حلال و حرام اور غامدی صاحب کا تصور فطرت

حافظ محمد زبیر

غامدی صاحب کے نزدیک جس طرح معروف و منکر کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا، اسی طرح ان کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں بھی سوائے چارکے حلال و حرام کا تعین فطرت انسانی ہی کرے گی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اسے بتایاکہ سؤر ‘خون‘مردار اور خدا کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو ان سے پرہیزکرنا چاہیے۔ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ’قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ‘اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘ کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں‘‘۔

غامدی صاحب کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کے ذریعے صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جو کہ قطعاًغلط ہے کیونکہ اہل سنت کے نزدیک ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ کی حرمت بھی اللہ کی طر ف سے ہے جیسا کہ آگے چل کر ہم دلائل سے اس بات کو واضح کریں گے۔ ایک اور جگہ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ‘چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم اگر چاہیں تو ممنوعات کی اس فہرست میں بہت سی دوسری چیزیں بھی اس علم کی روشنی میں شامل کر سکتے ہیں۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اسے بیان فطرت کے بجائے بیان شریعت سمجھا‘‘۔

غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جانوروں کو حرام قرار دیا ہے، وہ اپنی فطرت سے حرام قرار دیا ہے نہ کہ وحی سے۔ غامدی صاحب کا یہ موقف بھی قرآن و سنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے۔ غامدی صاحب کے شاگردِ رشید جناب منظو ر الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے تصور فطرت کی وضاحت میں اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ قرآن کی آیت ’یحل لھم الطیبت و یحرم علیھم الخبائث‘ میں ’الطیبات ‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی کرے گی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جمہور اہل سنت کے برحق مذہب کے مطابق حلال و حرام اور خبائث و طیبات کا تعین وحی الٰہی سے ہوگا۔ اس موقف کے درج ذیل دلائل ہیں:* 

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُل لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ (الأنعام: ۱۴۵)
’’اے نبی ﷺ! کہہ دیجیے :میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی کیا گیا ہے کسی بھی چیز کو حرام کسی بھی کھانے والے پر جو کہ اس کو کھاتا ہو۔‘‘

اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’ما أوحی الی‘ اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ختیار نہیں ہے تو ایک عام انسان اپنی فطر ت سے کسی طرح کسی چیز کو حرام قرار دے سکتا ہے؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (الأنعام: ۱۱۹)
’’اور تمہیں کیاہو گیا ہے کہ تم اس جانور کو نہیں کھاتے کہ جس پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کانام لیا گیا ہوجبکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کھول کھول کر وہ سب چیزیں بیان کر چکا ہے جوکہ اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں، سوائے اس کے تم ان میں کسی ایک چیز کے استعمال پر مجبور ہو جاؤ۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام چیزوں کو کھول کر بیان کر دیا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعے ان کی مزید تشریح اور وضاحت بھی فرما دی ہے۔ لہٰذ ا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وضاحت کے بعد بھی کیا اس بات کی ضرورت باقی رہتی ہے کہ فطرت کی بنیاد پر کچھ چیزو ں کو حرام ٹھہرایا جائے؟ قرآن کی نص ’و قد فصل لکم ما حرم علیکم‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ طیبات و خبائث کے مصداقات متعین ہیں۔ اگر طیبات و خبائث کے مصداقات کا تعین فطرت انسانی سے ہونا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گاکہ حلال و حرام کی تفصیل اللہ نے بیان نہیں کی بلکہ انسان نے اس فہرست کو ابھی مکمل کرنا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْْہِمُ الْخَبَآءِثَ (الأعراف: ۱۵۷)
’’آپؐ ان کے لیے طیبات کو حلال قرار دیں گے اور خبائث کو حرام قرار دیں گے۔‘‘

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ طیبات وخبائث کا تعین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔ ’یحل‘ میں ’ھو‘ ضمیر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ‘اس سے عام انسانوں کو مراد لینا اصول تفسیرکے کس اصول کے تحت جائز ہوا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے مطابق طیبات و خبائث کا تعین اپنی احادیث مبارکہ سے فرما دیا۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :

’’اور اللہ تعالیٰ کا قول ’’آپؐ ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرائیں گے‘‘ اللہ کی طرف سے یہ خبر ہے کہ آپ مستقبل میں ایساکریں گے۔ پس آپؐ نے طیبات کو حلال ٹھہرایا ہے اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے جیساکہ آپؐ نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے کو حرام قرار دیا ہے ۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: کتاب التفسیر‘ فصل الناس فی مقام حکمۃ الأمر و النھی علی ثلاثۃأصناف)

امام شاطبیؒ لکھتے ہیں :

’’ان میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طیبات کو حلا ل قرار دیا ہے اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے اور کچھ چیزیں ایسی تھیں کہ ان دونوں کے درمیان تھیں، ان کا ان دونوں میں سے کسی ایک یعنی طیبات یا خبائث سے الحاق ممکن تھاتو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تمام اشیا کے بارے میں کہ جن کے طیب یا خبیث ہونے میں اشکال ہو سکتا تھا، وضاحت فرمادی کہ یہ طیب ہے یا خبیث ہے۔ پس آپؐ نے درندوں میں سے ہر کچلی والے درندے اور پرندوں میں سے پنجوں والے پرندوں کے کھانے سے منع فرمایا۔‘‘ (الموافقات‘جلد۲‘ ص۱۸)

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طیبات و خبائث کی وضاحت فرما دی تو حلال و حرام کی فہرست واضح ہو گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے طیبات و خبائث کے افراد کے بیان کی بجائے ان کی تعیین کے لیے کچھ اصول دے دیے، مثلا آپؐ نے ہر ’ذی ناب من السباع‘ کو حرام قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ حرمت کی علل میں سے ایک علت قوت سبعیہ بھی ہے۔ یعنی جن جانوروں کا گوشت کھانے سے انسانوں میں درندگی کے اوصاف پیدا ہوں ‘ ان کے اخلاق بگڑ جائیں‘ان میں بغاوت‘ زیادتی، ظلم اور سرکشی کے جراثیم پیدا ہوں تو ایسے جانوروں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبائث کہاہے اور ان جانوروں کی ایک معروف علامت ’ذی ناب‘ بیان کر دی تاکہ ان کی معرفت میں آسانی ہو۔ یہ ذہن میں رہے کہ صرف ’ذی ناب‘ ہونا کسی جانور کے حرام ہونے کی علت نہیں ہے، کیونکہ گوہ بھی ’ذی ناب‘ میں سے شمارہوتی ہے، جیسا کہ ابن قیمؒ نے’ اعلام الموقعین‘ میں لکھاہے ۔اس کے علاوہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طیبات و خبائث کا تعین کرتے ہوئے کچھ جامع اصول بیان کیے ہیں کہ جو ایک مستقل مضمون کے متقاضی ہیں۔ ان شاء اللہ ان تمام اصولوں پر ایک علیحدہ مستقل مضمون میں بحث ہوگی۔

سید منظور الحسن صاحب کے نزدیک ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا جو کہ خود غامدی صاحب کے اصول ’قرآن قطعی الدلالۃہے ‘ کے خلاف ہے ۔کیونکہ اگر فطرت انسانی سے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین کیا جائے گا تو قرآن کے ان الفاظ کا معنی کبھی بھی متعین نہ ہو سکے گااور فطرت میں اختلاف کی صورت میں ایک فقیہ کے نزدیک ایک جانور حلال ہو گا اور دوسرے کے نزدیک وہی جانور حرام ہو گا۔بعض فقہا کے جن اقوال کو منظور صاحب نے اپنے تصور فطرت کے حق میں بطور دلیل پیش کیا ہے، ان فقہا کا بعض جانوروں کی حلت و حرمت میں اختلاف ہی اس بات کی صریح دلیل ہے کہ فطرت انسانی سے حلال و حرام کی فہرستیں مرتب نہیں ہو سکتیں اور فطرت انسانی سے طیبات و خبائث کی تعیین کی صورت میں مراد الہٰی معاذ اللہ لغو قرار پاتی ہے کیونکہ ایک فقیہ ایک جانور کو طیب کہہ کر حلال قرار دے رہا ہوگا جبکہ دوسرا فقیہ اسی جانور کو خبیث قرار دے کے حرام کہہ رہا ہوگا ۔علامہ کاسانی ؒ لکھتے ہیں:

’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے طیبا ت کو حلال کرتے ہیں اور خبائث کو حرام قرار دیتے ہیں اور گھوڑے کا گوشت طیب نہیں ہے بلکہ وہ خبیث ہے، کیونکہ طبائع سلیمہ اس کو اچھا نہیں سمجھتیں بلکہ اس کو برا خیال کرتی ہیں، یہاں تک کہ کسی بھی شخص کو اگر اس کی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کوبرا ہی سمجھے گا اور اس کی طبیعت اس کے کھانے سے بچے گی۔‘‘ ( بدائع الصنائع‘ کتاب الذبائح و الصیود)

علامہ کاسانیؒ کی طبیعت کے مطابق گھوڑا خبیث جانور ہے جبکہ شوافع اورحنابلہ گھوڑے کو طیب کہتے ہیں اور اس کا گوشت استعمال کرنے میں کوئی طبعی کراہت محسوس نہیں کرتے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہل حدیث کی فطرت بھی گھوڑے کا گوشت کھانے سے ابا نہیں کرتی،بلکہ ہمارے علاقوں میں اونٹ کا گوشت کھانے میں عامۃ الناس کوطبعاً زیادہ کراہت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس کا گوشت کھانا ہمارے ہاں رواج میں نہیں ہے۔ اگرفقہا کا ایک گروہ کسی جانور کو کھانے میں کراہت محسوس کرے یا کسی مسلمان معاشرے میں کسی جانور کے کھانے کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس کا گوشت کھانا پسند نہ کرتے ہوں تو کیا وہ جانورحرام ہو جائے گا؟

۱۷) اگر یہ مان لیا جائے کہ طیبات و خبائث کا تعین فطرت انسانی سے ہوگاتو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے حکم کے مطابق طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام قرار نہیں دیا۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طیبات وخبائث کے بعض مصداقات کا تعین کیا تھا جبکہ بعض کی تعیین کا معاملہ امت پر چھوڑ دیا تو ہمارا سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو طیبات و خبائث کی تعیین کا اختیار خود آیت مبارکہ سے ثابت ہوا۔ عامۃ الناس کے لیے طیبات وخبائث کے تعین کا اختیار کس نص سے ثابت ہے؟منظور صاحب کے لیے صرف یہ کہنا کافی دلیل نہیں ہے کہ چونکہ بعض علما نے بھی یہ کام کیاہے، لہٰذا ہمارے لیے بھی جائز ہے۔ حالانکہ اس مسئلے میں علما اور غامدی صاحب کے موقف میں زمین و آسمان کافرق ہے جسے ہم آگے چل کر واضح کریں گے۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّہُ وَرَسُولُہُ (التوبۃ:۲۹)
’’تم جنگ کرو ان لوگوں سے جو کہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کو حرام نہیں ٹھہراتے کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہو۔‘‘

یہ آیت مبارکہ میں اس مسئلے میں واضح ہے کہ حرام صرف وہی ہے جسے اللہ یا اس کے حکم سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرا دیا اور یہ محرمات متعین ہیں۔ یہاں کسی فطرت کو حرمت کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اگر توفطرت انسانی کی بنیاد پر ایک فقیہ نے کسی جانور کو طیب قرار دیتے ہوئے حلال کہا اور دوسرے نے اسے خبیث کہتے ہوئے حرام قرار دیا تویہ فقہا کے حلال و حرام ہوئے نہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس عیب سے پاک ہیں کہ ایک ہی جانور مثلا گھوڑے کو حلال بھی کہیں اور حرام بھی۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

الحلال بین و الحرام بین و بینھما مشبھات لا یعلمھا کثیر من الناس فمن اتقی المشبھات استبرأ لدینہ و عرضہ و من وقع فی الشبھات کراع یرعی حول الحمی یو شک أن یواقعہ (صحیح بخاری‘ کتاب الإیمان‘ باب فضل من استبرأ لدینہ)
’’حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ ملتے جلتے امور ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس جو کوئی بھی ان ملتے جلتے امور سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بھی بچا لیا اور جو ان میں مبتلا ہو گیا، اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کہ ایک چراگاہ کے گرد اپنے مویشی چراتا ہے اور قریب ہے کہ وہ اس چراگاہ میں اپنے جانور ڈال دے۔ ‘‘

علامہ ابن حجرؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

’لا یعلم کثیر من الناس‘سے مراد یہ ہے کہ اکثر لوگ ان معاملات کا حکم نہیں جانتے اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں وضاحت ہے کہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ حلال ہیں یا حرام ہیں اور حدیث سے مراد یہ ہے کہ ان چیزوں کی حلت یا حرمت کا حکم معلوم کرنا تو ممکن ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے جو کہ اجتہاد کے درجے پر فائز ہوں۔ پس شبہات ان لوگوں کے لیے جو کہ مجتہدین نہیں ہیں کیونکہ عوام الناس کو یہ شبہات اس لیے واقع ہو جاتے ہیں کہ وہ دلیلوں میں ترجیح قائم نہیں کر سکتے ۔‘‘ (فتح الباری مع صحیح بخاری‘ کتاب الإیمان‘ باب فضل من استبرأ لدینہ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلال و حرام واضح ہیں اور متعین ہیں اور بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں بعض شرعی دلائل کے بظاہر تعارض کی وجہ سے عوام الناس کو اشتباہ ہو جاتا ہے کہ یہ حلال ہیں یا حرام ہیں تو مجتہدین ان دو شرعی دلیلوں میں نسخ‘ تطبیق یا ترجیح کے اصولوں کے ذریعے کوئی موقف قائم کرسکتے ہیں ۔

امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

’’اور شبہات کا مطلب یہ ہے کہ ان کا معنی واضح نہیں ہے کہ وہ حلال ہیں یا حرام ہیں اس لیے اکثر لوگوں کو ان کی حلت یا حرمت کا علم نہیں ہے اور جہاں تک علما کا معاملہ ہے تو ایسی مشتبہ چیزوں کا حکم قیاس ‘استصحاب حال یااس کے علاوہ شرعی اصولوں سے معلوم کر لیتے ہیں۔ پس جب کسی شے کی حلت یا حرمت کے بارے میں اشتباہ ہوجائے اور اس کے حلال یا حرام ہونے میں کوئی نص صریح یا اجماع نہ ہوتو مجتہد اس میں اجتہاد کر کے اس شے کو حلال یا حرام میں سے کسی ایک سے ملا دے گا .. .اور اگر مجتہد کے لیے بھی کسی چیزمیں اشتباہ باقی رہے تو کیا پھر اس کی حلت کا حکم جاری کیا جائے گا یا حرمت کا یا اس میں توقف کیا جائے گا۔ اس میں تین مذاہب ہیں کہ جن کو قاضی عیاض وغیرہ نے بیان کیا ہے اور ظاہر نص سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مذکور اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو کسی مسئلے میں شرعی حکم کے نزول سے پہلے ہو جاتا ہے اور اس مسئلے میں چار آرا ہیں جن میں سب سے صحیح یہی ہے کہ نہ اس کو حلال کہا جائے گا اور نہ حرام اور نہ مباح اور نہ اس پر اس کے علاوہ کوئی حکم جاری کیا جائے گاکیونکہ اہل حق کے ہاں تکلیف کسی شرعی حکم کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (شرح النووی مع صحیح مسلم‘ کتاب المساقاۃ‘ باب أخذ الحلال و ترک الشبھات)

امام نووی ؒ کے نزدیک کسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں اگر اشتباہ ہو جائے تو مجتہد کسی شرعی اصول مثلا قیاس یا استصحاب وغیرہ کی روشنی میں اس شے کے حلال و حرام ہونے کا فیصلہ کرے گااور بغیر کسی شرعی دلیل کے حلت و حرمت ثابت نہ ہوگی۔ 

آپؐ کا فرمان ہے:

الحلال ما أحل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ و ما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ (سنن الترمذی ‘ کتاب اللباس عن رسول اللہ‘ باب ما جاء فی لبس الفراء)
’’حلال وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے اور جس سے اللہ تعالیٰ نے خاموشی اختیار کی ہے وہ معاف ہے۔‘‘

محدث العصر علامہ مبارکپوریؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :

’فھو مما عفا عنہ‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشیا کے استعمال کو جائز اور ان کے کھانے کو مباح قرار دیاہے۔اور اس حدیث سے یہ اصول بھی نکلا کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے۔اور اس حدیث کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان’وہی ہے کہ جس نے تمہارے فائدے کے لیے وہ سب کچھ پیدا کیاہے جو زمین میں ہے‘ سے بھی ہو رہی ہے۔‘‘ (تحفۃ الأحوذی مع سنن الترمذی‘ کتاب اللباس عن رسول اللہ‘ باب ما جاء فی لبس الفراء)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلال و حرام وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال یا حرام ٹھہرایا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو ’ذی مخلب ‘ اور ’ذی ناب‘ کو حرا م قرار دیا ہے تو وہ اللہ ہی کے حکم سے قرآنی آیت ’یحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث‘ کا بیان ہے۔ لیکن اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی فقیہ یا مجتہد اپنی فطرت سے کسی جانور کو خبیث قرار دے کر حرام ٹھہراتا ہے تو اس کے بارے میں ہم یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ہے کیونکہ دوسرا فقیہ اس کو حلال بھی کہہ رہا ہوتا ہے۔ 

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنی ہوئی گوہ لائی گئی۔ آپ اس کو کھانے کے لیے جھکے تو آپؐ سے کہا گیا کہ یہ گوہ ہے۔ پس آپؐ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ حضرت خالدبن ولیدؓ نے سوال کیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ تو آپؐ نے جواب دیا: ’’نہیں ‘لیکن چونکہ یہ جانور میری قوم کی سرزمین (یعنی مکہ ) میں نہیں پایا جاتا اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا‘‘۔ پس حضرت خالدؓ نے اس کو کھایا اور آپؐ حضرت خالدؓ کو دیکھ رہے تھے ۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی خالہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کچھ پنیر ‘گھی اور گوہ ہدیہ کے طور پر بھیجے ۔پس آپؐ نے پنیر اور گھی کھا لیا اور گوہ سے کراہت کرتے ہو ئے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ گوہ آپؐ کے دستر خوان پر کھائی گئی‘ اگر وہ حرام ہوتی تو آپ ؐکے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کے گوشت کو ناپسند فرمایااور آپؐ کے سامنے گوہ کا گوشت کھایا گیالیکن آپ ؐ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ کھانے کے ایک جانور سے آپ ؐکی فطرت ابا کررہی تھی لیکن آپ ؐ نے اسے اپنی فطری ناپسندیدگی کی وجہ سے حرام قرار نہیں دے رہے۔ لہٰذ ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے (یعنی وحی کے بغیر) کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے اور فطرت انسانی اگر ایک چیز سے ابا کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حرام ہے‘ جیسا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں۔ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ زمانہ رسالت کے اہل عرب کی فطرت کو دوسرے مسلمانوں کی فطرت پر کوئی فوقیت اور تحکم حاصل نہیں ہے جیسا کہ جناب غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ معرو ف و منکر کی تعیین بذریعہ انسانی فطرت میں‘ اگر انسانوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو اس صورت میں اہل عرب کے فطری رجحان کو ترجیح حاصل ہو گی۔ 

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:

من أکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا یقربنا المسجد فقال الناس حرمت حرمت فبلغ ذلک رسول اللہ ﷺفقال أیھا الناس انہ لیس لی تحریم ما أحل اللہ و لکنھا شجرۃ أکرہ ریحھا (مسند أحمد:۱۰۶۶۲)
’’جس نے اس خبیث درخت(یعنی پیاز) کو کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے تو لوگ یہ کہنے لگے کہ (پیاز) حرام کر دیا گیا حرام کر دیا گیا۔جن آپؐ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا :اے لوگو!جس کو اللہ نے حلال ٹھہرایاہے تو مجھے کوئی اختیار نہیں ہے کہ اسے حرام قرار دوں ۔لیکن یہ ایک ایسا درخت ہے کہ جس کی خوشبو مجھے ناپسند ہے ۔‘‘

یہ حدیث بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک عام انسان کی فطرت تو کجا خیر العرب و العجم کی فطرت بھی اگر کسی کھانے کی چیز سے ابا کرے تو وہ حرام نہیں ہو سکتی جبکہ اللہ کی طرف سے اس کی حرمت کے بارے میں کوئی واضح حکم بذریعہ قرآن یا سنت نہ آ جائے۔

منظور الحسن صاحب کے دلائل

منظور صاحب نے اپنے اس موقف کی تائید میں کہ ’طیبات‘ اور ’خبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا ‘قرآن و سنت سے کوئی ایک دلیل بھی نقل نہیں کی۔ منظور صاحب کی کل دلیل اس مسئلے میں بعض علما کے اقوال ہیں حالانکہ اس بات پر وہ بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ قرآن و سنت کے دلائل کو سمجھنے میں علما کی اہمیت تو مسلم ہے لیکن علما کے اقوال بذات خود کوئی شرعی دلیل نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں اس بات سے خوشی ہوئی کہ منظور صاحب نے طیبات و خبائث کے تعین میں علما کے اقوال نقل کیے۔ چلیں اسی بہانے سہی‘ اصحاب مورد کوعلما و فقہا تو یاد آگئے۔ منظور صاحب کا یہ کہنا کہ جو موقف غامدی صاحب کا ہے وہی بعض پچھلے فقہا کا بھی ہے، لہٰذا راقم الحروف کو ان فقہا پر بھی نقد کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طیبات و خبائث کی تعیین میں جو موقف بعض فقہا کے حوالے سے منظور صاحب نے بیان کیاہے، وہ غامدی صاحب کے نقطہ نظر سے قطعاًمختلف ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہماری بحث اس وقت غامدی صاحب سے ہو رہی ہے نہ کہ پچھلوں سے‘ لہٰذا ہم پچھلوں پر فتوے کیوں لگائیں جبکہ ہمیں ان کا موقف سمجھ میں بھی آتا ہے۔ 

سب سے پہلے ہم قرآنی آیت ’یحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث‘ کے بارے میں مفسرین کے اقوال نقل کریں گے کہ وہ اس آیت مبارکہ کی کیا تفسیر کرتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں علما کے درج ذیل اقوال ہیں :

۱۔ طیبات سے مراد وہ حلال چیزیں ہیں کہ جن کو مشرکین مکہ یا یہود نے اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیا تھایا وہ یہود پر ان کی شرارتوں کی وجہ سے حرام کر دی گئی تھیں مثلا بحیرہ ‘ سائبہ‘ وصیلہ‘ حام اورچربی وغیرہ ‘اور خبائث سے مراد وہ حرام اشیاء ہیں کہ جن کواہل مکہ زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے یا یہود نے ان کو حلال بنا لیا تھا مثلاً مردار‘ خنزیر‘سود اور رشوت وغیرہ۔یہ قول ابن عباسؓ ‘ مقاتلؒ ‘ امام طبریؒ ‘زمخشریؒ ‘ابن کثیرؒ ‘محلیؒ ‘ ماوردیؒ ‘بغویؒ ‘عز بن عبد السلامؒ ‘نسفیؒ ‘خازنؒ ‘أبو سعودؒ ‘ الثعلبیؒ ‘ابن عجیبہؒ ‘واحدیؒ ‘ طنطاویؒ ‘ الشربینی الخطیب‘ؒ مفتی عبدہ الفلاحؒ ‘مولاناعبد الرحمن کیلانیؒ ‘ مولانامودودیؒ ‘ مفتی شفیع صاحبؒ اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ وغیرہ کا ہے ۔امام بیضاویؒ کا رجحان بھی اسی طرح ہے ۔

۲۔ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں شریعت اسلامیہ میں حرام کہا گیا ہے۔ یہ قول امام مالکؒ ‘ ابن جریج ؒ ‘ فیروز آبادیؒ ‘ سمر قندیؒ ‘الثعلبیؒ ‘ابن عاشور ؒ کا ہے۔ امام قرطبیؒ ‘ ابن عطیہؒ اور الثعالبیؒ کا رجحان بھی اسی طرف ہے ۔مالکیہ کا مذہب بھی اسی قول کے مطابق ہے ۔یعنی جن چیزوں کی حلت وحرمت قرآ ن و سنت میں آ گئی وہ توحلال یاحرام ہیں اور جن کے بارے میں خاموشی ہے ان کا کھانا جائز ہے، مثلاً سانپ‘ بچھو اور بھونرے وغیرہ۔ ابو جعفر النحاس ؒ نے پہلے دونوں اقوال کو آیت کی تفسیر کے طور پر بیان کیا ہے ۔اس قول پر اگرچہ بعض اعتراضات وارد ہوتے ہیں، لیکن ابن عاشور مالکی نے اپنی تفسیر ’التحریر و التنویر‘ میں ان کامفصل جواب دیا ہے۔

۳۔ طیبات سے مراد وہ جانور ہیں کہ جنہیں اہل عرب طبعاً پسند کرتے تھے اور خبائث سے مراد ووہ حیوانات ہیں کہ جن کو عرب ناپسند کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جانوروں کو حلال یا حرام کہا ہے، وہ شرعاً حلال یاحرام ہیں اور جن جانوروں کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی نص نہیں ہے، ان کی حلت و حرمت کافیصلہ اہل عرب کی طبیعت سے ہو گا۔ یہ قول امام شافعیؒ کا ہے۔ جمہور شوافع ور بعض حنابلہ نے بھی اس قول کو اختیار کیاہے۔شوافع کے نزدیک اہل عرب سے مراد شہروں اور بستیوں کے لوگوں ہیں نہ کہ دیہاتی اور صحرائی بدو۔ جبکہ حنابلہ کے نزدیک اہل عرب سے مراد اہل حجاز ہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ فقہا کے یہ دونوں گروہ طیبات و خبائث کی تعیین میں اہل عرب کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں کے انسانوں کی طبیعت و مزاج کے رجحان و میلان کو کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ 

امام شافعیؒ ‘ابن قتیبہ ؒ اورا بن قدامہ ؒ کے حوالے سے منظور صاحب نے جو عبارات پیش کی ہیں، ان کا معنی و مفہوم وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک جن چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں کوئی واضح نص نہ ہو، ان کی حلت و حرمت کا فیصلہ اہل عرب کی طبیعت سے ہو گا۔ جبکہ غامدی صاحب کا موقف ان فقہا سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ ان فقہا کے نزدیک جن چیزوں کی حرمت اخبار آحاد میں آئی ہے، وہ اشیا شرعا حرام ہیں جبکہ غامدی صاحب حدیث میں موجود حرام اشیا کی حرمت کو شرعی حرمت نہیں مانتے اور اسے بیان فطرت قرار دیتے ہیں اور اگر وہ ان فقہا کی طرح ان اشیا کی حرمت کو بیانِ شریعت مان لیں تو ان کا بنایا ہوا غلط اصول کہ حدیث سے قرآن کے نسخ ا ور اس کی تحدید و تخصیص کایہ مسئلہ محض سوء فہم اور قلت تدبر کانتیجہ ہے‘ ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فقہا کا یہ گروہ طیبات و خبائث کے تعین میں اہل عرب کے طبعی رجحان کو فیصلہ کن حیثیت دیتاہے اور غیر عرب کے طبعی میلان کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ غامدی صاحب طیبات و خبائث کی تعیین میں نوع انسانی کی فطرت کی بات کرتے ہیں ۔اس فرق کے باوجود ہم غامدی صاحب کے تصور فطرت کے ساتھ ساتھ فقہا کی اس رائے کو اس وقت تک نہیں مان سکتے جب تک کسی شرعی نص سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اہل عرب اور ان میں بھی شہری عربوں کی طبیعت کو ساری امت مسلمہ پر حلت و حرمت کے مسئلے میں حَکم بنایا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ رائے صریح نصوص کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ابن تیمیہؒ کی عبارات ہم اس مسئلے میں پہلے نقل کر چکے ہیں۔

۴۔ طیبات سے مراد وہ جانور ہیں کہ جن کے کھانے کو نفس انسانی پسند کرتا ہے اور انسانی طبیعت ان کے استعمال سے لذت حاصل کرتی ہے جبکہ خبائث سے مراد وہ حیوانات ہیں کہ جن کے کھانے کو انسانی طبیعت ناپسند کرتی ہے ۔یہ قول امام رازی ؒ اور ابن الخطیبؒ کا ہے۔ابن عادل الحنبلی ؒ اورعلامہ آلوسیؒ کا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے ۔ان حضرات کے نزدیک بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جانوروں کو حلال یا حرام کہا ہے وہ شرعاً حلال یاحرام ہیں اور جن جانوروں کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی نص نہیں ہے ان کی حلت و حرمت کافیصلہ یہ علماء عامۃ الناس کے طبعی رجحان و میلان پر چھوڑ دیتے ہیں۔ امام ابن حزمؒ لکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس کو آپؐ نے حرا م کہا ہے مثلا گھریلو گدھے‘ کچلی والے جانور اور شکاری پرندے اور اس کے علاوہ جانور تو یہ سب خبائث میں شامل ہیں۔ (الأحکام:جلد۲‘ ص۲۰۱)

امام رازیؒ ‘ علامہ کاسانی ؒ اور ابن حزمؒ کی جو عبارات منظور صاحب نے پیش کی ہیں، ان کا یہی مفہوم ہے جو کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ۔جناب منظور الحسن صاحب کا رجحان بھی اسی قول کی طرف معلوم ہوتا ہے ۔غامدی صاحب کا قدیم قول بھی اسی طرح کا ہے جو کہ ’میزان‘ مطبوعہ ۱۹۸۵ء میں موجود ہے ۔

۵۔ طیبات سے مراد وہ جانور ہیں کہ جن کے کھانے کو نفس انسانی پسند کرتا ہے اور انسانی طبیعت ان کے استعمال سے لذت حاصل کرتی ہے جبکہ خبائث سے مراد وہ حیوانات ہیں کہ جن کے کھانے کو انسانی طبیعت ناپسند کرتی ہے۔اورجس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں حرام قرار دیا ہے وہ اپنی فطرت سے حرام ٹھہرایا ہے نہ کہ وحی سے۔ لہٰذا حدیث میں موجود حرام اشیا بیان فطرت ہیں نہ کہ بیان شریعت۔ یہ جناب غامدی صاحب کاقول جدید ہے ۔

۶۔ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ٹھہرایا اور خبائث سے مراد وہ اشیا ہیں کہ جن کو آپؐ نے حرام قرار دیاہے یعنی آپؐ نے اپنی احادیث سے طیبات اور خبائث کے مصداقات کاتعین کر دیا ہے۔ یہ قول مالکیہ‘ جمہور حنابلہ‘بعض احناف‘ امام ابن تیمیہؒ اور امام شاطبیؒ کا ہے۔ بعد میں بعض فروعات کی حلت و حرمت میں ان فقہا کے درمیان اختلاف ہوا مثلا امام مالکؒ نے نصوص میں بیان شدہ صریح حرام جانوروں کے علاوہ باقی تمام جانوروں کو حلال قرار دیا جبکہ امام ابن تیمیہؒ نے نصوص قرآن وسنت سے علل نکال کر نصوص میں نہ بیان کیے گئے جانوروں کو بھی ان علل کی بنیاد پر حرام قرار دیا ہے۔ عبد الرحمن بن ناصر السعدیؒ ‘ أبو بکر الجزائریؒ اور ’التفسیر المیسر ‘ کے مؤلفین نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کی علت خارجی یعنی اہل عرب یا عامۃ الناس کا طبعی رجحان و میلان نہیں ہے بلکہ یہ علت و حکمت ذاتی ہے اور اس علت وحکمت کا علم ہمیں احادیث مبارکہ سے حاصل ہوا ہے یعنی ہر وہ جانور کہ جس کا گوشت انسانی اعضا اور اخلاق کے لیے نفع بخش ہو وہ طیب ہے اور ہر وہ جانور جو انسان کے جسمانی اعضا یا اخلاقی رویوں میں فساد پیدا کرے وہ خبیث ہے۔امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :

’’جمہور علما کاکہنا یہ ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور ان کا کھانادین میں نفع کا باعث ہے اور خبیث سے مراد ہر وہ چیز ہے کہ جو اپنے کھانے والے کے دین کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ اور دین کی أصل عدل ہے کہ جس کے قیام کے لیے اللہ تعالی نے رسولوں کو مبعوث فرمایا‘ پس جو چیز اپنے کھانے والے میں ظلم اور زیادتی پیدا کرتی ہے اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ جیسا کہ ہر کچلی والے درندے کے کھانے کو حرام قرار دیا گیاکیونکہ ایسادرندہ سرکش اور حد سے بڑھنے والاہوتا ہے اور غذا دینے والاغذا لینے والے کے مشابہ ہوتا ہے ۔پس جب کسی ا نسان کاگوشت ایسے جانور سے پیدا ہو گاتو اس انسان کے اخلاق میں سرکشی اور زیادتی پیدا ہو جائے گی۔ اسی قسم کا حکم خون کا بھی ہے جو کہ شہوت اور غصے سے متعلقہ نفسانی قوتوں کو جمع کرتا ہے۔پس جب انسان ایسی چیزوں کو بطور غذا استعمال کرتا ہے تو اس کی شہوت اور غصہ اعتدال سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہائے گئے خون کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس تھوڑے سے خون کو جائز قرار دیا گیا جو کہ جانور کے جسم میں باقی رہ جاتا ہے کیونکہ یہ ضرر نہیں دیتا (یعنی انسان کی شہوت اور غصہ نہیں بڑھاتا)اور خنزیر کا گوشت اس لیے خبیث ہے کہ یہ لوگوں میں برے اخلاق پیدا کرتا ہے۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴ و ۲۵)

ہمارے عام طور پر لوگوں کی عادت ہے کہ وہ فقہا کے اختلافات کوتو خوب بیان کرتے ہیں لیکن اس بنیاد کو بیان نہیں کرتے کہ جس پر ان کا اختلاف قائم ہے۔ متقدمین میں ابن رشد ؒ نے ’بدایۃ المجتہد‘ میں اس منہج کو اختیار کیا ہے کہ فقہا کے اختلاف میں اصل بنیاد کو تلاش کر کے نمایاں کیاجائے تاکہ ان کے اختلاف کی حقیقت معلوم ہو سکے۔فقہا کے ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ صرف وہی جانور حر ام ہیں کہ جن کی حرمت قرآن و سنت میں ہے ۔علما کی اس جماعت نے جانوروں کی حرمت کے مسئلے میں شدت احتیاط کو اپنا منہج بنایا ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ کسی بھی جانور کو اس وقت تک حرام نہ کہیں جب تک کہ اس کے بارے میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو‘تاکہ اللہ پروہ بہتان لازم نہ آئے جو کہ مشرکین مکہ پر لگایا گیا تھا۔اس گروہ کے امام ‘ امام مالکؒ ہیں۔ اپنے اسی منہج کے تحت امام صاحبؒ نے سانپ ‘ بچھو اور حشرات الأرض کو بھی حلال کہا ہے،جبکہ فقہا کے ایک دوسرے گروہ کا کہنا یہ ہے کہ جن چیزوں کی حرمت قرآن و سنت میں وارد ہے وہ تو شرعاًحرام ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی کچھ جانور حرام ہیں۔ اب اس گروہ میں اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا کہ نصوص میں موجود حرام جانوروں کے علاوہ حیوانات کی حرمت کاعلم کیسے حاصل ہوگا؟ بعض فقہا نے کہا کہ نصوص کے علاوہ جانوروں کی حلت وحرمت کا فیصلہ اہل عرب کی طبیعت اور رجحان سے ہوگا کیونکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم الخبائث‘ میں خطاب انہی میں سے ایک فرد سے ہے لہٰذا عرب جس کو طیب کہیں گے، اس کوآپؐ نے حلال قراردیااور وہ جس کو خبیث کہیں گے، آپؐنے اس کوحرام کہا ہے۔ اس جماعت کے امام ‘ امام شافعیؒ ہیں جبکہ بعض دوسرے فقہا کا کہنا یہ تھا کہ نصوص شریعت کی وسعتوں میں باقی جانوروں کی حلت و حرمت کا حکم بھی تلاش کیا جائے گااورنصوص سے حرمت کی علل نکال کر غیر منصوص جانوروں کا کا حکم قیاس سے تلاش کیا جائے گا۔ اس جماعت کے امام ‘ امام ابن تیمیہؒ ہیں۔ہمارے نزدیک یہی موقف جو کہ امام ابن تیمیہ ؒ کا ہے ‘قوی ہے اور اس کے راجح ہونے کے درج ذیل دلائل ہیں:

۱) اگر توطیبات و خبائث کا تعین انسانی کے طبعی رجحان پر چھوڑ دیا جائے تواللہ کی مرادکبھی بھی واضح نہ ہوسکے گی کیونکہ فقہا کی ایک جماعت اپنی طبیعت و رجحان کی بنیاد پرایک جانور کو حرام ٹھہرائے گی تو دوسری اسے حلال کہے گی۔ مثلاً علامہ کاسانیؒ کی طبیعت کے مطابق گھوڑا خبیث جانور ہے جبکہ شوافع اورحنابلہ گھوڑے کو طیب کہتے ہیں اور اس کا گوشت استعمال کرنے میں کوئی طبعی رکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ فقہا کے اس اختلاف کی صورت میں طیب و خبیث کے تعین میں کس کی طبیعت اور مزاج معتبر ہوگا؟ فقہاے شافعیہ کا‘ احناف کے علما کا یا حنابلہ کا؟ ظاہر ہے ان میں سے کسی ایک کے مزاج یا طبیعت کو دوسروں پر حَکم بنانے کی کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔ سب سے اہم بات تویہ ہے کہ جو شخص مقلد ہے، وہ بھی ایک مزاج ا ور طبیعت رکھتا ہے لہٰذا ایک ایسے مسئلے میں وہ کسی فقیہ کی تقلید کیوں کرے کہ جس کی بنیاد کسی شرعی دلیل پر نہیں بلکہ طبیعت و مزاج پرہے؟ فقہا کو اس مسئلے میں عامۃ الناس پر حَکم بنانے کی شرعی دلیل کیاہے ؟

۲) اگر تو کوئی شخص طیبات و خبائث کی تعیین میں اختلاف کی صورت میں اہل عرب کو حَکم مانیں تو اس کی شرعی دلیل کیاہے؟ بلکہ یہ تو صریح نصوص کے خلاف بھی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :

’’اور اسی طرح علما میں سے جس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر اس کوحرام قرار دیا ہے کہ جس کو اہل عرب خبیث سمجھتے تھے اور اس کو حلال قرار دیاہے کہ کہ جس کو اہل عرب طیب سمجھتے تھے تو جمہور علما امام مالکؒ ‘ امام ابو حنیفہؒ ‘ امام احمد ؒ ‘ اور متقدمین حنابلہ کا قول اس کے خلاف ہے۔لیکن امام احمدؒ کے اصحاب میں سے خرقی ؒ اور ایک گروہ نے اس مسئلے میں امام شافعیؒ کی موافقت اختیار کی ہے۔لیکن امام احمد ؒ سے مروی عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود ان کا مسلک وہی ہے جو کہ جمہورعلماء ‘صحابہؓ اور تابعینؒ کامسلک ہے کہ کسی چیز کی حرمت و حلت کا تعلق اہل عرب کے کسی چیز کو طیب یاخبیث سمجھنے سے معلق نہیں ہے بلکہ اہل عرب بہت سی ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے جیسا کہ خون‘مردار‘گلا گھٹ کر مرنے والے جانور ‘ چوٹ کھا کر مرنے والے جانور ‘کسی جگہ سے گر کر مرنے والے جانور‘ کسی دوسرے جانور کے سینگ سے مرنے والے جانور‘درندوں کے شکار کا باقی ماندہ‘اور وہ جانور ہیں کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر غیر اللہ کانام لیا گیا ہو۔اور اہل عرب بلکہ ان کے بہترین لوگ بہت سی ایسی چیزوں کو ناپسند کرتے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی حرام نہیں ٹھہرایاجیساکہ گوہ کے گوشت کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے اور آپؐ نے فرمایا چونکہ یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پائی جاتی اس لیے میں اپنے آپ کو اس سے دور رکھ رہاہوں اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ حر ا م نہیں ہے اور آپؐ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اور آپؐ دیکھ رہے تھے۔(یعنی آپؐ نے اس کے کھانے سے منع نہیں فرمایا)‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴)

۳) اگر تو امام مالک ؒ کا موقف اپنا لیا جائے تو بہت سی ایسی چیزیں بھی حلال قرار پائیں گی جو کہ انسانی جان اور اس کے روحانی و اخلاقی وجود کے لیے مضرت رساں ہوں گی جبکہ ان کا حلال ہونا مقاصد شریعہ کے خلاف بھی معلوم ہوتا ہے۔ امام مالکؒ نے طیبات سے مراد حلال اور خبائث سے مراد حرام جانور لیے ہیں ۔امام ابن تیمیہؒ ‘ امام مالکؒ کے موقف کا انکارکرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت (یأمرھم بالمعروف و ینھاھم عن المنکر و یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث) میں یہ خبردی ہے کہ آپؐ معروف کاحکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے۔طیب کو حلال ٹھہرائیں گے اور خبیث کو حرام قراردیں گے ۔اگر تو معروف کامعنی یہ لیا جائے کہ اس سے مراد مأمور(جس کا حکم دیا گیاہو) ہے اور منکر سے مراد صرف وہ چیزیں ہوں کہ جن کو شریعت میں حرام کہا گیا ہے تو اس آیت کا مفہوم یہ بنے گا:آپؐ ان کو حکم دیتے ہیں اس کا جس کا ان کو حکم دیتے ہیں اور ان کو منع کرتے ہیں اس سے جس سے ان کو منع کرتے ہیں اور ان کے لیے حلال کرتے ہیں اس کو کہ جس کو ان کے حلال کیا گیاہے اور ان کے لیے حرام ٹھہراتے ہیں اس کو جس کو ان کے لیے حرام کیا گیا ہے۔ اس صورت میں اللہ کا کلام ہر قسم کے فائدے سے خالی ہوگاچہ جائیکہ اس کلام سے آپؐ کی باقی انبیا پر کوئی فضیلت ثابت ہو۔یہ بات بھی معلوم ہے کہ اگر آیت کا یہی معنی مراد لیاجائے تو جو بھی کسی چیز کاحکم دے گا، وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہو گا اور تمام انبیا ایسے ہی ہوتے ہیں (یعنی کسی نہ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں لہٰذ ا وہ سب اس آیت کا مصداق بنیں گے تو آپؐ کے لیے اس کلام کو لانے کا کوئی فائدہ باقی نہ رہے گا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر بعض ایسی طیبات کو حرام کر دیاتھا جو کہ ان کے حلال کی گئی تھیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ طیب ہونا ایک ذاتی وصف ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اوقات طیبات کو ان کے ذاتی وصف کے ساتھ باوصف ہونے کے باوجود اپنے بعض بندوں کو سزا دینے کے لیے حرام کر دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان چیزو ں کا ذکر کیا جو کہ بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں تو فرمایا:یہ ہم نے انہیں ان کی سرکشی کی سزا دی اور بے شک ہم سچے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :وہ آپؐ سے سوال کرتے ہیں کیا چیز ان کے لیے حلال کی گئی ہے تو آپؐ ان سے کہہ دیں :تمہارے لیے طیبات حلال کیے گئے ہیں۔ اگر طیبات سے مراد حلال ہی ہوتو کلام کا فائدہ باقی نہ رہے گا (یعنی سوال یہ ہوا تھا کہ کیا حلال کیاگیا ہے اور طیب سے مراد حلال لینے کی صورت میں جواب یہ ہو گاکہ حلال کو حلال کیا گیاہے) پس یہ معلوم ہوا کہ طیب یا خبیث ہو نا چیزوں کے ذاتی اوصاف ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاوی:جلد۱۷‘ ص ۱۷۷)

امام ابن تیمیہؒ ‘ امام شافعیؒ کی رائے کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’طیب سے مراد صرف کسی کھانے کا انسان کے نزدیک لذیذ ہونا نہیں ہے کیونکہ انسان بعض اوقات بعض ایسی چیزوں کو کھاکر لذت حاصل کرتا ہے جو کہ ا س کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں مثلاً زہراور بہت سی ایسی چیزیں کہ جن کے استعمال سے طبیب(ڈاکٹر) انسانوں کوروکتے ہیں ۔اور نہ ہی طیب سے مراد یہ ہے کہ عرب اقوام میں سے ایک جماعت اس کے کھانے سے لذت محسوس کرے یا عرب جس کے کھانے کے عادی ہوں۔کیونکہ مسلمان اقوام میں سے کسی ایک قوم کا محض کسی چیز کو کھانا یا اس کو پسند کرنا یا ناپسند جاننا اس وجہ سے کہ وہ ان کے علاقوں میں نہیں پائی جاتی‘ سے یہ لازم نہیں آتاکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیزکوتمام امت مسلمہ پر حرام کر دیں کہ جن کو اہل عرب کی طبیعتیں پسند نہیں کرتیں۔اور نہ ہی اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ جس چیز کے کھانے کے اہل عرب عادی ہوں اس کو تمام ا مت کے حلال کر دیا جائے کیونکہ عرب تو خون اور مردار اور اس کے علاوہ بہت سی ایسی چیزوں کو کھانے کے عادی تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ بعض عرب سے جب یہ سوال ہوا کہ تم کیا کھاتے ہو تو انہوں نے جواب دیا: ہر زندہ اور مردہ چیز کو سوائے أم حبین(ایک زہریلا درخت) کے۔تو اس شخص نے جواب دیا :أم حبین کو عافیت مبارک ہو۔خود قریش کی صورت حال یہ تھی کہ وہ بہت سے ایسی خبیث چیزیں کھاتے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور ایسی چیزوں کے کھانے سے بچتے تھے کہ جن کو اللہ تعالی نے حرام نہیں ٹھہرایا ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوی:جلد۱۷‘ ص ۱۷۷ و ۱۷۸)

امام شافعیؒ کے نزدیک خبیث یا طیب ہونا ایک اضافی وصف ہے یعنی کسی چیز کے خبیث یا طیب ہونے کا اعتبار اس کے کھانے والوں کی نسبت سے ہوگا۔ امام ابن تیمیہؒ اس رائے کو نہیں مانتے اور یہ کہتے ہیں کہ خبیث یا طیب ہونا اشیا کے ذاتی اوصاف ہیں اور طیب سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کے لیے نفع بخش ہواور خبیث سے مراد ہر وہ شے ہے کہ جوا نسان کے لیے ضرر رساں ہو۔

اصولیین نے علت کی شرائط میں لکھا ہے کہ اس کے لیے منضبط وصف ہونا اس کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ہیں۔ لہٰذا وہی وصف کسی حکم کی علت بن سکتا ہے جوکہ منضبط وصف ہویعنی ایسا وصف ہو جو کہ اشخاص اور احوال کے اعتبار سے تبدیل نہ ہوتاہو۔ غامدی صاحب نے چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں جو وصف(یعنی انسان کی فطرت و طبیعت) بیان کیاہے، وہ بالکل بھی منضبط وصف نہیں ہے کیونکہ ہر شخص کے اعتبار سے حکم بھی تبدیل ہو رہے، البتہ امام شافعی ؒ نے اس وصف کو منضبط کرنے کے لیے اہل عرب کے ایک خاص طبقے کے ساتھ اس کو متعلق کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس وصف میں کامل انضباط موجود نہیں ہے جس کی دلیل گوہ کوکھانے والی حدیث ہے۔اگر امام شافعیؒ کا بیان کردہ وصف(یعنی اہل عرب کی طبیعت) ایک منضبط وصف ہوتا تو دو عرب یعنی آپؐ اور خالد بن ولید میں گوہ کھانے میں اختلاف نہ ہوتا۔ 

اسی طرح غامدی صاحب اور امام شافعیؒ کے بیان کردہ اوصاف مناسب وصف بھی نہیں ہیں اور علت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ مناسب وصف ہویعنی شارع نے اس حکم سے جس مصلحت کا قصد کیا ہو وہ اس وصف سے پوری ہوتی ہویا آسان الفاظ میں حکم کی اس وصف کے ساتھ مناسبت عقلاً سمجھ میں آتی ہو جیسا کہ شراب کے حرام ہونے کے حکم کے لیے نشہ ایک مناسب وصف ہے کیونکہ اس وصف کی وجہ سے شراب کی حرمت کے حکم سے شارع کا مقصد(انسان کی عقل کی حفاظت) پور اہوتا ہے جبکہ شراب کامائع ہونا اس کی حرمت کے لیے ایک غیر مناسب وصف ہے کہ جس سے شارع کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا، لہٰذا یہ وصف شراب کی حرمت کی علت نہیں بن سکتا۔ایسے اوصاف کو اصولیین وصف طردی یا اتفاقی بھی کہہ دیتے ہیں۔ غامدی صاحب اور اما م شافعیؒ کا بیان کردہ وصف غیر مناسب وصف ہے کیونکہ اس سے شارع کا کوئی مقصد اور مصلحت پوری نہیں ہوتی لہٰذا یہ وصف حرمت و حلت کے حکم کی علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اگر یہ ثابت بھی کر دیا جائے کہ امام شافعیؒ کا بیان کردہ وصف حکم کے مناسب ہے تو پھر بھی بعض اوقات کسی وصف کی حکم کے ساتھ مناسبت کسی مجتہد کے لیے تو ثابت ہو جاتی ہے لیکن شارع کے نزدیک وہ وصف لغو ہو تاہے، اس کو اصولیین کی اصطلاح میں مناسب ملغی کہتے ہیں۔ اہل عرب کی طبیعت کو حرمت و حلت کی بنیادبنانے کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ انعام میں لغو وصف قرار دیا ہے جیسا کہ اس بارے میں ہم پیچھے آیات نقل کر چکے ہیں۔

امام ابن تیمیہؒ نے جو وصف بیان کیا ہے، وہ منضبط بھی ہے اور مناسب بھی ہے لہٰذا امام صاحب ؒ کا بیان کردہ وصف ہی کسی جانور کے حلال یا حرام ہونے کی بنیادو علت ہے۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

’’اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام کریں گے پس ہر وہ چیز جو کہ نفع بخش ہو، وہ طیب ہے اور ہر وہ چیزجو کو ضرر رساں ہو وہ خبیث ہے۔اس وصف کی حکم کے ساتھ مناسبت ہر صاحب عقل کے لیے واضح ہے کیونکہ منفعت ‘تحلیل کے لیے ایک مناسب وصف ہے جبکہ ضرر ‘ تحریم کے لیے ایک مناسب وصف ہے ۔ اور مسلک دوران(اصولیین کے نزدیک علت معلوم کرنے کا ایک طریقہ) سے بھی ہماری بیان کردہ علت ثابت ہے کیونکہ تحریم ‘ مضرتوں کے موجود ہونے کے اعتبارسے مردار ‘ خون ‘ خنزیر کے گوشت‘ کچلی والے درندوں‘ پنچوں والے پرندوں اور شراب وغیرم میں گھومتی ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوی‘جلد۲۱‘ ص۵۴۰)

ہمارا نقطہ نظر اس مسئلے میں وہی ہے جو کہ امام ابن تیمیہؒ کاہے ۔اس مضمون میں ہم نے حلت و حرمت کے حوالے سے چند اصولی بحثیں کی ہے۔ فروعات میں کیا چیزیں حرام ہیں اور کیا حلال ہیں، ان شاء اللہ ان اصولی بحثوں کی روشنی میں کسی اور وقت میں اس پر بھی مفصل بحث ہو گی۔


*یہاں مقالہ نگار نے بعض ان دلائل کا اعادہ کیا ہے جو ان کے مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷) میں پیش کیے گئے ہیں۔ اختصار کے پیش نظر انھیں حذف کیا جا رہا ہے۔ (مدیر)

آراء و افکار