دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب

پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں: ایک داعی اور دوسرا مدعو۔تاہم دعوت کی کامیابی کامکمل انحصار داعی کی ذات پر ہے کیونکہ دعوت کے مضامین خواہ کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں، اگر داعی کا طریقِ دعوت ڈھنگ کانہیں ہے اور وہ مخالف کو حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کرکے بات سمجھانے کی قدرت نہیں رکھتا تواس کی کامیابی کاکوئی امکان نہیں ہے۔جو بات ایک پہلو سے سمجھ میں نہیں آتی، وہی بات جب دوسرے انداز سے سامنے آتی ہے تو دل میں اتر جاتی ہے۔مبلغ کی کامیابی صرف اس بات میں ہے کہ دوست دشمن سبھی پکار اٹھیں کہ اس نے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں تصریف آیات اسی چیز کانام ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَکَذَالِکَ نُصَرِّفُ الْاٰٰیَاتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَیِّنَہ‘ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (الانعام،۶:۱۰۵)

’’اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسالیب سے پیش کرتے ہیں،تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے اور وہ بول اٹھیں کہ تم نے اچھی طرح پڑھ کر سنادیا اور تاکہ ہم جاننے والوں کے لیے اچھی طرح واضح کردیں‘‘۔

قرآن مجید کے اولین مخاطب رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ ہیں،اس لیے قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے صحابہ کرام ؓ کو دعوت کے طریقِ کار اور اسالیب کی تعلیم دی۔یہ ایک ایسی انفرادیت ہے جو اسلام کے علاوہ کسی بھی الہامی وغیر الہامی مذہب کوحاصل نہیں کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو باقاعدہ دعوت وتبلیغ کے اصول پوری شرح وبسط سے بتائے ہوں۔سید سلیمان ندویؒ رقمطراز ہیں:

’’یہ نکتہ کہ کس طرح لوگوں کو سچائی کے قبول کرنے کی دعوت دینی چاہیے،دنیا میں پہلی دفعہ محمد رسول اللہ ﷺکی زبان وحی ترجمان سے ادا ہوا۔وہ مذہب بھی جو الہامی اور تبلیغی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں،یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے صحیفوں نے ان کے لیے تبلیغ کے اہم اصول کی تشریح کی ہے لیکن صحیفہ محمدی ﷺنے نہایت اختصار لیکن پوری تشریح کے ساتھ اپنے پیروؤں کو یہ بتایا کہ پیغامِ الٰہی کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان کو قبولِ حق کی دعوت کس طرح دی جائے‘‘ (سیرت النبی ﷺ ،۴/۹۱)

قرآنِ مجید نے اپنے مخصوص معجزانہ اسلوب کے مطابق دعوت کے اصول ان الفاظ میں بیان فرمائے ہیں:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (النحل، ۱۶:۱۲۵)

’’(اے پیغمبر)لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤاور بہت ہی اچھے طریقے سے ان سے مناظرہ کرو‘‘

اس آیت مقدسہ میں دعوتِ دین کے تین بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں:حکمت،موعظہ حسنہ اور مجادلہ بطریقِ احسن۔اگر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کامطالعہ داعی اسلام کی حیثیت سے کیا جائے تو یہ بات بڑی واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے کہ آپ ﷺنے دعوت وتبلیغ کے فریضہ کو ادا کرتے وقت ان اصولوں سے سرِمو انحراف نہیں کیااورآپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ کے دعوتی کردار میں بھی انہی اصولوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔ایک غیر تربیت یافتہ داعی دعوتِ دین کے لیے کس قدرغیر موزوں ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ فرماتے ہیں:

’’ایک نادان اور غیر تربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے اس دعوت کے دشمنوں سے بھی زیادہ ضرر رساں ہوسکتا ہے۔ اگر اس کے پیش کیے ہوئے دلائل بودے اور کمزور ہوں گے، اگر اس کا اندازِ خطابت درشت اور معاندانہ ہوگا،اگر اس کی تبلیغ اخلاص وللہیت کے نور سے محروم ہوگی تو وہ اپنے سامعین کو اپنی دعوت سے متنفر کردے گاکیونکہ اسلام کی نشرواشاعت کاانحصار تبلیغ اور فقط تبلیغ پر ہے ۔اس کو قبول کرنے کے لیے نہ کوئی رشوت پیش کی جاتی ہے اور نہ جبر واکراہ سے کام لیا جاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ایمان،ایمان ہی نہیں جس کے پسِ پردہ کوئی دنیوی لالچ یا خوف وہراس ہو۔ا س لیے اللہ تعالیٰ نے خو د اپنے محبوب مکرم کودعوتِ اسلامی کے آداب کی تعلیم دی‘‘۔ (’’ضیاء القرآن‘‘،۲/۶۱۷)

گویا دعوت کی کامیابی میں مرکزی کردار داعی کا ہے۔ داعی جس قدر تربیت یافتہ اور انسانی نفسیات کاعالم ہوگا، اسی قدر اس کی دعوت مؤثر ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مؤثر ہونے کی ایک اہم وجہ آپ ﷺ کا ذاتی کردار تھا تو دوسری بنیادی وجہ آپ ﷺ کا اسلوبِ دعوت تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ مخاطبین کی ذہنی استعداد ،میلانات،رجحانات اور ان کے خاندانی وعلاقائی پسِ منظر کو سامنے رکھ کر دعوت کاکام کیا۔سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا کوئی متعین طریقِ دعوت نہ تھابلکہ مخاطبینِ دعوت کے تبدیل ہونے کے ساتھ ہی آپ ﷺ کا اسلوبِ دعوت بھی تبدیل ہوجاتا تھا۔ایک جاہل،ان پڑھ اور اجڈ مخاطب کو دعوت دینے کا انداز پڑھے لکھے اور شہر کے رہنے والے فرد سے مختلف ہوتا تھا۔رسول اللہ ﷺ کی دعوتی زندگی کا مطالعہ ہر داعی اسلام کے لیے اس حوالے سے دلچسپ بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ مخاطب کی صلاحیت کو پیشِ نظر رکھ کر اس کودعوت پیش کی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ سے ملنے کے بعد لوگ مطمئن ہوکر واپس جاتے تھے۔

دعوتِ دین کا یہ وہ اسلوب ہے جو اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے حبیب مکرم ﷺ کو سکھایااور آپ ﷺنے صحابہ کرام ؓ کو دعوتِ دین کے ان ہی مختلف اسالیب کی تعلیم دی اور پھر صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایات اور طرزِ عمل کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا۔ابو وائلؓ سے روایت ہے:

’’عبداللہؓ بن مسعود لوگوں کو ہر جمعرات کو وعظ سنایاکرتے تھے۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمنؓ! میری خواہش ہے کہ آپؓ روزانہ وعظ کیا کریں،تو انہوں نے فرمایا میں ایسا اس وجہ سے نہیں کرتا کہ کہیں تم پر بوجھ نہ بن جاؤں۔میں بھی اسی طرح ناغہ کرکے تمہیں نصیحت سناتا ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ ہم کو وقفہ کرکے نصیحت سنایا کرتے تھے تاکہ ہم بیزار نہ ہوجائیں‘‘۔

اس روایت سے بہر حال یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہ کرامؓ دعوت وتبلیغ میں ہمیشہ رسول اللہﷺ کی ہدایت اور طرزِ عمل کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔دعوت وتبلیغ میں دعوت کے پیش کرنے کا ڈھنگ اور اسلوب کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جب بھی کسی داعی کو کسی قوم ،قبیلے یا علاقے کی طرف روانہ فرمایا تو وہاں کے لوگوں کے حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کو دعوت کے کسی نہ کسی اسلوب کی بھی تعلیم ارشاد فرمائی ۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

اصول تدریج کی تلقین 

رسول اللہ ﷺنے ہمیشہ دعوت وتبلیغ میں تدریج کا لحاظ رکھااور دوسرے مبلغین اسلام کو بھی اصولِ تدریج کی تلقین فرمائی۔حکمتِ تبلیغ کے ضمن میں داعی کا فرض ہے کہ تدریج کے پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔ تدریج کا مطلب یہ ہے کہ داعی یک بارگی شریعت کے تمام احکامات کا بوجھ مخاطب کی گردن پر نہ لاد دے بلکہ آہستہ آہستہ اس کے سامنے سارے احکام پیش کرے۔ تدریج کا یہ اصول فرد اور قوم دونوں کے لیے ضروری ہے۔ دین ایک نظام ہے اور اس نظام کو اگر حکیمانہ ترتیب سے پیش نہ کیا جائے تو مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔اسی حقیقت کی طرف ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’قرآن میں سب سے پہلے جو چیز نازل کی گئی، وہ مفصل کی سورتوں میں سے ایک سورۃ ہے،جس میں جنت اور جہنم کا ذکرہے۔یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کے دائرے میں آگئے تب حلال وحرام کے احکام نازل ہوئے۔اگر بالکل شروع ہی میں حکم آجاتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم دیاجاتا کہ زنا نہ کرو تولوگ کہتے ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے‘‘ (بخاری، کتاب فضائل القرآن ،باب تالیف القرآن،ح:۴۹۹۳،ص:۸۹۶)

اصول تدریج میں داعی احکام کی ترتیب کیارکھے گا ؟اس کی وضاحت بھی خود زبانِ رسالتﷺ نے فرمادی کہ سب سے پہلے توحیدو رسالت کی دعوت دی جائے، اس کے بعد عبادات۔ عبادات میں بھی اہم پھر اہم کے اصول کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔چنانچہ رسول اللہﷺنے حضرت معاذؓ بن جبل کو جب یمن دعوت وتبلیغ کے لیے بھیجا تو ان الفاظ میں تلقین فرمائی:

’’تم عنقریب اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس پہنچوگے۔جب تو ان کے پاس پہنچے تو سب سے پہلے انہیں یہ دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں۔جب وہ اس میں تیری اطاعت کرلیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان پر دن رات کی پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور جب وہ تیری یہ بات مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ فرض کیا ہے۔یہ صدقہ ان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دیا جائے گااور جب وہ اس کو تسلیم کر لیں تو دیکھو چن چن کر ان کا عمدہ مال نہ لے لینا اور ہاں مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں‘‘

(صحیح البخاری ،کتاب المغازی ،باب بعث ابی موسیٰ ؓ ومعاذ ؓ الی الیمن،ح :۴۳۴۷، ص:۷۳۶۔ 

ایضاً ح : ۱۴۹۶،۱۳۹۵،۱۴۵۸،۷۳۷۲۔ مسند احمد،مسند عبداللہ بن عباس ،ح:۲۰۷۲،۱/۳۸۶)

رفق ونرمی کی تلقین

داعی دعوت کا کوئی بھی اسلوب اختیار کرے، جب تک وہ مخاطب سے نرمی اور خیر خواہی کے جذبہ سے بات نہیں کرے گا، اس کی دعوت مؤثر نہیں ہوگی۔ سختی اور شدت مخاطب کے دل میں نفرت اور عداوت کے جذبات پیدا کرتی ہے جس سے مخاطب اپنی ضد پر اڑ جاتا ہے۔نتیجتاًدعوت کاسارا فائدہ اور نصیحت کا سارا اثر زائل ہوجاتاہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو اپنے بدترین مخالفین سے بھی نرم انداز میں گفتگو کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے باغی کے سامنے پیغامِ ربانی لے کرجانے کاحکم دیا تو یہ ہدایت بھی فرمائی:

اِذْھَبَآاِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہ‘ طَغیٰ Oفَقُوْلَا لَہ‘ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہ‘ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشی (طٰہٰ ،۲۰:۴۳،۴۴)

’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ ،اس نے سرکشی کی ہے تو اس سے نرم گفتگو کرنا،شاید وہ نصیحت قبول کرے یا(اللہ سے)ڈرے‘‘۔ 

دعوت وتبلیغ میں رفق ونرمی کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی کہ نہ انبیاء سے بہتر کوئی داعی ہوسکتاہے اور نہ فرعون سے بڑھ کر کوئی سرکش اور باغی ہوسکتا ہے۔اگر ایسے مجرم کے سامنے وعظ ونصیحت کرتے وقت نرمی اختیار کرنے کاحکم ہے تو عام مجرم اور گمراہ لوگوں سے تو کہیں بڑھ کر نرمی اختیار کرنی چاہئے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مبلغ صحابہ کرامؓ کو ہمیشہ نرمی اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔حضرت طفیلؓ بن عمرونے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ ﷺنے ان کو اپنی ہی قوم کی طرف مبلغ بنا کر بھیجا۔چنانچہ وہ لوگوں کو مسلسل دعوت دیتے رہے لیکن قوم انکار کرتی رہی۔بالآخروہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ قبیلہ دوس نے مجھے ہرا دیا۔ میں نے ان کو بہت دعوت دی لیکن وہ ایمان نہیں لائے۔ آپ ﷺ ان کے لیے بددعا کریں۔رسول اللہ ﷺنے بددعا کرنے کے بجائے قبیلۂ دوس کے لیے یہ دعا فرمائی:

اللّٰھم اھد دوسا،ارجع الی قومک فادعھم وارفق بھم (ابن ہشام، ’’السیرۃ النبویۃ‘‘، ۴۲۲۱۔ ابنِ اثیر،’’اسد الغابہ‘‘،تذکرہ طفیلؓ بن عمرو،۳/۵۵)

’’اے اللہ دوس کو ہدایت عطا فرما(طفیلؓ بن عمرو سے فرمایا)تم اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ ان کو دعوت دیتے رہو لیکن ان کے ساتھ نرمی اختیار کرو‘‘۔

چنانچہ مآخذ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم کردہ اسلوب کو اختیار کرنے کا نتیجہ انتہائی شاندار نکلا۔ کثیر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ۷ ھ میں جب حضرت طفیلؓ بن عمرو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے ساتھ قبیلہ دوس کے ستر یا اسی گھرانوں کے لوگ تھے۔ (ابنِ ہشام،قصۃ اسلام الطفیلؓبن عمرو الدوسی ،۱/۴۲۳۔ اسد الغابہ، تذکرہ طفیلؓ بن عمرو،۳/۵۵)

رسول اللہ ﷺنے عمروؓ بن مرہ الجہنی کو اپنے قبیلہ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجا تو ان کو دعوت وتبلیغ کا یہ اسلوب تعلیم فرمایا :

علیک بالرفق والقول السدید،ولا تکن فظا ولا متکبرا ولا حسودا (ابن کثیر، ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘، ۲/۳۵۱)

’’نرمی سے پیش آنا،صحیح اور سچی بات کرنا،سخت کلامی اور بدخلقی سے پیش نہ آنا،تکبر اور حسد نہ کرنا‘‘

دعوت وتبلیغ میں حسنِ اخلاق اور نرمی کا اسلوب کس قدر مؤثر ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالدؓ بن ولیدکو دعوت وتبلیغ کے لیے یمن روانہ فرمایا،حضرت خالدؓ بن ولیدنے بعض لوگوں کے ساتھ سختی کی جس کی وجہ سے چھ ماہ مسلسل کو شش کے باوجود بھی لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو واپس بلالیااور حضرت علیؓکوبطور مبلغ روانہ فرمایا۔ابنِ اثیرکا بیان ہے:

’’رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن بھیجا اور ان سے قبل آپ ﷺ خالدؓ بن ولیدکو یمن دعوت وتبلیغ کے لیے بھیج چکے تھے لیکن ان لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا۔لہذا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو روانہ کرتے وقت نصیحت کی کہ وہ خالدؓ اور ان کے اصحاب کی وجہ سے (اہلِ یمن کے ساتھ)ہونے والی بدسلوکی اور نقصان کاتاوان ادا کریں (ان لوگوں سے نرمی کریں)چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیااور لوگوں کو رسول اللہﷺ کا خط پڑھ کر سنایاتو قبیلۂ ہمدان سارے کاسارا ایک ہی دن میں مسلمان ہوگیا‘‘۔ (الکامل فی التاریخ، ۲/۲۰۵)

وہ لوگ جو چھ ماہ سے قبولِ اسلام سے انکاری تھے، جب ان کے ساتھ نرمی کا اسلوب اختیار کیاگیا تو انہوں نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔ان چند روایات سے نرمی کے اسلوب کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔

ترغیب وترہیب کی تلقین

حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓسے مروی ہے کہ بنی حارث بن کعب کے وفد کی واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عمروؓ بن حزم الانصاری کو ان کا والی مقررکیا تاکہ ان سے زکوٰۃ وصدقات کی وصولی کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کرائیں۔ آپ ﷺ نے عمروؓ بن حزم کو بنی حارث کی طرف ایک طویل مکتوب دے کر روانہ فرمایا جس میں ان کو اسلامی احکام کی تبلیغ کا حکم فرمایا اور اس کے ساتھ ان کو دعوت میں ترغیب وترہیب کا انداز اختیار کرنے کا بھی حکم دیا:

ویبشر الناس بالجنۃ وبعملھا، وینذر الناس النار وعملھا ویستألف الناس حتی یفقھوا فی الدین (ابنِ ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب ۴/۲۵۰۔ تاریخ الامم والملوک، ۳/۱۵۷(واقعات ۱۰ھ) ابنِ ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب،۴/۲۴۹)

’’لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اس کے اعمال سے آگاہ کریں، دوزخ سے ڈرائیں اور اس کے اعمال سے متنبہ کریں۔لوگوں کے ساتھ نہایت اخلاق سے پیش آئیں تاکہ وہ ارکانِ دین کو اچھی طرح سمجھ لیں‘‘

حضرت خالدؓ بن ولید نے،جن کو بنی حارث کی طرف تبلیغی مہم پر بھیجا گیا تھا، بذریعہ خط اپنی کامیابی کی اطلاع بھیجی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو مزید تبلیغ جاری رکھنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ تلقین بھی فرمائی:

فبشّرھم وانذر ھم (ابنِ ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب، ۴/۲۴۹)

’’تم ان کو جنت کی خوشخبری دو اور ان کو دوزخ سے ڈراؤ‘‘

موقع ومحل کا لحاظ رکھنے کی تلقین

ہر داعی اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیکھے کہ کیا دعوت وتبلیغ کے لیے یہ وقت اور موقع مناسب ہے کیونکہ اگر مخاطب اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف مائل ہو تو جذبے کی سچائی اور اندرونی لگن کے باوجود داعی کی دعوت غیر مؤثر ہوگی۔ اس وقت مناسب یہ ہوگا کہ داعی بحث کو بڑھانے کے بجائے وہیں ختم کرکے وہا ں سے ہٹ جائے اور کسی مناسب موقع کا انتظار کرے۔ جب کسی دوسرے موقع پر مخاطب کا ذہن نکتہ چینی کی طرف مائل نہ ہوتو پھر اس کے سامنے حق کو پیش کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ (الانعام،۶:۶۸)

’’جب تم ان لوگوں کو دیکھو جوہماری آیات میں نکتہ چینی کررہے ہیں تو ان سے اعراض کرویہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں‘‘

اسی لیے رسول اللہﷺ نے موقع بے موقع دعوت وتبلیغ جیسے نازک کام سے منع کیاہے جب مخاطب کسی کاروبار یا ایسی دلچسپی میں منہمک ہو جس کو چھوڑ کر دعوت حق کی طرف متوجہ ہونا اس کی طبیعت پر گراں گزرے۔ ظاہر ہے کہ اس صور ت میں مخاطب داعی کی بات کو کبھی بھی دل کی گہرائیوں اور حقیقی جذبے سے نہیں سنے گاجودعوت کی کامیابی کاسب سے لازمی عنصر ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرامؓ کو تلقین فرمائی کہ وہ دعوت وتبلیغ کے جوش میں ہر مجلس میں نہ گھس جایاکریں بلکہ پہلے حالات کاجائزہ لیں۔ اگر دعوت کے لیے ماحول سازگار ہوتو دعوت دیں ورنہ مناسب وقت کاانتظار کریں۔

آسانی اور سہولت کی تلقین

دین کی جائز آسانی اور سہولت کوپیشِ نظر رکھنا، دین کو درشت اور مشکل نہ بنانا اس کی قبولیت کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے عام مسلمانوں کے لیے ہمیشہ آسانی اور سہولت کے پہلو کو پیش نظر رکھا۔حضرت عائشہؓ رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل کے متعلق ارشاد فرماتی ہیں:

ما خیّر رسول اللّٰہ ﷺ بین امرین الا أخذ ایسرھما مالم یکن اثما، فان کان اثما کان ابعد الناس منہ، وما انتقم رسول اللّٰہ ﷺ لنفسہ الا ان تنتھک حرمۃ اللّٰہ فینتقم للّٰہ بھا (الموطّأ، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی حسن الخلق، ح:۶۹۰، ص: ۵۵۵۔ صحیح مسلم، ح:۶۰۴۵۔ صحیح البخاری، ح:۶۱۲۶)

’’رسول اللہ ﷺ کو کبھی دوامور میں اختیار نہیں دیا گیا مگریہ کہ آپ ﷺنے ان میں سے آسان کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو۔ اگر گناہ ہوتو اس سے تمام انسانوں سے زیادہ دور ہوتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا مگر جبکہ اللہ کی حرمت مجروح ہوتو پھر آپ ﷺ اللہ کے لیے انتقام لیتے‘‘

انسان طبعاً سہولت پسند ہے اس لیے داعی کافرض ہے کہ وہ دین کو مشکلات کا مجموعہ نہ بنائے بلکہ جہاں تک ممکن ہو، دینی زندگی کو لوگوں کے لیے آسان بناکر پیش کرے۔ دینی معاملات میں تشدد پسندی اور سختی سے حتی الوسع پرہیزکرے اور اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو جو حل سب سے آسان ہو، اس کی طرف رجوع کرناچاہیے۔ رسول اللہﷺ کے طرزِ عمل سے اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے :

’’ایک دیہاتی مسجد میں آیا، اس نے دورکعتیں اداکیں پھر کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرمااور ہمارے ساتھ کسی اور پر نہ فرما۔ رسول اللہ ﷺ نے توجہ فرمائی اور فرمایا: تونے وسیع چیز کو تنگ کردیا۔ پھر اس نے جلدی سے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگ اس کی طرف (مارنے کی خاطر)دوڑے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیںآسانی کرنے والا بنایا گیا ہے،مشکل پسند نہیں۔ اس پر پانی کا ایک ڈول بہادو‘‘ 

(صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب یصیب الماء علی البول فی المسجد ،ح:۲۲۰،ص:۴۱۔ ایضاً، کتاب الادب،باب قول النبی ﷺ یسروا ولا تعسروا، ح:۶۱۲۸، ص:۱۰۶۸۔ صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ،باب وجوب غسل البول وغیرہ :۶۶۱،ص:۱۳۳۔ جامع الترمذی ،کتاب الطہارۃ،باب ماجاء فی البول یصیب الارض،ح:۱۴۷،ص:۴۱۔ سننِ ابی داؤد،کتاب الطہارۃ،باب الارض یصیب البول،ح:۳۸۰،ص:۶۶۔ سننِ نسائی ،کتاب الطہارۃ،باب ترک التوقیت فی الماء،ح:۵۶،ص:۷)

جہالت یا عدم واقفیت ایک مرض ہے۔ اسے ایک قسم کی معذوری سمجھ کر ازالے کی کوشش کرنا ہی انسانیت کی خدمت ہے لیکن اس سے اظہارِ نفرت وانتقام گویا اس کی اصلاح کے تمام راستے بند کرنے والی بات ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے:

عن انسؓ قال رسول اللہﷺ:خیر دینکم ایسرہ،وخیر العبادۃ الفقہ (ابنِ عبدالبر،جامع بیان العلم وفضلہ،باب تفضیل العلم علی العبادۃ، ۱/۲۱)

’’حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:تمہارا دین آسان ہے اور اچھی عبادت دینی بصیرت حاصل کرنا ہے‘‘

چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ کویمن میں دعوتی مہم پر روانہ فرمایا تو ان کو اسی اسلوبِ دعوت کی تلقین ان الفاظ میں فرمائی :

یسّرا ولا تعسّرا ،وبشّرا ولا تنفّرا (ابنِ ہشام،وصیۃ الرسول معاذا حین بعثہ الی الیمن،۴/۲۴۶)

’’دین کو آسان بناکر پیش کرنا سخت بنا کر پیش نہ کرنا،لوگوں کو خوشخبری سنانا نفرت نہ دلانا‘‘

صحابہ کرامؓ نے اگر کبھی دینی معاملات میں اعتدال سے ہٹ کر تشدد کی راہ اپنائی تو آپﷺ نے انتہائی سختی سے منع فرمایا۔حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذؓبن جبل نے ایک مرتبہ انصار کو نمازِ مغرب پڑھائی اور قرأ ت کو خوب طول دیا۔حضرت حازم انصاریؓ نہ ٹھہر سکے اور اپنی علیحدہ نماز پڑھ کر چل دیے۔حضرت معاذؓبن جبل ان سے سخت ناراض ہوئے ۔ حضرت حازمؓ بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ معاذ ؓ ہمیں بہت طویل نماز پڑھاتے ہیں جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہﷺ نے حضرت معا ذؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:

یا معاذؓ! أفتّان أنت ؟ أفتّان أنت؟ اقرأ بکذا،اقرأ بکذا (سننِ ابی داؤد،کتاب الصلوٰۃ،باب تخفیف الصلوٰۃ،ح:۷۹۰،ص:۱۲۳۔ اسد الغابہ،تذکرہ حازمؓ انصاری،۱/۳۶۰)

’’اے معاذؓ! کیا تم فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟اے معاذ لوگوں پر تخفیف کرو‘‘

رسول اللہﷺ نے ثقیف پر حضرت عثمانؓ بن ابی العاص کو امیر مقرر کرکے روانہ فرمایا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھ سے جو آخری عہد لیا، وہ یہ تھا:

یاعثمانؓ! تجاوز فی الصلٰوۃ، واقدر الناس باضعفھم، فان فیھم الکبیر والصغیر والضعیف وذا الحاجۃ (ابنِ ہشام،امر وفد ثقیف واسلامھا ،۴/۱۹۵۔اسد الغابہ،تذکرہ عثمانؓ بن ابی العاص،۳/۳۷۲)

’’اے عثمانؓ!نماز ہلکی رکھنا اور لوگوں میں ان کے سب سے زیادہ ضعیف آدمی کو معیار بنانا،کیونکہ (نماز پڑھنے والے)لوگوں میں بڑے بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے بھی،ضعیف بھی ہوتے ہیں اور صاحبِ ضرورت بھی‘‘

شاہانِ حمیر نے قاصدکے ذریعہ رسول اللہﷺ کو اپنے اسلام لانے کی اطلاع بھیجی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طرف چند صحابہ کومحاصل جمع کرنے اور دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا،ان لوگوں میں حضرت معاذؓبن جبل بھی تھے۔ ابن اسحاق کابیان ہے کہ رسول اللہ ﷺنے روانگی کے وقت ان سے عہد لیا اور سہولت اور آسانی کا اسلوب اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

یسّر ولا تعسّر، وبشّر ولا تنفّر، وانک ستقدم علی قوم من اہل الکتاب، یئلونک مامفتاح الجنۃ؟فقل شہادۃ ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ (ابنِ ہشام ،وصیۃ الرسول ﷺ معاذا حین بعثہ الی الیمن ،۴/۲۴۶)

’’آسانی پیدا کرنا ،دشواری پیدا نہ کرنا، خوش رکھنے والی باتیں کرنا ، نفرت دلانے والی باتیں نہ کرنا،تم اہلِ کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جارہے ہو،وہ تم سے پوچھیں گے جنت کی کنجی کیا ہے؟ تو تم کہنا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا ئے واحد کے سوا اور کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘‘۔

حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے مروی ہے :

’’ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!میں تو فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز سے پیچھے رہ جاتا ہوں (باجماعت ادا نہیں کرسکتا)،کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے‘‘۔

راوی کا بیان ہے :میں نے رسو ل اللہ ﷺ کووعظ کے دوران کبھی اس قدر غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن ہوئے۔ پھر فرمایا:

یا ایھاالناس! ان منکم منفرین، فایکم ما صلی بالناس فلیوجز، فان فیھم الکبیر والضعیف وذا الحاجۃ (صحیح البخاری ،کتاب الاحکا م ،باب ہل یقضی القاضی او یفتی وہو غضبان؟ ح:۷۱۵۹، ص:۱۲۳۲۔ ایضاً،کتاب الاذان، باب تخفیف الامام فی القیام، ح:۷۰۲،۷۰۴،۹۰،۶۱۱۰

اے لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت پھیلانے والے ہیں،جو شخض لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر (قرأت وغیرہ) کرے،ان میں بوڑھے ،کمزور اور کام والے بھی ہوتے ہیں‘‘۔

مخاطب کی ذہنی استعداد کا لحاظ رکھنے کی تلقین

دعوت وتبلیغ میں حکمت کا تقاضایہ ہے کہ داعی مخاطب کی ذہنی استعداد کالحاظ رکھتے ہوئے اپنی دعوت پیش کرے۔ اگر داعی عام مخاطب کی ذہنی استعداد کو نظر انداز کرتے ہوئے منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثیں شروع کردے یاکسی صاحبِ علم اور دانشور شخص کو دعوت دیتے وقت گفتگو کا غیر علمی اور غیر عقلی اسلوب اختیار کرے،تو اس صورت میں دعوت کے مؤثر ہونے کی توقع رکھنا فضول ہے۔اس لیے داعی کا فرض ہے کہ وہ مخاطب کی ذہنی استعداد اورنفسی کیفیات کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا فریضہ ادا کرے۔داعی درحقیقت ایک بے مثال استاد اور مربی کی طرح ہے جو سامع کانفسیاتی جائزہ لیتے ہوئے اس کے ذہنی پس منظر ،اس کی استعداداور اس کے مزاج کو سامنے رکھ کر بات کرتاہے۔وہ ایک بدوی اور شہری ،پڑھے لکھے اور ان پڑھ،اور عقل وتجربہ کے مختلف مدارج رکھنے والے انسانوں سے مختلف طریقوں اور اسالیب سے گفتگو کرتاہے۔خود داعی اعظمﷺ نے ہمیشہ مخاطب کے ذہنی معیار کی رعایت فرمائی۔ اسی لیے ہر شخص آپ ﷺ سے مطمئن ہوتا تھا ۔صرف یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ مخاطب کی ذہنی استعداد کالحاظ رکھتے ہوئے عمدہ مثالوں اور روزمرہ کے مشاہدات سے اس انداز میں استدلال فرماتے کہ بات سامع کے دل ودماغ میں اترتی چلی جاتی۔ حضرت ابوہریرۃؓسے روایت ہے:

’’ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!میری بیوی نے سیاہ بچے کو جنم دیا ہے اور میں اس کو پسند نہیں کرتا۔رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟اس نے کہا:ہاں، آپ ﷺنے فرمایا :ان کے رنگ کیا ہیں؟اس نے کہا:سرخ ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:کیا ان میں سے کوئی سیاہی مائل بھی ہے؟اس نے کہا:ہاں سیاہی مائل بھی ہے۔آپ ﷺنے فرمایا:وہ کہاں سے آگیا؟ کہنے لگا :اے اللہ کے رسول !شاید ان کی کہیں اصل نسب میں ہوگا۔آپ ﷺنے فرمایا:شاید یہ بھی کہیں اصل نسب میں ہوگا‘‘۔ 

(صحیحَ البخاری،کتاب الطلاق،باب اذا عرض بنفی الولد، ح:۵۳۰۵، ص:۹۴۸۔ ایضاً،کتاب الحدود،باب ماجاء فی التعریض، ح:۶۸۴۷، ص:۱۱۸۰۔ ایضاً،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب من شبہ أصلاًمعلوماً ح:۷۳۱۴، ص:۱۲۵۹۔ صحیح مسلم،کتاب اللعان،ح:۳۷۶۸،ص:۶۵۲)

چنانچہ وہ بدو بالکل مطمئن ہوگیا۔رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کو بھی یہی تلقین فرمائی کہ وہ لوگوں کی عقل اور ذہنی استعداد کے مطابق دعوت دیں ۔صحابہ کرامؓکہتے ہیں:

أمرنا ان نکلّم الناس علی قدر عقولھم (منتخب کنزالعمال،کتاب الاخلاق،باب فی الاخلاق المحمودۃ ،ح:۸۵۰۳،۴/۷۰)

’’آپﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لوگوں کی ذہنی استعداد کے مطابق بات کریں‘‘

مخاطب کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھنے کی تلقین

داعی کا فرض ہے کہ وہ ممکن حد تک مخاطب کے معاشرتی وسیاسی مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھے۔کیونکہ ایسے لوگ عزت افزائی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔اگر داعی ان کے مقام ومرتبہ کو نظر انداز کرے گا تو ممکن ہے کہ شیطان اسے گمراہ کردے اور اسے حق بات سننے سے روک دے۔اس لیے داعئ حق کو چاہئے کہ وہ ایک خاص حد تک ان کی اس کمزوری کا لحاظ رکھے تاکہ قبولِ حق میں ان کے اپنے نفس کی مزاحمتوں کے سوا داعی کی طرف سے کوئی جدید مانع پیدا نہ ہوجائے۔

خود رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل تھا کہ آپ ﷺ وفود عرب،جو عام طو رپر قبائلی رؤسااور سرداروں پر مشتمل ہوتے تھے،کی پیشوائی فرماتے،ان کے احترام کے لیے کھڑے ہوتے اور ان کی عزت افزائی فرماتے،چنانچہ کئی وفود جو محض معاہدہ صلح کے لیے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تھے ،آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق اور عزت افزائی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کرلیا۔ مثلاً وفدِاشجع معاہدہ صلح وامن کے لیے آیا تھالیکن آپﷺکے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ (ابن سعد، ’’الطبقات الکبریٰ ‘‘،وفدِ اشجع،۱/۳۰۶) اس لیے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓکی بھی اسی نہج پرتربیت فرمائی اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے ان کے مقام ومرتبہ کے مطا بق سلوک کریں ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے :

انزلوا الناس منازلھم (سننِ ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی تنزیل الناس منازلھم ح:۴۸۴۲،ص:۶۸۴)

’’لوگوں سے ان کی قدر ومنزلت کے مطابق پیش آؤ‘‘۔

مخاطب کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھنے اور دعوت کو نرم انداز میں پیش کرنے کاجو حکم ہے اس کا جواز فقط اسی حد تک ہے جہاں تک حق کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچے ،اگر اس اسلوب کو اختیار کرنے سے دعوتِ حق کا وقار مجروح ہونے کا اندیشہ ہوتو داعی کو ایسے تمام طریقوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اعجاز واختصار کی تلقین

داعی کے لیے اس امر کالحاظ رکھنا بھی ضر وری ہے کہ دعوت کی فضول تکراراور بے فائدہ طولِ بیان کہیں لوگوں کودعوت کے مضامین ہی سے متنفر نہ کردے۔رسول اللہﷺ کے خطبے نہایت مختصر ہواکرتے تھے اور بعض روایات میں رسول اللہﷺ نے خطبہ کے اختصار کو خطیب کی دانش مندی کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا:

ان من البیان سحرًا (سنن ابی داؤد، کتاب الاد ب، باب ماجاء فی الشعر،ح:۵۰۱۱،ص:۷۰۵)

’’بعض خطبے جادو ہوتے ہیں‘‘

اس حدیث میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ اگر داعی کاخطبہ مختصر ،جامع اور بلیغ ہوگا تو وہ جادو کی طرح اثر کرے گا۔جبکہ طویل خطبہ نہ صرف سامع کی طبیعت کوکند کردے گابلکہ دعوت کوقبول کرنے کی حس اور صلاحیت کوبھی ختم کردے گا۔اس لیے رسول اللہ ﷺ نے دعوت وتبلیغ میں ہمیشہ اختصار سے کام لیانیز آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی ۔حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں:

أمرنا رسول اللّٰہ باقصار الخطب (سننِ ابی داؤد،کتاب الصلوٰۃ، باب اقصار 

’’رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ میں اختصار کاحکم فرمایا ہے‘‘

الخطب، ح:۱۱۰۶، ص:۱۶۶) 

حضرت عمار بن یاسرؓنے ایک دفعہ خطبہ دیا تو آپؓنے اپنے خطبہ میں اختصار سے کام لیا۔ قبیلۂ قریش کے ایک شخص نے کہا اگر آپؓ کچھ مزید فرماتے تو بہتر تھا،آپؓنے جواب دیا:

ان رسول اللّٰہ ﷺ نھی ان نطیل الخطبۃ (المسند، حدیث عمار بن یاسرؓ، ح:۱۸۴۱۰،۵/۴۱۹)

’’رسو ل اللہﷺ نے ہمیں طویل خطبے سے منع فرمایا ہے‘‘

جبر واکراہ سے اجتناب کی تلقین

اسلام کو جملہ الہامی وغیر الہامی مذاہب میں اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس نے اپنی ترویج واشاعت کے باقاعدہ اصول بیان کیے ہیں اور کھل کر اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ دین ایسی چیز نہیں جس کو زبردستی کسی پرٹھونساجائے کیونکہ دینِ اسلام کا اولین جزو ایمان ہے اور ایمان نام ہے یقین کا۔دنیاکی کوئی طاقت کسی کے دل میں یقین کا ایک ذرہ بھی زبردستی پیدا نہیں کر سکتی۔ اس لیے قرآن کا واضح حکم ہے:

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِ (البقرہ،۲:۲۵۶)

’’دین میں زبردستی نہیں ہے،تحقیق ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے‘‘۔

دعوتِ دین کا یہ وہ اسلوب ہے جس کو نہ صرف رسول اللہﷺ نے خود اختیار فرمایابلکہ صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی چنانچہ رسول اللہﷺ نے جب عمروؓ بن حزم کوبنو حارث بن کعب کی طرف دعوت وتبلیغ اور صدقات کی وصولی کے لیے روانہ فرمایا تو ان کو ایک تحریر لکھ کردی جس میں یہ ہدایت واضح طور پر درج تھی:

.........وأنہ من اسلم من یھودی اونصرانی اسلاما خالصا من نفسہ، ودان بدین الاسلام، فانہ من المومنین، لہ مثل ما لھم، وعلیہ مثل ما علیھم، ومن کان علی نصرانیتہ أویھودیتہ فانہ لایردعنھا (ابن ہشام،اسلام بنی الحارث بن کعب،۴/۲۵۱)


’’..........اور جو یہودی یانصرانی اپنی طرف سے مخلصانہ اسلام لے آئے اور دین اسلام کو اپنا دین بنالے، وہ مومنوں میں شمار ہوگا،اس کے وہی حقوق ہوں گے جو مومنوں پرہوں گے اور جو اپنی یہودیت یانصرانیت پر قائم رہے گا اسے اس یہودیت یا نصرایت سے پھیرا نہ جائے گا‘‘

خلاصۂ بحث 

مخاطبینِ دعوت دوچیزوں سے فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں: ایک داعی کاذاتی کردار اور دوسرا اس کابات کرنے کا اندازکہ وہ کس انداز میں اپنی دعوت کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے ۔اس لیے ایک داعی کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو بیان کردے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ مضامین دعوت کو لوگوں کے سامنے اس طریقے سے پیش کرے اور بات اس پیرائے میں کرے کہ ان پر حق پوری طرح آشکاراہوجائے اور بات ہر خاص و عام کی سمجھ میں آجائے اور جن لوگوں کے دلوں میں قبولِ حق کی کچھ بھی صلاحیت اور تڑپ ہے، وہ اس کو قبول کرلیں ۔اس مقصد کے حصول کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ دعوت کی زبان انتہائی مؤثر ،داعی کا طرزِ کلام فطری اور اس کا اسلوب د ل نشین ہو۔

ایک داعی کاکام یہ نہیں کہ وہ ایک مؤرخ کی طرح واقعات کو بیان کردے بلکہ اس کا کردار ایک صحافی،فلسفی اور مقنّن سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طرف تو اس کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ زندگی کے تمام معاملات اس کے تحت آجاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے مخاطبین میں مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے اور ان کی ذہنی استعداد بھی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مخاطب کی صلاحیتوں کے اس اختلاف کو پیشِ نظر رکھ کر بات کرے،اورمخاطبین کے مذاق اور رجحانِ طبع کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کے مختلف اسالیب اختیار کرے اور اس کی طرف مختلف سمتوں سے آئے کہ نہ صرف اس پر حق واضح ہوجائے بلکہ اس پر اتمامِ حجت بھی ہوجائے۔اگر داعی دعوت کا ایک ہی متعین اسلوب اختیار کرے گا تو اس کی ناکامی نوشتۂ دیوارہے۔کیونکہ اس کی یہ یک رنگی اس فطرت کے بالکل خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر فرد میں طبیعتوں اور صلاحیتوں کے اختلاف کے ساتھ رکھی ہے۔رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کی دعوتی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دعوتِ دین کاکوئی متعین اسلوب اختیار نہیں کیابلکہ مخاطب کے حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو مناسب جانا، اس اسلوب اور انداز کو اختیار کیا۔ آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو اسلوبِ دعوت کی جو تلقین کی، اس میں بھی جوتنوع ہے، وہ مخاطبینِ دعوت کے اعتبار ہی سے ہے۔

داعی کاکام مدعو کے ذہن کو بالکل تبدیل کرکے رکھ دینا ہے، اس لیے یہ کام اس قدر آسان نہیں۔ اس کے لیے داعی کا صاحبِ علم ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم ہونا بھی ضروری ہے۔،دعوتِ حق میں حکیمانہ اندازِ تخاطب کامیابی کی ضمانت بن سکتاہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکمت کے سارے اصول پیغمبرِ اسلامﷺ کو سکھائے اور آپﷺ نے اپنی دعوتی زندگی میں ان اسالیب کو اختیار کرکے ایک مثال قائم کی اورپھر آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی۔ دعوت کے اصول اور اسلوب کو اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردینا امتِ محمدیہ ﷺکی ایسی خصوصیت ہے جس میں دنیا کا کوئی مذہب ،چاہے وہ الہامی ہویا غیر الہامی،اسلام کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔ قرآن نے خود دعوت کے اصول اور اسلوب کو بیان کیا اور پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اس پر عمل کرکے ایک عملی مثال قائم فرمائی اور پھر آپﷺ نے اپنے ماننے والوں کو بھی ان کی تلقین اور ہدایت فرمائی جیسا کہ گذشتہ سطور میں اس کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ 

دین و حکمت

اکتوبر ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۱۰

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب
پروفیسر محمد اکرم ورک

امریکی جارحیت کے محرکات
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل
راشد الغنوشی

علما اور عملی سیاست
خورشید احمد ندیم

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘
جاوید چودھری

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter