دعوت اسلام میں ’اعلیٰ کردار‘ کے اثرات

پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت و تبلیغ کا طریقہ کار خواہ کتنا عمدہ ہو، اس وقت تک بے کار اور غیر مؤثر ہے جب تک اس کو مبلغ وداعی کی بلند کرداری، عالی ظرفی اور اخلاقی قوت کا تحفظ حاصل نہ ہو۔انسانی فطرت ہے کہ مدعو پہلے داعی کا کردار اور اس کی شخصیت کا مشاہدہ کرتاہے۔ اگر داعی کی شخصیت غیر معتبر اور کردار داغدار ہے تو دعوت وتبلیغ میں اثر پیدا ہی نہیں ہوسکتا ۔اور اگر داعی کی شخصیت اوصافِ حمیدہ کی حامل ہو اور کردار کی پاکیزگی کا پیکر ہوتو دعوت میں خودبخود تاثیر ومقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔

مخاطب کی تعمیرِ سیرت اور تشکیلِ ذات کے لیے سب سے اعلیٰ نمونہ خود مبلغ وداعی کا ذاتی کردار اور اخلاق ہے۔جس چیز کی وہ دعوت دے رہا ہے ،کیا وہ خود بھی اس پرعمل پیرا ہے؟ کیا اس کے قول وفعل میں تضاد تو نہیں؟کیا وہ خود بھی اس دعوت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے؟یہ وہ چیزیں ہیں جن کو مخاطب اور مدعو سب سے پہلے دیکھتا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ داعی کی سیرت ایسی پاکیزہ اور جاذبِ نظر ہو کہ لوگ خودبخود اس کی طرف کھنچے چلے آئیں ۔دراصل داعی کاذاتی کردار ہی مدعو کے ذہنی رویوں کوتبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔صحابہ کرامؓکی کامیاب دعوتی زندگی کامطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی دعوتی کامیابیوں کے پیچھے ان کی عظیم شخصیات ،بلند کردار اور اخلاق کریمانہ کی مضبوط ومستحکم فصیل کھڑی تھی۔صحابہ کرامؓکی زندگی سب لوگوں کے لیے کھلی کتاب کی طرح تھی،جس کی تحریر کاہر حرف پاکیزہ،روشن،اور نمایاں تھا۔ہر شخص صحابہؓ کے بے داغ اخلاق وکردار،امانت ودیانت اور عالی ظرفی کا معترف تھا،گویا صحابہ کرامؓانسانی کردار کااعلیٰ ترین نمونہ تھے۔انہوں نے جس دعوت کی طرف لوگوں کوبلایا پہلے اس پر عمل کرکے دکھایا۔ ایک بار حضرت صفوانؓ بن امیہ ایک بڑے برتن میں کھانا لائے اور حضرت عمرؓ کے سامنے رکھ دیا۔انہوں نے فقیروں اور غلاموں کو بلایا اور سب کو اپنے ساتھ کھانا کھلانے کے بعد فرمایا:

لحا اللّٰہ قوما یرغبون عن ارقاءھم ان یأکلوا معھم ۱ ؂
’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جن کو غلاموں کے ساتھ کھانا کھانے میں عار محسوس ہوتی ہے‘‘

ایک دفعہ حضرت ابوذر غفاریؓ کی خدمت میں کسی نے دوچادریں پیش کیں۔انہوں نے ایک کا ازار بنا لیا اور دوسری اپنے غلام کو دے دی ۔گھر سے نکلے تو لوگوں نے کہا کہ اگر آپ دونوں چادریں خود استعمال کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ فرمایا:سچ ہے ، لیکن میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے:

أطعموھم مماتأکلون وألبسو ھم مما تلبسون۲ ؂
’’جو تم خود کھاتے اور پہنتے ہو، وہی اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ اور پہناؤ‘‘

ایک مرتبہ حضرت عبادہ بن ولید، حضرت ابوالیسر کعبؓ بن عمرو سے حدیث سننے کے لیے آئے۔ دیکھاکہ خود ایک چادر اور معافر کی بنی ہوئی لنگی پہنے ہوئے ہیں اور غلام کا بھی یہی لباس ہے۔عبادہ نے عرض کی : عمِ محترم!بہتر ہو کہ ایک جوڑا مکمل کر لیجیے۔ یا تو آپؓان کی معافری لے لیں اور اپنی چادر ان کو دے دیں، یا اپنی معافری دے دیں اور ان سے چادر لے لیں۔ حضرت ابوالیسرؓ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ پھر فرمایا: رسول اللہﷺ کا حکم ہے کہ جوتم پہنو، غلاموں کو پہناؤ اور جو تم کھاؤ، ان کو کھلاؤ۔ ۳ ؂

عرب معاشرے میں غلاموں کے بارے میں جو نفرت پائی جاتی تھی، صحابہ کرامؓنے اپنے عمل سے اس کی سختی سے بیخ کنی کی اور غلاموں کومعاشرے میں باعزت مقام دلوایا۔ صحابہ کرامؓاس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ان کا کردار دوسرے لوگوں کے لیے حجت اور دلیل ہے، اس لیے وہ غیر شرعی امور کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے، بلکہ بعض صحابہ تو ان امور میں بھی رسول اللہﷺ کی اتباع کرنا ضروری خیال کرتے تھے جن میں ان کو مکلف نہیں بنایا گیا تھا۔

عبداللہ بن قیس بن مخرمہؓایک دفعہ مسجد بنی عمرو بن عوف میں نوافل کی ادائیگی کے بعد اپنے خچر پر سوار ہوکر واپس لوٹ رہے تھے کہ راستے میں عبداللہ بن عمرؓسے ملاقات ہوگئی جو پیدل اسی طرف جارہے تھے۔انہیں پیدل دیکھ کر وہ خچر سے نیچے اتر آئے اور کہنے لگے:چچا جان!آپ سوار ہوجائیے۔تو انہوں نے جواب دیا :اے بھتیجے!اگر میں سوار ہونا چاہتا تو میرے پاس بھی سواری موجود تھی، لیکن میں نے رسول اللہﷺ کو اس مسجد کی طرف نماز کے لیے پیدل ہی جاتے دیکھا ،تو مجھے اسی طرح پیدل جانا پسند ہے جیساکہ میں نے رسول اللہﷺ کو پیدل جاتے دیکھا ہے ۔چنانچہ پھر وہ پیدل ہی مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔۴ ؂

صحابہ کرامؓکے اس جذبۂ اطاعت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شرعی امور میں ان کی فرمانبرداری کاعالم کیا ہوگا۔ حضرت جثامہؓ ابن مساحق کو حضرت عمرؓنے قاصد بنا کر ہرقل کے دربار میں بھیجا ۔خود بیان کرتے ہیں کہ میں وہاں جاکر ایک چیز پر بیٹھ گیا ۔مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میرے نیچے کیاچیز ہے؟ یکایک مجھے معلوم ہوا کہ میرے نیچے سونے کی ایک کرسی ہے۔چنانچہ جب میں نے اسے دیکھا تو میں فوراً اس سے اتر پڑا۔ ہرقل مسکرایا اور اس نے کہا، تم اس کرسی سے کیوں اتر پڑے؟ یہ تو محض تمہار ی عظمت کے لیے بچھائی گئی تھی۔میں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺ اس قسم کی چیز پر بیٹھنے سے منع فرماتے تھے۔۵ ؂

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابو طلحہ انصاریؓکی عیادت کے لیے ان کے ہاں گئے۔ سہل بن حنیفؓ بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت ابو طلحہؓ نے ایک آدمی کو بلا کر کہا کہ میرے نیچے سے گدے کو نکال دو۔سہل بن حنیفؓ نے کہا کہ اسے کیوں نکلواتے ہو؟فرمایا:اس میں تصویریں ہیں اور ان کے بارے میں رسول اللہﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ تمہیں معلوم ہے۔سہل نے کہا:کیا رسول اللہﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ماسوائے ان تصویروں کے جو کپڑے میں نقش ہوں؟ فرمایا:کیوں نہیں؟ لیکن میری دلی خوشی یہی ہے۔۶ ؂

حضرت عبداللہ بن عباسؓ ایک سفر میں تھے، اسی حالت میں اپنے بھائی قثم بن عباسؓ کے انتقال کی خبر سنی۔پہلے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر راستے سے ہٹ کر دو رکعت نمازپڑھی۔نماز سے فارغ ہوکر اونٹ پر سوار ہوئے اور یہ آیت کریمہ پڑھی:

وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَإِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ إِلَّاعَلَی الْخَاشِعِیْنَ (البقرہ،۲:۴۵)
’’صبر اور نماز سے مدد طلب کرو بے شک یہ بھاری ہے سوائے ان لوگوں کے جواللہ سے ڈرنے والے ہیں‘‘۷ ؂

رسول اللہﷺنے شوہر کے علاوہ دوسرے عزیزوں کی وفات پر سوگ کے لیے صرف تین دن مقرر فرمائے ہیں۔ صحابیاتؓ نے اس حکمِ رسولﷺ پر بڑی شدت سے عمل کیا۔زینبؓ بنت جحش کے بھائی کا انتقال ہو اتو چوتھے دن کچھ عورتیں ملنے آئیں ،انہوں نے ان کے سامنے خوشبولگائی اور فرمایا:

واللّٰہ مالی بالطیب من حاجۃ غیرانی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول:لایحل لامراۃ تؤمن باللّٰہ والیوم الاخر ان تحدّ علی میت فوق ثلاث لیال الا علٰی زوج ،اربعۃ اشھر وعشراً ۸ ؂
’’مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسو ل اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی عورت کے لیے، جو اللہ اور روزِ قیامت پر یقین رکھتی ہے، جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، کہ اس پر چار ماہ اور دس دن کا سوگ ہے‘‘

اسی طرح حضرت ام حبیبہؓکے والد ابوسفیان انتقال فرما گئے تو انھوں نے تین روز کے بعد تیل لگایا اور خوشبو ملی اور فرمایا:مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

’’کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگراپنے خاوند کا، جس کا سوگ چارماہ دس دن ہے‘‘۹ ؂

ام عطیہ ؓ کا ایک بیٹا کسی جنگ میں شریک تھا۔بیمار ہوکر بصرہ میںآیا۔ حضرت ام عطیہؓ کو خبر ہوئی تو بڑی تیزی سے مدینہ سے بصرہ آئیں لیکن ان کے پہنچنے سے ایک دن قبل اس کا انتقال ہوچکا تھا۔یہاں آکر انہوں نے بنو خلف کے قصر میں بودوباش اختیار کرلی اور پھر بصرہ سے کہیں نہ گئیں۔تیسرے دن خوشبو منگا کر ملی اور کہا کہ شوہر کے علاوہ اور کسی کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔۱۰؂

نافع مولیٰ ابن عمرؓکا بیان ہے کہ ابن عمرؓنے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ہٹ کر چلنے لگے اور پوچھا:اے نافع کیا تجھے آواز سنائی دے رہی ہے؟ میں کہتا:ہاں،پس آپؓچلتے رہے حتیٰ کہ میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آرہی۔ پھرآپؓنے انگلیاں کانوں سے نکال لیں اور اپنی سواری کو راستے پر چلانے لگے اور پھر فرمایا:

رأیت رسول اللّٰہﷺوسمع صوت زمارۃ راع فصنع مثل ھذا ۱۱؂
’’میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سن کر ایسا ہی کیا تھا‘‘

صدیقِ اکبرؓکے ایک غلام نے ان کو کھانے کی کوئی چیز لاکر دی ،جب آپؓکھاچکے تو غلام نے پوچھا: آپؓجانتے ہیں کہ وہ کیا شے تھی؟پوچھا: کیاتھی؟اس نے کہا: میں جاہلیت میں کہانت کاکام کرتا تھا ۔یہ شے اسی کا معاوضہ تھی۔حضرت صدیقِ اکبرؓنے سنا تو فوراً قے کردی اور پیٹ میں جوکچھ تھا وہ نکال باہر پھینکا۔۱۲؂

ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓکا کردار کتنا جاندار تھااور وہ دینی معاملات میں شرعی امور کا کس قدر خیال رکھنے والے تھے۔قول وفعل کی اسی مطابقت کی وجہ سے لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ 

کردار کی تاثیر

شطا جومصر کا ایک بہت بڑا رئیس تھا،مسلمانوں کی اخلاقی حالت کا چرچا سن کر اسلام کا گرویدہ ہوگیااور دوہزار آدمیوں کے ساتھ اسلام قبول کرلیا ۔تاریخ مقریزی میں ہے:

فخرج شطا فی الفین من اصحابہ والحق بالمسلمین وقد کان قبل ذالک یحب الخیر ویمیل الی ما یسمعہ من سیرۃ اہل الاسلام ۱۳؂
’’شطا دوہزار آدمیوں کے ساتھ نکلا اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگیا ۔وہ پہلے بھی نیکی کے کاموں سے محبت رکھتا تھا اور مسلمانوں کے محاسن اخلاق کو سن کر ان کی طرف مائل تھا‘‘

صحابہ کرامؓاسلام کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور انہوں نے اسلام کو اپنی ذات پر نافذ کرکے اسلامی تعلیمات کے اندر ایک ایسی کشش پیدا کردی تھی کہ لوگ اسلام کے دامن میں پناہ لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے۔صحابہ کرامؓکے محاسنِ اخلاق میں مساوات ایک ایسا وصف تھا جو خود قلوب واذہان کو اپنی طرف مائل کرتا تھا،بالخصوص جب اسلام کے اصول مساوات اور مسلمانوں کی مساویانہ طرزِ معاشرت کا ایرانیوں کی ناہموار طرزِ معاشرت سے مقابلہ ہوتا تھاتو یہ وصف خصوصیت کے ساتھ نمایاں ہوجاتا تھا اورحق پسند لوگ خود بخود اسلام کی طرف مائل ہوجاتے تھے۔چنانچہ ایک بار زہرہ نے رستم سے دورانِ گفتگو اسلام کے جومحاسن بتائے، ان میں سے ایک یہ تھا:

اخراج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ اللّٰہ تعالیٰ
’’بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں داخل کرنا اسلام کا اصلی مقصد ہے‘‘

رستم نے یہ سن کر کہا کہ ایرانیوں نے تو ارد شیر کے زمانے سے طبقہ سافلہ کے پیشے متعین کردیے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ اس دائرے سے نکلے تو شرفا کے حریف بن جائیں گے۔رفیل ابتدا ہی سے اس گفتگو کو سن رہا تھا۔ اس پر اس کا یہ اثر ہوا کہ جب رستم چلا گیا تو اس نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔۱۴؂

ہر مقدمہ میں گواہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن صحابہ کرامؓکو ان کی دیانت نے اس سے مستثنیٰ کردیا تھا۔حضرت سعیدؓ بن زید بن عمرو بن نفیل پر ایک عورت نے غصب کا دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا’’میں نے رسو ل اللہﷺ سے یہ سناہے کہ جو شخص بلا استحقاق کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے گا، اللہ زمین کے ساتوں طبق اس کے گلے کا طوق بنا دے گا۔میں نے اس کی زمین کا کوئی حصہ نہیں لیا۔‘‘ مقدمہ مروان کی عدالت میں تھا،اس نے کہا اب میں آپؓسے گواہ نہیں مانگتا۔۱۵؂

امرا وسلاطین تو پھر بھی مسلمان تھے، صحابہ کرامؓکے حسنِ اخلاق کے سب سے زیادہ اثرات غیر مسلموں پر پڑے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ زارِمکہ کو چھوڑ کر نکلے تو راہ میں ابن الدغنہ مل گیاجو عرب میں’’سیدالقارۃ‘‘کے خطاب سے ممتاز تھا۔اس نے پوچھا :کہاں جاتے ہو؟ بولے: مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے۔اب سیاحت کرکے خدا کی عبادت کروں گا۔اس نے کہا : تم جیسا شخص نہ وطن سے نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔تم غریبوں کے لیے مال پیدا کرتے ہو،صلہ رحمی کرتے ہو۔ قوم کی دیت وتاوان کا بوجھ اٹھا تے ہو۔مہمان نوازی کرتے ہو۔ مصائب قومی میں اعانت کرتے ہو۔میں تمہارا ضامن ہوں۔چلو اور اپنے ملک میں خدا کی پرستش کرو۔چنانچہ وہ پلٹے اور چند شرائط کے ساتھ کفار نے ان کو عبادت گزاری کی اجازت دے دی۔۱۶؂

حضرت نعیمؓ بن عبداللہ النحام نہایت فیاض صحابی تھے اور قبیلہ بنو عدی کی بیواؤں اور یتیموں کی پرورش کرتے تھے۔کفارپران کی اس نیکی کا یہ اثر تھا کہ جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو تمام کفار نے روک لیا اور کہا کہ جو مذہب چاہو اختیار کرو۔ اگر کوئی تم سے تعرض کرے گا تو سب سے پہلے ہماری جان تم پر قربان ہوگی۔۱۷؂

صحابہ کرامؓچونکہ اسلام کی چلتی پھرتی تصویر تھے اس لیے لوگ ان کی سیرت وکردار سے متاثر ہوکر بھی مائل بہ اسلام ہوتے تھے۔صحابہ کرامؓکواپنے علم اور کردارکی بنا پر معاشرے میں تقدس کا جو درجہ حاصل تھا، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ہر جگہ اسلام کے پیغام کو عام کیا اور عہدِ صحابہؓ میں ہر طرف اسلام ہی کا چرچاہونے لگا۔ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہوکر صحابہ کرامؓنے ہمیشہ حق کی تائید کی جس سے نہ صرف وقت کے حکمرانوں کو اپنے رویے میں تبدیلی کرنا پڑی بلکہ اس طرح کی آزاد تنقید سے صحابہ کرامؓنے اسلام کو بھی ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھا۔ عہدِ صحابہؓمیں اسلام کو جو ترقی اور عروج حاصل ہوا،اس کا بنیادی سبب بجا طور پرصحابہ کرامؓکی حق پسندی اور بلند کرداری کو قرار دیاجاسکتا ہے۔ 


حوالہ جات

۱ ؂ الادب المفرد، ح:۲۰۱،ص:۶۰

۲ ؂ ابن سعد،تذکرہ ابوذرؓ ، ۴/۲۳۷

۳ ؂ صحیح مسلم،۲/۴۵۰

۴ ؂ المسند،مسند عبداللہ بن عمرؓ،ح:۵۹۶۳، ۲/۲۶۸

۵ ؂ اسد الغابہ،تذکرہ جثامہؓ ابن مساحق،۱/۲۷۳

۶ ؂ الموطّأ، ۷۸۵،ص:۵۹۲

۷ ؂ اسدالغابہ،تذکرہ قثم بن عباسؓ،۴/۱۹۷-۱۹۸

۸ ؂ صحیح البخاری، ح:۵۳۳۵،ص:۹۵۳

۹ ؂ نفس المصدر،ح:۵۳۳۴،ص:۹۵۳ 

۱۰ ؂ نفس المصدر،ح:۱۲۷۹،ص:۲۰۴

۱۱ ؂ المسند،مسند عبداللہ بن عمرؓ،ح:۴۵۲۱، ۲/۷۱

۱۲ ؂ صحیح البخاری ،ح:۳۸۴۲،ص:۶۴۴

۱۳ ؂ مقریزی، ’’امتاع الاسماع‘‘،۱/۲۲۶

۱۴ ؂ بلاذری ،’’فتوح البلدان‘‘:ص۲۷۴

۱۵ ؂ صحیح مسلم،۴۱۳۴،ص:۷۰۴

۱۶ ؂ صحیح البخاری ،،ح:۲۲۹۷،ص:۳۶۷

۱۷ ؂ اسد الغابہ،تذکرہ نعیمؓ بن عبداللہ النحام،۵/۳۳


دین و حکمت

Flag Counter