امت میں غوروفکر کی بازیافت
وحی میں عقل کی خوب خوب ستائش کی جاتی ہے، اور عقل وحی سے خوب خوب حظ پاتی ہے

ڈاکٹر محی الدین غازی

وحی پر ایمان لانا اور عقل سے کام لینا

قرآن مجید میں   یعقلون اور    یومنون (عقل سے کام لینے اور ایمان لانے)کو ایک جیسے سیاق میں بار بار استعمال کیا گیا ہے،اس سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں ایک ہی قبیل کے امر ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دونوں قرآنی جملوں پر غور کریں:

انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یومِنُونَ۔ (الروم:37)

(بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے)

انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یعقِلُونَ۔ (الروم:24)

(بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے)

یہی نہیں، عقل کے جن اعمال کا قرآن مجیدمیں ذکر ہے، جیسے یفقہون، یتدبرون، یتفکرون، یتذکرون، یعلمون، وغیرہ اور ایمان کے جن اعمال کا ذکر ہے جیسے یتقون، یخشون، یوقنون، وغیرہ یہ سبھی اعما ل قرآن مجید میں اس طرح ایک ہی انداز سے اور ایک جیسے سیاق میں ذکر کیے جاتے ہیں، کہ دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ جن لوگوں کی صفت ایمان لانا ہے، انھیں لوگوں کی صفت عقل سے کام لینا ہے۔

غرض قرآن مجید میں جس انسانی گروہ کی تعریف کی گئی ہے، وہ گروہ وحی پر ایمان لانے اور عقل سے کام لینے میں ساری انسانیت کے بیچ منفرد وممتاز نظر آتا ہے۔ایمان اور عقل اس گروہ کی سب سے نمایاں صفات قرار پاتی ہیں۔

قرآن مجید میں اہل ایمان کے علاوہ کسی گروہ کو قوم یعقلون نہیں کہا، یہ امتیاز صرف قوم یومنون کے لیے خاص بتایا۔افسوس آج ایمان کا دعوی کرنے والوں کے یہاں عقل ایک قابل افتخار امتیازی صفت نہیں رہی۔ شاید ا س لیے کہ ایمان بھی شعوری نہیں رہا، موروثی اور تقلیدی ایمان رہ گیا۔موروثی ایمان ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، لیکن موروثی ایمان حاصل ہونے کے بعد غور وفکر سے بے تعلق رہنا بڑے عیب کی بات ہے۔ ایمان یا تو غور وفکر کے بطن سے جنم لے، اور اگر بغیر غور وفکر کے مل گیا ہو تو ضروری ہے کہ غور وفکرکا ساتھ رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امت میں ایمان کا احیاءاور عقل کی بازیافت ایک ہی مشن کے دو پہلو ہیں۔

عقل، بڑی نعمت اور بڑا امتحان

عقل اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور دنیا کی ہر نعمت کی طرح یہ بھی انسان کے امتحانی پرچے کا حصہ، بلکہ سب سے بنیادی حصہ ہے۔جس کے پاس عقل نہیں ہے، اس کا امتحان بھی نہیں ہے، اور وہ ہر ذمہ داری سے بری ہے، جسم اور مال سے زیادہ اہم امتحان عقل کا ہے، جسم اور مال کا تعلق اعمال سے ہے، اور عقل کا تعلق ایمان سے ہے، اور ظاہر ہے کہ ایمان عمل پر مقدم ہے، جب کہ دونوں ہی نجات وفلاح کے لیے ناگزیر ہیں۔امتحانی پرچے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اسے حل کرنے کے صحیح اور غلط دو راستے ہوتے ہیں، اور اسی کی بنا پر ناکامی اور کامیابی دونوں کے راستے اسی ایک امتحان سے نکلتے ہیں۔ اس امتحان سے مفر نہیں اور اسے صحیح طور پر انجام دینے کے سوا نجات کا کوئی راستہ نہیں۔اس لیے عقل کے استعمال کو زندگی کے بنیادی اور ناگزیر کاموں میں شامل کرنا چاہیے۔ اس کا استعمال محض دنیا کی کچھ معمولی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نہیں، بلکہ نجات اور فلاح جیسے عظیم مقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔

عقل، دراصل ذریعہ ہدایت ہے

وحی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور عقل بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے، دونوں نعمتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جان بوجھ کر گمرہی کی جستجو کرنے والوں کو ان دونوں سے گمرہی ہاتھ آتی ہے، اور ہدایت تلاش کرنے والوں کو اگر وہ عقل کا استعمال کریں تو وحی سے ہدایت مل جاتی ہے۔عقل اور وحی دونوں کا اصل مقصد تو ہدایت دینا ہی ہے، البتہ اس دار الامتحان میں اللہ کی یہ سنت بھی کارفرما رہتی ہے کہ جو لوگ خود ہدایت سے بیزار یا بے نیاز ہوں، اور ضلالت وگمرہی کو اپنا شیوہ بنالیں، انھیں نہ وحی سے کوئی فیض پہنچتا ہے، اور نہ عقل کا ہونا ان کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

وحی اور عقل میں گہرا رشتہ ہے، وحی صحیح راستے اور صحیح منزل کا پتہ دیتی ہے، عقل صحیح راستے اور صحیح منزل کی جستجو میں رہتی ہے، اور اسی وقت مطمئن ہوتی ہے، جب وہاں تک رسائی ہوجاتی ہے۔ عقل اور وحی کا ملن ہوتا ہے تو عقل کو لگتا ہے کہ گویا آنکھوں کے سامنے سے اندھیرا چھٹ گیا اور روشنی پھیل گئی۔امام فراہیؒ کہتے ہیں:”جان لو کہ ہماری راہ عقل کی راہ ہے، ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جسے عقل خالص قبول کرلے اور فطرت کی رہنمائی کو اس پر اطمینان ہو۔ وحی اور رسولوں کی آمد تو عقل کے بالکل موافق ہوئی، جیسے کہ نگاہ کے لیے روشنی۔ اس کی صراحت کتب مقدسہ میں بہت ہے، اور قرآن تو اس بارے میں سب سے زیادہ صریح ہے“۔ (حجج القرآن 185)

یہ درست ہے کہ عقل کے پاس غیب کا علم نہیں ہوتا ہے، غیب کی باتوں پر ایمان لانے کے لیے وحی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسی لیے خالق حکیم نے عقل سے نوازنے کے بعد وحی کے ذریعہ ہدایت کا انتظام کیا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ عقل کے پاس غیب کا علم تو نہیں ہوتا ہے، لیکن غیب کی طرف منسوب دعووں کو جانچنے کی صلاحیت اللہ تعالی نے ضرور دی ہے۔ توحید کا تعلق غیبیات سے ہے اور شرک کا تعلق بھی غیبیات سے جوڑا جاتا ہے، آخرت کے حساب کتاب کا تعلق بھی غیبیات سے ہے، اور آواگمن کا رشتہ بھی غیبیات سے جوڑا جاتا ہے۔ سچے نبی کے پاس غیب سے وحی آتی ہے، اور جھوٹا نبی بھی غیب سے وحی آنے کا دعوی کرتا ہے، غرض غیب کی طرف بہت سی مختلف اور متضاد باتیں منسوب کی جاتی ہیں، ایسے میں انسان کے پاس عقل ہی وہ واحدچیزہے جو غیب سے منسوب مختلف باتوں میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کرتی ہے۔

غرض وحی کو وحی ماننے کے لیے بھی انسانوں کے پاس واحد ذریعہ عقل ہے۔ یہی جھوٹے نبی اور سچے نبی میں فرق کرتی ہے، یہی انسانی کلام اور خدائی کلام میں امتیاز کرتی ہے، اور یہی اس فرق وامتیاز کے سلسلے میں اصول بتاتی ہے۔وحی کی ظاہری دلالتوں کو سمجھنے اور وحی کے باطنی اسراراور حکمتوں تک پہنچنے کا کام بھی عقل کرتی ہے۔

وحی اور عقل ہم آہنگ ہوتے ہیں

وحی اور عقل میں ٹکراو نہیں ہوسکتا ہے، اگر ٹکراو محسوس ہو تو سمجھا جائے کہ یا تو وحی کے فہم میں غلطی ہوئی ہے، یا عقل کے برتنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل کو برتنا اور وحی کو سمجھنا یہ دونوں انسانی عمل ہیں، اور انسانی عمل میں غلطی کا امکان بہرحال رہتا ہے، اور اس امکان کو کم سے کم کرنے لیے، ہر انسانی عمل کی طرح اس انسانی عمل کا بھی مسلسل جائزہ لیتے رہنا اوراسے بہتر سے بہترکرنے کی کوشش کرنا ناگزیر ہے۔امام ابن تیمیہ کی یہ بات قابل توجہ ہے: ”عقل صریح سے جو بات معلوم ہو وہ شریعت سے متعارض ہوجائے اس کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔حق یہ ہے کہ عقل صریح سے ثابت بات نقل صحیح سے ثابت بات سے ہرگز ہرگز نہیں ٹکراسکتی ہے۔میں نے اس پر غور کیا ان بحثوں میں جو لوگوں کے درمیان ہو ا کرتی ہیں، میں نے پایا کہ صحیح اور صریح نصوص کی خلاف وہ فاسد شکوک ہوا کرتے ہیں جن کا باطل ہونا عقل سے ہی معلوم ہوجاتاہے، بلکہ عقل سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ بات جو ان شکوک کے خلاف ہے اور شریعت کے مطابق ہے وہی درست ہے۔اس پر میں نے بڑے اصولی مسائل میں غور کیا ہے جیسے توحید، صفات، تقدیر، نبوت اور آخرت کے مسائل۔ اسی طرح میں نے پایا کہ عقل صریح سے جو معلوم ہوتا ہے اس سے کوئی منقول دلیل کبھی نہیں ٹکراتی ہے، بلکہ وہ منقول دلیل جسے اس کا مخالف سمجھا جاتا ہے، وہ کوئی موضوع حدیث ہوتی ہے یا کوئی ضعیف دلالت ہوتی ہے، وہ اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اگر عقل صریح سے نہیں ٹکرائے تو بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے، چہ جائے کہ عقل صریح سے اس کا تعارض ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ رسول ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جو عقل کے نزدیک محال تو نہیں ہوتی ہیں پر حیران کن ضرور ہوتی ہیں۔یعنی وہ ایسی چیزوں کی خبر نہیں دیتے ہیں جن کا نہیں ہونا عقل سے معلوم ہوتا ہو، بلکہ ایسی چیزوں کی خبر دیتے ہیں جن کا معلوم کرنا عقل کے بس سے باہر ہوتا ہے“۔(درءتعارض العقل والنقل،1147)

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل اور وحی میں ٹکراو کی صورت میں ہم وحی کو ترجیح دیں گے، تو ہم غیر محتاط بیان دیتے ہیں، کیوں کہ عقل اور وحی کا حقیقی ٹکراو وحی کی پوزیشن کم زور کرتا ہے، خواہ ہم ذاتی طور پر وحی کی صف میں کھڑے ہوجائیں اور اس کو ترجیح دے دیں۔ محتاط بیان یہ ہے کہ عقل اور وحی کے بظاہر ٹکراوکی صورت میں ہم جستجو جاری رکھیں گے، تا آں کہ ٹکراو دور ہوجائے۔کیوں کہ وہ ٹکراو ہماری کسی غلطی یا کوتاہی کی وجہ سے ہی نظر آتا ہے۔

عقل کی منزل مقصود

واقعہ یہ ہے کہ وحی جس منزل پر پہنچاتی ہے عقل کی منزل مقصود بھی وہی ہوتی ہے، اوروہاں پہنچ کر عقل اطمینان سے بہرہ مند اور یقین سے سرشار ہوجاتی ہے۔

کوئی پوچھ سکتا ہے کہ پیدائشی مسلمان غور وفکر کے بغیر بھی اپنے ایمان پر مطمئن رہتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ وراثت میں انھیں جو اعتقادات ملتے ہیں،وہ حقیقت میں وحی کے بتائے ہوئے اور عقل کو مطمئن رکھنے والے ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ سے وہ موروثی طور پر اس منزل پر ہوتے ہیں جہاں عقل مطمئن رہتی ہے۔اس خوش نصیبی کے باوجود عقل کے استعمال کے بہت بڑے فائدوں سے پھر بھی وہ لوگ محروم رہتے ہیں جو عقل کے استعمال کے بغیر ایمان رکھتے ہیں۔ مختلف دروازوں سے آسانی سے در آنے والی دینی گمراہیاں اور دوسری اقوام کے مقابلے میں دنیوی پسماندگی عقل استعمال نہ کرنے کے بڑے نقصانات ہیں، جو عقل سے بے گانہ اہل ایمان کو درپیش ہوتے ہیں۔

اور پھرایک مومن کے لیے اس سے بڑی بدنصیبی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی تفکر وتدبر کی عبادت سے محروم رہے۔

عقل کی بازیافت کے لیے ضروری اقدامات

امت میں عقل کی بازیافت کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں، جیسے:

وحی اور عقل میں ٹکراوکی بحث ختم کی جائے

عقل سے انسیت اور غور وفکر کے عمل کی ہمت افزائی کے لیے ضروری ہے کہ وحی اور عقل میں ٹکراوکی بحث سے باہر نکلا جائے۔ اس بحث نے امت کے اندر عقل کے سلسلے میں بیزاری کا رویہ پیدا کیا ہے۔

وحی اور عقل میں ٹکراوکا کوئی ذکر ہمیں قرآن مجید میں نہیں ملتا ہے۔اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، جسے دینیات کا بہت بڑا مسئلہ بنالیا گیا ہے۔ٹکراوہوبھی کیسے سکتا ہے، جس رب نے وحی نازل فرمائی ہے، اسی رب نے عقل کی نعمت بھی ودیعت کی ہے، اور اسی نے دونوں کا مقصد ایک قرار دیا ہے، اور وہ ہے ہدایت۔

عقل کی مذمت کرنا بند کی جائے

امت میں عقل کو ایک مذموم اصطلاح کے طور پر مشہور کردیا گیا ہے۔ خاص طور سے تصوف کی کتابوں اور مقولوں میں۔

اس کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ اہل تصوف جب عقل کی مذمت کرتے ہیں تو وہ عقل مراد نہیں ہوتی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، بلکہ وہ عقل مراد ہوتی ہے جس کا حوالہ گمراہ کن فلسفوں میں ملتا ہے۔ امام غزالی لکھتے ہیں: ”اگر تم پوچھتے ہو کہ اہل تصوف کے ان گروہوں کا کیا معاملہ ہے، جو عقل اور معقول کی مذمت کرتے ہیں، تو سمجھ لو کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے عقل اور معقول کا نام مناقضات والزامات پر مشتمل بحث ومناظرے کے لیے استعمال کرلیا، جو کلام کی ایک صنعت ہے۔ اہل تصوف اس پر توقادر نہ تھے کہ انہیں باور کرائیں کہ نام رکھنے میں تم سے غلطی ہوگئی ہے۔ کیوں کہ دل میں بیٹھ جانے اور زبان پر چل پڑنے کے بعد وہ ان کے دلوں سے مٹنے والا نہیں تھا، تو انہوں نے عقل اور معقول کی مذمت کی اس طور سے کی کہ اس چیز کا ان کے یہاں اب یہی نام تھا“۔  (احیاءعلوم الدین ،1 89)

تاہم یہ توجیہ قابل قبول نہیں ہے۔

قابل مذمت چیز کو قابل تعریف چیز کا نام دینا، اور پھر اس نام پر مذمت کے تیروں کی بوچھار کرنا ہرگز مناسب نہیں تھا۔ خاص طور سے اگر وہ قابل تعریف چیز ایسی ہو جس کا ذکر اور تعریف پورے قرآن مجید میں نظر آتی ہو۔

جس طرح دور قدیم میں یونانی فلسفے وغیرہ میں مستعمل عقل کی اصطلاح کو کوئی اور نام دیے بغیر اس طرح نشانہ بنایا گیا کہ خود عقل بدنام ہوگئی، اور عقل کے سلسلے میں اسلام کا حقیقی موقف دھندلا سا ہوگیا، اسی طرح جدید فلسفے نے بھی عقل کے نام سے عقل کا ایک محدود اور ناقص تصور پیش کیا،جو عقل کو جدید تجریبی طریقوں کے استعمال تک محدود سمجھتا ہے، اس تصور پر تنقید کرنے کا طریقہ بھی یہ ہے کہ اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے، اور اس کے نقائص کو بیان کیا جائے، یہ درست نہیں ہوگا کہ چونکہ جدید فلسفیوں نے عقل کو محدود اور ناقص مفہوم میں استعمال کرکے اسے رواج دے دیا ہے، اس لیے ہم ان کی اصطلاح کو تسلیم کرلیں اور ان کے حق میں عقل سے اپنی دست برداری کا اعلان کردیں۔ یعنی جو غلطی قدیم فلسفے کے مقابلے میں تصوف کے مصلحین نے کی وہی غلطی جدید فلسفے کے مقابلے میں فکر اسلامی کے علم بردار نہیں کریں۔

عقل بہت بنیادی انسانی اصطلاح ہے، اور اس کے سب سے زیادہ حق دار وحی کے ماننے والے ہیں، اس لیے اس اصطلاح کی اصلیت کی حفاظت کرنا، اور اس کے صحیح استعمال کی نگرانی کرنا اہل وحی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

تفسیر بالماثور او تفسیر بالرائے ایک ہے

عقل کی مذمت کی ایک ناقابل ستائش صورت یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں ماثور کو معقول کے بالمقابل کھڑا کردیا گیا۔ اور تفسیر بالرائے کے عین مقابل تفسیر بالماثور کو ذکر کیا جانے لگا۔حالانکہ تفسیر بالماثور بھی دور اول کی تفسیر بالرائے ہی تھی۔تفسیر بالرائے کو تفسیر بالماثور کے مقابلے میں کھڑا کرنا غلط تھا۔ اس حوالے سے تفسیر بالرائے کو جس طرح مذمت کا نشانہ بنایا گیا اس نے راست عقل کی پوزیشن کو نقصان پہنچایا۔ معیوب تفسیر تو تفسیر بالھوی ہے، جو خواہشات کے سائے میں کی جائے۔ جس تفسیر میں غور وفکر کی راہ کو اپنایا جائے، اور صحیح مفہوم تک رسائی کے لیے غور وفکر کے سارے طریقے پوری دیانت داری کے ساتھ اختیار کیے جائیں، اور جب تک اطمینان نہ ہوجائے، غور وفکر جاری رکھا جائے، وہ مذموم عمل کیسے ہوسکتا ہے۔ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ قرآن مجید کی تفسیر میں غور وفکر سے کام لیتے تھے، اور اپنے نتائج فکر کو بیان کرتے تھے۔ان کے یہاں غور وفکر کی بنیاد پر رائے بنانے کا عمل عام تھا۔اور اس میں وہ کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔

روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے زید بن ثابتؓ کے پاس وراثت کے ایک مسئلے کے سلسلے میں پیغام بھیجا: کہ کیا اللہ کی کتاب میں آپ کواس کی کوئی صراحت ملتی ہے، اس پر زید بن ثابت نے جواب دیا: تم بھی ایک شخص ہو جواپنے غور وفکر سے ایک بات کہتے ہو اور میں بھی ایک شخص ہوں جو اپنے غور وفکر سے ایک بات کہتا ہوں

انما انت رجل تقول برایک، وانا رجل اقول برایی۔ (سنن دارمی، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک مسئلہ پیش ہوا تو آپ نے مسئلہ کا حل بتانے سے پہلے یہ وضاحت کی: میں اپنے غور وفکر سے کہہ رہا ہوں، اگر درست ہے تو اللہ کی توفیق ہے، اور اگر غلط ہے تو میری کوتاہی سے ہے۔”اَقُولُ بِرَایی فَاِن کَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّہِ وَاِن کَانَ خَطَاً فَمِن قِبَلِی“۔ (صحیح ابن حبان، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک اور روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: میں اس میں اپنے غور وفکر سے کہوں گا، اگر درست ہوا تو اللہ کی توفیق ہے، اور اگر غلط ہوا تو میری وجہ سے ہے، اور شیطان کی وجہ سے۔(سنن کبری، بیہقی۔ البانی نے صحیح کہا ہے)

البتہ تفسیر بالماثور میں نقل کی صحت اور تفسیر بالرائے میں عقل کی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

عقل کے تعلق سے امت کی صورتحال

دینی حوالے سے:

نظریہ کی سطح پر بھی اور عملی رویہ کی سطح پر بھی دینی حوالے سے امت میں بہت سی بے عقلی کی باتوں کو رواج صرف اس لیے مل جاتا ہے کہ یہ ہمارے مذہبی ورثے میں شامل ہیں، اور مذہبی بزرگوں کے واسطے سے چلی آرہی ہیں۔

درگاہوں اورمزاروں پر ہونے والی تمام تر خرافات جو سراسر بے عقلی سے عبارت ہوتی ہیں۔

پیدائش سے لے کر مرنے تک کی بے شمار تقریبات جنھیں رد کرنے کے لیے عقل کی کسوٹی سے گزارنا کافی ہوتا۔

فروعی اور مسلکی اختلافات میں تشددجس کی عقل کے پہلو سے کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔

غیبی امور میں بہت زیادہ انہماک اور عملی ذمہ داریوں سے فرار۔

دین میں غلو، جو عسکریت پسندی کی صورت بھی اختیار کرلیتا ہے۔

ایسے تصورات کا رواج جو انسانیت کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتے ہیں۔

اندھی تقلید کا عمومی غلبہ، جو کسی اجتہادی مباحثے کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

دنیوی حوالے سے:

غیر مذہبی لوگ دنیوی معاملات میں عقل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انکشافات، تحقیقات، ایجادات، مباحثات، تجزیات، تنقیدات، تجویزات، غرض عقل کے تنے سے پھوٹنے والی تمام شاخیں غیر مذہبی لوگوں کے تصرف میں نظر آتی ہیں۔ مذہبی افراد ان سب میدانوں میں کہیں پسماندہ نظر آتے ہیں اور کہیں نظر ہی نہیں آتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مذہبی لوگوں کے پاس عقل کو استعمال کرنے کا فطری جذبہ ہوتا ہے، اور اس راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے، جب کہ مذہبی لوگوں کے سامنے ایک رکاوٹ ہوتی ہے اور وہ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ عقل گم راہی کی طرف لے جاتی ہے۔ گو کہ اس جملے کی شہرت دینی حوالے سے ہے، لیکن اس کا منفی اثر دنیوی حوالے سے بھی ہوتا ہے۔

بہت سے خالص دنیوی رسم ورواج عقل کی سطح پر بحث ومباحثے کا موضوع نہیں بن پاتے، اور اپنی تمام تر بے عقلیوں کے باوصف جاری وساری رہتے ہیں۔

امت میں عقل سے دوری کے اسباب

ذیل میں کچھ بنیادی اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:

قرآن سے دوری

قرآن مجید عقل کو فعال بنانے اور غور وفکر کے عمل کو مہمیز لگانے والی کتاب ہے۔ قرآن سے شعوری قربت جتنی زیادہ بڑھے گی، عقل اتنا ہی زیادہ اپنی ذمہ داری کومحسوس کرے گی۔ قرآن مجید کی ہر آیت دعوت غور وفکر دیتی ہے، بلکہ غور وفکر کرنے پر مجبور کرتی ہے، اور اس کی راہیں دکھاتی ہے۔

اہل اسلام کی عقل سے دوری کی سب سے بڑی وجہ ان کی قرآن سے دوری ہے۔ضعیف اور موضوع روایتوں میں انہماک اور قرآن مجید سے شعوری تعلق کے فقدان نے امت کاعقل سے رشتہ کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

ضعیف روایتوں کا فروغ

اس سب کی طرف علامہ غزالی نے اشارہ کیا، وہ لکھتے ہیں:

مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب میں سے ہے: مسلمانوں کا ضرورت سے زیادہ روایتوں میں انہماک۔ صحیح حدیثیں ہوسکتا ہے کچھ ہزار ہوں، لیکن وہ روایتیں جن میں مسلمان منہمک رہے اور ابھی بھی ہیں،وہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ اس نے مسلم عقل کو منجمد کردیا ہے، اور اسے کائنات میں جستجو کرنے والی عقل کے بجائے روایتوں اور کہی سنی باتوں والی عقل بنادیا ہے۔(کیف نتعامل مع القرآن،محمد الغزالی ص143)

اس حقیقت کوسامنے رکھنا بے شک مفید ہوگا کہ مذہبی روایتیں، چاہے وہ اسلام کی طرف منسوب کی جانے والی موضوع حدیثیں ہوں، یا پچھلے مذاہب کے حوالے سے گھڑی جانے والی روایتیں ہوں، ان روایتوں کو گھڑنے والے وہ لوگ نہیں ہوتے ہیں جو عقل کی قدروقیمت پہچانتے ہیں، اور عقل کے استعمال میں ماہر سمجھے جاتے ہیں، ظاہر ہے وہ ایسی بے عقلی کا کام نہیں کرسکتے، درحقیقت یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عقلی افلاس کا شکار ہوتے ہیں، اور شدید ترین حماقت کا ارتکاب کرنے سے بھی شرماتے نہیں ہیں۔ایسے لوگوں کی احمقانہ باتیں مذہبی روایتوں کا روپ اختیارکرلیتی ہیں،اور اس طرح مقدس ہوجانے کے باوجود وہ عقل کے معیار سے گری ہوئی ہوتی ہیں۔ایسی باتوں پر یقین کرنے کے لیے اپنی عقل کی سطح کو کتنا پست کرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اور جب پوری قوم ان کو مسلمات کا درجہ دے دے تو قوم کی ذہنی پستی اور اس کے نقصانات کا اندازہ کرنا بھی مشکل نہیں ہے۔

ضعیف وموضوع روایتوں پر یقین کرنے کے بعض نقصانات:

(۱)  غور وفکر اور تحقیق کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے:

ضعیف اور موضوع حدیثوں کو شوق کے کانوں سے سنتے سنتے، عام بزرگوں سے متعلق سنی سنائی حکایتوں اور باتوں پر یقین کرنے کا مزاج بنتا ہے، اور پھر عام لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے میں کوئی تکلف نہیں رہتا ہے، اس مزاج کے غالب ہوجانے کے بعد پھر تحقیق وتنقید اور غور وفکر کی ضرورت کا احساس بھی ختم ہونے لگتا ہے۔ اس طرح ایسا انفرادی اور اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے، جس میں تحقیق وجائزہ اور غور وفکر کے لیے کوئی قابل لحاظ مقام نہیں ہوتا ہے۔

(۲ )بے عقلی سے تنفر ختم ہوجاتا ہے:

ضعیف اور موضوع روایتوں کو گھڑنے اور بیان کرنے والے جس ذہنی سطح کے ہوتے ہیں، اسی ذہنی سطح کی وہ روایتیں بھی گھڑتے اور بیان کرتے ہیں، اس لیے یہ روایتیں عام طور سے دین کے اصل مزاج سے دور اور سراسر بے عقلی کی باتوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی بے عقلی کی باتیںشوق اور عقیدت سے سنتے سنتے پھر ہوتا یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں بے عقلی سے جو تنفر اور اس کی تردید کا جو داعیہ ودیعت کیا گیا ہے، وہ کم زور پڑتا جاتا ہے۔

پھر ہوتا یہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں بے عقلی اور عقل مندی کی باتیں یکساں لگنے لگتی ہیں۔ کسی فرد یا قوم کے لیے بڑے خسارے کی بات ہوتی ہے جب بے عقلی کی باتوں اور عقل مندی کی باتوں میں امتیاز ختم ہوجائے۔اور حکمت ودانائی کی کوئی قیمت ہی نہیں رہ جائے۔

(۳) اصلاح وتجدید کے مواقع کم ہوجاتے ہیں:

جس معاشرے میں غور وفکر کی جگہ سنی سنائی باتیں لے لیں، بے عقلی سے تنفر ختم ہوجائے اور معقولیت وغیر معقولیت یکساں قرار پائے، اس معاشرے کے اندر اصلاح اور تجدید کے کاموں کے لیے راستے تنگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ اصلاح وتجدید کے لیے عقل کو آواز دینا ہوتی ہے، اور اسے سوچنے کے مقام پر لانا ہوتا ہے۔ لیکن اگر عقل بے مصرف قرار دی جاچکی ہو، تو پھر اصلاح وتجدید کی دعوت بھینس کے آگے بین بجانے سے زیادہ نہیں رہ جاتی ہے۔

(۴) گفتگو کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے:

جہاں سنی سنائی باتوں پر یقین کرلیا جاتا ہو،وہاں پروپیگنڈے کا راج اور رواج ہوتا ہے،حقیقت کی جستجو اور اس سلسلے میں گفتگو کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔اور اس طرح پریشر کوکر کی طرح ہوا بند اجتماعیت وجود میں آتی ہے۔ جہاں افکار کو نشوونما دینے کے بجائے انھیں گھونٹنے کا کام انجام پاتا ہے۔

تقلید پر حد سے بڑھا ہوا زور

تقلید اپنی اصل کے لحاظ سے عقل کی دشمن ہے۔ درج ذیل آیت پر غور کریں کس طرح تقلید اور بے عقلی کے درمیان رشتے کو واضح کیا گیا ہے۔

وَاِذَا قِیلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَل نَتَّبِعُ مَا اَلفَینَا عَلَیہِ آبَاءنَا اَوَلَوکَانَ آبَاوُہُم لَا یعقِلُونَ شَیئًا وَلَا یہتَدُونَ۔ (البقرة:170)

(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو، تو وہ کہتے ہیں ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر اپنے آباءکو پایا ہے، کیاان کے آباءکچھ سوچتے سمجھتے نہیں ہوں، اور صحیح راستے پر نہیں ہوں تو بھی)

پوری زندگی کو تقلید کے تابع کردینے کے بعد غور وفکر کی گنجائش خود ہی ختم ہوجاتی ہے۔اس لیے تقلید کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔

دین کے دو حصے ہیں، ایک حصہ وہ ہے جس میں اجتہاد کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ بنا اجتہاد کے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے۔ جیسے کلمہ توحید کی ادائیگی ہے، فرض نمازیں، فرض زکات، فرض روزے اور حج کا فریضہ ہے۔ یہ دین کا اصل حصہ ہے، اور دین پر چلنے کے لیے اس کا علم ہوناناگزیر ہوتا ہے۔ یہ حصہ ہمیں قرآن مجید اور سنت صحیحہ کے ذریعہ سے حاصل ہوا ہے۔دین کا یہ حصہ اجتہاد کے دائرے سے باہر ہے۔ اس میں کسی امام کی تقلید بھی نہیں کی جاتی ہے۔ بلکہ اسے راست قرآن وسنت سے اخذ کیا جاتا ہے۔

دین کا باقی حصہ وہ ہے جسے ہم اجتہاد کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں،اس میں غور وفکر اور بحث وتحقیق کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس حصے کا تعلق فقہ وسیاست سے بھی ہے اور فکر ونظر سے بھی ہے، یہی وہ حصہ ہے جس میں امت کے اماموں نے عظیم خدمات انجام دی ہیں، یہی وہ حصہ ہے جس میں امت کے اماموں کے درمیان فہم وتحقیق کا اختلاف ہوا، یہی وہ حصہ ہے جس کے بارے میں اماموں نے کہا کہ صحیح حدیث اگر ان کے اجتہادکے مخالف ہو تو صحیح حدیث کو اختیار کیا جائے، اور یہی وہ حصہ ہے جس میں دلائل میں تعارض کی وجہ سے امت کے اہل علم نے مختلف موقف اختیار کیے، غرض یہ دین کا وہ حصہ ہے جس میں امت کو اپنے غور وفکر اور بحث وتحقیق کو روبہ عمل لانا ہے، اور اس میں مزید خدمات پیش کرنے کا امت کے پاس موقع ہے، اور قیامت تک کے لیے ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ فکری جمود کے دور میں دین کے اس حصے پر تقلید کا کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی اس میں چلت پھرت اور سعی وکوشش پر پابندی لگادی گئی ہے۔

خلاصہ یہ کہ دین میں ایک بڑا حصہ غور وفکر کے لیے رکھا گیا ہے، جس میں امت کے سلف نے خوب آزادی سے غور وفکر کیا ہے، کسی نے کسی بھی حوالے سے انھیں روکا نہیں، سابقین کے غور وفکر کے تقدس کے حوالے سے اسے ختم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس حصے میں غور وفکر کی سرگرمی ہمیشہ جاری رہنی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ دین کے جس حصے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، اور اس گنجائش کو تقلید کا حوالہ دے کر ختم کیا گیا ہے، وہ ایسا حصہ ہے ہی نہیں جس کا تعلق ہدایت اور گمراہی کے مسئلے سے ہو، اس لیے تقلید کی پابندی گمراہی سے نہیں بچاتی ہے، جیسا کہ تقلید کے حامیوں کا کہنا ہے۔ اور نہ وہ ایسا حصہ ہے جس کا تعلق راست اتباع رسول سے ہو، کہ تقلید کی وجہ سے اتباع رسول نہیں ہوپاتی ہو، جیسا کہ تقلید کے مخالفین کا کہنا ہے۔اجتہادی مسائل میں نہ تو تقلید چھوڑ کر کوئی گمراہ ہوتا ہے، اور نہ ہی تقلید کرکے کوئی اتباع رسول سے محروم ہوتا ہے۔ اصل میں تقلید کی پابندی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ امت کی اجتماعی عقل جمود کا شکار ہوجاتی ہے، اورغور وفکر کا عمل قید وبندسے دوچارہوجاتا ہے، اور یہ بہت بڑا نقصان ہے، جس سے ان لوگوں کو ضرور محفوظ رکھنا چاہیے جو غور وفکر کی صلاحیت اور داعیہ رکھتے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ تقلید جامدکے اس کرفیو جیسے ماحول میں امت کی غور وفکر کی صلاحیت پہلے معطل ہوتی ہے اور پھر مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور انکشاف، تحقیق، تنقید اور تجزیہ وغیرہ امت کے لیے اجنبی اصطلاحات بن کر رہ جاتی ہیں۔

اجتہاد کے لیے ایسی شرطیں جن کا حصول ناممکن ہو

اجتہاد دراصل امت کے غور وفکر کے لیے ایک بہت بڑی جگہ(Space)ہے، جو اسلام نے اہل اسلام کو عطا کی ہے، اور یہ امت مسلمہ کی بہت بڑی دینی خصوصیت ہے، تاہم اس سے روکنے کے لیے بعد کے لوگوں نے اس کے لیے ایسی شرطیں رکھ دیں، جن کا ذکر کتاب وسنت اور صحابہ وتابعین کے یہاں نہیں ملتا ہے،اور جن کا حصول بے حد مشکل ہے، اور جن کی حصو لیابی کو ثابت کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

اجتہاد کرنے والے کے علم کو ناپنے کے بجائے دیکھنا یہ چاہیے کہ جس مسئلے میں اس نے اجتہاد کیا ہے، اور اپنی رائے بنائی ہے، اس میں کہاں تک کم زوری یا مضبوطی پائی جاتی ہے۔ اس کے دلائل اور طریقِ استدلال کا جائزہ لے کر جہاں کمزوری ہو اسے واضح کیا جائے، نہ کہ علمی کم مائیگی کا حوالہ دے کر اس سے غور وفکر کی آزادی سلب کرلی جائے۔

اجتہاد کی راہ میں رکاوٹیں

اجتہاد کا عمل اصولوں کی پابندی کے ساتھ غور وفکر کی آزادی چاہتا ہے، تاہم اجتہاد سے روکنے کی ایک کوشش یہ کی گئی کہ اس کے سامنے بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔

اجتہاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ (بذات خود اجماع نہیں بلکہ) اجماع کا حوالہ ہے۔یہ حوالہ اکثر فرضی اور بے بنیاد ہوتا ہے۔

اجتہادکی راہ میں ایک دوسری بڑی رکاوٹ قول جمہور کا حوالہ ہے۔ بجائے اس کے کہ کسی رائے کا دلائل کی روشنی میں محاکمہ کیا جائے، اسے یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ یہ شاذ رائے ہے، اور یہ جمہور کی رائے کے خلاف ہے۔

اجتہاد کی راہ میں ایک تیسری بڑی رکاوٹ کسی بڑے بزرگ کا حوالہ ہوتا ہے، جس کے ذریعہ غور وفکر کے عمل کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اجتہاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ اس طرح کے اندیشے بھی ہیں کہ اجتہادات کی کثرت سے امت میں اختلاف  بڑھے گا، امت کی وحدت متاثر ہوگی، دین پر سے لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے گا،وغیرہ۔

لیکن گہرا جائزہ بتاتا ہے کہ اجتہاد کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے امت کو کوئی فائدہ تو نہیں ہوا، لیکن ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ اجتہاد اور غور وفکر کی دولت سے امت قدرے محروم ہوگئی۔

شورائیت کے ادارے کی جگہ آمریت کا تسلط

جہاں شورائیت اپنی اصل روح اور آب وتاب کے ساتھ ہوتی ہے، وہاں غور وفکر کی زبردست ہمت افزائی ہوتی ہے۔ شورائیت اصل میں اجتماعی غور وفکر کا نام ہے۔ اجتماعی غور وفکر اسی وقت ظہورپذیر ہوتا ہے جب انفرادی غور وفکرکی آزادی ہوتی ہے اور اس کے لیے سازگار فضا میسر ہوتی ہے۔

امت مسلمہ جب شورائی نظام سے محروم ہوئی، اور اس کی جگہ آمرانہ نظام نے لے لی، تو دھیرے دھیرے شورائی ثقافت بھی ختم ہوتی گئی۔ آمریت کے راج میں سب سے زیادہ مار غور وفکر کے عمل پر پڑتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ غور وفکر کی آزادی سلب کرلی جاتی ہے، بلکہ غور وفکر کا ماحول بھی تہس نہس کردیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سوچنا اور سوچ کا اظہار کرناہی سب سے بڑا جرم ہوتا ہے۔

عقل کو فعال بنانے والے طاقت ور محرکات

عقل استعمال کرنا تو انسان کی فطرت میں شامل ہے، تاہم عقل کے استعمال سے روکنے والے محرکات کبھی اتنا زیادہ اثر انداز ہوجاتے ہیں، اور عقل کو اس طرح جمود وتعطل کا شکار کردیتے ہیں، کہ پھر ایسے محرکات کی ضرورت پڑتی ہے، جو عقل کو فعالیت اور حرکیت عطا کریں۔ یہاں بعض طاقت ور محرکات کا تذکرہ کرنا مفید ہوگا:

قرآن مجیدسے شعوری تعلق

قرآن مجید غور وفکر کے سلسلے میں ایک طاقت ور محرک ہے۔

قرآن مجید میں عقل اور عقل کے مختلف اعمال کا ذکر بار بار آیا ہے، لیکن کہیں بھی عقل استعمال کرنے کی مذمت نہیں ہے، ہر جگہ عقل استعمال کرنے پر ابھارا گیا ہے، عقل کے استعمال کی ستائش بہت زیادہ ہے، عقل نہیں استعمال کرنے کی ستائش کہیں نہیں ہے، بلکہ عقل استعمال نہیں کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

عقل سے انسیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید عقل کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہے اسے جانا جائے۔امت کو عقل سے قریب کرنے اور مانوس کرنے کا قرآن سے زیادہ موثر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔عقل سے قربت قرآن سے قربت کا ایک پیمانہ ہے۔ امت قرآن سے جتنا زیادہ قریب ہوگی وہ عقل سے بھی اتنی ہی زیادہ قریب ہوگی، اور قرآن سے جتنی زیادہ دور ہوگی وہ عقل سے بھی اتنی ہی زیادہ دور ہوگی۔

امام فراہی لکھتے ہیں:”آسمانی کتابوں میں قرآن وہ کتاب ہے جو سب سے بڑھ کرعقل کو مخاطب کرتی ہے، عقلی دلائل کی طرف عقل کو متوجہ کرتی ہے، عاقلوں کی تعریف اور غافلوں کی مذمت کرتی ہے، یہ ایسی محکم اور واضح قرآنی حقیقت ہے جس کے سلسلے میں کسی کو شک بھی نہیں ہوسکتا“۔( حجج القرآن 226)

عقاد لکھتے ہیں: ”قرآن کریم عقل کا ذکر صرف وہاں کرتا ہے جہاں عقل کی تعظیم مقصود ہوتی ہے، اور جہاں اس کے مطابق عمل کرنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ اور پھر یہ تذکرہ آیتوں کے سیاق میں ضمنی یا اتفاقی طور سے نہیں ہوتا، بلکہ ہر جگہ لفظ اور دلالت کی تاکید کے ساتھ ہوتا ہے۔امر اور نہی کے ہر موقعہ پر اس کی تکرار ہوتی ہے، جہاں مومن کو اپنی عقل کو حکم بنانے پر ابھارا جاتا ہے، یا منکر کو عقل کے بارے میں لاپرواہ ہونے اور اس پر پابندی قبول کرلینے پر ملامت کی جاتی ہے۔ مزید برآں جدید علوم کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والے علم نفس کے ماہرین عقل کے جتنے اطلاقات بتاتے ہیں ان میں سے کسی ایک کے بجائے عقل کے سارے ہی مختلف کاموں اور مختلف خصوصیات سے متصف پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے“۔  ( التفکیر فریضة اسلامیة لعباس محمود العقاد ص1)

عقاد مزید لکھتے ہیں؛ ”ہمیں یہ بات بار بار تازہ کرنی چاہیے، کہ قرآن مجید میں عقل کی ستائش یونہی نہیں آئی ہے، اور اس کی بار بار تکرار بلا وجہ نہیں ہے۔ بلکہ عقل کی یہ سراہنا ایک متوقع امر تھا، دین کا مغز اور اس کا جوہر اسی کا تقاضا کرتا ہے، جو اس دین کی حقیقت سے واقف ہوگا اور اس انسان کی حقیقت سے واقف ہوگاجو اس دین کا مخاطب ہے اسے اسی کی توقع ہوگی“۔)التفکیر فریضة اسلامیة ص12)

مومن کا کائنات سے رشتہ (آیات، اور خلافت دو اہم رشتے)

غور وفکر کے لیے طاقت ور محرک یہ کائنات بھی ہے، جس میں انسان کو بسایا گیا ہے، جسے انسان کے لیے امتحان گاہ بنایا گیا ہے، اور جس میں غور وفکر کرنے کے بے شمار مواقع رکھ دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید نے انسان اور کائنات میں دو بڑے رشتے بتائے ہیں، اور دونوں ہی رشتے غور وفکر کے عمل کی ہمت افزائی کرنے والے ہیں۔

ایک رشتہ آیات کا ہے، کہ کائنات کی ہر چیز میں نشانی ہے، اور یہ وہ نشانیاںہیں جو سمع وبصر اور تفکر کا تقاضا کرتی ہیں۔ جب تک سمع وبصر اور تفکر کا فعال رشتہ قائم نہیں ہوگا، نشانیوں والے پہلو تک رسائی نہیں ہوسکے گی۔

دوسرا رشتہ خلافت کا ہے، کہ کائنات انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے، ان کے لیے مسخر کی گئی ہے، اور انسان اس کے عمرانی پہلو کے لیے ذمہ دار ہیں۔انھیں اس کائنات میں کھوج لگانے کا اختیار اور اس کے وسائل دیے گئے ہیں۔ اور کائنات کی چیزوں سے منفعت حاصل کرنے اور منفعت کو بڑھانے کی تدبیریں اختیار کرنے کا موقع اور طاقت دی گئی ہے۔

غرض اس کائنات سے انسان کا صحیح رشتہ اس وقت استوار ہوسکے گا، جب وہ اپنی عقل کا بھر پور استعمال کرے گا۔

انسان کے اندر غور وفکر کا داعیہ

غور وفکر کا طاقت ور محرک انسان کے اندر تلاش وجستجو اور غور وفکر کا وہ داعیہ بھی ہے جو اللہ نے ہر انسان کے اندر ودیعت کیا ہو ا ہے۔ انسان فطری طور پر غور وفکر کرنے والا واقع ہوا ہے۔ اگرغور وفکر کے مخالف بیرونی اسباب کی وجہ سے یہ فطری جذبہ سرد نہ پڑجائے، تو انسان کو کسی خارجی محرک کی ضرورت ہی نہ پڑے، اور وہ داخلی جذبے کے تحت ہی عقل کے دوش پر بیٹھ کرحقائق کی جستجو میں پرواز کرتا رہے۔

سنت میں فقہ واجتہاد کی ترغیب

اللہ کے رسول ﷺ کے پیش نظر ایسی جماعت کی تیاری تھی جو غور وفکر اور فقہ واجتہاد کے اس مقام پر پہنچ جائے، کہ آپ ﷺ کے بعد خلافت کی ذمہ داریاں انجا م دے سکے۔ آپ اپنی امت کو دین میں گہری سمجھ حاصل کرنے کی تلقین فرماتے تھے: مَن یرِدِ اللَّہُ بِہِ خَیرًا یفَقِّہہُ فِی الدِّینِ (صحیح البخاری) (اللہ جس کے لیے خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سوجھ بوجھ عطا کرتا ہے)

اسلام میں آنے کے بعد بہترین لوگوں میں شامل ہونے کے لیے سمجھ بوجھ کی منزل سر کرنا ضروری شرط تھی۔فرمایا: فَخِیارُکُم فِی الجَاہِلِیۃ خِیارُکُم فِی الاِسلاَمِ اِذَا فَقُہُوا (صحیح البخاری) (تم میں جو جاہلیت میں بہترین ہیں، وہ اسلام میں بھی بہترین ہوں گے، اگر وہ سوجھ بوجھ پیدا کرلیں)

اللہ کے رسول ﷺ نے عبداللہ بن عباسؓ کو دعا دی: اللَّہُمَّ فَقِّہہُ فِی الدِّینِ (صحیح البخاری) (اللہ اسے دین میں سوجھ بوجھ عطا کر)

حضرت عمرؓ نے حسن بصری کے لیے یہی دعا کی۔(سیر اعلام النبلاء)

اللہ کے رسول ﷺ نے اجتہاد کی ترغیب دی، اور اس راہ کے اندیشوں کو دور کیا: عَن عَمرِو بنِ العَاصِ، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ یقُولُ: اِذَا حَکَمَ الحَاکِمُ فَاجتَہَدَ ثُمَّ اَصَابَ فَلَہُ اَجرَانِ، وَاِذَا حَکَمَ فَاجتَہَدَ ثُمَّ اَخطَاَ فَلَہُ اَجر.(صحیح البخاری) (جب حاکم فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے اجتہاد کرتا ہے، اور صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہوتے ہیں، اور جب فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے اجتہاد کرتا ہے، اور غلط فیصلہ کرتا ہے،تو اس کے لیے ایک اجر ہے)

غور وفکر کے سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ غلطی کردینے کا خوف ہوتا ہے،اس خوف سے متاثر ہوکر انسان خود کو روک کر رکھتا ہے، اور اسی خوف کا حوالہ دے کر انسان دوسروں کو بھی روکتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اس خوف کو یکسر ختم کردیا، اور غلطی کرنے والے کو بھی ایک اجر کی خوش خبری سنادی۔ یہ غور وفکر کے عمل کی بہت بڑی تائید اور نصرت ہے۔

ایک مشہور زمانہ روایت ہے (گو کہ اس کی سند پر بعض محققین کو کلام ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا، اور کہا کیسے فیصلے کرو گے؟ انھوں کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، ارشاد ہوا: تو اگر اللہ کی کتاب میں نہ ہو؟ کہا: اللہ کے رسول ﷺ کی سنت سے کروں گا، ارشاد ہوا: اگر اللہ کے رسول کی سنت میں بھی نہ ہو؟ کہا: میں محنت سے غور وفکر کروں گا، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی حمد ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادے کو صحیح راہ دکھائی۔ (سنن ترمذی)

بدلتے ہوئے زمانے کی ضرورتوں کا احساس

زمانے میں ہونے والی تبدیلیوں کا شعور جتنا زیادہ ہوتا ہے، غور وفکر کے لیے اکساہٹ بھی اتنی ہی زیادہ بڑھتی ہے۔لاعلمی اور بے خبری کے خول میں بند افراد کے اندر غور وفکر کا طاقت ور داعیہ پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ہر زمانے میں تجدید واجتہاد کے کارنامے انھوں نے انجام دیے جن کی نگاہ زمانے کی تبدیلیوں پر تھی، خواہ وہ سماجی تبدیلیاں ہوں، نئے نظریات اور نظاموں کی آمد ہو، دین کے تعلق سے نئے اعتراضات اوربحثوں کا ظہور ہو۔

امت کے اندر زمانے کی تبدیلی سے واقفیت پیدا کرکے، غور وفکر کے لیے راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

امت کی پسماندگی کے سلسلے میں فکرمندی

خوش فہمیوں سے باہر نکال کردینی اور دنیوی دونوں پہلووں سے امت کو اس کی اپنی پسماندگی سے باخبر کرنا بھی غور وفکر کی تحریک چھیڑ نے میں معاون ہوسکتاہے۔غور وفکر کی دعوت دینے والوں کے اندر ہم یہ بات مشترک پاتے ہیں کہ وہ غور وفکر کو ایک مشغلے کے طور پر اختیار کرلینے کے داعی نہیں تھے، بلکہ وہ امت کی صورت حال کو دیکھ کر سخت تشویش میں مبتلا تھے، اور امت کی پسماندگی کا علاج وہ وحی اور عقل کی طرف رجوع ہونے میں دیکھتے تھے۔

عقل کا مقام بہت بلند ہے، انسانی جسم میں اسے سب سے اونچے مقام پر رکھا گیا ہے، قوموں کو بھی اسے اتنے ہی اونچے مقام پر رکھنا چاہیے۔جو قومیں عقل کو صحیح مقام نہیں دیتی ہیں، وہ ترقی نہیں کرتی ہیں، اور ترقی کرتی بھی ہیں تو انجام کار ترقی کے نام پر تباہی کی طرف سفر کرتی ہیں۔


دین و حکمت