بنگلہ دیش کا ایک مطالعاتی سفر

محمد عمار خان ناصر

۱۰ جنوری سے ۱۴ جنوری ۲۰۱۰ء تک مجھے ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے Leaders of Influence (LOI) Exchange Program میں شرکت کے سلسلے میں بنگلہ دیش کا سفر کرنے کا موقع ملا۔ یہ پروگرام US-AID یعنی یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ اور ایشیا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہوا اور اس میں پاکستان، بھارت، نیپال، تھائی لینڈ اور افغانستان سے آئے ہوئے وفود نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد میں راقم الحروف کے علاوہ شریعہ اکیڈمی، اسلام آبا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، بہاؤ الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان کے شعبہ اسلامیات کے صدر ڈاکٹر محمد اکرم رانا اور اسلام آباد سے سما ٹی وی کی نمائندہ محترمہ مریم وقار شامل تھیں۔ اس تین روزہ پروگرام کا بنیادی مقصد شرکا کو ان کوششوں اور تجربات سے متعارف کرانا تھا جو US-AID اور ایشیا فاؤنڈیشن، بنگلہ دیش میں اسلامک فاؤنڈیشن کے تعاون سے ائمہ اور خطبا کو سماجی ترقی میں متحرک کردار ادا کرنے اور مختلف سماجی مسائل ومشکلات کے حل کے لیے اپنی مذہبی حیثیت اور اثر ورسوخ کو استعمال کرنے کے سلسلے میں کر رہی ہے۔ 

تین روزہ پروگرام کا پہلا دن LOI پروگرام کے پس منظر، مقاصد، مختلف پہلوؤں اور اس میں کردار ادا کرنے والے اداروں، خاص طور پر اسلامک فاؤنڈیشن اور امام ٹریننگ اکیڈمی کے حوالے سے تعارفی بریفنگ کے لیے مخصوص تھا۔ دوسرے دن شرکاکو دو مختلف گروپوں کی صورت میں اس پروگرام کے بعض عملی مراکز اور سرگرمیوں کے مشاہدہ کے لیے چٹا گانگ اور سلہٹ لے جایا گیا، جبکہ تیسرے دن کے اختتامی سیشن میں شرکا کو خاص طور پر اس پہلو سے اپنے تاثرات کے اظہار کا موقع دیا گیا کہ اس پروگرام سے انھوں نے کیا سیکھا ہے اور وہ اپنے اپنے ملکوں کے مخصوص حالات میں عملی طور پر اس سے کیا رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

پہلے دن کے تعارفی سیشن میں یو ایس اے آئی ڈی کے مسٹر رسل پے پے، ایشیا فاؤنڈیشن بنگلہ دیش کے مسٹر نذر الاسلام اور اسلامک فاؤنڈیشن کے مسٹر مسعود اور مسٹر شہاب الدین کے علاوہ بنگلہ دیش کی قومی مسجد کے خطیب مولانا صلاح الدین نے گفتگو کی۔ ان سب حضرات کی گفتگو سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئیں، ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ مساجد کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈھائی سے تین لاکھ ہے اور ہر مسجد میں اوسطاً تین افراد امام، خطیب اورموذن وخادم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی پندرہ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور عام لوگوں میں مذہبی رجحان غالب ہے جس کا ایک مظہر یہ ہے کہ کم وبیش آٹھ کروڑ لوگ ہر جمعے کے دن جمعہ کی نماز مسجد میں باجماعت ادا کرتے اور جمعے کا خطبہ سنتے ہیں۔ مساجد کے ائمہ وخطبا اور مذہبی راہ نماؤں کو عمومی طور پر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ ان کی بات پر توجہ دیتے اور ان کی گفتگو کا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بنگلہ دیش میں حکومتی سطح پر یہ احساس پیدا ہوا کہ مذہبی راہ نماؤں کے معاشرتی مقام ورسوخ کو بنگلہ دیش کے مختلف اور متنوع سماجی مسائل کے حل اور معاشرے کی ترقی جیسے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے، چنانچہ ۱۹۸۹ء میں وزارت مذہبی امور کے تحت اسلامک فاؤنڈیشن کے نام سے ایک خود مختار ادارہ قائم کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ بنگلہ دیشی ائمہ مساجد اور خطبا کو درپیش سماجی مسائل کے حوالے سے ادراک وشعور سے بہرہ ور کیا جائے، انھیں ان مسائل پر عوام کی راہ نمائی کی تربیت دی جائے اور انھیں آمادہ کیا جائے کہ وہ معاشرے کی بہبود اور ترقی کے لیے بھرپور، موثر اور قائدانہ کردار ادا کریں ۔ اسلامک فاؤنڈیشن نے اس مقصد کے لیے امام ٹریننگ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس میں ائمہ وخطبا کو ایک ۴۵ روزہ تربیتی کورس کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے۔ اس تربیتی پروگرام کے نصاب میں چھ بنیادی موضوعات یعنی اسلامیات، توہمات کے خاتمے، ایڈز سے حفاظت کی تدابیر، پولٹری اور فشریز سے متعلق شرکا کو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ ۱۹۸۹ء سے اب تک بیس سال کے عرصے میں پینسٹھ ہزار ائمہ کو اس تربیتی مرحلے سے گزارا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ۲۰۰۴ء سے US-AID اور ایشیا ٰفاؤنڈیشن کے تعاون سے امام ٹریننگ اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے والے ائمہ کے لیے مزید تین روزہ تربیتی ورک شاپس کے انعقاد کا اہتمام کیا جاتا ہے جسے Leaders of Influence (LOI) Program کا عنوان دیا گیا ہے اور اس پروگرام کے تحت اب تک دس ہزار ائمہ کو اضافی تربیت دی جا چکی ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ امام ٹریننگ اکیڈمی سے تربیت پانے والے ائمہ اور خطبا کی سرگرمیوں اور خدمات میں حسب ذیل تبدیلیاں مشاہدے میں آئی ہیں:

  • o تربیت یافتہ ائمہ اپنے خطبات جمعہ میں بڑے اہتمام سے انسانی حقوق، سماجی انصاف، خواتین کے حقوق، کرپشن، ایڈز، تعلیم، خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ، خاندانی منصوبہ بندی اور اس طرح کے دوسرے سماجی موضوعات پر گفتگو کرتے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عوام کی راہ نمائی کرتے ہیں۔
  • o بعض علاقوں میں امام حضرات نے خود بھی مچھلی فارم اور مرغی فارم قائم کیے ہیں جس سے وہ انفرادی طور پر اپنے ذرائع آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی خام قومی پیداوار (GDP) میں بھی اضافے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
  • o بعض علاقوں میں امام حضرات نے ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے درختوں کی کاشت کاری کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور ایک خاص علاقے میں امام حضرات کی کوشش سے پینتیس ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔
  • o دیہی علاقوں میں ائمہ وخطبا ابتدائی تعلیم کے فروغ کے لیے مساجد کو بطور تعلیمی مراکز استعمال کر رہے ہیں۔

پروگرام کا دوسرا دن فیلڈ اسٹڈی کے لیے مخصوص تھا جس کے لیے پانچ ملکی وفود کو دو ٹیموں میں تقسیم کر کے افغانستان اور تھائی لینڈ کے وفود کو چٹا گانگ جبکہ پاکستان، بھارت اور نیپال کے وفودکو سلہٹ لے جایا گیا۔ سلہٹ میں ہم نے یو ایس اے آئی ڈی کے زیر اہتمام کام کرنے والے ایک مرکز صحت The Smiling Sun health Centre کا دورہ کیا جہاں متوسط اور زیریں طبقات کی خواتین کو علاج معالجہ کی ارزاں سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں اور جو مریض استطاعت نہ رکھتے ہوں، ان کا مکمل طور پر مفت علاج بھی کیا جاتا ہے ۔ ہمیں اس سنٹر کے مختلف شعبے دکھائے گئے اور وفد کے شرکا نے ان شعبوں میں کام کرنے والے حضرات سے مختلف سوالات کر کے عملی تفصیلات معلوم کیں۔ 

اسی دن ہوٹل Fortune Garden سلہٹ میں ایشیا فاؤنڈیشن کے LOI پروگرام کے تحت ائمہ کے لیے ایک ورک شاپ جاری تھی جس میں ہمیں مہمان کے طور پر لے جایا گیا۔ یہاں ہم نے مختلف سماجی مسائل مثلاً کرپشن، خواتین کی اسمگلنگ، ناخواندگی، کثرت آبادی، ایڈز اور خواتین کے مسائل جیسے موضوعات پر آٹھ مختلف presentations سنیں جو شرکا نے مختلف گروپوں کی صورت میں باہمی مشاورت سے تیار کی تھیں اور ان میں ہر مسئلے کی مشکلات اور چیلنجز کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔ خواتین کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ایک امام صاحب نے جن مشکلات کا ذکر کیا، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جیسے ہی کوئی امام یا خطیب منبر پر خواتین کے مسائل یا حقوق کی بات کرتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ امام صاحب ایک سیاسی تقریر کر رہے ہیں۔ میرے ذہن میں فوراً یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ مشکل لوگوں کی نہیں، بلکہ خود ائمہ اور خطبا کی پیدا کردہ ہے، کیونکہ لوگوں میں اس تاثر کا پیدا ہونا کہ خواتین کے مسائل یا حقوق کی بات مذہب سے نہیں بلکہ سیاست کے دائرے سے تعلق رکھتی ہے، خود مذہبی راہ نماؤں کی اس روش کا نتیجہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنے خطبات وتقاریر میں اس موضوع کو کبھی نہیں چھیڑتے، بلکہ اس موضوع کو مکمل طور پر اس طرح نام نہاد لبرل طبقات کے سپرد کر دیا گیا ہے کہ خواتین کے حقوق یا مسائل کے حوالے سے اٹھنے والی کوئی بھی بحث عام طور پر قوم کو مذہبی اور غیر مذہبی کیمپوں میں تقسیم کر دیتی ہے جس میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کا علم لبرل طبقات کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور مذہبی طبقات ان کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے امام صاحب نے کثرت آبادی کے حوالے سے اپنی گفتگو میں یہ نعرہ دہرایا کہ ’’بچہ، ایک ہی اچھا‘‘۔ اس پر ہمارے وفد کی رکن محترمہ مریم وقار نے حیرت کا اظہار کیا اورکہا کہ ایک مولوی صاحب کی زبان سے انھوں نے یہ بات پہلی مرتبہ سنی ہے، کیونکہ عام طور پر مذہبی لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو مطلقاً مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہیں۔ 

اسی نشست میں ایڈز یا نشے کے مریضوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے معاشرتی سلوک کا نکتہ زیر بحث آیا تو میں نے گزارش کی کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نفرت گناہ سے کرنی چاہیے نہ کہ گناہ گار سے، اور خاص طور پر نشے یا اس کی طرح کی کسی دوسری علت میں گرفتار ہو جانے والے افراد ایک خطا کار اور کمزور انسان کی حیثیت سے اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں ہمدردی اور محبت کے ساتھ اس سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے۔ اس پر میں نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی شراب نوشی کی عادت کی وجہ سے بار بار پکڑ کر آپ کی خدمت میں لائے جاتے اور آپ کے حکم پر انھیں سزا دی جاتی۔ اسی طرح کے ایک موقع پر کسی شخص نے ان پر لعنت کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا کہ لا تعینوا الشیطان علی اخیہ،یعنی اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔ میں نے عرض کیا کہ مذہبی لوگ اسلام کی اس روحانی اور اخلاقی تعلیم کو معاشرے میں عام کرنے کے سلسلے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور انھیں یہ کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔

۱۲؍ جنوری کے دورۂ سلہٹ میں ہماری مصروفیات کا آخری حصہ سلہٹ میں امام ٹریننگ اکیڈمی کے سنٹر کا مختصر دورہ تھا۔ یہاں زیر تربیت ائمہ کی ایک کلاس کے سامنے اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب فرید الدین نے مہمانوں کو اس تربیتی پروگرام کے مختلف پہلووں کے حوالے سے بریفنگ دی جس کے آخر میں مہمانوں میں سے ایک نمائندے سے اپنے تاثرات کے اظہار کی فرمائش کی گئی۔ یہ خدمت جناب ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی نے انجام دی اور اپنی مختصر لیکن موثر گفتگو میں حصول علم کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر حاضرین پر واضح کیا۔ ڈاکٹر فاروقی نے کہا کہ اسلام علم کے حصول کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور اس ضمن میں ذرائع اور ماخذ کے بارے میں متعصبانہ رویے کی آبیاری کے بجائے یہ تلقین کرتا ہے کہ کوئی مفید بات جہاں سے بھی ملتی ہو، اسے لے لینا چاہیے۔ نیز یہ کہ اسلام میں دینی اور دنیاوی علم کی کوئی تفریق نہیں، کیونکہ علم اللہ کی صفت ہے اور اللہ کا علم ہر طرح کی باتوں کو محیط ہے، اس لیے مذہبی وغیر مذہبی اور دینی ودنیاوی ہر طرح کا علم اسلام کی نظر میں مطلوب ہے۔ ڈاکٹر فاروقی کی گفتگو پر حاضرین نے بہت پرجوش انداز میں اپنے مثبت تاثر کا اظہار کیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ڈاکٹر فاروقی نے اپنی گفتگو میں انھی کے جذبات واحساسات کی ترجمانی کی ہے جس پر وہ بے حد خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ وقت چونکہ بہت مختصرتھا، اس لیے تقریب کے اختتام پر منتظمین نے فوراً واپسی کا حکم نامہ جاری کر دیا اور زیر تربیت ائمہ سے گفتگو اور تبادلہ خیال نہ ہو سکنے کی تشنگی نہ صرف ہمیں بلکہ ائمہ کرام کو بھی محسوس ہوئی۔ میں ہال سے نکلنے والا آخری فرد تھا، چنانچہ ائمہ میرے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے اور مصافحہ اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار ہونے لگا۔ ایک بزرگ امام صاحب نے فرط محبت سے مجھے سینے سے لگا لیا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ باقی سب مہمان جا چکے ہیں، میں جلدی سے اجازت لے کر نکلنے لگا کہ دور سے کچھ امام حضرات ’’پاکستانی بھائی‘‘ پکارتے ہوئے بھاگ کر آئے اور آکر مصافحہ کیا۔ سب حضرات کی محبت دیدنی اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور تبادلہ خیال کا اشتیاق دیدنی تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے منتظمین کو مداخلت کرنا پڑی اور انھوں نے آکر ائمہ کرام کو سختی سے روک دیا اور مجھ سے کہا کہ آپ چلیے، کیونکہ گاڑیاں ڈھاکہ واپسی کے لیے تیار ہیں۔

پروگرام کے تیسرے روز آخری سیشن میں تمام شرکا سے فرداً فرداً اپنے تاثرات کے اظہار کی فرمائش کی گئی۔ میں نے عرض کیا کہ ان تین دنوں میں بنگلہ دیش کی حکومت، مذہبی طبقات اور سماجی مسائل سے دلچسپی رکھنے والی این جی اوز کے مابین تعاون واشتراک کی جو صورت حال ہمارے سامنے رکھی گئی ہے، وہ پاکستان کے معروضی تناظر میں بھی بے حد سبق آموز اور قابل استفادہ ہے، کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک کے سیاسی اور سماجی مسائل کم وبیش ایک نوعیت کے ہیں اور ایک ملک کی معاشرتی صورت حال کے حوالے سے کیے جانے والے تجزیے اور اس ضمن میں کیے جانے والے تجربات دوسرے ممالک کے لیے بھی اتنے ہی بامعنی اور مفید (relevant) ہوتے ہیں۔ میں نے اس ضمن میں پاکستان کے حوالے سے خاص طور پر تین نکات کی طرف توجہ دلائی:

ایک یہ کہ بنگلہ دیش میں مساجد کی عمارتوں اور ائمہ مساجد کی کھیپ کو ابتدائی سطح کی تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کا جو منصوبہ اس وقت روبعمل ہے، پاکستان میں اسی نوعیت کا ایک منصوبہ کافی عرصہ پہلے غالباً جنرل ضیاء الحق کے دور میں ’’مسجد مکتب اسکیم‘‘ کے نام سے شروع کیا گیا تھا جسے کاغذی سطح پر باقاعدہ منظوری حاصل ہونے کے باوجود بغیر کوئی ظاہری سبب بتائے ختم کر دیا گیا، البتہ باخبر ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے مذہب بیزار سیکولر بیورو کریسی کے یہ تحفظات کار فرما تھے کہ اگر نئی نسل کو سرکاری وسائل سے مساجد کے ائمہ کے ہاتھوں تعلیم اورتربیت کے مواقع فراہم کیے گئے تو یہ انتہا پسندی کے عمل (Radicalization) کو فروغ دینے کے مترادف ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ بنگلہ دیشی حکومت کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے سماجی مسائل اور مختلف سماجی طبقات کی صلاحیتوں اور ان سے استفادہ کے امکانات کے معاملے میں زیادہ forward-looking اور بصیرت کی حامل ہے اور پاکستان کے مقتدر طبقات کو اپنی محدود سوچ سے نجات حاصل کرنے اور ملک کی تعمیر وترقی کے لیے تمام طبقات کی صلاحیتوں اور کردار سے استفادہ کا حوصلہ اور بصیرت پیدا کرنے میں بنگلہ دیش کے اس تجربے سے بھرپور راہ نمائی لینی چاہیے۔

دوسرے یہ کہ بنگلہ دیش میں ائمہ مساجد کو سماجی موضوعات پر عوام کی راہ نمائی اور ان میں سماجی مسائل کے حل میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے جو منظم کوشش کی گئی ہے، اس سے بھی روشنی لی جانی چاہیے اور ائمہ وخطبا کے ہاں عمومی طور پر اپنے آپ کو مسجد کی چار دیواری تک محدود اور معاشرتی مسائل سے لاتعلق کر لینے کا جو مزاج پایا جاتا ہے، اس کی اصلاح کے لیے بنگلہ دیش کے ائمہ کے کردار اور سرگرمیوں کو ایک قابل تقلید نمونے کے طور پر سامنے رکھنا چاہیے۔

تیسرے یہ کہ مذہبی طبقات اور مختلف سماجی مسائل پر ارتکاز کرنے والی تنظیموں اور اداروں کے مابین باہمی رابطے کے فقدان اور اس سے جنم لینے والی بد اعتمادیوں اور غلط فہمیوں کی فضا ہمارے ہاں بھی پوری طرح موجود ہے اور دونوں طرح کے طبقات ایک دوسرے کے بارے میں شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ اس صورت حال کے ازالے کے لیے اسی طرح مختلف فورمز وجود میں آنے چاہییں جو فریقین کے مابین رابطے کا کام دیں، مختلف موضوعات پر مکالمے کا اہتمام کریں اور افہام وتفہیم پر مبنی ایک مثبت فضا میں سوسائٹی کے ان الگ الگ فکری دھاروں کو اس بات کا موقع بہم پہنچائیں کہ وہ ایک دوسرے کو براہ راست سمجھیں، تحفظات وخدشات پر باہم گفتگو کریں، ایک دوسرے کے زاویہ نظر اور تجربات سے استفادہ کریں، خیر خواہی اور ہمدردی پر مبنی تنقید کے ذریعے ایک دوسرے کی اصلاح کریں اور معاشرتی بہبود اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کے امکانات اور دائروں کو دریافت کریں۔

اختتامی سیشن میں ہی ہر ملک کے نمائندہ وفود سے کہا گیا کہ وہ باہمی مشاورت کے بعد متعین نکات پرمبنی ایسا لائحہ عمل تیار کریں جو وہ بنگلہ دیش کے تجربے کی روشنی میں اپنے اپنے معاشرے کے معروضی حالات کے تناظر میں تجویز کر سکتے ہیں۔ پاکستانی وفد کے شرکا نے باہمی مشاورت سے حسب ذیل لائحہ عمل مرتب کیا جسے وفدکی نمائندگی کرتے ہوئے محترمہ مریم وقار نے شرکا کے سامنے پیش کیا:

  • پاکستان میں ناخواندگی کو ختم کرنے اور ابتدائی سطح کی تعلیم کے فروغ کے لیے مسجد مکتب اسکیم کا احیا کیا جائے۔
  • کسی مستند اور با اعتماد علمی ادارے (مثلاً دعوہ اکیڈمی) کے زیر اہتمام ائمہ وخطبا کی راہنمائی کے لیے مختلف سماجی ومعاشرتی موضوعات پر ماڈل خطبے تیار کروائے جائیں تاکہ موضوعات کے انتخاب اور مستند علمی مواد کی فراہمی میں خطبا کو سہولت ہو اور وہ معاشرتی اصلاح کے سلسلے میں دین کا پیغام موثر طریقے سے لوگوں تک پہنچا سکیں۔
  • ایسے فورمز قائم کیے جائیں جہاں معاشرے کے مختلف طبقات، خاص طور پر مذہبی وغیر مذہبی طبقات بلکہ خود مختلف مذہبی مکاتب فکر کو باہمی مکالمہ کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
  • دینی مدارس سے وابستہ لوگوں کو دوسرے سماجی اداروں اور تنظیموں کا دورہ کروایا جائے اور ان کی سرگرمیوں اور خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔ اسی طرح مختلف این جی اوز کو مدارس اور مذہبی اداروں کے دورے کروائے جائیں اور وہاں کے ماحول اور نظام کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع مہیا کیا جائے۔
  • مختلف سماجی مسائل پر میڈیا میں جو تشہیری مہمیں چلائی جاتی ہیں، ان میں عام طور پر مذہبی راہ نما دیکھنے میں نہیں آتے، اس لیے میڈیا کو توجہ دلائی جائے کہ وہ رائے عامہ کوباشعور بنانے اور انھیں مطلوبہ اقدامات پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی راہ نماؤں کے اثر ورسوخ کو بھی استعمال کریں اور ان کے پیغامات کو شامل کر کے اپنی مہم کو زیادہ موثر بنائیں۔
  • ائمہ وخطبا کی تربیت اور ان میں سماجی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کی استعداد پیدا کرنے کے سلسلے میں دعوہ اکیڈمی کا تربیتی پروگرام بہت مفید ہے ، لیکن وسائل کے لحاظ سے اس کا دائرہ بہت محدود ہے۔ یہ سلسلہ زیادہ بڑے اور وسیع پیمانے پر شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ائمہ وخطبا کو معاشرہ کی اصلاح اور ترقی کے عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔

بہت سے دوسرے شرکا نے اپنی گفتگو میں جو نکات اٹھائے، ان میں سے اہم حسب ذیل ہیں:

بعض شرکا نے اس طرف توجہ دلائی کہ ائمہ مساجد اورخطبا کے وژن اور عملی کردار کے حوالے سے LOI پروگرام کے حقیقی عملی اثرات اور نتائج پر خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور مہیا کردہ معلومات سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ تربیتی پروگراموں میں شریک ہونے والے ائمہ اور خطبا جب واپس اپنے ماحول میں جاتے ہیں تو کس حد تک مطلوبہ سماجی مسائل ومشکلات میں دلچسپی لیتے ہیں اور یہ کہ اس پروگرام کی قدر پیمائی (evaluation ) کے لیے کوئی قابل اعتماد نظام موجود ہے یا نہیں۔ مسٹر رسل پے پے نے اس کے جواب میں بتایا کہ LOIپروگرام میں شرکت کرنے والے ائمہ اورخطبا کو کورس کے اختتام پر ایک گائیڈ بک مہیا کی جاتی ہے جس میں اس بات کی تفصیلی راہ نمائی موجود ہے کہ وہ مختلف سماجی مسائل کے حوالے سے عملاً کام کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ کیا ہے اور اس ضمن میں وہ کون کون سے اداروں سے رابطہ کر کے مزید راہ نمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید برآں ہر چار ماہ کے بعد شرکا کو ایک سوال نامہ بھیجا جاتا ہے اور اس کی مدد سے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ سماجی سطح پر کس حد تک مطلوبہ مقاصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں کا دورہ کر کے عملی صورت حال معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مسٹر رسل نے کہا کہ اس سے زیادہ فرداً فرداً ہر شخص کی کارکردگی جانچنے کا کوئی نظام ان کے پاس موجود نہیں ہے۔

ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ جن سماجی مقاصد کے لیے پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ترقی پسندانہ (Progressive) ہیں جبکہ مذہبی لوگ قدامت پسند ہوتے ہیں تو انھیں ان مقاصد کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے پر کیونکر آمادہ کیا جا سکتا ہے؟ اس پر مسٹر رسل پے پے نے کہا کہ تربیتی پروگرام کے شرکا کو مختلف مراکز میں لے جا کر عملی صورت حال کا مشاہدہ کرنے اور اس طرح سماجی مسائل سے براہ راست واقفیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جس سے ان کا exposure وسیع ہوتا ہے اور ان کے اندر کردار ادا کرنے کا داعیہ بیدار ہوتا ہے۔ انھوں نے مثال کے طورپر یہ واقعہ سنایا کہ ایک موقع پر پروگرام کے شرکا کو ایک HIV-AIDS سنٹر لے جایا گیا جہاں ایڈز سے متعلق لوگوں کوراہنمائی فراہم کی جا رہی تھی۔ وہاں ایک نوجوان قحبہ (Prostitute) بھی موجود تھی۔ شرکا سے جب اس کا تعارف کرایا گیا تو ایک مولوی صاحب نے بہت سخت لہجے میں اسے وعظ کرنا شروع کر دیا کہ تم جو کام کرتی ہو، وہ حرام اور گناہ ہے، اس لیے تمہیں چاہیے کہ اس پیشے کو فوراً ترک کر دو۔ اس کے جواب میں اس خاتون نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ اس پیشے سے وابستہ خواتین یہ پیشہ شوق سے نہیں، بلکہ غربت اور مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتی ہیں، اس لیے اگر آپ لوگ ان کفالت کا ذمہ اٹھا لیں تو وہ یہ پیشہ چھوڑ دینے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری یہ کہ آپ جیسی معزز اور شریفانہ شکل وصورت رکھنے والے حضرات دن کے وقت ہمیں گناہ اور ثواب کا وعظ کرتے ہیں اور رات کو ہماری خدمات حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس پہنچے ہوتے ہیں جو ایک منافقانہ روش ہے۔ خاتون کی اس بات پر مولوی صاحب ذرا ٹھنڈے ہوئے اور انھیں اندازہ ہوا کہ اس نوعیت کے سماجی مسائل اتنے سادہ نہیں ہوتے کہ انھیں محض وعظ کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ مسٹر رسل نے یہ واقعہ بطور مثال بیان کر کے کہا کہ ان کا ادارہ ائمہ اور خطبا کو اسی طرح مشاہدہ، تجربے اور میل جول کے ذریعے سماجی مسائل اور ان کی پیچیدگیوں سے عملی طور پر روشناس کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد میں انھیں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ (اس پر مجھے چند سال قبل عالمی ادارۂ صحت کی وہ رپورٹ یاد آ گئی جس میں ایشیائی ممالک میں جسم فروشی کے کاروبار اور اس کے ساتھ وابستہ خطرات اور بیماریوں کی نشان دہی کے باوجود یہ کہا گیا تھا کہ بعض ممالک میں اس کاروبار پر علی الفور قانونی پابندی عائد کرنے کی سفارش نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ غربت اور افلاس کا یہ عالم ہے کہ بے شمار خواتین محض جسم وجان کا تعلق قائم رکھنے کے لیے بھی اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہیں۔)

مسٹر نذر الاسلام نے اس پرمزید یہ اضافہ کیا کہ ایک امام صاحب جو پہلے اپنے خطبات جمعہ میں ایڈز کا شکار ہونے والے مریضوں کے خلاف سخت تقریریں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ لوگ حرام کاری اور گناہ میں ملوث ہیں، اس لیے انھیں سماج میں الگ تھلگ کر دینا چاہیے، LOIپروگرام کے ذریعے اس مسئلے سے قریبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ایک ماڈل خطبہ تیار کیا ہے جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کی راہ نمائی کی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں۔ (اس موقع پر مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جس میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک شخص نے رات کے اندھیرے میں نادانستہ صدقے کا مال ایک چور اور ایک بدکار عورت کو دے دیا اور پھر پتہ چلنے پر اپنے صدقے کے رائیگاں چلے جانے پر افسوس کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے خواب میں یہ بتایا گیا کہ اس کا صدقہ ضائع نہیں ہوا، کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس رقم سے اپنی ضرورت پوری ہو جانے کی وجہ سے چور، چوری سے اور بدکار عورت بدکاری سے باز آ گئی ہو۔) 

اختتامی سیشن میں ایشیا فاؤنڈیشن بنگلہ دیش کے نمائندہ مسٹر حسان نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے جب وہ ایشیا فاؤنڈیشن کے ساتھ وابستہ ہوئے اور انھیں LOI پروگرام کا علم ہوا تو وہ اس کی کامیابی کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار تھے اور ان کا خیال تھا کہ امام صاحبان خاصے قدامت پسند ہوتے ہیں اور صرف مذہبی موضوعات پر ہی بات کرنا پسند کرتے ہیں، اس لیے انھیں سماجی مسائل کے حوالے سے کوئی مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوگی، لیکن عملی تجربے کے بعد اب ان کے شکوک وشبہات باقی نہیں رہے۔ مسٹر حسان نے بتایا کہ انھوں نے ایک پروگرام کے شرکا کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تو وہ ان کے خیالات سن کر بے حد متاثر ہوئے، کیونکہ امام صاحبان ان مسائل میں گہری دلچسپی لے رہے تھے اور بہت اشتیاق اور گہرے مخلصانہ جذبے کے ساتھ معاشرتی اصلاح اور سماجی تبدیلی کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔

مسٹر رسل پے پے نے کہا کہ LOI پروگرام کے سلسلے میں انھیں عملی طور پر جس مشکل کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ مذہبی لوگوں اور لبرل طبقات کے مابین بداعتمادی کی فضا ہے، کیونکہ مذہبی لوگوں کے ذہنوں میں این جی اوز کا ایک عجیب وغریب تصور جاگزیں ہے اور لبرل طبقے مذہبی لوگوں کا نام سنتے ہی بدک جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش کا یہ تین روزہ دورہ وہاں کے مذہبی و لبرل طبقات کے باہمی تعاون واشتراک پر مبنی اس سماجی تجربے کے بارے میں جاننے کے حوالے سے بے حد مفید رہا اور مجھے ذاتی طور پر اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، البتہ ایک تشنگی محسوس ہوتی رہی کہ پورے پروگرام میں نہ تو منتظمین کی طرف سے اس کا اہتمام کیا گیا تھا کہ مہمانوں کو LOI پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والے ائمہ اور خطبا کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا جاے اور نہ شیڈول میں اس کی گنجائش نکل سکی کہ ازخود اس کا موقع پیدا کر لیا جائے۔ میری خواہش تھی کہ اس تجربے کے حوالے سے خود ائمہ اور خطبا کے خیالات و تاثرات نیز خدشات اور تحفظات براہ راست ان سے معلوم کیے جائیں تاکہ صورت حال کا معروضی تجزیہ کرنے میں مدد مل سکے، لیکن افسوس کہ اس کا کوئی مناسب موقع نہ مل سکا اور منتظمین کے مرتب کردہ بے لچک شیڈول میں رسمی علیک سلیک کے علاوہ ہم بنگلہ دیش کے ائمہ وخطبا سے کوئی تفصیلی تبادلہ خیال نہ کر سکے۔ میری تجویز ہوگی کہ اس نوعیت کے آئندہ پروگراموں میں یہ پہلو بطور خاص شیڈول کا حصہ بنایا جائے اور مقامی ائمہ وخطبا کے ساتھ مہمانوں کی ملاقات اور تبادلہ خیال کے لیے ایک مستقل سیشن وقف کیا جائے تاکہ انھیں ایک کھلے ماحول میں اس تجربے میں شریک تمام فریقوں کا زاویہ نگاہ سمجھنے اور اپنے تجزیے کی بنیاد مکمل اور براہ راست حاصل کردہ معلومات پر رکھنے میں مدد ملے۔

۱۱؍ جنوری کی شب کو یو ایس اے آئی ڈی کے نمائندہ مسٹر رسل پے پے نے مہمانوں کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مسٹر رسل پے پے کیتھولک ہیں اور کینیڈا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں کیتھولک مسیحیوں کی روایتی مذہبی اسپرٹ پوری طرح زندہ محسوس ہوئی اور انھوں نے متعدد مواقع اپنے کیتھولک ہونے کا ذکر بڑے تاثر کے ساتھ کیا۔ آخری ملاقات میں جب میں نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کا ای میل ایڈریس لے لیا ہے اور ان شاء اللہ ہم رابطے میں رہیں گے تو انھوں نے ’’ان شاء اللہ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں بھی بالکل یہی روایت ہے، کیونکہ میری والدہ کیتھولک تھیں اور جب میں تعلیم کے زمانے میں ہاسٹل سے انھیں فون پر بتاتا کہ اس ویک اینڈ پر میں ان سے ملنے آؤں گا تو وہ کہتیں: God willing، یعنی ان شاء اللہ۔ 

مسٹر رسل کی رہائش گاہ پر ہماری ملاقات کینیڈا ہی کے ایک دراز قد، ذہین اور خوش مزاج نوجوان Daniel Jones سے ہوئی۔ جب میری پہلی نظر ڈینئل پر پڑی تو وہ نیپال سے آئے ہوئے ہمارے نوجوان دوست نرجن رائے سے محو گفتگو تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر ان کی گفتگو میں مخل ہوتے ہوئے دونوں سے مصافحہ کیا اور مذاق کے طور پر ڈینئل سے پوچھا کہ کیا آپ بھی نیپال سے ہیں؟ وہ حیرانی سے بولے کہ کیا میں شکل سے نیپالی لگتا ہوں؟ میں نے کہا کہ مجھے بھی اسی بات پر حیرت ہے کہ آپ شکل سے تو نیپالی نہیں لگتے۔ میرے اس مذاق پر وہ بہت ہنسے اور ہمارے درمیان فوراً بے تکلفی کی فضا قائم ہو گئی۔ ڈینیئل نے بتایا کہ وہ سوشل سائنسز میں ایم فل کی ڈگری کے امیدوار ہیں اور اپنے مقالے کی تکمیل ہی کے سلسلے میں بنگلہ دیش آئے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے مقالے کا عنوان پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے "Men's Sexual Health" (مردوں کی جنسی صحت) کے موضوع پر ریسرچ کی ہے اور ان کا مقالہ www.icddrb.org پر دستیاب ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت دلچسپ اور حساس موضوع ہے تو ڈینئل نے اس کی تائید کی اور کہا کہ یہاں بنگلہ دیش میں انھیں لوگوں سے اس موضوع پر بات کرنے اور ان سے معلومات حاصل کرنے میں خاصی دقت پیش آئی، کیونکہ مشرقی معاشروں میں جنسی مسائل اور موضوعات پر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاتی۔ ڈینئل نے کہا کہ یہاں بے شمار لوگ شادی سے پہلے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں، موبائل فون پر جنسی تفریح کرتے ہیں اور مختلف جنسی مسائل اور بیماریوں کا شکار ہیں، لیکن اس پر گفتگو کرنے سے شرماتے ہیں۔ ڈینئل نے بتایا کہ انھوں نے نوجوانوں سے اس موضوع پر معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ کہ وہ کالج یا یونی ورسٹی میں کسی جگہ جا کر بیٹھ جاتے اور بہت سے نوجوان یہ دیکھتے ہوئے کہ ایک انگریز یہاں بیٹھا ہوا ہے، تجسس سے ان کے پاس آکر بیٹھ جاتے اور ان سے مختلف سوال کرنا شروع کر دیتے کہ تم یہاں کیوں بیٹھے ہو اور کس مقصد کے لیے بنگلہ دیش آئے ہو؟ اس طرح آہستہ آہستہ وہ ان نوجوانوں سے بے تکلفی پیدا کر لیتے جو مطلوبہ معلومات کے حصول کے لیے خاصی مدد دیتی۔ 

ڈینئل نے کہا کہ ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی نسل مختلف عوامل کے تحت زیادہ کھلے ذہن سے سوچتی ہے اور بہت سے سوالات پر ازسرنو غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ میں نے کہا کہ پاکستان میں بھی بلکہ کم وبیش ہر جگہ یہی صورت حال ہے۔ ڈینئل نے پوچھا کہ تم اس صورت حال کو کیسے دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ یہ ایک اچھی اور مثبت تبدیلی ہے۔ ایک مولوی کے منہ سے یہ جواب سن کر ڈینئل خاصے حیران ہوئے اور پوچھا کہ کیا تم اپنی بات کی وضاحت کرو گے؟ میں نے کہا کہ میری رائے میں اس وقت ہمیں سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں، ان کا ایک بڑا سبب بہت سے لگے بندھے خیالات (Stereotypes) ہیں جو ایک تیزی سے بدلتے ہوئے سماج میں اپنی معنویت کھو چکے ہیں، اس لیے اگر نئی نسل سوالات اٹھانے اور نئے سرے سے مسائل پر غور کرنے پر آمادہ ہے تو یہ یقیناًایک مثبت چیز ہے جسے اگر دانش مندی اور بصیرت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ درپیش مسائل کے حل میں کارآمد ثابت ہوگی۔

۱۴؍ جنوری کو ہم بنگلہ دیش سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارا سفر امارات کی ایئر لائن کے ذریعے سے تھا، چنانچہ ۱۴ اور ۱۵ جنوری کی درمیانی شب ہمیں دوبئی ایئر پورٹ پر گزارنا پڑی۔ دبئی ایئر پورٹ فی الواقع بہت بڑا ہے او ر سہولتوں اور انتظامات کے لحاظ سے اس کا شمار دنیا کے بہترین ایئرپورٹوں میں ہوتا ہے۔ ہم نے بارہ گھنٹے کو محیط اپنے قیام کا وقت زیادہ تر یہاں بنائی گئی وسیع وعریض مارکیٹ کی دوکانوں پر گھومتے پھرتے گزرا۔ دبئی ایک اسلامی ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دنیا کے ایک بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل ہے اور مشرق ومغرب کے عین وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے دبئی ایئر پورٹ دنیا بھر کے مختلف ملکوں، نسلوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی اجتماع گاہ ہے۔ ایک طرف روایتی طور پر اسلام کے ساتھ وابستگی کے تقاضوں کو نباہنے اور دوسری طرف دنیا بھر کے سیاحوں اور کاروباری لوگوں کے لیے کشش پیدا کرنے کی خواہش کی بدولت یہاں کی حکومتی پالیسیوں میں ’دین‘ اور ’دنیا‘ کا ایک عجیب امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اس ’امتزاج‘ کا نمونہ ایئر پورٹ پر بھی دیکھنے کوملتا ہے جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ مسجدیں موجود ہیں اور ہر نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر باقاعدہ اذان دی جاتی ہے جو ایئر پورٹ کے ہر کونے میں سنائی دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شراب کی بڑی بڑی دکانیں بھی پوری آب وتاب کے ساتھ سجی ہوئی ہیں جہاں دنیا بھر سے منگوائی جانے والی مختلف برانڈ کی مہنگی ترین اور نفیس ترین شرابیں سرعام میسر ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آ سکا کہ سوائے تجارتی مقاصد یا لبرل ازم کی نمائش کے، ایسی کون سی حقیقی مجبوری ہو سکتی ہے جس کے تحت ایک مسلمان ملک کے ایئر پورٹ پر ام الخبائث کی ایسی پر رونق دکانیں سجانے کی اجازت دی جائے۔ بنگلہ دیش کے ایئر پورٹ پر بھی یہی منظر دیکھنے میں آیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک کے ایئر پورٹ اس ’’کفر بواح‘‘ سے محفوظ ہیں۔ جناب ڈاکٹر یوسف فاروقی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اس خطے کے جغرافیائی محل وقوع اور خدا کے دیے ہوئے وسائل کے تناظر میں دنیا بھر کے تاجروں کی توجہ حاصل کرنے اور عالمی سرمایے کو کھینچ کر یہاں لانے کے لیے تو بہت منظم منصوبہ بندی کی ہے، لیکن افسوس ہے کہ عالمی روابط اور مشرق ومغرب کی قوموں کے اختلاط کے اس ماحول کو اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ میرے ذہن میں آیا کہ یہاں شراب کی دکانوں جتنا بڑا نہ سہی، لیکن کسی نمایاں جگہ پر اگر ایک ایسا ڈیسک قائم کیا جاتا جہاں دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن وحدیث اور کتب سیرت کے تراجم اور اسلامی تعلیمات کے تعارف پر مبنی لٹریچر مفت دستیاب ہوتا اور اس منصوبے کو حکومت امارات کی سرپرستی حاصل ہوتی تو شایدوہ خدا کے دیے ہوئے مال کے بارے میں ’فیم انفقہ‘ کے سوال کا بہتر جواب دینے کی پوزیشن میں ہوتی۔

دبئی ایئر پورٹ کی مختلف دکانوں پر کاروباری خندہ پیشانی چہرے پر سجائے مرد اور خواتین تو ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن مجھے یہاں ایک حقیقی خوش اخلاقی کا تجربہ بھی ہوا۔ ایک بک اسٹال پر کتابیں دیکھتے دیکھتے مجھے مشہور امریکی مستشرق جان ایل اسپوزیٹو کی کتاب ’’Who Speaks for Islam?‘‘ کا عربی ترجمہ بعنوان ’’من یتحدث باسم الاسلام؟‘‘ نظر پڑ گیا جو دار الشروق، مصر کے زیر اہتمام طبع ہوا ہے۔ کتاب پر قیمت ۴۸ درہم درج تھی، جبکہ میرے پاس کھلی رقم ۴۵ درہم کی تھی اور سردست کوئی بڑا نوٹ کھلا کرانے کا ارادہ نہیں تھا۔ میں کتاب کاؤنٹر پر کھڑی سیلز گرل کے پاس لے گیا، جس کا تعلق غالباً فلپائن یا کوریا سے تھا، اور اس سے پوچھا کہ کیا تم یہ کتاب مجھے ۴۵ درہم میں دے سکتی ہو؟ اس نے ذرا تردد کے بعد پوچھا کہ کیا تمھارے پاس صرف ۴۵ درہم ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے، اتنے ہی دے دو۔ میں نے جیب سے ۴۵ درہم نکال کر اسے دے دیے، لیکن جب اس نے مشین سے بل نکال کر میرے ہاتھ میں تھمایا تو وہ ۴۸ درہم کا تھا۔ مجھے اس پر سخت خلش محسوس ہوئی، کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ رعایت کر کے قیمت میں سے ۳ درہم کم کر دے گی، لیکن غالباً یہ اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ میں پلٹ کر اس کے پاس گیا اور کہا کہ بل پر تو قیمت ۴۸ درہم ہی درج ہے۔ اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تین درہم یقیناًتمھیں اپنے پاس سے ادا کرنا پڑیں گے جو مجھے ہرگز پسند نہیں۔ اس پر وہ ہنس پڑی اور تھوڑا سوچ کر کہنے لگی کہ ہمارے پاس حساب کتاب کی کمی بیشی کو پورا کرنے کے لیے کچھ زائد رقم موجود ہوتی ہے۔ تاہم میں مطمئن نہیں ہوا اور اس سے کہا کہ میرے پاس درہم تو نہیں، البتہ سو ڈالر کا نوٹ موجود ہے، تم اس میں سے یہ رقم منہا کر لو، لیکن اس نے انکار کر دیا اور اصرار سے کہنے لگی کہ تم کتاب لے جاؤ، یہ صرف تین درہم کی تو بات ہے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بڑے تردد کے ساتھ وہاں سے چلا آیا، لیکن تھوڑی دیر کے بعد سو درہم کا نوٹ لے کر دوبارہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اس میں سے تین درہم کاٹ لو۔ اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور بڑی معصومیت سے باربار It's OK, sir (بس ٹھیک ہے جناب) کہتی رہی۔ میں پھر وہاں سے واپس چلا آیا، لیکن کافی دیر کے بعد جب کچھ مزید خریداری کرتے ہوئے میرے پاس چند سکے جمع ہو گئے تو میں تین درہم کا قرض ادا کرنے کے لیے خاصا فاصلہ طے کر کے دوبارہ اسی بک اسٹال پر پہنچ گیا، لیکن اب کاؤنٹر پر ایک دوسری خاتون کھڑی تھی۔ میں نے صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے تین درہم اس کو دیے اور وہاں سے واپس آ گیا۔ 

۱۵ جنوری کو رات کے پچھلے پہر امارات کی ایئر لائن دوبئی سے روانہ ہو کر صبح ۸ بجے کے قریب اسلام آباد ایئر پورٹ پر اتری اور اس طرح یہ مطالعاتی سفر اختتام کو پہنچا۔ میں ان تمام اداروں اور حضرات کا شکر گزار ہوں جن کے تعاون اور انتظام سے اس تین روزہ مطالعاتی دورے میں شرکت اور استفادہ کا موقع میسر ہوا۔ بنگلہ دیش میں قیام ایک پر سکون اور دوستانہ ماحول میں رہا جس کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن بنگلہ دیش کے منتظمین کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے، جبکہ ایشیا فاؤنڈیشن، پاکستان کی سینئر پروگرام آفیسر محترمہ نادیہ طارق علی اور ان کے معاونین اس پہلو سے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے بعض الجھنوں کے باوجود بڑے خلوص اور دلچسپی کے ساتھ کوشش کر کے اس سفر کو ممکن بنایا۔

مشاہدات و تاثرات

(مارچ ۲۰۱۰ء)

Flag Counter