مولانا مشرف بيگ اشرف

کل مضامین: 2

حکم عقلی، غزالی اور علم کلام

اشعری علم کلام کا مشہور متن "ام البراہین" کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: اعلم أن الحكم العقلي ينحصر في ثلاثة أقسام: الوجوب والاستحالة والجواز. فالواجب ما لايتصور في العقل عدمه، والمستحيل مالايتصور في العقل وجوده، والجائز ما يتصور في العقل وجوده وعدمه. ترجمہ: "جان لو کہ حکم عقلی تین ہی طرح کا ہے: وجوب، عدم امکان اور جواز۔ پس واجب وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے معدوم فرض کرنا ناممکن ہو، ناممکن وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے موجود ماننا ممتنع ہو اور جائز وہ ہے کہ عقل اس کے وجود وعدم دونوں کا تصور کر سکتی ہو۔" یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب علم الکلام ایک شرعی علم...

فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکام

باسم ربي الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم، وصلى الله على نبيه الأكرم! أما بعد! فری لینسر کی اصطلاح والٹر سکاٹ (1771–1832) کی طبع زاد ہے انہوں نے ایک کہانی " ايفانہو" لکھی (اس کہانی کےسورما کے نام سے اسے موسوم کیا)۔ انہوں نے یہ اصطلاح قرون میانہ کے ایسے جنگجوکے لیے استعمال کی جس نے باقاعدہ فوج کا حصہ بن کر حلف نہیں لیا ہوتا تھا۔ چناچہ یہ اصطلاح دو الفاظ کا مرکب ہے: ۱: فری (Free) یعنی آزاد (اس لیے فری لینسنگ کا تعلق "مفت" سے نہیں بلکہ "آزادی" سے ہے۔) ۲: لینس (Lance)۔ یہ لفظ دراصل لاتینی زبان کے لفظ Lancea سے بنا ہے جس کا مطلب چھوٹا نیزہ ہے۔ موجودہ...
1-2 (2)