آزمائش کا اصول اور دعوت ایمان کی اہمیت

محمد عمار خان ناصر

جب یہ کہا جاتا ہے  کہ اللہ تعالی انسانوں سے جواب طلبی اور محاسبہ اس اصول پر کریں گے کہ کس پر حجت کتنی تمام ہوئی ہے تو بعض لوگوں کے ذہن میں  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں غیر مسلموں کو دعوت کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ جب یہ معلوم ہے کہ عموما انسانوں کے لیے اپنے ماحول کے اثرات اور معاشرتی روایت سے اوپر اٹھ کر کسی نئی بات کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے تو کیا مسلمان، لوگوں تک دعوت پہنچا کر انھیں مشکل میں ڈالنے کا موجب نہیں بنیں گے؟ کیونکہ دعوت پہنچے بغیر تو ہو سکتا ہے، لوگ اللہ کے ہاں معذور شمار کیے جائیں، لیکن دعوت پہنچ جانے کی صورت میں عذر پیش کرنے کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔

یہ اشکال اس بنیادی غلطی سے پیدا ہوتا ہے جس کو’’قلب موضوع“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس استدلال میں یہ غلطی استثنائی اصول کو بنیادی نکتے کی اور بنیادی نکتے کو ضمنی حیثیت دینے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ شریعت کی نظر میں انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اس کی آزمائش ہے اور اس مقصد کے لحاظ سے اس کا، فکر اور عمل، دونوں میں آزمائش کا سامنا کرنا اور اختیار وانتخاب کی ذمہ داری اٹھانا وہ اصل حالت ہے جو پائی جانی چاہیے۔ اسی اصول کے تحت جن گروہوں کے پاس علم وعمل میں ’’حق “ کی امانت موجود ہے، وہ اس کے مکلف ہیں کہ دوسروں تک بھی اس کو پہنچائیں اور اللہ نے جس تکلیفی آزمائش میں بنی نوع انسان کو ڈالا ہے، اس میں خدا کی اسکیم کا حصہ بن جائیں۔ لوگوں تک صحیح بات کا نہ پہنچ سکنا یا پہنچنے کی صورت میں ان کے لیے کسی عذر کی وجہ سے اس کی قبولیت کا ممکن نہ ہونا، یہ استثنائی احوال ہیں جو بنیادی اصول اور اس کے تحت دعوت کی ذمہ داری کو معطل نہیں کر سکتے۔

اگر یہ مانا جائے کہ انسان کو اصل میں تو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اوہام وظنون کی کیفیت میں جیسے تیسے زندگی گزار لے، البتہ کسی تک حق بات پہنچ گئی تو وہ قابل مواخذہ ہوگا، تب تو یہ تشویش پیدا ہونا بالکل بجا ہے کہ جب انسان دعوت حق کے بغیر ایک محفوظ صورت حال میں ہیں تو ان تک دعوت پہنچا کر کیوں انھیں خطرے سے دوچار کیا جائے۔ لیکن اگر بنیادی اصول انسانوں کا آزمائش کا سامنا کرنا اور انتخاب کی آزادی کو عمل میں لانا ہے تو پھر دعوت کا عمل اس اسکیم کے منافی نہیں، بلکہ اس کا عین منطقی تقاضا ہے۔ جب انسان کی تخلیق آزمائش کے لیے کی گئی ہے تو اس پہلو سے خلق خدا تک دعوت دین کا پہنچانا اللہ کی اسکیم کا لازمی حصہ ہے جس سے یہ سوچ کر گریز نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح تو جن انسانوں تک دعوت پہنچے گی، وہ اسے قبول نہ کر کے قابل مواخذہ ہو جائیں گے۔ جب انسان کو پیدا ہی ایک ذمہ داری اٹھانے والی مخلوق کے طور پر کیا گیا ہے اور یہی اس کا شرف اور امتیاز ہے تو پھر اس کے سارے لوازم قبول کرنے پڑیں گے۔

یہ اشکال بنیادی طور پر انسان پر ’’ذمہ داری“ ڈالے جانے کے تصور کو فکری طور پر قبول نہ کرنے یا درست طور پر نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی اصل زد مسلمانوں کی دعوت پر نہیں، بلکہ انسان کو ’’مکلف “ ٹھہرائے جانے کے تصور پر پڑتی ہے۔ مثلا جو اشکال مسلمانوں کی دعوت پر وارد کیا گیا ہے، وہ انبیاء اور رسولوں کی بعثت پر بھی وارد ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی دعوت سے کسی پر حجت تمام ہوتی ہے یا نہیں، یہ تو ایک محتمل معاملہ ہے، لیکن انبیاء کو تو بھیجا ہی حجت تمام کرنے کے لیے جاتا ہے اور یہ معلوم ہے کہ انبیاء کے ذریعے سے براہ راست اتمام حجت چند منتخب گروہوں پر ہی ہوا ہے۔ باقی تمام انسانوں پر اس اتمام حجت کے اثرات بالواسطہ اور درجہ بدرجہ مرتب ہوتے ہیں۔ پس یہ اشکال اٹھایا جا سکتا ہے کہ آخر اللہ نے کچھ گروہوں میں براہ راست نبی کو مبعوث کر کے ان کے لیے آزمائش کو باقی انسانوں کی بہ نسبت کیوں زیادہ مشکل بنا دیا؟ اگر ان کی طرف نبی کو نہ بھیجا جاتا تو، خود اللہ کے بیان کردہ اصول کے مطابق، ان کے پاس بھی یہ عذر پیش کرنے کی گنجائش باقی رہتی کہ ہم تک تو بات ہی واضح طور پر نہیں پہنچی تھی۔

اس سے آگے بڑھیں تو یہ اشکال خود اللہ کے اس فیصلے پر وارد کیا جا سکتا ہے کہ اس نے انسان کو ایک ’’مکلف “ مخلوق بنایا ہے۔ یہاں یہ سوال معتزلہ اور اشاعرہ کی اس معروف بحث سے متعلق ہو جاتا ہے کہ کیا اللہ پر واجب ہے کہ وہ انسانوں کے متعلق وہی فیصلہ کرے جو ’’الاصلح للعباد“ ہے، یعنی انسانوں کے نقطہ نظر سے ان کے لیے بہتر ہے؟ معروف عام روایت کے مطابق ابو الحسن اشعری نے اسی بحث میں اپنے استاذ جبائی کے سامنے یہ اشکال پیش کیا تھا کہ اگر اللہ پر ’’الاصلح للعباد“ واجب ہے تو پھر اس نے دو ایسے انسانوں کو کیوں پیدا کیا جن میں سے ایک کے متعلق اس کا علم اسے بتا رہا تھا کہ جب اسے اختیار دیا جائے گا تو وہ اس کے سوء استعمال سے کفر کا انتخاب کرے گا اور یوں مواخذہ کا حقدار ٹھہرے گا؟ جبائی اس کا جواب نہیں دے سکے اور یوں ابو الحسن اشعری نے اپنی راہیں مسلک اعتزال سے الگ کر لی تھیں۔


دین و حکمت

Since 1st December 2020

Flag Counter