گجرات کا ’’بیت الحکمت‘‘

پروفیسر شیخ عبد الرشید

لائبریریوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی تہذیبِ انسانی۔اوراقِ تاریخ شاہد ہیں کہ قوموں کے عروج و زوال میں کُتب خانوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ٹیکسلا میں قدیم ترین لائبریری کے آثار ملے ہیں۔ یونان میں سقراط یا ارسطو کے ذاتی کتب خانے ہوں یا قدیم مصر کی عبادت گاہوں میں کتب کی موجودگی، شور بنی پال کی نینوا کے مقام پر مٹی کے الواح پر مشتمل لائبریری ہو یا قبل مسیح کے اسکندریہ اور پر گامم کے عظیم کتب خانے یا پھر قرونِ وسطیٰ کے شاندار اسلامی کتب خانے سب علم کے روشن میناروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے عہد عروج میں مساجد و مدارس ہی نہیں گھروں کے طاق بھی کتابوں سے سجے رہتے تھے۔ بغداد اور اُندلس کے گلی محلوں میں کتب فروشوں کی دکانیں عام تھیں نیز سرکاری اور نجی لائبریریوں کی بھی بھرما ر تھی۔ بلاشبہ قومیں کتب خانوں سے بنتی ہیں۔ جس طرح ہوا اور پانی کے بغیر جینا ممکن نہیں اسی طرح کتاب کے بغیر انسانی بقا اور ارتقا محال ہے۔ قوموں کی زندگی میں جیسے علاقائی دفاع کے لیے منظم فوجی چھاؤنیوں کا قیام لازم ہے بعینہٖ علم و دانش اور سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے لائبریریوں کا قیام وانتظام ضروری ہے۔ لائبریریاں نظریاتی و معاشرتی دفاع کا مؤثر ترین حصار ہی نہیں جہالت و ناخواندگی کے خلاف مضبوط قلعوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش آٹھ ہزار لائبریریاں موجود ہیں ۔سکھر کی جنرل لائبریری ۱۸۳۵ء میں قائم ہوئی۔ اسے ملک کی قدیم ترین لائبریری سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب سول سیکریٹریٹ کی لائبریری ۱۸۵۸ء میں قائم ہوئی۔ جبکہ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری بیت الحکمت ہمدرد یونیورسٹی کراچی میں ہے۔

۱۹۹۹ء میں مجھے اپنے تحقیقی مقالے کے لیے مواد کے حصول کے لیے ’’بیت الحکمت ‘‘کراچی جانے اور اس سے استفادے کا موقع ملا تو میں نے وہاں کے عملے کے تعاون اور ذخیرۂ کتب سے متاثر ہو کر حکیم محمد سعید کی قبر پر خصوصی دُعائے مغفرت کی جنہوں نے یہ مدینۃ الحکمت آباد کیا۔ گیارہ سال بعد ۱۳نومبر کو علم و تحقیق کے حوالے سے میرے اس خوشگوار تجربے کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو گئی جب میں گجرات کے کتاب دوست قلمکار عارف علی میر کے گھر میں قائم المیر ٹرسٹ لائبریری واقع میر سٹریٹ بھمبر روڈ گجرات پہنچا تو اُنہوں نے نہ صرف خوش دِلی سے جی آیاں نوں کہا بلکہ پر تکلف چائے سے تواضع بھی کی۔ علاقہ میں بجلی کی بندش کے باعث لائبریری دیکھنے سے پہلے عارف علی میر صاحب نے لائبریری کے قیام و کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مبینہ طور پر ’’خطہ یونان‘‘ کی شہرت رکھنے والے شہر گجرات میں روز بروز کھانے پینے کے ہوٹلوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے طوفان میں معدے کی بجائے دماغ سے سوچنے والوں کے لیے یہ کتب خانہ اُمید کا ایسا چراغ ہے جس کی روشنی میں عظمتِ رفتہ کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جلالپورجٹاں سے تعلق رکھنے والے علم دوست غضنفر علی میر کی وفات کے بعد زمیندار کالج کے انگریزی زبان و ادب کے سابق ہر دلعزیز اُستاد پروفیسر حامد حسین سید اور پنجابی زبان و ادب کے ممتاز ادیب و محقق شریف کنجاہی نے مسلسل چالیس دِن تک عارف علی میر کے ہاں اس لائبریری کے قیام کے لیے ’’چلہ ‘‘ کاٹا اور انہیں قائل کیا کہ ’’والد محترم کے ایصالِ ثواب‘‘ کے لیے سب سے مستحسن عمل یہ ہے کہ ان کی علم دوستی کو کتاب دوستی کی تحریک میں بدل کر صدقہ جاریہ کا روپ دے دیا جائے۔ وضع دار عارف علی میر کو یہ بات پسند آئی اور اُنہوں نے اپنے والد کی پہلی برسی ۲۹ جنوری ۱۹۹۷ء کو المیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام پہلی کتاب’’کلام حق الحیات‘‘شائع کرکے اس نیک کام کا آغاز کیا۔نیزلائبریری کے خواب کو بھی حقیقت کا روپ دیا۔ حامد حسن سید کو المیر ٹرسٹ کا پہلا سرپرست نامزد کیا گیا۔ انہی بزرگوں نے آہستہ آہستہ عارف علی میر کو اپنی گاڑی فروخت کرکے عمارت کی تعمیر پر آمادہ کیا۔ حامد حسن سید کی وفات کے بعد محترم شریف کنجاہی سرپرست بنے ان کے بعد آج کل پروفیسر ڈاکٹر نصیر الدولہ المیر ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ہیں تاہم اس ٹرسٹ کی روح رواں شروع سے ہی عارف علی میر رہے ہیں۔ ان کی شب و روز کاوشوں اور محبت و لگن سے المیر ٹرسٹ لائبریری آج گجرات میں علم و ادب اور تحقیق و تحریرکا ذوق و شوق رکھنے والوں کے لیے نعمت کدہ بن چکی ہے۔ 

عام طور پر لائبریری کا بنیادی مقصد ہر قاری کو اس کی ضرورت اور ذوق کے مطابق کتاب فراہم کرکے انسانی زندگی کو ترقی او ر بہتری دینا ہوتا ہے۔ المیر ٹرسٹ لائبریری میں دس ہزار سے زاید کتب موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر ریفرنس بکس ہیں۔ ادب، تاریخ ، سیاست ، معاشرت ، معیشت، تصوف سمیت متنوع موضوعات کا احاطہ کرنے والی کتب نمایاں ہیں۔ تاریخ گجرات او رگجراتی مصنفین کی عام و نایاب کتب بھی موجود ہیں۔ اس لائبریری میں مذاہب عالم کے حوالے سے بھی خصوصی کولیکشن ہے۔ اس لائبریری کا ایک اور قابل قدر پہلو ’’گوشہء شریف کنجاہی‘‘ ہے جس میں شریف کنجاہی جیسے عالمی شہرت کے حامل عالم و قلمکار کا نجی کتب خانہ رکھا گیا ہے جس میں موجود نادر و نایاب کُتب نے اس لائبریری کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔یہاں نہ صرف کتب کا ذخیرہ موجود ہے بلکہ لائبریری میں اس کی تنظیم و آرائش بھی دیدہ زیب ہے ۔ یہ کتب خانہ جس ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے اسے صرف عارف علی میر کے خاندان کی سرپرستی حاصل ہے۔ کسی اور ذریعے سے فنڈز اکٹھے نہیں کیے جاتے۔ اس لائبریری کی ممبر شپ فیس بھی نہیں رکھی گئی۔ کوئی بھی خواہشمند جب چاہے جتنا چاہے استفادہ کر سکتا ہے اُسے عارف علی میر کی ہنس مکھ شخصیت کی میزبانی کا بونس بھی ملے گا۔ 

المیر ٹرسٹ لائبریری کو کئی کتاب دوستوں سے پذیرائی بھی ملی ہے۔ شریف کنجاہی نے اپنے نجی کتب خانے کا بڑا حصہ خود اس لائبریری کے لیے وقف کیا ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ نے باقی ماندہ کتب بھی اس لائبریری کو عطیہ کر دیں۔ مرحوم ایم زمان کھوکھر نے ایک سو کتب کا تحفہ دیا۔ گوجرانوالہ کے شاعر و ادیب محمد امین خیال نے دو سو کتب جبکہ لاہور کے مرزا پرویز رضا نے ادارۂ ثقافت اسلامیہ کی شائع کردہ کتب کا سیٹ عطیہ کیا۔ جنہیں عارف علی میر نے کمال محبت سے نہ صرف لائبریری کی زینت بنایا بلکہ عطیہ کرنے والوں کے لیے تشکر کا اظہار بھی کیا۔ 

المیر ٹرسٹ لائبریری اس بات کا کُھلا ثبوت ہے کہ فردِ واحد نے ایک تنظیم اور ادارے کا کردار ادا کرکے قومی فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔ غیر سرکاری طورپر چلائی جانے والی یہ لائبریری اربابِ اقتدار و اختیار کی نظرِ کرم کی حقدار ہے۔ سرکار اس نیک کام کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا حصہ ڈال کر حوصلہ افزائی کرے۔علم دوست اور لائبریری سائنس کے شعبے کے افراد بھی عارف علی میر کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اس لائبریری میں جدید کیٹیلاگ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ لائبریری سائنس سے تعلق رکھنے والے افراد یاادارے اس لائبریری کی رضا کارانہ فہرست سازی کرکے صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ 

گجرات و گرد و نواح میں موجود نجی لائبریریوں کے حامل اگر اپنی زندگی میں ہی اپنے علمی ذخیرے کو محفوظ کرنے کے لیے اس ٹرسٹ لائبریری کو عطیہ کر دیں تو یہ کارِخیر ہوگا بصورتِ دیگر گجرات کے کئی نامور افراد کے ورثاء نے ان کے بعد بندرِبانٹ میں جس طرح ان کی کتب کو جلایا یا ردی میں فروخت کیا اسی کا ایکشن ری پلے نادر کتب کے ضیاع کا سبب بن جائے گا۔ کتابوں سے محبت کرنے والوں کے ذاتی کتب خانے اور کو لیکشنز نااہل اولاد کی وراثت نہیں ہوتے بلکہ ان پر اس علاقے کے کتب خانوں کا حق ہوتا ہے۔ 

اس لائبریری کی تمام تر افادیت اپنی جگہ مگر اس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کسی طور پر بھی قابل رشک نہیں۔ہمارے سماج میں کتب بینی کے شوق کے زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ہمیں نسلِ نو کو کتب بینی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایسی لائبریریوں کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ عارف علی میر خونِ دل دے کر رُخ برگِ گلاب نکھارنے کے لیے کوشا ں ہیں۔ اُنہوں نے فکری بیداری کے لیے گجرات میں اہم قلعہ تعمیر کیا اور جہالت کے خاتمے کے لیے اپنے حصے کا دیپ جلا رکھا ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ بیت الحکمت ہمدرد یونیورسٹی لائبریری کو دیکھا، مستفید ہونے پر حکیم سعید کے لیے دِل سے دُعا نکلی۔ المیر ٹرسٹ لائبریری گجرات دیکھی اور استفادہ کرکے دِل خوش ہوا اور دِل کی گہرائیوں سے دُعا نکلی کہ پروردگار عارف علی میر کو اس کارِ خیر کا اجر عظیم دے کہ اُنہوں نے گجرات میں ’’بیت الحکمت‘‘ قائم کر رکھا ہے۔ جہاں نہ صرف کتب جمع کی گئی ہیں بلکہ کتب کی فی سبیل اللہ اشاعت و تقسیم کی تحریک بھی جاری کی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ’’شام ہمدرد‘‘کی طرح یہاں ہفتہ وار محفلِ نقد و نظر اور علمی و ادبی سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام بھی شوق سے کیا جاتا ہے۔بلاشبہ المیرٹرسٹ لائبریری گجرات میں محض کتب خانہ ہی نہیں بلکہ فکری و قومی بیداری کی تحریک کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ 

تعارف و تبصرہ