دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ

مولانا محمد یوسف

حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ کسی ایک انسانی شعبہ میں دینی جدوجہد اور محنت آپ کو زندگی کے دوسرے شعبوں سے قطعاً غافل نہ کرسکی۔ آپ نے ایک ہی وقت میں مبلغ، معلم، مجاہد، قاضی، شارع، حاکم و فرماں روا، سماجی کارکن، ماہر اقتصادیات، معلم اخلاق اور ماہر نفسیات کی حیثیت سے امت کی راہنمائی فرمائی۔ ایک طرف اگر آپ نے داعی کی حیثیت سے بھٹکی اور گم کردۂ راہ انسانیت کو پستی اور ذلت کے گڑھے سے نکال کر ایمان اور اخلاق وکردار کی بلندیوں پر فائز کیا تو دوسری طرف سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگوں کا بوجھ بھی اٹھایا۔ آپ نے محروم لوگوں کو کما کرکھلایا، مہمانوں کی مہمان نوازی کی، حق کے معاملات میں دوسروں سے بھر پور تعاون کیا اور بہت سے غریب اور مقروض انسانوں کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی۔ دین کے معاملے میں آپ نے ایسا معتدل رویہ پیش کیا کہ خالق کی عبادت آپ کو مخلوق کی خدمت سے بے نیاز نہ کرسکی۔ آپ نے امت کو بھی یہی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :

ان لجسدک علیک حقا وان لعینک علیک حقا وان لزوجک علیک حقا وان لزورک علیک حقا (صحیح بخاری)
’’تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمھارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘

جب نبی مکرم نے انسانی فلاح وبہبود کے لیے حیات انسانی کے تمام دائروں کو اپنی محنت اور تگ ودو کامیدان بنایا تو آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بدیہی طورپر آپ کی تمام ترجدوجہد اور محنت کا تسلسل قائم رکھنے کی ذمہ داری اس امت پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورت میں کسی ایک خاص شعبے ہی میں کام کرنے والا فرد یا جماعت حضور ﷺ کی وراثت کا حق ادا کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس لیے اعتدال کی راہ یہ ہے کہ امت آپ ﷺ کی محنت اور تگ ودو کے تمام پہلوؤں کو لے کر آگے بڑھے نہ یہ کہ انسانی زندگی کے کسی ایک شعبہ سے متعلق آپ کی تعلیمات تک محدود ہو کر رہ جائے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ جو فرد یاجماعت جس دائرہ میں کام کررہی ہے، وہ یہی گمان کیے ہوئے ہے کہ دین کا کام بس اسی کے ہاتھوں انجام پا رہا ہے اور بس۔ حضورﷺ کی ہمہ گیر کاوشوں کو ہم اپنے اپنے دائرے میں محدود کرکے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ہی حضورﷺ کے نائب ہیں ۔ 

دین کی خدمت چاہے جہاد کی صورت میں ہو یا دعوت وتبلیغ کی صورت میں، تصنیف وتالیف کی شکل میں ہو یا تعلیم وتدریس کے رنگ میں،حضور ﷺ کی ہمہ گیر تگ ودو کو کسی ایک دائرے میں محصور کرنا اور خود کوہی آپ کا وارث قرار دینا یقیناًبے اعتدالی کی راہ ہے۔ جب دین کے کسی ایک شعبہ میں غلو اور بے اعتدالی آئے گی تو وہ صرف اس شعبے کے لیے نہیں، بلکہ تمام شعبہ جات کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جب بے اعتدالی کی جڑ مضبوط ہونے لگتی ہے تو یہ رویہ امت میں اجتماعیت کے بجائے انفرادیت کو جنم دیتاہے اور دینی حلقے اس صورت میں آگے بڑھنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کو بھی خدمت دین ہی خیال کرنے لگتے ہیں ۔

دعوت وتبلیغ دین کی محنت کا ایک وسیع میدان ہے اور اس میدان میں تبلیغی جماعت اصلاح وتربیت کا عظیم فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ جماعت کی محنت کے اثرات کا مشاہد ہ ہر ذی شعور انسان کھلی آنکھوں سے کرسکتاہے کہ جن لوگوں کے لیل ونہار نائٹ کلبوں کے اسٹیج پر لہوو لعب کی محفلوں میں گزرتے تھے، آج وہ منبر رسول ﷺ پر بیٹھے خود کو وارث انبیا کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ الحمد للہ جماعت کی دعوت مسجدوں اور گلی محلوں سے آگے نکل کر کرکٹ کے میدانوں اور سینماؤں تک پہنچ گئی ہے۔ اللھم زد فزد۔یہ جماعت کی محنت کا ایک روشن اور قابل تقلید پہلو ہے جس سے فائدہ اٹھانے اور رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ راقم الحروف یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ہر انسانی کوشش اور محنت کی طرح تبلیغی تحریک بھی خامیوں اور کوتاہیوں سے مبرا نہیں اور اس میں بے اعتدالی کے بعض ایسے پہلو پائے جاتے ہیں جن کی طرف توجہ دلانے اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ 

مثلاً دعوت کے عظیم کام کے ساتھ ساتھ اگر دین کے معاشرتی پہلو کی طر ف مقدور بھر توجہ دی جائے تو یہ ہر طرح سے مناسب ہوگا۔ جماعت سے منسلک افراد انفرادی سطح پر کسی نہ کسی حد تک یہ کام کرتے بھی ہیں، لیکن جس طرح حالیہ زلزلے میں زلزلہ زدہ علاقوں میں جماعت نے منظم طور پر جماعتی نظم کے تحت متاثرہ افراد کے ساتھ عملی تعاون کا فریضہ انجام دیا ہے، وہ انتہائی قابل قدر اور قابل تقلید ہے اور اسی رخ پر رفاہی کاموں میں شرکت کے عمل کو جماعتی سطح پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بس ایک فیصلے کی ضرورت ہے۔ الحمد للہ نہ افراد کی کمی ہے اور نہ وسائل کی۔ یہ کام خواہ محدود سطح پر ہی ہو، لیکن بہر حال توجہ کا متقاضی ہے۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سیکڑوں تبلیغی مراکز کے انتظام میں غربا اور مستحق افراد کے لیے فری ڈسپنسریوں ،بے روزگاروں کے لیے صنعتی تربیتی مراکز اوراسلامی وعصری تعلیم کے لیے اسکولوں اور کالجوں کا قیام کچھ مشکل نہیں، بشرطیکہ اس کام کو بھی دین کا کام سمجھ لیاجائے۔ ایسی عبادتیں جو حقوق العباد کی ادائیگی سے غافل کردیں، کیسی ہی سرور انگیز اور تسلی بخش کیوں نہ ہوں، قرب الٰہی کا وسیلہ نہیں بن سکتیں۔ طبیعت کے مبالغوں کو قرب الٰہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ دعوت سے منسلک افراد میں انفرادی سوچ کے بجائے اجتماعی سوچ کو پروان چڑھانا چاہیے۔ آخر آ پ کا امت سے تعلق صرف دعوت وتبلیغ کے حوالے سے تو نہیں، تعلقات کے کچھ اور بھی پہلو ہیں ۔ 

اس کے ساتھ ساتھ راقم الحروف یہ گزارش کرنا بھی مناسب سمجھتا ہے کہ تبلیغی جماعت سے یہ توقع وابستہ کرنا بھی درست نہیں کہ جماعت دعوت کے میدان میں بھی کام کرے اور خدمت خلق، جہاد اور سیاست وحکومت کی کشمکش کے میدان میں بھی بھرپور کردار ادا کرے۔ تمام تر کاموں کی ذمہ داری جماعت پر ڈالنا کسی طور پر بھی درست نہیں ہے ۔آخر تبلیغی جماعت ہی تو حضورﷺ کی نائب نہیں، بلکہ پوری امت حضورﷺ کی نائب ہے۔ اگر جماعت کسی ایک دینی شعبہ میں متحرک کردار ادا کررہی ہے تو دوسرے شعبوں میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے باقی طبقات کو بھی قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ جب درج بالا تمام کاموں کی توقع جماعت سے کی جاتی ہے تو مجھے استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی بیان کردہ ایک مثال یاد آجاتی ہے جس کا حوالہ وہ عموماً دینی مدارس کے حوالے سے دیا کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں اگر ایک گھر میں پانچ چھ بیٹے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک بیٹا ایسا ہو جو اپنا کام تندہی سے کرے اور دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھائے تو آہستہ آہستہ گھر کے تمام افراد اسی سے اپنی ساری توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اس کو ہمارے ہاں عموماً ’’کاما پُتر ‘‘کہا جاتاہے اور یہ اس کا اعزاز ہوتاہے۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید امت مسلمہ میں تبلیغی جماعت کی حیثیت بھی اس کامے پُتر کی ہے جس سے ساری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توقع وابستہ کرلی جاتی ہے۔ 

تبلیغی جماعت کے رویے میں بے اعتدالی کا ایک اور پہلو بھی بے حد باعث تشویش اور قابل اصلاح ہے، اور وہ ہے خدمت دین کے دیگر شعبوں کو ناقص، کم تر اور بے فائدہ سمجھنے کا رویہ۔ تبلیغی جماعت کی جدوجہد اور تگ ودو خدمت دین کے مختلف اور متنوع شعبہ جات میں سے ایک ذیلی شعبہ ہے۔ دین کے کسی بھی شعبے کی اہمیت کو اس انداز سے بیان کرنا کہ دیگر شعبوں کی اہمیت کم ہوتی نظر آئے یا دھندلا جائے، یقیناًبے اعتدالی پر مبنی رویہ ہے۔ علماے حق نے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے متعلق ہوں، اس رویے کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ بانی جماعت مولانا محمد الیاس ؒ نے اس تحریک کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے کیسا معتدل رویہ اختیار فرمایا، اس کا ا ظہار درج ذیل عبارت سے بخوبی ہوتاہے۔ فرماتے ہیں :

’’ہماری اس تحریک کا اصل مقصد ہے مسلمانوں کو ماجاء بہ النبی ﷺ سکھانا یعنی اسلام کے پورے علمی وعملی نظام سے امت کو وابستہ کردینا۔ یہ تو ہے ہمارا اصل مقصد ،رہی یہ قافلوں کی چلت پھرت اور تبلیغی گشت، سویہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے اور کلمہ ونما ز کی تعلیم وتلقین گویا ہمارے پورے نصاب کی الف، ب، ت ہے ۔‘‘  (ملفوظات مولانا محمد الیاس، مرتبہ مولانا محمد منظور نعمانی)

بانی جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کے اس فرمان کی روشنی میں راقم کو نہایت دکھ ہوتاہے جب تبلیغی احباب ابتدائی ذریعے ہی کو کامل دین سمجھتے ہیں اور تبلیغی گشت، قافلوں کی چلت پھرت، اور چلّہ اور چار مہینوں کو ہی سارے حروف تہجی قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ رویہ نہ صرف تبلیغی جماعت کے لیے بلکہ دیگر دینی حلقوں کے لیے بھی مضرہے۔ بالخصوص عامۃ الناس میں اس رویے کا پیدا ہوجانا اور بھی تشویش کا باعث ہے، اس لیے کہ کوئی صاحب علم اس قسم کا رویہ اپناتا ہے تو وہ غور وفکر کا دروازہ کھلا رکھتا ہے اور صحیح بات سامنے آنے پر بے اعتدالی کو چھوڑ کر معتدل رویہ اختیار کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا جبکہ عامۃ الناس جس رویے کو دین سمجھتے ہوئے اپناتے ہیں، اس میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کی اصلاح بہت مشکل ہو جاتی ہے۔

استاذ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے دوران سبق میں قرآن کریم کی آیت ’ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر‘ کے تحت یہ واقعہ سنا یا کہ حضرت مولانا مفتی زین العابدین ؒ جو تبلیغی جماعت کے اکابر میں سے تھے، ایک بار ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ حضرت، میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتاہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ تبلیغ کا کام امت پر فرض عین ہوچکاہے۔ استاذ محترم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مفتی صاحب کی طرف غور سے دیکھا اور عرض کیا کہ حضرت، مجھے آپ سے یہ توقع نہ تھی کہ آپ یہ بات ارشاد فرمائیں گے۔ کیا آپ نے تفسیر مظہری، ابن کثیر اور روح المعانی کا مطالعہ نہیں فرمایا؟ یہ مفسرین اور ان کے علاوہ دیگر مفسرین کرام قرآن کی اس آیت (ولتکن منکم امۃ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تبلیغ کا کام پوری امت پر بحیثیت امت فرض کفایہ ہے۔ اگر یہ فرض عین ہوتا تو بیوی کو شوہر سے اور غلام کوآقا سے اجازت لینے کی ضرورت نہ تھی۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لیے مسلمانوں میں سے ایک مخصوص جماعت کو اس منصب پر مامور کیا گیاہے۔فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب میری یہ بات سن کر خاموش ہوگئے۔ اصحاب علم کا یہی رویہ ہوتا ہے کہ جب ان کے سامنے صحیح بات آتی ہے تو وہ مجادلہ نہیں کرتے۔ 

ایک مرتبہ فرمایا کہ میں ترمذی شریف پڑھایا کرتاتھا ۔تبلیغی جماعت کے ایک ضعیف العمر ساتھی روزانہ میرے ساتھ بیٹھ کر سبق سنا کرتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے حضرت، آپ بھی جماعت میں کچھ وقت لگائیں۔ میں نے عرض کیا باباجی! یہ طلبا اتنی دور دراز سے علم حاصل کرنے آئے ہیں۔ اگر میں جماعت میں چلا گیا تو ان کو سبق کون پڑھائے گا؟ باباجی کہنے لگے استاذ جی فکر نہ کریں، ان کو اللہ تعالیٰ پڑھائیں گے۔ میں نے عرض کی، باباجی! اللہ تعالیٰ اس طرح براہ راست نہیں پڑھایا کرتے۔ 

استاذ محترم جماعت کے مثبت پہلووں کی تحسین بھی فرمایا کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ عزیزو! یہ بڑا عظیم کام ہے۔ تبلیغی جماعت کے احباب بعض ایسے علاقوں تک بھی دین کی دعوت لے کر پہنچے ہیں جہاں تک ہم نہ پہنچ سکے، لیکن اس کام میں غلو بڑا نقصان دہ ہے۔

ملتان سے ایک عالم دین تشریف لائے اور استاذ محترم سے پوچھا کہ جماعت کے ساتھ وقت لگانا کیسا ہے؟ حضرت شدید بیماری کی حالت میں تھے اور بولنا بھی دشوار تھا۔ یہ بات سن کر کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ’ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین‘۔ (اس سے اچھی کس کی بات ہوسکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے، اچھے عمل کرے اور کہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں) ۔

بعض احباب جماعت کی محنت کو کشتی نوح کے مانند قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو اس میں سوار ہوجائے گا، بچ جائے گا اور جو رہ جائے گا، ڈوب جائے گا۔ کیا عوام میں اس قسم کے رویے کا پیدا ہوجانا خطرے سے خالی ہے؟ بعض دفعہ تو ایسی تکلیف دہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ الشریعہ اکادمی میں ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں شریک ایک تاجر نے ایک دن مجھ سے سیرت کے موضوع پر کسی ایسی کتاب کے بارے میں استفسار کیا جس میں نبی کریم ﷺ کے شب وروز کے معمولات لکھے ہوں۔ میں نے ان کو عارف باللہ ڈاکٹر عبد الحی عارفی ؒ (خلیفہ مجاز مولانا اشرف علی تھانویؒ ) کی کتاب ’’اسوہ رسول اکرمﷺ‘‘ مطالعہ کے لیے دی۔ وہ صاحب کتاب گھر لے گئے، مطالعہ کیا، اس کے بعد انہوں نے وہ کتاب اپنی مسجد کی تبلیغی جماعت کے امیر صاحب کو دکھائی۔ امیر صاحب اس کتاب کی ورق گردانی کرتے ہی بول اٹھے کہ یہ کیا ظلم ہے، اس کتاب میں آپﷺ کے معمولات میں گشت کا تو کہیں ذکر ہی نہیں۔ پھر خود ہی منصف کا فریضہ انجام دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ مولوی ہی کام خراب کرتے ہیں۔ جب تک یہ صحیح نہیں ہوں گے، کام نہیں بنے گا۔ دیکھو آپﷺ کے معمولات میں گشت کا کہیں ذکر نہیں کیا۔

اس ضمن میں بانی جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کا ایک واقعہ یہاں نقل کرنا چاہوں گا جو شاید ہمارے عمومی رویے کی اصلاح کا سبب بن سکے۔ یہ واقعہ مولانا محمد رفیع عثمانی نے نقل کیا ہے اور اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا الیاس شدید علیل تھے اور میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ میرے والد محترم حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ حضرت کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ اس ملاقات کے موقع پر حضرت مولانا الیاس ؒ نے فرمایا کہ مفتی صاحب، میں تو آپ کا انتظار کررہاتھا۔ میں پریشانی میں مبتلا ہوں اور آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتاہوں۔ پھر فرمایا کہ دعوت وتبلیغ کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا، وہ وسیع پیمانے پر پھیلتا جارہاہے۔ اس پر میں اللہ سے ڈرتاہوں کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج تو نہیں (استدراج سے مراد ہے ڈھیل دینا، یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو بھی ابتدا میں ڈھیل دے دیتے ہیں) حضرت مفتی محمد شفیع ؒ نے فرمایا، حضرت یہ ڈھیل نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور اعانت ہے۔ مولانا الیاس ؒ نے پوچھا، حضرت مفتی صاحب ! آپ کس بنیا د پر فرمارہے ہیں کہ یہ استدراج نہیں بلکہ اعانت ہے؟ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا، حضرت جب باطل کو ڈھیل دی جاتی ہے تو اس کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ اس کے دل میں خوف کا یہ احساس پیدا نہیں ہوتا۔ آپ کے دل میں اس احساس کا پیدا ہوجانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کام کا وسیع پیمانے پر پھیل جانا استدراج نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت ہے۔ یہ سن کر مولانا الیاس ؒ کا چہرہ کِھل اٹھا۔

دعوت وتبلیغ سے یا کسی بھی دینی شعبہ سے منسلک افراد کی طرف سے جب بھی کوئی غیر معتدل رویہ سامنے آتا ہے تو مجھے مولانا سعید احمد خان صاحب کی شخصیت شدت سے یاد آتی ہے۔ اس رجل مومن نے پوری زندگی دعوت الی اللہ کے عظیم مشن میں کھپا دی۔حرم پاک کو اپنا دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ پھر اس راہ وفا میں خود ہی نہیں تڑپے اوروں کو بھی تڑپایا اور عمر بھر انسانیت کی اصلاح کے لیے کوشش فرماتے رہے۔ ان کے دو تین واقعات میں یہاں نقل کرنا چاہوں گا۔ شاید یہ واقعات ہمارے دل میں یہ احساس پید اکردیں کہ دین کے سبھی شعبہ جات قابل قدر ہیں اور کسی بھی دینی شعبہ کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ مولانا عیسیٰ منصوری حفظہ اللہ اپنے کتابچے ’’مولاناسعید احمد خان شخصیت ،احوال اور دینی خدمات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’حضرت مولانا کے مزاج میں عجیب جامعیت تھی۔ آپ کسی بھی دینی شعبے کی ناقدری یا اس کی اہمیت کم کرنے کو برداشت نہیں فرماتے تھے۔ فرماتے اگر اخلاص ہو تو دین کا کوئی کام بھی چھوٹا نہیں ہے۔ ساتھیوں کے بیان میں اگر کوئی ایسی بات محسوس فرماتے تو فوراً تنبیہ فرماتے۔ ایک بار ایک مولوی صاحب نے دعوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے غیر شعوری طور پر علم یا ذکر کے شعبے کا اس طرح ذکر کر دیا جس سے ان کے دعوت سے کم تر ہونے کا پہلو نکل سکتا تھا۔ فوراًبلا کر فرمایا کہ بعض مقررین حضور ﷺ کی سیرت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ آپ کے فضائل میں حضرات انبیاء علیہم السلام سے تقابل کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر حضورؐ کی سیرت وفضیلت کے بیان میں کسی بھی نبی میں نقص کا شائبہ بھی پیدا ہوا تو اس کے یہ معنی ہوا کہ نعوذ باللہ ہمارے نبیؐ ناقص نبیوں کے سردار وامام تھے۔ چاہئے کہ ہر نبی کا کمال وفضیلت ثابت کر کے پھر یہ ثابت کریں کہ ہمارے نبی ایسے کاملین اور فضیلت مآب گروہ کے سردار اور امام ہیں۔ اسی طرح بعض مقررین دعوت کی اہمیت اس طرح بیان کرتے ہیں جس سے علم یا ذکر کی تنقیص مترشح ہوتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ علم وذکر کی پوری اہمیت وفضیلت بیان کریں پھر کہیں کہ ایسے اوصاف والے لوگ دعوت میں لگیں تو نور علیٰ نور ہو جائے گا۔ دعوت کے کام کے اصل حق دار تو یہی لوگ ہیں۔‘‘

اس واقعے میں نہ صرف جماعت سے وابستہ افراد کے لیے بلکہ ہر دینی شعبہ کے ہر کارکن کے لیے غور وفکر کے بے حد سامان موجود ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر تنقید کو تنقیص ہی سمجھا جاتاہے۔ کیا مجال کہ کوئی ہماری جد وجہد اور دائرہ کار پر کوئی تنقید ی رائے دے یا اس کی کوئی خامی بتائے۔ یہ رویہ ہرگز درست نہیں۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں سید جمال الدین وقار صاحب کے مضمون ’’تبلیغی جماعت اوردین کا معاشرتی پہلو‘‘ کا شائع ہونا تھا کہ مختلف حلقوں میں چہ میگوئیوں شروع ہو گئیں اور مختلف احباب نے اپنی اپنی ذہنی سطح کے مطابق اس پر تبصرہ کیا۔ تبلیغی مرکز گوجرانوالہ سے جماعت سے وابستہ دو عالم دین میرے پاس تشریف لائے اور گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز میں علما کے جوڑ میں شرکت کی دعوت دی جسے راقم الحروف نے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا۔ بعد ازاں مذکورہ مضمون کے حوالے سے بحث چل پڑی اور خاصی طول پکڑ گئی۔ دونوں احباب نے اس سلسلے میں ’الشریعہ‘ کا موقف دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ ایک فورم ہے جہاں مختلف اصحاب فکرو دانش اپنی اپنی آرا وافکار کا اظہار کرتے ہیں، چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ الشریعہ میں شائع ہونے والی ہر تحریر سے ادارہ متفق ہو، اسی لیے ان آرا وافکار پر جو تنقیدی مضامین اور آرا موصول ہوتی ہیں، ان کو بھی من وعن شائع کردیا جاتاہے ۔ ضروری نہیں کہ ہر تنقید حقیقت پر ہی مبنی ہو، مگر یہ تو ایک حقیقت ہے کہ تنقیدی آرا کسی بھی کام اور جدوجہد کی کوتاہیوں کا جائزہ لینے اور بہتر منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ 

مولانا منصوری نے اپنے مندرجہ بالا کتابچہ میں ہی حسب ذیل واقعہ نقل کیا ہے:

’’حضرت مولانا کی تواضع اور کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی تنقید بھی قبول فرماتے۔ اس دو رمیں یہ چیز بالکل نایاب ہو گئی ہے۔ چند سال پہلے کی بات ہے، لندن تبلیغی مرکز کے خصوصی کمرے میں بندہ ملاقات کے لیے پہنچا۔ دیکھا مولانا کی پاکستانی جماعت کے رفقا اورانگلینڈ کے متعدد اہل شوریٰ تشریف فرما ہیں اور کوئی چیز پڑھی جا رہی ہے۔ سنا تو پتہ چلا کہ کسی بیاض (کاپی) میں سے مبشرات پڑھے جا رہے ہیں یعنی کسی جماعت نے حضور اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت کی۔ خواب میں حضرت مولانا کو حضور کے ہمراہ دیکھا وغیرہ وغیرہ۔ چند منٹ بعد بندہ نے عرض کیا حضرت آپ کی مجلس میں اس طرح مبشرات سننا سنانا مناسب نہیں۔ آپ یہ مبشرات بعض بزرگوں کے لیے خلفا کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ بزرگ الٹے سیدھے خواب دیکھتے ہیں اور انہیں چھاپ کریہاں ہمیں ابتلا میں ڈالتے ہیں۔ سنا ہے حضرت مولانا الیاسؒ نے دعا مانگی تھی اے اللہ ہمارے اس کام کو مبشرات اور کرامات پہ مت چلانا۔ یہ سننا تھا کہ اسی وقت حضرت مولانا نے بیاض بند کر دی۔ فرمایا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان مبشرات سے دل کو تقویت پہنچتی ہے مگر یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے بلکہ زیادہ اہم ہے۔ اس سے کئی فتنے پیدا ہو سکتے ہیں اس لیے عمومی طور پر مبشرات کے سننے سنانے سے احتیاط کرنی چاہئے۔ 
اسی طرح ایک بار انگلینڈ کے سالانہ اجتماع کے اختتام پر ڈیوزبری میں مختلف شہروں کی مساجد والی جماعتوں (روزانہ ڈھائی گھنٹے فارغ کرنے والے) احباب جمع تھے۔ ان میں حضرت مولانا نے بیان شروع فرمایا۔ کچھ دیر کے بعد فرمایا ہمیں اپنی قربانی کی مقدار کو بڑھانا چاہئے۔ روزانہ اڑھائی گھنٹے سے بڑھا کر آٹھ گھنٹے فارغ کرنے چاہئیں۔ بندہ بیان کے درمیان بول پڑا، حضرت یہ آ پ رہبانیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ اگر ایک شخص روزانہ آٹھ گھنٹے فارغ کر لے، اس کے ساتھ عصر سے اشراق تک جمعرات کا اجتماع، مہینے کے تین دن، سال کا چلہ، جماعتوں کی نصرت یہ سب ملا کر نصف سے زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ رہبانیت ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے اگر یہ واقعہ ہمارے ساتھ بھرے مجمع میں پیش آتا تو ہمارا کیا رد عمل ہوتا؟ بندہ کم از کم اپنی بابت کہہ سکتا ہے کہ میرا نفس تو اسے برداشت نہ کرتا۔ نہ جانے کیا کہہ دیتا۔ مگر حضرت مولانا نے مجھ جیسے معمولی طالب علم کی بات توجہ سے سنی اور قبول فرمائی۔ بعد میں مجھے اپنی اس حماقت پر سخت ندامت وافسوس ہوا کہ مجھے یہ اشکال تنہائی میں عرض کرنا چاہئے تھے مگر واہ مولانا سعید احمد خان، کیا بے نفسی کی انتہا ہے کہ پورے سکون وبشاشت سے اشکال سن رہے ہیں اور قبول فرما رہے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ کیا مولانا کے بعد اس کی مثال مل سکے گی؟
؂اس کوہ کن کی بات گئی کوہ کن کے ساتھ‘‘

راقم الحروف باربار یہ سوچتا ہے کہ ہم ایسے معتدل رویے پر قائم کیوں نہیں رہتے اور غلو کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟ ہمارا رویہ تو یہ ہونا چاہیے کہ دین کے کسی بھی شعبے میں کام کرنے والا کارکن اپنے دائرے میں کام کرتے ہوئے دین کے دوسرے شعبہ جات میں کی جانے والی محنت کی حوصلہ افزائی کرتارہے اور حتی الوسع اس میں حصہ ڈالنے کی کوشش کرے۔ امید اور خوف کے ساتھ اپنے کام میں مگن رہے اور کوئی بھی اپنی مقبولیت کا یقینی دعویٰ نہ کرے اس لیے کہ مقبولیت کا یقینی دعویٰ اس جہان میں کیا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ دار العمل ہے اور یہاں کے اعمال کا نتیجہ آخرت میں ظاہر ہوگا جو دار الجزا ہے۔ 

دین و حکمت

(اگست ۲۰۰۶ء)

اگست ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۸

اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ
مولانا محمد یوسف

معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اچھے استاد کے نمایاں اوصاف
پروفیسر شیخ عبد الرشید

مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

قورح، قارون: ایک بے محل بحث
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

لبنان کی صورت حال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

ذکر ندیم
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
محمد عمار خان ناصر

Flag Counter