امہات المومنین کے لیے حجاب کے خصوصی احکام

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

مسلمان معاشرے کا ایک اہم مسئلہ پردہ ہے۔ خواتین سے متعلق اس اہم مسئلے میں مسلمان (مرد اور عورتیں دونوں) افراط وتفریط کا شکار ہیں، یعنی ایک طرف انتہا پسندانہ (Extremist) نقطہ نظر ہے اور دوسری طرف مسئلے کی اہمیت کو گھٹانے یا اس سے صرف نظر کرنے کا رجحان ہے۔ یہ مسئلہ سارے مسلمان ممالک کا ہے اور ہر ملک کے مسلمانوں میں اس موضوع پر نقطہ ہائے نظر کا اختلاف ہے، لیکن برصغیر کا ایک اسلامی ملک پاکستان اور دوسرا غیر اسلامی ملک جہاں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں یعنی بھارت یا انڈیا، وہاں ا س بارے میں بڑے انتہا پسندانہ نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ برصغیر کا دوسرا مسلمان ملک یعنی بنگلہ دیش بڑی حد تک اس اختلاف سے محفوظ ہے۔ وہاں عام طور پر مسلمان عورتیں روایتی پردہ نہیں کرتی ہیں، اگرچہ وہ خاصی دین دار ہوتی ہیں۔ اس لیے ہماری یہ تحریر پردے کے قرآنی احکام، ان کی حقیقی یا غیر حقیقی تفسیر وتاویل اور پاکستانی معاشرے کی منظر کشی اور تجزیے پر مبنی ہے۔

یہ بات قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے والے ہر شخص پر آشکارا ہے کہ اس میں صرف عقیدۂ توحید وآخرت اور عبادات و اخلاقیات سے متعلق ہی احکام خداوندی نہیں، بلکہ اس میں ہماری زندگی کے ہر پہلو سے متعلق احکام ہیں اور انھی میں ہماری اجتماعی زندگی یعنی Social Life یا رہن سہن سے متعلق احکام بھی ہیں۔ خواتین کا پردہ اجتماعی زندگی ہی کا ایک پہلو ہے اور قرآن نے اس پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے، بلکہ اس پرخاصی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

پردے کے احکام قرآن کریم کی دو سورتوں، سورۂ احزاب اور سورۂ نور میں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں محققین تفسیر کے اقوال کے مطابق علی الترتیب ۵ھ اور ۶ھ میں نازل ہوئیں، لیکن سورۂ احزاب کی بعض آیات جیسے آیات ۲۸، ۲۹ جنھیں آیات التخییر بھی کہا جاتا ہے، قدیم ترین مفسر امام طبری کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قصہ ایلاء (طلاق کی ایک قسم) کے بعد نازل ہوئیں ، اور یہی بات حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں کہی ہے اور انھوں نے قصہ ایلاء وتخییر سن ۹ھ میں بتایا ہے۔ علامہ شبلی نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی یہی تاریخ لکھی ہے۔ اس سے قبل کہ ہم اس مسئلے پر گفتگو کریں، اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ عربوں میں اسلام سے قبل پردے کا وجود نہ تھا۔ عورتیں میلوں ٹھیلوں (سوق عکاظ، سوق ذو المجاز وغیرہ) میں آزادانہ شرکت کرتیں اور جنگ کے موقعوں پر مردوں کے ساتھ ہوتی تھیں۔ لڑائی میں تو حصہ نہ لیتی تھیں لیکن دف بجا بجا کر فوجی ترانے گاتیں اور مردوں کی ہمت بڑھاتی تھیں، جیسا کہ غزوۂ احد کے موقع پر ابوسفیان کی بیوی ہند اور دوسری عورتوں نے کیا او رجن کا گانا سیرت النبی کی کتابوں میں موجود ہے جس کے ذکر کا یہاں موقع نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عربوں کی سوسائٹی ایک مخلوط (Mixed) سوسائٹی تھی اور اس میں عدم اختلاط (Segregation) کا وجود نہ تھا، بلکہ پوری طرح یہ ایک غیر مخلوط Segregated معاشرہ تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یثرب (مدینہ) ہجرت کرنے اور وہاں اسلامی ریاست کے قیام اور اسلامی سوسائٹی کے وجود میں آنے کے بعد رفتہ رفتہ زندگی کے مختلف معاملات، شادی، طلاق، عدت، میراث، وصیت یعنی خاندان سے متعلق احکامات، حرام وحلال کھانے (گوشت)، حرمت شراب وقمار، چوری اور قتل عمد (Pre-meditated murder) اور قتل خطا کی سزا ودیت (Blood Money) اور تجارت وغیرہ سے متعلق احکام کے بعد یکے بعد دیگرے پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں پردے کے احکام نازل ہوئے۔ پردے کے لیے عربی لفظ حجاب ہے جس کے معنی چھپنا، چھپانا، آڑ، اوٹ اور دیوار اور پردہ ہیں۔ قرآن مجید میں حجاب کا لفظ ان مختلف معانی میں آیا ہے، لیکن عام طور پر حجاب یا پردہ سے مراد خواتین کا غیر مردوں کے سامنے اپنے آپ کو چھپانا یا Cover کرنا ہے اور یہاں ہم اسی پر گفتگو کریں گے۔ 

اس ضمن میں یاد رکھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ مرد اور عورت، دونوں ہی اللہ کی مخلوق ہیں، اس کے بندے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ وما ربک بظلام للعبید (سورۃ فصلت: آیت۴۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ضمن میں جو احکام قرآن پاک میں بیان کیے ہیں اور جن کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض احادیث میں فرمائی ہے، ان میں عورتوں پر ظلم کاشائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ 

دوسری بات یہ کہ اسلام ’’دین وسط‘‘ ہے،یعنی معتدل دین جس میں نہ تو افراط Extremism)) کو پسند کیا گیا ہے اور نہ تفریط Laxity)) کو، بلکہ ہر معاملے میں میانہ روی کوبہتر سمجھا گیا ہے ،حتیٰ کہ صحیح احادیث کی رو سے نفلی عبادات میں بھی میانہ روی کاحکم دیا گیا ہے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ وعفیف chaste)) سوسائٹی قائم کرنا چاہتاہے جس میں مردوزن دونوں ہر قسم کی بری نظر اور بد کرداری بلکہ بدنامی سے محفوظ رہیں۔ پردے کے تمام احکام اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔

پردے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن میں پردے کے کچھ احکام تو ایسے ہیں جن کا تعلق امہات المومنین یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہے اور دوسرے احکام وہ ہیں جو عام مسلمان خواتین سے متعلق ہیں اور بعض حکم ایسے ہیں جن میں دونوں مشترک ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے پردے سے متعلق سورۃ احزاب کی ایک آیت نمبر ۳۲ ہے جس کاترجمہ یہ ہے:

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولَی وَأَقِمْنَ الصَّلَاۃَ وَآتِیْنَ الزَّکَاۃَ وَأَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنَّمَا یُرِیْدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْراً 
’’اور اپنے گھروں میں رہو، اور جیسے عہد جاہلیت اولیٰ میں عورتیں زیب وزیب کے ساتھ باہر نکلتی تھیں، ایسے نہ نکلا کرو اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیاکرو، اور اللہ او ر اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت (النبی) تم سے آلودگی کو دور کردے اور تم کو بہت اچھی طرح پاک وصاف کر دے۔‘‘

اس سے قبل کی چار آیتوں یعنی آیات ۲۸ تا ۳۱ میں جو احکام ہیں، وہ خاص ازواجِ مطہرات سے متعلق ہیں اور کسی طرح بھی عام خواتین پر ان کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کے بعد جو آیت ۳۳ ہے، اس کاتعلق بھی خاص اہل بیت النبی یا ازواجِ مطہرا ت سے ہے، کیونکہ اس میں ہے:

وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلَی فِیْ بُیُوتِکُنَّ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ وَالْحِکْمَۃِ إِنَّ اللَّہَ کَانَ لَطِیْفاً خَبِیْراً 
’’اور یاد رکھو اللہ کی ان آیات اور حکمت ودانائی کی ان باتوں کو جو تمھارے گھر میں تلاوت کی جاتی اور بتائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باریک بیں اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

لیکن بعض مفسرین نے قدیم زمانے سے مذکورہ آیت نمبر ۳۲ کے پہلے جملے ’وقرن فی بیوتکن‘ (اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو) کا اطلاق عام مسلمان خواتین پر کر کے عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں محبوس کر دیا، حالانکہ اسی آیت کے آخری ٹکڑے میں بہت وضاحت کے ساتھ مذکورہے کہ ’’اللہ تم اہل بیت سے آلودگی دور رکھنا اور تم کوپاکیزہ رکھنا چاہتا ہے۔‘‘ اور قدیم وجدید تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد امہات المومنین (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات) اور سیدۃ فاطمہؓ، حسنؓ وحسینؓ اور سیدنا علیؓ ہیں۔ 

یہاں اس بات کی توضیح بے محل نہ ہوگی کہ کوئی شک نہیں کہ یہ اور اس سے قبل کی دیگر آیات امہات المومنین کے بارے میں نازل ہوئیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے اس آخری جملے کی وضاحت کرتے ہوئے اس میں اپنے مذکورہ بالا ’’اہل بیت‘‘ کوبھی شامل کیا تھا اور یہ اس صحیح حدیث سے ثابت ہے جسے دس صحابہؓنے روایت کیا ہے جن میں دو ازواج مطہرات، حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ بھی شامل ہیں۔ 

عورتوں کو چار دیواری میں رکھنے کے دفاع میں جو کچھ بھی کہا جائے وہ اپنی جگہ، لیکن اس کا حکم قرآن میں نہیں ہے اور ازواج مطہرات پر قیاس کرتے ہوئے اس حکم کو تمام مسلمان خواتین کے لیے عام کرنا کسی طرح درست نہیں، کیونکہ سورۃ احزاب کی انہی آیتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ ازواج مطہرات میں سے اگر کوئی بدکرداری کرے تو ان کو آخرت میں دگنی سزا دی جائے گی اور اگر وہ اطاعت شعاری اور نیکوکار ی کریں گی تو ان کو دگنا اجر دیا جائے گا (سورۃ احزاب ،آیت ۳۰،۳۱) جبکہ عام مسلمانوں کو کسی گناہ کی سزا دگنی دینے کا ذکرقرآن میں نہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہو گئی کہ دگنی سزا وجزا کے پیش نظر سورۃ احزاب کی ان مذکورہ آیات کا تعلق عام خواتین سے نہیں، اس لیے ان آیا ت کا اطلاق ان پر کرنا درست نہیں۔

اسی سورۃ احزاب کی آیت نمبر ۵۹ کااطلاق بھی غلط طور پر عام مسلمان خواتین پر کیا گیا ہے۔ ہر چند کہ اس میں کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوں، لیکن آیت قرآنی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے متعلق ہے اور اس کی یہی تفسیر قدیم عرب مفسرین نے کی ہے، بلکہ اس آیت کا شان نزول بھی یہی بتایا گیا ہے کہ حضرت عمرکی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی آیت نازل فرما دے جس میں لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر جانے اور بیٹھنے کی ممانعت ہو۔ آٹھ سطروں کی اس طویل آیت کے ترجمہ سے قبل یہاں اتنا کہنا ضروری ہے کہ غزوۂ احزاب (یعنی غزوہ خندق) کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کانکاح حضرت زینب بنت جحش (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی زاد بہن) سے ہوا تو آپ نے اس موقع پر دعوت ولیمہ کی۔ بہت سے صحابہ بن بلائے آپ کے گھر میں داخل ہوگئے اور بعض کھانا (گوشت وروٹی) کھانے کے بعد اندر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جو فطری شرم وحیا اور لحاظ تھا، اس کی بنا پر آپ لوگوں کی طرف پشت کیے ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ حضور اس طرز عمل سے ناخوش تھے، لیکن آپ نے کچھ کہنا پسند نہیں فرمایا اور اس وقت تک پردے کی آیت نہیں اتری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مشکل کو آسان فرما دیا۔ سورۃ احزاب کی یہ آیت اتری جس کا ترجمہ ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَن یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَیْْرَ نَاظِرِیْنَ إِنَاہُ وَلَکِنْ إِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ یُؤْذِیْ النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِیْ مِنکُمْ وَاللَّہُ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ
’’اے اہل ایمان! نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہیں چلے جایا کرو، نہ کھانے کا وقت تکتے رہو، ہاں اگر تمھیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھا لو تو چلے جاؤ، بیٹھ کر باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمھارا یہ عمل نبی کو تکلیف دیتاہے مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے، اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتاہے۔ نبی کی بیویوں سے اگر تمھیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا وکرو۔ یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے مناسب طریقہ ہے۔‘‘ (سورۃ احزاب ،آیت ۵۳)

یہ آیت اپنے طرز خطاب اور اپنے سبب نزول کی روشنی میں واضح طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق ہے، لیکن اس کے آخری جملے ’’اورجب ان (ازواج مطہرات)سے کچھ مانگا کرو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو‘‘ کاحکم بعد کے مفسرین نے ساری خواتین کے لیے عام کر دیا۔

دین و حکمت

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸