مذہبی القابات کا شرعی اور اخلاقی جواز

پروفیسر محمد اکرم ورک

دین اسلام سادگی،خلوص نیت اور للہیت کوبڑی اہمیت دیتاہے ،جبکہ نمودو نمائش کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اعمال کی بنیاد خلوص نیت پر رکھی ہے جو یقینی طور پر باطنی کیفیت کا نام ہے۔ اس لیے اسلام کی نظر میں ظاہر اور باطن میں تضاد ناقابل قبول ہے ورنہ سارے اعمال ضائع چلے جائیں گے۔ دینی اور مذہبی خدمات کی انجام دہی میں خلوص نیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دینی خدمات کا صلہ اللہ تعالی کے سواکسی سے طلب نہیں کیاجاسکتا۔حضرات انبیاء کرام کی سیرت کا یہ مشترکہ پہلو قرآن مجید جگہ جگہ بیان کرتاہے کہ:

وما اسالکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العالمین۔ (الشعراء )

’’اور میں تم سے اس انذار کے بدلے میں کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں۔ میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

اگر مخاطب کو یقین ہو کہ داعی سچاہے ،اس کی دعوت حق ہے اور دعوت کو پیش کر نے میں اس کے پیش نظر کسی دنیوی مفاد یا مذہبی تقدس کا حصول نہیں تو اس کی دعوت کااثر بڑھ جاتاہے۔ نہ صرف لوگ کھچے چلے آتے ہیں بلکہ اس کی دعوت کے سحرمیں پوری طرح مبتلا ہوجاتے ہیں اور داعی کے لیے دعوت کے بیج کی تخم ریزی آسان ہو جاتی ہے۔

بدقسمتی سے دور حاضر میں دعوت وتبلیغ کا فر یضہ انجام دینے والے اکثر حضرات کے قول وفعل میں للہیت اور خلوص نیت کا وہ رنگ نظر نہیں آتا جو حضرات انبیاء کر ام اور رسول اللہ کے صحابہ کی سیرت کا نمایاں پہلو ہے۔ داعیان اسلام کی اکثریت اپنی دعوتی کا وشوں پر اسی دنیا میں ا جر و ثواب کی طلب گار ہے اور ان کی ادنیٰ ترین طلب نمودونمائش اور مذ ہبی تقد س کے حصول کی خواہش ہے۔ چنانچہ علماء کرام کا اپنے لیے ایسے اسما والقاب کو پسند کرنا جن سے مذ ہبی تقدس کی جھلک نظرآتی ہے، اس حقیقت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اب علماء کرام کی مجالس اس قسم کے القابات سے گونجتی ہو ئی نظر آتی ہیں: محی الدین، محی السنہ، نجم الاسلام، شمس الاسلام، ذکی الدین، شمس العلماء، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، واقف اشارات صوفیہ ،شمس الہدایت وغیرہ۔ یہ اور اس نوع کے دیگر القاب اس کثرت سے معروف ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ مولوی، مولانا، صوفی، حاجی کے الفاظ بھی کچھ اسی نوعیت کے ہیں کیونکہ ان کے استعمال میں بھی کسی نہ کسی حدتک مذ ہبی تقدس کی جھلک پائی جاتی ہے ،یہ ایک الگ بات ہے کہ کثرت استعمال سے ان کے اصلی معانی بڑی حدتک گھس چکے ہیں اور ان کا چلن اب طبقا تی تعارف کی علامت سے زیادہ نہیں رہا۔ 

مذہبی القابات کی اس بدعت نے جس دور میں رواج پکڑناشروع کیا، علماء حق نے اس کے خلاف بھرپور آوازبلند کی۔ انہیں میں سے ایک مقتدر ہستی علامہ ابن الحاجؒ ہیں جنہوں نے اپنی مشہور کتاب المدخلکی پہلی جلد میں اس موضوع پربڑی تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس بحث میں انہوں نے تقدس، پاکیزگی اور نمودونمائش کے حامل اسماء والقاب کی شرعی حیثیت کا بڑا عمد ہ تنقیدی جائزہ لیاہے۔ راقم الحروف نے ذیل کی سطور میں زیادہ تر انہیں کے خیالات سے خوشہ چینی کی ہے۔

القابات کا تاریخی آغاز و ارتقا

علامہ ابن الحاج ان القاب واسماء کے مروج ہو نے کے اسباب بیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ترک خلافت عباسیہ پر چھا گئے توانہوں نے خلیفہ کو تو عباسی خاندان ہی سے رہنے دیا لیکن حکومت کی باگ ڈور مختلف ترک سرداروں نے خود سنبھال لی۔ خلیفہ کی طرف سے ان سرداروں کو ان کے مقام ومرتبے کے لحاظ سے مختلف قسم کے القاب مثلاً شمس الدولہ ،ناصر الدولہ ،نجم الدولہ وغیرہ سے نواز ا گیا۔حکمران طبقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ اسماء و القاب عظمت و فخر کا نشان سمجھے جا نے لگے جس کی وجہ سے عامۃ الناس بھی ان القاب میں کشش محسوس کرنے لگے لیکن حکومت میں عمل دخل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ان القاب کا حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔ اس کی تلافی انہوں نے مذ ہب کے راستے سے کی یعنی شمس الدولہ نہ سہی تو شمس الدین سہی، چنانچہ اکثر لوگوں نے اپنی اولاد کے لیے اس قسم کے نام رکھنے شروع کر دیے لیکن اس زمانے میں چونکہ ان اسماء والقاب کی خاصی و قعت تھی، اس لیے حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی چنانچہ جو کوئی اپنی اولاد کو ان ناموں سے موسوم کرناچاہتا، اس کے لیے مقررہ فیس کی ادائیگی کے بعد سرکاری اجازت حاصل کرنا ضروری تھا۔ لیکن بعد کے دور میں جب ترک خلافت عباسیہ کے تمام سیاہ وسفید کے مالک بن گئے تو ان کے لیے ان القابات میں کوئی کشش باقی نہ رہی کیونکہ حکومت اب ان کے گھر کی لونڈی بن چکی تھی۔ اس لیے اب وہ بھی اسلام کے نام کی عظمت کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں اب شمس الدولہ کی بجائے شمس الدین وغیرہ جیسے القابات میں زیادہ وقار اور عزت محسوس ہونے لگی۔ پھر ان القاب نے اس قدر رواج پایا کہ جہلا تک اپنے بچوں کو انہی ناموں سے موسوم کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ علماء دین بھی ا ن اسماء والقاب سے پوری طرح مانوس ہو گئے اور انہیں اس بدعت پر عمل کر نے میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوئی۔

علماء ربانیین کا ردعمل 

تاہم علماء حق سلف صالحین نے تقدس اور پاکیزگی کا تاثردینے والے ان اسماء والقاب کی شدید مخالفت کی۔ اس حوالے سے امام نووی کا ردعمل خاص طور پر قابل ذکرہے۔ اہل علم امام نووی کے علمی مقام ومرتبہ سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ خدمت دین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ کی انہیں دینی خدمات کی وجہ سے جب آپ کے معاصرین نے آپ کو ’’محی الدین‘‘ کے لقب سے پکاراتو آپ نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

انی لا اجعل احدا فی حل ممن یسمینی بمحی الدین۔ (المدخل لابن الحاج)

’’جوکوئی مجھے محی الدین کے لقب سے پکارے گا، میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔‘‘

ٖٖظاہر ہے کہ آپ کا یہ اظہار ناراضی فقط اس وجہ سے تھا کہ اس سے شرعی تقدس کی جھلک نظر آتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے بعد کے دور میں علماء کی مجالس اسی قسم کے مختلف اسماء والقاب سے گونجنے لگیں۔ علماء کرام اور مذہبی راہنماؤں میں اس رسم بد کے بدعت ہونے کا احساس تک باقی نہ رہا چنانچہ متاخرین نے بزرگان دین اور علماء کرام کو اسے زایداسماء والقاب سے یاد کرنا شروع کردیا جن کی انہوں نے اپنی زندگی میں سخت مخالفت کی تھی جبکہ ہمارے دور میں تویہ بد عت اپنے پورے عروج پر ہے۔ شاید ہی کو ئی عالم ،پیر اور چھوٹا بڑا اہل نا اہل اس کی زد سے محفوظ رہا ہو ، بلکہ اب تو معاملہ اس حد تک پہنچ چکاہے کہ اگر ان مذہبی راہنماؤں کو ان اسماء والقاب کے بغیر پکاراجائے تو وہ سخت پریشان ہوجاتے ہیں اوربعض اوقات ایسا ’’گستاخ‘‘ اور ’’بے ادب‘‘ ان کی شد ید نفرت کا شکار بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے مذہبی راہنماؤں کے ’’قہروغضب‘‘ سے محفوظ رہنے کے لیے عام طور پر ان کا تعارف انہی اسماء والقاب سے کروایا جاتاہے جن کو وہ پسند کرتے ہیں اور ان سے مانوس ہیں۔

مسئلہ کی شرعی اور اخلاقی حیثیت

قرآن وسنت کے مطالعہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی انسان کے لیے جائزنہیں کہ وہ اپنی پاکیزگی کا اعلان کرے ،اس کا تصوردے یا ایسے اسماء والقاب کو، جن سے مذ ہبی تقدس کا رنگ جھلکتا ہو، اپنے حق میں بیان کر نے والے کی حوصلہ افزائی کر ے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی۔ (النجم)

’’پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو ،وہ پر ہیزگاروں کو خوب جا نتاہے ۔‘‘

الم تر الی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشاء۔ ( النساء)

’’کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھاجو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کر تے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاکیزہ کرتاہے ۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

لا تزکوا علی اللہ احدا ولکن قولوا اخالہ کذا واظنہ کذا۔

’’کسی کو اس پاکیزگی کا مستحق قرارنہ دو جواسے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاہوسکتی ہے بلکہ ایسے شخص کے بارے صرف یہ کہو کہ میرا خیال ہے کہ وہ ایسا ہے اور میرا گمان ہے کہ وہ ایسا ہے ۔‘‘

ان مذہبی اسماء والقاب کی دو صورتیں ہیں: ایک حقیقی اور دوسری غیر حقیقی ۔حقیقی صورت تو یہ ہے کہ ملقب بہ میں واقعتا وہ صفات موجود ہوں جیسے ’’محی الدین‘‘ کہ وہ واقعی دین اسلام کو زندہ کر نے والاہو ۔اور غیرحقیقی صورت یہ ہے کہ ملقب بہ میں ان صفات کاشائبہ تک نہ ہو جن صفات سے اس کو موسوم کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالابحث کا تعلق حقیقی القاب سے ہے یعنی ان اسماء و القاب سے وابستہ صفات ،کسی حد تک ملقب بہ شخصیت میں پائی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود شر یعت اسے سخت نا پسند کرتی ہے ۔لیکن ہمارے ہاں تو معاملہ اس حد سے گزر کر غیر حقیقی اسماء والقاب تک جا پہنچا ہے لہٰذا عام طور پر جس شخص کے نام کے ساتھ ایسے اسماء والقاب کا اضافہ کیا جا تا ہے، اس میں ان صفا ت کا پا یا جا نا تو کجا، ان کی جھلک تک موجود نہیں ہو تی۔ ایسا طرز عمل یقینی طور پر دوہرا جرم ہے ،ایک القاب کی بد عت کی برائی اور دواسرجھوٹ کا ارتکاب ،کیونکہ قرآن وسنت میں جھوٹے پر لعنت کی گئی ہے۔

بدقسمتی سے دور حاضر میں اسماء والقاب کا غیر حقیقی استعمال عام ہو چکا ہے، حالا نکہ شریعت اسلامیہ نے اس معاملہ کو ناپسند کیا ہے۔ نیز کثرت استعمال سے یہ اسماء والقاب بھی اب اپنی حقیقی قدر وقیمت کھوچکے ہیں ۔اگر ان اسماء والقاب کا استعمال جائزاور ضروری ہوتا تو امت محمد یہ میں اس کے سب سے زیادہ حقدار صحابہ کرام تھے کیونکہ ان کے شمس الہدایہ، انصار الدین ،ظلمت میں روشنی ہو نے اور اللہ تعالیٰ کے ان سے راضی ہونے کی شہادت خود قرآن نے دی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بد عت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس سلسلہ میں چند تجاویزقابل توجہ ہو سکتی ہیں:

  • علماء دین کو اگر کو ئی درس کی مجلس کے علاوہ ایسے اسماء والقاب سے پکارے تو وہ اس کا بالکل جواب نہ دیں۔ اس طرح وہ حقیقی نام سے پکارنے پر مجبور ہوں گے۔
  • اگر کوئی شخص ایسے اسماء و القاب سے پکارے تو اس کو نرمی سے سمجھایاجائے کہ یہ بدعت ہے اور شریعت کی نظرمیں یہ امرناپسندیدہ ہے۔
  • دینی مدارس میں طلبہ کی اس نہج پر تربیت کی جائے کہ وہ عوامی سطح پراس بدعت کے قلع قمع کی مہم چلائیں جس سے یہ بدعت یقینی طور پرختم ہوجائے گی۔
  • عوامی سطح پر لوگوں میں بامعنی اور بامقصد نام کی اہمیت اجاگر کی جائے اورلوگوں میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ وہ بچوں کے ایسے نام رکھیں جو ان کے خاندانی اور نسلی اوصاف سے مطابقت رکھتے ہوں کیو نکہ اچھے نام کے بھی بچے کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
  • لوگوں میں شرعی اور غیر شرعی ناموں کا شعور پیداکیا جائے اور اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھنے والے ناموں سے آگاہ کیا جائے تاکہ ابتدا سے ہی لوگ اپنے بچوں کے ایسے نام رکھنے سے اجتناب کریں جن سے خواہ مخواہ تقدس کا اظہار ہوتا ہو۔


دین و حکمت