’’عافیہ‘‘ ۔ ایک تنقیدی جائزہ

مولانا حافظ محمد رشید

عالم اسلام کی بیٹی۔۔۔عافیہ صدیقی کی مظلومیت، بے بسی،لاچاری اور اذیت ناک قید پر جتنا بھی دکھ اور افسوس کیاجائے، کم ہے۔ عافیہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک انسانی سماج اورتہذیب کے منہ پر ابلیس کا ایک زوردار تھپڑ ہے۔ یہ اکیسویں صدی کے بھیانک ترین انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی قوم کی ایک نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ امریکہ کے وحشیانہ اور حیوانی سلوک کا اصل محرک کون سی بات بنی؟ عافیہ صدیقی کی زندگی، نظریات اورموومنٹ کی تفصیلات کیا رہی ہیں؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات ہر اس پڑھے لکھے انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں جو اکیسویں صدی کے بھیانک ترین المیوں میں سے اس خونچکاں المیے کے لیے اپنے دل میں درد اور سینے میں چبھن محسوس کرتا ہے۔

اکیسویں صدی کے فرعون اعظم کے بھیانک ترین مظالم اوراذیتوں کی خبروں نے عالم اسلام کے بچے بچے کے دل میں عافیہ صدیقی کے لیے بے پناہ ہمدردی اور رحم پیدا کردیا، اسے ایک ہیرو کا درجہ دے دیاکہ آخر اس مظلوم لڑکی میں کوئی تو ایسی خوبی اور طاقت تھی کہ جس سے اکیسویں صدی کافرعون اعظم بھی خوفزدہ ہوگیا۔ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے۔ تمام دنیا نے امریکی بزدلی اور نامردی کا یہ تماشا دیکھا کہ اس نے ایک کمزورعورت پر اپنی وحشیانہ طاقت کا زور آزمایا، لیکن اپنی تمام تروحشیانہ تعذیبوں اورحیوانی سلوک کے باوجود اس کمزور اور ناتواں عورت کا حوصلہ اور ایمان توڑنے میں ناکام رہے۔ اکیسویں صدی کی اس مظلوم ترین عورت کے مقابل اپنے آپ کو لاکر وقت کی سپر پاورنے ثابت کردیا کہ اس کا زور صرف نہتے، بے بس اور مجبورلوگوں پر چلتا ہے۔ یہ ظلم کرکے درحقیقت امریکہ نے تمام عالم کے لوگوں میں اور خود امریکی سماج کے شائستہ لوگوں میں اپنے خلاف بدترین نفرت اور حقارت کے بیج بوئے ہیں۔

اس مختصر سی تمہید کے بعد اب ہم اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک کتاب ’’عافیہ‘‘پر اپنی حقیر رائے کااظہار کرنا چاہتے ہیں۔ ہفت روزہ ضرب مومن میں تسلسل کے ساتھ اس کتاب کا اشتہار بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اشتہار سے متاثر ہوکر ہم نے کتاب خریدنے کا سوچا۔بُک سینٹرجاکر کتاب کے فہرست مضامین دیکھے تو بڑے متاثر ہوئے کہ کتاب واقعتا عافیہ صدیقی کی زندگی کے تفصیلی اور تحقیقی حالات پر مشتمل ہوگی، کیونکہ اشتہارمذکور میں موضوع سے متعلق بہت سے حقائق آشکارا ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن کتاب پڑھ کر ہمیں مایوسی ہوئی کہ ہم اخباروں کے ذریعے سے اپنی محترم بہن عافیہ صدیقی کے بارے میں جو کچھ جان چکے تھے، اس ضخیم کتاب نے ان معلومات میں کوئی قابل ذکراضافہ نہیں کیا۔

مصنف نے کتاب ناول کے انداز میں لکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہمیں نہایت افسوس سے عرض کرنا پڑرہا ہے کہ وہ نہ ہی ناول کے انداز کو نبھا سکے ہیں اور نہ ہی تحقیقی رپورٹ کا انداز اپنا سکے ہیں۔ کتاب میں بہت کچھ ہے۔۔۔معلومات ہیں۔۔۔ نصائح ہیں۔۔۔ خوبصورت اور کردار ساز احادیث کا بیان ہے۔۔۔کئی معلومات ہیں۔۔۔لیکن ہمیں پھر افسوس سے عرض کرنا پڑرہا ہے کہ یہ سب کچھ لکھنے کے لیے ’’عافیہ صدیقی ‘‘ کا عنوان نامناسب ہی نہیں، بڑی حد تک غیر متعلق بھی ہے۔ اگر بہت ہی رعایت کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب میں 10فیصدتذکرہ عافیہ صدیقی کاہے اور باقی 90 فیصد مصنف کی دیگر معلومات اور مطالعہ کو زبردستی ’’عافیہ ‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کردیاگیا ہے۔جس ادارہ سے مصنف کا تعلق ہے، ہم اس ادارہ سے عقیدتمندانہ تعلق رکھتے ہیں، لیکن تمام تر عقیدتمندی اور خوش گمانی کے باوجود ہمارا خیال ہے کہ مصنف نے اپنی متنوع معلومات کوقارئین تک پہنچانے کے لیے 21ویں صدی کے فرعون اعظم کے مظالم کا شکار جدید دورکی اس مظلوم ترین محترم خاتون کے نام’’عافیہ‘‘ کا عنوان اختیار کرکے عدل اور دیانت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اخباری کالموں کے طرز پر مبنی تبصروں،رپورٹوں اوراظہار خیال کے لیے امت کی اس مظلوم ترین بیٹی کے نام کا عنوان ایک نامناسب طرزعمل ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد جب ہم ضرب مومن میں شائع ہونے والے اشتہارکے اس دعویٰ ’’ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی پر پہلی تفصیلی کتاب جس میں بہت سے حقائق آشکارہوتے ہیں‘‘کو دیکھتے ہیں تو اس میں ہمیں حقیقت بیانی کی بجائے اشتہاربازی نظرآتی ہے۔

ایک ناول پڑھنے والے کو یہ کتاب ایک substandard صنف کا ناول لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت جلد کتاب میں اپنی دلچسپی کھودیتا ہے۔۔۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے شوقین قاری کویہ کتاب عافیہ صدیقی کی زندگی کے حقیقی رخ،نظریات اورمقاصدکی مستندتفصیلات سے عاری محسوس ہوتی ہے۔۔۔عافیہ صدیقی کی زندگی کی مستند معلومات اور تفصیلات کی کمی کو سطحی تبصروں اور سطحی جذبات کے اظہار سے پوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مصنف اسلام سے اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں، نوجوان ہیں، عالم دین ہیں،سلیس زبان میں مافی الضمیر کا اظہار کرنا جانتے ہیں۔۔۔ان کی یہ ساری خوبیاں ہمارے دل میں ان کے لیے احترام کو جگہ دیتی ہیں۔لیکن ان کی باتوں میں جس چیز کی ہم نے بے حد کمی اور فقدان کو محسوس کیا، وہ ہے تحقیقی انداز۔ہم دست بستہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے مغرب نے ہمیں پچھاڑدیا ہے۔ہم اپنی تمام تر خوش عقیدتوں،خوش فہمیوں اورمذہب پسندیوں کے باوجود اسلام اور عقل کے لوازمات یعنی تحقیق پسندی کی جان جوکھوں سے چونکہ دوربھاگتے ہیں، اس لیے دین اور دنیا دونوں میں شدید ترین زوال سے دوچار ہیں۔میں اپنے محترم دوست جناب انورغازی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے محترم! آپ کے پاس اگرکسی موضوع پر صرف دس پندرہ صفحات کا مواد ہے اور آپ اسے کھینچ تان کر چار سو صفحوں پر پھیلانا چاہتے ہیں تویہ نہ صرف ایک غیر علمی اورغیر سنجیدہ وطرزعمل ہے بلکہ اپنا اور قارئین کا وقت ضائع کرنے کے مترادف بھی ہے۔ ہمیں جہاں مصنف محترم کے مطالعہ میں پھیلاؤ پرخوشی ہوئی، وہاں ان کے مطالعہ میں گہرائی اوررسوخ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔سطحی تجزیوں،سطحی معلومات اور سطحی تبصروں سے مارکیٹ میں تو شاید جگہ بن جاتی ہو، یہ چیزیں عوامی نعروں اور عوامی تقریروں کی طرح تو شاید عوام میں پذیرائی حاصل کرلیتی ہوں، لیکن یہ چیز ٹھوس تعمیری کام میں قطعاً مفید ثابت نہیں ہوتی۔

مصنف محترم نے جہاں امت کی ایک نہایت مظلوم بیٹی پر اسلام دشمن درندوں کے ظلم و ستم پرآنسوبہائے ہیں، وہاں اسلامی اسکالر ہونے کے ناطے ان کا فرض بنتا تھا کہ وہ نہایت نصح اور خیرخواہی سے قارئین پر واضح کرتے کہ ایک مسلم خاتون کا اپنے وطن سے ہزاروں میل دوردجالی تہذیب کے نمائندہ ملک میں تعلیم کی غرض سے سفرکرکے جانا اور حیاسوز معاشرے میں مخلوط تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنا اسلام کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اورناجائز عمل ہے۔ اسلام ایک مسلمان کے لیے ایمان کے بعد اہم ترین قدریااثاثہ آبروکی حفاظت کوقرار دیتا ہے۔لہٰذا ایسی کسی تعلیم کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا جس کے حصول میںآبروکو خطرات لاحق ہوں۔اسلام اور دجالی تہذیب کا یہ وہ بنیادی فرق ہے کہ اسلام کے نزدیک تو آبروکی حفاظت اس کے اہم ترین مذہبی ومعاشرتی اقدار میں سے ہے جبکہ مغربی دجالی تہذیب ومعاشرت کی نمایاں پہچان اور امتیازی شان ہی آبروکی حفاظت کے تمام فکری وعملی عوامل کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔لہٰذا ہماری مظلوم بہن عافیہ صدیقی کے خونچکاں المیہ کے بعد عالم اسلام کے مسلمانوں کو جو اہم ترین فیصلہ کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی صورت میں اپنی عصمت مآب بیٹیوں کو تعلیم کے مقدس نام پر مغرب کے ناپاک دجالی معاشرے میں نہیں بھیجیں گے بلکہ اپنے ہی ملکوں میں خواتین کے لیے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے قائم کریں گے۔ اسے ایک اصول اور پالیسی کے طور پر تمام اسلامی ممالک کو اختیار کرنے کی دعوت دینی چاہیے۔

مصنف محترم نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ارفع کریم کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ دونوں قوم میں تعلیمی انقلاب لانے کی متمنی تھیں۔خاص طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں یہ انکشاف کیاگیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا نصاب تشکیل دیاتھا جس کے نتیجے میں صرف دس سال میں قوم میں تعلیمی انقلاب لایاجاسکتا تھا۔ہمیں اس دعویٰ میں ایک جھول محسوس ہورہا ہے کہ اگر ایسا کوئی تعلیمی نصاب واقعتا ہماری محترم ومظلوم بہن نے تشکیل دیاتھا تواسے منظرعام پر لانا چاہیے۔خاص طور پردین و ملت کا درد رکھنے والے افراد اوراداروں کو یہ نصاب بحث کے لیے پیش کیاجانا چاہیے۔اس نصاب کی تفصیلات کی عدم دستیابی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ یہ محض مصنف کادعویٰ ہے جس کے ثبوت کے لیے کوئی تحریری مواداور شہادت موجود نہیں ہے۔تعلیم کے میدان میں بحیثیت قوم ہم جس دردناک ترین اور بھیانک ترین دور سے گزررہے ہیں،ان حالات میں قوم میں تعلیم کے احیاکاایسا صالح منصوبہ قوم کی امانت بن جاتا ہے جس کا منظر عام پر لاناازبس ضروری ہوجاتا ہے۔

امید ہے کہ ہماری ان چندگستاخانہ گذارشات کو ایک ادنیٰ خیرخواہ کی خیرخواہی کے طور پر لیا جائے گا اور جن نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان پرضرور غور فرمایاجائے گا۔

مشاہدات و تاثرات