دعوت ِ دین کا متبادل بیانیہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

(مفتی ابو احمد عبداللہ لودھیانویؒ کی تصنیف ”عالمی مشکلات کا یقینی حل “  کی تازہ اشاعت کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا)

اسلام دین ِدعوت ہے اور اس کے مخاطَب دنیا کے تمام انسان ہیں ۔ عصری تناظر میں دیکھا جائے تو ان اصحاب ِ فکرو دانش کی رائے زیادہ وزنی معلوم ہو تی ہے جو دنیا کو دار الاسلام اور دار الحرب کے بجائے دارلاسلام اور دار الدعوة میں تقسیم کرتے ہیں ۔ زرعی دور سے گزرنے کے بعد انسان صنعتی دور میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے اس فیز میں داخل ہوچکا ہے جس نے دنیاکو حقیقی معنوں میں عالمی گاوں(Global village)میں تبدیل کردیا ہے ۔ دنیاقومی ریاستوں کے دور سے گزرنے کے بعدپوسٹ نیشن سٹیٹ(Post Nation State)کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔اس وقت جدید دانش کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمگیر نظم(World order)انسان کے مفاد کا تحفظ کرسکے گا؟ تاریخی تناظر یہ ہے کہ انسان عالمگیر نظم کے کئی تجربات سے پہلے بھی گزر چکا ہے ۔مذہبی حوالے سے اس طرح کے تجربات یہودیت اور مسیحیت کے عنوانات سے ہوچکے ہیں جبکہ دور ِ حاضرمیں اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی عالمگیر غلبے کے لئے کشمکش کے بعد دنیا میں نئی صف بندی ہو رہی ہے ۔عالمگیر نظم کے تمام تجربات مجموعی طور پر انسان کے مسائل کا حل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ہماری رائے میں تاریخ نے انسانیت کو ایک ایسے دوراہے پر کھڑا کردیا ہے جہاں اس کے پاس شاید اب اسلام کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا۔اس لئے دور ِ حاضر میں اسلام کو دنیا کے سامنے متبادل بیانیے کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔

 اسلام کی عالمگیر دعوت میں ہماری دینی قیادت بھی اسی غلطی کا ارتکاب کررہی ہے جو مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے سرزد ہوئی ۔ یہ حقیقت سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ مذہب جب دعوت کی بجائے عصبیت کے پیراہن میں ظہور کرتا ہے تولامحالہ دوسرے مسالک اور مذاہب کے لئے ایک فریق اور مد مقابل کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور ایک گروہ،علاقے اورنسل سے منسوب ہونے کی وجہ سے اپنی آفاقیت اور عالمگیریت سے محروم ہو جا تا ہے۔  کسی بھی فکر کی آفاقیت کے لئے نسلی، شخصی اور علاقائی نسبتیں رکاوٹ بن سکتی ہیں ،دین ِ اسلام، یہودیت ،مسیحیت اور ہندومت جیسی شخصی اور علاقائی نسبتوں کا قائل نہیں ہے ۔قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کو اقوام ِ عالم کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا اوران کی سیرت کے آفاقی پہلو واضح کرتے ہوئے ان کی طرف منسوب کی جانے والی تمام عصبیتوں کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے نہ نصرانی اور نہ ہی وہ مشرکوں میں سے تھے ،بلکہ وہ راست رو ” مسلم“ تھے۔قرآن ِ مجید نے مسلمانوں کے لئے بھی یہی پیغام دیاہے کہ اے اہل ِ ایمان ! اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے اور تم مرنا تو ”مسلمان“ ہی مرنا۔ قرآنِ مجید نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین صرف اسلام ہی ہے اور روز ِ قیامت اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول نہیں کیا جا ئے گا۔قرآن کریم کا بیان بالکل واضح اور دو ٹوک ہے ،اس لئے اسلام کو کسی شخصیت ،گروہ اور علاقے کی طرف منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عالمگیردین ہونے کے تصوّر سے دست برداری اختیار کر لی جائے۔ گروہی اور جغرافیائی عصبیتوں کے مضبوط ہونے سے ہی اسلام کے بارے میں ایک دور میں اس غلط فہمی نے جنم لیا کہ اسلا م صرف پہلی ہزاری کے لئے ہی تھا اورخاتم النبیین حضرت محمد ﷺصرف عربوں ہی کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ایران میں نقطوی تحریک اور ہندوستان میںمغل حکمران جلال الدین محمد اکبر(۱۵۵۶ء۔۱۶٠۵ء) کے ”دین ِ الٰہی “ کاظہور اسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا ۔ اسلام ”محمڈن ازم “ نہیں ہے، وہ صرف اسلام ہے ۔ اسلام کے لئے محمڈن ازم کی اصطلاح مستشرقین (Orientalists)نے استعمال کی ،تاکہ اسلام کی آفاقیت پر حرف گیری کی جا سکے۔ غور کیا جائے تو اعتراف کرنا پڑے گا کہ دیگر مذاہب کی طرح اسلامبھی اپنے داعیوں کی پیدا کردہ عصبیتوں کے نتیجے میں متنازع بن چکاہے اور شدید طور پر سیکولرازم کی زد میں ہے۔

 تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک غیر متعصب اور عظیم الشان مذہب ہے جو بلا امتیاز ِرنگ و نسل انسانی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے اور حسن ِ کردار کی بنا پر اہل ِ کتاب کی بھی تحسین کرتا ہے ۔اسلام نے مخاطَب قوموں کے لئے حکمت ،موعظہ حسنہ اور جدال بالاحسن جیسے دعوتی اصول دیے ہیں۔ مناظرہ،تقابل اور ردجیسے رویوں کا اسلام کے اسالیب دعوت سے تعلق محض جزوی نوعیت کا ہے ۔ اسلام کی نگاہ میں تو مجادلہ بھی مناظرہ نہیں بلکہ دعوت کا ایک ایسا اسلوب ہے جس میں الزام تراشیاں ،چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوںاور مقصد محض فریقِ مخالف کو چپ کرادینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجانا نہ ہو، بلکہ اس میں شیریں کلامی ،اعلیٰ درجہ کا شریفانہ اخلاق، معقول اور دل لگتے دلائل ہوں جو مخاطَب کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دیں ،اور وہ داعی کے خلوص اور للہیت سے متاثر ہو کر برضا و رغبت اسلام پر غوروفکر کے لئے تیار ہوجائے۔ مذہب کے ساتھ سب سے بڑا حادثہ یہ ہواہے کہ اسے اخلاق اور تزکیہ نفس سے الگ کردیا گیا ہے اوراب مذہب محض ایک گروہی اور مسلکی عصبیت ہے یا پھر بے لگام جذبات کا نام،حالانکہ پیغمبر اسلام کا فرمان ہے کہ دین خیر خواہی کا نام ہے ،اورخیر خواہی بھی کسی خاص گروہ کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہو ، آپ ﷺکا ہی فرمان ہے کہ لوگوں میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لئے زیادہ نفع بخش ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوام ِ عالم کے معاشی،سیاسی اور گروہی مفادات کے مقابل ایک عالمی معاشرے کے قیام کے لئے دین ِ اسلام ہی فکری بنیادیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسلام کاامتیاز یہ ہے کہ اس میں خود اللہ تعالیٰ کا تعارف”رب العالمین“ پیغمبر اسلام کا ”رحمۃ للعالمین“ اور قرآن مجید کا ”ذکر للعالمین“کے عالمگیر اور آفاقی اوصاف سے کروایا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ سب کا رب ہے ،قرآن مجید پوری انسانیت کے لئے صحیفہ ہدایت ہے، اسی طرح رسول اللہﷺ کی نبوت و رسالت بھی عالمگیر اور گلوبل ہے۔مذہب ِ اسلام دانش کا مستند ترین مجموعہ ہے اور دانش بھی فن کی طرح جغرافیائی حد بندیوں سے بالا تر ہو کر اپنے اندر آفاقیت کا فطری جوہر رکھتی ہے ۔لیکن بدقسمتی سے مسلمان اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے رسالتِ محمدی ﷺ کی آفاقیت اور ہمہ گیریت کو اس طرح نمایاں نہیں کرسکے جس طرح کہ آپپر ایمان لانے کا حق تھا۔ اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے مسلمانوں نے اسلام کوعالمی محاذ پر شیعہ،سنّی،سلفی،جہادی اور صوفی اسلام میں تقسیم کر رکھا ہے جبکہ داخلی محاذ پر ہمارے ہاں اسلام کے بریلوی ،دیوبندی اوراہلحدیث ایڈیشن متعارف ہیں ،اوران مسالک کی ذیلی تقسیم ایک الگ گورکھ دھندا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسلام کی مسلکی تقسیم پر مبنی یہ عصبیتیں اس قدر شدید ہیں کہ آج کے نام نہاد داعیان ِ اسلام لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے کی بجائے ان عصبیتوں کی طرف ہی دعوت دے رہے ہیں ۔ ہمارے عملی رویوں سے بہرحال یہی ثابت ہوتا ہے کہ مذہب ایک ایسی دیوار ِ چین ہے جس سے انسانوں کو تقسیم تو کیا جا سکتا ہے لیکن جوڑا نہیں جا سکتا ۔بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہعلماءکرام کی اکثریت اس وقت عوام الناس کا بد ترین فکری استیصال کررہی ہے۔

 سماجی تشکیل محض نظریات نہیں بلکہ رویوں کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔مذہب ان دونوں کا مجموعہ ہے۔عصری تناظر میں اسلام کے سماجی پہلو کا مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ مذہب کے سماجی مطالعہ میں ہی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ معاشرتی رویوں کی تشکیل میں مذہب کا کردار کیا ہے ؟ہمارے ہاں مطالعہ مذہب کی روایت تو کافی پختہ ہے لیکن مذہب کے عمرانی پہلو کے مطالعہ کی روایت مسلسل نظرانداز ہو رہی ہے ۔مذہب اور مذہب کے سماجی مطالعہ (Sociology of Religion) کے فرق کو ملحوظ رکھنا اس از بس ضروری ہے۔ جدید دانش تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے حضرت شاولی اللہ کی معروف کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ “ کا سا اسلوب اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مغربی تہذیب نے گزشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقاءکا کٹھن سفر طے کیا ہے،مسلسل فکری ارتقاءاور تجربات کے نتیجے میں ان کے ہاں کئی تصورات اب مسلمہ عقائد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ فیمنزم (Feminism)، ہیومنزم (Humanism)، جمہوریت(Democracy)،مذہبی رواداری(Interfaith Harmony) اورآزادی  اظہار ِ رائے (Freedom of speech) جیسے تصورات پر اہل ِ مغرب کوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔اہل ِ مغرب نے سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے جو تجربات کئے ہیں اس کے نتیجے میں ان کے ہاں یہ سوچ پختہ ہو رہی ہے کہ انسانیت اپنے سماجی، سیاسی اور اخلاقی ارتقاءکی آخری سیڑھی پر قدم رکھ چکی ہے ۔مغرب میں "The End of History"کے عنوان سے لکھی جانے والی کتب اسی سوچ کی مظہر ہیں ۔

اس پس منظر میں اقوام عالم کو کسی دوسرے نظام ِ حیات پر غور کرنے کے لئے اسی وقت آمادہ کیا جا سکتا ہے جب وہ نظام ِ حیات ایسی اقدار کا حامل ہو جو مغربی فکر وفلسفہ میں پائی جانے والی فکری اور عملی کمزوریوں کا مداواکرسکے۔ یہ تسلیم کہ اسلام ،مغربی فکروفلسفہ کے مقابل انسانیت کے لئے واحد آپشن ہے ،لیکن ایسے علماءکرام اور داعیان ِ اسلام کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو اسلام کو مغربی تہذیب کے مقابل ایک متبادل بیانےے کی شکل میں پیش کرنے صلاحیت رکھتے ہوں ۔اسلام کی عالمگیر دعوت کے لئے داعیان ِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ گروہی عصبیتوں کو ترک کریں، فرقہ وارانہ تعبیرات کو ایمانیات میں داخل نہ کریں،فقہاءکرام اور مفسرین کے فہم ِ دین کو کل دین نہ بنائیں،فقہی اور مسلکی تعصبات کے بجائے براہ ِ راست قرآن و سنّت کے مطالعہ کو عادت بنائیں ،مذہب کی عمرانی جہتوں کو اجاگر کریں ،انسانیت کو درپیش چیلنجز کا ادراک کریںاور عصری تناظر میں اسلام کی عقلی اور فطری اصولوں پر ایسی تعبیر کریں کہ وہ سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے جسم اور روح کی تسکین کا واحد ذریعہ بن سکے ۔

 زیر نظر کتاب ”عالمی مشکلات کا یقینی حل “ مفتی ابو احمد عبداللہ لودھیانویؒ (م ۱۹۷۵ء) کی مایہ ناز تصنیف ہے ۔ مفتی ابو احمد عبداللہ لودھیانویؒ برصغیر کی علمی روایت کے امین خاندان”علمائے لودھیانہ “ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ کتاب لگ بھگ ستر برس قبل تصنیف کی گئی ہے ، لیکن کتاب کے مضامین پر نظر ڈالنے سے معلو م ہوتا ہے جیسے کتاب آج کے ماحول کو مد نظر رکھ کر تصنیف کی گئی ہے ۔ کتاب کے مطالعہ سے فاضل مصنف کے بارے میں ایک فکری راہنما  کا تا ثر ابھرتا ہے۔ ایک سچا دانشور بجاطور پر اپنے عہد سے جڑا ہوتا ہے، وہ عوام کی فکری راہنمائی کرتا ہے اور نہ صرف اپنے عہد کی دانش کو متوجہ کرتا ہے بلکہ مستقبل میں جھانک کر کل کی خبر بھی دیتا ہے ۔ کتاب کے مطالعہ سے محترم مفتی صاحبؒ کے علمی قد کاٹھ کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جغرافیائی حدبندیوں سے بالا تر ہو کر اپنے آپ کو عالمی معاشرے کا شہری سمجھتے ہیں اور پوری انسانیت کے لئے فکر مندہیں۔ ان کے پیش ِ نظر کسی مسلکی گروہ کی نمائندگی نہیں ہے بلکہ اس کتاب میں انھوں نے اپنے آپ کو دین ِ اسلام کے نمائندہ کے طور پر متعارف کروایا ہے ۔زیر نظر کتاب میں مفتی صاحب نے جن دانشورانہ خیالات کا اظہار کیا ہے وہ گروہی اور مسلکی عصبیتوں کے دائرے میں بند رہنے والے شخص کے لئے ممکن نہیں ۔ دانش کی ایک سطح تو یہ ہے کہ اپنے ماحول کا تنقیدی جائزہ لے کر مسائل کی نشاندہی کی جائے اور ان کا حل پیش کیا جائے ، لیکن دانش کی اعلیٰ ترین سطح یہ ہے کہ وہ مجموعی انسانی معاشرے کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے عالمگیر سطح پر ظہور کرے ۔ کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مفتی صاحبؒ دانش کی اعلیٰ ترین سطح پرفائز ہیں ۔

 زیر نظر کتاب میں مفتی صاحبؒ نے ”پیغام ِ قرآن پیشوایان ِ مذاہب کے نام“سے دنیابھر کی مذہبی دانش کو مخاطَب کیا ہے ۔مفتی صاحبؒ کو یقین ہے کہ”عالمی مشکلات کا یقینی حل “ صرف اسلام کے پاس ہے ۔مفتی صاحبؒ کا یہ اعتماد کس وجہ سے ہے ؟ اس کا اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہوتا ہے ۔ مغرب میں عیسائیت کی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے مفتی صاحب ؒ لکھتے ہیں :

’’عیسائی پادریوں نے اپنے مذہبی معتقدات کو قدیم یونانی فلسفہ و حکمت کی بنیادوں پر قائم کررکھا تھا اور ان پادریوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی اخلاقی تعلیمات کو تو فی الجملہ برقرار رکھا ، لیکن معاشی اور معاشرتی و سیاسی معاملات میں ان کی ہدایات کو مسخ کرکے ان میں اپنی رائے اور مرضی کو وہی مقام دیا جو فی الواقع حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کا ہونا چاہےے تھا ۔ان پادریوں نے یورپ کی سرکردگی میں جو نظام قائم کیا وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بتائی ہوئی راہ سے کوسوں دور تھا ۔ ان اسباب و حالات کے تحت رومن کیتھولک نظام میں خدا اور یسوع کے نام پر حکم دیا جاتا تھا ، جس کا بیشتر حصہ انہی مذہب سازوں کا من گھڑت تھا ۔چنانچہ ان حالات نے ایک حریت پسند گروہ کو(جو ہسپانیہ کی مسلم یونیورسٹیوں سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئے تھے ،جن کو ان مسلم یونیورسٹیوں نے سائنٹیفک غورو فکر کے اصول دےے تھے،  جن کی روشنی میں من گھڑت اور بے سروپا عقائد کے سائے طویل اور ہلکے ہوکر اپنا اثر کھو بیٹھے ) بغاوت پر آ مادہ کردیا اور اس گروہ نے رومن کیتھولک عقائد کو پارہ پارہ کردیا۔‘‘  (ص:۷٠۔۷۱)

مفتی صاحب ؒ کی رائے یہ ہے کہ دین ِ اسلام معاشی،معاشرتی،سیاسی اور اخلاقی تعلیمات کا جامع تصوّر رکھتا ہے،اور ان کمزوریوں سے پاک ہے جن کی وجہ سے مغرب میں عیسائیت کو پسپائی اختیارکرنا پڑی ۔اسلام کو جدید دانش کے سامنے عصری احوال و ظروف میں ایک چیلنج کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔مذہب کا انکار کرنے بعد مغرب نے تہذیبی سطح پر کئی تجربات کئے ہیں، لیکن پھر بھی انسانی معاشروں کو در پیش چیلنجز کم ہونے کو نہیں آرہے ۔ مفتی صاحب ؒ مغرب کی نمائندہ فکر کو مخاطَب کرتے ہوئےلکھتے ہیں :

’’کسی مذہب پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے دو ہی بنیادی حقیقتیں دیکھی جاتی ہیں ،ایک یہ کہ اس نے خدا کا کیا تصوّر دیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ اس نے انسان کو کیا مقام دیا ہے؟ جہاں خدا کا تصوّر ناقص یاخلاف ِ حقیقت ہو گا وہاں انسان بھی اپنے اصل مرتبہ و مقام سے ہٹا ہواملے گا،اور جہاں انسان کو اس کا شان ِ شیان درجہ نہ دیا گیا ہو ،وہاں خدا کا تصوّر کبھی صحیح اور مطابق ِ حقیقت نہیں ہو سکتا ۔مذہب کے تصوّرِ خدا کی کسوٹی اس کا تصوّر ِ انسانی ہے۔‘‘ (ص:۱٠۹)

ہماری رائے میں مفتی صاحب ؒ نے دین ِ اسلام کے عمرانی پہلوپر گفتگو کرتے بڑااہم نکتہ اجاگر کیا ہے ۔ مذاہب عالم کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں خدا اور انسان کے باہمی تعلق میں توازن نہیں ہے یہودیت اور عیسائیت میں جس خدا سے ہم متعارف ہوتے ہیں وہ صرف انہی کے لئے مہربان ہے اور باقی مخلوق اس کے ہاں کوئی اہمیت اورحیثیت نہیں رکھتی۔ہندو مت میں مذہبی بنیادوں پر انسان کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ظاہر ہے ایسی تعلیمات ایک عالمگیر معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔جدید مغربی تہذیب نے انسانی مساوت کا تصوّر تو دیا لیکن انسانی مساوات کے تصوّ ر کو جن اصولوں پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے وہ اصول ہی غیر عقلی اور غیر فطری ہیں۔  ”بنیادی انسانی حقوق کا عالمی منشور“(Universal Declaration of Human Rights) اقوام متحدہ کے منشور کی صورت میں وہ دستاویز ہے جس کو مغربی اقوام میں تقدس کا خاص درجہ حاصل ہے ۔انسانی مساوات کے حوالے سے اس دستاویز کی پہلی دفعہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

’’تمام انسان آزاد اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں ضمیر و عقل دی گئی ہے اس لئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ کا سلوک کرنا چاہئے۔‘‘

اس دفعہ میں ضمیر و عقل کے اشتراک کو انسانی بھائی چارے کا سبب اور اساس قرار دیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا محض عقل و ضمیر کا اشتراک ایک انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ بھائی چارے پر ابھار سکتا ہے؟ اور اقوام عالم میں مساویانہ سلوک کی ترغیب پیدا کرسکتا ہے؟ عقل و ضمیر کے جس اشتراک کو بھائی چارے اورمساوات کی بنیاد بنایا گیا ہے ، وہ تو قوموںمیں تفوق و برتری کے جذبات کو ابھارنے والا ہے۔ اس لئے اگر عقل و ضمیر کے پیچھے کوئی اخلاقی محرک نہ ہو تو عالمگیربرابری اور مساوات کا تصور پروان نہیں چڑھ سکتا ۔اس اخلاقی محرک اور اصول کی نشاندہی اسلام نے کی ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اورتمہیں مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔تم میں سے اللہ کی بارگاہ میں زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے ،بے شک اللہ علیم و خبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں دو باتیں خاص طورپر توجہ کے قابل ہیں ،ایک یہ کہ آیت کا تخاطب عام ہے ۔ خطاب مسلمانوں سے نہیں بلکہ ”یَا ایُّہَا النَّاسُ“ کے الفاظ سے تمام انسانوں سے ہے ۔ دوسرا انسانوں کے درمیان برتری اور فضیلت کا اصول اخلاقی اور مابعد الطبعیاتی نوعیت کا ہے ۔اس تناظر میں انسان کی ذمہ داری ایک دوسرے سے تعارف اور اپنی اصل مشترک کی طرف انتساب کے ذریعہ ان اختلافات پر قابوپانا ہے ۔

انسانی مساوات کی یہ ایسی اخلاقی قدر ہے جس پر عالمی معاشرے کی عمارت قائم رہ سکتی ہے ۔اسلام مذاہب و ادیان اور ثقافتوں کی الگ الگ شناخت کو تسلیم کرتا ہے اور ان مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان باہمی تعارف، رابطہ و اتصا ل اور تعلقات کار کی اہمیت پر زور دیتا ہے ۔مفتی صاحبؒ نے بجا طور پر اس نکتے کو خوب واضح کیا ہے کہ کسی بھی تہذیب کی پہچان ان تصوّرات سے ہوتی ہے جن پر اس تہذیب کی بنیاد ہو ،یعنی کسی تہذیب کا اصل مقام متعین کرنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس تہذیب میں تصوّرِ الہ ،تصوّر ِ انسان ،تصوّر ِ علم اور تصوّر ِ تخلیق وغیرہ کیا ہیں ؟اس لحاظ سے مفتی صاحبؒ کے اس تجزےے سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ عالمی معاشرے کے قیام کے لئے انسانی مساوات کا تصوّر ناگزیر ہے ، اور انسانی مساوات کے لئے صحیح بنیاد وہی ہے جو اسلام نے فراہم کی ہے۔

 مفتی صاحبؒ کی نظر میں اسلامی تعلیمات کا عقل و دانش کے اعلیٰ ترین معیارات اور فطری اصولوں پر پورا اترنا بجا طور پر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسانی معاشروں کو درپیش چیلنجز کے لئے اسلام کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دور ِ حاضر عقل پرستی کا دور ہے۔انسانی معاشروں میں مذہب کی مسلسل پسپائی اور سیکولرازم کے نفوذ کے بعد اب عقل ہی انسان کا خدا ہے۔ صرف سیکولر معاشروں ہی کا کیا ذکر، خود مسلم معاشروں میں بھی عقل پرستی خوب زوروں پر ہے اور نئی نسل میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہاہے ۔ اس ماحول میں داعیان ِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ اسلام کو عقلی اور فطری دین ثابت کریں ۔مفتی صاحب کی رائے یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور سیرت ِ نبوی کو آج کے عقل پرستوں کے سامنے بطور چیلنج پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ مفتی صاحب بڑے دلچسپ انداز میں جدید دانش کو قرآن مجید کے ساتھ سیرت ِ نبوی کی عقلی اور فطری اصولوں کی تفہیم کی طرف متوجہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’پہلے انبیاءکو ایسے معجزے دےے گئے جو نبی کی نبوت پر دلیل اور نشانی ہوں کہ انسان ان کی باتوں کو بلادلیل مانیں،لیکن عالم الغیب کو معلوم تھا کہ آیندہ ایسی باتوں کو انسان علم و عقل کے معیار پر پرکھ کر قبول کریں گے۔اس لئے آخری اور خاتم الانبیاءکو علمی اورعقلی معجزے دے کر مبعوث کیا گیااور آپ کی تعلیمات کو علم و حکمت اور فلسفہ الٰہی پر مستحکم کیا گیا۔‘‘ (ص:۱٠۴)

مفتی صاحب ؒ مزید لکھتے ہیں :

’’جب عقلیں کمال کو پہنچ گئیں تومحمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا جنھوں نے اپنی رسالت منوانے کے لےے آنکھوں کو خیرہ کیا نہ حواس کو حیرت زدہ کیا ،بلکہ انہیں دعوت دی ،سوچنے سمجھنے کے لےے پکارا اور عقل ہی کو فیصلہ کے لےے حاکم قرار دیا ۔اس طرح خدا تعالیٰ نے عقل،دلیل،قوت ِ گویائی اور بلاغت کی قدرت ہی کو حق کی نشانی اور نبوت کا معجزہ قرار دے دیا ۔۔۔ اسلام انسانی فطرت سے حسن ِ ظن رکھتا ہے ،اس کے دل و دماغ پر اعتماد کرتا ہے اور اس کے فطری حق ِ خود ارادیت کا پورا پورا احترام کرتا ہے ،چنانچہ وہ اسے اپنی بات جبرو اکراہ سے نہیں منواتا بلکہ اس کی عقل کے سامنے سوچنے اور سمجھنے کے لئے سارا مواد رکھ دیتا ہے۔‘‘ (ص:۱۰۱۔۱۱۳)

مفتی صاحب ؒنے سیرت ِ نبوی کے حوالے سے ایک ایسا نکتہ اٹھایا ہے جس کی بنیاد ہمیں قرآن مجید میں ملتی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کی زبان مبارک سے یہ الفاظ کہلوائے کہ اے لوگو! میں نے ایک عمر تمہارے درمیان گزاری ہے کیا تمہیں کوئی عقل اور سمجھ نہیں ہے ۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ کہلوادیا گیا کہ جس طرح قرآن مجید ہر دور کی دانش کے لئے چیلنج ہے اسی طرح سیرت نبوی کو بھی ہر دور کی عقل دانش پر چیلنج کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے فضائل و مناقب، شمائل اور معجزات سے متعلق روایات کا بیان ایمان کی تازگی کا باعث ہے ،لیکن اقوام ِ عالم کے سامنے ہمیں سیرت کے ان پہلووں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جن کا تعلق انسان کی عملی اور اخلاقی زندگی کے ساتھ ہے ۔

زیر نظر کتاب میں براہ ِ راست مخاطَب تو عالمی دانش کو ہی بنایا گیا ہے، لیکن عام مسلمان اور علمائے امت بھی اس کتاب کا مخاطَب ہیں ۔ وہ وارثانِ محراب و منبر جو ہر وقت مناظرانہ انداز میں اپنے مد مقابل کو رسوا کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں ،مفتی صاحب ان کو مخاطَب بناتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’جو لوگ اپنے مدعا کو تقابل کی شکل میں پیش کرکے دوسروں پر اٹیک کرتے ہیں یاالزام سے صرف نیچادکھانا ان کا مقصد ہوتا ہے،ایسے لوگ انسانیت کے صحیح معنوں میں خادم نہیں ہو سکتے بلکہ بات کے درمیان میں مزید رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں اور تعصّب و ضدیت کو ابھارتے ہیں ۔ضد اورتعصب ایسی بری چیزیں ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے حق اور صداقت سے بھی انسان انکار کردیتا ہے اور استدلال کے اس طریقہ سے کوئی چیز بھی اس کی راہنمائی نہیں کر سکتی۔‘‘  (ص:۹۷)

مفتی صاحب ؒ نسلی، جغرافیائی اور گروہی عصبیتوں کے شکار مذہب اور اہل ِ مذہب کے بارے لکھتے ہیں :

’’مذہب میں انقلابی روح نہ ہواور وہ کسی ایک جماعت یا مخصوص قوم کا اجتماعی دین بن جائے اور اس میں خود بدلنے اور دوسروں کو بدل دینے کا جنون یا انقلابی جذبہ سرد پڑ جائے،اس و قت اس مذہب کے ہاتھ میں زمام ِ اقتدار دے دینا دراصل قوم کے رجعت پسندوں کو حکومت سونپ دینا ہے ،اور رجعت پسندوں کی حکومت ! خدا اس شر سے ہر قوم کو مامون رکھے۔‘‘ (ص:۷٠)

ہماری رائے میں مفتی صاحب ؒنے اپنی اس مختصر کتاب میں دین ِ اسلام کو عالمی دانش کے سامنے ایک متبادل بیانئے کے طور پر پیش کیا ہے۔کتاب پر داعیانہ اسلوب کا غلبہ ہے اور مفتی صاحب ؒ نے ایک جگہ جدید دانش کو یہ دلچسپ چتاونی دی ہے کہ اگر وہ اسلام کے مابعدالطبیعاتی عقائد کو تسلیم کرنے کے تیار نہیں تب بھی وہ اسلام پر دنیوی نظام ِ حیات کے طور پر ہی غور کرلیں تو بھی اسلام ان کو مایوس نہیں کرے گا ۔ مفتی صاحب ؒ نے جس بنیاد پر اسلام کو عالمی مشکلات کے یقینی حل کے طور پر پیش کیا ہے ہم نے ان میں سے صرف دو تین اسباب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔امید ہے کہ کتاب کے مطالعہ کے بعد قارئین اس نوعیت کے مزید دلائل کا مشاہدہ کرسکیں گے۔ ہماری رائے میں یہ کتاب مسلمان اہل ِ دانش کے لئے بھی برابر قابل ِ توجہ ہے کہ اگر وہ نئی نسل کو تہذیبی ارتداد اور الحادی نظریات سے بچانا چاہتے ہیں تو پھرعقلی اور فطری اصولوں پر اسلام کو نئے سرے سے دریافت کریں ، داعیان ِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی عالمگیریت کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اس کے عمرانی پہلو کو اجاگر کریں ۔کتاب کی اشاعت ِ نو پر مفتی صاحب مرحوم ومغفور کے پوتے پروفیسر میاں انعام الرحمن مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی بدولت طویل مدت کے بعد کتاب ایک بار پھر شائقین ِ علم کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

تعارف و تبصرہ