نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کی اہمیت

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

(حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہ لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز کا تعلق علماے لدھیانہ کے معروف خاندان سے تھا جس نے تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت میں ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ وہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نور اللہ مرقدہ کے شاگرد تھے، جبکہ ان کے فرزند حضرت مولانا عبد الواسع لدھیانوی کا شمار مجلس احرار اسلام کے سرکردہ راہ نماؤں میں ہوتا تھا اور ان کے ایک فرزند حضرت مولانا علامہ محمد احمد لدھیانوی جمعیۃ علماے اسلام پاکستان کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی تقسیم ہند کے بعد لدھیانہ سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ تشریف لائے اور دار العلوم نعمانیہ کے نام سے دینی درس گاہ قائم کی، جبکہ مختلف عنوانات پر ان کی گراں قدر تحریرات بھی شائع ہوتی رہی ہیں اور حالات حاضرہ کے پیش نظر علماے کرام کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے رہنا ان کا خصوصی ذوق تھا۔ ان کے پوتے اور ’الشریعہ‘ کی مجلس ادارت کے رکن پروفیسر میاں انعام الرحمن نے ان کی مطبوعہ وغیر مطبوعہ تحریرات کو پرانے ریکارڈ سے نکال کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جنھیں برکت واستفادہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ رئیس التحریر)


ہمارے سامنے دو چیزیں پیش کی گئی ہیں: تقدیر اور تدبیر۔ تقدیر میں عوام کو غوروخوض کرنے سے روکا گیا ہے ، لیکن سمجھ دار لوگوں نے اس کو جس عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے اور حل کیا ہے ، اس کو آگے چل کر اپنے موقع پر بیان کیا جائے گا ۔ دوسری چیز یعنی تدبیر ، اس کے اختیار کرنے کا بندے کو تاکید سے حکم دیا گیا ہے ۔ تدبیر کیا ہے؟ تدبیر ہے کسی مقصد کے حاصل کرنے کے لیے اس کے ذرائع اور اسباب کو کام میں لانا۔ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ذرائع اور اسباب میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ ان کی تاثیر اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور ایک صداقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ انسان جب شعور کے درجہ کو پہنچتا ہے، اس کے سامنے دو چیزیں پیش ہوتی ہیں: دین اور دنیا۔ ان دونوں سے خالقِ کائنات نے دنیا کو ذریعہ کا درجہ دیا ہے اور دین کو اصل اور مقصد قرار دیا ہے۔ اور یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہر علم کی فضیلت اور بلندی اس کے معلوم کے فائق اور افضل ہونے سے ہوتی ہے۔ پس جب کہ دین ( جو مقصودِ اصلی ہے) دنیا سے (جو محض ذریعہ ہے) افضل اور اعلیٰ ثابت ہوا تو علمِ دین بھی علمِ دنیا سے یقیناًافضل اور درجہ میں مقصودِ اصلی ثابت ہوا۔ یہ بھی یقین کر لینا ضروری ہے کہ بے شک علمِ دین علمِ دنیا کے اعتبار سے مقصودِ اصلی ہے، لیکن عمل کے لیے یہ بھی ذریعہ ہے، کیونکہ علم سے مقصود عمل ہے۔ اگر علم ہو اور اس کے مطابق عمل نہ ہو تو یہ ایسا ہے کہ جسم ہو مگر اس میں جان نہ ہو ۔ 

دینِ اسلام میں ایمان کے ساتھ اعمالِ صالح کو نجات اور دخول جنت کے اسباب کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے ۔ عملِ صالح کیا ہے؟ اس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ جو عمل اللہ تعالیٰ کے حکم اور رضا مندی کے تحت ہو اور ساتھ ہی نبی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اور متابعت سے کیا گیا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ اعمالِ صالحہ کا کیا جانا علومِ دین حاصل کیے بغیر ممکن نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ اعمالِ صالحہ کے حاصل ہونے کے لیے ہر مکلف کو علمِ دین بقدرِ ضرورت حاصل کرنا لازمی اور ضروری ہے۔ ایمان، اسلام، اعمالِ صالحہ اور معروفات و منکراتِ شرعیہ کا علم حاصل کرنا اور پھر علم کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں میں عمل کرنا ہر ایک مرد و عورت مسلم پر لازمی اور ضروری ہے۔ اب مذکورہ بالا امور میں عام غورو فکر کرنے کے بعد ایک مسلمان مبصر کے لیے سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ ان تمام مسلم مردوں اور عورتوں سے جن کے نام اسلامی ہیں اور سرکاری رجسٹروں و دیگر دفتروں میں بھی ان کو مسلمان درج کیا ہوا ہے، ان میں سے کس قدر مسلمان ہیں جو کہ عنداللہ و عند الرسول بھی واقعہ میں مسلمان ہیں؟ افسوس کہ مسلمان کس قدر اپنی اصلیت اور حقیقت سے جدا ہو چکے ہیں ۔

مسلماں گشتی و آگاہ نیستی
مسلمانی چیست و تو خود کیستی 

(’’تم مسلمان تو ہو گئے ہو لیکن اس سے آگاہ نہیں ہو کہ مسلمانی کیا چیز ہے اور تمھارے طور اطوار کیا ہیں۔‘‘)

ہمارا اسلام سے دور نکلتے جانا اور اسلامیات میں کمزور ہوتے جانا، یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے تفکر کی ضرورت نہیں، محض عقلِ عام رکھنے والا ایک عامی بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ مگر یہ نامساعد حالات کی طاقت کا کرشمہ ہے کہ ایسی واضح بات کو سمجھانے کے لیے بھی دلائل کی ضرورت پیش آ رہی ہے اور دلائل کے زور سے بھی اس کو دلوں میں اتارنا مشکل ہو رہا ہے۔ دین اور علومِ دین کی ضرورت کے متعلق آج گفتگو کرنا عام مسلمانوں کے تخیل اور مجالس سے خارج ہو چکا ہے۔ اب ہم مسلمانوں کی دنیا بھی غیر مسلموں کی طرح دین پر، اور غیر اسلامی و دنیاوی علوم، علومِ اسلام سے افضل اور مقدم ہو چکے ہیں۔ اب ہم اسی چیز کو اپنے لیے ضروری اور مفید سمجھتے ہیں جس میں دنیا کا کوئی فائدہ ہو ۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انفِرُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ (التوبۃ۹، آیت ۳۸)
’’ اے ایمان والو! تم کو کیا ہوا، جب تم سے کہا جاتا ہے کہ کوچ کرو اللہ کی راہ میں تو گرے جاتے ہو زمین پر۔ کیا خوش ہوگئے دنیا کی زندگی پر آخرت کو چھوڑ کر؟ سو کچھ نہیں نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلہ میں مگر بہت تھوڑا۔‘‘ 

وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (الانعام۶، آیت ۳۲)

’’ اور نہیں ہے زندگانی دنیا کی مگر کھیل اور جی بہلانا، اور آخرت کا گھر بہتر ہے پرہیز گاروں کے لیے۔ کیا تم نہیں سمجھتے؟‘‘ 

ہم اس سبق کو جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا تھا، بھول بیٹھے ہیں بلکہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ علمِ دین پڑھ کر کریں گے کیا؟ اُف، ایک مسلمان کی زبان سے یہ بات کس قدر روح فرسا اور مضحکہ خیز ہے۔ مسلمان اپنے مقصدِ حیات سے کس قدر دور جا پڑے ہیں۔ غلط تربیت اور غیر اسلامی علوم کا حصول اور غیر جنس کی محبت کا یہی نتیجہ ہوا کرتا ہے ۔

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی 

بے شک مسلمان کے لیے دین اور دنیا دونوں ضروری ہیں مگر ضرورت، ضرورت میں بین فرق ہے۔ دنیا اس لیے ضروری ہے کہ ذریعہ زندگی ہے اور دین اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان کا مقصد ہے اور اس کی زندگی اسی لیے صرف اسی لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو درحقیقت مومنوں کے ہی لیے پیدا کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے آخرت کے مالک بنیں ۔ غیر مسلموں کو تو ان کی وجہ سے روزی مل رہی ہے۔ قیامت جب ہی آئے گی جب ایک بھی مومن نہیں رہے گا ، یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے):

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّہِ الَّتِیَ أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالْطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ہِیْ لِلَّذِیْنَ آمَنُواْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (الاعراف۷، آیت ۳۲)
’’ تو کہہ:کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو اس نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی؟ تو کہہ: یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں، خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن۔ اسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں ۔‘‘ 
تشریح : ’’یعنی منع کام میں خرچ نہ کرے، باقی کھانا پینا سب روا ہے۔ جو نعمت ہے، سو مسلمان کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ دنیا میں کافر بھی شریک ہو گئے، آخرت میں صرف انہی کو ہے۔‘‘ ( شاہ عبدالقادر ؒ ) 

کون کہتا ہے کہ مسلمان دنیا نہ کمائے؟ دنیا کا حاصل کرنا تو اس کو بھی ضروری ہے بلکہ اس لیے ضروری ہے کہ اسی کی اپنی چیز ہے اور اسی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ مسلمان کو دنیا کے کمانے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس کے کمانے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن مسلمان، صرف مسلمان کو اس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ اس کا اپنا وجود اور اس کی زندگی دنیا اور صرف دنیا کے لیے ہے یا کسی اور اعلیٰ و بلند مقصد کے لیے ہے؟ دنیا بری نہیں، دنیا کا نشہ برا ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کی عبادت اور قربانی اور زندگی اور موت، اللہ رب العالمین کے لیے ہو اور جو مسلمان ہی زندہ رہنا چاہتا ہو اور مسلمان ہی مرنا چاہتا ہو اور جس کی یہ تمنا ہو کہ میں اور میری نسل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی راہ راست پر قائم رہیں۔ اور جو مسلمان صرف دنیا کے لیے اور ملازمتوں اور عہدوں کے لیے مسلمان ہیں، پس نہ وہ واقعتا مسلمان ہیں اور نہ وہ ہمارے مخاطب ہیں۔ ایسے مسلمان خود اپنے اوراپنی نسل کے بد خواہ اور دشمن ہیں۔ یہ لوگ اسلامیات سے عاری ہیں اور اپنی نوخیز نسلوں کو خود اپنے ہاتھوں ہلاک و برباد کر رہے ہیں۔ 

برادرانِ اسلام! نفس و شیطان اور دنیا کے فریب میں نہیں آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاتم الکتب کتاب قرآن مجید میں صاف صاف بیان فرمادیا ہے کہ میری جناب میں دنیا کی کوئی بھی چیز، جس کا حصول میری اجازت کے تحت نہیں ہو گا، اور مومن کا کوئی بھی عمل جو میرے دین کے خلاف ہو گا، اور کسی کی سفارش جبکہ اعمالِ مطلوبہ ساتھ نہیں ہوں گے ، ان میں سے کوئی چیز بھی قابلِ قبول نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے کسی بندے پر بھی ظلم کو، فریب کو اور بے عزتی کو جائز نہیں کرتا، اور میں نے بے حیائی و بد کاری کو حرام قرار دے دیا ہے اور میں اپنے حق میں شرک کو ہر گز معاف نہیں کروں گا ۔ میرے نزدیک بندوں میں سے مسلم اور غیر مسلم، مسلموں میں سے فرماں بردار اور نافرمان، بدی اور نیکی، حلال اور حرام، پاک اور پلید، صدق اور کذب، علیٰ ہذا ہر دو متضاد چیزیں یکساں درجہ نہیں رکھتیں۔ میں ذرہ برابر بھی بے انصافی نہیں کروں گا اور نہ ذرہ برابر انصاف سے محروم کروں گا : 

فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْراً یَرَہُ وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَرَہُ (الزلزال۹۹، آیات ۷و ۸)
’’سو جس نے کی ذرہ بھر بھلائی، وہ دیکھ لے گا اسے اور جس نے کی ذرہ بھر برائی، وہ دیکھ لے گا اسے ۔‘‘

جو کہا جا چکا ہے بدلا نہیں جائے گا :

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (ق۵۰، آیت ۲۹)
’’ بدلتی نہیں بات میرے پاس اور میں ظلم نہیں کرتا بندوں پر۔‘‘ 

تمام کائنات پر میری حکومت ہے اور ایک ذرہ بھی میرے قبضہ سے باہر نہیں، مگر میں مجرم کو جلدی نہیں پکڑتا بلکہ ڈھیل دیتا ہوں اور توبہ کے لیے موقع دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نہ بدلنے والے فیصلہ جات کو عقلیت اور حکمت (فلسفہ) کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور انسانیت عامہ پر حجت اور دلیل قائم کر دی ہے۔ فرماتے ہیں :

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْْہَا مَلَاءِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا یَعْصُونَ اللَّہَ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُونَ (التحریم۶۶، آیت ۶)
’’اے ایمان والو بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر، اس پر مقرر ہیں فرشتے تند خو زبردست، نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے ان کو، اور وہی کام کرتے ہیں جو ان کو حکم ہو ۔‘‘ 
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا ہَلْ أَدُلُّکُمْ عَلَی تِجَارَۃٍ تُنجِیْکُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَتُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنفُسِکُمْ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ وَمَسَاکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ وَأُخْرَی تُحِبُّونَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (الصف۶۱، آیات ۱۰ تا ۱۳)
’’اے ایمان والو! میں بتلاؤ ں تم کو ایسی سوداگری جو بچائے تم کو ایک عذاب دردناک سے؟ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور لڑو اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنی جان سے۔ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ بخشے گا وہ تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر۔ یہ ہے بڑی مراد ملنی۔ اور ایک اور چیز دے گا جس کو چاہتے ہو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح جلدی، اور خوشی سنا دے ایمان والو ں کو۔‘‘ 
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تُلْہِکُمْ أَمْوَالُکُمْ وَلَا أَوْلَادُکُمْ عَن ذِکْرِ اللَّہِ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاکُم مِّن قَبْلِ أَن یَأْتِیَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِیْ إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَکُن مِّنَ الصَّالِحِیْنَ وَلَن یُؤَخِّرَ اللَّہُ نَفْساً إِذَا جَاء أَجَلُہَا وَاللَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المنافقون۶۳، آیات ۹ تا ۱۱)
’’ اے ایمان والو! غافل نہ کر دیں تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے۔ اور جو کوئی یہ کام کرے تو وہی لوگ ہیں ٹوٹے میں۔ اور خرچ کرو کچھ ہمارا دیا ہوا اس سے پہلے کہ آ پہنچے تم میں کسی کو موت۔ تب کہے اے رب، کیوں نہ ڈھیل دی تو نے مجھ کو ایک تھوڑی سی مدت کہ میں خیرات کرتا اور ہو جاتا نیک لوگوں میں؟ اور ہر گز نہ ڈھیل دے گا اللہ کسی جی کو جب آ پہنچا اس کا وعدہ، اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو ۔‘‘ 
إِنَّ اللّٰہَ اشْتَریٰ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَیْْہِ حَقّاً فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفیٰ بِعَہْدِہِ مِنَ اللّہِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَیْْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُم بِہِ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (التوبۃ ۹، آیت ۱۱۱)
’’ اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں، پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں۔ وعدہ ہو چکا اس کے ذمہ پر سچا توریت اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے قول کا پورا اللہ سے زیادہ؟ سو خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے کیا ہے اس سے اور یہی ہے بڑی کامیابی ۔‘‘ 
لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْْءٍ فَإِنَّ اللّہَ بِہِ عَلِیْمٌ (آل عمران ۳، آیت ۹۲)
’’ہر گز نہ حاصل کر سکو گے نیکی میں کمال جب تک نہ خرچ کرو اپنی پیاری چیز سے کچھ، اور جو چیز خرچ کرو گے سو اللہ کو معلوم ہے۔‘‘
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ (البقرۃ ۲،آیت ۱۵۵)
’’اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے، اور خوش خبری دے ان صبر کرنے والوں کو ۔‘‘ 
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیْہِ وَأُمِّہِ وَأَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہِ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَأْنٌ یُغْنِیْہِ (سورۃعبس۸۰، آیات ۳۴ تا ۳۷)
’’جس دن کہ بھاگے مرد اپنے بھائی سے اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے، ہر مرد کو ان میں سے اس دن ایک فکر لگا ہوا ہے جو اس کے لیے کافی ہے ۔‘‘ 

قرآن مجید اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حجت انسان خصوصاً مسلمان کے لیے قوی اور مضبوط نہیں ہو سکتی۔ پس جو شخص نقلِ صادق اور عقلِ سلیم کے پیش کردہ دلائل سے ہدایت اور نصیحت حاصل نہیں کرتا ، وہ معاند اور دیدہ و دانستہ منکر ہے : 

فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ أَلَیْْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ (التین ۹۵، آیات ۷و۸)
’’پھر تو اس کے پیچھے کیوں جھٹلائے بدلہ ملنے کو؟ کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم ؟‘‘ 

فما یکذبک میں لفظ ’ما‘ کے حسنِ استعمال پر غور کرو ، اس نے انسانی ضلالت کی اصل حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔ اس سے صاف کھل گیا کہ انسان نے انکار کی راہ ہمیشہ تقلید و عناد کی بنا پر اختیار کی ہے، دلائل و شہادات نے کبھی اس راہ میں اس کا ساتھ نہیں دیا، کیونکہ دلائل و شہادات کی اس پوری کائنات میں ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو انکار پر آمادہ کرے ۔ پس انسانوں کو مخاطب کر کے یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ دلائل پر غور کریں۔ دلائل اور شہادتوں کے بعد اوہام اور تخمینے اور آرزوئیں ہی باقی رہتی ہیں جو اعتماد کے لائق نہیں ۔ 

اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت میں کوئی ساجھی نہیں ہے۔ اس نے ہر کام کے لیے ایک مدت معین فرما دی ہے ۔ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کا ایک ایک لفظ خدا کا تکلم کردہ ہے، اس لیے اس سے بہتر انسان کی ہدایت کے لیے اس وقت کوئی اور کتاب نہیں ہے۔ انسان کے لیے اور انسان کے اوپر یہی کتاب حجت اور دلیل ہے۔ اس کتاب کے مختلف مقامات سے اوپر کی آیاتِ مبارکہ نقل کر دی ہیں، ان کے تراجم اور تشریحات کو خوب غور سے سمجھنا چاہیے۔ اس طرح غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ احکام مجھے مخاطب قرار دے کر سنائے جا رہے ہیں کہ میرا بندہ اور غلام ہونے کی حیثیت سے میرے احکام کو سن، اور ان پر عمل کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر، اور تجھے اس بات کو ٹھنڈے دل سے یقین کر لینا چاہیے کہ میری عدالت گاہ میں قیامت کے دن کسی کی دنیاوی حیثیت اور پوزیشن کام نہیں آئے گی :

یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَلَا یَغُرَّنَّکُم بِاللَّہِ الْغَرُورُ (فاطر۳۵، آیت ۵)
’’ اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے، سو نہ بہکائے تم کو دنیا کی زندگانی اور نہ دغا دے تم کو اللہ کے نام سے وہ دغا باز۔‘‘

دنیا کی ساری نعمتیں حاصل کرلینے والا مسلمان جو میری نا فرمانی پر مرے گا، اس کے لیے دنیا کی کوئی چیز بھی میری درگاہ میں اپیل نہیں کر سکے گی۔ جو شخص فتح مند اور انعام یافتہ ہونا چاہتا ہو، اس کو دنیا میں آزمائشوں سے گزرنا پڑے گا اور بوقت مطالبہ ہر محبوب چیز کی قربانی کرنی پڑے گی :

لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْْءٍ فَإِنَّ اللّہَ بِہِ عَلِیْمٌ (آل عمران ۳، آیت ۹۲) 
’’ ہر گز نہ حاصل کر سکو گے نیکی میں کمال جب تک نہ خرچ کرو اپنی پیاری چیز سے کچھ۔ اور جو چیز خرچ کرو گے سو اللہ کو معلوم ہے۔‘‘ 
الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ ( العنکبوت ۲۹،آیات ۱و۲)
’’ کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے ؟‘‘ 
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُواْ مِنکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِیْنَ (آل عمران۳، آیت ۱۴۲)
’’ کیا تم کو خیال ہے کہ داخل ہو جاؤ گے جنت میں اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ ‘‘
در رہِ منزلِ لیلیٰ خطرہاست بجان
شرط اول قدم آں است کہ مجنوں باشد
وَأَن لَّیْْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعٰی (النجم۵۳، آیت ۳۹)
’’ اور یہ کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا۔‘‘

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے 

بہت سے غافل دنیا کی زندگی کے لیے ہر ایک تدبیر اختیار کرتے ہیں لیکن زندگئ آخرت کے لیے خدا کے فضل یا تقدیر پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں، تدبیر کو آخرت کے لیے ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ عقل کے دشمن اور تاثیرات اسباب سے اندھے اور نقل کے منکر ہیں۔ ان بے انصافوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ جہان، دنیا اور آخرت کے لیے مقامِ عمل ہے ۔ خالقِ کائنات نے اسباب کو بھی پیدا کیا ہے اور ان میں تاثیرات کو بھی رکھ دیا ہے اور ہر ایک چیز کی تحصیل کے لیے ضوابط و قوانین مقرر فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور برگزیدہ بندوں کے ذریعے سے اعمال و اسباب کے اختیار کرنے کی تاکید فرما دی ہے اور اعمال و اسباب کے ترک کرنے والوں کے بے نصیب اور بد انجام ہونے سے خبردار کردیا :

وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( العصر ۱۰۳، آیات ۱ تا ۳)
’’ قسم ہے عصر کی، مقرر انسان ٹوٹے میں ہے مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی ۔‘‘ 

بلکہ اپنے برگزیدہ بندوں اور انبیا و رسل علیہم الصلوات و التسلیمات کو تدابیر کے لیے تختہ مشق بنا کر انسانیتِ عامہ پر حجت قائم کر دی ہے کہ یہ برگزیدہ بندے بھی جب تدابیر کے اختیار کرنے سے بے نیاز اور لاپروا نہیں کیے گئے جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و انعامات کے سب سے زیادہ حق دار ہیں تو عام انسانوں کے لیے کون سی دلیل اور حجت ہے کہ ان کو بغیر اکتساب اسباب و اعمال کے صرف فضل سے بخش دیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا باطل تخیل ہے جو تمام شرائع و ادیان آسمانی کو بے معنی قرار دیتا ہے اور جزا اور ثواب کو بے حقیقت بنا دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو یہ ہے کہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین۔

بعض لوگ تقدیر کو بہانہ بنا کر یہ حدیث پیش کیا کرتے ہیں کہ ماشاء اللہ کان و ما لم یشا لم یکن، یعنی خدا جو چاہتا ہے، وہ ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا، نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ بندہ مجبور ہے، خود کچھ نہیں کر سکتا۔ حالانکہ یہ حدیث بھی جدوجہد اور تدبیر کی ترغیب کے لیے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا چاہتا ہے، وہ ہوتا ہے۔ بس بندے کو چاہیے، اپنی کوشش سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی جدوجہد کرے ۔ مثلاً اگر ملازم شاہی کو یہ کہا جائے کہ جو کچھ وزیر چاہتا ہے، وہ ہوتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وزیر کو خوش رکھنے کے لیے جہاں تک ہو سکے، ہر طرح کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ کامیابی اور حصولِ مقصد تمہارے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کا سرِ رشتہ وزیر کے ہاتھ میں ہے، اس لیے بغیر سعی اور کوشش کے کام نہیں چل سکتا۔ اسی طرح نفی تدبیر اور اختیار کے لیے یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ جف القلم بما انت لاق یعنی جو کچھ ہونا ہے، وہ پہلے ہی دن لوح تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔ بے شک یہ سچ ہے مگر اس کے معنی وہ نہیں جو عوام سمجھتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ طے ہو چکا ہے کہ نیکی کا نتیجہ نیک ہو گا اور بدی کا بد۔ مولانا روم ؒ فرماتے ہیں : 

بلکہ آں معنی بود جف القلم
نیست یکساں نزد او عدل وستم
فرق بنہادم میان خیروشر
فرق بنہادم زبد واز بد بتر
معنئ جف القلم کے ایں بود
کہ جفاہا با وفا یکساں شود
بادشاہے کہ بہ پیش بخت او
فرق نبود از امین وظلم خو
فرق نکند ہر دو یک باشد برش
شاہ نبود خاک تیرہ بر سرش

(’’جف القلم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک انصاف اور بے انصافی یکساں نہیں۔ (اللہ نے فرمایا ہے کہ) میں نے خیر اور شر اور بد اور بدتر کے مابین فرق رکھا ہے۔ جف القلم کے معنی یہ کیسے ہو سکتے ہیں کہ وفاداری اور بے وفائی یکساں ہو جائیں؟ ایسا بادشاہ جس کے ہاں امانت دار اور ظالم کے مابین کوئی فرق نہ کیا جائے اور دونوں برابر سمجھے جائیں، وہ بادشاہ کہلانے کا مستحق نہیں، بلکہ سر پر خاک ڈالے جانے کا مستحق ہے۔‘‘)

غرض کہ قرآن مجید اور احادیثِ رسول علیہ الصلوۃ اعمال کی تدابیر اور کسب کی ترغیب سے پر ہیں۔ ہمارے سامنے تدابیر سے قومیں ترقی کر کے کائنات ارضی پر حکومتیں کر رہی ہیں۔ عناصر اربعہ کو تصرف میں لا کر حیران کن نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ پس جو شخص بھی اسباب و ذرائع کو عمل میں لائے گا، ان کے ثمرات سے فیض یاب ہو گا ۔ اس لیے حصولِ دنیا اور نجاتِ آخرت کے لیے تدابیر کے اختیار کرنے اور اسباب کے عمل میں لانے سے چارہ نہیں۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم سب برابر ہیں، صرف مسلم کی امتیازی شان یہ ہے کہ اس کا سامانِ دنیا، ذریعہ آخرت ہے اور غیر مسلم کی دنیا صرف دنیا کی عیش و راحت کے لیے ہے۔ اور مسلمان وہ ہے جس کا سب کچھ یہاں تک کہ اس کی جان و زندگی اسلام کے لیے ہو اور صحیح معنی میں وہ قرآنی مسلمان ہو اور اسلامی مسلمان ہو، اور اگر اس کی زندگی اور اس کا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے نہیں ہے، پس نہ وہ مسلمان ہے اور نہ اس کی ترقی مسلمان کی ترقی ہے اور نہ اسلام کی ترقی ہے، بلکہ یہ ایک بظاہر قومی اور حقوقی مسلمان کی ترقی ہو گی، اس کو مسلم ترقی ہرگز نہیں کہا جائے گا۔ موجودہ مسلمان ۹۵ فی صدی ایسے ہی حقوقی اور قومی مسلمان ہیں جو صرف اپنے اغراض و خواہشات کی خاطر مسلمان کہلاتے ہیں اور مسلمانوں میں شامل ہیں اور صرف زبان سے رسمی طور پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیتے ہیں، اختیار اور ارادے اور رضامندی سے ان کا اس کلمہ طیبہ پر اعتقاد نہیں ہے جو اس کے لیے ضروری اور رکن قرار دیا گیا ہے اور نہ ان کی زندگی اور زندگی کے کاروبار اس کلمہ کے تحت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے مطابق ہیں۔ پس مسلمان وہی شخص ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مسلمان ہو اور عملِ صالح بھی وہی مقبول ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے مطابق کیا گیا ہو۔ 

دین و حکمت