دینی مدارس کے نئے بورڈز کا قیام
پس منظر، مضمرات، مستقبل

ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

گزشتہ دنوں میں دینی مدارس کے حوالے سے کچھ نئے بورڈز (وفاق) قائم کیے گئے ہیں، بعض مدارس کی اسناد کو انفرادی طور پر بھی ایم اے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ یہ دونوں کام ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ اب خاصے وقفے کے بعد یہ عمل زیادہ بڑے پیمانے پر دہرایا گیا ہے، اس لیے یہ امور زیادہ نمایاں ہوگئے ہیں۔

چناں چہ اس وقت مدارس کے حلقے کا گرم ترین موضوع یہی بورڈز کا قیام ہے، اس بحث میں زیادہ گرمی جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ کے مشترکہ بورڈ کے قیام سے آئی، جسے دیوبندی حلقے کے بورڈ، وفاق المدارس کے خلاف سازش قرار دیا گیا، خود وفاق  کے ترجمان نے بھی اس پر باضابطہ رد عمل پیش کیا۔ یاد رہے کہ ان نئے بورڈز کے قیام سے قبل وفاق المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد ۲۱ ہزار سے زائد ہے۔ اور اس اعتبار سے یہ پاکستان میں کسی بھی مکتب فکر کا سب سے بڑا بورڈ ہے۔

چوں کہ یہ مسئلہ نہایت حساس ہے، اس لیے ہمارے لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ اس پورے سلسلے کا پس منظر کیا ہے؟

مدارس کے مختلف بورڈز کے قیام کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

بعض مدارس کی اپنی اسناد کو کب منظوری دی گئی؟

اس قضیے کے تعلیمی،انتظامی اور سیاسی مضمرات کیا ہوسکتے ہیں؟

اس تحریر میں اسی نوعیت کے کچھ سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مدرس کی اسناد اور مختلف وفاقوں کے قیام کے تاریخی پس منظر بیان کرنے بعد یہ جائزہ چند نکات کی صورت میں لیا جائے گا کہ سردست یہی ممکن ہے، اگرچہ یہ موضوع خاصا طویل ہے، اور ایک مفصل و ضخیم مضمون کا متقاضی۔

مدارس کے بورڈ کا قیام اور منظوری

نومبر ۱۹۸۲ میں پہلی بار پاکستان میں چار وفاقوں کو دینی مدارس کے باضابطہ تسلیم شدہ تعلیمی بورڈ کی حیثیت دی گئی، اور ان کی سند شہادۃ العالمیہ (دورہ حدیث)کو صرف تعلیمی اور تدریسی مقاصد کے لیے چند شرائط کے ساتھ ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا۔ ان شرائط میں سے سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہ اسناد باقاعدہ کسی یونیورسٹی سے معادلے کے بغیر قابل قبول نہیں ہوں گی۔

ان وفاقوں کے نام یہ ہیں:

  • وفاق المدارس العربیہ پاکستان۔ ملتان (دیوبندی مکتب فکر)
  • تنظیم المدارس اہلسنت۔ لاہور (بریلوی مکتب فکر۔ باقی وفاقوں کے مکاتب فکر اپنے نام سے واضح ہیں۔
  • وفاق المدارس سلفیہ۔ فیصل آباد
  • وفاق المدارس شیعہ۔ لاہور

کچھ عرصے کے بعد ۱۹۸۷ء میں جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے مدارس کے لیے رابطۃ المدارس۔ لاہور کے قیام کا بھی نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔

اسی دوران کچھ مدارس کو الگ سے بھی یہ اعزاز دیا گیا کہ ان کی اپنی سند شہادۃ العالمیہ کو بھی ایم اے کے مساوی قرار دیا گیا۔ ان مدارس کے نوٹیفکیشن کی تاریخی ترتیب سے نام یہ ہیں:

  • جامعہ تعلیمات اسلامیہ، فیصل آباد۔ جون ۱۹۸۴ء
  • جامعہ اشرفیہ، لاہور۔ فروری ۱۹۸۵ء
  • دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ۔جنوری ۱۹۸۷ء
  • دارالعلوم کورنگی، کراچی۔ اگست ۱۹۸۷ء

اس عمل کے بہت مدت بعد اب حال میں مزید چند مدارس کی سند کو یہ اعزاز بخشا گیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

  • جامعۃ الرشید، کراچی۔ فروری ۲۰۲۱ء
  • دارالعلوم نعیمیہ، لاہور۔ اپریل ۲۰۲۱ء
  • جامعۃ المدینہ، کراچی۔ اپریل ۲۰۲۱ء
  • جامعۃ الدراسات الاسلامیہ، کراچی۔ اپریل ۲۰۲۱ء

اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ اس وقت صرف شہادۃ العالمیہ کو ہی ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا تھا۔ باقی اسناد یعنی ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ اور عالیہ کی اسناد کو کو بالترتیب میٹرک و انٹر اور بی اے کے مساوی قرار نہیں دیا گیا، جس کا سبب یہ تھا کہ اس وقت تک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت صرف شہادت العالمیہ کا ہی امتحان ہوا کرتا تھا۔ باقی تمام درجات کے امتحانات وفاق سے ملحق مدارس اپنے اپنے طور پر لیا کرتے تھے۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ۱۹۸۲ سے لے کر آج سے کچھ عرصے پہلے تک اس مسئلے پر مزید کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اس کا سبب حکومتی عدم دل چسپی ہو یا مدارس کے نمائندوں کی عدم التفات، طلبہ کے لیے یہ امر بہت سے مسائل اور مشکلات کا سبب بنا رہا ہے۔

اہم پہلو

مدارس کی اسناد کو ایم اے کے مساوی تسلیم کرنے کے لیے ۲۰۱۷میں ایک شرط یہ عائد کی گئی تھی کہ اس کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت کسی بھی حکومت کی چارٹرڈ اور منظور شدہ یونیورسٹی سے بی اے کے لازمی اسباق میں سے دو جن میں ایک انگریزی کا امتحان دینا لازم ہو گا۔ اس شرط کا اطلاق نئے منظور شدہ تمام بورڈ کے طلبہ پر ہوگا۔ اس سے قبل منظور ہونے والے تمام وفاقوں کے لیے انگریزی کی شرط نہیں تھی۔

نیز ان مدارس کی رجسٹریشن کے لئے بھی اب طریقہ کار یہ ہے کہ یا تو یہ ۱۸ اگست ۲۰۰۱ء کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق کریں یا ۲۲ اگست ۲۰۱۹ءکے نوٹیفکیشن کے مطابق ایک نئے قائم شدہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ریلیجیئس ایجوکیشن سے منظوری حاصل کریں۔ اسی طرح ۲۰۱۹ءکے بعد بعد اب مدارس کے رجسٹریشن کے معاملے کو وزارت تعلیم کے ماتحت کیا گیا ہے یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ ذمے داری وزارت صنعت و حرفت کی تھی۔

اس وقت تک مدارس کے  مزید جو نئے بورڈز تشکیل دیے گئے ہیں،ان کےاسما ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔ یہ تمام بورڈز فروری سے اپریل ۲۰۲۱ء تک کی مختلف تاریخوں میں منظور کیے گئے ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے:

۴ فروری ۲۰۲۱ء

  • اتحادالمدارس العربیہ پاکستان۔ مردان
  • اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان۔ لاہور
  • نظام المدارس پاکستان۔ لاہور
  • مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ۔ لاہور
  • وفاق المدارس رضویہ پاکستان

۱۵ اپریل ۲۰۲۱ء

  • وفاق المدارس الجماعات الدینیہ پاکستان
  • مجمع العلوم الاسلامیہ

۲۷ اپریل۲۰۲۱ء

  • وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان
  • بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن
  • کنز المدارس

موجود صورت حال۔ ایک نظر میں

مدارس کے قدیم و جدید تعلیمی بورڈز اور ان کی اسناد کے حوالے سے اب تک جو صورت حال سامنے آئی ہے، ان کا خلاصہ ان نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:

۱۔ چاہے وفاق المدارس العربیہ یا اس کے ساتھ مزید منظورشدہ مختلف مسلکی چار (مجموعی طور پر پانچ ) تعلیمی بورڈز ہوں، یا نئے قائم ہونے والے مختلف بورڈز یا مدارس کی انفرادی اسناد، تمام کی تمام صرف اور صرف تعلیمی مقاصد کے لیے منظور شدہ ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں مضامین کے علاوہ کسی بھی مضمون میں شہادۃ العالمیہ کی بناد پر ایم اے نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں بھی صرف شہادۃالعالمیہ کو ایم اے کے برابر قرار دیا گیا ہے،یہ ایم اے بھی صرف اسلامیات اور ایم اے عربی کے مساوی ہیں۔

۲۰۱۷ میں البتہ ایک پیش رفت یہ ہوئی تھی کہ ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ اور عالیہ کی اسناد کو بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بترتیب میٹرک، ایف اے اور بی اے کے مساوی قرار دینے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس سے بہت پہلے سے میٹرک اور ایف اے کی سطح پر معادلے کا اختیار آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین )کو حاصل تھا،لیکن وہاں بھی چند شرائط ایسی تھیں جن کی وجہ سے طلبہ کو دقت پیش آتی تھی جن میں متعلقہ درجات کے لازمی مضامین خاص طور پر انگریزی اور مطالعۂ پاکستان کا امتحان دینا ضروری تھا۔  اہم بات یہ ہے کہ مدارس کے جانب سے اس کمیٹی کو شاید کبھی بھی اپروچ نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا تو بہت محدود پیمانے پر،جس کے اثرات کبھی نمایاں نہیں ہو سکے۔ ایک زمانے میں اس کمیٹی کی چیئرمین شپ پروفیسر انوار احمد زئی مرحوم سابق چیئرمین انٹر میڈیٹ بورڈ کراچی اور میٹرک بورڈ کراچی کے پاس تھی۔ ان سے اس ضمن میں کئی ملاقاتیں کر کے انہیں بہت سے اقدامات پر ذاتی حیثیت میں آمادہ کیا،طے یہ ہوا کہ اس سلسلے کی ایک میٹنگ میں جو بھوربن میں ہونے والی تھی راقم نے ہم اس مسئلے پر ایک پریزنٹیشن پیش کریں گے، لیکن بعض وجوہ سے وہ میٹنگ نہ ہو سکی اور کچھ مدت بعد پروفیسر انوار احمد زئی ان ذمے داریوں سے سبک دوش ہو گئے۔یوں یہ مسئلہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔

۲۔اس معادلے کے لئے شرط اولین یہ ہے کہ امید وار کے پاس مذکورہ مدارس یا بورڈز میں سے کسی ایک کی سند شہادۃالعالمیہ ہونی چاہیے۔

۳۔یہ شہادۃالعالمیہ بھی سولہ سالہ نصاب کی بنیاد پر جاری کی گئی ہو۔ چناںچہ اگر کوئی ادارہ یہ نصاب چار سال یا پانچ سال پڑھا کر شھادۃالعالمیہ جاری کرتا ہے،تو یہ سنداول تو قابل قبول ہی نہیں ہوگی، بالفرض یہ پہلو کسی بھی مقام پر نظر انداز ہو جاتا ہے اور معادلہ جاری بھی کر دیا جاتا ہے تب بھی طالب علم پر تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے گی اور یہ پہلو ہمیشہ قابل اعتراض یاد رہے گا۔

۴۔نئے منتخب ہونے والے بورڈز کے لیے معادلے کی ایک شرط یہ بھی ہوگی کہ ان کے فضلا کے لیے کسی بھی منظور شدہ یونیورسٹی سے سے دیگر لازمی پرچوں کے ساتھ انگریزی بی اے کا امتحان دنیا بھی لازم ہو گا۔جو کہ وفاق المدارس العربیہ کی سند پر اب بھی لازمی نہیں ہے۔

۵۔اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اس سند پر صرف اسلامیات اور عربی کے کسی بھی تدریسی منصب پر انسان درخواست دینے کا اہل ہو سکتا ہے یا ایم فل وغیرہ کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔باقی کسی مقصد کے لیے یہ سند قابل قبول نہیں ہے۔

۶۔ایک فرق کے علاوہ، جو پوائنٹ نمبر ۴ میں درج کیا گیا، تمام ایسے مدارس جن کا ذکر ہوا اور تمام نئے پرانے بورڈز اور ان کی اسناد قانونی طور سے یکساں درجے کی حامل ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۷۔یہ معادلہ بھی صرف شہادۃالعالمیہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ جس قدر بھی کورسز مدارس میں کرائے جا رہے ہیں، یا مستقبل میں کرائے جانے ممکن ہیں، مثلاً تخصصات یا اس نوعیت کے مختلف سرٹیفکیٹ کورسز، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، ان کی پوزیشن وہی ہے جو تازہ پیش رفت سے قبل تھی۔

۸۔ بعض بورڈز سے بین الاقوامی اور اسکالر شپ کی امید دلائی ہے۔جامعات میں تعلیم کے لیے اپنے طلبہ کو بھیجنے کی بات کی ہے، یہ ہر بورڈ اور ہر مدرسہ اپنی ذاتی حیثیت میں کر سکتا ہے، اور اس موجودہ منظوری سے قبل بھی کر سکتا تھا۔ اس کا کسی نوعیت کا بھی تعلق موجودہ منظوری سے نہیں ہے۔

۹۔اس ساری صورت حال کے باوجود ایک اور آزمائش سر پر موجود ہے، وہ یہ ہے کہ ایچ ای سی کے ضابطے کے مطابق اب قانونی طور پر ایم اے کا کسی ادارے میں جواز نہیں ہے۔ کراچی یونیورسٹی سمیت بعض اداروں نے اپنے حجم کو دیکھتے ہوئے کچھ فیصلے ایچ ای سی سے ہٹ کر کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی زندگی بہت زیادہ نظر نہیں آتی۔ جلد یا بہ دیر ان سب کو اسی فارمیٹ کا حصہ بننا پڑے گا جو ایچ ای سی کا تجویز کردہ ہے،سوائے اس کے کہ وہ خود مزید کوئی قدم اٹھائے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے،جس کا امکان کم ہے۔ ایچ ای سی کو اس ضمن میں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی ایسی سند کی جو ایچ ای سی سے منظور شدہ باقاعدہ چارٹرڈ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ہو، تصدیق سے اس بنا پر انکار کردے کہ اس کے اجرا میں ایچ ای سی کی پالیسی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے شہادۃالعالمیہ کو منظور کرنے کا وہ نوٹیفکیشن جو ۱۹۸۲ء میں ہوا تھا اور وہ نوٹیفیکیشن جو ۲۰۲۱ء میں ہوا ہے، بالکل ایک ہے، لفظ لفظ ،اورحرف حرف۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ۲۰۲۱ء میں بھی دی جانے والی منظوری ایم اے کی ہے،جو حکومت کے اپنے ہی فیصلے کے مطابق قانوناً ختم ہوچکا ہے۔ اس وقت ضابطے کے مطابق اٹھارہ سالہ تعلیم کے بعد بی ایس کی ڈگری جاری کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اب معادلہ جس سند کا بھی ہوگا وہ ایم اے کا نہیں بی ایس کا ہوگا۔یا یوں کہیے کہ ہونا چاہیے۔اس لیے یہ بات اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ متعلقہ اداروں نے مدارس کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ دکھا دیا ہے۔

مضمرات

اس سارے قضیے کے نتائج و عواقب کیا ہو سکتے ہیں، اب ان پربھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

۱۔مذکورہ تفصیل سے یہ اندازہ کرنا تو زیادہ مشکل نہیں رہا کہ اس ساری سرگرمی سے نئے بورڈز کو کچھ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ حکومتی ادارے اس سے کیا حاصل کرسکتے ہیں۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس سے محض اہل مدارس کو منتشر کرنا مقصود ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہےکہ ایک ایک مکتبہ فکر کی ذیلی تقسیموں کو الگ الگ نوازنے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے، چناں چہ بریلوی مکتب فکر کو ہی دیکھیے تو تنظیم المدارس کی موجودگی میں ایک طرف جہاں جامعۃ المدینہ اور جامعہ نعیمیہ لاہور کی سندیں الگ سے قبول کی گئی ہیں، وہیں ان کے ساتھ ساتھ دعوت اسلامی کے مدارس کے لیے کنز المدارس کے نام سے الگ وفاق تشکیل دیا گیا ہے۔ اس طرح منہاج القرآن سے منسلک مدارس کے لیے الگ سے بورڈ قائم کردیا گیا ہے۔ حال آں کہ وفاق المدارس کے مقابلے میں تنظیم المدارس سے ملحق مدارس کی تعداد پہلے ہی انتہائی کم تھی۔

۲۔مدارس کے معاملے میں ایک حماقت تو پہلے روز ہی کردی گئی تھی، جب انہیں کسی بھی نظام کا حصہ بنانے کی بات کرتے ہوئے انہیں مسلکی بنیاد پر الگ الگ بورڈز بناکر دے دیے گئے تھے، امکانی طور پر درست راستہ کیا ہوسکتا تھا، اس پر الگ سے بات کی جارہی ہے، مگر موجودہ ترتیب سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس مسلکی خلیج کو مزید زاویوں سے بڑھانے اور ان کی پرورش کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے مضمرات پر کسی لمبی چوڑی گفت گو کی ضرورت نہیں۔

۳۔در حقیقت مدرسے اور مولوی کا وہ جن جو اسی کی دہائی میں بوتل توڑ کر باہر نکالا گیا تھا، اب ظاہر ہے کہ اتنی بڑی مدت گزرنے کے بعد اس قدر وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے کہ اسے ایک بوتل تو کیا بوتلوں کہ بڑے کریٹ میں واپس منتقل کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔پھر اس دوران بھی مختلف واقعات وقوع پذیر ہوتے رہے جن کے مضمرات صرف ملکی سطح پر نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سامنے آتے رہے اور مدرسے اور مولوی کے حوالے سے جو بین الاقوامی دباؤ ہمیشہ سے موجود رہا ہے اس میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔اب اسے کسی نہ کسی طور پر قابو کرنا بہ ہر کیف بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے، اس لیے تقسیم در تقسیم کی حکمت عملی کے کئی ایک امور تیزی کے ساتھ پھیلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

بعض حضرات کی رائے میں یہ سارا قصہ تین چار ماہ تک عروج پر رہے گا۔ (بین الاقوامی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس بات کی گہرائی میں جانا زیادہ مشکل نہیں) اس بات سے تو انکار نہیں، لیکن معاملہ اس قدر محدود نظر نہیں آتا نہ ہی یہ سب کچھ محض سال دو سال کے امور سے تعلق رکھتا ہے یہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے آخری اقدامات آج سے کوئی پندرہ بیس برس قبل اٹھائے جا چکے تھے۔

۳۔بعض حضرات کی رائے میں یہ زیادہ تشویش کی بات نہیں بل کہ ایسے ہی ہے کہ جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو انہیں الگ الگ بسانے کی فکر ہوتی ہے، یہ مثال یہاں اس لیے منطبق نہیں ہوتی کہ وہاں محض انتظامی طور پر دیوار کھڑی کرنے اور چولہے الگ کرنے سے کام چل جاتا ہے، مالی طور پر والدین کو وسعت حاصل ہوتی ہے تو وہ الگ الگ مکانات بھی لے کر بچوں کو مطمئن کر دیتے ہیں، لیکن یہاں اصل معاملہ مدارس کے انتظامی امور کا نہیں، ان کی فکری خودمختاری کا ہے، اور اس خود مختاری کو پڑنے والی زد ان امور سے کہیں زیادہ خطرناک محسوس ہوتی ہے۔

۴۔آج سے چند برس پہلے تک مدارس حکومتی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں اپنی شرائط بھی بڑی سہولت سے رکھ لیا کرتے تھے اور اپنا مقدمہ بھی پوری قوت کے ساتھ پیش کیا کرتے تھے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس سے مدارس، اہل مدارس اور طلبہ کو کس قدر فائدہ حاصل ہوسکا ،یا یہ بورڈز کس قدر فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں تھے، اور اس پوزیشن سے کس قدر وہ فائدہ اٹھا سکے۔اب صورت حال تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

۵۔تقسیم در تقسیم کے اس عمل کو روکنا اس لیے بھی مشکل تر ہے کہ مادیت پرستی کے اس دور میں ہر ایک کی یہ خواہش بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ وہ دوسروں پر فوقیت لے جائے اور اس کا ادارہ لوگوں کی زیادہ توجہ کا باعث بن سکے۔ اس کیفیت کا ایک اور پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مادی یا سیاسی لالچ کا معمولی سا امکان بھی بہت سے امور میں انسان کی آنکھیں بند کر لینے اور بہت سے امور سے صرف نظر کر لینے کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات ہے، جس سے کہیں پر بھی مفر نہیں۔ ان تمام معاملات میں بھی اس پہلو سے بہت سی مثالیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔

۶۔معاملات کو یہاں تک پہنچانے میں پہلے سے موجود بورڈز اور ان کی انتظامیہ کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ ادارہ بنانا مشکل ہے لیکن اداروں کو برقرار رکھنا مشکل تر ہے۔ انتظامی امور میں سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ انسان کسی بھی ذمے داری پر زیادہ عرصے رہ کر لوگوں کے طعنوں سے نہیں بچ سکتا۔ لوگوں کی امیدیں بڑھتی چلی جاتی ہیں، اور ان کے اطمینان کا پہلو کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر جب انسان لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اصل ہدف سے توجہ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں کبھی بھی ادارے پنپ نہیں سکے اور ان کے ہاں صدیوں سے موجود ادارے اس قدر بھی نہیں کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی گنے جا سکیں۔

۷۔صرف وفاق المدارس کو ہی لیا جائے تو اس کے انتظامی اور مالی امور کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود شبہات اور شکایات ایک طرف، وہ صحیح بھی ہو سکتی ہیں غلط بھی، لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں نہ ہی ہماری دل چسپی ہے۔ تعلیمی امور میں بھی بہت سی ایسی اصلاحات نہیں ہو سکیں جو خود مدارس کی اور اہل مدارس کی خواہش تھی، مگر ان کی خواہش، خواہش کی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکی، اور عملی طور پر کچھ نہیں ہو سکا۔

۸۔اس دوران ایسی کوششیں بھی سامنے آتی رہیں، جن کے نتیجے میں کچھ شخصیات اور کچھ اداروں پر وقفے وقفے سے طرح طرح کا دباؤ بڑھتا رہا، یا کم از کم وہ ادارے اور شخصیات وفاق کے دائرے میں رہتے ہوئے بہت زیادہ اطمینان محسوس نہیں کر رہے تھے۔ بے چینی کی یہ کیفیت انسان کو ہر طرح کی قید اور حدود توڑنے پر آمادہ کرتی رہتی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی رخنا نظر آئے، یا حبس زدہ ماحول میں کہیں سے ہلکی ہوا بھی محسوس ہو تو نتائج و عواقب سے بے پروا ہو کر اس طرف لپکنا انسانی فطرت ہے۔ اس معاملے میں یہ کیفیت بھی نظر آ رہی ہے۔

۹۔ان تمام امور کو تقویت پہنچانے والا سب سے بڑا نکتہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر ہونے والے اقدامات میں، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے، کسی نوعیت کی سنجیدگی کا دور دور تک احساس نہیں ہوتا واللہ اعلم

سیاسی پہلو

اس سارے قضیے کا ایک اہم سبب سیاسی بھی ہے۔ جس کا تعلق پانچ سابقہ بورڈز میں سے کم از کم دو بورڈز کے ساتھ تو واضح ہے۔ایک عرصے سے ہم یہ کہتے آ رہے ہیں اگرچہ کہ ہمیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہے، جو کہ کچھ بھی نہیں، کہ مدارس کے ان وفاقوں کا دائرہ کار محض اور صرف تعلیمی اور تدریسی ہونا چاہیے۔ ان وفاقوں کی بقا و سالمیت کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ ان کو ہر نوعیت کے سیاسی اور سماجی حتی کہ مذہبی مسائل سے بھی الگ رکھا جائے۔ کسی نوعیت کا بڑے سے بڑا ایشو بھی کیوں نہ درپیش ہو، انہیں ان میں ملوث نہ کیا جائے۔ ان مقاصد کے لیے الگ سے ہمارے پاس تمام مسالک کے جداگانہ اور مشترکہ پلیٹ فارم موجود بھی ہیں، اور نئے پلیٹ فارم وقتی ضرورت کے تحت تشکیل بھی دیے جاسکتے ہیں۔ لیکن چوں کہ وقتی مقاصد ہمیشہ ہمارے ہاں  ترجیحاً سامنے رہتے ہیں اور دور اندیشی کے امور سے ہم کم کم ہی اعتنا کرتے ہیں، اس لیے یہ تجویز کبھی پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔ اب یہی دیکھیے کہ چند ماہ پہلے تک وہ جمعیت علمائے اسلام جو وفاق المدارس کی صدارت کے حوالے سے ایک الگ نقطہ نظر کے حامل تھی، اس قضیے میں نہایت خاموشی کے ساتھ وفاق المدارس کی غیر مشروط حامی نظر آ رہی ہے۔ اگر ہمیں ایک چھوٹے سے تجزیے کی اجازت دی جائے تو عرض کریں گے کہ اس سلسلے میں جمعیت شاید دونوں جانب سے فائدے میں رہے۔ حکومتی سطح پر بھی اور وفاقی سطح پر بھی، دونوں جانب سے وہ اس وقت عمدہ بیٹنگ کی پوزیشن میں ہے، اور ہم نہیں سمجھتے کہ اتنے اچھے مواقع میسر آنے کے بعد وہ انہیں گنوا سکتی ہے۔ اشاعت التوحید کے وابستہ مدارس کو جو الگ بورڈ کی صورت میں منظم کیا جارہا ہے، اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ کم و بیش نو سو مدارس وفاق المدارس سے الگ ہو سکتے ہیں، مگر ایک زاویۂ نظر یہ بھی ہے کہ یہ تمام مدارس جمعیت علمائے اسلام کے لیے حزبِ اختلاف کا درجہ رکھتے ہیں، اس بنا پر ان کا وفاق سے علیحدہ ہونا جمعیت کے لیے اطمینان کا باعث ہوسکتا ہے۔

طاقت کے حصول کی انسانی خواہش کا یہ معاملہ حکومتوں، حکومتی اداروں، طاقت ور قوتوں اور عام آدمی کا نہیں، ہماری مجموعی انسانی نفسیات کا ہے۔ ہم طاقت کے کسی ایک پہلو پر قناعت اختیار نہیں کرسکتے، جب ہم طاقت ور ہوتے ہیں تو ہوتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس میں مزید اضافہ ہر وقت ہماری خواہش ہوتا ہے۔ اس فطری خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سارے قصے میں طاقت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور اس کی اس کروٹ کے نتیجے میں کون کون زمین پر آ رہیں گے اور کن کن کو عروج نصیب ہوسکتاہے۔

کیا ہونا چاہیے

ان حالات میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ہونا چاہیے اور آج سے پہلے جب یہ بورڈ منتخب کیے گئے تھے اور انہیں منظور کیا گیا تھا تب ہی کیا کیا اقدامات اٹھا لینے چاہیے تھے۔اگر اس وقت یہ نہیں ہو سکا تو اب کیا کیا ممکن ہے

۱۔مدارس کو اگر واقعی کوئی وقار اور مقام دینا مقصود ہے تو حکومت کے لیے سب سے پہلے جو قدم لازم ہے وہ ہے ان وفاقوں کو داخلی خودمختاری کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر اسناد تفویض کرنے کا اختیار رکھنے والے ادارے degree awarding institute کا درجہ دینا۔اسی طرح جن مدارس کی سند شہادۃ العالمیہ کو انفرادی سطح پر ایم اے کے برابر قرار دیا جا رہا ہے،انہیں بھی ابھی اسناد تحفیظ کرنے کا اختیار رکھنے والا ادارہ degree awarding institute قرار دینا چاہیے۔ یہ ایک نہایت ضروری امر تھا، اور نہایت ضروری تھا کہ یہ کام ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہی مکمل ہو جاتا، لیکن جب تک یہ کام نہیں ہو گا اس وقت تک مدارس کو دی جانے والی مراعات کی حیثیت کاغذی اور زبانی ہو گی،اس سےزیادہ کچھ نہیں۔

۲۔حکومتوں سے مذاکرات کرتے ہوئے اور مراعات لیتے ہوئے سب سے پہلا نکتہ جو ہر صورت پیش نظر رہنا چاہیے وہ مدارس کی داخلی خودمختاری ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بہ ظاہر خوش نما نظر آنے والے اقدامات کی تہہ میں عموماً یہی ہدف کار فرما ہوتا ہے۔

۳۔برعظیم پاک و ہند میں موجود مختلف مکاتبِ فکر ایک  حقیقت ہیں،جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،نہ ہی یہ مسلکی تقسیم اور تفریق ختم کرنا کسی حکومت کے بس میں ہے،اس لیے یہ مدارس اسی امتیاز اور مسئلہ کی شناخت کے ساتھ قائم رہیں گے مگر حکومت کی ذمے داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ اس امتیاز کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں چند ایک ضروری امور میں یکسانیت uni formality پیدا کرنے پر آمادہ کرے۔ جس کے لیے ان تمام بورڈز پر مشتمل ایسی مشترکہ اتھارٹی تشکیل دی جاسکتی ہے، جو ان کے مابین رابطہ کار کی ذمے داریاں بھی انجام دے، اور انہیں قریب کرنے کا فریضہ بھی اس کے پیش نظر ہو۔

اگر کہیں سوچنے کا عمل شروع ہو تو اس کے حوالے سے مزید تجاویز دی جاسکتی ہیں۔

۴۔یکسانیت کی اس ضرورت ہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک درجے میں ہمیں یہ یکسانیت ہمارے ماحول میں موجود دیگر سیکولر تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی درکار ہے۔بار بار جو مختلف اداروں کی جانب سے عصری تعلیم کی شرط عائد کی جاتی ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے، اس کی بہت سی وجوہات ہیں جو تعلیمی نفسیات سے واقف لوگوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔کاش ایسا ہوتا کہ مدارس اپنی ضرورتوں اور اپنی سہولتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے خود ایسی ریسرچ کرتے اور اس ریسرچ کی روشنی میں اپنے حاصل شدہ نتائج  کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نصاب تشکیل دیتے کہ حکومت کی مداخلت کا گراف کم سے کم درجے میں آنے پر مجبور ہو جاتا۔

۵۔ان حالات میں بھی ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی بہ جائے مل کر بیٹھیں اور تمام بورڈ اپنے مسلکی،فقہی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض دینی تعلیم کے نکتے پر یکجا ہوکر اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے طرز پر اپنے آپ کو اکٹھا کریں اور اپنی داخلی خودمختاری کو یقینی بناتے ہوئے مل کر فیصلے کرنے کی عادت ڈالیں۔

۶۔مدارس کے ان بورڈز کی باہمی آویزش جہاں انہیں کم زور کرنے کا باعث بنے گی، وہیں ایک جانب تو اپنے نظام پر ان کی گرفت کم زور ہوگی، دوسری جانب ان بورڈز کے مابین ایک غیر محمود اور مضر مسابقت بھی پیدا ہوسکتی ہے، جو خاص طور پر ان بورڈز کے نظام امتحان کو متاثر کرے گی، نتیجتاً شہادۃ العالمیہ کا رہا سہا غیر رسمی وقار بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔

۷۔ ان فیصلوں میں سب سے اہم نکتہ یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ ایک بورڈ کا طالب علم آسانی اور سہولت کے ساتھ دوسرے بورڈ میں کیسے منتقل ہو سکتا ہے۔یہ مسئلہ پہلے اس لئے التواءکا شکار رہا کہ ایک مسلک کے تمام مدارس کسی ایک وفاق سے منسلک تھے۔اب جب کہ ایک ایک مسلک کے کئی کئی بورڈ معرض وجود میں آ چکے ہیں تو اس بات کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے۔یہ فیصلہ کر لینے سے جہاں ان بورڈز کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کم ہوگی وہیں مستقبل میں بھی ان کے آپس میں قریب تر رہنے کے امکانات روشن رہیں گے۔اور اگر بالفرض واقعی کہیں پر ان تمام اقدامات کا مقصد ان مدارس کو منتشر کرنا ہے تو ان مقاصد کو بھی اور ان مقاصد سے حاصل ہونے والی مضرتوں کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

۸۔نئے بننے والے مختلف بورڈز کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان اسی طرح تنظیم المدارس وغیرہ کو بھی اپنا رویہ نرم رکھنا چاہیے اور کوشش ہونی چاہیے کہ انہیں تسلیم کیا جائے،شنید ہے کہ اس ضمن میں بعض بڑے حضرات نے کوششیں شروع کی ہیں،یہ ایک مفید اور محمود عمل ہے، اسے جاری رکھنا چاہیے اور اپنے دلوں میں موجود گنجائش کو مزید بڑھانا چاہیے۔ یہ کسی کا ذاتی معاملہ نہیں ہے، اس لیے اتنے حساس معاملے کو انا کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے۔

۹۔اس سارے عمل کا ایک مفید اور مثبت نتیجہ اس صورت میں ضرور برآمد ہو گا، جب یہ تمام بورڈ باہم ایک دوسرے کے احترام اور اعتماد کی فضا کو قائم کرنے کے بعد مثبت اور معیاری مسابقت کی فضا قائم کریں، اس کے نتیجے میں ان بورڈز کے نصاب اور نظام میں بہتری کی گنجائش پیدا ہوگی، اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کے لیے کسی ایک بورڈ کا انتخاب کرنا سہل اور آسان ہوگا۔

۱۰۔مختلف نوعیت کے کورسز کا اجرا ایک مکمل سائنس ہے،اگر کسی کورس کو حکومتی سطح پر کچھ بھی مقام دلانا مقصود ہے تو اس سائنس کو پوری طور پر جاننا ہماری ضرورت ہے۔مثال کے طور پر سرٹیفکیٹ کورس کیا ہے، ڈپلومہ کیا ہوتا ہے، ڈگری پروگرام کیا ہے، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کیا ہے، بیچلر کی کیا شرائط ہیں، ماسٹر کس کس شرط کے تحت مکمل ہوسکتا ہے، وغیرہ۔پھر یہ کہ کس کورس کے لئے کم سے کم کتنے کریڈٹ آور ہونے چاہییں ان کورسز کو کسی ڈگری پروگرام میں  کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟ یہ تمام چیزیں جانے بغیر ہم جتنی بڑی چھلانگ لگانا چاہتے ہیں وہ ممکن ہی نہیں۔ اس بات کو ہم  ایک چھوٹی سی مثال سے ہم واضح کرتے ہیں۔

اگر کہیں تین مہینے کا عربی کا ڈپلومہ کورس کرایا جاتا ہے،جو چھ ماہ پر مشتمل ہے، یا تین ماہ کا سرٹیفکیٹ کورس کرایا جاتا ہے، اس کو منظور کرانے کے لیے لازم ہے کہ اس کے اتنے کریڈٹ آور پورے کئے جائیں، اور کاغذات میں واضح کیے جائیں جن کے بغیر تین ماہ کا سرٹیفکیٹ کورس حکومتی قوانین کے مطابق قابل قبول نہیں ہو گا۔یہ شرط پوری کرلی جائے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ کورس کرنے والا طالب علم جب اپنا سرٹیفیکیٹ ڈپلومہ لے کر کہیں عربی میں ایم اے کرنے کے لیے جائے گا تو اس کو کچھ کریڈٹ آور کی چھوٹ میسر آ سکے گی۔ یہ چھوٹی سی مثال تھی جو ہم نے اپنی بات واضح کرنے کے لیے پیش کی۔

مختلف نئے موضوعات پر جس نوعیت کے کورسز ہمیں مطلوب ہیں، اور اس سلسلے میں جو کاوشیں لوگوں اور اداروں کے ذہنوں میں ہیں،ان کو منظوری کے مراحل سے گزارنے کے لیے ان تمام باریکیوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے،ورنہ جس قدر چاہیں حکومتی اداروں کے پیچھے بھاگتے رہیے، ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

۱۱۔ مدارس میں ہونے والے تخصصات کی تعلیم بھی پہلے مرحلے میں وفاقوں کی سطح پر، اور دوسرے مرحلے میں معادلے کے لیے منظم کرنے کی ضرورت ہے، گو یہ راستہ پر خطر ہے، اسی بنا پر وفاق المدارس کی سطح پر شروع ہونے والی ایک مشق نتیجہ خیز ہونے سے پہلے ختم کردی گئی تھی، اس وقت کے خدشات اپنا وزن رکھتے تھے، مگر اس کے علاوہ بھی خطرات موجود ہیں، لیکن کم از کم تخصص کے مقالے کی بنیاد پرایم فل میں کسی قدر رعایت حاصل کی جاسکتی ہے، اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ سب میں نہ سہی بعض مدارس میں مقالہ نگاری کی روایت کو کم از کم تخصص کی سطح پر تقویت ملے گی۔ اور شاید منہج تحقیق کی تدریس کی بھی مدارس میں روایت قائم ہوسکے۔

۱۲۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس بنیادی نوعیت کی فنی اور تکنیکی مہارت ر کھنے والے افراد ہی سرے سے موجود نہیں،نہ اس  جانب ہماری کوئی توجہ ہی ہے۔ایسے میں ہمیں بے وقوف بنانا،استعمال کرنا اور ہماری راہ کھوٹی کرنا ہر ایک کے لئے آسان ہے، اور یہی کچھ ہو رہا ہے جو ہم مسلسل جھیلتے چلے آرہے ہیں اور مسلسل اپنا نقصان کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اصل ہدف ہماری نظر سے اوجھل ہے۔

۱۳۔نصاب سازی بہ جائے خود ایک فن ہے،اب جب کہ مختلف بورڈ ایک ہی عنوان کے تحت میدان عمل میں ہیں تو ہر ایک کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے نصاب میں ایسی بنیادی اور جوہری تبدیلی کریں جو طلبہ کے ان کی جانب رغبت کا باعث بنے۔ یہ کام محض دو تین کتابوں کو تبدیل کر دینے سے انجام نہیں پاسکتا۔اس کے لیے دینی ضرورت کا علم،دینی تعلیم کے بنیادی مقاصد کے بارے میں مکمل ذہنی یکسوئی،اور اپنے اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے حصول کے طریق کار کے بارے میں بھی ذہن کا واضح ہونا ضروری ہے۔دیکھا یہ جا رہا ہے کہ خود علم اور مقصد تعلیم کے حوالے سے بھی بہت زیادہ الجھنیں ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں۔ لیکن یہ تفصیلی موضوع ہے،اور علیحدہ تحریر کا متقاضی

۱۴۔ سب سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ مدارس کو، یا کم از کم چند ایک بڑے مدارس کو درس نظامی کے ساتھ ساتھ کم از کم ایف اے ریگولر کرانے کی روایت ڈالنی چاہیے۔ اس کے لیے منتخب طلبہ سے سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے، یہ پریکٹس کئی ایک جگہوں پر انفرادی حیثیت میں بعض اساتذہ و مہتممین کی کاوش سے جاری ہے۔ اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اب چوں کہ بی ایس کے نظام کے ساتھ ہی پرائیویٹ امتحانات کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ مفید امکان ہمارے لیے علاہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہے، جس کا درس نظامی کا شعبہ اس مقصد کے لیے الگ سے فعال ہے۔ اس لیے آگے بڑھیے، طلبہ کے لیے کیئریر کونسلگ کا اہتمام کیجیے، انہیں رہنمائی فراہم کیجیے، ان کا ہاتھ پکڑیے، اور نئی تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور معاملہ فہم دینی قیادت کی تیاری کے فرائض میں شریک ہوجائیے۔ محدود ترین دائرے میں دار العلم والتحقیق کے پلیٹ فارم سے ہم یہ فریضہ گذشتہ کم بیش دس بارہ برسوں سے انجام دے رہے ہیں۔

مدارس کے نئے بورڈز کے قیام کے حوالے سے پیش آمدہ صورت حال کے سلسلے میں چند باتوں کا خلاصہ مختلف اقساط میں پیش کیا گیا۔اس بحث میں کچھ تو تاریخ تھی،چند اعداد و شمار تھے،کچھ چیزیں تجزیے کے درجے میں تھیں، کچھ مستقبل کے امکانات تھے جو تحریر ہوئے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے تمام تجزیات معلومات،قرائن،تاریخ اور مشاہدے کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں،اس لیے ان میں کمی بیشہ اور اصلاح و اضافے کا امکان ہر صورت میں رہتا ہے۔ہم اپنی حتمی وفاداری صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ رکھتے ییں،اور دم آخر تک یوں ہی رکھنے کے متمنی ہیں،مدارس دین کی ایک علامت کا درجہ رکھتے ہیں،اور ان سے وابستہ لاکھوں طلبہ اسی نسبت سے ہمارے لیےحددرجے قابل قدر ہیں،ان کا مفاد ہمارے لیے ہر قیمتی متاع سے بڑھ کر ہے،اسی جذبے سے کسی کو ہدف بنائے بغیر پوری نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ یہ سطور لکھی گئیں۔اللہ تعالی ہمیں ہر خیرات پوری طرح متعلق فرمائے اور ہر شر کو ہمارے حق میں خیر سے تبدیل فرمادے۔

امین بجاہ سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(جون ۲۰۲۱ء)

جون ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۶

جنوبی ایشیا میں دینی مدرسہ
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

مطالعہ جامع ترمذی (۲)
ادارہ

مساجد و مدارس اور نئے اوقاف قوانین
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے وفاقوں کو درپیش نیا مرحلہ
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

دینی مدارس کے نئے بورڈز کا قیام
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

مولانا وحید الدین خانؒ
مولانا محمد وارث مظہری

Flag Counter