متشددانہ فتویٰ نویسی : اصلاح احوال کی ضرورت

ادارہ

(۱)

از دار الافتاء دار العلوم اسلامیہ چار سدہ:

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ قمیص میں کالر لگواتے ہیں۔ سنا ہے کہ یہ کالر نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے۔ کیا یہ واقعی ممنوع ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

بے شک کالر لگانا مشابہت بالنصاریٰ میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔ (امداد الاحکام ج ۴ ص ۲۳۵)

(ماہنامہ ’النصیحۃ‘ ۔ دار العلوم اسلامیہ چارسدہ، اگست ۲۰۰۴، ص ۳۴)


(۲)

محترم ڈین کلیہ مطالعات اسلامیہ وشرقیہ، پشاور یونیورسٹی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

پروفیسر عبد اللہ سے آپ کی دانش گاہ کے افتاء سیل کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے سوچا کہ درج ذیل مسئلے کے بارے میں آپ کے سیل کی رائے حاصل کروں۔ دار العلوم اسلامیہ، چارسدہ (صوبہ سرحد) کے ماہنامہ ’النصیحۃ‘ کے شمارہ اگست ۲۰۰۴ء/رجب ۱۴۲۵ میں صفحہ ۳۴ پر شائع شدہ ایک فتویٰ کی عکسی نقل منسلک کر رہا ہوں۔ حضرت مولانا احمد مجتبیٰ صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ قمیص میں کالر لگانا مشابہت بالنصاریٰ میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔ اس فتویٰ کے لیے انہوں نے کسی آیت قرآنی، حدیث نبوی ﷺ یا فقہی اصول کا ذکر نہیں کیا اور محض ایک کتاب ’امداد الاحکام‘ کا سہارا لیا ہے، جس کے بارے میں یہ تک نہیں بتایا کہ یہ کس کی تصنیف ہے، کب شائع ہوئی ہے، کہاں سے شائع ہوئی ہے۔

میں نے کئی علما سے اس فتویٰ کے بارے میں بات کی، لیکن وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے یا دینا نہیں چاہتے تھے۔ اسی قسم کے غیر محتاط فتووں کی وجہ سے لوگ علما سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی قسم کے فتووں نے عیسائی عوام اور ان کے دینی طبقے کے درمیان بعد پیدا کیا اور یہ صورت حال عیسائی دنیا میں سیکولر ازم (مذہب اور اجتماعیات کی علیحدگی) کا باعث بنی۔ فتویٰ دینا کوئی آسان کام نہیں۔ مفتی صاحبان کے لیے اسلامی احکام کی ارتقائی تشکیل اور زمانے کے حالات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ مولانا احمد مجبتیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ لباس کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرتے اور اس کے بعد اس مسئلے میں فتویٰ دیتے۔ مجھے مندرجہ ذیل نکات پر آپ کی رہنمائی مطلوب ہے:

۱۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے غیر مسلموں کی طرف سے تحفتاً آیا ہوا لباس زیب تن نہیں فرمایا؟

۲۔ تشبہ بالنصاریٰ/ بالکفار کی حدود کیا ہیں؟

۳۔ کن امور میں تشبہ حرام ہے اور کن میں جائز؟

۴۔ کیا عادی امور میں بھی تشبہ ممنوع ہے یا اس کا تعلق ان معاملات اور امور سے ہے جو عبادت یا دین کے کسی اور پہلو سے متعلق ہوں؟

۵۔ کیا اسلام نے خالص اسی لباس کو لازمی قرار دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ زیب تن فرمایا کرتے تھے، یا اس میں اسلام نے محض کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں (مثلاً ستر، حیا کا تحفظ، موسم سے بچاؤ) اور اس کا طرز مختلف علاقوں کے رواج اور روایات پر چھوڑ دیا ہے؟

۶۔ قمیص شلوار تو خالص پشتونوں کا لباس ہے جس کی مختلف صورتیں ہزارہا سال سے ان کے ہاں مروج ہیں۔ (مثلاً بلوچستان کے پشتونوں کا طرز الگ ہے جبکہ خیبر والوں کا الگ) ان کے لباس کا یہ طرز کسی تشبہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اختراعی اور طبع زاد ہے۔ کیا اس پر تشبہ بالکفار کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟

۷۔ اگر اس قسم کے فتووں کا سلسلہ جاری رہا تو کیا کل یہ فتویٰ نہیں دیا جا سکتا کہ ٹیلی فون پر بات کرنا، جہاز میں سفر، جوتوں کے بجائے بوٹ پہننا، چٹائی کے بجائے میز کرسی پربیٹھ کر کام کرنا، الغرض یہ تمام کام تشبہ بالکفار ہیں؟

خدارا ان علما سے بات کریں اور ان کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ وہ اسلام کی حقیقی روح کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے ہاں جزوی مسئلوں پر زیادہ زور ہے، مثلاً قراء ۃ خلف الامام، نماز میں ٹخنوں کا ظاہر کرنا، رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے حیاتی ومماتی تصورات، قراء ۃ بالسر والجہر کی بحث، دعاء بعد السنن اور قضاء عمری جیسے مسائل۔ اسلام اور مسلمانوں کے آج کے مسائل بالکل مختلف ہیں۔ قوم ان سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے مسائل کا ادراک کریں اور مسلمانوں کی وسیع تر رہنمائی کے لیے آگے بڑھیں۔ انہیں سیرت رسول اللہ ﷺ کا فہم حاصل کرنا چاہیے اور امام ابو حنیفہؒ کی وسعت فکر سے استفادہ کرنا چاہیے۔

دینی مدارس کے علما کو چاہیے کہ وہ فتویٰ دینے کے لیے کچھ اصولوں اور ضوابط کا تعین کریں اور ہر عالم کو فتویٰ دینے کا حق نہ دیں۔ شیعہ مکتب فکر میں ہر عالم فتویٰ دینے کا اہل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں اس قسم کی شوریدہ فکری کے مظاہرے کم ملتے ہیں۔ ہمارے علما آج کے جدید ذہن کے فکری مسائل سے اپنے آپ کو آگاہ رکھنا ضروری نہیں سمجھتے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایک خاص قسم کا بعد پیدا ہو رہا ہے۔ اس بعد کو ختم کرنے کے لیے علما کو پہل کرنی چاہیے اور اس پہل کے لیے ان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ماضی کے خول سے نکالیں۔ یہی آج کے عصر کا تقاضا ہے۔ کاش! آج کوئی شاہ ولی اللہ، کوئی مولانا عبید اللہ سندھی، کوئی مولانا محمود الحسن، کوئی مولانا مفتی محمود بن کر نئے حالات سے آگاہی حاصل کر لے۔

اخوکم فی الاسلام

(مولوی) عبد العالی، ایم اے

ماشو گگر، پشاور


(۳)

06-9-2004

واجب الاحترام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

پشاور یونیورسٹی کے کلیہ مطالعات اسلامیہ وشرقیہ کے افتاء سیل کے مرابط کی حیثیت سے حضرت مولانا عبد العالی کا خط منسلک کر رہا ہوں۔ اس خط میں انہوں نے ایک اہم مسئلے کی طرف ہماری توجہ مبذول فرمائی ہے۔ اپنے افتاء سیل کے سامنے صورت مسئلہ رکھنے کے بجائے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی وقیع رائے حاصل کر لوں۔

اگر آپ کا جواب ۲۰ ستمبر ۲۰۰۴ تک موصول ہو جائے تو میں بے حد شکر گزار ہوں گا، کیونکہ انہی دنوں ہم اپنے افتاء سیل کا اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بے حد احترامات کے ساتھ

ڈاکٹر قبلہ ایاز

(پروفیسر مطالعات سیرت/ڈین کلیہ علوم اسلامیہ وشرقیہ

شیخ زاید اسلامک سنٹر کیمپس، پشاور یونیورسٹی)


(۴)

باسمہ سبحانہ

محترمی ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

نوازش نامہ موصول ہوا۔ مجھے مولانا عبد العالی صاحب کی رائے سے اصولی طور پر اتفاق ہے مگر میرے نزدیک فتویٰ کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے فتویٰ ہی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ فکری اور علمی مباحثہ کی باتیں ہیں اور انہیں اسی دائرہ میں رہنا چاہیے۔ میرے خیال میں کالر اور ٹائی کا تعلق مذہب یا اس کی علامات سے نہیں بلکہ موسمی ضروریات سے ہے۔ سرد علاقوں کے لوگ گلے کو بند رکھنے کے لیے ٹائی کا استعمال کرتے ہیں اور کالر اس کی ضروریات میں سے ہے۔ لباس کے بارے میں قرآن کریم نے ۱۔ زینت، ۲۔ ستر، اور ۳۔ موسمی ضروریات کو اس کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور فقہاء کرام نے کفار کی مذہبی علامات وشعائر کے ساتھ مشابہت کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ ان حدود کے اندر کوئی سا لباس ہو، اسے ممنوع قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور اس حوالہ سے کوئی فیصلہ کرتے وقت علاقائی اور موسمی تقاضوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

احباب سے سلام مسنون۔شکریہ! 

والسلام

ابو عمار زاہد الراشدی

۱۲ /۹/ ۲۰۰۴


(۵)

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ میں نے لاہور کی مختلف مساجد میں ایسی صفیں دیکھی ہیں جن میں قدموں کی جگہ اسم محمد ﷺ دیکھنے میں آتا ہے۔ ان صفوں پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ نیز علم ہونے کی بنا پر ان صفوں کا بنانا اور ان کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب:

ایک مخصوص لادین، بد مذہب گروپ اس سلسلے میں آج کل بہت سرگرم عمل ہے۔ کبھی جوتوں کے تلوے اور کبھی کپڑوں پر پرنٹ اور اب صفوں پر قدموں کی جگہ پر آیات، اسماء حسنیٰ، اسماء النبی وغیرہ پرنٹ کرنے کی مکروہ جرات کرتا رہتا ہے۔ عوام اور بالخصوص علماء کرام پر لازم ہے کہ ان کو روکا جائے۔ سوال میں دیا گیا نقشہ جامعہ اشرفیہ کے علماء کرام ومفتیان عظام نے بغور دیکھا ہے تو سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ یہ واضح طور پر اسم ’’محمد‘‘ ﷺ پڑھا جا رہا ہے، لہٰذا یہ صفیں بنانے والے، ڈیزائن کرنے والے توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایسی صفوں پر نماز پڑھنا اور ان کی خرید وفروخت سب ناجائز اور حرام ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان صفوں سے مکمل طور پر احتراز کریں۔ البتہ جو حضرات لاعلمی میں ایسی صفوں پر نماز پڑھ چکے ہیں یا ان کی خرید وفروخت کر چکے ہیں، وہ گنہگار نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر پڑھی ہوئی نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

(مفتی) عبد الخالق عفی عنہ

دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور


(۶)

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

الجواب ہو المصوب:

پلاسٹک کی صفوں کو ہم نے بغور دیکھا ہے۔ ان صفوں میں کوئی بھی ایسا ڈیزائن نہیں ہے جو کہ لفظ ’’محمد‘‘ بنتا ہو۔ لہٰذا ایسی صفوں پر نماز ادا کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ نیز ایسی صفوں کی خرید وفروخت بھی جائز ہے۔ وہم نہ کیا جائے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

(مفتی) محمود الحسن طیب عفا اللہ عنہ

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ


(۷)

یہ جدت پسندی اور بہتر سے بہتر کی تلاش کا دور ہے اور اس میں روز مرہ کے اعتبار سے اتنا تنوع پیدا ہو رہا ہے کہ ایک چیز دنیا کے ایک کونے سے نکلتی ہے تو دوسرے کونے میں اس کا چرچا شروع ہو جاتا ہے۔ اوپر سے مقابلہ اور کمپٹیشن نے ہر ایک کو دوسرے پر سبقت اور پیش قدمی کی دعوت دی ہوئی ہے، اس لیے بعض اوقات زیب وزینت اور فیشن کے لیے تنوع در تنوع اور بہتر سے بہتر کی تلاش کے نتیجے میں کچھ کا کچھ بن جاتا ہے اور پھر لوگ اپنی دینی نفسیات کے مطابق رسی کو سانپ اور بھیڑ کو بھیڑیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

چند سال پہلے ایک صاحب اپنے گھر سے زنانہ سوٹ لے کر حاضر ہوئے اور کپڑا میرے سامنے رکھ کر فرمایا، اس کو چیک فرما لیں۔ میں نے دیکھنے کے بعد کہا، مجھے تو اس میں بظاہر کوئی خرابی اور عیب نظر نہیں آ رہا۔ آپ فرمائیے، آپ کا مطلب کیا ہے؟ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ اچھی طرح غور سے دیکھ کر چیک کریں۔ میں نے دوبارہ کپڑے کو کھول کر دیکھا تو وہ کسی خاتون کا سلا ہوا سوٹ تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کسی خاتون کا سلا ہوا سوٹ معلوم ہو رہا ہے اور بس۔ اس سے زیادہ مجھے اس کے بارے میں مزید معلومات نہیں۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ دراصل میری بات پوری طرح نہیں سمجھ سکے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کپڑے پر پڑھ کر دیکھیں کہ کیا لکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ اردو، عربی جس قابل مجھے آتی ہے، اس زبان میں تو مجھے لکھا ہوا کچھ نظر نہیں آ رہا۔ البتہ اگر آپ ان دونوں زبانوں کو مجھ سے زیادہ جانتے ہوں یا کسی اور زبان میں کچھ لکھا ہوا ہو تو آپ ہی بتلا دیجیے۔ مجھے تو اس میں مختلف قسم کے پھول، بوٹے اور ڈیزائن نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کپڑا اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ یہ دیکھیے، اس پر دراصل ’’محمد‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ اس طرح کر کے ’’میم‘‘ ہے، اور یہاں سے اس طرح کو ’’ح‘‘ ہے اور یہ یہاں ’’میم‘‘ ہے اور یہ اس طرح سے ’’دال‘‘ ہے۔ اور اس طرح پورا لفظ ’’محمد‘‘ ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ تو آپ کی طرف سے زبردستی کا بنایا ہوا لفظ ’’محمد‘‘ ہے۔ حقیقت میں تو اس طرح نہیں ہے کیونکہ اگر یہ حقیقت میں محمد لکھا ہوا ہوتا تو مجھے ضرور سمجھ اور نظر آجاتا کیونکہ اس لفظ سے ہمیں آپ سے زیادہ واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ بچپن اور طالب علمی کے زمانے سے ہم کتابوں میں یہ لفظ پڑھتے اور دیکھتے آئے ہیں اور کاپیوں وغیرہ میں بھی لکھتے رہے ہیں۔ اگر یہ حقیقت میں محمد لکھا ہوا ہوتا تو پہلی نظر میں سمجھ آ جاتا۔ میں نے ان صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے خود یہ لفظ اس میں پڑھا ہے یا کسی نے آپ کو اس طرح پڑھایا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے خود تو نہیں پڑھا بلکہ مجھے اس طرف میری اہلیہ صاحبہ نے متوجہ کیا اور ان کی توجہ بھی اس طرف اس لیے ہوئی کہ آج کل اخبارات میں کپڑے میں ’’اللہ، محمد‘‘ وغیرہ چھپنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس سے پہلے انہیں بھی اس طرف توجہ نہیں تھی اور مدت سے یہ کپڑا استعمال ہو رہا تھا۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ یہ سب نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ممکن ہے کہ کسی خاص کپڑے میں ایسی کوئی چیز چھاپی گئی ہو لیکن بہرحال آپ کے اس کپڑے میں یہ چیز نہیں ہے اور اگر واقعہ میں اس کپڑے میں ایسی کوئی چیز لکھی ہوئی ہوتی تو آپ کو یا آپ کی اہلیہ کو خود ہی یہ بات معلوم ہو جاتی جبکہ آپ کے گھر میں یہ کپڑا مدت دراز سے استعمال ہو رہا ہے اور آپ ماشاء اللہ پڑھے لکھے لوگ ہیں۔

ایک زمانے میں لاہور کی کسی جوتا ساز فیکٹری کے جوتے کی خاص قسم اور ورائٹی کے بارے میں اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ جوتے کے تلوے میں لفظ ’’اللہ‘‘ چھاپ کر اللہ تعالیٰ کی توہین کی گئی ہے۔ اس وقت ہزاروں، لاکھوں افراد نے اپنے اپنے ذہن سے اپنے جوتوں کے تلووں میں لفظ ’’اللہ‘‘ کا تصور قائم کر کے قیمتی قیمتی جوتوں کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ اسی زمانے میں میرا ایک صاحب کے گھر جانا ہوا۔ وہاں جانے کے بعد صاحب خانہ کے ایک برخوردار نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو ایک چیز دکھاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ برخوردار اپنے کمرے کی الماری کے اوپر سے بڑے احترام اور حفاظت سے رکھے ہوئے جوتوں کے تلوے اٹھا کر لائے جن کو اوپر سے کاٹ کر استعمال سے ناکارہ بنا دیا گیا تھا اور یہ تلوے بڑے قیمتی اور تقریباً نئے محسوس ہو رہے تھے اور جس الماری کے اوپر انہوں نے حفاظت سے یہ جوتے کے تلوے رکھے ہوئے تھے، اس الماری کے اندر دینی کتب اور قرآن مجید کے نسخے بھی تھے اور یہ تلوے ان کے بھی اوپر والے حصے پر بے ادبی اور بے احترامی سے بچانے کے لیے رکھے گئے تھے۔ میں نے جب ان جوتوں کے تلووں کو غور سے دیکھا تو ان میں اللہ کا لفظ واضح طور پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ البتہ ایک پھول کا ڈیزائن کچھ لفظ ’’اللہ‘‘ کے مشابہ ضرور معلوم ہو رہا تھا اور وہ بھی اسی وقت محسوس ہوتا تھا جبکہ لفظ ’’اللہ‘‘ کے تصور کو ذہن میں قائم کر کے اسی پر اس کومنطبق کرنے کی کوشش کی جائے۔ مجھے یہ ماجرا دیکھ کر تعجب ہوا اور میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ لفظ ’’اللہ‘‘ تو لکھا اور چھپا ہوا نہیں ہے بلکہ ایک پھول بوٹا ہے جس کے بارے میں آپ نے لفظ اللہ کا تصور قائم کر لیا ہے اور شرعاً آپ کا ان جوتوں کو پہننا اور استعمال کرنا تو گناہ نہیں تھا لیکن ان کو ناکارہ بنا کر مال کو ضائع کرنا گناہ تھا اور پھر ان جوتے کے تلووں کو دینی کتب اور قرآن مجید کے اوپر رکھ کر آپ نے جو پورے قرآن مجید کی بے ادبی کی ہے، جس میں ہزاروں مرتبہ لفظ اللہ استعمال ہوا ہے، آپ کو اس کا ذرا بھی خیال نہیں۔ یہ گفتگو سن کر ان برخوردار کی آنکھیں کھلیں اور اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

چند دن پہلے کسی مسجد کی انتظامیہ کے چند حضرات تشریف لائے اور اپنی مسجد کے قالینوں کی یہ داستان سنائی کہ ہم نے بہت مشکل اور محنت سے چندہ کر کے بڑے قیمتی قالین مسجد میں بچھانے اور نماز پڑھنے کے لیے خریدے تھے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں کتے اور بلی کی شکل کی کوئی تصویر بنی ہوئی ہے جبکہ کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ پھول بوٹے ہیں، کسی جاندار چیز کی تصویر نہیں ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے مسجد سے لایا ہوا قالین کا ٹکڑا دکھایا جس میں کسی بھی جاندار چیز کی تصویر نہیں تھی۔ بس ایک واہمہ تھا جو کسی نے اپنے ذہن سے قائم کر کے اور گھڑ کر دوسروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ جو لوگ کمزور نفسیات کے مالک تھے، انہوں نے ہاں میں ہاں ملا لی تھی اور جو لوگ مضبوط نفسیات اور خود اعتمادی کے مالک تھے، وہ ان کی اس بات سے اختلاف کرتے تھے۔

ایک مسجد میں بڑی قیمتی ٹائلیں لگوا کر مسجد کو مزین کیا گیا تھا لیکن بعض لوگوں نے یہ شور ڈال دیا تھا کہ ٹائلوں کے ڈیزائن میں کتے کی شبیہ بنی ہوئی ہے لہٰذا فی الفور تمام ٹائلوں کو اکھاڑ کر مسجد کو تصویروں کی لعنت سے پاک اور نماز کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ جب میں نے ساتھ میں لائی ہوئی ٹائل کے نمونے کا معاینہ کیا تو اس میں کچھ بھی نہ تھا، سوائے ایک سایہ کے اور وہ بھی خوب صورتی پیدا کرنے کے لیے ایک ڈیزائن تیار کیا گیاتھا۔ ان لوگوں کو بڑی مشکل سے مطمئن کر کے لاکھوں روپیہ ضائع ہونے سے بچایا گیا لیکن بعض انتظامیہ کے لوگ اس پرمصر تھے کہ اگر وہ شک وشبہ اور لوگوں کو تشویش سے بچانے کے لیے ان کو اکھاڑ کر دوسری ٹائلیں لگا دیں اور ان کو ضائع کر دیں تو یہ زیادہ بہتر اور تقوے کا تقاضا ہوگا لیکن جب ان کو یہ بتایا گیا کہ اس طرح کرنے کے نتیجے میں انہیں چندہ دینے والوں کو تاوان اور ہرجانہ دینے کا اپنی جیب سے انتظام کرنا پڑے گا، تب ان کی تسلی ہوئی اور طبیعت صاف ہوئی۔

ایک مولوی صاحب جو ایک دینی تنظیم کے ذمہ دار تھے، جمعہ کے دن مسجد میں غالباً عصر کی نماز کے وقت تشریف لائے اور نماز کے بعد مجھے ایک طرف لے جا کر کہنے لگے کہ آج آپ کی ایک اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانی ہے تاکہ آپ لوگوں کو آگاہ کریں اور اس مسئلہ کی لوگوں میں تبلیغ کریں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی جیب سے سگریٹ کا ایک پیکٹ نکالا جس میں مختلف کمپنیوں کی سگریٹ جمع کر رکھی تھی اور ایک ایک کر کے سگریٹ کے پیچھے والے حصہ یعنی فلٹر کے پیلے رنگ کے کاغذ کو مجھے دکھانا شروع کیا جس میں کچھ سفید سفید نشانات تھے، کہ ان کو غور سے دیکھیں، ہر سگریٹ کے پیچھے چھوٹا سا ’’محمد‘‘ لکھا ہوا ہے۔ میں نے ہر چند غور سے دیکھا مگر مجھے ان میں سے کسی ایک سگریٹ میں بھی کچھ نظر نہ آیا، سوائے سفید سفید نشانوں کے۔ جب میں نے ان کی بات سے اختلاف کیا تو انہوں نے بتلایا کہ اس بات پر تو آج جمعہ کی نماز کے بعد فلاں جگہ احتجاج کیا گیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی سگریٹ کو فوراً ضبط کیا جائے اور آیندہ کے لیے یہ بے حرمتی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ میں نے ان کو بتلایا کہ یہ سب فضول اور خواہ مخواہ کی باتیں ہیں۔ اولاً تو سگریٹ نوشی جتنا گناہ ہے، اس شبیہ میں اتنی بھی خرابی نہیں اور آپ کے احتجاج اور شور مچانے سے لوگ سگریٹ نوشی چھوڑیں گے نہیں اور آپ کے اس چرچا کرنے سے پھر وہ سمجھتے بوجھتے ہوئے بھی اس میں مبتلا رہیں گے اور پھر گناہگار نہ ہوتے ہوئے بھی گنہگار ہوں گے۔ دوسرے کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ایسی حرکت کر کے اپنی مصنوعات کی طرف سے مسلمانوں کو متنفر کرے؟

بعض لوگ خواہ مخواہ کسی لکھائی کے بارے میں کہا کرتے ہیں کہ اس کو اگر الٹا کر کے پڑھا جائے، مثلاً کوکا کولا کو الٹا پڑھیں تو فلاں لفظ بن جاتا ہے۔ حالانکہ اس طرح الٹا پڑھنے سے تو بے شمار الفاظ جن کا مفہوم صحیح ہے، وہ بھی غلط بن سکتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ تحریر کے کچھ اصول وقواعد ہوا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہی الفاظ اور تحریر کو کوئی حکم دیا جا سکتا ہے۔ ہر قسم کے نقش ونگار پر اپنے ذہن سے کسی لفظ کے بارے میں کوئی تصور قائم کر لینا صحیح نہیں۔ البتہ اگر کسی چیز میں واقعی کوئی مبارک کلمہ کی تحریر موجود ہو تو اس کا حکم علیحدہ ہوگا، لیکن بلاوجہ اور خواہ مخواہ کا شور ڈال کر لوگوں کو تشویش میں مبتلا کرنا اور صریح اور حرام چیزوں سے لوگوں کو بچانے کی فکر کرنے کے بجائے ان مہمل چیزوں پر اپنی صلاحیتوں کو خرچ کرنا کسی طرح بھی عقل مندی نہیں۔

(تحریر: مولانا مفتی محمد رضوان۔ بشکریہ ماہنامہ ’’التبلیغ‘‘ راول پنڈی، ستمبر ۲۰۰۴)


دین و حکمت

Flag Counter