اسلام، جمہوریت اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

حاکم خان کیس میں اکثریتی نقطہ نظر یہ ہے کہ قرار داد مقاصد دستور کے دیباچے میں تھی تو اس کی کوئی موثر حیثیت نہیں تھی، دیباچے سے اٹھا کر اس کے متن میں موثر (substantive) طور پر شامل کر دی گئی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ( ۱) یہ پہلے بھی فضائل ومواعظ کی طرح تھی اور اب بھی اس کی حیثیت نمائشی سے زیادہ نہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جنرل ضیا ء الحق کا دستور میں ترمیمی حکم اور پھر قومی اسمبلی کی جانب سے آٹھواں آئینی ترمیمی حکم ۱۹۸۵ء محض بیکار مشق ہے۔ ایک باقاعدہ دستوری ترمیم کے بارے میں اس طرح کا فیصلہ صادر فرماناکتنا تعجب خیز ہے، لیکن ہمارے ہاں سپریم کورٹ بیچاری فوجی بوٹوں، خاکی وردی، پی کیپ اور چھڑی کی خدمت کرتے کرتے اس مرحلے تک پہنچ چکی تھی۔

جب ایک فیصلہ ذہن میں پہلے سے ہو تو اس کے لیے دلائل کا انبار لگا دینا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے علمائے مناظرین سے ہمارے روشن خیال اور جدید تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور اونچے منصب پر فائز جج زیادہ پیچھے نہیں رہ سکتے۔ ایسے میں نظریاتی شیفتگی، اعلیٰ اساسی اصولوں اور منصبی حلف کی پاسداری کا کسے خیال رہ سکتا ہے؟

فیصلے کے لیے جن دلائل پر انحصار کیا گیا ہے، ان کا تفصیلی تذکرہ سردار شیر عالم خان کے تنقیدی مقالے میں موجود ہے۔ ان میں سے اہم باتوں کا ذکر ہم اس اختتامی باب میں کرنا چاہتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ عدالتیں اپنے اختیار سماعت کے بارے میں بہت حساس واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں کبھی کمزور پوزیشن اختیار نہیں کی۔ مارشل لا کے نفاذ کا حکم ہو یا دستور کو معطل کرنے کا فرمان، عدالتوں نے ان کے جواز وعدم جواز کے بارے میں سماعت اور فیصلے کے اختیار پر ہمیشہ اصرار کیا ہے۔ اس بارے میں عدالت کواختیار سماعت سے محروم کرنے کے لیے بعض اوقات قوانین یا غیر معمولی احکام میں یہ شق شامل کی جاتی رہی کہ حکم، فرمان یا قانون سے متعلقہ معاملات کے بارے میں کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔ ایسی شق کو clause ouster کہتے ہیں۔ عدالتوں نے ہمیشہ یہی قرار دیا کہ کوئی clause ouster ان کے اختیار سماعت کو چھین نہیں سکتی۔ یہ فیصلہ کرنا عدالتوں ہی کا کام ہے کہ ان کو اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اس بارے میں کوئی دوسرا کچھ نہیں کر سکتا۔ اس بارے میں عدالتی فیصلوں میں تسلسل اور تواتر پایا جاتا ہے۔ پاکستانی ججوں کا اس نکتے پرمتواتر اجماع ہے۔ یہ واقعی ایک عظیم اجماع ہے۔ اس کی تاریخ مرتب کی جا سکتی ہے۔ سر دست ہمارے پیش نظر اس کا تاریخی پہلو نہیں۔ اعلیٰ عدالتوں نے اپنے اختیار سماعت کے بارے میں اس حریصانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔ یہ مغرب کی روایت ہے۔ اصول قانون بن چکا ہے۔ ہماری عدالتوں نے اسی کی پیروی کی ہے۔ اس کی ابتدا امریکہ کے چیف جسٹس مارشل نے کی۔

جنرل مارشل، پینتیس سال تک امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ امریکہ میں ججوں کا تقرر عمر بھر کے لیے ہوتا ہے۔ وہاں جج ریٹائر نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں تو ایک وردی پوش جرنیل، ایک فرمان کے ذریعے سپریم کورٹ کے سات سات ججوں کو گھر بھیج دیتا ہے۔ پھر بھی عدلیہ کی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے، سپریم کورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اس طرح عدالتوں میں وسیع ’’چھانٹی‘‘ کیسے مناسب ہو سکتی ہے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ارشاد حسن خان صاحب نے دو لفظوں میں فیصلہ فرما دیا کہ یہ قصہ ماضی ہو چکا ہے۔ جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اندازے کے لیے تفصیل اس طرح ہے کہ سید ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی فل کورٹ، جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے جواز کے سوال پر سماعت شروع کر چکی تھی۔ ابھی تیسری پیشی میں چھ دن باقی تھے کہ پی سی او کے تحت حکم جاری ہوا۔ حلف میں کہا گیا کہ بعض زیر سماعت امور کے تحفظ کا حلف اٹھایا جائے۔ تیرہ میں سے سات ججوں نے حلف اٹھانے سے انکار کیا اور گھر چلے گئے۔ اس طرح تھوک کے حساب سے ججوں کو گھر بھیج کر اس ادارے میں کیا بچتا ہے۔ پی سی او کا حکم مورخہ ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء کو جاری ہوا۔ ۲۶ جنوری کو ججوں کا حلف ہوا۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۰ء کو کیس کا فیصلہ ہوا اور اس چھانٹی کو قصہ ماضی matter of past قرار دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے صادر فرمایا۔ (۲) 

عدالتوں کے اپنے اختیار سماعت پر اصرار کی روایت کیسے قائم ہوئی؟ امریکہ میں بھی عدالتی جریت پر ناک منہ چڑھانے والے لوگ موجود ہیں، مگر وہاں عدالتیں جرا ت سے کام لیتی ہیں تو رائے عامہ ان کی پشت پر ہوتی ہے۔ عدالتیں لوگوں کو انصاف دیتی ہیں تو لوگ ان فیصلوں کو منوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی حوالے سے چیف جسٹس کی بحالی کے حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے ایک سابق جج جناب جسٹس آفتاب فرخ نے کہا تھا کہ اگر لوگوں میں طاقت ہوئی تو وہ بحالی کے اس فیصلے کو اپنی طاقت سے منوا لیں گے۔

بہر صورت ستم یہ ہوا ہے کہ ہمارے ہاں اعلیٰ عدالتوں نے اختیار سماعت پر ہمیشہ اصرار کیا۔ اس سے عدالتوں کی انا کی تسکین تو ہوئی ہو گی مگر اختیار جتلاتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں نے کبھی دادرسی فراہم نہیں کی۔ پبلک کو ہمیشہ غیر معمولی اور ماوراے آئین اقدامات کے خلاف دادرسی سے محروم ہی رکھا گیا۔ دادرسی سے انکار کے لیے عدالتوں نے مختلف عذر اختیار کیے۔ مارشل لا کے احکامات کے خلاف دادرسی سے انکار کے لیے نظریہ ضرورت اور کامیاب انقلاب کے اصول اختیار کیے گئے۔ حاکم خان کیس میں یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ دستور کی دو دفعات میں باہم تضاد کو دور کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ لہٰذا آرٹیکل ۴۵ کے تحت تھوک کے حساب سے سزا یافتگان کی سزاؤں کی معافی کے احکامات کے بارے میں آرٹیکل ۴۵کو غیر موثر قرار دے کر دادرسی نہیں ہو سکتی۔

ایک بہت چھوٹی عدالت کا لطیفہ بڑا معروف ہے۔ تحصیلدار کی عدالت میں ایک وکیل صاحب یہ عذر کر رہے تھے کہ تنازعہ مالی کے بجائے دیوانی نوعیت کے ہے، اس لیے عدالت سن نہیں سکتی۔ دوسرے فریق کے وکیل کہہ رہے تھے کہ عدالت سن سکتی ہے۔ بحث تکرار کے قریب پہنچنے لگی تو تحصیل دار صاحب ناراض ہو کر فرمانے لگے: 

’’یہ کیا فضول بات ہے کہ آپ دو گھنٹے سے بحث کر رہے ہیں کہ میں سن نہیں سکتا۔ حالانکہ میں سن رہا ہوں۔ کیا میں اپنی سماعت کے بارے میں کسی ای این ٹی سپیشلسٹ سے سرٹیفکیٹ لا کر دکھاؤں؟ بکواس بند کرو۔ میں سن رہا ہوں۔ بہرا نہیں ہوں۔‘‘

حاکم خان کیس میں بڑی دلیل یہ دی گئی کہ اعلیٰ عدالتیں دستور کی تخلیق ہیں لہٰذا وہ دستور کی کسی دفعہ کو غیر موثر یا منسوخ نہیں کر سکتیں۔

قانون و انصاف کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ibi jus ibi remedium’’ہر ظلم و زیادتی پر دادرسی لازم ہے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ قانونی اور عدالتی نظام کا بنیادی منشا ہر ظلم اور زیادتی پر دادرسی فراہم کرنا ہے۔ یہ تصور ہی محال ہے کہ زیادتی ہو اور اس کی دادرسی ممکن نہ ہو۔ قانون میں سقم اور کوتاہی، انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ قانون نہ ہو تو کامن لا کی روشنی میں انصاف کیا جائے گا۔ کامن لا بھی خاموش ہو تو روایت کی پیروی ہو گی۔ ایسا جج جو قانون میں کمی کی بنا پر انصاف فراہم کرنے سے گریز کرے، اسے قابل تعزیر گردانا جاتا ہے۔ اس سب کچھ کو ذہن میں رکھ کر سوال یہ ہے کہ اختیار سماعت بھی ہو اور پھر دادرسی نہ ہو، یہ ایک ایسی صورت ہے جس کو معمول بنا کر ہمارے ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے اپنی نفی خود کی ہے۔ اس روش کا نتیجہ یہ ہے کہ عدالتیں ظلم و عدوان کی محافظ بن گئیں۔ بالکل جس طرح پولیس کا پیشہ اپنی تشکیل کے لحاظ سے مقدس ترین پیشہ ہے۔ پولیس واقعتا محافظ ہو تو اس سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہو گا۔ مگر وہ اپنے طرز عمل کی وجہ سے نفرت اور حقارت کی علامت بن گئی ہے۔

ہماری عدالتیں انصاف و دادرسی کی فراہمی میں گریز کے متواتر عمل سے پبلک کا اعتماد کھو چکی ہیں۔ ۹ مارچ ۲۰۰۷ء سے پہلے کے جسٹس افتخار کے دور میں یہ صورت حال اپنی انتہا کو پہنچی۔ وکلا برادری نے سیاسی تنازعات میں اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ قانون اور آئین کا سقم انصاف میں رکاوٹ ہو، مملکت خداد داد پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت انصاف، پارلیمنٹ سے سقم دور کرنے کی درخواست کرے تو انصاف ہو لیا۔ انتظامیہ پاکستان کے شہریوں کو گرفتار کر کے غائب کر دے، ڈاکٹر خواجہ احمد جاوید جیسے لوگوں کو نشانہ بنائے، ڈاکٹر قدیر احمد کی خدمات کا حشر کر دے تو عدالت پردہ فرما جائے، انتظامیہ کو کھلا چھوڑ دے۔ مسجد و مکتب پر ساری دفاعی طاقت لے کر چڑھ دوڑے تو عدالت عظمیٰ از خود نوٹس کی سماعت کرتی رہے اور سینکڑوں معصوموں کو خون کا غسل دے کر، بارود میں راکھ کر دیا جائے۔ مملکت کی سرحدوں کو پائمال کرنے اور اپنے وفادار قبائلیوں کو نیٹو فورسز اور ہماری بہادر اور مسلح افواج باری باری نشانہ بناتی رہیں، عدالت عظمیٰ فوج کو کوئی حکم دینے سے گریز کا فیصلہ صادر فرما دے۔ مملکت کی دینی اور نظریاتی حیثیت، لوگوں کے حقوق، جان، مال، عزت، آزادی ، حکومت اور شوریٰ کی نمائندہ حیثیت اور وفاق کے علاقوں کی سا لمیت خطرے میں ہو، اعلیٰ عدالتیں اس سب کچھ سے چشم پوشی کر کے انصاف کے چوغے اور ٹوپیاں پہنے، اپنے پروٹو کول میں مسحور رہیں تو ایسی عدالتوں کا لوگ کیا کریں گے۔

یہ گھمبیر صورت حال کیسے برقرار رہ سکتی ہے۔ چیف جسٹس کو اس کو بدلنے کی ضرورت کا احساس تھا۔ چنانچہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس سمت میں سفر شروع کیا۔ چند اہم کیسوں میں حکومت پر گرفت کر کے پبلک بد اعتمادی کی صورت کو بہتر بنایا، مگر یہ صورت حال وردی پوش حکومت پر سخت گراں گزری۔ پھر جو صورت حال پیدا ہوئی وہ سامنے ہے۔

یہ واضح رہے کہ داد رسی کی فراہمی میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ قانون میں سقم بھی موجود ہو، قانون دادرسی فراہم کرنے کے لیے کوئی راستہ تجویز نہ کرتا ہو، تب بھی دادرسی کی فراہمی سے عدالتیں انکار نہیں کر سکتیں۔ عدالتیں انصاف کے لیے ہیں، قانون کے لیے نہیں۔ عدالت، عدالت ہے۔ عدالت اور انصاف مترادف ہیں۔ انصاف نہیں تو عدالت، عدالت نہیں، سوسائٹی کے ساتھ مذاق ہے۔ خاص طور پر یہ اصول سامنے رہنا چاہیے کہ ماتحت عدالتیں عدالت ہائے قانون ہیں مگر اعلیٰ عدالتیں، عدالت ہائے انصاف ہیں۔ قانون کو قانون ماننا اور کس طرح ماننا مقننہ کا کام نہیں۔ قانون کی تشریح اور تعبیر عدالت ہی کا منصب ہے۔ قانون کیا ہے کیا نہیں، یہ بھی عدالت ہی طے کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اعلیٰ عدالتوں کو عدالت ہائے قانون کے بجائے عدالت انصاف کہا جاتا ہے۔ اور سپریم کورٹ تو انصاف کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ سپریم کورٹ میں انصاف نہ ہو تو مطلب یہ ہوا کہ انصاف حشر کے لیے اٹھا رکھا گیا۔ حشر کے روز تو انصاف ہو گا مگر یہاں انصاف سے انکار کر کے اعلیٰ عدالتیں حشر میں جواب دہی کا موقع باقی رکھ سکتی ہیں؟ یہ امر کتنا خوف ناک ہے۔ کوئی مسلم جج خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار اور کمزور ہو، یہ قرار دے سکتا ہے کہ میں یہاں انصاف نہیں کر سکتا، حشر کے دن انصاف ہو گا اور میں وہاں انصاف نہ کرنے پر جواب دہی کر لوں گا؟

اعلیٰ عدالتیں قانونی اور آئینی سقموں کے باوجود اپنی اجتہادی بصیرت کی مدد سے تعبیر و تشریح اور آخری چارہ کار کے طور پر تکمیل خلا کے اصول کو بروئے کار لا کر کامل انصاف کرنے کی ذمہ دار و پابند ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں تحریری قانون کی عدم موجودگی یا اس میں سقم کورکاوٹ بنانا، تحریری قانون کی محتامی اور غلامی ہے۔ دور جدید کے قانونی نظام کی ماں، برطانیہ میں تو مملکت کا آئین بھی غیر تحریری ہے۔ روایات پر مملکت چل رہی ہے۔ ہماری روایات تو ان سے بھی اعلیٰ ہیں۔ یہاں میں اسلامی تاریخ کی ایک ہزار سالہ روایت کا تذکرہ کروں گا۔

’’اسلام میں ایک روایت (tradition) عجیب و غریب رہی ہے جو کسی اور قوم میں ہمیں نظر نہیں آتی۔ یعنی اور ممالک میں قانون سازی حکومت کا اجارہ ہوتی ہے، جب کہ اسلام میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے بعد یہ چیز کبھی یوں نہیں رہی۔ اسلامی قانون کا یہ اصول ہے کہ عدالت کو حکومت سے آزاد رہنا چاہیے۔ یہ اصول مغرب میں بھی قبول کر لیا گیا ہے اور ہمارے ہاں بھی برقرار اور جاری ہے۔ اسی طرح عہد نبوی کے بعد سے لے کر آج تک اسلام میں قانون سازی ایک پرائیویٹ چیز رہی ہے۔ اس پر کبھی حکومت کا اجارہ monopoly نہیں رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان فقہا پوری آزادی کے ساتھ قانون کی ترقی میں مشغول رہے۔ قانون سازی صرف حکومت کی پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہی، ورنہ اسلامی قانون کی ترقی اس طرح نہیں ہو سکتی تھی جس طرح عمل میں آئی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کا یہ اصول، قانون اور حکم ہے مگر یہ اسلامی روایت (tradition) ہے۔ .... ورنہ حکومت کی سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے قانون متاثر ہوگا۔اگر میں وزیر قانون ہوں تو صدر مملکت کی ضرورت اور بعض وقت اس کی منشا کا لحاظ کر کے مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کروں گا اور اپنے اثرات ڈال کر، کہ میں اکثریتی پارٹی یا حکومتی پارٹی کا لیڈر ہوں، اپنے ارکان کو حکم دوں گا کہ وہ مسودہ قانون کے خلاف رائے نہ دیں۔ اس صورت میں اکثریت کی رائے سے جو قانون بنے گا، وہ سیاسی ضروریات سے متاثر ہو گا۔ ‘‘ (۳)

استدلال کی حاکمیت sovereignty  اصل الاصول ہے۔ سنجیدہ مسائل پر اہل رائے کے ما بین بحث و تمحیص ہوگی۔ سڑکوں اور گلیوں پر سنجیدہ مسائل لا کر نظم عامہ میں خلل نہیں ڈالا جا سکتا۔ اہل علم او راہل رائے ہر سطح پر بحث کریں گے۔ اس کی کوئی حد نہیں۔ استدلال گروہی اور دوسرے جملہ تعصبات سے بالا تر ہو کر پیش کیا جائے گا اور سنا جائے گا۔ کہنے کا موقعہ ہر ایک کو حاصل ہو گا۔ اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ کثرت رائے پر نہیں بلکہ استدلال پر ہو گا۔ بحث میڈیا پر بھی ہو سکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی خوب کھل کر بحث ہو گی۔ مگر فیصلہ رائے شماری کے بجائے استدلال کے وزن پر ہو گا۔ اسپیکر فیصلے میں طاقت ور استدلال کو قبول کرے گا اور کمزور استدلال کو رد کر دے گا۔ سپیکر کا کردار مکمل طور پر عدالتی نوعیت کا ہو گا۔ اسے شمار کنندہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ذہن کو بروئے کار لا کر پیش کردہ دلائل پر کھلی اور سیر حاصل بحث کے بعد استدلال کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

استدلال ہی کی بنا پر عدالتوں کے اختیار پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ وہ مکمل انصاف کے لیے آزاد ہوں گی۔ ججوں کے ہاں بھی کثرت و قلت کے لحاظ سے فیصلے نہیں ہوں گے۔ کھلی اور مکمل عدالتی بحث کے دوران ہی باہم مشاورت اور بحث کے بعد استدلال کی بنا پر فیصلے سناتے رہیں گے۔ پھر فیصلے پر نظر ثانی کے لیے ذہنوں کو ہمیشہ کھلا رکھا جائے گا۔ غلط فیصلے کو بدلنے میں کسی ہچکچاہٹ کا کوئی سوال ہی نہیں۔ استدلال کی حاکمیت قانون اور ضابطے کی بنیاد ہو گی تو بات بنے گی۔ سید امیر علی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس پر پور ایک نظام فکر مرتب ہونا چاہیے۔ 

He (the Prophet Muhammed (PBUH) upheld the sovereignty of reason.
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کی حاکمیت قائم کی۔‘‘

اجتہاد کی بنیاد نص کی حدود میں استدلال ہے۔ اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ کسی فرد، طبقے، ادارے، یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی بھی نہیں۔ علماے دین کا بھی ہمارے ہاں اس پہلو سے کوئی اجارہ نہیں مانا جا سکتا۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ استدلال ایک غیر مسلم کا بھی ہو تو اسے اسلامی احکام و قانون کے تعین میں سنا جائے گا۔ اسے اس کا حقیقی وزن دیا جائے گا۔ استدلال کو تسلیم کرنے کا اصول وہ گم گشتہ متاع ہے جسے ہاتھ میں لیے بغیر ہمارے دن نہیں بدلیں گے۔

برطانیہ میں غیر تحریری دستور پر مملکت کا پورا نظام چل سکتا ہے۔ قانون کے خلا کو کامن لا سے پر کر کے اپنی سوسائٹی کو بے انصافی سے بچایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اسلامی روایت کو اختیار کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری سوسائٹی زیادہ مظلوم ہے۔ اس طرح انصاف کی زیادہ محتاج ہے۔ ہماری عدالتوں کو تو انصاف کے لیے زیادہ جری ہونا چاہیے۔ عدل و انصاف کی ساری قدریں تو ہم سے اہل مغرب لے گئے ہیں۔ عدل و انصاف کی اصل، استدلال ہے۔ کسی بنچ میں ایک سے زائد جج ہوں تو ہماری روایت کی رو سے وہ کثرت رائے کے بجائے استدلال کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں استدلال کی بنیاد پر اپنے فیصلوں کو بدل لیتی ہیں۔ آج ہم اپنی اصل روایت کی جانب رجوع کرنے کے بجائے، بلا سوچے سمجھے مغرب کی پیروی کریں۔ کثرت و قلت فیصلے کی بنیاد کیسے ہو سکتی ہے؟

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

استدلال کی قوت سے آج پورے عالم اسلام میں امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مسلک غالب ہے۔ استدلال کی قوت خوشبو کی طرح پھیلتی ہے۔ کوئی رکاوٹ اس کے پھیلنے میں حائل نہیں ہوتی۔ جبر کی تمام طاقتیں اپنے تمام تر جبر و قہر کے ساتھ تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ آج عدالتیں استدلال کی قوت کو اختیار کر کے پبلک کو انصاف فراہم کریں تو لوگوں میں اتنی قوت پیدا ہو جائے گی کہ وہ عدالتوں کے مبنی بر انصاف فیصلوں کو منوا سکیں۔ کسی جابر و قاہر کو عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے کی ضمانت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہو گی۔ شرط انصاف ہے۔

آج ہماری عدالتیں انصاف کے لیے بے خوف اور جری کیوں نہ ہوں؟ ہماری سوسائٹی ساٹھ سال سے ظلم و تعدی سے چور چور ہو چکی ہے۔ خود چیف جسٹس نے انصاف کے لیے سوا چار ماہ گلیوں اور سڑکوں کی خاک چھانی ہے۔ اس مملکت خدا داد پاکستان میں کون سا دن ظلم و عدوان سے خالی آیا ہے؟ کوئی دن تو ایسا بتائیں جب یہاں فر د واحد نے ظلم، بدعنوانی، لوٹ مار، بیرونی آقاؤں کی خوشنودی اور آمرانہ روش سے ہٹ کر حکمرانی کی ہو۔ کون سی جماعت ہے جہاں جمہوریت، انصاف اور نظریے کی اقدار کا سکہ رواں ہو؟ فوجی حکمرانی کی طویل رات نے پوری سوسائٹی کو تار تار کر رکھا ہے۔ ہر آنے والا حاکم پہلے سے زیادہ ظالم ہے۔ ہماری مختصر تاریخ میں حکمرانوں کا مقابلہ فرعونیت میں آگے بڑھ جانے میں ہوا ہے جہاں ہر کوئی نظریے کو دفن کرنے کے درپے ہے۔ ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے والے نوے ہزار فوجیوں کی وردیاں اور اعزازات آج بھی بھارت کے عجائب گھر میں سجے ہوئے ہیں۔ وہ منظر کیسے بھلایا جا سکتا ہے جب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اروڑہ سنگھ نے جنرل نیازی کے سینے پر سجے ہوئے تمغے اپنے ہاتھوں سے نوچے۔ کارگل کی کی چوٹیوں پر لاشیں چھوڑ بھاگنے والے، ایک مسجد اور مدرسے میں بے گناہوں اور نہتے بچوں، بچیوں اور معصوموں پر سینکڑوں کی نفری ، ۱۶۴ تربیت یافتہ کمانڈوز کی مدد سے حملہ کریں۔ ہمارے یہ بہادر کسی ایک کو بھی زندہ نہ پکڑ سکیں۔ مسجد و مدرسہ فتح کر لینے کے بعد پھر لاشوں اور ملبے تک کو غائب کر دیاجائے۔ آپریشن کے دوران فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد مسجد سے فرار ہونے والوں کے حوالے سے بار بار یہ کہیں کہ فرار ہونے والوں کو مارا جاتا ہے، پکڑا نہیں جاتا۔

آپریشن کے دوران میڈیا کو باہر کہیں دور پابند کر دیا جائے۔ آپریشن مکمل کرنے کے چار دن بعد اسلحے کی دکان خود سجا کر اہل مدرسہ کو دہشت گرد ثابت کیا جائے۔ اس خونچکاں آپریشن کے دوران کسی کو محصورین سے ملنے، ان کے پاس جانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ معاملہ سلجھنے کی صورت میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد، بش کی تولیت سے محروم نہ ہونا پڑے۔ ان جملوں کا یہ مطلب نہیں کہ پوری فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، حقیقت میں ذمہ دار تو قیادت ہو گی۔ بہرحال ایسے میں عدالتیں فنی رکاوٹوں کی آڑ میں انصاف فراہم کرنے سے گریز و حجاب کی راہیں اختیار کریں تو حشر ہونے میں کتنی دیر ہے۔

وہ ملک جہاں ایک شخص کا فرمان چلنے کی روایت جڑ پکڑ چکی ہو، ایک شخص کے اقتدار کی خاطر معصوم لوگوں کا قتل عام تک سے گریز نہیں کیا جاتا۔ ایسا ایک بار نہیں ہوا۔ ہماری ساٹھ سال کی تاریخ میں ایسے حادثات کئی بار ہوئے ہیں۔ شخصی اور فوجی حکمرانی کی طویل شب ظلمت جائز ہے تو قانون سازی پر اجارہ توڑنے میں کیا حرج ہے؟ کتنی بے شرمی سے صدر مملکت فرماتے ہیں کہ وہ وردی میں ہی انتخاب لڑیں گے اور کئی سیاسی رہنما کہتے ہیں، صدر کو سو بار وردی میں منتخب کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ہر حکمران، اپنے آپ کو مملکت کے لیے ناگزیر سمجھے، وہاں قانون پر پارلیمنٹ کا اجارہ بے حکمتی کی انتہا سے کم نہیں ہوگی۔ 

آج تک اعلیٰ عدالتوں نے اپنے اختیار سماعت پر اصرار کیا ہے مگر حاکم خان کیس میں، جب مسئلہ مملکت کے اساسی نظریے اور اصولوں کو موثر کرنے کا آیا تو سپریم کورٹ اپنے اختیار سماعت سے پارلیمنٹ کے حق میں دست بردار ہو گئی۔

سب مانتے ہیں کہ قانون کی تشریح عدلیہ کا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ دستور کی تشریح کون کرے گا؟ یہ عدالت ہی نے کرنا ہے۔ اس غرض کے لیے کوئی دوسرا ادارہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ قانونی اور آئینی سقموں پر قانون ساز اداروں سے ان سقموں کو دور کرنے کی فدویانہ درخواستیں کرنا عدالت کے منصب سے فرو تر ہے۔ عدالت کسی فیصلے میں ایسی سفارش نہیں کر سکتی۔ اعلیٰ عدالتوں نے اس کی روایت قائم کی ہے مگر دستور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت کا منصب ایڈوائزری نوعیت کا ہو ہی نہیں سکتا۔ عدالت اپنے منصبی تقاضوں کی رو سے مکمل انصاف کرنے کی اہل ہے۔ حاکم خان کیس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ دستور کی تخلیق ہیں۔ اس بنا پر اگر دستور کی کوئی دفعہ مملکت کے اساسی نظریے یا احکام الٰہی سے متصادم ہو تو وہ اس کو چھیڑ نہیں سکتیں۔ یہ بات بالکل بے معنی اور لغو ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ ہمارے ہاں اعلیٰ عدالتوں کو دستور کی تخلیق کیسے کہا جا سکتا ہے۔

اہم تر بات تو یہ ہے کہ ہماری مملکت، حقیقت میں ابھی تک مملکت بے آئین ہے۔ اس بے آئینی کے باوجود عدالتیں قائم و دائم ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں ہر دستور اور آئین سے پہلے سے قائم ہوئیں۔ آئین ٹوٹتے رہے، منسوخ ہوتے رہے، ان کی معطلی آئے دن کا کھیل بنا رہا۔ ہر آرمی چیف آئین کی بساط لپیٹ دینے کو تیار رہا۔ عدالتوں نے آئین کے تحفظ کے حلف کے باوجود ان کا تحفظ نہ کیا۔ فوج کے سربراہوں نے تو آئین توڑنے کے لیے اتنا تکلف بھی نہ کیا جتنا ان کو اپنی وردی بدلنے میں کرنا پڑتا ہے۔ جنرل ضیا ء الحق نے تو صاف لفظوں میں کہا تھا کہ آئین کیا ہے، چند صفحات کی کتاب ہی تو ہے، اسے لپیٹ دینے میں کیا دیر لگتی ہے۔ وہ اسے آسمانی صحیفہ ماننے کو تیار نہ تھے۔ آج کے حکمران دستور اور آئین کا کتنا احترام کرتے ہیں؟ مملکت وفاقی ہے۔ صدر مملکت سربراہ مملکت ہیں۔ وزیر اعظم چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ صدر کے سوا کوئی دوسرا کٹھ پتلی جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ صدر نے پوری مملکت کو یرغمال بنا یا ہوا ہے۔ پھر بھی دستور کی باتیں کی جاتی ہیں۔ کیا اعلیٰ عدالتوں کو یہ حقائق جن سے پوری دنیا آگاہ ہے، دکھائی نہیں دیتے؟

بے آئینی اور لا دستوری پن کی اس کیفیت کے باوجود عدالتیں قائم رہیں۔ عدالتیں قائم رہیں گی۔ اب تک ان پر کوئی حرف آیا اور نہ آئے گا۔ ان کی جگہ کوئی دوسرا نظام آیا ہے اور نہ ہی آ سکتا ہے۔ اعلیٰ عدالتیں آئین کی تخلیق نہیں بلکہ عدالت معنوی طور پر عدالت ہے۔ انصاف کے لیے ہے۔ عدالتوں کی وجہ سے قانون یا آئین کا وجود ہے۔ ساٹھ سال سے غاصبانہ احکام کو قانون کے درجہ عدالتوں کی وجہ سے ہی تو حاصل ہے۔ یہ کہنا بالکل فضول بات ہے کہ آئین اور قانون کی وجہ سے عدالتیں قائم ہیں۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دستور میں ترمیم کر کے عدلیہ کو ختم abolish کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ قرار دینا مذاق والی بات ہے۔ کبھی کوئی عدالت یہ نہیں کہہ سکتی۔

عدالتوں کو اس بات پر یکسو ہو جانا ہو گا۔ اس یکسوئی کے بغیر عدل و انصاف کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ عدل و انصاف کے بغیر معاشرے نہیں رہ سکتے۔ ہمارے لیے یہی راہ نجات ہے۔

عدل و انصاف کی بربادی کی تمام تر ذمہ دار انتظامیہ اور حکومت ہے۔ انہوں نے آئین اور قانون کو کبھی احترام ہی نہ دیا۔ تاریخ کو آواز تو دیں۔ ۴۷ سے ۵۸ تک اکھاڑ پچھاڑ رہی۔ اس اکھاڑ پچھاڑ کے پیچھے کون رہا؟ صرف اور صرف ایک شخص۔ وہی شخص فوجی اقتدار کا پودے لگانے والا تھا۔ قائد اعظم اس شخص کو اس کی کار کردگی اور کردار کی وجہ سے سخت نا پسند کرتے تھے۔ اسے بطور سزا مرکز سے دور مشرقی پاکستان میں تعینات کیا گیا، مگر لیاقت علی خان نے اس کے خوشامدانہ طرز عمل سے متاثر ہو کر میرٹ کے خلاف فوج کا سربراہ بنایا۔ واضح ہے کہ یہ شخص ایوب خان تھا۔ آرمی چیف بن کر وہ ہر طرح کی محلاتی سازشوں میں شریک ہوا۔ 

ایوب خان ہر سازش میں بڑے کردار کے طور پر سامنے آئے۔ اس کے لیے اس کی خودنوشت Friends Not Masters میں کافی شواہد موجود ہیں۔ آخر کار وہ پس پردہ سازشوں سے نکل کر میدان عمل میں آئے اور ۱۹۵۸ء کا مارشل لالگوا کر مملکت خدا داد پاکستان پر قابض ہو گئے۔ چوکیدار نے گھر کا انتظام و انصرام سنبھال لیا۔ وہ دستور دہندہ بھی بن گیا۔ ۱۹۶۲ء کا دستور اسی کا عطیہ تھا۔ ۱۹۶۲ء کے دستور کو کس اصول کے تحت دستور مانا جا سکتا ہے؟ ایوب خان کو کیا حق تھا کہ وہ مارشل لا لگاتا اور دستور عطا فرماتا؟ کیا ایوب خان نے فوج کی مدد سے پاکستان فتح کر کے ہمیں عطا فرمایا تھا کہ ان کو دستور دہندہ مان لیا جائے؟ یہ حیثیت تو بابائے قوم، قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے بھی claim نہیں کی تھی۔ ۱۹۶۲ء کے دستور کو جائز تسلیم کرنے کے لیے کسی قانون، دلیل، اصول کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔

ایوب کے پورے دور میں ایمر جنسی نافذ رہی۔ دوسرے لفظوں میں حکمرانوں نے اپنے تئیں بنیادی حقوق معطل کیے رکھے۔ مزید برآں ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو ایوب خان نے خود اپنے ہی دستور کی نفی کرتے ہوئے اقتدار مسلح افواج کے سربراہ آغا جنرل محمد یحییٰ خان کے سپرد کر دیا۔ قوم نے تو ایک دن بھی ۱۹۶۲ء کے دستور کو تسلیم نہ کیا۔ صرف اور صرف عدالتوں نے نظریہ ضرورت کی آڑ میں اسے جواز عطا فرمایا۔ ہماری قوم نظم عامہ کو خراب کرنے کا کوئی رجحان نہیں رکھتی۔ صرف اس وجہ سے بے آئینی کی کیفیت کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی۔

یحییٰ خان کے مارشل لا کے بعد بھٹو صاحب کا سول مارشل لا، عبوری دستور جو مارشل لا کی دوسری صورت تھی، نافذ رہا۔ اپوزیشن نے اسے تسلیم کیا۔ ہمارے قومی نمائندوں نے کبھی اصولی کردار ادا کرنے کے بجائے اصولوں پر سمجھوتے کو ہی شعار بنایا۔ ۱۹۷۳ء کا دستور متفقہ طور پر بنایا گیا۔ اس میں بھی بہت سے سمجھوتے کیے گئے۔ کچھ وعدوں پر بعض باتیں مان لی گئیں۔ پھر بھٹو صاحب نے دستور میں یک طرفہ ترامیم کے ذریعے دستور کا حلیہ بدل دیا۔ ساتھ ہی اپنے دور حکومت کے اختتام تک ایمر جنسی لگائے رکھی۔ اس پورے دور میں ایک دن بھی ایمرجنسی کے بغیر نہ گزرا۔ بعد کے ادوار تازہ ہیں۔ مارشل لا یا نیم مارشل لا جیسی صورت حال اب تک چل رہی ہے۔ اس سارے عرصے میں ایوب خان کو کسی موقعے پر روکنے کا فرض عدالتوں پر تھا یا نہیں؟

اس طویل پس منظر کو ایک جانب رکھ کر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں دستور کی پیدا وار ہیں۔ وہ ہمیشہ سے قائم ہیں اور قائم رہیں گی۔ قانونی نظام میں تبدیلی کے ساتھ ان کی توثیق اور آشیر باد حاصل کی جاتی رہی۔ قانونی نظام کا سرچشمہ عدالتیں رہی ہیں۔ جواز انہوں نے دیا۔ سادہ بات ہے کہ دستور منسوخ ہو یا ٹوٹے، عدالتیں قائم رہیں۔

فوجی حاکمیت کو جواز فراہم کرنے میں ہماری عدلیہ نے جس فراخ دلی سے کام لیا ہے، اس کے بعد اب بدلے ہوئے حالات میں ہمیں اپنی اصل، اسلامی روایت کی جانب لوٹنا چاہیے۔ قانون سازی پر پارلیمنٹ کی اجارہ داری بھی ختم ہو جانی چاہیے۔ استدلال کی حاکمیت ہماری حقیقی متاع ہے ۔ حالات کی چارہ گری اس کی جانب رجوع میں ہے۔ سپریم کورٹ کا حاکم خان کیس میں یہ کہنا کہ پارلیمنٹ دستور کی درستی جیسے سنجیدہ کام کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتی ہے، پارلیمنٹ کی ساٹھ سالہ قانون سازی کی کار کردگی سے آنکھیں بند کر لینے کا نتیجہ ہے۔ قانون سازی میں ہماری عدالتوں اور مجالس قانون نے فوجی قدامات کی توثیق و اتباع کے سوا کیا کیا ہے؟ در اصل فوج نے ہر ادارے کو اپنے تابع کر کے بالکل بیکار کیے رکھا۔ اب فوج بھی مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ فوج کا دور ختم ہو گیا ہے۔ عدلیہ کا دور شروع ہو چکا ہے۔ عدالتی رہنمائی میں تمام اداروں کی ترتیب نو پیش نظر ہے۔

قرار داد مقاصد میںیہ مقاصد واضح ہیں۔ مملکت کا نظریاتی اور دینی تشخص، نمائندہ حکومت اور شوریٰ، ملکی سا لمیت کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری قرار پا چکاہے۔ عدلیہ ان امور کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے۔ انصاف کے لیے معاملات پارلیمنٹ پر چھوڑ دیے جائیں، ملکی سرحدوں اور سالمیت کے لیے صدر اور فوج پر انحصار کر لیا جائے، اگر یہی کچھ کرنا ہے تو ہمیں رضاکارانہ طور پر مملکت کے وجود سے ہی دستبردار ہو جانا چاہیے۔ یہ عافیت، روشن خیالی اور ترقی کی راہ ہوگی۔ رہی حمیت، غیرت، آزادی، دین، یہ کاغذی باتیں ہیں۔ اس زبانی جمع خرچ سے قومیں باقی رہتی ہیں؟

۲۰ جولائی ۲۰۰۷ء کے بعد جو دور شروع ہو رہا ہے، وہ ایک نئی صبح کی نوید بن سکتا ہے۔ عدالتیں اپنے چیف جسٹس کے ساتھ یک جان ہو کر کھڑی ہیں۔ وکلا برادری ان کے ساتھ ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ستم رسیدہ قوم کی سن لی ہے۔ سیاستدان حالات کے تقاضوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ ان کے انداز پرانے ہی ہیں۔ حکمرانوں میں طاقت کا بھوت ناچ رہا ہے۔ ایسے میں قانون اور دستور میں پائے جانے والے سقم، جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے کردار کا انتظار بلا جواز اور معقولیت سے عاری ہو گا۔ انصاف کے مسلمہ اصولوں کی نفی ہو گی۔ محض اختیار سماعت جتلانے پر اطمینان کافی نہیں ہوگا۔ ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ قرار داد مقاصد کے نفاذ میں تو عدالتوں نے اپنے اختیار سے بھی پیچھے ہٹ کر ایک متواتر اجماع کو چھوڑ دیا ہے۔ یہ بات عدالتی منصب کے سرا سر منافی ہے۔ نئے حالات میں اعلیٰ عدالتیں ایسا نہیں کر سکتیں۔ ان کو اپنی ذمہ داری بہرصورت پورا کرنا ہوگی۔

ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ ہر ظلم و زیادتی پر داد رسی لازم ہے۔ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے عدالتیں معرض وجود میں آئیں اور قائم ہیں۔ نمائندہ حکومت اور نظریاتی اساس کا تحفظ، یہ دو بنیادی انحراف ہیں جو قرار داد مقاصد سے کیے گئے ہیں۔ جنرل پرویز کے دور نا مشرف میں ملکی سا لمیت کو بھی خطرات درپیش ہیں۔ خیبر پار سے آئے دن ہماری آبادیوں اور علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے کمانڈرز قبائلی علاقوں میں دور دور تک معائنے کے لیے جاتے ہیں۔ امریکی ذمہ داران آئے دن دھمکیوں سے نواز رہے ہیں۔ مسجد و مدارس کا تقدس، ان میں محصور بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور طلبہ کو فاسفورس بموں سے جس طرح بھسم کیا گیا ہے، اس سے ظلم کی حدیں ختم ہو گئی ہیں۔نئے دور کے تقاضے یہ ہیں کہ ظلم کو حدوں کے اندر ہی نہ لایا جائے بلکہ مکمل انصاف کیا جائے۔ اس عمل تعدیل میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہونے دی جائے۔ سب سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ فوج کی وردی میں بر سر اقتدار غاصبان اقتدار کو لگام دی جائے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس یعقوب علی خان کے الفاظ یہاں درج کرنا چاہوں گا: 

''let it be laid down firmly that the order which the usurper imposes will remain illegal and Courts will not recognize its rule and act upon them as dejure. As soon as the first opportunity arises, when the coercive apparatus falls from the hands of the usurper, he should be tried for high treason and suitably punished. This alone will serve as a deterrent to would be adventurers.''
’’میرے نزدیک جو شخص ہمارے قومی اور قانونی نظام کو ناجائز طور پر توڑتا ہے، وہ قانون بنانے کا جائز ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس کے جابرانہ نظام کی وجہ سے عوام اور عدالتیں عارضی طور پر خاموشی اختیار کر سکتی ہیں مگر یہ واضح ہو جانے دیں کہ وہ غاصب جو نظم قائم کرے گا، ہر لحاظ سے غیر قانونی رہے گا۔ عدالتیں اس کے حکم اور طرز عمل کو کبھی جائز تسلیم نہیں کریں گی۔اس کے جابرانہ کنٹرول کے ہٹتے ہی اس پر بغاوت کا مقدمہ چلا کر مناسب سزا دی جانی چاہیے۔ آئندہ غاصبانہ مہم جوئی کا راستہ روکنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘ (۴)

قرار داد مقاصد کے قابل نفاذ ہونے کی بحث کے سلسلے میں حاکم خان کیس کے فیصلے سے جسٹس عبد الشکور السلام کی یہ سطور نقل کر کے بات کو ختم کرنا چاہتا ہوں:

’’کسی آرٹیکل کا آرٹیکل ۲۔الف سے تصادم ہو تو اس کا مناسب طریقہ قاعدے کے مطابق دستوری ترمیم ہے۔ لیکن اس کے باوجود عدالتوں کو آرٹیکل ۲۔الف کے دستور کے موثر جزو بنانے کے بعد اس کو نافذ کرنے کی ذمہ ختم نہیں ہو جاتی۔ دستور ایک نامیاتی کل ہے۔ اس کے تمام تر آرٹیکلز کی اس طرح تعبیر کرنا ہو گی کہ اس کی روح موثر ہو اور تمام دفعات میں توازن ہو۔‘‘ (۵)


حوالہ جات

(۱) پی ایل ڈی ۲۰۰۰ سپریم کورٹ ۸۶۹

(۲) ڈاکٹر حمید اللہ خان، خطبات بہاولپورصفحہ ۱۴۲،۱۴۳

(۳) پی ایل ڈی ۱۹۷۲ء سپریم کورٹ ۱۳۹ صفحہ ۲۴۳ 

(۴) حاکم خان کیس پی ایل ڈی ۱۹۹۲سپریم کورٹ ۵۹۵ صفحہ ۶۳۶

(۵) حاکم خان کیس پی ایل ڈی ۱۹۹۲سپریم کورٹ ۵۹۵ صفحہ ۶۲۰

آراء و افکار