مشاہدات و تاثرات
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― پروفیسر خورشید احمد
اللہ تعالیٰ کا میرے اوپر یہ بڑا فضل رہا ہے کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہ دینی اور علمی دونوں اعتبار سے ایک اچھا گھرانا تھا۔ میرے والد مرحوم علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں تحریک خلافت مسلم...
فرانس کے ایک مختصر دورے کے تاثرات
― محمد عمار خان ناصر
۱۲ سے ۱۴ دسمبر ۲۰۱۴ء، مجھے تین دن کے لیے فرانس کے شہر Lyon میں امیر عبد القادر الجزائریؒ کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سلسلہ تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ پروگرام مختلف قسم کی سرگرمیوں پر مشتمل تھا اور اس کا اہتمام...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― ڈاکٹر اسلم فرخی
اگرمیں بیان کرناشروع کروں گا تو آج کا دن کل کے دن میں بدل جائے گا لیکن میرے دل کا حال پھر بھی بیان نہیں ہو سکے گا، چونکہ ہرآدمی جومیری عمرکاہے اور جس نے لمبی زندگی گزاری ہے، اُسے اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ کرماضی کی...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― ڈاکٹر زاہد منیر عامر
میری مطالعاتی زندگی کی ابتدا ایک ’’چھن‘‘ سے ہوتی ہے۔ متوسط درجے کے گھرانوں کے بچے اُکھڑے ہوئے فرش والے کلاس روم میں ریشہ ریشہ وردیدہ ٹاٹوں پر بیٹھے ہیں، سرکاری اسکول کے استاد میز پر ٹانگیں رکھے سگریٹ پینے میں مشغول...
عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’محترمی ومکرمی ومخدومی وحبی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد! کچھ عرصہ سے اخبارات اور جرائد میں حضرت والا کے فرزند ارجمند کے نظریات ورجحانات پر کچھ علماء واہل قلم اپنے اپنے انداز میں تحفظات بلکہ واضح انداز...
علماء اور جدید طبقوں میں ہم آہنگی
― مولانا مفتی محمد زاہد
میں سب سے پہلے تو جناب پروفیسر عبد الماجد صاحب اور ’’سرسٹ‘‘ میں ان کی پوری ٹیم کو اس دور اُفتادہ جگہ میں ایسی شاندار علمی و فکری محفل جمانے اور اس سطح کے اہل فکر و دانش کو جمع کرنے پر ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اور ان کا...
شعبہ اسلامیات، جامعہ پنجاب کا علمی کام
― پروفیسر خالد ہمایوں
۸ فروری کو میرا ایک کالم ’’دور جدید کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں، میں نے شعبہ کے اساتذہ کی تصانیف کی فہرست پیش کی تھی اور ساتھ عرض کیا تھا کہ اس میں سوائے ایک کتاب (یتیم...
ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات (۱)
― محمد عمار خان ناصر
مشعل سیف: میرا نام مشعل سیف ہے۔ میں ڈیوک یونیورسٹی امریکا سے پی ایچ ڈی کر رہی ہوں۔ آپ ویسے تو ماشاء اللہ بہت مشہور ہیں، لیکن اگر اپنا مختصر تعارف کرا دیں اور اپنی تعلیم کے بارے میں بتا دیں کہ آپ نے کہاں کہاں سے سندیں حاصل...
محافل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
― مولانا وقار احمد
ربیع الاول میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور قدسی ہوا ۔ اس مناسبت سے دنیا بھر میں مسلمان ربیع الاول میں میلاد النبی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے محافل منعقد کرتے ہیں۔ ان محافل میں نبی رحمت صلی...
دو ہفتے پاکستان میں
― مولانا محمد عیسٰی منصوری
بندہ تقریباً چار پانچ سال سے پاکستان نہیں جا سکا تھا۔ وجہ پاکستان کے دھماکہ خیز حالات، بدامنی، دہشت گردی، علاقائی ولسانی جھگڑے۔ ان چیزوں نے ملک کو کسی علمی، دینی، اصلاحی کام کے لیے ناساز گار بنا دیا ہے۔ دوسرے، بھارت...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― حکیم محمود احمد برکاتی
میری ولادت ریاست ٹونک میں 1926 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وطن میں پھر درس نظامی کی تکمیل اجمیر میں، پھر طب کی تحصیل طبیہ کالج دہلی میں، فراغت کے بعد مطب اور تدریس، 1952میں پاکستان کی طرف ہجرت، یہاں 1957 سے مطب کا سلسلہ اور برکاتی...
مولانا زاہد الراشدی کی مجلس میں
― حافظ زاہد حسین رشیدی
مخدوم و محترم حضرت علامہ زاہد الراشدی زید مجدہم کے ساتھ عقیدت و محبت کا تعلق تو ہے ہی، علاوہ ازیں باہم رشتہ داری کی ایک ڈوری بھی بندھی ہے جو میرے لیے استفادہ کے مواقع پیدا کرتی رہتی ہے۔ حضرت المخدوم مدظلہ کے چھوٹے بھائی...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― ڈاکٹر صفدر محمود
گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈنگہ سے میراتعلق ہے، جو کھاریاں رسول روڈ پر صدیوں سے واقع ہے، سندر داس ایک بہت بڑابزنس مین تھا اُس نے ڈنگہ میں بہت ہی شاندار بلڈنگ ہائی سکول کے لیے بنوائی تھی، اب یہ ہائر سکینڈری سکول ہے آٹھویں...
’’عافیہ‘‘ ۔ ایک تنقیدی جائزہ
― محمد رشید
عالم اسلام کی بیٹی۔۔۔عافیہ صدیقی کی مظلومیت، بے بسی،لاچاری اور اذیت ناک قید پر جتنا بھی دکھ اور افسوس کیاجائے، کم ہے۔ عافیہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک انسانی سماج اورتہذیب کے منہ پر ابلیس کا ایک زوردار تھپڑ ہے۔ یہ اکیسویں...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― ڈاکٹر طاہر مسعود
میں 1957ء میں سابق مشرقی پاکستان کے شہرراج شاہی میں پیداہوا۔ میرے والد صاحب کتابوں کے تاجر تھے۔ راج شاہی میں اُن کی کتابوں کی تقریباً تین دکانیں تھیں۔ میں نے جب سکول جانا شروع کیاتو میرے راستے میں ہی ہماری کتابوں کی دکان...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― پروفیسر عبد القدیر سلیم
اللہ کے فضل وکرم سے میری پیدائش ایک دین دار،علمی گھرانے میں ہوئی۔والد محمد سلیم عبد اللہ روایتی دین دار یا مولوی نہیں تھے۔ ان کاتعلق غازی پورسے تھا اوروہ میرے دادامرحوم کے ساتھ وہاں سے ہجرت کرکے غیر منقسم ہندوستان...
میری علمی و مطالعاتی زندگی
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۔ کچھ ذاتی حالات زندگی کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ * ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میںآباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آبا و اجداد کسی زمانے میں سوات سے نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم...
دینی حلقوں میں عدم برداشت ۔ مضمرات و نتائج
― محمد اورنگ زیب اعوان
دینی حلقوں میں عدم برداشت کی موجودہ کیفیت نئی نسل کے لیے انتہائی اضطراب کا باعث بن رہی ہے۔بات بات پہ فتوے، تنقیدات ، الزامات اور تہمتوں کی اس روش نے ذہنی ارتداد کی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ ہمارے سنجیدہ اہل علم کواس معاملہ...
فکری و سیاسی اختلافات میں الزام تراشی کا رویہ
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حامد میر صاحب اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی یادداشتوں کا سہارا لے کر حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے درویش صفت بزرگ پر ایک سیاسی تحریک میں غیر ملکی حکومتوں...
کرکٹ اور گروہی نرگسیت
― پروفیسر ابن حسن
کہا جاتا ہے کہ ادب میں المیہ اور رزمیہ سب سے ارفع اصناف سخن ہیں اور پھکڑ ڈرامہ farce اصناف کی درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے۔ رزمیے کا آغاز تاریخی طور پر دو موثر اور وسیع قوتوں کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے شاعر اعلیٰ مضمون...
گجرات کا ’’بیت الحکمت‘‘
― پروفیسر شیخ عبد الرشید
لائبریریوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی تہذیبِ انسانی۔اوراقِ تاریخ شاہد ہیں کہ قوموں کے عروج و زوال میں کُتب خانوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ٹیکسلا میں قدیم ترین لائبریری کے آثار ملے ہیں۔ یونان میں سقراط...
حزب اللہ کے دیس میں (۲)
― محمد عمار خان ناصر
امام اوزاعی نے جبل لبنان کے اہل ذمہ کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں جو ذمہ داری ادا کی، وہ اسلامی تاریخ کی کوئی نادر مثال نہیں ہے۔ اسی نوعیت کی ایک روشن مثال آٹھویں صدی کے عظیم مجدد اور مجاہد امام ابن تیمیہ کے ہاں بھی ملتی...
حزب اللہ کے دیس میں (۱)
― محمد عمار خان ناصر
انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) ایک معروف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا صدر دفتر سوئٹزر لینڈ میں واقع ہے جبکہ سرگرمیوں کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک غیر جانب دار اور خود مختار ادارہ ہے جسے اقوام عالم کی...
بنگلہ دیش کا ایک مطالعاتی سفر
― محمد عمار خان ناصر
۱۰ جنوری سے ۱۴ جنوری ۲۰۱۰ء تک مجھے ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے Leaders of Influence (LOI) Exchange Program میں شرکت کے سلسلے میں بنگلہ دیش کا سفر کرنے کا موقع ملا۔ یہ پروگرام US-AID یعنی یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ اور ایشیا...
حضرت شیخ الحدیثؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کی چند مجالس
― سید مشتاق علی شاہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے احقر کی پہلی ملاقات چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہوئی۔ اس کے بعد مسلسل تعلق قائم رہا۔ میں کافی عرصہ تک حضرت کے ترجمہ وتفسیر کے درس اور بخاری شریف کے سبق کا سماع کرتا رہا۔...
الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
― ادارہ
(۱) محترم المقام مدیر الشریعہ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ’ الشریعہ‘ کا انتہائی جامع ومبسوط خصوصی شمارہ موصول ہوا۔ کتابت، طباعت، ترتیب وتہذیب اور عناوین کے اعتبا ر سے یہ ایک مثالی کتاب ہے جس میں...
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
― مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ‘ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد۔ ’’ہمارے مخلص اور مہربان بزرگ جناب خان محمد خواص خان صاحب دام مجدہم اعوان مقام ہیڑاں ڈاکخانہ اہل تحصیل مانسہرہ ضلع ہزارہ نے بار بار بزرگانہ خطوط تحریر...
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
― مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
زمانہ طالب علمی کے واقعات۔ الحمد للہ میں نے آج تک سینما نہیں دیکھا اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، کیونکہ ہمار ا یہ ذہن بنایا گیا تھا کہ تھیٹر نہیں دیکھنا، سینما نہیں دیکھنا۔ والد محترم کی ڈاڑھی سنت کے مطابق...
حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ میرے والد گرامی تھے‘استاد محترم تھے‘ شیخ و مربی تھے اور ہمارے درمیان دوستی اور بے تکلفی کا وہ رشتہ بھی موجود تھا جو ہر باپ اور اس کے بڑے بیٹے کے مابین ہوتا ہے۔ ۵ مئی کو رات ایک سوا ایک...
حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
― مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد
والد محترم امام اہل سنت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ۵؍ مئی ۲۰۰۹ء بروز منگل رات ایک بج کر دس منٹ پر دارالفناء سے دار البقاء کی طرف کوچ فرما گئے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ اور آج ان کو بچھڑے...
میرے بابا جان
― ام عمران شہید
۵ مئی کی رات میرے لیے بہت ہی دکھوں بھری داستان چھوڑ گئی۔ تین چار دن پہلے چھوٹی بھابھی کا فون آیا کہ اباجان کی طبیعت خراب ہے اور وہ بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ لیکن ذہن نے یہ قبول نہیں کیا کہ میرے بابا جان ہم سب کو ایسے چھوڑ کر...
ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
― اہلیہ قاری خبیب
انسان کی زندگی میں یہ کیسا عجیب امتزاج ہے کہ کبھی اس کا دل خوشیوں سے معمور ومسرور ہوتا ہے تو کبھی غموں کی آماج گاہ اور صدمات سے چور۔ تمام عمر انسان انہی کیفیات میں بسر کردیتا ہے، کبھی خوش تو کبھی رنجیدہ۔ دیکھا جائے تو...
اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
― ام عمار راشدی
یہ ۱۹۷۰ء کی بات ہے۔ ہمارے ابا جی ڈاکٹر محمد دین سرکاری ملازم تھے۔ ابا جی کی ٹرانسفر برنالی گاؤں میں ہوئی جو ایک نہایت پس ماندہ علاقہ تھا۔ وہاں حکومت کی طرف سے ابا جی کو جو ملازم ملا تھا، وہ پینے کے لیے پانی دوسرے گاؤں...
ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
― محمد عمار خان ناصر
میں چار سال کا تھا جب ہم گکھڑ سے گوجرانوالہ منتقل ہو گئے۔ اس کے بعد گکھڑ جانے کا موقع عام طور پر عید کے دنوں میں یا کسی دوسری خاص مناسبت سے پیدا ہوتا تھا۔ ابتدائی سالوں کی زیادہ باتیں یادداشت میں محفوظ نہیں ہیں، البتہ...
قبولیت کا مقام
― مولانا محمد عرباض خان سواتی
سترھویں صدی کے آغاز میں کچھ خاندان ریاست سوات کو چھوڑ کر ضلع ہزارہ میں آباد ہوئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ضلع ہزارہ پر ترکوں کا تسلط تھا۔ ترک وہاں پر ہر لحاظ سے مضبوط تھے۔ ان خاندانوں نے آہستہ آہستہ وہاں سے ترکوں کی عملداری...
جامع الصفات شخصیت
― مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق
یوں تو ہر دور میں علماے امت نے دین کی تعلیم وتعلم کے شعبے میں مثالی خدمات سرانجام دی ہیں، لیکن عالم اسلام اور بالخصوص برصغیر پاک وہند میں اللہ تعالیٰ نے دار العلوم دیوبند سے جو کام لیا، اس کی شان ہی نرالی ہے۔ بانی دار...
ایک استاد کے دو شاگرد
― حافظ ممتاز الحسن خدامی
شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی ذات علم وحکمت کا ایسا آفتاب تھی جس سے روشنی پانے والا ہر خوش نصیب دعوت وعزیمت کے افق پر ماہ تاباں بن کر چمکا۔ جسے آپ کے جام معرفت کا ایک گھونٹ بھی نصیب ہو گیا، اس کی...
داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
― حافظ سرفراز حسن خان حمزہ
حضرت دادا جان رحمہ اللہ ایک مایہ ناز مدرس اور قابل فخر معلم تھے۔ ہزاروں تشنگانِ علم نے دور دور سے آکر آپ سے کسبِ فیض کیا۔ بالخصوص آپ کا شعبان رمضان کی سالانہ چھٹیوں میں منعقد ہونے والا چالیس روزہ دورۂ تفسیر تو ایسا مشہور...
کچھ یادیں، کچھ باتیں
― حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ
دنیا کے شب روزمیں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں کہ انسان کے پاس کسی کی صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ جانے والے کی باتیں، لب ولہجہ اور انداز شفقت ومحبت ہمیشہ کے لیے دل میں نقش بن کر رہ جاتی ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان...
اٹھا سائبان شفقت
― حافظ شمس الدین خان طلحہ
امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ وفات سے دوماہ پہلے ۲۴؍فروری ۲۰۰۹ ء بروز منگل آخری بار ہمارے گھر (متصل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) تشریف لائے اور پانچ دن ہمارے ہاں قیام کیا۔ ان ایام میں وقتاً فوقتاً...
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
― ام عفان خان
دنیا میں آنے والا ہر انسان اللہ جل شانہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتا ہے اور ہر انسان، بالخصوص اہل ایمان کا حق ہے کہ ان نعمتوں کے شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں اور اس...
نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
― ام ریان ظہیر
محترم ناناجان کے بارے میں جملہ اقارب خاصی تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ میں صرف اپنے حوالے سے بعض یادداشتیں تحریر کرنا چاہوں گی۔ جب میری نسبت برطانیہ میں طے ہوئی تو میں یہ سوچ کر بہت آزردہ تھی کہ ملک چھوڑ کر اپنوں سے دور جانا...
میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
― ام حذیفہ خان سواتی
’’ہمارے بعد اجالا نہ ہوگا محفل میں، بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کے لیے‘‘۔ میری پیدایش ۱۹۷۳ء میں گکھڑ میں دادا جی کے گھر میں ہوئی تھی۔ ہم انہیں ابا جی کہتے تھے۔ آٹھ نو سال کی عمر تک انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میرے...
میرے شفیق نانا جان
― ام عدی خان سواتی
۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء ہمارے خاندان پر بہت بھاری گزرا ہے ،اور ہمارا خاندا ن صحیح معنوں میں یتیم ہو گیا ہے۔ ۶؍اپریل ۲۰۰۸ء بروز اتوار میرے سُسر مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی کا انتقال ہوا، یکم مارچ ۲۰۰۹ء بروز...
وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
― بنت قاری خبیب احمد عمر
یوں تو دنیا فانی ہے۔ اس میں رہنے والا ہر آدمی چاہے وہ غریب ہو یا امیر، نیک ہو یا بد، طویل العمر ہو یا جوان، ہر کسی نے مقررہ وقت پر اپنے خالق کے پاس چلے جانا ہے۔ دوام وبقا صرف اس ذات کریمی کے ہی لائق ہے جو سب کو زندگی بخشتا...
بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
― بنت حافظ محمد شفیق (۱)
مشہور ادیب ٹالسٹائی نے کیا خوب کہا ہے کہ میں انتہائی کوشش اور طویل جستجو کے باوجود زندگی کے معمے کا عشر عشیر بھی نہیں جان پایا۔ حقیقت کی جستجو فضول ہے۔ آخر کار مرجانا ہے۔ انسان کسی مسئلے پر کتنا ہی غور کیوں نہ کرے، وہ...
دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
― اخت داؤد نوید
’’واے گل چین اجل کیا خوب تھی تیری پسند، پھول وہ توڑا کہ ویراں کر دیا سارا چمن‘‘۔ آج ہمیں جس ہستی کے ذکر نے قلم اُٹھانے پر مجبور کیا ہے، وہ ہماری محبوب، سب سے عظیم اور پیاری ہستی ہمارے پیارے نانا جان ؒ کی ہے اور جنہیں...
شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
― مولانا مفتی محمد تقی عثمانی
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔بعض شخصیات کو اللہ تبارک وتعالیٰ ایسی محبوبیت، قبول عام اور ہر دل عزیزی عطا فرماتے ہیں کہ ان کے تصور ہی سے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ ان سے ملاقات چاہے کم ہو، لیکن ان کا وجود...
نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
― مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی
حضرت مولانا زاہد الراشدی دام مجدہ نے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے متعلق کچھ لکھنے کی فرمایش کی اور کہا کہ حضرت سے آپ کا تعلق ہم سے بھی پہلے کا ہے، اس لیے کچھ نہ کچھ ضرور تحریر کریں۔ میں نے پچاس سال سے زائد طویل عرصہ پر...
| < | 51-100 (175) | > |