اہانت اسلام کے واقعات اور مسلمانوں کا رد عمل

مولانا محمد یحیی نعمانی

ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اسلامی شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہر قسم کے حالات کے لیے رہنمائی اور نمونہ موجود ہے۔ خصوصاً ایسے اجتماعی مسائل جن کا تعلق پوری امت سے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق جیسے نازک مسائل سے ہو، ان میں ہمارا دینی فرض ہے کہ اللہ ورسول کی رہنمائی کے بغیر ایک قدم بھی نہ بڑھائیں۔ موجودہ زمانے میں اسلام اور رسول اللہ کے ناموس مبارک کی توہین کے ملعون واقعات بھی اسی زمرہ کی چیز ہیں۔ اب کون سمجھ دار ہوگا جو مغرب کے مہذب، معقولیت پسند اور روشن خیال ہونے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو، بے چارے نے اپنے چہرے پر پڑی ہر نقاب خود ہی نوچ کر پھینک دی ہے۔ نائن الیون کے بعد سے اس پر اسلام دشمنی کا جو ہسٹریا طاری ہے، وہ ہر فریب خوردہ کی آنکھیں کھول چکا ہے۔

مسلمان کے لیے اس کی سب سے قیمتی متاع اللہ اور رسول کی محبت اور دین کا احترام ہے۔ یہ بڑی قیمتی اور مبارک چیز ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے رسول کی عزت کی خاطر جاں سپاری کرنا اپنے لیے بڑی سعادت کی بات سمجھتا ہے۔ اسی جذبے سے ا س کی زندگی میں رونق وحسن ہے، یہی اس کے ایمان کا محافظ اور یہی اس کے لیے ابدی سعادت اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کا مزاج رہا ہے کہ وہ ہر تکلیف اپنی جان پر برداشت کر سکتے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کانٹا چبھے، یہ ان کے لیے ناقابل برداشت بات ہے۔ پھر کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ کے کارٹون بنائے جائیں، ان کی تضحیک کی جائے، معاذ اللہ ان پر سنگین اور گھناؤنی تہمتیں لگائی جائیں اور مسلمانوں کو سخت برا نہ لگے۔ یقیناًبرا لگنا، بلکہ شدید تکلیف واذیت محسوس کرنا فطری ہے۔ ایسا نہ ہو تو ایمان میں کمی ہے، لیکن اس تکلیف اور اذیت کے عالم میں کیا رد عمل ظاہر کرنا ہے؟ یہ خود اسی رسول سے سیکھنا اور اس کی سنت سے معلوم کرنا ہے جس نے صاف کہہ دیا تھا کہ مجھے ایسے ایمان والے مطلوب ہیں جو اپنے دل کی ہر خواہش کو میری ہدایات واحکام کے تابع کر دیں۔

رسول اللہ کے زمانے میں اہانت اسلام کی حرکتیں بھی واقع ہوتی ہیں اور توہین رسول کی لعنتیں بھی۔ آپ کو گالیاں بھی دی گئیں، یہاں تک کہ آپ کی پاکیزہ زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت عائشہؓ پر ملعون منافقین نے گھناؤنے الزام بھی لگائے۔ ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آپ نے مختلف موقعوں پر کیا طرز عمل اختیار فرمایا اور قرآن حدیث نے مسلمانوں کو کیا کرنے کا حکم دیا؟

۱۔ اسلامی شریعت میں مجرم کو قانونی سزا دینے کا اختیار (Authority) باقاعدہ قائم حکومت کو ہے، لہٰذا ایسی حرکت کا مجرم اسلامی ریاست کا باشندہ ہوا تو آپ نے اس کو سخت سزا دی۔ یہ ایک مشہور یہودی مجرم کعب بن الاشرف کا واقعہ ہے۔

۲۔ لیکن عبد اللہ ابن ابی ابن سلول نے جب ایسی حرکت کی اور آپ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اندازہ ہوا کہ اس سے فتنہ پیدا ہو جائے گا تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم، کتاب التوبہ، باب فی حدیث الافک)

اسی شخص کی اسلامی ریاست کے خلاف ایک ایسی ہی خطرناک سازش اور فتنہ انگیز حرکت پر بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ اس کو قتل کی وہ سزا دی جائے جو قانونی طور پر مقرر ہے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس سے لوگوں کو ہم کو بدنام کرنے اور یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں۔ (سنن ترمذی، تفسیر سورۂ منافقون)۔

آپ کے اس طرز عمل سے واضح راہنمائی ملتی ہے کہ اگر کسی ایسے مجرم کو سزا دینے سے فتنہ وخوں ریزی کا خطرہ ہو یا صورت حال ایسی ہو کہ اعدائے اسلام کو پروپیگنڈا اور بدنام کرنے کا موقع مل جائے گا اور اس پروپیگنڈے کے موثر اور کامیاب ہونے کا بھی اندیشہ ہو تو پھر ایسی حرکتوں پر اسلامی ریاست (قانونی اختیار ہونے کے باوجود) کوئی اقدام نہیں کرے گی۔

۳۔ اور اگر اہانت اسلام یا توہین رسول کے واقعات کا مجرم اسلامی ریاست سے باہر ہوتا تھا یا اس کو سزا دینا ممکن نہیں ہوتا تھا تو ایسی صورت میں آپ کا طرز عمل صرف اور صرف نظر انداز کر دینے اور صبر کرنے کا تھا اور یہی قرآن کا حکم تھا۔

مسلمان وہ امت ہیں جن کے پاس واضح رہنمائی اور خدائی احکام ہیں۔ قرآن نے مسلمانوں کو صاف آگاہ کیا تھا:

وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْا أَذًی کَثِیْراً وَإِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ (آل عمران:۱۸۶)
’’تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکین سے بہت سی دل دکھانے والی باتیں سنو گے، لیکن اگر تم صبر کرو گے او رتقویٰ پر قائم رہو گے تو یہ ہوگی مضبوطی اورہمت والی بات۔‘‘

یہ اہل کتاب مدینہ کی اسلامی ریاست میں رہتے تھے۔ مسلمان اس ریاست کا طاقتور اور مضبوط حصہ تھے، مگر دیکھیے قرآن کہہ رہا ہے کہ ایسی دل آزار حرکتوں کا جواب ہمت ودانش کے ساتھ اختیار کیا گیا صبر کا رویہ ہے اور اس کے ساتھ تقویٰ والی زندگی اور اس کی جدوجہد مسلمانوں کا اصل مشن ہے۔

عربوں کا میڈیا ان کی شاعری تھی۔ قصیدوں کے ذریعے جو ہجو کی جاتی تھی، برق رفتاری سے قبائل میں پھیل جاتی تھی۔ مکہ کے شعراء رسول اللہ کی ہجو کہتے تھے اور آپ کا نام بجائے ’’محمد‘‘ کے ’’مذمم‘‘ رکھتے تھے۔ محمد کے معنی ہیں قابل تعریف اور مذمم کے ’’قابل مذمت‘‘۔ آپ بڑی حکمت کے ساتھ صحابہ کرام کو دلاسہ دیتے اور فرماتے، دیکھو! اللہ ان کے سب وشتم سے مجھے کیسے بچا رہا ہے۔ وہ ’’مذمم‘‘ کو گالیاں دے رہے ہیں اور میں محمد ہوں۔ (بخاری)۔ یہ تھا رسول اللہ کا رد عمل۔ نہ اشتعال، نہ بے صبری، نہ اودھم کود۔

آزادئ اظہار مغرب کی محبوب شے ہے جس سے اس کو سب سے زیادہ عشق ہے۔ اس کی زد میں اگر عیسائیت بھی آتی ہے تو مغرب کو کچھ پروا نہیں ہوتی۔ وہاں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کے حق میں ہر خباثت ہوتی ہے اور یہ بدنصیب وگمراہ قوم اس کو اس آزادئ اظہار کے نام پر روا رکھتی ہے۔ 

اہانت اسلام کے ان واقعات کے کیا مقاصد ہیں؟ یہ جاننے کے لیے زیادہ ذہانت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب ان شاطر تنظیموں اور لابیوں کی کارستانی ہے جو مغرب میں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کی عام فضا پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ اہانت اسلام کی حرکتیں کرنے والے دیکھ رہے ہیں کہ ان حرکتوں کے ذریعے ان کا کام کتنی آسانی سے پورا ہو رہا ہے۔ ہر کچھ دنوں کے بعد وہ کوئی ایسی حرکت کر دیتے ہیں اور بس مسلمان جلوس نکال رہے ہیں، آگ لگا رہے ہیں، سفارت خانوں پر حملہ کر رہے ہیں اور اپنی ہی پولیس کی گولیاں اور لاٹھیاں کھا رہے ہیں اور اپنا اور اپنے بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں او ربڑی آسانی کے ساتھ میڈیا کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ مسلمان بے انتہا جھگڑالو اور اندھا دھند تشدد کے خوگر ہیں۔

کیوں مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان احتجاجوں اور مظاہروں اور مذمتی بیانات سے توہین اسلام کے مرتکبوں کا کچھ بگڑنے والا نہیں؟ اور وہ عقل سے نہیں سمجھتے تو سالوں کے لگاتار تجربات ان کو سبق کیوں نہیں دیتے کہ آج تک کے ان کے ان احتجاجوں کا الٹا ہی اثر ہوا ہے۔ کیا آج تک کسی احتجاج نے اس سلسلے کو روکا ہے؟ اگر ہم ان حرکتوں کو قرآن وسنت کی تعلیم کے مطابق مطلق نظر انداز کر دیتے تو ان کارٹونوں اور فلموں کو کتنے لوگ دیکھتے؟ بس چند ہزار۔ مگر افسوس یہ ہماری نادانی ہے کہ ہم ان کو پوری دنیا میں شہرت دے دیتے ہیں۔ خدایا میری قوم کو عقل دے دے۔

مسلمان جتنا مشتعل ہوتے ہیں اور ان حرکتوں پر جتنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہیں، مغربی میڈیا اتنا خوش ہوتا ہے اور اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، بلکہ وہ ان واقعات کو بھی اسی احتجاج کے کھاتے میں ڈالتا ہے جو کسی طرح اس سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ابھی تازہ امریکی فلم کے رد عمل میں مسلمانوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی لہر چلی، مغربی میڈیا نے افغانستان میں ناٹو کے اڈے پر طالبان کے حملے کی خبر دی تو بے حیائی کے ساتھ یہ جھوٹ بولا کہ یہ حملہ فلم پر احتجاج میں کیا گیا۔ کابل میں ایک خود کش حملے میں حملہ آور مغربی ملکوں کے افراد مارے گئے تو بھی یہی کہا گیا کہ یہ فلم کا بدلہ لیا گیا ہے۔ غور کیا جائے تو اکیلی یہ بات ہی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ یہ احتجاج ان مفسدوں اور دشمنوں کے کتنے کام کی چیز ہے۔ مگر افسوس مسلمانوں کے اندر عقل وشعور کی کتنی کمی ہے۔ ان کو جو دشمن جب چاہے، جس طرح چاہے، کھلونا بنا لے اور مزہ دیکھے۔

اہانت اور سب وشتم کرنے والے سے صرف نظر، کوئی مجبورانہ فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ اگر دانش مندی سے کیا جائے تو یہ ایک کامیاب حکمت عملی ہوتی ہے جو جھوٹے الزام کو دفن بھی کر دیتی ہے اور بدگو اور بد باطن دشمن کو انسانیت کی آنکھوں میں ذلیل بھی۔ اسی سے ہمدردیاں حاصل ہوتی ہیں اور اسی سے اسلام اور رسول اسلام کی عزت بھی بڑھتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے اس کو ’’عزم الامور‘‘ یعنی مضبوطی اور ہمت کی بات کہا ہے۔

اگر مسلم عوام کی جذباتیت اور بے شعوری پر نہایت افسوس ہے تو اس سے کہیں زیادہ الم ناک واندوہناک یہ بات ہے کہ اکثر وبیشتر ایسے احتجاجی مظاہرے مسلم سیاسی گروہوں کی خالص خود غرضانہ سیاست کا موضوع بن گئے ہیں۔ رسول اللہ کے نام پر اور اسلام کی عزت کے نام پر بری طرح مفادات کی سیاست ہو رہی ہے۔ کیسے کہا جائے کہ عوام کی بے شعوری سے زیادہ مسلمانوں کے قائدین کی یہ بے غیرتی خطرناک ہے کہ وہ ناموس رسول پر بھی اپنی سیاسی دکان چمکانے سے نہیں چوکتے!

جس قوم کی قیادت ایسی ہو، وہ یقیناًاپنے عیار دشمنوں کے لیے سدا نرم چارہ ثابت ہوگی اور ہر داؤ میں چت ہوگی۔ قیادت کا تو کیا رونا کہ وہ تو ہماری بد قسمتی ہی بن گئی ہے، مگر حیرت کی انتہا نہیں کہ اس وقت علماء دین بھی سامنے نہیں آئے کہ یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے، یہ سراسر حماقت اور الٹا دشمن کے مقاصد کو پورا کرنے والی بات ہے۔

دین و حکمت