قراءات متواترہ کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

حافظ محمد زبیر

جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ میں پیش کردہ مختلف اصولی تصورات، مثلاً ’تصور کتاب‘،’تصور سنت‘ اور ’تصور فطرت‘ کا علمی وتنقیدی جائز ہ ہم اپنے سابقہ مضامین میں تفصیلاً لے چکے ہیں۔ اسی ضمن میں ہم ان کے’ تصور قرآن ‘کی کجی کو بھی واضح کرنا چاہیں گے۔ اس عنوان کے تحت ایک ایک کر کے درج ذیل ابحاث پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا علمی جائزہ لینا ہمارے پیش نظرہے :

۱) قراآت متواترہ کی حیثیت

۲) کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے ؟

۳) نظم قرآن کا تصور

۴) تفسیر قرآن میں اسرائیلیات کا مقام

۵) سبع مثانی کا مفہوم ومصداق

۶) زبان کی ابانت 

۷) عربی معلی 

اس مضمون میں ہم قراء ات متواترہ کے بارے میں اہل سنت اور غامدی صاحب کے مؤقف کا ایک علمی ‘ تحقیقی اور تقابلی جائزہ پیش کریں گے۔

قراء ات متواترہ اور اہل سنت کا موقف

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور شریعت اسلامیہ میں اصل الأصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ اسلامی کے ہر دورمیں فقہا و علما نے استنباط احکام کے لیے اسے اپنا مرجع و مصدر بنایا۔ اس کی بہت سی خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سے زائد قراء ات کے ساتھ نازل ہوا اور پھر انھی قراء ات کے ساتھ امت میں نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ان میں سے بعض قراء ات ایسی ہیں جو آج بھی بعض ممالک اسلامیہ میں عوام الناس کی سطح پر رائج ہیں، مثلاً روایت حفص ‘روایت قالو ن‘ روایت ورش اور روایت دوری،جبکہ بعض قراء ات ایسی ہیں جو امت کے خواص میں نقل در نقل چلی آرہی ہیں اور امت کے فقہا‘ علما‘ مفسرین ‘ محدثین‘ مجتہدین اور قرا کا ان قراء ات کے قرآن ہونے پر اتفاق ہے۔

علماے امت نے قراء ات کی دو قسمیں بیان کی ہیں :

۱۔قراء ات متواترہ: یہ وہ قراء ات ہیں جن میں درج ذیل تین شرائط پائی جائیں :

الف ) جو آپ ؐ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو اور أئمہ قراء کے ہاں مشہور ہو۔

ب) جو مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط کے مطابق ہو۔

ج) جولغات عرب میں سے کسی لغت کے مطابق ہو۔

۲۔ قراء ات شاذہ : اگر کسی قراء ت میں ان تین شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو اسے قراء ت شاذہ کہتے ہیں ۔

قرآن سے احکام مستنبط کرتے ہوئے قرآن کی قراء ات متواترہ کو دلیل بنانے پر مذاہب اربعہ کے جمیع فقہا کا اتفاق ہے، لیکن قراء ات شاذۃ کے بارے میں اختلاف ہے۔ احناف اور حنابلہ کا مؤقف یہ ہے کہ قراء ات شاذۃ کی اگر سند صحیح ہو تو وہ بطور حدیث حجت ہیں‘ جبکہ مالکیہ اور شوافع کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قراء ات شاذہ حدیث کی حیثیت سے بھی حجت نہیں ہیں ۔

غامدی صاحب کا نقطہ نظر

غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں قراء ات متواترہ پر مختلف اعتراضات وارد کرتے ہوئے ان کا انکار کیا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کی متواتر قراء ات فتنہ عجم سے متعلق ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے جسے وہ ’قرأت عامہ‘ کہتے ہیں۔یہ وہ قراء ت ہے جو مشرق کے اکثرو بیشتر ممالک میں’روایت حفص‘کے نام سے رائج ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں :

’’لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قرأت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔اس کے علاوہ اس کی جو قرأتیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیںیا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں ‘ وہ سب اس فتنہ عجم کے باقیات ہیں جس کے اثرات سے ہمارے علوم کا کوئی شعبہ ‘افسوس ہے کہ محفوظ نہیں رہ سکا‘‘۔(میزان:ص۳۲)

غامدی صاحب مراکش ‘ تیونس ‘ لیبیا ‘ سوڈان ‘ یمن ‘ موریطانیہ ‘ الجزائر ‘ صومالیہ اور افریقہ کے اکثر و بیشر ممالک میں رائج قراء ات کو قرآن نہیں مانتے۔ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’قرآن وہی ہے جو مصحف میں ثبت ہے اور جسے مغرب کے چند علاقوں کو چھوڑ کر پوری دنیا میں امت مسلمہ کی عظیم اکثریت اس وقت تلاوت کر رہی ہے۔ یہ تلاوت جس قرأت کے مطابق کی جاتی ہے ‘اس کے سوا کوئی دوسری قرأت نہ قرآن ہے اور نہ اسے قرآن کی حیثیت سے پیش کیا جا سکتا ہے‘‘۔(میزان‘ ص۲۵، ۲۶)

غامدی صاحب نے قراء ات متواترہ کے بارے میں صحاح ستہ میں موجود ’’سبعۃ أحرف‘‘ کی متواتر روایات کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ہشام بن حکیمؓ اور حضرت عمرؓ کی روایت پر اعتراضات کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اول یہ کہ یہ روایت اگرچہ حدیث کی امہات کتب میں بیان ہوئی ہے ‘لیکن اس کا مفہوم ایک ایسا معما ہے جسے کوئی شخص اس امت کی پوری تاریخ میں کبھی حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔امام سیوطی نے اس کی تعیین میں چالیس کے قریب اقوال اپنی کتاب ’’الاتقان ‘‘ میں نقل کیے ہیں ‘پھر ان میں سے ہر ایک کی کمزوری کا احساس کر کے مؤطا کی شرح ’’تنویر الحوالک‘‘میں بالآخر یہ اعتراف کر لیا ہے کہ اسے من جملہ متشابہات ماننا چاہیے جن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا... یہی معاملہ ان روایتوں کا بھی ہے جو سیدنا صدیق اور ان کے بعد سیدنا عثمان کے دور میں قرآن کی جمع و تدوین سے متعلق حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔قرآن ‘جیسا کہ اس بحث کی ابتدا میں بیان ہوا‘ اس معاملے میں بالکل صریح ہے کہ وہ براہ راست اللہ کی ہدایت کے مطابق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں مرتب ہوا‘ لیکن یہ روایتیں اس کے بر خلاف ایک دوسری ہی داستان سناتی ہیں جسے نہ قرآن قبول کرتا ہے اور نہ عقل عام ہی کسی طرح ماننے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔‘‘ (میزان‘ ص۳۰، ۳۱)

ذیل میں ہم غامدی صاحب کے ان اعتراضات اور ان کے جوابات کا علی الترتیب ذکر کریں گے :

۱) غامدی صاحب قراء ات متواترہ پر تنقید کا شوق پورا فرما رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں ص ۲۵ سے لے کر ۳۳ تک ’’قرأت کے اختلاف‘‘ کے عنوان سے قراء ات متواترہ پر بحث کی ہے اور ’’قرأت‘‘ کا لفظ اپنی اس بحث میں تقریباً ۳۴ دفعہ لے کر آئے ہیں اور ہر دفعہ انھوں نے اس لفظ کو ’قرأت‘ ہی لکھا ہے۔ گویا انہیںیہ بھی معلوم نہیں کہ یہ لفظ ’قرأت‘ نہیں بلکہ ’قراء ت‘ہوتا ہے جس کی جمع ’قراء ات‘ہے۔

۲) غامدی صاحب تو حفاظت قرآن کے بھی قائل نہیں ہیں۔وہ لکھتے ہیں :

’’لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قرأت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔اس کے علاوہ اس کی جو قرأتیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیںیا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں ‘وہ سب اس فتنہ عجم کے باقیات ہیں‘‘۔(میزان:ص۳۲)

گویا غامدی صاحب قرآن کو محفوظ نہیں سمجھتے ۔اگر قرآن مجید محفوظ ہے تو پھر یہ ’قراء ات‘امت میں بطور قرآن کیسے رائج و معروف ہو گئیں؟

  • امام المفسرین ابن جریر طبری ؒ سے کر علامہ آلوسیؒ تک ہر مفسر نے اپنی تفسیر میں ان قراء ات کا تذکرہ کیا ہے اور ان سے آیات قرآنیہ کی تفسیر و تأویل میں مدد لی ہے ۔
  • یہ قراء ات مشرق سے لے کر مغرب تک تقریباً تمام اسلامی ممالک کی عالمی شہر ت کی حامل جامعات مثلاً جامعہ ازہر‘جامعہ کویت اور مدینہ یونیورسٹی وغیرہ کے نصاب میں شامل ہیں۔
  • بریلوی ہوں یا اہل حدیث ‘دیوبندی ہوں یااہل تشیع‘ کم وبیش تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے مدارس میں یہ قراء ات سبقاً سبقاً پڑھائی جاتی ہیں ۔
  • امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی تعداد غامدی صاحب کی ’قرأت عامہ‘کے مطابق قرآن نہیں پڑھتی ۔مثلاً لیبیا‘ تیونس اور الجزائر کے بعض علاقوں میں روایت ’قالون‘پڑھی جاتی ہے۔ سوڈان ‘صومالیہ اور یمن( حضر موت) کے علاقے میں روایت’دوری‘ میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ اسی طرح موریطانیہ ‘الجزائر کے اکثر وبیشتر علاقوں ‘مراکش اوربر اعظم افریقہ کے اکثر ممالک میں روایت’ورش‘ رائج ہے۔ ہمارا غامدی صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ
  • کیا ہمارے تمام مفسرین قرآن سے جاہل تھے ؟
  • کیا اللہ تعالی نے’ فتنہ عجم‘ کوامت مسلمہ میں اتنا عام کر دیا کہ کیا خواص اور کیا عوام ‘سب ہی اسے چودہ صدیوں سے قرآن سمجھ کر پڑھ رہے ہیں؟
  • کیا مذکورہ بالا تمام ممالک میں رہنے والے کروڑوں مسلمان اپنی نمازوں میں قرآن کی بجائے ’فتنہ عجم ‘ کی تلاوت کرتے ہیں؟ واضح رہے کہ اکیلی روایت ’ورش‘ دنیا کے تقریباً چالیس ممالک میں رائج ہے۔
  • کیا غامدی صاحب مراکش‘لیبیا‘تیونس ‘الجزائر ‘موریطانیہ ‘سوڈان ‘صومالیہ ‘یمن ‘مغربی ممالک اور براعظم افریقہ کے کروڑوں مسلمانوں کو امت مسلمہ میں شامل نہیں سمجھتے؟
  • کیا عالم عرب و عجم کے تمام معروف قرا کی مختلف’ قراء ات‘ میں آڈیو اور ویڈیوکیسٹس ’مشرق‘ میں عام نہیں ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امت مسلمہ میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی روایت‘روایت حفص ہے لیکن امت کی ایک معتد بہ تعداد میں روایت قالون ‘ورش اور دوری بھی رائج ہے اور ان’ قراء ات‘ کا امت مسلمہ میں رائج ہونا ہی ان کے قرآن ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے‘ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (الحجر:۹)
’’بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے تو ایک ایسی چیز جو قرآن نہیں ہے، وہ امت مسلمہ میں بطور قرآن کیسے رائج ہو سکتی ہے؟

غامدی صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جس طرح وہ صرف اسی قراء ت کے قائل ہیں جو مشرق کے عوام الناس میں رائج ہے اور مغرب میں پڑھی جانے والی قراء ات کے انکاری ہیں، اسی طرح مغرب میں بھی بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف اسی قراء ت کو حق سمجھتے ہیں جو ان کے علاقوں میں پڑھی جاتی ہے اور غامدی صاحب کی’قرأت عامہ‘ان کے نزدیک قرآن نہیں ہے‘ بلکہ وہ اپنے ہاں رائج قراء ت کو ہی ’قرأت عامہ ‘کہتے ہیں ۔ 

۳) غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے جو کہ مصاحف میں ثبت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’ہمارے مصاحف‘‘ سے غامدی صاحب کی کیا مراد ہے؟ ’المورد‘ کے تصدیق شدہ مصاحف یا امت مسلمہ کے مصاحف؟ اگر تو ان کی مراد ’المورد‘ کے مصاحف ہیں تو پھر بھی مانتے ہیں کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے ‘لیکن اگر ان کی مراد امت مسلمہ کے مصاحف ہیں تو وہ جس طرح روایت حفص میں ہمارے ممالک میں موجود ہیں، اسی طرح روایت قالون ‘روایت ورش ‘روایت دوری کے مطابق یہ مصاحف لاکھوں کی تعداد میں متعلقہ ممالک میں باقاعدہ ان ممالک کی حکومتوں کی زیر نگرانی ایسے ہی شائع کیے جاتے ہیں جیسے کہ غامدی صاحب کا ’قرأت عامہ ‘ کا مصحف ۔ اب تو’ مجمع الملک الفھد ‘ نے بھی لاکھوں کی تعداد میں روایت دوری ‘قالون اور ورش کے مطابق مصاحف کومتعلقہ ممالک کے مسلمانوں کے لیے شائع کیا ہے۔ مختلف قراء ات کے رسم الخط کے مطابق طبع شدہ یہ مصاحف ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ لہٰذا ثابت یہ ہوا کہ جو مصاحف امت مسلمہ میں رائج ہیں، وہ ایک سے زائدقراء ات پر مشتمل ہیں او ر غامدی صاحب کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ ہمارے مصاحف میں ایک ہی قرا ء ت ثبت ہے ۔

۴) قراء ات قرآنیہ کے نقل کرنے میں دس امام ایسے ہیں جنہیں بہت شہرت حاصل ہوئی اور مابعد کے زمانوں میں یہ قراء ات‘ انہی أئمہ کے ناموں سے معروف ہو گئیں۔ان أئمہ کے نام درج ذیل ہیں :امام نافعؒ (متوفی۱۶۹ھ)‘ امام ابن کثیر مکیؒ (متوفی۱۲۰ھ)‘ امام ابو عمرو بصری ؒ (متوفی۱۵۴ھ)‘ امام ابن عامر شامیؒ (متوفی۱۱۸ھ)‘ امام عاصمؒ (متوفی ۱۲۷ھ)‘امام حمزہ ؒ (متوفی۱۸۸ھ)‘امام کسائیؒ (متوفی۱۸۹ھ)‘امام ابو جعفرؒ (متوفی ۱۳۰ھ)‘ امام یعقوبؒ (متوفی ۲۲۵ھ)‘ امام خلفؒ (متوفی۲۰۵ھ)۔ ان أئمہ کی قراء ات ’قراء ات عشرۃ‘کہلاتی ہیں اور ان سے ان قراء ات کو نقل کرنے والے ان کے سینکڑوں شاگرد ہیں، لیکن ہر اما م کی قرا ء ت بعدازاں اس کے دو شاگردوں سے معروف ہوئی۔ ان شاگردوں کی اپنے امام سے نقل، قراء تِ قرآن کی ’روایت‘کہلاتی ہے۔ پس ہر امام کے دو شاگردوں کے اعتبار سے قرآن کی کل بیس روایات ہوئیں۔ ان بیس روایات میں سے چار روایات ایسی ہیں جو کہ امت مسلمہ کے مختلف علاقوں میں عوامی سطح پررائج ہیں جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، جبکہ باقی چودہ روایات قرا کی ایک بہت بڑی تعداد سے نقل در نقل چلی آ رہی ہیں اور ان تمام قراء ات کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک باقاعدہ اسناد موجودہیں۔ غامدی صاحب ان بیس کی بیس روایات قرآنیہ کے منکر ہیں اور انھیں فتنہ عجم قرار دیتے ہیں۔ انھی بیس روایات میں سے ایک روایت’روایت حفص‘ ہے اور حفص‘ اما م عاصم کے شاگرد ہیں۔ کیا ہی عجب حسن اتفاق ہے کہ’روایت حفص‘لفظ بلفظ وہی ہے جسے غامدی صاحب ’قرأت عامہ‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسے قرآن کہتے ہیں۔ اب غامدی صاحب اگر اس روایت کا انکار کریں تو اپنی ہی ’قرأت عامہ‘کے بھی انکاری ہو ں گے اور اگر وہ اس روایت حفص کو مان لیں تو باقی انیس روایات کو ماننے سے انکار کیوں؟ اگر ’قرأت عامہ‘سے غامدی صاحب کی مراد عوام الناس کی قراء ت ہے تو روایت حفص‘ روایت ورش ‘روایت قالون اور روایت دوری بھی تو عوام الناس ہی کی قراء ات ہیں‘ ان کو ماننے سے غامدی صاحب کیونکر انکار کر سکتے ہیں؟ غامدی صاحب کے نزدیک دین یا تو قولی تواتر سے ثابت ہوتا ہے یا عملی تواتر سے ‘جبکہ قرآن کی مندرجہ بالاروایات أربعہ قولی تواتر سے بھی ثابت ہیں اور عملی تواتر سے بھی ‘اس کے باوجود غامدی صاحب ان روایات کو قرآن ماننے سے انکاری ہیں۔ 

۵) غامدی صاحب کے نزدیک قراء ات متواترہ کے بارے میں مروی وہ تمام روایات جو صحاح ستہ میں موجود ہیں‘ سنداً اور معناًدونوں اعتبارات سے ناقابل قبو ل ہیں۔ سنداً اس لیے کہ ان تمام روایات کی سند میں ابن شہاب زہری ہیں جو أئمہ رجال کے نزدیک مدلس و مدرج ہیں، اور معناًا س لیے کہ ان احادیث کے معنی و مفہوم کا آج تک تعین نہیں ہو سکا۔

غامدی صاحب کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ قرآن کو حدیث کی دلیل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ قرآن اپنے ثبوت کے لیے کسی حدیث کا محتاج نہیں ہے۔ غامدی صاحب جس کو ’قرأت عامہ‘کہتے ہیں، کیا وہ حدیث سے ثابت ہے؟ قرآن کا اجماع اور تواتر کے ساتھ امت میں نقل ہونا ہی اس کے ثبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے‘اور’قراء ات عشرہ‘ تواتر اور اجماع کے ساتھ ثابت ہیں۔مشہور مفسر اور اندلسی عالم ابن عطیہ ؒ لکھتے ہیں :

و مضت الأعصار و الأمصار علی قراء ات الأئمۃ السبعۃ بل العشرۃ و بھا یصلی لأنھا تثبت بالاجماع ( المحرر الوجیز‘ابن عطیۃ‘جلد۱‘ص۹)
’’قراء ات سبعہ بلکہ عشرہ بھی ہر زمانے اور ہر شہر میں رائج رہی ہیں اور ان کی نماز میں تلاوت کی جاتی ہے کیونکہ یہ اجماع امت سے ثابت ہیں ۔‘‘

آج بھی مدارس و جامعات اسلامیہ کے ہزاروں طلبا ان قراء ات کو اپنے شیوخ سے نقل کر رہے ہیں ۔ان میں سے بعض قراء ات تو مغرب و افریقہ کے بلاد اسلامیہ میں اسی طرح رائج ہیں جس طرح ہمارے ہاں روایت حفص ‘ اور ان کا تواتر کے ساتھ امت میں پڑھا جانا ہی ان کے قرآن ہونے کے ثبوت کے لیے قطعی دلیل ہے۔

۶) غامدی صاحب نے ’’سبعۃ احرف‘‘ کی روایات پر اعتراض یہ کیا ہے کہ اس کے معنی و مفہوم کے تعین میں علما کے تقریباً چالیس اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے غامدی صاحب نے امام سیوطیؒ کا حوالہ نقل کیا ہے، لیکن کاش وہ امام سیوطیؒ کی کتاب ’الاتقان‘ کھول کر دیکھنے کی زحمت بھی گوارا کر لیتے ۔حقیقت یہ ہے کہ امام سیوطی ؒ نے چالیس نہیں بلکہ سولہ اقوال اپنی کتاب میں بیان کیے ہیں‘ البتہ ابن حبانؒ کے حوالے سے امام سیوطی ؒ نے پینتیس اقوال کا تذکرہ کیا ہے۔ ان پینتیس اقوال کو غامدی صاحب نے ایک صحیح متواتر روایت کے انکار کی دلیل بنایا ہے۔ اس ضمن میں ہم غامدی صاحب سے درج ذیل سوال کرنا چاہیں گے:

پہلی بات تو یہ ہے کہ کیابظاہر پینتیس نظر آنے والے یہ اقوال کیا واقعتاً پینتیس ہی ہیں؟ اگر ہم غور کریں تویہ درحقیقت سات اقوال ہیں: ایک قول تو یہ ہے کہ سبعۃ احرف سے مراد مضامین قرآن ہیں۔ پھر اس میں آگے اختلاف ہے کہ کون سے مضامین مراد ہیں۔ دوسراقول یہ ہے کہ سبعہ احرف سے مراد سات لغات ہیں۔ پھر آگے اس میں اختلاف ہے کہ کن قبائل کی لغات مراد ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ کی سات قراء ات ہیں۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات حروف تہجی ہیں۔ پانچواں قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے سات نام ہیں ۔چھٹا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات قسم کے اعراب ہیں۔ ساتواں قول یہ ہے کہ اس سے مراد حروف کی ادائیگی کی مختلف کیفیات ہیں۔ اسی لیے امام سیوطی ؒ نے ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد ابن حبانؒ کا قول نقل کیا ہے ۔

و ھی أقاویل یشبہ بعضھا بعضا (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’یہ اقوال ایک دوسر ے سے ملتے جلتے ہیں ۔‘‘

اس کے بعد امام سیوطیؒ نے امام مزنی المرسیؒ کے حوالے سے نقل کیا ہے :

وقال المرسی ھذہ الوجوہ أکثرھا متداخلۃ (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’مرسی نے کہا ہے کہ یہ اقوال ایک دوسرے میں پیوستہ ہیں ۔ ‘‘

باہم متشابہ اور متداخل اقوال کو غامدی صاحب نے چالیس اقوال سمجھ لیا اور اس بنا پر سبعہ احرف کی متواتر روایت کا انکار کر دیا۔

دوسری بات یہ کہ بالفرض ہم مان لیں کہ یہ چالیس اقوال ہیں جیسا کہ غامدی صاحب کا کہنا ہے تو اگر قرآن کی کسی آیت کی تفسیر میں پینتیس یا چالیس اقوال نقل ہو جائیں تو کیا اس بنیاد پر غامدی صاحب قرآن کی اس آیت کا انکار کر دیں گے کہ اس آیت کے معنی و مفہوم کے تعین میں چالیس قوال نقل ہوئے ہیں؟ چالیس تو چھوڑیے، اگر ہم بدعتی فرقوں مثلاً باطنیہ‘ روافض اور صوفیا کی تفاسیر کا مطالعہ کریں تو ہمیں ایک ایک آیت کی تفسیر میں ستر ستر اقوال بھی ملتے ہیں تو کیا ہم صرف اس بنا پر قرآن کی اس آیت کو ماننے سے انکار کر دیں گے؟

سب سے اہم اور تیسری بات تو یہ ہے کہ یہ کیسے ثابت ہو گا کہ یہ پینتیس اقوال مختلف پینتیس علما کے ہیں۔ بعض افراد نے ان اقول کو اپنی کتابوں میں نقل تو کر ہی دیا ہے، لیکن ان کے قائلین کو کوئی آج تک نہ جان سکا، جیسا کہ امام سیوطی نے امام مزنی المرسی کے حوالے سے نقل کیا ہے :

وقال المرسی ھذہ الوجوہ أکثرھا متداخلۃ و لا أدری مستندھا ولا عمن نقلت (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’’مرسی نے کہا ہے کہ یہ اقوال ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور میں نہیں جانتا کہ ان کی سند کیا ہے یا کس سے یہ منقول ہیں؟‘‘

ان اقوال کی باہمی مشابہت و مماثلت دیکھنے کے بعد اندازہ یہی ہوتاہے کہ دو چار نامعلوم اور گم نام افراد نے سبعہ احرف کی تشریح میں مختلف احتمالات پیش کیے تھے جنہیں بعد میں آنے والوں نے مستقل اقوال کی حیثیت سے نقل کر دیا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ان پینتیس اقوال میں سے اکثر و بیشتر کی تردید خود سبعہ احرف کی روایات سے ہو رہی ہے کیونکہ اکثرو بیشتر اقوال کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان اقوال کی رو سے’سبعۃ أحرف‘کا تعلق قرآن کے مضامین یا معانی سے ہے جبکہ’سبعۃ أحرف‘کی اکثرو بیشترروایات سے معلوم ہوتا ہے کہ’سبعۃ أحرف‘ کا تعلق الفاظ سے ہے۔ مثلاً حضرت ہشام بن حکیمؓ اور حضرت عمرؓ میں آپس میں قراء ت کا اختلاف ہوا توحضرت عمرؓ‘ حضرت ہشامؓ کو ان کی چادر سے کھینچتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اورآپ ؐ سے کہا کہ میں نے اس (یعنی ہشام بن حکیمؓ ) کو سورہ فرقان ان حروف کے ساتھ پڑھتے سنا ہے جن حروف کے ساتھ آپؐ نے مجھے یہ سورت نہیں پڑھائی ۔آپ ؐ نے حضرت عمر سے کہاکہؓ اسے چھوڑ دواور ہشامؓ سے کہا کہ تم پڑھو۔ حضرت ہشام نے اس قراء ت کے مطابق پڑھا جو حضرت عمر نے ان سے سنی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؐ نے کہا کہ یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے۔ پھر آپؐ نے کہا کہ اے عمر،ؓ اب تم پڑھو۔ حضرت عمر نے اس سورت کواس قراء ت کے مطابق پڑھا جس پر آپ ؐ نے انھیں پڑھایا تھاتو آپ ؐ نے کہا کہ یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، پس ان میں سے جو بھی تمہیں آسان لگے، اس کے مطابق پڑھ لو۔ (صحیح بخاری ‘کتاب فضائل القرآن‘باب أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف)

اسی لیے امام سیوطیؒ ‘امام مزنی ؒ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

و أکثرھا معارضۃ لحدیث عمر وہشام ابن حکیم الذی فی الصحیح فانھما لم یختلفا فی تفسیرہ و لا أحکامہ و انما اختلفا فی قراء ۃ حروفہ (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’ان میں سے اکثر اقوال حضرت عمرؓاور ہشام بن حکیمؓ کی حدیث کے خلاف ہیں جوکہ صحاح میں ہے ۔ حضرت عمرؓ اور ہشام بن حکیمؓ کا اختلا ف قرآن کی تفسیریا اس کے احکام میں نہ تھا بلکہ ان دونوں حضرات نے قرآن کے حروف کے پڑھنے میں آپس میں اختلاف کیا تھا۔‘‘

جب خود روایت کے الفاظ سے ہی اس کے معنی کے تعین میں وارد اقوال کی تردید ہو رہی ہو تو ان اقوال کو اس روایت کی تشریح و توضیح کے ضمن میں پیش کرنا اور ان میں اختلاف کی بنیاد پر روایت ہی کورد کر دیناکون سی عقل مندی ہے؟

پانچویں بات یہ کہ جہاں تک سبعہ احرف کے معنی و مفہوم کے تعین کی بحث ہے تو اس بارے میں فقہا و علما کے بنیادی اقوال دو ہی ہیں :

پہلا قول وہ ہے جو علما میں امام رازی کے حوالے سے معروف ہوا کہ سبع احرف سے مراد سات وجوہ ہیں جو قراء ات کے تمام اختلافات کو محیط ہیں اور وہ وجوہ اختلاف درج ذیل ہیں: اسماء کا ختلاف (یعنی تذکیر و تأنیث اور جمع و افراد وغیرہ )، تصریف افعال کا اختلاف(ماضی ‘مضارع اورأمر وغیر ہ)‘ وجوہ اعراب کا اختلاف ‘نقص و زیادت کااختلاف‘تقدیم و تأخیر کا اختلاف ‘اختلاف ابدال ‘اختلاف لغات(یعنی لہجات کا اختلاف)۔ یہی قول امام مالکؒ ‘ قاضی ابو بکر باقلانیؒ ‘ابن قتیبہ دینوریؒ ‘ علامہ ابن الجزریؒ وغیرہ سے کچھ اختلاف کے ساتھ منقول ہے ۔

دوسرا قول علما میں ابن جریر طبری ؒ کے حوالے سے معروف ہوا، وہ یہ کہ سبع احرف سے مراد مختلف عرب قبائل کی سات لغات ہیں جن میں تھوڑا بہت اختلاف موجود تھا۔اسی قول کو امام ابو عبید قاسم بن سلامؒ ‘سفیان بن عیینہؒ ‘ابن وہبؒ ‘احمد بن یحییؒ ، امام طحاویؒ ‘امام ابو حاتم السجستانی ؒ ‘امام بیہقیؒ ‘علامہ ابن جوزیؒ ‘علامہ ابن لأثیر الجزریؒ ‘ابن عبد البرؒ اور شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ وغیرہ نے کچھ اختلاف کے ساتھ اختیار کیا ہے ‘بلکہ ابن عبد البرؒ نے تو اسے جمہور علما کا قول قرار دیا ہے۔

ان دونوں اقوال میں بھی قدر مشترک یہ ہے کہ ان کے قائلین اس بات پر متفق ہیں کہ ’سبعۃ أحرف‘ سے مراد قرآن کے الفاظ کو سات طرح سے پڑھنا ہے۔پہلے قول کے قائلین کا کہنا یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن کو پڑھنے کے سات قسم کے اختلافات ہیں، جبکہ دوسرے گروہ کا مؤقف یہ ہے کہ اس سے مراد سات لغات میں قرآن کو پڑھنا ہے ۔

ہم ان دونوں اقوال میں موجود اختلاف کا انکار نہیں کرتے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اختلاف‘ اختلاف تضاد نہیں ہے بلکہ اختلاف تنوع ہے کیونکہ دونوں گروہوں کے اقوال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کی ایک سے زائدقراء ات ہیں جن کے مطابق قرآن کو پڑھنا صحیح ہے، جبکہ غامدی صاحب قرآن کی ایک سے زائد قراء ات کو نہیں مانتے ۔ ان دو کے علاوہ جتنے بھی اقوال ہیں، ان کی نہ تو کوئی سندہے‘ نہ ہی ان کے قائلین کی کسی کو خبر ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کا علمی وزن رکھتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اقوال پر بحث کرنا صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے۔ 

۷) غامدی صاحب نے سبعۃ احرف والی روایات کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ ا ن کا کہنا یہ ہے کہ ایسی تمام روایات کی سند میں ایک راوی ابن شہاب زہری ؒ ہے جسے وہ مدلس ا ور مدرج قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں : 

’’ لیکن یہ روایتیں اس کے بر خلاف ایک دوسری ہی داستان سناتی ہیں جسے نہ قرآن قبول کرتا ہے اور نہ عقل عام ہی کسی طرح ماننے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ صحاح میں یہ اصلاً ابن شہاب زہری کی وساطت سے آئی ہیں ۔أئمہ رجال انھیں تدلیس اور ادراج کا مرتکب تو قرار دیتے ہی ہیں‘ اس کے ساتھ اگر وہ خصائص بھی پیش نظر رہیں جو امام لیث بن سعد نے امام مالک کے نام اپنے ایک خط میں بیان فرمائے ہیں تو ان کی کوئی روایت بھی ‘بالخصوص اس طرح کے اہم معاملات میں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ وہ لکھتے ہیں : ....اور ابن شہاب سے جب ہم ملتے تھے تو بہت سے مسائل میں اختلاف ہو جاتا تھا اور ہم میں سے کوئی جب ان سے لکھ کر دریافت کرتا تو علم و عقل میں فضیلت کے باوجود ایک ہی چیز کے متعلق ان کا جواب تین طرح کا ہوا کرتا تھا جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نقیض ہوتا اور انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس سے پہلے کیا کہہ چکے ہیں۔میں نے ایسی ہی چیزوں کی وجہ سے ان کو چھوڑا تھا‘جسے تم نے پسند نہیں کیا‘‘۔ (میزان‘ ص۳۰، ۳۱)

اب ہم امام ابن شہاب زہری ؒ کے بارے میں أئمہ جرح و تعدیل‘أئمہ محدثین اور أئمہ فقہا اور معاصر علما کی آرا نقل کرتے ہیں:

امام ابن حجرؒ (متوفی ۸۵۲ھ) ؒ لکھتے ہیں: ابن شہاب فقیہ اور’الحافظ‘ہیں، ان کی بزرگی اور حافظے کی پختگی پر محدثین کا اتفاق ہے۔ (تقریب:جلد۲‘ص۲۰۷) امام ذہبی ؒ (متوفی ۷۴۸ھ) لکھتے ہیں: محمد بن مسلم ’الحافظ‘اور ’الحجۃ‘ہیں ۔ ( میزان الاعتدال:جلد۴‘ص۴۰) امام ابن حبانؒ (متوفی ۲۵۴ھ) لکھتے ہیں: انھوں نے دس صحابہ کی زیارت کی ہے اور اپنے زمانے کے سب سے بڑے حدیث کے حافظ تھے اور احادیث کے متون کو بیان کرنے میں سب سے اچھے تھے اور فقیہ اور فاضل تھے۔ (کتاب الثقات:جلد۳‘ص۴) امام احمد العجلیؒ فرماتے ہیں: تابعی اور ثقۃ تھے۔ (تاریخ الثقات:ص۴۱۲) حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے کہا کہ تم ابن شہابؒ کو لازم پکڑو کیونکہ گزری ہوئی سنن کے بارے میں ان سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ہے۔ (کتاب الجرح و التعدیل:ص۱۲) ابن القاسمؒ نے کہا ہے: میں نے امام مالکؒ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ابن شہابؒ باقی رہ گئے اور ان کی کوئی مثال اس دنیا میں نہیں ہے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد۴‘ ص ۱۴۰) امام احمدؒ کی رائے یہ ہے: لوگوں میں حدیث کے اعتبار سے سب سے بہتر اور سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ ہیں۔ (أیضا:ص ۱۴۱) امام ابو حاتم الرازی ؒ کی رائے میں حضرت أنسؓ کے أصحاب میں سب سے زیادہ ’ثابت‘امام زہریؒ ہیں۔ (ایضاً) ْ قتادہ ؒ کی رائے یہ ہے کہ گزشتہ سنن کے بارے میں ابن شہابؒ سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ (ایضاً) یحییٰ بن سعیدؒ کی رائے میں کسی ایک کے پاس بھی وہ علم نہیں رہا جو ابن شہاب ؒ کے پاس ہے۔ (ایضاً) سعید بن عبد العزیزؒ کی رائے میں وہ تو علم کا ایک سمندر ہے۔ (أیضا:ص۱۴۲) سفیان ثوری ؒ کی رائے میں امام زہری ؒ اہل مدینہ میں سب سے بڑے عالم ہیں ۔ (أیضا:ص ۱۴۰) عمروبن دینار ؒ کی رائے یہ ہے کہ حدیث کی سند بیان کرنے میں‘ زہریؒ سے بڑھ کر میں نے کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (أیضا:ص ۱۴۰) ابو ایوب سختیانی ؒ کی رائے میں نے ان سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ (تذکرۃ الحفاظ:جلد۱‘ص۱۰۹) امام لیثؒ بن سعد فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے۔ (أیضا:ص۱۰۹) أبو صالح ‘امام لیث بن سعدؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ابن شہاب زہریؒ سے زیادہ جامع العلوم کسی عالم کو نہیں دیکھا۔ (أیضا: ص۱۱۰) امام نسائی ؒ نے کہا کہ سب سے بہتر اسناد جو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، وہ چار ہیں:زہریؒ ‘حضرت علی بن حسینؒؓ سے ‘وہ حسین بن علیؓ سے ‘وہ حضرت علیؓسے ‘وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور زہریؒ ‘عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے‘ وہ ابن عباسؓسے ‘وہ حضرت عمرؓسے، اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب الکمال: جلد۶‘ ص۵۱۲) سفیان بن عیینہؒ ‘عمرو بن دینار ؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حدیث کی سند بیان کرنے میں زہری ؒ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔(ایضاً) محمد بن سعد ؒ نے کہا :محدثین کا کہنا ہے کہ زہری ثقہ راوی ہے اور کثرت سے علم رکھنے والا ‘احادیث کو جاننے والا اور احادیث کو نقل کرنے والا ہے۔ (ایضاً) مکحولؒ نے کہاکہ زمین کی پشت پر گزری ہوئی سنت کے بارے میں زہری ؒ سے بڑھ کر کوئی عالم باقی نہیں رہا۔ (ایضاً) ابو بکر الھذلی ؒ کہتے ہیں کہ میں حسن بصریؒ اور ابن سیرینؒ کے ساتھ بیٹھا، لیکن میں نے زہری ؒ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً) امام دارمیؒ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معینؒ سے کہا کہ زہری ؒ آپ کوسعید بن مسیب ؒ سے زیادہ محبوب ہے یا قتادہ؟ تو انھوں نے کہا دونوں۔ میں نے پھر کہا کہ وہ دونوں آپ کو زیادہ محبوب ہیں یا یحییٰ بن سعید تو یحییٰ بن معین ؒ نے کہا :یہ سب ثقہ راوی ہیں ۔ (ایضاً) علی بن مدینیؒ نے کہا کہ حدیث کا علم امت محمد میں چھ افراد نے محفوظ کیا۔ أہل مکہ میں سے عمرو بن دینار ؒ نے اور اہل مدینہ میں ابن شہاب الزہریؒ نے.... (تہذیب الکمال‘جلد۱۲‘ص۸۴) 

امام ابن شہاب زہریؒ کی تعدیل و توصیف سے اسماء الرجال کی کتب بھری پڑی ہیں۔ غامدی صاحب کو امام زہری ؒ کے بارے میں جلیل القدر معاصرو متأخرفقہا‘ تابعین اور محدثین کے یہ اقوال تو نظر نہ آئے اور اگرکچھ نظر آیا تو وہ امام لیث بن سعدؒ کا وہ قول ہے جو ابن قیم ؒ نے اپنی کتاب ’اعلام الموقعین‘میں نقل کیا ہے ۔اس قول کے بارے میں ہماری رائے درج ذیل نکات پر مشتمل ہے :

پہلی بات تو یہ ہے کہ’اعلام الموقعین‘اسماء الرجال کی کتاب نہیں ہے۔ ہم غامدی صاحب کو یہ مشورہ دیں گے کہ امام زہری ؒ کی شخصیت پر اگر بحث کرنی ہے تو اسماء الرجال کی کتب میں موجود أئمہ جرح و تعدیل کے اقوا ل کی روشنی میں کریں۔

دوسری بات یہ کہ امام لیث بن سعد ؒ کا وہ خط جس کا غامدی صاحب نے حوالہ دیا ہے، تقریباً تین صفحات پر مشتمل ہے۔ غامدی صاحب نے اس خط میں سے اپنے کام کی تین چار سطریں نکال لیں، حالانکہ اگر اس خط کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام لیث بن سعدؒ نے جو اتنا لمبا چوڑا خط امام مالک ؒ کو لکھا ہے، اس کا موضوع امام زہریؒ کی شخصیت نہیں ہے بلکہ اس کا موضوع امام لیث بن سعدؒ اور امام مالکؒ کے درمیان ایک مسئلے میں علمی اختلاف ہے اور وہ یہ کہ امام لیث بن سعدؒ کے نزدیک ’ عمل اہل مدینہ‘کے خلاف فتویٰ دینا جائز ہے ‘جبکہ امام مالکؒ اس کو ناجائز قرار دیتے تھے۔ اس پر امام لیث بن سعدؒ نے امام مالکؒ کو خط لکھا جس میں مدینہ کے علما کے باہمی اختلاف اور ان کی آرا کے کمزور پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان علماے مدینہ میں ایک ابن شہاب زہریؒ بھی تھے۔ یہ تو ایک فقہی اختلاف ہے جس کی کچھ عبارت کوجناب غامدی صاحب نے درمیان سے اٹھا لیا اور اسے امام لیث بن سعدؒ کی ‘ابن شہاب زہریؒ پر تنقید کے عنوان سے پیش کر دیا حالانکہ امام لیث بن سعدؒ نے امام زہریؒ کے علم حدیث میں مقام و مرتبے کو بیان کرتے وقت اسی مبالغے کاا ظہار کیا ہے جو کہ تمام علماے جرح و تعدیل سے منقول ہے۔امام لیث ؒ فرماتے ہیں :

وقال أبو صالح عن اللیث بن سعد ما رأیت عالما قط أجمع من ابن شھاب ولا أکثر علما منہ .۔۔۔ (تہذیب الکمال: جلد۶‘ ص۵۱۲)

’’أبو صالحؒ ‘ امام لیث بن سعد ؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ابن شہاب زہری ؒ سے زیادہ جامع العلوم کسی عالم کو نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑے کسی عالم کو دیکھا ہے ....‘

کتبت من علم محمد بن شہاب الزہری علما کثیرا (وفیات الأعیان:جلد۴‘ ص۱۲۷)
’’میں نے امام ابن شہاب الزہریؒ کے علم میں سے بہت سے کو لکھا ۔‘‘

تیسری بات یہ کہ غامدی صاحب کے بقول امام زہریؒ کے بارے میں امام لیث بن سعد ؒ نے یہ اعتراض کیا کہ ایک ہی مسئلے میں بعض اوقات ان کے فتاویٰ جات مختلف ہوتے ہیں ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک ہی مسئلے میں امام مالکؒ ‘امام ابو حنیفہؒ ‘ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ جیسے جلیل القدر فقہا کی بھی ایک سے زائد آرا منقول ہوتی ہیں کیونکہ فتویٰ حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک شخص کو دیکھ کر مفتی ایک مسئلے میں ایک فتویٰ دیتا ہے اور بعض اوقات دوسرے شخص کو اس کے حالات کے مطابق بالکل اس کے برعکس فتویٰ دیتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روک دیا، جبکہ ایک بوڑھے شخص کو اس کی اجازت دے دی ۔بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک عالم ایک مسئلے میں ایک فتویٰ دیتا ہے اور بعد میں اس کی رائے تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ اس کے بالکل برعکس فتویٰ دیتا ہے، جیسا کہ امام شافعیؒ کے بارے میں معروف ہے کہ ان کی ایک قدیم رائے ہے اور ایک جدید رائے ہے۔ 

چوتھی بات یہ ہے کہ امام لیث بن سعد ؒ نے امام زہریؒ پر جو جرح کی ہے، وہ ان کے فتاویٰ جات کے اعتبار سے ہے نہ کہ ان کی حدیث بیان کرنے کے اعتبار سے۔ اگر وہ حدیث کے معاملے میں بھی ایسا ہی کرتے کہ کبھی ایک روایت کو کچھ الفاظ کے ساتھ اور کبھی اس کے بالکل برعکس الفاظ کے ساتھ نقل کرتے تو امام لیثؒ اس کا ضرور تذکرہ فرماتے۔ جتنی جرح نقل کر کے غامدی صاحب امام زہری ؒ کی شخصیت کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں، اتنی جرح تو أئمہ رجال کے ہاں حدیث کے مسئلے میں امام ابو حنیفہ ؒ پر بھی موجود ہے، لیکن اس جرح کے باوجود امام ابو حنیفہؒ کی ایک فقیہ کی حیثیت سب کے نزدیک متفق علیہ اور مسلم ہے، اس لیے امام زہری ؒ کے فتاویٰ پر جرح سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ حدیث میں بھی مجروح ہوں۔ 

پانچویں بات یہ ہے کہ غامدی صاحب نے امام زہری ؒ کے بارے میں امام لیث بن سعدؒ کی جو ایک رائے نقل کی ہے، اگر کسی ایک شخص کی رائے پر ہی کسی کے علمی مقام و مرتبے کے تعین کا انحصار ہے تو ایسی آرا توہرفقیہ اور محدث کی ذات یا اس کی کتب کے بارے میں موجود ہیں، تو کیا اس وجہ سے ان کے تمام علمی کام اور مرتبے کا انکار کر دیا جائے گا؟

۸) جناب غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات قبول نہ کرنے کی جوتین وجوہات بیان کی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ تدلیس کرتے ہیں۔ غامدی صاحب جن أئمہ رجال پر اعتماد کرتے ہوئے امام زہری ؒ کو تدلیس اور ادراج کا مرتکب قرار دے رہے ہیں، وہی أئمہ رجال امام زہریؒ کی روایات کو قبول کرتے ہیں۔ صحاح ستہ کے مؤلفین نے امام زہری ؒ سے روایات لی ہیں اور أئمہ جرح وتعدیل نے ان پر صحیح کا حکم بھی لگایا ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ أئمہ محدثین ورجال کے نزدیک امام زہریؒ کی روایات مردود نہیں بلکہ مقبول ہیں۔امام زہریؒ کی ’سبعۃ أحرف‘کی جس روایت پر غامدی صاحب تنقید کرہے ہیں اور اس کو مردود قرار دے رہے ہیں، یہ صحیح بخاری کی روایت ہے جس کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

قابل غور بات یہ ہے کہ علم حدیث میں غامدی صاحب کا مقام و مرتبہ کیا ہے یا ان کی خدمات کیا ہیں جس کی بنیاد پر وہ صحیح بخاری کی روایات کو مرود د کہہ رہے ہیں؟ امام بخاری ؒ کہہ رہے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے اور ان کی رائے کو قبول کیا جائے تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ وہ حدیث کے امام ہیں۔ اسی طرح اگر امام دار قطنیؒ ‘صحیح بخاری کی روایات پر تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ وہ اس کے اہل بھی ہیں اور فن حدیث اور اس کی اصطلاحات کی روشنی میں ہی روایات پر بحث کرتے ہیں، لیکن غامدی صاحب جیسے محقق اگر صحیح بخاری کی روایات کو مردود کہنے لگ جائیں توعلم دین کا اللہ ہی حافظ ہے، کیونکہ نہ تو وہ فن حدیث اور اس کی اصطلاحات سے ’کماحقہ‘ واقف ہیں اور نہ ہی وہ اس کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں احادیث کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند مزید پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے :

پہلی بات تو یہ ہے کہ صرف تدلیس کوئی ایسا عیب نہیں ہے جس کی وجہ سے کسی راوی کی روایات کومردود قرار دیا جائے۔ امام ابن صلاحؒ فرماتے ہیں:

أن التدلیس لیس کذبا وانما ھو ضرب من الایھام بلفظ محتمل (مقدمہ ابن الصلاح:جلد۱‘ص۱۴)
’’تدلیس جھوٹ نہیں ہے۔ یہ تو محتمل الفاظ کے ساتھ ایہام کی ایک قسم ہے۔ ‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ امام زہریؒ کی تدلیس وہ تدلیس نہیں ہے جس معنی میں متأخرین اس کو تدلیس کہتے ہیں بلکہ وہ ارسال ہی کی ایک قسم ہے کہ جس کو بعض متقدمین نے تدلیس کہہ دیا۔ شیخ ناصر بن احمدالفہد لکھتے ہیں :

لم أجد أحدا من المتقدمین وصفہ بالتدلیس غیر أن ابن حجر ذکر أن الشافعی و الدارقطنی وصفاہ بذلک والذی یظھر أنھما أرادا الارسال لا التدلیس بمعناہ الخاص عند المتأخرین أو أنھم أرادوا مطلق الوصف بالتدلیس غیر القادح .... و ھو من أھل المدینۃ و التدلیس لا یعرف فی المدینۃ (منہج المتقدمین فی التدلیس: ص۶۰ تا ۶۱) 
’’میں نے متقدمین میں سے کسی ایک کو بھی نہیں پایا جس نے امام زہریؒ کو تدلیس سے مو صوف کیا ہو‘صرف ابن حجر نے لکھاہے کہ امام شافعی ؒ اور امام دارقطنی ؒ نے ان کو تدلیس سے موصوف کیا ہے۔اور صحیح بات یہ ہے کہ ان دونوں حضرات کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ امام زہریؒ ارسال کے مرتکب تھے نہ کہ اس معنی میں تدلیس کے جس معنی میں یہ متأخرین میں معروف ہے، یا ان کا مقصد امام زہری ؒ کو مطلقاً ایسی تدلیس سے موصوف کرنا تھا جو کہ عیب دار نہ ہو ... امام زہریؒ اہل مدینہ میں سے ہیں اور اہل مدینہ میں تدلیس معروف نہ تھی ۔‘‘

تیسری بات یہ کہ امام زہری ؒ سے تدلیس شاذو نادر ہی ثابت ہے ‘امام ذہبی ؒ لکھتے ہیں :

کان یدلس فی النادر (میزان الاعتدال: جلد ۴‘ ص ۴۰)
’’وہ شاذ و نادر ہی تدلیس کرتے تھے ۔‘‘

باقی ابن حجرؒ کا یہ کہنا کہ امام زہریؒ تدلیس میں مشہور تھے ‘صحیح نہیں ہے کیونکہ متقدمین میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کی۔ شیخ ناصر بن حمدالفہد لکھتے ہیں :

و یعسر اثبات تدلیس الزھری (التدلیس الخاص) فضلا عن أن یشتھر بہ (منہج المتقدمین فی التدلیس: ص۶۲) 
’’امام زہریؒ کے بارے میں تدلیس (تدلیس خاص ) کو ثابت کرنا ہی مشکل ہے چہ جائیکہ یہ دعویٰ کیاجائے کہ وہ تدلیس میں مشہور تھے ۔‘‘

امام صنعانیؒ نے بھی ابن حجر ؒ پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ انھوں نے امام زہری ؒ کا شمار مدلسین کے تیسرے طبقے میں کیوں کیا ہے۔ امام صنعانیؒ لکھتے ہیں :

فما کان یحسن أن یعدہ الحافظ ابن حجر فی ھذہ الطبقۃ بعد قولہ أنہ اتفق علی جلالتہ و اتقانہ (توضیح الأفکار:جلد۱‘ص۳۶۵)
’’یہ بات اچھی نہیں ہے کہ ابن حجر ؒ نے اما م زہریؒ کو تیسرے طبقے میں شمار کیا، جبکہ خود ابن حجر کاامام زہری ؒ کے بارے میں یہ قول موجود ہے کہ ان کے علمی مقام اور حافظے کی پختگی پر محدثین کا اتفاق ہے ۔‘‘

چوتھی بات یہ کہ امام زہری ؒ کی وہ روایات جن میں سماع کی تصریح موجود ہے وہ تو قابل قبول ہیں ہی ‘اس کے علاوہ ان کی وہ روایات بھی مقبول ہیں جو کہ ’عنعنہ‘ کے ساتھ ہوں۔ابراہیم بن محمد العجمی فرماتے ہیں :

و قد قبل الأئمۃ قولہ عن (التبیین لأسماء المدلسین:ص۹)
’’اور أئمہ محدثین نے ان کے ’عن‘کے ساتھ روایات کو قبول کیا ہے ۔‘‘

امام بخاریؒ اور اما م مسلم ؒ نے ان کی ’عن‘کے صیغہ کے ساتھ روایات کو قبول کیا ہے۔ شیخ ناصر بن احمد الفہد لکھتے ہیں :

و أما رد حدیثہ الا عند ذکر السماع فلا أظنک تجد ذلک عند أحد من الأئمۃ المتقدمین (منہج المتقدمین فی التدلیس: ص۶۰تا۶۱) 
’’اور جہاں تک اس بات کا معاملہ ہے کہ صراحت کے ساتھ سماع کے علاوہ ان(یعنی امام زہریؒ ) کی روایت قبول نہ کی جائے تو میرا نہیں خیال کہ أئمہ متقدمین میں سے کسی کا یہ مؤقف رہا ہو۔ ‘‘

۹) غامدی صاحب نے امام زہریؒ پر ادراج کا الزام بھی لگایا ہے، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس قسم کے ادراج کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ بات تو صحیح ہے کہ کسی حدیث کے متن میں اپنی طرف سے جان بوجھ کر کچھ اضافہ کر دینا حرام ہے، لیکن ادراج کی ایک قسم وہ بھی ہے جو جائز ہے۔ وہ یہ کہ کوئی راوی احادیث کے غریب الفاظ کی تشریح میں کچھ الفاظ اس طرح بیان کرے کہ وہ حدیث کا حصہ معلوم ہوں۔ امام زہری ؒ کے ادراج کی نوعیت بھی یہی ہے، جیساکہ اما م سیوطیؒ کی درج ذیل عبارت سے واضح ہو رہا ہے ۔امام سیوطیؒ لکھتے ہیں :

و عندی ما أدرج لتفسیر غریب لا یمنع ولذلک فعلہ الزھری وغیر واحد من الأئمۃ (تدریب الراوی:جلد۱‘ص۲۳۱) 
’’اور میرے نزدیک جو کسی غریب الفاظ کی تشریح کے لیے ادراج کیا جائے تو وہ ممنوع نہیں ہے جیسا کہ امام زہری ؒ اور دوسرے أئمہ حدیث سے مروی ہے ۔‘‘

غامدی صاحب جس تدلیس اور ادراج کی بنیاد پر امام زہریؒ کو مجروح قرار دے رہے ہیں، وہ تدلیس اور ادراج تو بعض صحابہ سے بھی ثابت ہے، مثلاً حضر ت ابوہریرہؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہ سے جیسا کہ اما م سیوطی ؒ نے ’تدریب الراوی‘میں اور امام صنعانیؒ نے’ توضیح الأفکار‘ میں اس کی مثالیں بیان کی ہیں ‘تو کیا اس بنیاد پر صحابہ کی روایات کو مردود کہیں گے؟ واقعہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کی آرا کا علمی جائزہ لینے کے بعدیہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ’تدلیس‘ اور’ ادراج‘ جیسی اصطلاحات کا نام سنا ہوا ہے۔ جہاں تک ان اصطلاحات کی مفصل اور عمیق ابحاث کا تعلق ہے ‘وہ اس کے لیے وقت نہیں نکال پائے‘ اسی لیے وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایسی متفق علیہ روایت کو مردود کہنے کی جرات کر رہے ہیں جو جملہ محدثین اور أئمہ رجال کے نزدیک صحیح ہے۔ 

۱۰) غامدی صاحب نے ’سبعۃ احرف‘ کی روایات کا ا س بنا پر انکار کیا ہے کہ ان روایات کے مرکزی راوی امام زہری ؒ ہیں جن کی روایات ان کے نزدیک مردود ہیں۔ اگر ہم غامدی صاحب کویہی روایات امام زہری ؒ کے طریق کے علاوہ کسی اورثقہ راوی کے طریق سے پیش کر دیں تو کیا وہ ان راویات کو مان لیں گے؟ ذیل میں ہم امام زہری ؒ کے طریق کے علاوہ بعض دوسرے طرق سے چند صحیح روایات بطور مثا ل ایک سے زائد قراء ات کے اثبات کے لیے تحریر کر دیتے ہیں۔صحیح بخاری کی ایک روایت ہے :

حدثناأبو الولید حدثنا شعبۃ قال عبد الملک بن مسیرۃ أخبرنی قال سمعت نزال بن سبرۃ قال سمعت عبد اللہ یقول.... (صحیح بخاری‘کتاب الخصومات‘ باب ما یذکر فی الأشخاص والخصومۃ)

سنن نسائی کی ایک روایت ہے :

أخبرنی یعقوب بن ابراہیم قال حدثنا یحیی عن حمید عن أنس عن أبی بن کعب قال ..... (سنن نسائی‘کتاب الافتتاح‘باب جامع ما فی القرآن)

اسی طرح سنن نسائی کی ایک اور روایت ہے :

أخبرنی عمرو بن منصور قال حدثنا أبو جعفر بن نفیل قال قرأت علی معقل بن عبید اللہ عن عکرمۃ بن خالد عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن أبی بن کعب قال ..... (أیضاً)

اسی طرح کی بیسیوں روایات ایسی ہیں کہ جن سے قرآن کی ایک سے زائد قراء ات کا اثبات ہوتا ہے اور ان کی سند میں امام زہری ؒ موجود نہیں ہیں ‘غامدی صاحب نے اپنی کتاب میں ان روایات پر کوئی تبصرہ نہیں فرمایا‘کیا یہ روایات بھی ان کے نزدیک مردود ہیں ؟اگر ہیں تو کن اصولوں کی روشنی میں؟

اگر غامدی صاحب نے ’سبعۃ احرف‘ کی روایات پر بحث کرنی ہے تو پھر ایک سے زائد قراء ات کے اثبات میں مروی ان تمام روایات کا بھی جواب دیں جن کی سند میں امام زہریؒ موجود نہیں ہیں۔ 

غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف

غامدی صاحب نے اپنی تحقیقات میں بہت سی ایسی احادیث سے استدلال کیا ہے جن کے مرکزی راوی اما م زہری ؒ ہیں۔ ان احادیث میں سے دو کا بطور مثال ہم یہاں ذکر کریں گے:

۱) غامدی صاحب اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں اسلام کے شورائی نظام کا یہ اصول بیان کیا ہے کہ مسلمان اپنے معتمد لیڈروں کی وساطت سے شریک مشورہ ہوں گے۔ اس کے لیے انھوں نے صحیح بخاری کی اس روایت سے استدلال کیا ہے جس کے مطابق غزوہ حنین کے موقع پر جب مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہوازن کے قیدی رہا کرنے کی اجازت دی تو آپ ؐ نے فرمایا کہ : ’انی لا ادری من اذن فیکم ممن لم یأذن فارجعوا حتی یرفع الینا عرفاء کم أمرکم‘ (رقم:۷۱۷۶) ’’میں نہیں جان سکا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ۔پس تم جاؤ اور اپنے لیڈروں کو بھیجو تا کہ وہ تمہاری رائے سے ہمیں آگاہ کریں ۔‘‘(میزان:ص۱۱۸تا۱۱۹)

اس حدیث کی سند میں بھی وہی راوی یعنی ابن شہاب زہری موجود ہے جس کی روایات کو غامدی صاحب مردود قرار دے چکے ہیں۔ اس حدیث کے اور طرق بھی موجود ہیں لیکن ان میں بھی ابن شہاب ؒ موجود ہیں گویا کہ اس روایت کا انحصار ابن شہابؒ پر ہی ہے۔ غامدی صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا رد کرنے کے لیے اصول تو بنا لیتے ہیں لیکن جب اپنی فکر واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خود بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ 

۲) اسلام کے شورائی نظام کی مذکورہ بحث میں ہی غامدی صاحب نے یہ اصول واضح کرنے کے لیے کہ امامت و سیاست کا منصب ریاست میں موجود مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں سے اس گروہ کا استحقاق قرار پائے گا جسے عام مسلمانوں کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہو، حضرت عمر کا یہ ارشاد نقل کیا ہے :

من بایع رجلا من غیر مشورۃ المسلمین فلا یبایع ھو ولا الذی بایعہ تغرۃ أن یقتلا (بخاری‘رقم۶۸۳۰)
’’جس شخص نے اہل ایمان کی رائے کے بغیر کسی کی بیعت کی ‘اس کی اور اس سے بیعت لینے والے ‘دونوں کی بیعت نہ کی جائے ۔اس لیے کہ اپنے اس اقدام سے وہ گویا اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں گے ۔‘‘ (میزان: ص۱۲۱‘ ۱۲۴‘ ۱۲۵)

اس روایت کے مرکزی راوی بھی امام زہریؒ ہیں جو کہ ’مدلس‘ او ر ’مدرج‘ ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ’عنعنہ‘ سے روایت کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود غامدی صاحب ان کی روایت کو قبول کر رہے ہیں ‘آخر کس بنیاد پر ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ غامدی صاحب کی کتاب’ میزان‘کا کوئی ایک باب بھی ایسا نہیں جس میں غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات سے استدلال نہ کیا ہو۔ غامدی صاحب کی کتاب میزان (مطبوعہ ۲۰۰۲) درج ذیل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے:

۱) قانون سیاست : اسلام کے شورائی نظام کے اصول و مبادی بیان کرتے ہوئے اس باب میں غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات سے استدلال کیا ہے۔ میزان:ص۱۲۴‘بخاری : ۶۸۳۰اور ص۱۱۸‘بخاری :۲۱۷۶ ملاحظہ فرمائیں ۔

۲) قانون معیشت : اسلامی شریعت میں بیع کی ناجائزاقسام کا تعارف کرواتے ہوئے اس باب میں غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان: ص۱۴۷ ‘بخاری :۲۱۳۱اور بخاری :۲۱۴۰۔ علاوہ ازیں ص۱۷۱‘بخاری :۶۴۶۷بھی دیکھیں ۔

۳) قانون دعوت: اس باب میں غامدی صاحب نے چند دعوتی اصول بیان کرتے ہوئے امام زہری ؒ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان :ص۲۲۴‘بخاری :۲۲۰۔

۴) قانون جہاد: غامدی صاحب نے اس باب میں قتال کا اجر وثواب بیان کرتے ہوئے امام زہری ؒ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ملاحظہ ہومیزان:ص۲۵۴‘بخاری :۲۷۸۷۔

۵) حدودو تعزیرات: حدود و تعزیرات کے بیان میں غامدی صاحب نے قتل خطا کے قانون کی وضاحت کرتے ہوئے امام زہری ؒ کی ایک روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان:ص۲۹۷‘بخاری: ۱۴۹۹ ۔

۶) خورونوش: اس باب میں غامدی صاحب نے مردار کی کھال وغیرہ سے نفع اٹھانے کو جائز قرار دیتے ہوئے امام زہریؒ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہومیزان:ص۳۲۰‘مسلم:۳۶۳۔

۷) رسوم وآداب: دین اسلام میں رسوم وآدا ب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے غامدی صاحب نے امام زہری کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہومیزان:ص۳۲۵‘مسلم:۲۵۷۔

۸) قسم اور کفارہ قسم: اس باب میں نذر کا کفارہ بیان کرتے ہوئے غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایت سے استدلال کیاہے۔ملاحظہ ہومیزان؛ص۳۳۷‘ابوداؤد:۳۲۹۰۔

ثابت ہوا کہ غامدی صاحب کی کتاب کے ہر باب کی بنیاد امام زہریؒ کی روایات پر ہے جو ان کے بقول مدلس اور مدرج ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ اس اعتبار سے ہم غامدی صاحب سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ واضح کریں کہ ایسے ’مدلس‘اور ’مدرج‘راوی کی بیان کردہ روایات کی بنیاد پر قائم ان کے تصور دین کی اصل حقیقت کیا ہے؟ 

سچ تو یہ ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک کسی حدیث کو قبول کرنے یا رد کرنے کی اصل بنیاد اصول حدیث نہیں بلکہ ان کی اپنی فکر ہے۔ جس حدیث سے ان کے افکار و نظریات کی تائید ہوتی ہو، وہ ان کے نزدیک صحیح ہے اور جو حدیث ان کے مؤقف کے خلاف ہو، وہ مردودہے ۔ہماری گزارش تو صرف اتنی ہے کہ اگر غامدی صاحب اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کی پاسداری کر لیں تو شاید اہل سنت کی شاہراہ کے بہت قریب آ جائیں۔ 

آراء و افکار

(جون ۲۰۰۷ء)

Flag Counter