن بن صباح کسی مظلوم گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں جاپانی بھی کوئی مظلوم قوم نہیں تھے۔ جاپانیوں نے اپنے پائلٹوں کے ذریعہ دشمنوں کے بحری جہازوں پر جو خودکش حملے کیے تھے، اس کا اصل نقصان درجہ آخر جاپانیوں ہی کو پہنچا، وہ اس طرح کہ ان کے پاس پائلٹوں کی قلت ہوگئی اور وہ یوں اس اعتبار سے کمزور ہوگئے۔ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ برطانیہ نے بھی کبھی خودکش حملہ کیا ہو۔ جہا ں تک ۱۹۶۵ء کی جنگ کا تعلق ہے، چونڈہ کے محاذپر اس وقت موجود جنگی کمانڈر اس کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی سپاہی کو خودکش حملہ کا آرڈر دیا ہو۔ میرے نزدیک جس طرح حالت جنگ میں معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا ممنوع ہے، اسی طرح خود کش حملے بھی ممنوع ہیں۔ قرآن وحدیث نے اس ضمن میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا۔‘‘ 

خدا جانے ڈاکٹر صاحب نے حسن بن صباح کودرمیان میں کہاں سے گھسیٹ لیا۔ وہ شاید یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ حسن بن صباح فدائی حملے کرایا کرتا تھا اور چونکہ وہ ایسا کرتا تھا، اس لیے فدائی حملے اچھی چیز نہیں ہیں، لیکن کل کوئی شخص اگر ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھ لے کہ حسن بن صباح کے ہاں تلوار بھی استعمال ہوتی تھی تو کیا اس کے تلوار کو استعمال کرنے سے تلوار بھی ایک ناجائز ہتھیار کا درجہ اختیار کر جائے گی؟ 

جاپان کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب موصوف نے دو دلچسپ باتیں کی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے خودکش حملوں سے خود نقصان پہنچا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کا جوازا ور عدم جواز سے کیا تعلق ہے؟ اگر اس فلسفہ کو تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں جس قوم یا گروہ کو بھی کسی ہتھیار کے استعمال سے خود کو نقصان پہنچا ہو، اسے ناجائز قرار دے دینا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کو اب یہ بات کیسے سمجھائی جائے کہ جواز یا عدم جواز کا دائرہ اور ہے، جب کہ کسی ہتھیار کے فائدہ دینے یا خود کو ہی نقصان دے جانے کی بحث اس سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا تعلق جواز سے نہیں بلکہ حکمت سے ہوتا ہے۔ دوسری دلچسپ بات ڈاکٹر صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپا نی مظلوم قوم نہیں تھے جب کہ دوسری جنگ عظیم میں ہی امریکہ نے ایٹم بم گرا کر جاپان کے دو شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا جس کا دنیا اب تک ماتم کرتی چلی آرہی ہے۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی نظر میں امریکہ مظلوم ہو جسے ایٹم بم گرانے کی زحمت اٹھانا پڑی تھی۔

برطانیہ کے بارے میں اپنا ایک ذاتی مشاہدہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے مئی ۲۰۰۷ ء کے دوران اسکاٹ لینڈ کے شہر ڈنز میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرا بھانجا ڈاکٹر سبیل رضوان ملازمت کرتا ہے اور فیملی سمیت رہایش پذیر ہے۔ وہ مجھے پولینڈ کے شہریوں کی اس یادگار کے پاس لے گیا جو دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کے لیے ا ن کی خدمات کے اعتراف کے طورپر بنائی گئی ہے۔ پولینڈ کے یہ شہری کمیونسٹ انقلاب کے موقع پر اپنا وطن چھوڑ کر برطانیہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ان کے پائلٹوں نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی خدمات برطانوی ایئرفورس کے لیے پیش کیں اور ان کے بار ے میں وہاں یہ روایت عام ہے کہ انہوں نے جرمنوں پر خود کش حملے کیے تھے جن پر انہیں برطانوی اب تک خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

۱۹۶۵ ءکی جنگ کے حوالے سے بھی اپناایک ذاتی مشاہدہ ڈاکٹر صاحب کے گوش گزار کر رہا ہوں۔ مجھے بحمداللہ تعالیٰ اس جنگ میں سول ڈیفنس کے رضاکارا ور روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر تھوڑی بہت خدمت سرانجام دینے کا موقع ملا تھا۔ اس جنگ میں چونڈہ کے محاذپر بھارت کے سینکڑوں ٹینکوں کی یلغار کو روکنے کے لیے پاک فوج کے سپاہیوں کا بموں سمیت ٹینکوں کے سامنے لیٹ جانا اس وقت بچے بچے کی زبان پر تھا اور یہی کہا جاتا تھا کہ ان خودکش حملوں کی وجہ سے ہی سینکڑوں ٹینکوں کی یہ یلغار رک پائی تھی، ورنہ بھارتی فوجوں کے جی ٹی روڈ تک پہنچنے میں اور کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی تھی جسے کاٹنے کے لیے بھارتی فوج نے یہ یلغار کی تھی۔ اس وقت ایک واقعہ اور ہوا جس نے اس بات کو ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں مزید شہرت دی۔ وہ یہ کہ گوجرانوالہ میں بریلوی مکتب فکرکے بزرگ عالم دین مولانا الحاج ابوداؤد صادق نے اپنے خطبہ جمعہ میںیہ فرمادیا کہ سینے پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹنے والوں نے غلط کیا ہے اور ان کو شہید نہیں کہا جا سکتا۔ اس پر مولانا موصوف کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ شہرکے دوسرے علماے کرام نے ان کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے ان قربانی دینے والے سپاہیوں کو شہید قرار دیا تھا۔ 

باقی رہی بات قرآن وحدیث کی تو ڈاکٹر صاحب سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ صحابہ کرام کے دو واقعات تاریخ کے ریکارڈ پرموجود ہیں جن کی تعبیر خودکش حملہ ہی سے کی جا سکتی ہے۔ ایک جنگ یمامہ کا واقعہ ہے کہ جب مسلمان فوجوں نے مسیلمہ کذاب کے قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا اور اندر گھسنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی توحضرت براء بن مالکؓ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا کہ وہ انہیں کسی صورت دیوار پر چڑھا دیں، وہ اندر کود کر دروازہ کھولنے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہیں ساتھیوں نے دیوار پر کسی صورت چڑھا دیا۔ ان کے بھائی انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ براء بن مالک نے خود کو دشمنوں پر پھینک دیا اور لڑتے بھڑتے قلعہ کا دروازہ اندر سے کھولنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ اس معرکہ میں ان کے جسم پر ۸۰ سے زیادہ زخموں کے نشانات شمار کیے گئے۔ یہ اس دور کے حوالہ سے خود کش حملہ ہی تھا جس نے جنگ یمامہ میں مسلمانوں کی فتح کی راہ ہموار کی۔ اس واقعہ کی تفصیل ’’الاصابہ‘‘ اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں موجود ہے۔

دوسرا واقعہ امام ترمذی نے کتاب التفسیر میں بیان کیا ہے کہ رومیوں کے خلاف ایک جنگ میں ایک نوجوان جوش وجذبہ میں دشمن کی صفوں میں تن تنہا گھس گیا تو باقی لوگوں نے اس پر قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ کر کہ ’ولاتلقو ا بایدیکم الی التھلکۃ‘ (اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو) اسے خود کش حملے سے تعبیر کیا، مگر حضرت ابوایوب انصاریؓ نے، جو اس موقع پر موجود تھے، اس واقعہ پر یہ آیت پڑھنے والوں کو ٹوک دیا اور فرمایاکہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں جو تم نے سمجھا ہے، بلکہ یہ آیت انصار مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے خیبر کی جنگ کے بعد باہم یہ مشورہ کیا تھا کہ اب چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مالی تعاون کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے اللہ کی راہ میں خرچہ میں کمی کرکے اپنے باغات اور تجارت کی اصلاح کی طرف توجہ دیں۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جیسے پہلے خرچ کرتے تھے، اب بھی اسی طرح خرچ کرتے رہو اور دفاعی خرچوں میں کمی کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ جہاد کے لیے اخراجات میں کمی کرنے کی صورت میں تم کمزور ہو جاؤ گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس دور میں خود کش حملوں کی یہی عملی صورت ہو سکتی تھی جس کی دومثالیں پیش کی گئی ہیں، اس لیے میدان جنگ میں خود کش حملہ ہماری جنگی روایات کا بھی حصہ ہے اور اسی وجہ سے میں اپنے اس موقف کاپھر اعادہ کر رہا ہوں کہ ’’خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو میدان جنگ میں استعمال ہوتو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب نے کچھ دیگر نکات بھی اٹھائے ہیں جن پر تبصرہ کا حق ہم سردست محفوظ رکھتے ہیں۔ 

آراء و افکار

(فروری ۲۰۰۹ء)

تلاش

Flag Counter