مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

کل مضامین: 14

میخانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے

(یہ عمرہ کے سفر کی کچھ روداد ہے۔اس کا اگر کوئی فائدہ ہو تو اس کا ثواب برادرِ عزیز حسان نعمانی کے حساب میں کہ یہ تحریر محض ان کی فرمائش پر ہے۔)۔ بسم اللہ حمداً وَّسلاماً۔ چالیس برس ہوتے ہیں جب شمالی برطانیہ کے شہر ڈیوز بری میں سکونت پذیر محترم مولانا یعقوب قاسمی زید مجدہم نے راقم کی صحت کے حوالہ سے اپنے یہاں کچھ وقت گزارنے کی دعوت دیتے ہوئے آمد و رفت کاایسا ٹکٹ ارسال فرمایا کہ واپسی براہِ جدہ تھی، یعنی اسی سفر میں حج کی سعادت بھی حاصل کی جا سکتی تھی۔اللہ مولانا کو ہردوعالم میں جزائے خیر سے نوازے،یہ سعادت حاصل ہوئی۔یہ دسمبر۱۹۷۵ء تھا۔ ۱۹۷۶ء سے...

اے عاشقانِ رسول، تم پر سلام !

لیکن یہ عشق اپنے خاص آداب رکھتا ہے ’’عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے، عشق ہے کارِ شیشہ وآہن‘‘۔ مؤمن آزاد نہیں ،کہ جو جی میں سمائے اس پر عمل پیرا ہو جائے۔ اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملہ میں اُسوۂ و طرزِ عمل چھوڑا ہے۔ اہانت کے معاملے بھی پے بہ پے آپ کی زندگی آئے۔ مکی زندگی ہی میں نہیں ،مدنی زندگی میں بھی، اور آپ ؐکے اور آپ کے اصحابؓ کے لیے بنیادی طور پر یہ ہدایتِ ربانی رہنما رہی: ’’تم بالضرور آزمائے جاؤگے اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں، اور کتنی ہی دل آزار باتیں بھی تمہیں سننی پڑیں گی اہلِ کتاب اور مشرکین سے ، اور اس کے مقابلہ میں اگر تم...

لال مسجدکا سانحہ، علماءِ عظام اور صدر مشرف

اسلام آباد کی لال مسجد کا نام مہینوں سے ہر اُس آدمی کو ذہنی پریشانی میں ڈالے ہوئے تھا جو اسلام اور اسلامی شعائر سے نام کا بھی جذباتی تعلق رکھتا ہو۔ دعائیں تھیں کہ اللہ کوئی بہتر حل کی صورت نکال دے۔مگردعاؤں پر تو مدت سے ہماری بد اعمالیوں نے درِ اجابت بند سا کر رکھا ہے۔سو، ۱۱ ؍جولائی کو ساری دعاؤں کے علیٰ الرغم یہ پریشانی ایک اتھاہ رنج و الم میں جابدلی ۔ افہام و تفہیم کی کوششیں نہ صرف حکومت کی طرف سے ہوا کیں، پاکستان کے مؤقّرترین علماء کی طرف سے بھی مسجد اور اس سے وابستہ جامعۂ حفصہؓ کے ذ مہ دار برادران(عبدالعزیز صاحب اور عبدا لرشید صاحب) سے پیہم...

دارالعلوم کراچی کا فتویٰ

لندن، ۱۶ اگست ۲۰۰۷ء۔ حضرت مولانا! اگست کے شمارے میں اپنا استفتاء اور اس کا جواب دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔ اور ایسا لگا جیسے ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘۔ آپ برطانوی مسلمانوں کے موجودہ حالات و گھمبیر مسائل سے بالکل ہم لوگوں ہی کی طرح واقف ہیں۔پھر بھی کیاآپ نے یہ چاہا ہے کہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کا وہ جواب جو صرف مجھ تک اور آپ ہی تک تھا ،ایک معنیٰ میں آپ کی توثیق کے ساتھ، اسلامیانِ برطانیہ تک عام ہو، اور ان کے حالات کی نزاکت جلد سے جلد اپنے بقیہ مراحل ،خد ا نہ کردہ،طے کر لے! آپ نے یقیناً یہ نہیں چاہا ہوگا۔ لیکن ذرا غور تو فرمائیے۔جب...

اسلامی پردہ کا مفہوم، اس کی روح اور مقصد

مسلم خواتین کے لیے پردہ(اس پورے معنیٰ میں کہ چہرہ بھی چھپاہو) ضروری ہویا نہ ہو ،اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے بہتر ہونے میں کلام کی گنجائش نہیں نظر آتی۔ مسلم معاشرہ کے عادات و اطوارکے لیے مستند ترین معیار نبئ اکرم ﷺ کے دورِ مبارک کا معاشرہ ہے۔ اس معاشرہ میں ہمیں مردوں اور عورتوں کو الگ الگ (Segregated) رکھنے کا واضح رویّہ ملتا ہے۔جماعت کی نماز کے لیے مسجد میں عورتوں کو آنے کی اجازت تو رکھی تھی پر ان کے لیے زیادہ ثواب آپؐ گھر کے اندر کی نماز میں بتاتے۔مسجد میں عورتیں آتیں تو مردوں کی صف میں نہیں کھڑی ہو سکتی تھیں،ان کی صفیں مردوں کی پشت پر ہوتی تھیں۔نمازکے...

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو

اس ماہِ اگست کی ۱۲ تاریخ تھی، ایک فون کسی انگریزی بولنے والے کا آیا۔ میں اپنی سماعت کی کمزوری سے، جو غیر زبان کے معاملے میں زیادہ ہی کمزور پڑجاتی ہے (خاص کر ٹیلیفون پر) اس سے زیادہ کچھ نہ سمجھ پایا کہ کوئی مجھ سے ’’جہادیوں‘‘ کے بارے میں رائے جاننا چاہتا ہے۔ جب پتہ نہ ہو کہ کون شخص ہے اور کیا تعلق اس کا اس تفتیش و تحقیق سے ہے، تو معذرت کے سوا اور کیا مناسب؟ پس اُدھر سے اصرار کے باوجود معذرت کرکے پیچھا چھڑایا۔ دوسرے دن مفتی برکت اللہ صاحب کا فون آیا کہ لاس اینجلز ٹائمز (امریکہ) کے نمائندہ کو میں نے آپ کا فون نمبر دیا تھا۔ وہ مجھ سے موجودہ حالات...

مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف

مولانا مرحوم کی تفسیر ’تدبّر قرآن‘ کا حوالہ الفرقان میں باربار آیاہے۔مولانا کو والد مرحوم سے ایک قدیم تعلق تھا۔ عمر میں بھی دونوں کی بس ایک سال کا فرق تھا۔ تدبر کی پہلی ہی جلد نکلی تو مولانا کی طرف سے ہدیہ ہمارے ہاں آئی اور تہدیہ کے الفاظ تھے: ’’ہدیہ اخلاص بخدمت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب زاد لطفہ‘‘۔ پھر مزید جلدیں بھی آتی رہیں۔ راقم سطور کو الفرقان میں جو لکھنا لکھانا ہوتاتھا، جس کا سلسلہ ۱۹۵۳ء سے شروع ہوا، اس میں اکثر قرآنی آیات بھی کسی استدلال واستشہاد میں آتیں اور ضرورت ہوتی کہ آیت جس مفہوم کے ساتھ اپنے ذہن میں آئی ہے اس کی توثیق...

پاکستان میں اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس سے وابستہ اصولی اور اخلاقی تصورات

پاکستان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ بنا اسلام کے نام پہ۔ پر پہلے دن سے وہاں اسلامی نظامِ حکومت کے لیے اس انداز کی جدوجہد چل رہی ہے جیسے حکمرانوں کے لیے یہ نظام ایک ناقابلِ قبول چیز ہو! ابتدائی دنوں کی سخت جد و جہد کے بعد اتنی کامیابی اس سلسلہ میں ملی کہ دستور ساز اسمبلی نے’’قراردادِ مقاصد‘‘ نام کی ایک قرارداد پاس کردی۔ یہ گویا ملک کے لیے اسلامی دستور کا سنگِ بنیاد ہوا۔ مگر پھر دستور بننے میں وہ لوہے لگے کہ کہیں ۱۹۷۳ء میں جا کے یہ ہو سکا۔یعنی پاکستان کے قیام پر ایک چوتھائی صدی گزرنے کے بعد۔ یہ دستور بہر حال ایسا بن گیا کہ جو طبقہ اسلامی نظامِ...

’’سر اقبال‘‘ بنام ’’حسین احمد‘‘ ۔ ماضی کی ایک کہانی کا معما ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب کی روشنی میں

کتابیں لکھے اور چھاپے جانے کی موجودہ گرم بازاری میں اگر کوئی واقعی ’’کتاب‘‘ ہاتھ آ جائے تو کچھ زیاہ ہی اچھی معلوم ہونا قدرتی بات ہے۔ علامہ اقبال کے سوانح حیات میں علامہ کے فرزند ارجمند جسٹس (ریٹائرڈ) ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے قلم سے نکلی ہوئی ’’زندہ رود‘‘ ایک ایسی ہی کتاب کہی جانے کی مستحق ہے۔ کتاب گو تازہ بتازہ نہیں، مگر راقم سطور کے ہاتھ میں وہ گزشتہ دنوں ہی آئی۔ تین جلدوں میں ہونے کے باوجود دلچسپی کو آخر تک قائم رکھنے والی۔ برصغیر کے پڑھے لکھے لوگوں میں کم ہی ہوں گے جنھیں علامہ کی شاعری سے دلچسپی نہ رہی ہو۔ تھوڑی بہت راقم سطور کے حصہ...

’’برہمن‘‘ کی پختہ زناری بھی دیکھ

بش اور بلیر اینڈ کمپنی کو ’’برابر کی چوٹ‘‘ کا اب تک کوئی نہ مل رہا تھا۔ یہ کمی بالآخر عراق میں فلوجہ کے ابو مصعب الزرقاوی نے پچھلے دنوں پوری کی۔ مگر افسوس کہ یہ کمی جس مقابلہ میں پوری ہوئی، اس میں بھی جیت کمپنی کی ہوئی۔ زرقاوی برابر رہ کر بھی ہار گئے۔ برابر وہ اس معنی میں رہے کہ مسٹر بلیر نے اگر ان کے مطالبہ پر جھکنے سے انکار کیا اور شدید اندرونی دباؤ کے باوجود انکار پر قائم رہے تو زرقاوی نے بھی ہر طرف سے آنے والی اپیلوں کے دباؤ کا اسی ’’ثابت قدمی‘‘ سے مقابلہ کیا اور اپنا قول کہ ’’عراقی عورتوں کو امریکن جیلوں سے نکلواؤ ورنہ تمھارا آدمی،...

ان کی پرکاری اور ہماری سادگی!

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاس دنیا میں آ کر آنکھ کھو لی تو اسلامی دنیا مغرب کی چیرہ دستیو ں سے لہو لہان تھی ۔یعنی خلافت اسلامیہ (عثمانی) کا تیا پانچہ مغربی قزاقوں کے ہاتھو ں ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ نو عمری شروع ہوئی تو مغرب کے آپس میں ٹکرانے اور ب ہونے (جنگ عظیم دوم )کا منظر سامنے آیا ۔پھر اس کے نتیجے میں مغربی طاقتوں کی گرفت اپنے مقبوضات پر ڈھیلی پڑی تو تاریخ کا ایک نیا باب کھلنا شروع ہوا۔ مغرب کے مقبوضات چاہے اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، ایک ایک کرکے اس کی گرفت سے آزاد ہوئے۔ اسلامی دنیا کا ایک حصہ جوکیمونسٹ روس کے پنجہء استبداد میں رہ گیا تھا،...

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے مکاتیب گرامی

الشریعہ کے دو شمارے کل موصول ہوئے ہیں۔ آپ نے خصوصی ترسیل سے بڑی عنایت کی۔ کوئی حرج نہ تھا عام ذریعہ ترسیل سے آ جاتے۔ بہرحال آپ کی عنایت ہے۔ ان مضامین کی اشاعت (خاص طور سے ’’خواب‘‘ کی) یوں تو آپ نے اصلاً افادیت اور ضرورت ہی محسوس کر کے کی ہوگی مگر میں اولاً تو معاملے کے اس پہلو کی بنا پر ممنون ہوں کہ میری اپنی خواہش تھی کہ پاکستان میں اس کی اشاعت ہو۔ ثانیاً یہ کہ آپ کی ایک طرح سے تائید کا وزن بھی اس ’’خطرناک‘‘ مضمون کو مل گیا جس کی وجہ سے اخوان پاکستان اس پر زیادہ توازن کے ساتھ غور کر سکیں گے۔ مجھے اب تک نہیں معلوم ہو سکا کہ الفرقان اور الشریعہ...

خواب جو بکھر گیا! ’طالبان‘ کی شکست کے اسباب وعوامل کا ایک جائزہ

اس دنیا میں کامیابی اور ناکامی کے اصول وقوانین ہر کسی کے لیے یکساں ہیں۔ مومنین کو کامیابی حاصل کرنا ہو، تب اور غیر مومنین اس کے خواہاں ہوں، تب۔ دونوں کو انہیں قواعد کی راہ سے گزرنا ہوگا جو اس عالم کے خالق نے متعین فرما دیے ہیں اور تجربات کی روشنی میں وہ ہر دانا وبینا پر واضح ہو چکے ہیں۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس ارادے اور اعلان کے ساتھ ہوئی کہ آپ کے ذریعہ دین حق کا بول بالا دنیا میں کیا جائے گا اور کفار ومشرکین خواہ کتنا ہی زور مخالفت میں لگائیں، اللہ کا یہ ارادہ پورا ہی ہو کر رہے گا۔ (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی...

دیوبند اور جہاد

دیوبند (دار العلوم دیوبند) ان دنوں بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ افغانی طالبان پر جو قہر گزشتہ دنوں ٹوٹا، ہماری (بی جے پی) حکومت نے اس موقع پر ہر کردنی وناکردنی اس خواہش کے ماتحت کی تھی کہ امریکہ بہادر کے ساتھ اس کے لیے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالنے کی صورت بن جائے مگر امید بر نہ آ سکی۔ اس محرومی کی تلافی اب وہ طالبان کی ’دیوبندیت‘ کے حوالے سے دیوبند اور اس کی نسبت کے ساتھ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سلسلہ مدارس پر ستم آزمائی کی شکل سے کرنے میں لگ گئی ہے۔ طالبان بے شک ’’دیوبندی‘‘ تھے۔ اور وہ اگر ’جہاد‘ پیشہ تھے تو دیوبند کو اس پر بھی کسی معذرت کی ضرورت نہیں...
1-14 (14)