عقل حاکم اور عقل خادم کا امتیاز

محمد عمار خان ناصر

زنا یعنی جنسی تسکین کو معاشرتی حدود وقیود سے مقید کیے بغیر جائز قرار دینے کے حوالے سے بعض مسلمان متکلمین نے  یہ دلچسپ بحث اٹھائی ہے کہ شرعی ممانعت سے قطع نظر کرتے ہوئے، کیا یہ عمل عقلا بھی قبیح اور قابل ممانعت ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں حنفی فقیہ امام جصاص اور شافعی فقیہ امام الکیا الہراسی کے ہاں  دو مخالف زاویہ ہائے نگاہ  کی ترجمانی ملتی ہے۔ جصاص کا کہنا ہے کہ زنا عقلا قبیح ہے، کیونکہ اس کی زد بچے کے نسب اور کفالت وغیرہ کے معاملات پر پڑنا ناگزیر ہے، اس لیے ان سوالات سے مجرد کر کے مرد وعورت کے باہمی جنسی استمتاع کو درست قرار دینا انسانی معاشرے کے مصالح کے لحاظ سے عقلا بھی درست نہیں۔

الکیا الہراسی اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ نسب کے ثبوت کی ضرورت کچھ شرعی احکام پر عمل کے لیے پیش آتی ہے، اگر وہ نہ ہوں تو محض عقلا نسب کی پہچان لازم نہیں۔ رہا یہ سوال کہ پھر بچے کی پرورش اور کفالت کا کون ذمہ دار ہوگا تو الکیا الہراسی کہتے ہیں کہ اگر بچے کا باپ معلوم ہو تو بھی اس کے نطفے سے بچے کی پیدائش ہونے سے عقلا یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی کفالت کا بھی وہی ذمہ دار ہو۔ یہ ذمہ داری بھی شرعا ہی لازم ہے، جبکہ شرعی حکم نہ ہونے کی صورت میں لوگ دوسرے عقلی طریقوں سے اس کی تدبیر کرنے کے پابند ہوتے کہ نسل انسانی کے بقا کو کیسے یقینی بنائیں۔ اس استدلال کی روشنی میں الکیا الہراسی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر شرعی حکم نہ ہو تو زنا عقلا قبیح نہیں، بلکہ بالکل جائز ہے، کیونکہ عورت کی رضامندی سے اس سے جنسی استمتاع کرنے میں نہ تو دونوں میں سے کسی کا نقصان ہے اور نہ یہ ظلم ہے۔ اس کی تائید میں الہراسی اہل عرب کے عرف کا حوالہ بھی دیتے ہیں جن کے ہاں زمانہ جاہلیت میں زنا اور اس سے حصول اولاد کی مختلف صورتیں رائج تھیں۔

جصاص اور الکیا الہراسی کے مذکورہ اختلاف سے ہمارے سامنے عقل کی ان دو نوعیتوں کے امتیاز کو سمجھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے جس کا ذکر معاصر عرب فلسفی عابد الجابری نے اپنی معروف کتاب ’’تکوین العقل العربی“ میں فرانسیسی فلسفی آندرے لالاند کے حوالے سے کیا ہے۔ لالاند نے عقل کی ان دو صورتوں کو فرانسیسی میں La raison constituante اور La raison constituee کا عنوان دیا ہے جس کا ترجمہ عابد الجابری عربی میں ’’العقل السائد“ اور ’’العقل الفاعل“سے کرتے ہیں۔ اردو میں ہم انھیں، بالترتیب، ’’ عقل حاکم“ اور ’’عقل خادم“سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ’’ عقل حاکم“ سے مراد وہ تمام اساسی تصورات، عقائد اور اصول وقواعد ہوتے ہیں جو کسی قوم میں عمومی طور پر مانے جاتے ہیں، جبکہ ان کی روشنی میں زندگی کے روز مرہ امور میں جس عقل کو استعمال کرتے ہوئے مخصوص نتائج تک پہنچا جاتا ہے، وہ ’’ عقل خادم“ ہوتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں ’’ عقل خادم“ صرف اخذ نتائج کی صلاحیت کا عنوان ہے جو انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور یہ صلاحیت تمام انسانوں میں ایک جیسی اور مشترک ہوتی ہے، جبکہ ’’ عقل حاکم“  کائنات، زندگی اور معاشرت وغیرہ سے متعلق ان بنیادی تصورات کا مجموعہ ہوتی ہے جنھیں کوئی قوم یا تہذیب مختلف اسباب سے اختیار کر لیتی ہے اور پھر انھی کے تحت تمام جزوی نتائج اخذ کرتی چلی جاتی ہے۔ عقل خادم کے برعکس، عقل حاکم کا سارے انسانوں میں مشترک ہونا ضروری نہیں، بلکہ مختلف قوموں اور تہذیبوں کی عقل حاکم مختلف ہو سکتی ہے۔ جب ہم ’’یونانی عقل“، ’’مسلم عقل“ اور ’’مغربی عقل“ جیسی تعبیرات استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد یہی عقل حاکم ہوتی ہے، کیونکہ عقل خادم کی سطح پر ایسے کسی قومی یا تہذیبی امتیاز کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

اس تنقیح کی روشنی میں زنا کے عقلی جواز یا عدم جواز کے حوالے سے جصاص اور الکیا الہراسی کے اختلاف کو سمجھیے تو جصاص دراصل ’’عقل  خادم“ کی سطح پر زنا کی عقلی قباحت کو واضح کرنا چاہ رہے ہیں جس میں نسب کی حفاظت، رشتوں کی حرمت اور صلہ رحمی وغیرہ کی ذمہ داریاں پہلے سے تسلیم شدہ ہیں یعنی ’’ عقل حاکم“ کا حصہ ہیں اور ان کو مان لینے کے بعد زنا کی قباحت واقعتا عقلی طور پر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف الکیا الہراسی سوال کو عقل متحرک سے اٹھا کر ’’ عقل حاکم“ کی سطح پر لے جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس سطح پر اگر شریعت کے حکم کو فیصلہ کن حیثیت میں نہ مانا جائے تو بتائیے، کون سی چیز ہے جو صرف عقل کی بنیاد پر ایک اساسی اصول کے طور پر یہ طے کرتی ہو کہ نسل انسانی کی بقا کے لیے نسب کی حفاظت اور خاندان کی تشکیل کا طریقہ ہی واحد اور لازم طریقہ ہے؟

لالاند نے ’’عقل حاکم“ اور ’’عقل خادم“ کا فرق واضح کرتے ہوئے ایک بہت اہم بات یہ بھی کہی ہے کہ ’’عقل حاکم“ کی تشکیل بھی ’’عقل خادم“ ہی کے ذریعے سے ہوتی ہے، یعنی کوئی قوم مشاہدہ اور استنتاج واستنباط کی مشترک انسانی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے حیات وکائنات سے متعلق کچھ بنیادی نتائج تک پہنچتی ہے۔ پھر اصول وتصورات کا یہ مجموعہ اس کے لیے ’’عقل حاکم“ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور بعد کے مراحل میں اس کی ’’عقل خادم“ خود اپنی ہی تشکیل دی ہوئی ’’عقل حاکم“ کے تحت اور اسی کے دائرے میں مسائل واحکام اخذ کرنے کا وظیفہ انجام دیتی رہتی ہے۔ تفہیم کے لیے، عقل کے اس دوہرے عمل کو دستوری زبان میں آئین وضع کرنے اور پھر اس کی روشنی میں قانون سازی کے عمل سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ایک خود مختار پارلیمان کسی نئے ملک کی تشکیل کے مرحلے میں ملک کے نظم ونسق سے متعلق ایک بنیادی دستوری ڈھانچہ وضع کرتی ہے جو اس کی اپنی ہی تخلیق ہوتا ہے، اور پھر اس کے بعد وہی پارلیمان انھی دستوری حدود وقیود کے دائرے میں قانون سازی کے عمل کو جاری رکھتی ہے۔

یہاں دو سوال اہم ہیں:

ایک یہ کہ اگر عقل خادم کسی بھی مرحلے میں معطل نہیں ہوتی اور ’’عقل حاکم“ کی تشکیل بھی اسی کی مرہون منت ہوتی ہے تو پھر عقل حاکم اور عقل خادم  کے امتیاز کی سرے سے ضرورت اور معنویت ہی کیا ہے؟ یعنی اس سارے عمل کو ہم سادہ طور پر ’’عقل “ ہی کی سرگرمی سے کیوں تعبیر نہیں کر دیتے؟

دوسرا یہ کہ عقل خادم کی تعریف اگر یہ ہے کہ یہ ’’مانے ہوئے“ مفروضات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت کا نام ہے تو سوال یہ ہے کہ ’’عقل حاکم“ کی تشکیل کے بعد تو ’’عقل خادم“ کے لیے نقطہ حوالہ (یعنی پوائنٹ آف ریفرنس) ’’عقل حاکم“ بن جاتی ہے، لیکن عقل حاکم کی تشکیل کرتے ہوئے عقل کن بنیادوں پر انحصار کرتی ہے، یعنی خود عقل حاکم کی تشکیل کا عمل، عقل کن اصولوں کی روشنی میں انجام دے پاتی ہے؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ عقل خادم، ان دونوں مرحلوں میں کام کر رہی ہوتی ہے، لیکن دونوں صورتوں میں اس کے تحرک کی نوعیت جوہری طور پر مختلف ہوتی ہے۔ عقل حاکم کے دائرے میں آنے والے سوالات کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

ایک حصہ وہ ہے جس میں عقلی تحرک کی غایت درپیش سوالات کو مستقل بنیادوں پرطے کرنا ہوتا ہے اور یہ سرگرمی وجودی سطح پر اوربہت ہی فوری نوعیت کی ہوتی ہے۔ عقلی سرگرمی کا یہ ہنگامی پن انسانی شعور کی ساخت اور اس کے وجودی احوال، دونوں سے پیدا ہوتا ہے۔ انسانی شعور زندگی کی معنویت سے متعلق کچھ بنیادی سوالات کا فوری اور فیصلہ کن جواب چاہتا ہے اور اسے زیادہ لمبے عرصے تک موخر رکھنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ تاخر کا یہ مرحلہ وجودی بے چینی کا مرحلہ ہوتا ہے جسے مستقل طور پر برداشت کرنا شعور انسانی کی طاقت سے باہر ہے۔ پھر اپنے وجودی احوال کے لحاظ سے انسان کو ٹھوس مادی نوعیت کے مطالبات سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے اور ان کے روبرو اپنی سعی وکاوش کو رو بہ عمل کرنے کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے کہ بنیادی سوالات کا ایک متعین جواب طے کیا جا چکا ہو۔

پس ایک تارک الدنیا سادھو یا ایک محو تفکر فلسفی تو یہ کر سکتا ہے کہ ہمیشہ ان سوالات پر مراقبے کی کیفیت میں رہے، لیکن معاشرت کی سطح پر زندگی کا تسلسل قائم رکھنے کے تقاضے بنیادی سوالات کے حوالے سے گومگو کی کیفیت میں پورے نہیں کیے جا سکتے۔ چنانچہ اس مرحلے پر عقل مجبور ہوتی ہے کہ سوالات کا ایک جواب طے کرے اور پھر اسے ’’مفروغ عنہ“ قرار دے کر اگلے مراحل کی طرف متوجہ ہو جائے جو لامتناہی اور تسلسل وتغیر سے عبارت ہیں۔ جوابات کا یہ مجموعہ ’’عقل حاکم“ کا وہ بنیادی حصہ قرار پاتا ہے جو اگرچہ عقل خادم ہی کی سرگرمی سے وجود پذیر ہوتا ہے، لیکن خود عقل خادم انھیں ایک دفعہ طے کر کے اور مابعد کی ساری سرگرمیوں کے لیے بنیاد کا درجہ دے کر آگے بڑھ جانا چاہتی ہے، اس لیے اسے ایک الگ کیٹگری شمار کرنا منطقی اصولوں کا ایک لازمی مقتضا ہے۔

عقل حاکم کے دائرے میں تصورات ومسلمات کا دوسرا حصہ وہ ہوتا ہے جس کی تشکیل پہلے حصے کی طرح urgent نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک طویل تاریخی سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مثال کے طور پر عالم غیب پر یقین، انسانی معاملات کا کسی ماورا ہستی کے ارادہ ومنشا کے تابع ہونا اور موت کے بعد کسی نہ کسی صورت میں زندگی کے تسلسل وغیرہ جیسے تصورات اگر عقل حاکم کے پہلے دائرے سے متعلق ہیں تو انسانی معاشرت کی تنظیم کی بنیاد بننے والے مختلف تصورات اور اصول واقدار کو ہم عقل حاکم کے دوسرے دائرے میں شمار کر سکتے ہیں جنھوں نے معاشرت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ خاص شکل اختیار کی ہے اور بسا اوقات صدیوں کے سفر کے بعد ان تصورات کے مجموعے نے وہ خاص سانچہ بنا دیا جسے کسی قوم یا تہذیب کا امتیازی انداز فکر یا طرز زندگی سمجھا جاتا ہے۔

دوسرا سوال جو ہماری موجودہ گفتگو کے سیاق میں بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہے، یہ ہے کہ ’’عقل حاکم“ کی تشکیل کے لیے وہ کون سے شعوری وسائل ہیں جو عقل خادم کو دستیاب ہوتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جو ان شعوری وسائل کی مدد سے متعین جوابات تک پہنچنے کے عمل کو ایک خاص رخ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں؟ خاص طور پر یہ کہ انسانی شعور کے عمومی وسائل وآلات (وجدانی احساسات، جذبات، منطقی تصورات، محسوسات وتجربات) کے علاوہ مذہبی علم یا وحی کا اس میں کیا کردار ہو سکتا ہے یا تاریخی طور پر رہا ہے اور اس خاص ذریعہ علم کی، عام انسانی ذرائع علم کے ساتھ تعامل کی نوعیت کیا ہے؟

اس سوال کا جواب ٹھیک طریقے سے سمجھ لینا اس اختلاف کے ممکنہ حل کی بھی ایک کلید فراہم کرتا ہے جو عقل وشرع کے باہمی تعلق کے حوالے سے مسلمان متکلمین کے مابین پایا جاتا ہے۔ ہماری رائے میں اس بحث میں عقل حاکم اور عقل خادم  کا امتیاز بہت بنیادی ہے اور اس نکتے پر کماحقہ توجہ نہ دیے جانے کے باعث یہ سوال اسلامی علمیات میں کافی الجھ سا گیا ہے۔ ان شاء اللہ کسی آئندہ نشست میں اس پر نسبتا تفصیل سے کچھ معروضات پیش کی جائیں گی۔

دین و حکمت

(جنوری ۲۰۲۱ء)

جنوری ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۱

عقل حاکم اور عقل خادم کا امتیاز
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۲)
ڈاکٹر محی الدین غازی

خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام
ڈاکٹر عرفان شہزاد

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حورانِ بہشتی کے قرآنی اوصاف وخصائل
مولانا محمد عبد اللہ شارق

فتوی و قضاء میں فرق اور مسئلہ طلاق میں بے احتیاطی
مفتی عبد اللہ ممتاز قاسمی سیتامڑھی

مدرسہ طیبہ میں سالانہ نقشبندی اجتماع
مولانا محمد اسامہ قاسم

Flag Counter