میری علمی و مطالعاتی زندگی (حکیم محمود احمد برکاتی سے انٹرویو)

عرفان احمد

میری ولادت ریاست ٹونک میں 1926 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وطن میں پھر درس نظامی کی تکمیل اجمیر میں، پھر طب کی تحصیل طبیہ کالج دہلی میں، فراغت کے بعد مطب اور تدریس، 1952میں پاکستان کی طرف ہجرت، یہاں 1957 سے مطب کا سلسلہ اور برکاتی دواخانے کی بنا۔ 1964میں برکات اکیڈمی کا قیام، اب اجل مسمی کا بے تابی سے انتظار۔

تالیفات: سیرت فریدیہ از سرسید کی تدوین 1964، فضلِ حق خیر آبادی اور سن ستاون 1975، شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان (تخلیق مرکز لاہور، مکتبہ جامعہ دہلی)، مولانا معین الدین اجمیری: افکار و کردار، مولانا معین الدین اجمیر: تلامذہ کا خراج عقیدت، ترجمہ اتفاق العزفان فی ماہیۃ الزمان از مولانا برکات احمد (اقبال اکیڈمی لاہور دو ایڈیشن)، ترجمہ الروض المجود فی تحقیق حقیقۃ الوجود داز علامہ فضل حق خیر آبادی (مکتبہ قادریہ لاہور)، مولانا حکیم برکات احمد: سیرت و علوم، شاہ ولی اللہ اور ان کے اصحاب (ادارہ یادگار غالب کراچی اور مکتبہ جامعہ دہلی)، حیات شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی (شاہ ابوالخیر اکیڈمی دہلی)، سفر و تلاش، مقالات، کراچی، کشکول برکاتی (جامعہ کراچی)۔ 

مطالعہ کا ذوق بلکہ لت مجھے بدوشعور سے ارزانی ہوئی۔ میں نے جو کتاب سب سے پہلے پڑھی تھی، وہ حیات سعدی (خواجہ حالی) تھی۔ اس وقت میری عمر12سال تھی۔ پڑھی کیا تھی، چکھی تھی۔ شاید 25فی صد مواد کسی حد تک سمجھ میں آیا ہو۔ والد مرحوم کے کتب خانے میں مختلف علوم کی کتابوں کے ساتھ بہت سی اردو کتابیں بھی تھیں، جامعہ عثمانیہ کے دارالترجمہ کی، دارالمصنفین اعظم گڑھ کی خواجہ حسن نظامی کی مطبوعات وغیرہ۔ میں روز ان میں سے دو ایک کتابیں نکالتا تھا۔ کسی کی زیارت کر کے، کسی اور کی ورق گردانی کر کے واپس الماری میں رکھ دیتا۔ اپنے اس ذوق کو میں خون کا اثر کہوں گا۔ والد مرحوم مجھے چھ سال کا چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے تھے۔ دوسرے جو بزرگان خاندان تھے، وہ صرف تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے۔ مطالعہ کی طرف انہوں نے کبھی متوجہ نہیں کیا اور چوں کہ میں کھیل کود کی بجائے کتب خانے میں وقت گزارتا تھا، اس لیے وہ مطمئن تھے۔ا س ذخیرے میں سیماب وساغر کے ماہ نامہ پیمانہ کے شمارے بھی تھے (جو والد مرحوم کے لیے اعزازی آیا کرتے تھے)، الہلال و البلاغ کے فائل بھی تھے۔ مولانا راشد الخیری والد مرحوم کے زیر علاج رہے تھے۔ اس لیے ان کے یہاں رسائل و مطبوعات بھی تھے۔ علامہ مشرقی کی کتاب تذکرہ جو بہت اعلیٰ کاغذ پر چھپی ہوئی تھی، اس کی جلد بھی اعلیٰ تھی۔ اس لیے وہ بار بار اٹھا کر دیکھتا اور رکھ دیتا تھا۔ والد مرحوم نے میری ہمشیرہ کے لیے کئی زنانہ رسائل جاری کروائے تھے وہ والد مرحوم کے بعد بھی منگواتے رہے۔ ان میں سے دو کے نام اس وقت یاد آرہے ہیں: ’’آواز نسواں‘‘ اور ’’تہذیب نسواں‘‘ وہ میں پڑھ لیتا تھا۔ اسی زمانے میں لاہور کے ناشر علامہ اقبال اور خواجہ دل محمد وغیرہ کی نظمیں چھوٹے چھوٹے اور خوش نما کتابوں کی شکل میں چھاپتے تھے۔ وہ ایک مقامی تاجر کتب کے یہاں سے خرید لاتا اور یہ نظمیں جھوم جھوم کر پڑھتا۔ حافظہ اس دور میں بہت اچھا تھا، اس لیے زیادہ تر نظمیں مجھے زبانی یاد ہو جاتی تھیں۔ مولانا شبلی کے کلیات (شاید ’’مجموعہ نظم شبلی‘‘ نام تھا) بھی ہم (آپا جان اور میں) پڑھتے تھے اور بہت متاثر ہوتے تھے اور یاد ہو گئے تھے۔ دادی صاحبہ اور والدہ صاحبہ اکثر فرمائش کر کے ہم سے سنا کرتی تھیں۔ 

میرا ماحول سراسر مشرقی اور قدامت پسندی کا تھا۔ میں درس نظامی کا متعلم تھا۔ درسی کتابوں پر جو توجہ دینا ہوتی، وہ دیتا۔ اساتذہ کو کبھی مجھ سے بے شوقی اور غفلت کی شکایت نہیں ہوئی۔ مگر وہ نصاب سے خارج خاص طور پر اردو کتابوں کے مطالعہ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ معیاری اور مخرب اخلاق کتابوں کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ میرے ہاتھ میں جب بھی دیکھتے کوئی علمی یا ادبی کتاب ہوتی مگر ان کی پیشانی پر شکن آجاتے۔ یہ تھا اس ماحول میں میرے مطالعہ کا آغاز۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، صلاحیت بڑھتی گئی۔ غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ منقولات، معقولات، تاریخ (امصار و دیار کی تاریخ) علوم کی تاریخ، تصوف، نظم، افسانہ (ناول کے مطالعہ میں کبھی دل نہ لگا، صرف شرر کے دو ناول پڑھ سکا تھا) سفر نامے، خود نوشت تحریریں، علمی و دینی ادبی رسائل (طب کا ذکر آپ کو مطلوب نہیں)۔ اس طرح برسوں مطالعہ کا جنون شباب پر رہا۔ مگر طول عمر، ضعف قویٰ، ضعف دماغ و بصارت کے سبب یہ جنوں اعتدال پر آگیا ہے اور مطالعے کی رفتار سست ہوئی ہے اور موضوعات کا دائرہ بھی سکڑ گیا ہے۔ اب ہر قسم کی کتابیں اور ہر قسم کے رسائل نہیں پڑھتا۔ میرے چھوٹے بھائی مسعود احمد برکاتی کے پاس بکثرت رسائل آتے ہیں۔ مہینے میں ایک دو بار جا کر ان سب پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیتا ہوں۔ بعض کتابوں سے مصافحے اور معانقے پر اکتفا کرتا ہوں اور رسائل میں سے بعض بعض کے خاص خاص مضامین پڑھ کر رسالہ سامنے سے ہٹا دیتا ہوں۔ مختصر یہ کہ مرض میں افاقہ ہے مگر ابھی اس کا ازالہ نہیں ہو سکا۔ 

غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ کی ترغیب میں کسی بھی شخصیت کا نام یاد نہیں آرہا، اصل ترغیب و تحریک اس کولوں اور کالجوں کے ہم عمر طلبہ سے ہوئی ہے۔ ہم لوگ اپنی زیر مطالعہ کتابوں اور رسائل کا باہم ذکر کرتے اور باہم تبادلہ کیا کرتے تھے۔ 

کتابیں اور رسالے بکثرت پڑھتا رہا ہوں، دائرہ مطالعہ کافی وسیع تھا۔ بس جو کتاب یا رسالہ ہاتھ آیا پڑھ ڈالا مگر چند خاص موضوعات یہ تھے:

شعر و ادب جس کا مجھے فطری ذوق تھا، چنانچہ شعرا (متقدمین و معاصرین) کے دو اوین اور مجموعے پڑھتا رہتا تھا۔ 1944سے 1948تک دلی میں رہا، اس لیے جدید شعراء کے مجموعہ ہائے کلام میں شاید ہی کوئی مجموعہ میری نظر سے بچا ہو۔ فارسی شعرائے متقدمین کے دو اوین خوب پڑھے۔ مگر عربی شاعری مجھے کبھی نہیں بھائی۔ عربی شعرا کے تذکرے کرکے ضرور پڑھتا تھا۔ ویسے ہمارے نصاب میں جاہلی دور اور اسلامی دور کے شعرا کے کافی انتخاب شامل تھے۔ تصوف کا ذوق مجھے ورثے میں ملا تھا، لیکن کئی سال تک یہ ذوق سر نہ ابھار سکا۔ جب میں نے تصوف کے خلاف فضلا کے مقالات پڑھے تو اس طرف رجوع ہوا اور اکابر صوفیہ کی عربی و فارسی کی کتابیں، صوفیہ کے تذکرے، ملفوظات، مکتوبات وغیرہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنے شروع کیے تو صوفیہ اور تصوف کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں اور متاخرین کے تصور میں در آنے والے بعض فلسفیانہ اور بعض تدابیر غیر اسلامی عناصر کا سراغ ملا اور تکثیر مسلمین کے سلسلے میں ان کی خدمات جلیلہ کا اندازہ ہوا۔ براعظم پاک و ہند کے صوفیہ (جن میں سے اکابر تو بیرون ہند سے ہی آئے تھے) کی دینی خدمات کے ساتھ ان کی سیاسی خدمات کا بھی علم ہوا اور پھر میں نے صوفیائے کرام پر ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا اور بہت سا مواد جمع کر لیا اور اس سلسلے میں چند مضامین بھی لکھے جو شائع بھی ہوئے۔ صوفیہ اور حصول علم صوفیا اور مقامی زبانیں صوفیا کے ذرائع معاش، صوفیا اور خدمت خلق، پھر یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ حسرت ہی رہی کہ کام مکمل ہو جاتا۔ 

تاریخ درس نظامی میں ایک بہت بڑی کمی یہ ہے کہ اس میں جغرافیہ اور تاریخ کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں صرف تاریخ الخلفاء(جلال الدین سیوطی) ایک مختصر سی کتاب داخل تھی۔ خلافت راشدہ سے سیوطی نے اپنے دور تک کے خلفا کو نمٹا دیا ہے۔ تاریخ و جغرافیہ سے بے خبر ہونے کا احساس کسی بھی موضوع کی کتاب کے مطالعہ کے دوران شدید ہوتا تھا۔ خصوصاً جب اپنے ہم سنوں سے میں شمال و جنوب سنایا قطب شمالی یا قطب جنوبی سنایا کسی تاریخ واقعہ اس کے محل وقوع کی وضاحت کے ساتھ سنتا تو بڑی الجھن ہوتی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے میں سکولوں کی ابتدائی جماعتوں کے طلبہ سے ان کی جغرافیہ کی نصابی کتابیں لے کر پڑھتا اور پرائمری اور سکینڈری کے طلبہ سے ان کی تاریخ کی کتابیں لے لے کر پڑھیں۔ پھر یہ لے بڑھتی گئی اور میں نے ہند کی تاریخ، عرب کی تاریخ، یورپ کی تاریخ، انبیا علیہ السلام کی تاریخ غرض جو جو ملا خرید کر عاریتاً لے کر پڑھا۔ اب خود میرے پاس تاریخ و سوانح کا الحمد اللہ اچھا خاصہ ذخیرہ ہے۔ 

میں صرف عربی، فارسی اور اردو کی کتابیں پڑھتا ہوں۔ انگریزی کی مجھے شُدبُد ہے۔ طب جدید کی انگریزی کتابوں کا کسی حد تک مطلب نکال لیتا ہوں۔ 

پسند میں عمر کے ساتھ تو کمی و بیشی اور تبدیلی ہوتی ہے۔ میرے پسندیدہ مصنف مولانا شبلی نعمانی، مولانا سید سلمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، نعیم صدیقی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی، مولانا مناظر احسن گیلانی، مالک رام، قاضی عبدالودود، علامہ اقبال وغیرہ ہیں۔ 

جہاں تک میری پسندیدہ کتابوں کا تعلق ہے، وہ کثیر ہیں، خاص کر قرآن و متعلقات قرآن اور سنت نبوی اور علوم دینیہ کی کتب درس نظامی کا طالب علم ہونے کی وجہ سے اور طب کی کتابیں اپنے فن کی وجہ سے اور قدیم فلسفہ کی کتب خیر آبادی خاندان کی وراثت کی وجہ سے زیر مطالعہ رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ جن کتب کا بار بار مطالعہ کو دل چاہتا ہے، ان میں مولانا آزاد کی تذکرہ، غبار خاطر، کلام نعیم صدیقی کلیات علامہ اقبال اردو، فارسی، دیوان حافظ، وغیرہ ایک محدود انتخاب ہے۔ 

اب تو برسوں سے افسانے پڑھنے کا وقت نہیں ملتا۔ کرشن چندر کے افسانے پسند آتے تھے۔ کالم ایک زمانے میں مرحوم ابن انشاء کے کالم پڑھنے میں لطف آتا تھا۔ 

جن شخصیات کا میری شخصیت پر زیادہ اثر ہوا ہے، ان میں پہلے نمبر پر مولانا ابوالکلام آزاد، دوسرے نمبر پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔

جہاں تک اخبارات کا تعلق ہے، ہمیشہ کراچی کا کوئی ایک روزنامہ پڑھتا رہا ہوں۔ کسی زمانے میں روزنامہ انجام کراچی، کسی زمانے میں روزنامہ حریت کراچی۔ اب تو عرصے سے روزنامہ جنگ کراچی پڑھتا ہوں جو ایک مکمل روزنامہ ہے، اگرچہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار ہے اور جب سے روزنامہ جسارت کراچی جاری ہوا ہے، التزاماً پڑھتا ہوں۔ اگرچہ ایک ناقص روزنامہ ہے مگر کاروان عزیمت کا ایک مسافر ہے۔ 

جب تک ریل میں سفر کرتا تھا تو مسلسل پڑھتا تھا کیوں کہ مجھے سفر میں نیند نہیں آتی۔ ہوائی جہاز میں بھی جب بھی طویل سفر کیا ہے، تمام وقت پڑھتے ہوئے گزرتا ہے۔ 

مطالعہ کے اوقات اب تو وہی ہیں جو فراغت کے ہیں یعنی مطب اور تالیف کے اوقات، مگر دوران تعلیم درس گاہ سے فراغت کے بعد باقی وقت سیر و تفریح کی بجائے مطالعہ میں صرف کرتا تھا۔ ٹونک میں تو صرف کتابیں پڑھتا تھا۔ جب اجمیر پہنچا تو وہاں کتابوں کے علاوہ چند تازہ دینی اور ادبی رسائل بھی مل جاتے تھے۔ وہاں ایک لائبریری تھی جس میں علمی و ادبی کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ تھا مثلاً انجمن ترقی اردو کے رسالے اردو کا پورا فائل تھا۔ نگار کا بھی فائل تھا اور کئی رسالے جو بند ہو گئے ، ان کے بھی فائل تھے۔ 

پہلے وہ کتاب پڑھتا تھا جو ہاتھ آجاتی تھی، چاہے کسی موضوع پر ہو اور کسی بھی سطح کی ہو، لیکن اب بہت دن سے ان کے انتخاب کا دائرہ تنگ کر دیا ہے، بلکہ کر دینا پڑا ہے۔ جسمانی قوی کے اضمحلال، دماغ اور بصارت کے ضعف کی وجہ سے موضوعات کی فہرست مختصر کر دی ہے۔ بہرحال جو کتابیں ہدیتہ ملتی ہیں، انہیں ضرور سرسری انداز میں پڑھ ڈالتا ہوں۔ ایسی کتابوں کے نام بھی بھولنے لگا ہوں مگر معیاری کتابوں اور ان کے مضامین کے ناموں کو بھلانے پر قادر نہیں ہوں۔ 

اگر کتاب اپنی ہو تو اس پر نشان بین السطور لائنیں لگاتا ہوں اور جلد کے سادہ اوراق پر خاص خاص مشمولات کے صفحات لکھ دیتا ہوں۔ مطالعہ کے ساتھ میں قلم اور کاغذ تقریباً پچاس سال سے ساتھ رکھتا ہوں جس پر کچھ عبارتیں نقل کرتا رہتا ہوں جو بعد میں فائل میں لگا دیتا ہوں۔ 

پڑھنے کے لیے سکون مطلوب تھا اور وطن میں تو یہ حاصل تھا، مگر پاکستان میں چھوٹے گھروں میں یہ سہولت بہت کم مل سکی، اس لیے ہر حالت میں پڑھ لیتا ہوں۔ 

بیگم کو الحمد اللہ مطالعہ کا ذوق ہے، مگر وہ صرف سیرت نبویﷺ، سیر صحابہؓ و صحابیات اور فقہ کی کتابیں پڑھتی ہیں، اخبارات پر چند منٹ کے لیے نظر ڈالتی ہیں۔ میرے ایک بیٹے جامعہ کراچی میں استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سائنس کی کتابیں اور دو بیٹے طبیب ہیں، وہ زیادہ تر طب کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ تین بچیوں میں سے دو کو یہ ذوق ہے اور ان کے پاس اچھا خاصا ذخیرہ کتب بھی ہو گیا ہے۔ یہ دونوں زیادہ تر اسلامی اور مسلمین کی تاریخ اور دینی موضوعات پر کتابیں پڑھتی ہیں۔ 

میرے کتب خانے میں سولہ RACKS ہیں جن میں عربی، فارسی، اردو کی تقریباً پانچ ہزار کتابیں ہیں۔ رسائل کے فائل ان کے علاوہ ہیں۔ اس ذخیرے کی ابتدا میرے محترم پردادا حکیم سید دائم علی سے ہوئی۔ پھر محترم داداد سید برکات احمد پھر والد محترم سید محمد احمد اس میں اضافہ کرتے رہے۔ میں بھی اس میں اضافہ کرتا رہا۔ پھر ترک وطن جن حالات میں کرنا پڑا، ان میں مطبوعات کی بڑی تعداد امانتاً اعزا کے ہاں رکھ دی گئی کیوں کہ وہ ذخیرہ قانوناً اور عملاً ساتھ نہیں لایا جا سکتا تھا۔ اس لیے مخطوطات میں سے بھی نوادار، مطبوعات میں بھی قدیم الطبع اور کم یاب مطبوعات ساتھ لے کر چلا۔ وہ بھی اس طرح کہ والدہ محترمہ اور بیگم نے اس سفر ہجرت کے لیے سخت انتخاب کے بعد دوصندوق تیار کیے تھے۔ میں نے ان میں سے بے دردی کے ساتھ تمام قیمتی ملبوسات نکال لیے اور ان کی جگہ کتابیں رکھیں اور دونوں سے عرض کی کہ یہ سب چیزیں ان شاء اللہ وہاں دوبارہ مل جائیں گی۔ الحمد اللہ مل گئیں مگر یہ کتابیں یہ خزانہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ دو صندوق صرف کتابوں کے الگ بھرے اور الحمد اللہ یہ خزانہ یہاں پہنچ گیا۔ پھر اس ذخیرے میں ہر فن اور زبان کی کتابوں کا اضافہ ہوتا رہا۔ میں بھی خریدتا رہا اور متعدد حضرات نے میرا ذوق اور یہ ذخیرہ دیکھ کر اپنا ذخیرہ مجھے عطا کیا۔ کسی نے پندرہ کتابیں اور کسی نے اس سے زیادہ جن میں کچھ کم یاب کتابیں بھی اور چند مخطوطات بھی تھے۔ اسی طرح نظم و نثر کی وہ کتابیں اس ذخیرے میں اضافہ کرتی رہیں جو شعرا اور اہل قلم احباب اور مریضوں نے دیں۔ یوں ساٹھ سال میں حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، تصوف، منطق، فلسفہ، علم الکلام، طب، عربی، فارسی ادب، اردو ادب، تاریخ عالم، تاریخ ہند، تاریخ اسلام وغیرہ کا یہ ذخیرہ جمع ہوا۔

اپنی تصانیف نظم و نثر عطا کرنے والے حضرات میں جو نام یاد آرہے ہیں، ان میں اختر شیرانی، ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی، ڈاکٹر اسلم لاہور سید ابوالخیر کشفی، حکیم محمد سعید حکیم نیر واسطی لاہور، مولانا ماہر القادری، ڈاکٹر معین الحق، سید محمد سلیم، ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر سید اسلم کراچی، ابواللیث صدیقی، ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری، محمد ایوب قادری، سید الطاف علی بریلوی، سید مصطفی علی بریلوی، ثناء الحق صدیقی، نادم سیتا پوری، مسلم ضیائی، ڈاکٹر سفیر اختر، مولانا مفتی مظہر بقا صاحب، محمود احمد عباسی، مولانا فضل اللہ، جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن، کے پروفیسر مجتبیٰ احسن، ڈاکٹر وقار احمد رضوی، مولانا عرشی امرتسری، ضیاء الدین لاہوری، رئیس علوی وغیرہ ہیں۔ کراچی کے شعرا میں سے رئیس امرہوی، راغب مراد آبادی، انجم اعظم، قمر ہاشمی، سحر انصاری، سرشار صدیقی، امید فاضلی، رضی اختر شوق، ظفر محمد خان ظفر انجم وغیرہ۔ 

نادر کتابوں میں المشجر الکبیر، یحییٰ بن نوادرماسویہ کتاب 597ہجری۔ برعظیم میں اس کے تین نسخے ہیں جن میں سے دوسرا پٹنے میں اور تیسرا رام پور میں ہے۔ مگر میرا یہ مخطوطہ چھٹی صدی ہجری میں کتابت ہوا۔ دوسرا پٹنے کا مخطوطہ آٹھویں صدی ہجری میں اور رام پور کا نسخہ۔ گیارہویں صدی ہجری میں بیرون ملک کے جن ذخائر کی فہرست نظر سے گزری ہیں، ان میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ مگر اب یہ نسخہ کراچی نیشنل میوزیم ہے۔ 

تاریخ یمنی ترجمہ مولانا فضل امام خیر آبادی۔ یہ مولانا فضل امام کا اصلی نسخہ ہے۔ 

بیاض مولانا فضل حق خیر آبادی (جن میں چند مکاتیب کے مسودے اور چند قصہ) 

حاشیہ شفا (ابن سینا) از آقا حسین خوانساری۔ 

حاشیہ قدیمہ برشرح تجدید۔ محقق طوسی کی کتاب تجدید الکلام کی شرح علامہ قوشیخی نے کی تھی، اس پر محقق دوانی نے تین حاشیے یکے بعد دیگرے لکھے تھے، ان میں سے یہ پہلا حاشیہ ہے۔ 

حاشیہ خوانساری۔ ابن سینا کی کتاب الاشارات کی ایک شرح امام نے کی تھی اور ایک محقق طوسیٰ نے۔ علامہ قطب الدین رازی نے ان دونوں پر محاکمہ کیا تھا۔ اس کتاب کا حاشیہ خوانساری نے لکھا تھا۔ یہ محفوظ خوانساری کے شاگرد محمد اشرف کاخی نے خوانساری کی حیات میں خود محنسی کے نسخے سے نقل کیا تھا۔ 

کتاب التحصیل (منطق، طبیعات، الہیات) از بہمار بن و زباں آزربائیجان)، یہ ابن سینا کے شاگرد تھے۔ 

ابن سینا کی کتاب الشفا کے حصہ الہیات کا حاشیہ از مولانا عبدالحق خیر آبادی۔ 

جی ہاں مستعار بھی کی ہیں۔ مگر ہر بار سعی بلیغ کی ہے کہ بہت احتیاط سے کتاب کا مطالعہ کیا جائے۔ کتاب جلد سے جلد واپس کی جائے، کتاب خود جا کر مالک کے ہاتھ میں دی جائے، مالک کی عدم موجود میں اہل خانہ یا اطفال کرام کو نہ دی جائے بلکہ اس کام کے لیے دوبارہ جائیں۔ 

مستعار دینے کے تجربے بڑے تلخ اور ناقابل فراموش ہیں۔ بارہا یہ ہوا کہ کتاب واپس نہ آسکی اور اگر آئی تو حسرت موہانی سے زیادہ باحال زار آئی۔ مثلاً بے احتیاطی اور کتاب سے غیر عالمانہ معاملہ کیے جانے کے عواقب کا میرزبوں ہو کر چند کتاب شناس احباب نے اجازت اور کتاب کی عمر دیکھے بغیر فوٹو اسٹیٹ بنوا لیے جس سے اس عجوزہ بڑھیا کی صحت مزید متاثر ہوئی۔ چند مستعیر حضرات نے کتاب اپنے احباب کو پیش کر دی کہ تم بھی فائدہ اٹھاؤ۔ مستعیر ثانی نے بھی اسی شان سے مشق ستم کی میری ڈھٹائی کہ ان تخریبی اعمال سے خوب خوب متمتع ہو کر بھی میں کتاب دینے سے باز نہ آسکا۔ یہ سن کر کہ کسی کو کسی موضوع پر کام کرنے کے سلسلے میں جس کتاب کی ضرورت ہے، وہ میرے پاس ہے مجھ سے یہ کہے بنا رہا نہیں جاتا کہ یہ میرے پاس ہے، آپ لے جائیے۔ دل گوارا نہیں کرتا کہ کسی علمی و دینی کام میں خدمت سے محروم رہ جاؤں۔ کتاب دینے کے بعد واپس خود تو کم ہی شرفا کرتے ہیں ورنہ تقاضا کرنا پڑتا ہے مگر کبھی تو یہ جواب ملا کہ آپ کو یاد نہیں ہے۔ میں نے آپ سے یہ کتاب واپس کرنے سے پہلے وفات پا لی۔ دو تین بار اپنی دی ہوئی کتاب کبھی ٹھیلے پر بکتی ہوئی خریدی۔ ایک صاحب نے فرمایا تھا کہ میں واپس کر گیا تھا آپ بھول گئے ہیں مگر میں نے کتاب ان کے اور اپنے کسی مشترک دوست کے یہاں دیکھی۔ کتاب پر میرا نام بھی لکھا تھا اس لیے سوال کیا کہ آپ کے پاس کیسے؟ تو انہوں نے مستعیر اول کا نام لے کر بتایا کہ انہوں نے مجھے دے دی تھی۔ 

جی ہاں، مطالعے سے بھی اور عمر کے ساتھ بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اگر باقی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ تنہائی آیا تو میں قرآن مجید کا جو حصہ بھی یاد ہے اس کی تلاوت اور اس پر تدبر میں وقت صرف کروں گا۔ 

جب تک اپنے وطن ٹونک میں رہا جو ایک چھوٹا شہر ہے تو بہت کم مشابہہ سے نیاز حاصل ہو سکا اور مشابہ کا تصور ذہن میں مافوق البشر کا سا تھا، مگر تین سال اجمیر میں رہا وہاں خواجہ اجمیر کی درگاہ تھی، اس لیے یہاں ملک کے گوشے گوشے سے متعقدین شعراء، علماء، سیاسی زعما کثرت سے آتے رہتے تھے۔ اس لیے ان میں سے کسی سے سلام کا تبادلہ کسی سے مصافحہ، کسی سے سرسری گفت گو اور کسی سے مفصل ملاقات ہوتی رہی تھی اور مشابہ کا وہ بت چکنا چور ہو گیا اور مرعوبیت بالکل نہیں رہی۔ پھر چار سال دہلی میں رہا تو وہاں کثرت سے علما، شعرا، مصنفین کو سونگھا چکھا، تناول کیا، افسوس ہوا کہ کاش ہم ان کو اتنے قریب سے نہ دیکھتے کہ ان کا قد اتنا بلند ہے جتنا ہم نے قیاس کیا تھا۔ ان کا کردار بے داغ نہیں ہے، یہ اتنے بڑے نہیں ہیں جتنا ہم انہیں دیکھنے سے پہلے سمجھ بیٹھے تھے۔ کسی کو بہت پست قامت پایا اور اندازہ ہوا کہ شہرت صرف کمال اور جمال میں سے حاصل نہیں ہوتی، بہت کم صلاحیتوں کے ساتھ بھی بہت سے ذرائع سے شہرت حاصل کی جاتی ہے۔ پھر جب میں دہلی پہنچا تو مے خانے کا در کھل گیا۔ وہاں ایک طرف بہت سے اہل علم و قلم، قدیم و جدید مدارس کے معلمین، نام ور مصنفین، شعر و سخن کے اساتذہ جمع تھے۔ علمی و ادبی اجتماعات ہوتے رہتے تھے اس لیے دہلی پہنچ کر معلوم ہوا کہ تہہ خانے سے نکل کر میدان میں آگیا ہوں۔ وہاں ندوۃ المصنفین کا مشہور علمی ادارہ اور ماہ نامہ برہان کا دفتر تھا۔ یہ ہمارے کالج کے قریب تھے ادارے کے ارکان مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا بدر عالم میرٹھی زندگی میں پہلی بار کوئی علمی ادارہ دیکھا تھا، اس لیے میں اکثر وہاں جاتا تھا۔ سراسر علمی ماحول، ارکان اپنے اپنے کمروں میں خاموشی سے مصروف کار، ہر کمرے میں الماریاں کتابوں سے معمور۔ انتظام مفتی عتیق الرحمن کے ہاتھ میں تھا۔ وہ کتابوں اور ماہ نامے کے پیکٹ بنوانے، کتابت کروانے، پروف کی اصلاح وغیرہ میں مصروف ہوتے اور میں برہان کے تبادلے میں آئے تازہ رسائل اور الماریوں میں سے اپنی پسند کی کتابیں نکال کر پڑھنے بیٹھ جاتا اور ضحیم کتاب بھی مفتی صاحب مجھے لے جانے کی اجازت دے دیتے تھے۔ 

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مرکز اس وقت تک قرول باغ میں اجمل روڈ پر ہی تھا۔ جامعہ کا کتب خانہ اور دارالمطالعہ بھی اسی روڈ پر تھا۔ میں وہاں بھی حملے کرتا رہتا تھا اور اپنی علمی بھوک اور پیاس بجھانے کی کوشش کرتا۔ شہر میں دو اور دارالمطالعے تھے۔ ایک پنجابی سوداگر دہلی کا اور دوسرا ہارڈنگ لائبریری۔ میں تقریباً دونوں جگہ کے پھیرے کرتا تھا۔ ہمارے اساتذۂ طب حکیم خواجہ رضوان، حکیم فریداحمد عباسی، حکیم عبدالحفیظ صاحبان کے کتب خانوں تک بھی میری تگ و تاز تھی، ان کتب خانوں میں طبی کتابوں کے علاوہ ان اساتذہ کے ذوقِ مطالعہ کی وجہ سے علمی و دینی و تاریخی کتابیں بھی ہوتی تھیں۔ یہ حضرات میرے بزرگوں سے نہ صرف واقف بلکہ ارادات مند تھے، اس لیے مجھ سے دوسرے طلبہ کے بہ نسبت خصوصی معاملہ فرماتے تھے اور میں ان کے یہاں سے نادر مطبوعات تک لے آتا تھا۔ ہارڈنگ لائبریری کے انچارج اس زمانے میں اسرار الحق مجاز تھے۔ وہ دارالمطالعہ میں ایک اونچے چبوترے پر ایک بڑی سی میز پر بیٹھے اور روزانہ ان سے سلام کا تبادلہ ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں مگر جب وقت ختم ہونے کا گھڑیال بجاتے ہیں تو آپ پر بہت غصہ آتا ہے تو انہوں نے بہت لطف لیا۔ رئیس احمد جعفری کی قائد اعظم پر ایک ضخیم کتاب ایک دن لائبریری میں داخل ہوئی تھی۔ مجھے اس کے مطالعے کا اشتیاق تھا مگر میں لائبریری کا ممبر نہیں تھا۔ اس لیے اپنے نام جاری نہیں کروا سکتا تھا۔ فرط اشتیاق سے میں مجاز صاحب کے پاس لے کر گیا اور درخواست کی کہ اسے اپنے نام سے جاری کروا دیں۔ یہ سوال ان کے لیے غیر متوقع تھا، اس لیے سن کر مسکرائے اور کچھ دیر سوچتے رہے، پھر اپنے نام سے کتاب جاری کروا دی۔ میں کتاب لے آیا اور صبح ہوتے ہوتے کتاب پڑھ ڈالی۔ دوسرے روز حسب معمول عصر کے بعد لائبریری پہنچ کر کتاب مجاز صاحب کو پیش کر دی۔ انہوں نے حیرت سے کتاب ہاتھ میں تولنے کے انداز میں پوچھا کتاب پڑھ لی؟ میں نے کہا جی ہاں پڑھ کر واپس کرنے لایا ہوں رات بھر پڑھ کر ختم کر دی صبح اپنے دوسرے فرائض ادا کیے اور اب واپس کرنے آیا ہوں۔ مجاز صاحب استفہام انکاری کے لہجے میں کہنے لگے: اتنی ضخیم کتاب ایک رات میں؟ میں نے کہا مجاز صاحب میں قائد اعظم پر تین کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ اس کتاب میں قائد اعظم اور دوسروں کی تقاریر کے طویل طویل اقتباسات میرے لیے نئے نہیں تھے۔ اجلاسوں کی رودادیں بار بار پڑھی ہیں، ان کا پڑھنا کیوں ضروری تھا۔ باقی ہر نئی چیز میں نے پڑھ لی ہے، آپ امتحان لے لیں۔ 

مطالعہ کی اس جوع البقر کا یہ عالم تھا کہ رسالوں کا فلمی حصہ جس میں فلموں کی خبریں، اداکاروں کی کارکردگی پر تبصرے وغیرہ ہوتے تھے، میں وہ بھی پڑھ ڈالتا تھا، حالانکہ نہ اس وقت تک کوئی فلم دیکھی تھی نہ کبھی اس کا شوق ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ دلچسپ ہوا۔ میں چند دن کے لیے اپنے اعزہ کے یہاں ملنے کے لیے گیا۔ وہاں بزرگوں سے زیادہ اپنے ہم سن عزیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا تھا۔ ایک دن ان حضرات نے تواضع کی خاطر مجھے فلم دکھانے کا پروگرام بنا لیا اور جب مجھ سے ذکر کیا تو میں نے یہ دعوت قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ احباب نے اس انکار کو تکلف پر محمول کیا مگر میں انہیں بتایا کہ میں نے آج تک کوئی فلم دیکھی ہے اور نہ اس کو جائز سمجھتا ہوں تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ ان کی حیرت کی وجہ یہ تھی کہ اس عرصے میں ان سے جب بھی گفت گو ہوئی اور وہ اپنے ذوق کے مطابق فلموں کی بات کرتے تو میں بھی اس گفت گو میں حصہ لیتا تھا اور فلموں اور اداکاروں کے متعلق اپنے ماہرانہ تبصرے اس شان اعتماد سے بیان کرتا کہ فلم میں نے خود دیکھی ہو۔ میری یہ معلومات رسالوں کے فلمی صفحات کے حرف بحرف پڑھنے کا نتیجہ تھیں۔ 

رسائل اور کتابوں کے علاوہ شعر و ادب کی طرف بھی زیادہ دلچسپی رہی اور شعرا و ادبا کے ساتھ ادبی موضوعات پر مذاکروں کا سلسلہ جاری رہتا، اس دور میں ترقی پسند ادب بھی ہمارا خاص موضوع بحث تھا اور اس موضوع کے حامیوں اور مخالفوں کی جو کتابیں شائع ہوئی تھیں، وہ میں ضرور پڑھتا تھا۔ اسی طرح شعراء کے مجموعہ ہائے کلام بھی کثرت سے شائع ہو رہے تھے اور وہ میں التزاماً پڑھتا تھا چنانچہ جان نثار اختر نے مولانا ماہر القادری سے ایک محفل میں میرے متعلق کہا کہ تازہ شائع ہونے والا ہر مجموعہ یہ ضرور حاصل کرتے اور پڑھتے ہیں۔ انہی دنوں مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب غبارِ خاطر کے زیر طباعت ہونے کی خبر ملی میں اردو بازار دہلی میں ناشر کی دوکان کے روز چکر لگانے لگا آخر ایک روز وہ بازار میں آگئی اور میں جب دوکان پر پہنچا تو دوکان کے مالک نے اس کتاب کا ایک نسخہ میز کی دراز میں سے نکال کر مجھے دیا کہ لاٹ میں سے پہلا نسخہ میں نے آپ کے لیے پہلے الگ کر لیاتھا کہ سب سے زیادہ انتظار آپ کوہی تھا۔ 

مشاہدات و تاثرات