رمضان المبارک کی فضیلت

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

یا ایہا الذین آمنواکتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (البقرہ: ۱۸۳)

’‘اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔‘‘

اس آیت میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزے کا بیان ہے۔ صیام (روزہ) کے لفظی معنی رک جانے کے ہیں۔ عربی زبان میں اس کے لیے امساک کا لفظ بھی آتا ہے تاہم صوم کا لفظ بھی رک جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ 

شریعت میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ روزہ نہار شرعی کے اندر ہوتا ہے اور شرعی دن سے مراد پو پھٹنے سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہے۔ اس دوران کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رہنا اس نیت کے ساتھ کہ میرا روزہ ہے، یہی صوم ہے اور اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رکن ہے۔ حضور علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ: علیکم بالصوم فانہ لا عدل لہ۔ ’’تم روزہ کو لازم پکڑو کیونکہ روزے جیسی کوئی اور عبادت نہیں۔‘‘

فرمایا، اے ایمان والو! یہ روزے صرف تم پر ہی نہیں فرض کیے گئے بلکہ تم سے پہلے گزرنے والے لوگوں پر بھی اسی طرح فرض تھے البتہ ان روزوں کی مقدار اور تعداد مختلف امتوں کے لیے مختلف رہی ہے۔ چنانچہ مشہور ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھتے تھے اور یہ روزے امت محمدیہ کے لیے مستحب کا درجہ رکھتے ہیں حالانکہ حضرت آدم علیہ السلام کے لیے فرض تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی امت کے لوگ بڑے سخت مزاج اور اکھڑ تھے، ان میں بہیمیت کا عنصر زیادہ مقدار میں پایا جاتا تھا۔ اسے کم کرنے کے لیے اس امت کو سارا سال روزے رکھنے کا حکم تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام دو دن روزہ رکھتے تھے اور تیسرے دن افطار کرتے تھے۔ اس امت آخر الزمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں ایک ماہ کے روزے فرض کیے۔ ان کے متعلق فرمایا: ایاما معدودات یعنی تین سو ساٹھ دن میں سے انتیس یا تیس دن کے روزے فرض قرار دیے گئے ہیں۔

امام طحاویؒ اپنی کتاب مشکل الآثار میں فرماتے ہیں کہ ہر عبادت میں ریا کا امکان ہے، صرف روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریا کاری کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ باطنی عبادت ہے اور اس کا تعلق ایک طرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور دوسری طرف بندے کے ساتھ۔ نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ ایسی عبادات ہیں جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں، انہیں محسوس کر سکتے ہیں اور زکوٰۃ سے مستفید بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر روزے کے ساتھ ایسا معاملہ پیش نہیں آ سکتا۔ اس کا تعلق صرف روزے دار کی ذات سے ہوتا ہے۔ دوسرا شخص نہ اسے دیکھ سکتا ہے اور نہ محسوس کر سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص عام لوگوں کے سامنے تو نہیں کھاتا پیتا مگر درپردہ ایسا کر لیتا ہے تو اس کا روزہ کہاں ہوگا۔ وہ لاکھ اعلان کرتا پھرے کہ میں روزہ دار ہوں مگر اس کی حقیقت کو وہ خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ روزہ دار ہے یا نہیں۔ اس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بدلہ تو ہر عبادت کا دیا جائے گا مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی جزا میں خاص طور پر خود عطا کروں گا۔ حدیث قدسی کے الفاظ ہیں: الصوم لی وانا اجزی بہ۔ ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘

روزے کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ قانون کی پابندی سکھاتا ہے۔ روزے کے ذریعے انسان ایک مقررہ وقت کے لیے حلال اکل وشرب سے بھی رک جاتا ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ انسان قانون کا پابند ہو جائے۔ جب وہ قانون کی پابندی کے ذریعے حلال چیزوں سے رک سکتا ہے تو وہ حرام چیزوں سے بھی رک جائے گا۔ کھانے پینے اور نفسانی خواہشوں کی تکمیل سے انسان کا نفس مزید پھلتا پھولتا ہے۔ اسے کمزور کرنے کے لیے اسلام نے روزے کا قانون نافذ کیا تاکہ نفس انسانی کو فاقہ کے ذریعے سے کمزور کیا جا سکے۔ لعلکم تتقون کا یہی مطلب ہے کہ انسان میں تقویٰ جیسی اچھی خصلت پیدا ہو جائے۔

حضرت مولانا شیخ الہندؒ فرماتے ہیں کہ روزے کے ذریعے سے جب نفس کو مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑ جائے گی تو پھر اسے شرعاً حرام چیزوں سے روکنا آسان ہو جائے گا۔ جب روزہ کی وجہ سے قوت نفس اور شہوت میں ضعف آئے گا تو تم متقی بن جاؤ گے۔ روزہ میں یہ بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے کہ اس سے سرکش نفس کی اصلاح ہوتی ہے اور شریعت کے احکام پر پابندی ہونے لگتی ہے۔ متقی بننے کا یہی معنی ہے کہ انسانی نفس اس کے تابع ہو جائے اور احکام شریعت پر عمل آسان ہو جائے۔

دین و حکمت