توہین رسالت کا مسئلہ اور ہماری حکمت عملی

مولانا وقار احمد

آج کل دنیا بھر میں ایک امریکی کی بنائی ہوئی فلم زیر بحث ہے جس میں مبینہ طور پر پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمناک انداز میں توہین کی گئی ہے۔ مسلم دنیا کی طرف سے انتہائی غم اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں عوام کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی اس مسئلہ پر احتجاج کیا اور جمعہ ۱۲ ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔ 

گزشتہ دو دہائیوں سے یہ صورت حال مسلسل دیکھنے میں آ رہی ہے کہ آزادی رائے کے نام پر مسلم دنیا کے جذبات کو بعض خاص مقاصد کے لیے وقتاً فوقتاً مشتعل کیا جاتا ہے اور ان کارروائیوں کے پس منظر میں عالمی استعمار کے پیش نظرکئی اہم مقاصدہوتے ہیں۔ ان کے حصول کے لیے کبھی توہین قرآن کی جاتی ہے، کبھی پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور کبھی خود مسلم دنیا کے اندر سے مختلف مکاتب فکر کی مقدس شخصیات کی توہین کر کے ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا حل کیا ہے؟ یہ کام کرنے والے تو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق اپنا کام کیے جا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو ان کی روک تھام اور دشمن کو بھر پور جواب دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمیں اس کے لیے کیا رہنمائی ملتی ہے؟ 

احتجاج کے ذریعے جذبات کا اظہار ایک اچھا اور وقتی طور پر موثر طریقہ ہے، مگر یہ دائمی حل نہیں ہے۔ ہم پاکستان کی اندرونی صورت حال کو دیکھتے ہیں کہ یہاں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کو بنیاد بنا کر عالمی برادری پاکستان میں موجود قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس پر مذہبی حلقوں کی جانب سے احتجاج اور مزاحمت کی جاتی ہے۔ بالآخر پاکستانی حکمرانوں کی وضاحت اور یقین دہانیوں کے بعد معاملہ عارضی طور پر ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور مذہبی حلقے فتح کے نقارے بجانے لگتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے کے بعد پھر کوئی ایسا ہی واقعہ پیش آجاتا ہے اور دوبارہ ملک میں وہی بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ 

عالمی سطح پر بھی یہی صورت حال ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کو سامراج اپنے مقاصد کے لیے مختلف حیلوں بہانوں سے استعمال کرتا ہے۔ کبھی گوانتاناموبے میں قرآن حکیم کی توہین کے واقعے کو خود امریکی میڈیا پھیلاتا ہے اور پھر دیگر مقاصد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عراقی فدائیوں کا رخ بدل دیا جاتا ہے اور ان کو ان کے ٹھکانوں سے باہر نکالا جاتا ہے۔ کبھی شیعہ سنی اختلافات کی آڑ لے کر ان کی مقدس شخصیات کی توہین کا ارتکاب کروایا جاتا ہے اور اس طرح سے مسلم مزاحمتی قوت کو آپس میں ٹکرا دیا جاتا ہے۔ 

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم رہنما اور ماہرین قانون و سیرت مل بیٹھ کر عالمی قانون کے تناظر میں اس مسئلہ کا کوئی حل نکالیں۔ ہمارے خیال میں اگر اس نوعیت کی جدوجہد کی جائے تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی روشنی میں اس مسئلہ کا مستقل حل نکل سکتا ہے اور آزادی رائے کی حدود مقرر کی جا سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور میں جہاں آزادی رائے اور ابلاغ کا حق دیا گیا ہے، وہاں دفعہ نمبر ۳۰  میں اس کی حدود بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔ ’’اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مراد نہیں لی جا سکتی جس سے ملک، گروہ یا شخص کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پیدا ہو جس کا منشا ان حقوق اورآزادیوں کی تخریب ہوجو یہاں پیش کی گئی ہیں۔‘‘ یہ شق واضح طور پر ایسی ہر سرگرمی کی ممانعت کرتی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب بن سکے یا جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ 

سی طرح کسی بھی شہری کی دل آزاری کی ممانعت خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور میں بیان کر دی گئی ہے۔ بہت سے مغربی ممالک میں توہین مسیح علیہ السلام پر سزا کا قانون موجود ہے۔ نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین محض آزادی رائے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے دنیا کے سوا ارب سے زائد انسانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں فساد اور بد امنی کے فروغ کا سبب ہے۔ یہ قبیح فعل تہذیبوں میں تصادم کی راہ کو ہموار کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی دفعہ نمبر ۲۱ میں ہر انسان کی عزت نفس کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے تو کیا کروڑوں انسانوں کے رہنما کی عزت نفس کی کوئی ضمانت نہیں ہے؟

یہ محض چند اشارات ہیں۔ دنیا بھر کے قوانین میں اس قسم کی دفعات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر اس مسئلہ پرعالمی سطح پر قانونی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر محض فتووں اور جذبات کے اظہار سے مسئلہ کا کوئی حل نکلنے والا نہیں، سوائے اس کے کہ مذہبی رہنماؤں کو کچھ دن کی مصروفیت ہاتھ آ جائے گی۔ 

ہمارے سامنے سلمان رشدی کی مثال موجود ہے جس نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور انتہائی زہریلی کتاب لکھی۔ اس کے خلاف جب برطانیہ کی مسلم کمیونٹی نے قانونی جنگ شروع کی تو برطانیہ کی عام کمیونٹی اور سنجیدہ طبقہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ تھا۔ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے قرارداد پیش کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھی کہ اس کتاب پر پابندی عائد کی جائے، کیونکہ اس میں برطانیہ کے ہزاروں شہریوں کی دل آزاری کی گئی ہے۔ برطانیہ کے بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور سیاستدان بھی مسلم کمیونٹی کا ساتھ دے رہے تھے۔ اچانک خمینی صاحب اور مسلم دنیا کے بعض دوسرے رہنماؤں کی طرف سے سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ آگیا۔ اس فتوے کا نتیجہ یہ ہوا کہ فتوے سے پہلے اسی مسئلہ پر مسلم کمیونٹی کے احتجاجی پروگراموں میں چند سو افراد بمشکل شرکت کرتے تھے، اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہو گئی۔ فتوے سے پہلے مسلم کمیونٹی کو برطانوی معاشرے اور ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی جبکہ سلمان رشدی کو کوئی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ اب حمایت کا رخ بدل ہو گیا اور برطانوی گورنمنٹ نے اپنے ایک شہری کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے رشدی کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور برطانوی معاشرے نے بھی اس فیصلہ کی حمایت کر دی۔ (تفصیل کے لیے اس جدوجہد اور اس کے انجام کی روداد مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کی کتاب میں پڑھیے جو ایک عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور خود اس جدوجہد میں عملاً شریک تھے۔)

اس ضمن میں علما اور سنجیدہ مسلم قیادت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایسی پالیسی اپنائیں جس سے مسئلہ کا مستقل اور پائیدار حل نکل سکے۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تاریخ اسلامی میں ہمیں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ ناموافق حالات میں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مسائل کا حل نکالا گیا۔ سیرت نبوی پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہود مدینہ ہجرت نبوی سے پہلے بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں کس نوعیت کے جذبات رکھتے تھے اور کس کس طرح مشرکین مکہ کو سوالات سکھاتے تھے تاکہ کسی طرح سے نبی انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کیا جائے، مگر ہجرت کے بعد یہ تمام چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ہوتے ہوئے بھی آپ نے ان کے معاملے میں حکیمانہ طرز عمل اختیار کیا اور معاہدات کے ذریعے سے ان کو اخلاقی اور قانونی شکست دی۔ 

ہمیں اس مسئلہ میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہر مسئلے کو خالص مذہبی بنیادوں پر حل کرنے کی حکمت عملی کہاں تک کارگر ہوگی۔ یہاں عظیم انقلابی رہنما مولانا عبید اللہ سندھی کا ایک مقولہ نقل کرنا بے محل نہ ہوگا۔ خواجہ خان محمد صاحب سے منقول ہے کہ مولانا سندھی فرماتے تھے کہ 

’’پاکستان بنا رہے ہو تو وہاں اسلام کا نام نہ لینا، ورنہ رکاوٹوں کے پہاڑ سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ جس طرح ہندو بظاہر سیکولر حکومت بنا رہے ہیں، مگر درحقیقت وہ ہندومت کے لیے کام کرتے ہیں، تم بھی پاکستان میں سیکولر حکومت بنا کر اسلام کی خدمت کرو گے تو کامیاب ہو گے۔‘‘ [بحوالہ ’’مولانا فضل الرحمن زعمائے امت کی نظر میں‘‘، ص ۶۰۱]

دین و حکمت