اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی معاشیات پر اس عمومی تبصرے کے بعد اب ہم مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب کی طرف چلتے ہیں۔ 

۲) مولانا تقی عثمانی اور اسلامی معاشیات 

مولانا کی کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ کھلے عام لبرل سرمایہ داری کا اسلامی جواز پیش کرتی ہے۔ مولانا معاشیات کو غیر اقداری علم سمجھ کر معاشی مسئلے کے بارے میں یہ تصور قائم کرتے ہیں : 

’’انسانی وسائل محدود ہیں اور اسکے مقابلے میں ضروریات اور خواہشات بہت زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لامحدود ضروریات اور خواہشات کو محدود وسائل کے ذریعے کس طرح پورا کیا جائے؟ اقتصاد اور اکنامکس کے یہی معنی ہیں کہ ان وسائل کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے کہ انکے ذریعے زیادہ سے زیادہ ضرورتیں پوری ہو سکیں‘ ‘ ۔ (ص ۲۰-۱۹) 

گویا مولانا مانتے ہیں کہ scarcity (لامحدود خواہشات اورمحدود وسائل میں فرق کی وجہ سے پیدا ہونے والی قلت) ایک فطری انسانی کیفیت کا نام ہے اور اصل انسانی مسئلہ ’تزکیہ نفس‘ نہیں کہ جس کے بعد اس کی ضرورتیں اور خواہشات کم ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ کار ہے جسے استعمال کرکے وہ ان وسائل سے زیادہ سے زیادہ خواہشیں پوری کرسکے۔ اس کے بعد مولانا چار بنیادی معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے خیال میں تمام انسانی معاشروں کو درپیش ہوتے ہیں: 

۱) ترجیحات کا تعین: چونکہ خواہشات لامحدود اور وسائل محدود ہیں لہٰذا یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کن خواہشات کو پورا کیا جائے ۔

۲) وسائل کی تخصیص: ذرائع پیداوار کو کن مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے ۔

۳) آمدنی کی تقسیم کار: ذرائع پیداوار کو کام میں لانے کے نتیجے میں جو آمدنی حاصل ہو اسے معاشرے میں کس اصول کے تحت تقسیم ہونا چاہیے۔

۴) ترقی: ایسا کیا جائے کہ جس سے ’’جو پیداوار حاصل ہورہی ہے وہ معیار کے لحاظ سے پہلے سے اچھی ہو اور مقدار کے اعتبار سے اس میں اضافہ ہو، اور کس طرح نئی نئی ایجادات اور مصنوعات وجود میں لائی جائیں تاکہ معاشرہ ترقی کرے اور لوگوں کے اسباب معیشت میں اضافہ ہو‘‘۔ (ص: ۲۱-۲۰) 

اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں کہ ’’یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسائل اگرچہ فطری مسائل ہیں لیکن ایک نظام کے تحت ان کو سوچنے، ان کا حل تلاش کرنے کی فکر آخری صدیوں میں زیادہ پیدا ہوئی‘ ‘ ۔(ص: ۲۱) یعنی مولانا کے نزدیک نفس امارہ کا غلبہ (خواہشات کی لامحدودیت اور مادی ترقی کے پردے میں چھپی ہوئی دنیا پرستی کی روحانیت) فطری انسانی کیفیت ہے، نیز یہ کیفیت محض موجودہ دور کے انسان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ ہر دور کے انسان اور معاشروں کے اوپر غالب رہی ہے، لیکن مولانا اپنے سامعین و قارئین کو وہ وجہ نہیں بتاتے کہ آخری دو صدیوں میں ہی کیوں ان مسائل کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ’لامحدود خواہشات کی تکمیل‘ کو انسانی فطرت کا جائز اظہار سمجھنے اور ’ترقی‘ کی ذہنیت (rationality) بذات خود انہیں آخری صدیوں کی پیداوار ہے؟ 

ان ’فطری‘ معاشی مسائل کی تعیین کے بعد مولانا ان کے حل کے طور پیش کیے گئے دو نظاموں سرمایہ داری اور اشتراکیت پر عمومی تبصرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں: 

’’اسلام کوئی معاشی نظام نہیں ہے بلکہ وہ ایک دین ہے جس کے احکام ہر شعبہ زندگی سے متعلق ہیں‘جس میں معیشت بھی شامل ہے۔ لہٰذا قرآن و حدیث نے معروف معنی میں کوئی معاشی فلسفہ یا نظریہ پیش نہیں کیا ‘ ‘ (ص: ۳۸) 

اولاً مولانا کے اس اقتباس سے یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ سرمایہ داری اور اشتراکیت کو محض ’معاشی نظریات ‘ ہی سمجھتے ہیں نہ کہ مکمل طرز زندگی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری محض کسی ’معاشی نظریے ‘ کا ہی نام نہیں اور نہ ہی سرمایہ دارانہ عقلیت اور عمل معاشی جدوجہد تک ہی محدود رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ ایک نظام زندگی ہے جس کا ایک خاص تصور فرد،معاشرہ اور ریاست ہے اور جو پوری انسانی زندگی پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج کوئی ایسا ملک نہیں جہاں سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کررہی ہو لیکن افراد حرص وحسد کا شکار نہ ہورہے ہوں، خاندان تباہ نہ ہو رہے ہوں،زنا عام نہ ہو رہا ہو، ادب اور ثقافت دھوکہ ،غلیظ ترین اور فحش ترین رجحانات کی عکاسی نہ کر رہا ہو، استبداد، ظلم اور جعل سازی عام نہ ہو۔ درج بالا اقتباس سے دوسراتصور یہ ابھرتا ہے گویا مولانا کے خیال میں اسلام کا اپنا کوئی معاشی نظام نہیں بلکہ اس کی چند لگی بندھی تعلیمات ہیں جسے کسی بھی ماوراے اسلام معاشی اصول میں برت کر اسے اسلامی بنایا جاسکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے خیال میں اسلام لبرل سرمایہ دارانہ معیشت کا حامی ہے ۔ چنانچہ مولانا نیوکلاسیکل اکنامکس کے پیش کردہ طلب و رسد کے قوانین کو ’ فطری ‘ مانتے ہونے فرماتے ہیں: 

’’اس کائنات میں بہت سے قدرتی قوانین کار فرما ہیں جو ہمیشہ ایک جیسے نتائج پیدا کرتے ہیں، انہی میں سے ایک قانون رسد اور طلب کا بھی ہے۔‘‘ (ص: ۲۳)، ’’معاشی مسائل کے حل کے لیے ذاتی منافع کے محرک اور بازار کو قوتوں یعنی طلب و رسد سے کام لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہیں‘‘ (ص: ۳۵)، ’’اسلام نے بازار کی قوتوں یعنی طلب و رسد کے قوانین کو فی الجملہ تسلیم کیا ہے، اسی طرح ذاتی منافع کے محرک سے بھی کام لیا ہے‘‘۔ (ص: ۳۹) 

پہلی بات یہ کہ اگر واقعی مولانا کے بقول اسلام رسد و طلب کے ’فطری قوانین ‘ کی تصویب (endorsement) کرتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسلام موجودہ دور کے معروف نظاموں میں سے ’لبرل سرمایہ داری‘ یا کم از کم ’سوشل ڈیموکریسی‘ ہے اور مولانا کا یہ فرمانا کچھ معنی نہیں رکھتا کہ ’قرآن و حدیث نے معروف معنی میں کوئی معاشی فلسفہ یا نظریہ پیش نہیں کیا ‘ ۔ پھر اگر طلب و رسد کے قوانین فطری ہیں تو ان کے پیچھے جو قوت محرکہ کام کرتی ہیں یعنی انفرادی لذت اور نفع خوری وہ بھی فطری ٹھہریں۔ اتنا ہی نہیں، ان قوانین کو فطری مان کر مولانا بے خبری میں ایڈم سمتھ (Adam Smith) کے یہ مفروضے بھی مان بیٹھے ہیں کہ (۱) معاشرے کی بنیادی اکائی مجرد فرد (ananymous individual)ہے ، (۲) ہر فرد کو بنیادی طور پر خود غرض (self-interested) ہی ہوناچاہیے، (۳) معاشرتی تعلقات کی بنیاد اغراض ہونی چاہئیں، (۴) ذاتی اغراض کی ذہنیت معاشرتی ہم آہنگی کے حصول اور فروغ کا سب سے عمدہ ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلب و رسد کے قوانین بیان کرنے کا مقصد ہی لبرل سرمایہ داری کے ان مفروضات کا جواز فراہم کرنا ہے کہ بنیادی معاشرتی اکائی فرد ہے نہ کہ خاندان وغیرہ نیز خود غرضانہ انفرادی ذہنیت کا لازمی نتیجہ معاشرتی ہم آہنگی (social harmony) اور ولفئیر (welfare) ہوتا ہے، یعنی اس فلسفے کے مطابق معاشرے کی مجموعی ولفئیر بڑھانے کا طریقہ یہ نہیں کہ افراد اس کے حصول کی شعوری کوشش کریں بلکہ اس کا سب سے بہترین حصول تب ممکن ہوتا ہے جب ہر فرد صرف اور صرف اپنے ذاتی مقاصد پورے کرنے کی کوشش کرے (self-interestedness reinforces social harmony)جسے سمتھ یوں کہتا ہے : 

"The universal, constant and uninterrupted effort of everyman to better his condition", and, "every individual ... intends only his own gain, and he is led by an invisible hand to promote an end which was not part of his intention. Nor is it always the worse for the society that it was no part of it. By pursuing his own interest he frequently promotes that of the society more effectually than when he really intends to promote it" [Smith (1776): Wealth of Nations, p. 423]

نیز :

"man has almost constant occasion for the help of his brethren, and it is in vain for him to expect it from their benevolence only. (It) will be more likely to prevail if he can interest their self-love in his favor, and show them that it is for their own advantage to do for him what he required of them....We address ourselves not to their humanity but to their self-love..." [Wealth of Nations: p. 14]

مفہوم اوپر بیان کردیا گیا۔ اگر ہر فرد اپنے فائدے کا سب سے بہترین جاننے والا ہے نیز ان کی ذاتی اغراض کا حصول ہی معاشرتی تشکیل کا سب سے بہترین طریقہ ہے تو پھر کسی ریاست، مولوی یا چرچ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ افراد کی ذاتی اغراض کے حصول کی جدوجہد میں رکاوٹ بنیں اور ذاتی اغراض کا حصول ہی ہر عمل کے جواز کی بنیاد ٹھہرتا ہے : 

"Greed of one man is considered to be the adequate check on that of another and universal greed can work out the highest attainable good for all. Hands off, then, state, church, etc and let selfishness have its perfect work" [Clark (1877): p. 712] 
"Nature has placed mankind under the governance of two sovereign masters, pain and pleasure. It is for them alone to point out what we ought to do as well as to determine what we shall do" [Bentham (1789)]

مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا کے الفاظ بھی ان سے ملتے جلتے ہی ہیں: 

’’(مارکیٹ میں) ہر شخص اگرچہ اپنے منافع کی خاطر کام کررہا ہے لیکن رسد و طلب کی قدرتی طاقتیں اسے مجبور کررہی ہیں کہ وہ معاشرے کی طلب اور ضرورت کو پورا کرے‘‘ (ص: ۲۳)

حیرت ہے کہ نفس پرستی کی اس روحانیت کو مان لینے کے بعد مولانا کے پاس ’اصلاحی خطبات‘ بیان فرمانے اور چھپوانے کا کیا جواز باقی رہ جاتاہے کیونکہ یہ مان لینا کہ طلب و رسد کے قانون ہی یہ طے کرتے ہیں کہ کیا چیز پیداکی جائے اور کیا نہیں نیز انہیں سے قدر کا تعین ہوتا ہے (ص : ۲۳) یہ مان لینے کے مترادف ہے کہ قدر کا تعین انسانی خواہشات سے ہوتا ہے، نیز فیصلوں کی بنیاد آزاد انسانی خواہشات ہونی چاہئیں ۔ مولانا کے خیال میں سرمایہ داری کا بنیادی مقدمہ اور ہدف عین حق ہیں، البتہ اسے حاصل کرنے میں چند غلطیاں سر زد ہو گئیں: 

’’سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی فلسفے میں اس حد تک تو بات درست تھی کہ معاشی مسائل کے حل کے لیے ذاتی منافع کے محرک اور بازار کی قوتوں یعنی رسد وطلب سے کام لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہیں، لیکن غلطی یہاں سے لگی کہ ایک فرد کو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے حصول کی بے لگام آزادی دی گئی جس میں حلال و حرام کی کوئی تفریق نہیں تھی نہ ہی اجتماعی فلاح کی طرف خاطر خواہ توجہ تھی۔ چنانچہ اس کے لیے ایسے طریقے اختیار کرنا بھی جائز ہوگیا جن کے نتیجے میں وہ زیادہ سے زیادہ دولت مند بن کر بازار پر اپنی اجارہ داری (monopoly)قائم کرلے ‘‘۔ (ص: ۳۵) 

مولانا کے خیال میں تعین قدر کا فطری نظام وہ ہے جسے معاشیات دان perfect competition (مکمل مسابقت)کہتے ہیں۔ (ص ۳۵) خیال رہے کہ معاشیات میں perfect competition سے مراد ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں (۱) ہر فرد ایسامجرد انسان ہوتا ہے جس کی خواہشات لامحدود ہوتی ہیں، (۲) ہر کسی کا مقصد اپنی اپنی اغراض کا حصول ہوتا ہے، (۳) واحد شے جس کی بنیاد پر فرد کوئی فیصلہ کرتا ہے وہ نفع خوری و سرمائے کی بڑہوتری کے امکانات ہیں۔ (تفصیل کیلئے معاشیات کی کوئی بھی اچھی درسی کتاب دیکھ لیجئے) مولانا کے نزدیک سرمایہ داری کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر اسے کھلی چھٹی دے دی جائے تو اسکے نتیجے میں اجارہ داریاں قائم ہوجاتی ہیں اور قدر کے تعین کا فطری نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ (ص: ۳۶) مزید یہ کہ سود اور سٹے کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ اس سے معیشت کا فطری توازن خراب ہوتا ہے اور اجارہ داریاں قائم ہوتی ہیں۔ (ص : ۳۵) گویا سرمایہ داری کا مسئلہ اس کے مقاصد نہیں بلکہ ان کے حصول کا طریقہ ہے جس سے اجارہ داری جنم لیتی ہے اور اجتماعی مصالح کا کما حقہ لحاظ نہیں ہوپاتا۔ انہی معنی میں مولانا سوشل ڈیموکریٹ نظریات کے حامی بن جاتے ہیں کیونکہ سرمایہ داری پر ان مفکرین کے بنیادی اعتراضات بھی یہی ہیں کہ اسے کھلی چھٹی دینے سے اجارہ داریاں بنتی ہیں، تقسیم دولت کا نظام خراب ہوتا ہے، اجتماعی مصالح کا حصول مشکل ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نفع خوری کے عمل پر حد بندیاں (regulations)لگنی چاہئیں۔ مولانا اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین میں فرق نظریات (approach) کانہیں بلکہ چند حد بندیوں کی نوعیت (nature of regulations)کا ہے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ : 

’’ اسلام نے بازار کی قوتوں کو فی الجملہ تسلیم کیا ہے، اسی طرح ذاتی نفع کے محر ک سے بھی فی الجملہ کام لیا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اس محرک کو بالکل آزاد چھوڑ دیا گیا ہے جسکے نتیجے میں خرابیاں پیدا ہوئیں۔ اسلام نے ... تجارتی اور معاشی سرگرمیوں پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کردیں کہ ان پر عمل کی صورت میں ذاتی نفع کا محرک ایسے غلط رخ پر نہیں چل سکتا جو معیشت کو غیر متوازن کرے‘‘۔ (ص: ۴۰)

مولانا کے نزدیک نفع خوری پر دیگر معاشی حد بندیوں کے علاوہ حرام اشیا کی پیداوار پر قدغن، سفلی جذبات بھڑکانے والے کاروباری طریقوں پر پابندی وغیرہ بھی لگنی چاہئے۔ (ص: ۴۰) گو کہ مولانا یہ بات مانتے ہیں کہ ’’معاشی سرگرمیاں اور ان سے حاصل ہونے والے مادی فوائد انسان کی زندگی کا منتہاے مقصود نہیں ہے‘‘ (ص: ۴۲) لیکن ان معاملات میں ’’شریعت نے کوئی وجوبی حکم (mandatory order) نہیں دیا‘‘ (ص: ۴۲) جس کامطلب یہ ہوا کہ وسائل کی تخصیص و تقسیم کار اصولاً نفع خوری کے جذبات کے ماتحت وقوع پزیر ہوتی رہیں تو بھی اسلامی ریاست کو ان محرکات کے فروغ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ 

مولانا کے نزدیک اسلامی تعلیمات پر عمل کا فائدہ اجارہ داریوں کے خاتمے اور ترقی کی صورت میں ظاہر ہوگا، چنانچہ پیدائش دولت پر تینوں نظاموں (سرمایہ داری، اشتراکیت و اسلام) کے مجموعی اثرات پر بحث کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : 

’’ذاتی منافع کے محرک پر حلال و حرام کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے سود، قمار، سٹہ وغیرہ سب سرمایہ دارانہ نظام میں جائز ہیں، حالانکہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو معیشت کے فطری توازن میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں جس کا ایک مظاہرہ یہ ہے کہ ان کے نتیجے میں بکثرت اجارہ داریاں قائم ہو جاتی ہیں‘‘ (ص: ۳۶)، ’’اسلام نے ایک طرف ذاتی منافع کے محرک کو تسلیم کیا جو پیداوارکی کمیت اور کیفیت میں اضافے کا موجب ہوتا ہے لیکن دوسری طرف اس پر وہ پابندی عائد کردیں جو اسے ان معاشی اور اخلاقی خرابیوں سے باز رکھ سکے جو سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی خا صہ ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ دارانہ نظام میں سود کی اجازت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی کاروبار کو سرمایہ فراہم کرنے والا کاروبار کی بہبود سے قطعی لاتعلق رہتا ہے، اس کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ کاروبار کو فائدہ ہوا یا نقصان کیونکہ اس کو ہر صورت میں معین شرح سود ملنی ہے۔ اس کے بر خلاف اسلام میں چونکہ سود حرام ہے اس لیے کسی کاروبار کو سرمایہ فراہم کرنے کی بنیاد شرکت و مضاربت پر ہی ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں سرمایہ فراہم کرنے والے کی پوری خواہش اور کوشش یہ ہوگی کہ جس کاروبار میں اس نے سرمایہ لگایا ہے وہ ترقی کرے اور اس سے نفع حاصل ہو، ظاہر ہے کہ اس سے پیدائش دولت پر بہتر اثرات قائم ہوں گے‘‘۔ (ص: ۵۱) 

گویا مولانا کے خیال میں مضاربت اور مشارکت سے ترقی سودی کاروبار کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور نفع خوری کے جذبات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ 

لبرل سرمایہ داری کے اس فریم ورک کو فطری اور اسلامی ثابت کرنے کے بعد مولانا تھوک کے حساب سے سرمایہ دارانہ اداروں کی اسلام کاری اور اسلامی سرمایہ داری کا لائحہ عمل کچھ اس طرح وضع فرماتے ہیں: 

  • وقف، بیت المال اور ترکہ جیسے بغیر نفع (non-profit) پر چلنے والے اسلامی اقدارکے محافظ اداروں پر قیاس کرتے ہوئے نفع8 خوری کے تصور پر مبنی ’کمپنی بطور شخص قانونی‘ (legal personality) کو جواز فراہم کیا گیا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ شخص قانونی کی صرف اصطلاح نئی ہے، اس کا تصور اسلام میں پہلے سے موجود ہے۔ (ص: ۸۱) 
  • کمپنی کے محدود ذمہ داری (limited liability) کے کا روبار کا جواز مضاربت سے فراہم کردیا گیا۔ (ص: ۸۲-۸۱) 
  • شئیرز کی خریدوفروخت کا جواز اس مفروضے پر فراہم کیا گیا کہ شئیرز کی پشت پر کمپنی کے املاک و اثاثہ جات ہوتے ہیں۔ شئیرز کے منافع کا وجہ جواز یہ بیان فرمایا گیا کہ یہ کمپنی کے غیرزری (non-financial) اثاثہ جات کی مالیت ظاہر کرتا ہے۔ (ص: ۸۷-۸۵)
  • سودی کاروبار میں شریک کمپنیوں کے شئیرز کی خرید و فروخت کی حلت اس قید کے ساتھ فراہم کی گئی کہ ’’ شئیر ہولڈر سالانہ جمعیت (A.G.M.) میں سود کے خلاف آواز اٹھا دے‘‘ ، اللہ اللہ خیر سلا ۔ اور تو اور، سود کے خلاف یہ براء ت اس صورت میں بھی کفایت کرے گی جب یہ معلوم ہو کہ یہ بالکلیہ برائے نام ہی ہے۔ (ص: ۸۸) 
  • سودی کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے شئیرز پر ملنے والے منافع (dividend) کی تطہیر کا طریقہ یہ تجویز کیا گیا کہ اس میں سے کچھ رقم ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردی جائے۔ (ص: ۸۹) 
  • سٹے پر مبنی لین دین اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ شرعی شرائط کا خیال رکھا جائے کیونکہ تخمینہ بازی (speculation) بذات خود حرام نہیں۔ (ص: ۹۰) 
  • بینکاری نظام پر قائم شدہ فرضی نظام زر کی تخلیق (fictitious money) اور بینک زر (bank money)کو زر اعتباری سمجھ کر قبول کرلیا گیا ہے 
  • اس کے بعد مولانا مالیات کا ہو بہو وہی اسلامی نظام تجویز کرتے ہیں جو نجات اللہ صدیقی، عمر چھاپرا اور پروفیسر خورشید احمد وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ (ص: ۱۵۸-۱۲۶) موجودہ نظام زر اور بینکاری کو منہدم کرنا تو ایک طرف مولانا کے خیال میں موجودہ مالیاتی نظام کو سود سے مکمل پاک کیے بغیر بھی اسلامی بینکاری کرنا ممکن ہے ۔
  • مولانا کے خیال میں اسلامی بینکاری کی کامیابی کے امکانات روشن ہونے کی امید یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیرہ بھی اس کی تائید کررہے ہیں ۔ (ص: ۱۷۱) 

مولانا کی کتاب پر ایک نظر 

قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کا اسلامی معاشیات و بینکاری کا تصور (vision) اور حکمت عملی ہو بہو وہی ہے جو پچھلے سیکشن میں بیان کی گئی، لہٰذا پچھلے سیکشن میں کیا گیا تمام تبصرہ اس پر صد فیصد صادق آتا ہے۔ یہاں ہم چند مزید باتوں کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

علم معاشیات کا ناقص تصور: 

سب سے اہم بات یہ کہ مولانا کا علم معاشیات کا یہ تصور ہی غلط ہے کہ یہ کسی آفاقی انسانی مسائل کا ٹیکنکل حل پیش کرتی ہے، نیز اس کا کام اخلاقیات سے ماورا ہوکر حقائق کا بیان ہے، یعنی مولانا اسے مثبت سائنس (positive science) سمجھتے ہیں جس کا کام بس حقائق کو جوں کا توں بیان (describe)کردینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشیات ایک اخلاقی سائنس (moral or normative science)ہے جس کا مقصد حرص و حسد کی اخلاقیات کا جواز فراہم کرنا ہے ، جیسا کہ اس کے بنیادی مقدمات (کہ انسان کی خواہشات لا محدود ہونی چاہئیں، عقلمندی کا معیار دنیا سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کے لیے سرمائے کی بڑہوتری ہے وغیرہ ) سے عین واضح ہے۔ علم معاشیات کے بارے میں یہ غلط تصور ہی اسلامی ماہرین معاشیات کی تمام تر مشکلات کا اصل پیش خیمہ ہے۔ 

کل (whole)کو نظر انداز کرنے کی غلطی : 

یہاں اسلامی بینکاری پر علماے کرام کے اس اعتراض کا ذکر فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ موجودہ بینکاری اس لیے اسلامی نہیں کیونکہ اس میں کیے جانے والے کاروبار کی جزوی تفصیلات شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں، یعنی علماے کرام کو اسلامی بینکاری کی اسلامیت پر اعتراض اس لئے نہیں کہ یہ جن مقاصد کا حصول ممکن بناتی ہے وہ غیر اسلامی ہیں ، بلکہ یہ ہے کہ اس کاروبار کا طریقہ کار (methodology) شرعی اصولوں (مثلاً شرکت و مضاربت) پر منطبق نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں ان کے تجزیے کا نقطہ ماسکہ (unit of analysis) نظام نہیں بلکہ جزوی تفصیلات ہیں۔ ان کی تنقید کا حاصل یہ ہے کہ اگر بینکاری نظام وغیرہ کو شرکت و مضاربت اور دیگر شرعی اصولوں کا پابند بنا لیا جائے تو پھر انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ اسلامی بینکاری کی جزوی تفصیلات شرعی اصولوں کے مطابق ہوبھی جائیں، تب بھی یہ ہرگز اسلامی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ جن مقاصد (لذت پرستی و نفع خوری کی ذہنیت کا عموم) کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے، وہ صد فیصد غیر اسلامی ہیں۔ سرمایہ داری کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسکا طریقہ کار درست نہیں بلکہ یہ ہے کہ جس ہدف (عمل تکاثر) کو یہ فرد، معاشرے اور ریاست کا مقصد وجود قرار دیتی وہ عین شر ہے، لذت پرستی و نفع خوری کے جن احساسات کو یہ تعقل کی بنیاد قرار دیتی ہے، وہ عین جہالت ہیں اور جن کے عموم کے نتیجے میں بلا شک وشبہ زیادہ مادی ترقی ممکن ہوتی ہے لیکن اس معاشرے میں زندگی گزارنے کے بعد ہر فرد اپنے لیے جہنم کا راستہ آسان بنالیتا ہے۔ کل کو نظر انداز کر کے جز پر فتوے دینے کی غلطی واضح کرنے کیلئے ہم ایک مثال بیان کرتے ہیں۔ فرض کریں کسی معاشرے میں فحاشی و بدکاری عام ہوجائیں اور کوئی ’خداترس‘ عالم لوگوں کو ’بدکاری کے گناہ سے بچانے ‘ کے لیے ’عموم بلویٰ‘ کو دلیل بنا کر ’اسلامی قحبہ خانے‘ بنائے جس کا نقشہ فرض کریں کچھ ایسا ہو: 

  • وہاں بڑی تعداد میں دھندہ کرنے والی عورتوں کو جمع کرلے اور لوگوں سے کہے کہ مباشرت کرنے سے پہلے ’نکاح‘ کی رسم ادا کرکے ’مہر ‘ کی رقم طے کرلو ،
  • نکاح کرانے کے لیے شرعی قاضیوں اور گواہوں کا انتظام موجود ہو ،
  • مباشرت کے بعد شوہر بیوی کو طلاق دے کر مہر کی رقم ادا کردے ،
  • چونکہ عورت کے لیے ہر طلاق کے بعد نئے نکاح کی راہ میں عدت کی طویل مدت حائل ہوگی، لہٰذا یہاں غامدی صاحب کے فتوے پر عمل کرلے کہ اگر میڈیکل ٹیسٹ سے ثابت ہوجائے کہ حمل نہیں ٹھہرا تو عدت ختم ہوجائے گی، لہٰذا اسلامی قحبہ خانے میں بہترین لیبارٹری بھی بنوا لے ۔

قریہ قریہ ’اسلامی قحبہ خانے ‘ بنانے کے بعد یہ نقشہ وہ علماے کرام کے سامنے پیش کرکے کہے کہ بتائیے اس کا کون سا ’جز‘ اصول شریعہ کے خلاف ہے اور علما بجائے اسے ایک ’کل‘ کے جزواً جزواً پرکھ کر یہ کہنے لگیں کہ ’میاں یہاں عدت گزارنے کا طریقہ فقہ حنفی کے مطابق نہیں‘ یا ’گواہ صفت عدالت سے متصف نہیں ‘ وغیرہ، تو ایسے طریقہ اجتہاد کو کیا کہا جائے گا؟ کیا عدت گزارنے کے طریقے کو درست کرلینے سے واقعی یہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ کہلانے کے مستحق ٹھہریں گے اور ہم خلق خدا کو ’غیر اسلامی کوٹھوں‘ کے بجائے ’اسلامی قحبہ خانے‘ جانے کی ترغیب دلائیں گے اورخود ان میں کنسلٹنٹ بھرتی ہونے کی فکر کرنے لگیں گے کہ دیکھیں کہیں یہ قحبہ خانے ’غیر شرعی‘ اصولوں پر نہ چل نکلیں؟ ہو سکتا ہے کسی کو ’اسلامی قحبہ خانے‘ کی ہماری یہ مثال محض ایک ذہنی عیاشی لگتی ہو، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مصر کے فقیہ العصر علامہ یوسف قرضاوی صاحب نے نکاح المسیار کی اجازت دے کراسلامی قحبہ خانے بنانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب ضرورت ہے تو صرف ہمت کی۔ پس یاد رہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے اس وقت تک کوئی مثبت اسلامی حکمت عملی تیار نہیں کی جاسکتی جب تک تجزیے کا نقطہ ماسکہ جزوی تفصیلات نہیں بلکہ ’نظام‘ نہ بن جائے۔ مقصدیت کسی شے کی کلیت (totality) میں ہوتی ہے، کسی کل کو اس کے اجزا میں توڑ کر دیکھنے سے اس کی مقصدیت نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ (اس نکتے کی مزیدتفصیل آگے آرہی ہے)۔ 

لذت پرستی و نفع خوری کو فطری فرض کرنے کی غلط فہمی: 

تمام الہامی مذاہب بشمول اسلام ان مفروضات کو کلیتاً رد کرتے ہیں جنہیں مولانا سمیت دیگر اسلامی ماہرین معاشیات ’انسانی فطرت‘ سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ لذت پرستی اور نفع خوری بے شک ان معنی میں تو انسانی فطرت ہیں کہ انسان میں جتنی صلاحیت احسن تقویم بننے کی ہے اتنی ہی اسفل سافلین کی بھی ہے، لیکن ان معنی میں نہیں کہ ایسا کرنا ہی کوئی معیاری یا طبعی (normal)انسانی کیفیت ہے۔ نفس امارہ ہر گز بھی کوئی معیاری نفسی کیفیت نہیں، البتہ مغربی علمیت میں نفس امارہ ہی فطری نفسی کیفیت مانی جاتی ہے کیونکہ مغرب خیر کے جس تصور پر یقین رکھتا ہے، وہ نفس امارہ ہی کا دوسرا نام ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغربی علوم میں قانون اور معاہدے (contract) جیسے تصورات تو ملتے ہیں لیکن گناہ کا ذکر سرے سے مفقود ہے۔ گناہ کیا ہے؟ یہ کہ انسان اپنے ارادے کو خدا کی مرضی پر غالب کردے، مغرب میں خیر عین اسی چیز کا نام ہے کہ انسان ارادہ خدا وندی سے علی الرغم اپنے لیے جو چاہنا چاہے، چاہ سکے۔ ظاہر ہے خیر کے اس تصور پر ایمان لانے کے بعد گناہ نامی کوئی شے باقی نہیں رہتی۔ الہامی مذاہب جسے گناہ کہتے ہیں، مغرب میں عین اسی شے کو اصل خیر اور تعقل کہتے ہیں۔ اسلام نہ تو فرد کی خودمختاریت (sovereignty) کا قائل ہے جس کا حصول علم معاشیات کا اصل مقصد ہے اور نہ ہی خواہشات کے لامحدود ہونے کو جائز قرار دیتا ہے۔ اس کی تعلیمات میں تعقل کی بنیاد حرص وحسد نہیں بلکہ زہدوقناعت کی ذہنیت کا معاشرتی عموم ہے۔ معاشی عمل کی بنیاد لامحدود خواہشات کی تکمیل ، نفع خوری اور ترقی نہیں بلکہ حصول رضائے الہٰی اور اخروی کامیابی ہے۔ ریاست کا کام سرمایے میں بڑھوتری کا لائحہ عمل طے کرنا نہیں بلکہ ایسی ادارتی صف بندی فراہم کرنا ہوتا ہے کہ معاشی عمل کے ذریعے مذہبی اقدار کا فروغ ظہور پزیر ہو اور لوگ زہد و قناعت کے خوگر ہوسکیں۔ اسلامی ماہرین معاشیات کے مقابلے میں امام غزالیؒ لذت پرستی و نفع خوری کا مکمل رد فرماتے ہیں ۔ چنانچہ عمل صرف کے مقصد utility maximization (یعنی لذت پرستی و حرص و حسد) کے بارے میں امامؒ فرماتے ہیں : 

’’(شیطان) انسانی قلب کو غضب اور شہوت کی حالت میں قابو کرتا ہے ... پیٹ بھر کھانا خواہ وہ حلال اور صاف ستھرا ہی کیوں نہ ہو شیطان کے مدخل ہونے کا بڑا راستہ ہے اس لیے کہ شکم سیری سے خواہشات کو تقویت ملتی ہے اور خواہشات شیطان کا ہتھیار ہیں‘‘ (اح: ج ۳، ص ۶۲)۔ ’’دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے، دنیا کی محبت کا اثر یہ ہے کہ دل دنیا سے خوش ہو‘‘۔ (اح: ج ۴، ص ۶۷)، ’’ شیطان کا کام خواہشات بھڑکانہ ہے...خواہشات لامحالہ ناقابل تسکین شے ہیں اور بالآخر انسان کا ایمان برباد کرکے چھوڑتی ہیں‘‘ (اح: ج ۳، ص ۶۷)، ’’خدا تک پہنچنے کا واحد راستہ خواہشات کی مخالفت ہے‘‘ (اح:ج۳، ص ۱۱۱)، ’’آخرت کی سعادت حاصل کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ نفس کو خواہشات کی اتباع سے روکا جائے‘‘ (اح: ج ۳: ص ۱۱۲)۔ 

امام صاحبؒ ’مباحات سے مزے اٹھانے کی حلت‘ ثابت کرنے کے فلسفے پر فرماتے ہیں: 

’’یہ (فلسفہ) غلط ہے اصل حقیقت ان لوگوں پر منکشف ہوئی جنہوں نے دنیا کی محبت کو تمام گناہوں کی جڑ کہا... ضرورت سے زائد مباح چیز مباح ہونے کے باوجود دنیا میں شامل ہے اور انسان کو اس کے خالق سے دور کرتی ہے...نفس کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے مباحات کی لذت سے نہ روکا جائے، اس لیے کہ انسان مباحات کی لذت سے تجاوز کرکے محظورات میں مبتلا ہوجاتا ہے...اور یہ اس کی ادنی آفت ہے... اس کی ایک آفت یہ ہے کہ نفس دنیا کی لذتوں سے خوش ہوتا ہے اور ان لذتوں میں وہ اپنے لیے سکون تلاش کرتا ہے‘‘۔ (اح: ج ۳: ص ۱۱۵-۱۱۴)۔ 

اسی طرح نفع خوری اور عمل تکاثر کے بارے میں امام صاحب ؒ فرماتے ہیں: 

’’وہ شخص جو مال جمع کرنے کو اپنا مقصد بناتا ہے ملعون ہے‘‘ (ک: ص ۲۰۰)، ’’وہ شخص جو بازار صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لییجاتا ہے حقیقی مقصد (نجات) کو نہیں پا سکتا ‘‘ (ک: ص ۲۲۴-۲۲۱)، ’’حسد (یعنی دنیاوی مسابقت کا جذبہ) نفرت و بغض سے پیدا ہوتا ہے، حسد انسان کو ہلاک کرڈالتا ہے‘‘ (ک: ص ۴۰۲)، ’’حب مال بڑی آفت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’مال اور شہرت کی محبت اسی طرح قلب میں نفاق پیدا کرتے ہیں جیسے پانی فصل اگاتا ہے‘، نیز ’دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے کہ جتنا نقصان حب مال اور شہرت ایک انسان کے ایمان کو پہنچاتے ہیں‘‘ (ک: ص ۴۱۵)۔ ’’مال (سرمایہ) معصیت کا دروازہ کھولتا ہے اور قلب میں خواہشات و لذات کو بھڑکاتا ہے، صاحب مال کے لیے تعیشات سے بچنا اور صبر کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ (ک: ص ۴۱۹-۴۱۸)

ان تعلیمات کو بار بار پڑھیے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیے کہ اسلامی معاشیات اس میں کہاں فٹ ہوتی ہے۔ 

مولانا کا کاروبار کو نفع خوری کے ساتھ جوڑنا نہ صرف یہ کہ اسلامی تعلیمات بلکہ انسانی تاریخ کے بھی خلاف ہے کیونکہ سرمایہ داری سے پہلے دنیا کی کسی بھی تہذیب میں پیداواری عمل کا مقصد نفع خوری نہ تھا ۔ تاریخی تجزئیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلب و رسد کے قوانین صرف ان معاشروں میں عمل پزیر ہوتے ہیں جہاں عمل پیداوار قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے تابع ہو، اور روایتی معاشروں میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا کیونکہ وہاں پیداوار کا بنیادی یونٹ فرم (firm)نہیں بلکہ خاندان ہواکرتا ہے اور پیداوار کا مقصد ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہوتا ہے نہ کہ زائد قدر (surplus value) کی پیداوار۔ مزید یہ کہ رسد و طلب کو فطری قوانین کہنے کا فلسفہ بھی غلط در غلط ہے کیونکہ انسانی معاشروں میں کچھ ’فطری قوانین ‘ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کے اظہار کا کوئی دائرہ ایسا بھی ہے جو ہر قسم کی مابعد الطبعیات سے ماورا ہے۔ ظاہر ہے علمی طور پر یہ ایک غلط دعویٰ ہے کیونکہ انسانی معاشروں میں ایسا کوئی ’طبعی قانون ‘ کارفرما نہیں ہوتا جو ہر قسم کے انسانی مقاصد سے ما وراء ہو، یعنی انسانی معاشرہ طبعی کائینات (physical world) کی مانند نہیں جہاں انسانی ارادے و مقصد سے ماوراء بھی چند قوانین نافذ ہیں۔ ایڈم سمتھ یا دیگر ماہرین معاشیات جو یہ کہتے ہیں کہ طلب و رسد کو ئی فطری قوانین ہیں نیز افراد کے میل جول کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام خود بخود وقوع پزیر ہوجاتا ہے ایک سفید جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ قوانین صرف سرمایہ دارانہ معاشروں میں وقوع پزیر ہوتے ہیں اور چونکہ ماہرین معاشیات سرمایہ داری ہی کو فطری نظام مانتے ہیں لہٰذا ان کے نزدیک رسد و طلب فطری قوانین ہیں۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کے طرز زندگی میں حصول لذت اور نفع خوری کا رویہ نظر آتا ہے ؟ کیا حضرت عثمانؓ کے کاروبار کا مقصد نفع خوری یا زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل تھا؟ کیا کاروبار میں کامیابی کے بعد حضرت عثمانؓ نے اپنا اور دیگر صحابہ کرام کا ’معیار زندگی‘ بلند کرنے کی کوئی مہم چلائی؟ اگر معاذاللہ ان کے کاروبار کا مقصد نفع خوری اور خواہشات کی تکمیل ہی ہوتا تو یقیناًوہ اپنے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے عمدہ ہاتھی وغیرہ بطور سواری استعمال کرنا شروع کردیتے، صحابہ کرام کو قسطوں پر قرضے دے کر بہترین گھوڑے اور اونٹ فراہم کرنے کا کاروبار جماتے اور یوں غریب صحابہ کے روز گار کا بندوبست فرماتے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، آج بھی گاؤں دیہات میں رہنے والے لوگ ذاتی لذت پرستی ، نفع خوری اور حرص وحسد کی ذہنیت سے کوسوں دور ہیں۔ اسلامی معاشیات کی ایک اہم غلطی انسانی زندگی کو مختلف حصوں میں بانٹ کر دیکھنا ہے ۔ چنانچہ ایک طرف تو مولانا اپنے ’ا صلاحی خطبات ‘ میں فرد کو اپنی ذاتی زندگی میں انہیں اقدار کو اختیار کرنے کا وعظ فرماتے ہیں جن کی تلقین صوفیاے کرام نے کی، لیکن وہی فرد جب معاشی تگ و دو کرنے لگتا ہے تو اس کے لیے ان اخلاق حمیدہ سے بالکلیہ متضاد اخلاق اپنانے کا جواز فراہم کرتے ہیں، فیا للعجب ۔ 

(جاری)

آراء و افکار