دنیا کی محبت اور علمائے اسلام کی ذمہ داری

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

اس وقت غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن نے تمام دنیا کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کو ممالکِ اسلامیہ بھی اپنائے جا رہے ہیں، لیکن اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ زندگی کی کشتی کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے اور وہ اس کو جس طرف لے جانا چاہے، لے جانے دیا جائے، کیونکہ اسلام ہر زمانہ میں اپنے غالب رہنے کے اصول دیتا ہے اور ایسی تدبیریں بتلاتا ہے جن کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں اصلاح کی جا سکتی ہے اور انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد ہے: 

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفیٰ بِاللَّہِ شَہِیْداً (الفتح، ۲۸) 
’’ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کر دے تمام دینوں پر اور کافی ہے اللہ گواہی کے لیے۔‘‘

حدیث میں ارشاد ہے : 

الاسلام یعلو ولا یعلیٰ (سنن دارقطنی، ۳/۲۵۲)
’’اسلام اونچا رہتا ہے، پست نہیں ہوتا۔‘‘

ارشادِ باری تعالیٰ ہے : 

وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ (الصف، ۸) 
’’ اور اللہ اپنے نور کو پور ا کر کے رہے گا، چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

ارشاد ہے : 

وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (العنکبوت، ۶۹)
’’ جو لوگ ہمارے کاروبار میں مشقت برداشت کرتے ہیں، ہم ان کو ضرور اپنے راستے بتلا دیتے ہیں اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ 

یہ آیات اور ان کے علاوہ اور بہت سی آیات اور احادیث دلالت کر رہی ہیں کہ دینِ اسلام کو عالم گیر اصلاح کے لیے پیش کیا گیا ہے :

إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَمُ ...... وَمَن یَبْتَغِِ غَیْْرَ الإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (آل عمران، ۱۹ و ۸۵)
’’ دین حق اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے ..... جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش و اختیار کرے گا، اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خائب و خاسر ہو گا ۔‘‘

اس قسم کی آیات اور احادیث ہر مسلک کے علماے ’’ خیر امت‘‘ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں اور باتوں پر اپنے یقین اور اعتقاد کا عملی ثبوت پیش کریں اور اس غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن کے بے پناہ سیلاب سے امتِ مسلمہ کو نجات دلانے اور پاک کرنے کا پورا بندوبست کریں۔ آپ ہی اس وقت اس امت کے قائد ہیں اور سب سے پہلے عنداللہ جواب دہ ہیں اور حسبِ فیصلہ و وعدہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آپ کے لیے وقف ہے ۔ پہلے اس بات پر جزم و یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال ہو گا کہ دنیا میں جب تمہاری موجودگی میں یہ حالات پیش آرہے تھے تو تم نے ان حالات کے درست کرنے کے لیے حسبِ استطاعت کیا کچھ کیا تھا؟ اس کے جواب میں اعذار اور حیلے مسموع نہیں ہوں گے۔ 

وقت کے دھارے میں بہہ کر علم دین سے ناواقف دنیا دار اگر متاع دنیا کے ساتھ ملوث ہو جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ لوگ دنیا کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ لیکن افسوس علمائے دین پر ہے کہ جب وہ عنداللہ و عندالرسول دنیا اور متاع دنیا کی ناپسندیدگی اور مضرت معلوم کر چکے ہیں تو اس کی طرف کیونکر راغب ہو سکتے ہیں؟ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور احادیثِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں دنیا کی محبت اور اس کی طرف رغبت کرنے سے روکا گیا ہے۔ کہیں پوری دنیا کو ’’متاع قلیل‘‘ کہہ کر اس کی تحقیر کی گئی ہے : ’قل متاع الدنیا قلیل والآخرۃ خیر لمن اتقی‘ ( اے نبی کہہ دوکہ دنیا کا سامان قلیل ہے اور آخرت متقی لوگوں کے لیے بہترین سامان ہے )۔ کہیں اس کو لہو ولعب بتایا گیا ہے: ’انما الحیوۃ الدنیا لھو ولعب‘ ( یاد رکھو دنیا کی زندگی کھیل کود ہے)۔ اور کہیں اسے دھوکہ کی ٹٹی فرمایا گیا: و ما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور (دنیا کی زندگی دھوکہ کی ٹٹی ہے )۔ 

کہیں آفتوں کی ماری ہوئی کھیتی کہا :

إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ أَنزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الأَرْضِ مِمَّا یَأْکُلُ النَّاسُ وَالأَنْعَامُ حَتَّی إِذَا أَخَذَتِ الأَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ أَہْلُہَا أَ نَّہُمْ قَادِرُونَ عَلَیْْہَا أَتَاہَا أَمْرُنَا لَیْْلاً أَوْ نَہَاراً فَجَعَلْنَاہَا حَصِیْداً کَأَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالأَمْسِ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ (یونس، ۲۴)
’’ دنیا کی زندگی کی مثال اس پانی جیسی ہے جو آسمانوں سے برس کر زمین کی پیداوار میں شامل ہو گیا جس کو انسان اور حیوان کھاتے ہیں، حتیٰ کہ جب زمین کی پیداوار پورے آب و تاب کو پہنچ گئی اور آراستہ پیراستہ ہو گئی اور لوگ یہ سمجھنے لگے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں ، تو ہمارا حکم ( عذاب) رات یا دن کے وقت آ پہنچا، پس وہ تمام پیداوار نیست و نابود ہو گئی، گویا اگلے دن کے لیے ان کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔‘‘ 

کہیں اس کی حاصل صورت ( زن ، زر ، زمین ) کو بے حقیقت نمایش، بے روح نمود، بے بود ظاہری ٹیپ ٹاپ اور شہوت پرستوں کا محبوب بتایا: 

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَالِکَ مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاللّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الْمَآبِ۔ قُلْ أَؤُنَبِّءُکُمْ بِخَیْْرٍ مِّنْ ذَالِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ (آل عمران، ۱۴، ۱۵)
’’لوگوں کو محبوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہو اہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی۔ یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے ۔ کہہ دے کیا میں تمہیں اس سے بہتر بتاؤں؟ پرہیز گاروں کے لیے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاک عورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی۔ اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘ 

اور کہیں اس کی لذتوں میں منہمک ہونے والوں کے جاہل احمق ہونے کا اشارہ کیا ہے : 

إِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا وَرَضُوْا بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَأَنُّواْ بِہَا وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ آیَاتِنَا غَافِلُونَ۔ أُوْلَءِکَ مَأْوَاہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (یونس، ۷، ۸)
’’جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے، ان اعمال کی پاداش میں جن کے مرتکب ہوئے ۔‘‘
ذَرْہُمْ یَأْکُلُواْ وَیَتَمَتَّعُواْ وَیُلْہِہِمُ الأَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ (الحجر، ۳)
’’ ان کو چھوڑ دو ، کھانے پینے دو ، مزے اڑانے دو، باطل آرزوئیں ان کو خدا سے غافل بنائے رکھیں ، مگر وہ ضرور جان جائیں گے۔ ‘‘ 

کہیں دنیا کی فراوانی کو گرفتار لہو ولعب یا بد انجام مشاغل میں پھنس جانا بتلایا : 

أَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (التکاثر، ۱ و ۲)
’’ غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے، یہاں تک کہ جا دیکھیں قبریں ۔‘‘

تو کہیں سرمایہ داری پر عذاب الیم کی دھمکی دی : 

وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ (توبہ، ۳۴)
’’ جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، اے نبی ! ان لوگوں کو دردناک عذاب کی بشارت سنا دو۔‘‘ 

کہیں بے تحاشا کھانے اور عیش میں غرق ہونے کو بہائم سے تشبیہ دے کر انجام جہنم بتایا:

وَیَأْکُلُونَ کَمَا تَأْکُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ (محمد، ۱۲)
’’یہ لوگ اس طرح کھاتے پیتے ہیں جس طرح جانور کھایا پیا کرتے ہیں ، ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔‘‘ 

اور کہیں اپنے پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ اس دنیا کی چند روزہ ٹیپ ٹاپ کی طرف کوئی ادنیٰ التفات نہ کریں کہ یہ فتنہ اور بلا ہے، بلکہ صرف طلب اور فکرِ عاقبت میں منہمک رہیں :

وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْْنَیْْکَ إِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجاً مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنیَا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْْرٌ وَّأَبْقیٰ (طہ، ۱۳۱)
’’ مت چلاؤ اپنی دونوں آنکھوں کو ان چیزوں کی طرف جو ہم نے ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں عطا کی ہیں، اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی آزمایش کے لیے ہے ، تیرے رب کا رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے ۔‘‘ 

اسی طرح دنیا کے اس حصہ کی بھی قرآن نے مذمت کی ہے جس کا تعلق جاہ و نخوت سے ہے ۔ ایسی آیات کو خوفِ طوالت سے نقل نہیں کیا گیا ۔ احادیث میں بھی دنیا کو ملعون اور جیفہ کہا گیا ہے اور اس کے طالبوں کو کلاب کا لقب دیا گیا ہے۔ اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا ولا غاےۃ رغبتنا۔

علمائے اسلام ! دنیا کے راحت و سرور کے نشہ اور اس کے خوش کن منظروں کی دل فریب رغبتوں کے اتمام سے باخبر ہو کر آپ حضرات اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کریں ۔

ہمی گویم و باز ہمی گویم ہمی! 
کار ایں است غیر ایں ہمہ ہیچ 

(یہی کہتا ہوں اور پھر یہی کہتا ہوں کہ یہی اصل کام ہے، اس کے علاوہ سب کام ہیچ ہیں)

آپ کا کام تعلیم و تبلیغ ہے جو عالمِ دین ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے سپرد کیا گیا ہے اور دنیا کے دیگر کاروبار سے آپ کو سبکدوش کیا گیا ہے۔

اندریں راہ مے تراش ومے خراش 
یک دمے غافل دمے فارغ مباش 

(اسی راہ میں اپنی تگ ودو جاری رکھو اور ایک لمحے کے لیے بھی غافل یا فارغ نہ ہونا)

ان باتوں میں سے جو پیش کی جارہی ہیں، کوئی بات بھی ایسی نہیں جو آپ حضرات کے علم سے باہر ہو ۔ صرف جذبہ خیر خواہی سے تاکیداً خامہ فرسائی کی جا رہی ہے، اپنے کو بڑا یا ناصح سمجھ کر نہیں، بلکہ آپ حضرات کو عالم دین اور وارث نبی عالمی صلی اللہ علیہ وسلم ظن غالب سے قرار دے کر مخاطب کیا جا رہا ہے۔ تخاطب امت کے اخیار سے ہے نہ کہ علمائے اشرار سے۔ آپ علمائے اخیار ہی صحیح معنی میں وارث النبی الخاتم ہیں۔ علمائے اشرار نے متاع دنیا کی وراثت کو پسند کر لیا ہے اور وراثت النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر نہ کرنے پر ان کو دنیا میں پہلی سزا یہ دی گئی کہ علمائے اخیار کی جماعت سے ان کو نکال باہر کر دیا گیا ۔ ارشادِ باری ہے : 

وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاءَ تْ مَصِیْراً (النساء، ۱۱۵)
’’ جو شخص اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ راستہ سیدھا اس کے سامنے واضح ہو چکا اور وہ ایمان والوں کے طریقے کے خلاف کوئی اور راستہ اختیار کرے گا تو ہم اس کو وہی راہ سونپ دیں گے جس طرف وہ خود متوجہ ہوا اور اس کو دوزخ میں داخل کریں گے اور دوزخ برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘ 

کیا اس آیت محکمہ کے فیصلہ سے کوئی شخص بحیثیت عالمِ دین ہونے کے مستثنیٰ ہو سکتا ہے؟ اس آیت شریفہ کے متعلق زیادہ تشریح اور تفصیل کی ضرورت نہیں ، البتہ بعد ما تبین لہ الھدیٰ، ویتبع غیر سبیل المومنین، نولہ ما تولیٰ کے جملات مبارکہ قابلِ غور و فکر ہیں۔ المومنین سے مراد ما انا علیہ و اصحابی ہیں۔ جو علما باقاعدہ مدارس عربیہ اسلامیہ میں علوم دین کی سند حاصل کر چکے ہیں، ہدایت و ضلالت، رشد و غی ان حضرات پر پورے طور سے واضح ہونے کے بعد پھر ان کا اس قدر بلند مقام و وراثت الانبیاء ’’ العلم‘‘ کو چھوڑ کر وراثت فرعون و نمرود، متاع دنیا کو اختیاراً اختیار کرنا عبرت انگیز ہے۔ 

دین و حکمت