مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلو

محمد عمار خان ناصر

پاکستان میں مختلف سطحوں پر مذہبی تعلیم کے موجودہ انتظام کے مثبت اور منفی پہلووں اوراس نظام میں بہتری کے امکانات کے حوالے سے متنوع زاویوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اس تجزیے کا ایک اہم اور بنیادی پہلو ملک وقوم کی علمی وتعلیمی ضروریات اور مطلوبہ معیار کے تناظر میں موجودہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے، تاہم اس پہلو کو کسی دوسرے موقع کے لیے موخر کرتے ہوئے اس نشست میں ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی موجودہ لہر کے تناظر میں، جس نے قوم کو درپیش ایک گہرے اور سنجیدہ بحران کو فکر ودانش کی سطح پر نمایاں کر دیا ہے، مذہبی تعلیم کے کردار کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہیں گے۔

ہمارے ہاں مذہبی تعلیم کا اہتمام عصری تعلیم کے سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں بھی کیا جا رہا ہے اور دینی مدارس کے ایک مستقل اور خود مختار تعلیمی نظام کی صورت میں بھی۔ اس ضمن میں بنیادی اور موثر کردار بدیہی طور پر مدارس ادا کر رہے ہیں۔ جہاں تک ریاستی تعلیمی نظام اور اداروں کا تعلق ہے تو قومی پالیسی میں اگرچہ ایک تسلسل کے ساتھ اسلام اور اسلامی تعلیمات کو تعلیمی پالیسی کا مرکزی اور محوری نکتہ بتایا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے ناظرہ قرآن، ترجمہ قرآن اور اسلامیات کو مختلف سطحوں پر نصاب کے لازمی اجزا بھی قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ طرز تعلیم بحیثیت مجموعی مذہب، ریاست، معاشرہ اور تہذیب کے باہمی تعلق کے ضمن میں نہایت بنیادی اور اہم سوالات کا کوئی واضح اور متعین جواب نہیں دیتا ، جبکہ فکر وشعور کی سطح پر ان سوالات کو موضوع بحث بنائے بغیر افراد اور معاشرے کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کا سوال عملی طور پر معلق رہ جاتا ہے۔ چنانچہ عصری نظام کے دائرے میں عملاً جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ناظرہ قرآن اور اسلامیات کی تعلیم کی صورت میں اسلام کے ساتھ وابستگی کا جذبہ طلبہ میں پیدا کر کے اسے شعوری فکر اور عملی رویوں میں ڈھالنے کا کام معاشرے میں موجود اور سرگرم مختلف مذہبی عناصر کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح عصری تعلیمی نظام بذات خود کوئی واضح تصور دینے کے بجائے محض ان مختلف، متنوع اور متضاد فکری رجحانات کے لیے خام مواد فراہم کرنے کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ 

دوسری طرف دینی مدارس جس تعلیمی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، ا س کے ذریعے سے قرآن وسنت اور ان سے متعلقہ دینی علوم کی تعلیم کا کام اگر چہ ایک حد تک انجام پا رہا ہے، لیکن انگریزی زبان اور عصری علوم سے لاتعلقی، غلط تعلیمی ترجیحات اور قدامت پسند مذہبی سوچ سے بے لچک وابستگی کی بنا پر ان کا دائرۂ اثر نہایت محدود ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ عصر حاضر کے علمی وعملی تقاضوں سے بالکل بے خبر اپنی ہی دنیا میں مگن اور اپنے محدود دائرۂ ترجیحات میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ 

دینی مدارس میں تعلیم کے نظام کے ساتھ جو بڑے بڑے مسائل وابستہ ہیں، اختصار کے ساتھ انھیں چند نکات کی صورت میں گنوایا جا سکتا ہے۔ مثلاً:

۱۔ مذہب جن روحانی واخلاقی اقدار کی تعلیم دیتا ہے، موجودہ مذہبی نظام تعلیم عمومی طو رپر ان سے بالکل برعکس قدروں کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے جن میں سب سے نمایاں چیز مذہبی فرقہ واریت ہے۔ مزید برآں تربیت کا سارا زور دین کے مظاہر پر صرف کیا جاتا ہے، جبکہ روحانی بالیدگی اور اخلاق وکردار کی بلندی پیدا کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

۲۔ مذہبی تعلیم ایک ایسے ماحول میں فراہم کی جاتی ہے جو اپنے فیض یافتگان کو معاشرے کے زندہ مسائل کے ساتھ حرکی طو ر پر متعلق کرنے کے بجائے ان کے اور معاشرے کے مابین اجنبیت کی ایک خلیج حائل کر دیتا ہے اور طلبہ جب عملی کردار ادا کرنے کے لیے معاشرے سے متعلق ہوتے ہیں تو ان کے فکر اور حکمت عملی میں اصلاح کے ہمدردانہ اور داعیانہ جذبے کے بجائے شکوہ شکایت اور تنافر کا عنصر بالعموم زیادہ غالب ہوتا ہے۔

۳۔ مذہبی تعلیم کے نتیجے میں مطالعہ اور علم وتحقیق کا معیار مجموعی طو رپر ناقابل رشک ہے اور اس سے بھی زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس ماحول میں مطالعہ اور تحقیق کے موضوعات کا دائرہ نہایت محدود ہے اور امت مسلمہ کی وسیع تر کلاسیکی علمی روایت اور دور جدید کے علمی وفکری مباحث سے ایک عمومی آگاہی بھی اس نظام تعلیم کے اہداف میں شامل نہیں۔

۴۔ مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام نے ریاستی نظام اور بین الاقوامی قانون کے ضمن میں دور جدید کی جوہری تبدیلیوں سے متعلق اجتہادی زاویہ نگاہ کو اپنے اہداف کا حصہ نہیں بنایا، چنانچہ اس حوالے سے کلاسیکی دور کے فقہی ذخیرے کو غیرتنقیدی انداز میں پڑھانا ان فکری ونظری ابہامات کی جڑ کی حیثیت رکھتا ہے جن سے اس وقت ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کا شرعی ونظریاتی جواز اخذ کیا جا رہا ہے۔

یہ آخری نکتہ ذرا توضیح کا طالب ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دینی مدارس دہشت گردی کی تربیت نہیں دیتے اور نہ اس کے لیے فضا ہموار کرتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مدارس کا نظام تعلیم ایک خاص ماحول میں طلبہ کی ذہنی تربیت کر کے ان کے اور معاشرے کے دوسرے طبقات کے مابین اجنبیت کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے، جدید معاشرت اور تمدن کے عملی تقاضوں سے روشناس کرانے کے بجائے قدیم فقہی سانچے کو ان کے سامنے معیار اور آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا ہے اور حالات کے معروضی تناظر میں نفاذ اسلام کی حکمت عملی اور اس کے تقاضوں کا شعور دینے کے بجائے محض ایک جذباتی نعرہ ان کے ہاتھ میں تھما کر انھیں میدان عمل میں اتار دیتا ہے۔ یہ اسی ذہنی رجحان کا نتیجہ ہے کہ ۸۰ء کی دہائی میں افغان جنگ کے دور میں حالات وواقعات کی عملی پیچیدگیوں اور اس کشمکش میں عالمی ومقامی سیاست کے اہداف اور ترجیحات سے کلی طو رپر اغماض برتتے ہوئے مذہبی عناصر میں یہ خام امید پروان چڑھاتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہونے کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ اس سے ’’جہاد‘‘ کا عمل زندہ ہو رہا ہے جو امت کی عظمت رفتہ کی بازیابی پر منتج ہوگا۔ گویا دینی مدارس ریاستی نظام کے خلاف انتہا پسندی کی براہ راست سوچ پیدا نہ کرنے کے باوجود اپنے فراہم کردہ ذہنی ماحول اور اپنے تحفظات، رجحانات اور پالیسیوں کے ذریعے سے لاشعوری طور پر وہ تمام فکری اور نفسیاتی لوازمات فراہم کر رہے تھے جس کے بعد اسے شدت پسندی اور دہشت گردی کا روپ دینے کے لیے بس کسی خارجی محرک، کسی استعمال کرنے والے ہاتھ اور ایک جرات رندانہ کی ضرورت تھی اور جب نسخے کے یہ سارے اجزا مکمل ہو گئے تو اس آئیڈیالوجی سے متاثر ذہنوں کا جہادی ’’کشتہ‘‘ تیار کرنے کی طرف متوجہ ہونا ایک ناگزیر نتیجہ تھا۔

اس ساری صورت حال کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیجیے تو خرابی کی جڑ ایک ہی نکلے گی، یعنی ریاست کا مذہبی تعلیم اور فکری تربیت کا کوئی ایسا نظام وجود میں لانے کی ذمہ داری سے پہلو تہی برتنا جو قومی اور ملی ضروریات اور جدید سیاسی وسماجی ڈھانچے کے مطالبات ومقتضیات سے ہم آہنگ ہو۔ ریاستی نظام کی طرف سے معاشرے کو ایک متوازن مذہبی تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری سے دست کش ہو جانے کے نتیجے میں مدارس کی صورت میں دینی تعلیم کے جداگانہ اور مرکزی تعلیمی دھارے سے الگ نظام کو ایک عملی ضر ورت کے طور پر ہمارے ہاں بالفعل قبول کر لیا گیا ہے جبکہ قومی سطح پر اس کے نقصانات اور مضمرات کا شاید اب بھی حقیقی معنوں میں اندازہ نہیں کیا جا رہا۔ اصولی طور پر ایک جامع قومی نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت کا احساس خود دینی مدارس کے بعض نمایاں بزرگ دلا چکے ہیں، لیکن ایک مستقل سماجی طبقے کے طور پر مدارس اپنا تحفظ اسی میں محسوس کرتے ہیں کہ دینی اور دنیاوی تعلیم کی دوئی قائم رہے۔ مختلف حکومتیں بھی مضبوط قوت ارادی، ذہنی یکسوئی اور فکری وضوح کے فقدان کی وجہ سے اسی میں عافیت محسوس کرتی چلی آ رہی ہیں کہ یہ ذمہ داری اور بوجھ اپنے سر نہ لیا جائے۔ تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور ’طالبانائزیشن‘ کی صورت میں پوری قوم کو جس چیلنج کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر اس طرز فکر پر نظر ثانی کی ضرورت جتنی اس وقت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔ 

مذہبی تعلیم کے نظام کی بہتری اور اصلاح کے ضمن میں ریاست کے کردار کے حوالے سے لبرل حلقوں کا ذہنی رجحان بھی غیر حقیقت پسندانہ اور اس ضمن کی رکاوٹوں میں سے ایک اہم رکاوٹ ہے۔ لبرل حلقوں کا عمومی زاویہ نگاہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ قومی نظام تعلیم میں مذہب کے عنصر کو کم سے کم جگہ دی جانی چاہیے تاکہ مذہبی سوچ کو تعلیم کے راستے سے نئی نسل کے ذہن اور فکر ورجحان پر زیادہ اثر انداز ہونے کا موقع نہ ملے۔ تاہم اب تک کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ طرز فکر غیرمطلوب نتائج پیدا کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔ اگر قوم کی علمی، تعلیمی اور روحانی ضروریات سے متعلق ایک بے حد اہم شعبہ بالکل صحیح خطوط پر استوار کرنے کے بعد کسی ایک مخصوص طبقے کے سپرد کر دیا جائے اور معاشرہ اور ریاست اس سے اپنے آپ کو بالکل لاتعلق کر لیں تو اس سے احتساب اور جواب دہی کا احساس ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد جب وہ طبقہ اپنی سیاسی طاقت بھی پید اکر لے تو پھر اس کی اصلاح کے لیے کوئی موثر کردار ادا کرنا ریاست اور معاشرے کے لیے بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دینی تعلیم کے نظام کے باب میں یہی ہوا ہے جو اس لحاظ سے زیادہ بگاڑ کا موجب بنا ہے کہ دینی تعلیم کا نظام سرے سے درست خطوط پر استوار ہی نہیں تھا اور نوآبادیاتی دور سے چلا آنے والا نظام نہایت بنیادی پہلووں سے اصلاح بلکہ تشکیل نو کا محتاج تھا۔ بدقسمتی سے اس اصلاح کے لیے مذہبی تعلیم کے نظام میں داخلی طو رپر کوئی خاص داعیہ موجود نہیں تھا۔ اس پر جب ریاست اور معاشرے نے بھی اس ضمن میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے دست کشی اختیار کر لی تو ان خرابیوں نے اپنی جڑیں مزید مضبوط کر لیں اور اب پینسٹھ سال کے بعد کیفیت یہ ہے کہ مذہبی تعلیم کے نظام کی اصلاح کا عزم تو دور کی بات ہے، ریاست اور معاشرہ ابھی تک اس کا کوئی واضح نقشہ بھی ذہن میں نہیں رکھتے۔

آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی، مذہبی، فکری، معاشرتی اور تہذیبی الجھنوں کے تناظر میں مذہبی تعلیم کے بنیادی رخ کا ازسرنو تعین کیا جائے اور ایک بالکل نئے تعلیمی نظام کی داغ بیل ڈالی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے سیاسی ومذہبی قیادت اور اہل دانش میں جس فکری یکسوئی اور ہمت وحوصلے کی ضرورت ہے، وہ اس وقت مفقود ہے اور قومی سطح پر سخت نظریاتی اور سیاسی تضادات کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسے کسی جاندار اور موثر نظام تعلیم کا وضع کیا جانا ممکن دکھائی نہیں دیتا، لیکن پالیسی سازوں پر یہ بات بہرحال واضح رہنی چاہیے کہ قوم اور معاشرے کے نظریاتی تشخص اور اس کے وجود وبقا کا تحفظ اس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے کم سے کم یہ اہتمام تو ضرور کیا جانا چاہیے کہ نظری سطح پر نظام تعلیم کے خلا اور مطلوبہ اصلاحات کو زیر بحث لاتے وقت حقیقی مسائل کی نشان دہی کی جاتی رہے تاکہ اصل مسئلہ نظروں کے سامنے رہے اور قومی دانش اس پر توجہ مرکوز کر کے ایک تدریج کے ساتھ اسے حل کرنے کی پوزیشن میں آ سکے۔

ہماری نظر میں اس سارے قضیے میں ریاست اور سول سوسائٹی میں سب سے بنیادی چیز جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے، وہ فکری وضوح، احساس ذمہ داری اور اصلاح کا مخلصانہ عزم ہے۔ چنانچہ معاشرے کی تشکیل میں مذہب اور مذہبی تعلیم کی اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرنے کے بعد پوری نیک نیتی، خلوص اور کھلے ذہن کے ساتھ ایک تدریج کے ساتھ حسب ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

۱۔ مذہبی تعلیم کی ضروریات، معیارات اور اہداف کا ایک واضح نقشہ تیار کیا جائے جو ان روحانی، علمی وفکری اور معاشرتی ضروریات کی تکمیل کا ضامن ہو جو مذہب او رمذہبی تعلیم سے وابستہ ہیں۔

۲۔ ریاست اور سول سوسائٹی اس نقشے کے مطابق مذہبی تعلیم کے انتظام کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں۔ اس کے لیے سرکاری نظام تعلیم سے جو کام لیا جا سکتا ہے، اس کا بھی گہرائی سے جائزہ لے کر اقدامات تجویز کیے جائیں اور سول سوسائٹی جو کردار ادا کر سکتی ہے، اس پر بھی گہرا غور وخوض کیا جائے۔

۳۔ حکومت اور سول سوسائٹی کی طرف سے مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام کے کار پردازان کو ایک مثبت اور تعمیری مکالمے میں شریک کیا جائے اور انھیں اپنے نظام میں مطلوب اصلاحات کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ 

مذہبی تعلیم کے موجودہ نظام کی اصلاح میں ریاست اور سول سوسائٹی اگر کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اس حقیقت کو بنیادی نکتے کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستانی قوم اپنی روحانی واخلاقی اقدار، خاندانی ومعاشرتی زندگی کے اصول وضوابط اور اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل میں مذہب یعنی اسلام کو راہ نمائی کا بنیادی سرچشمہ اور ماخذ تصور کرتی ہے اور اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر کوئی دوسری چیز یہاں حیات اجتماعی کی تشکیل میں بنیادی حوالہ نہیں بن سکتی۔ ا س لحاظ سے مذہبی تعلیم کے مسئلے کو کسی ایک مخصوص طبقے کا نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کی تعمیر وتشکیل سے دلچسپی رکھنے والے تمام سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غور وفکر کا موضوع ہونا چاہیے اور تمام طبقات کو ایک مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ مذہبی تعلیم کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بنیادی ذہنی رویہ پیدا ہونے سے ہی وہ سنجیدگی، بصیرت اور عزم وحوصلہ پیدا ہوگا جو اس مقصد کے لیے درکار ہے۔ بصورت دیگر یہ معاملہ ایک طرف مذہبی طبقات اور دوسری طرف مذہبی نظام تعلیم کی اصلاح کی خواہش رکھنے والوں کے مابین ایک بے حاصل کشمکش کا عنوان بنا رہے گا جس میں واضح سوچ، خلوص اور عزم وحوصلہ مفقود ہونے کی وجہ سے ریاست اور سول سوسائٹی دن بدن اپنے مطالبات کا جواز کھوتے چلے جائیں گے اور مذہبی طبقات رفتہ رفتہ سماجی اور اخلاقی دباؤ سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

دسمبر ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۱۲

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلو
محمد عمار خان ناصر

قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟
خورشید احمد ندیم

عالم اسلام کے معروضی حالات میں اصل مسئلہ
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہؓ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۱)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

.... اور کافری کیا ہے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

ریاست کے اندر ریاست
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قاضی صاحب پر حملہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’مقالاتِ جاوید‘‘ پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

ٹی بی ۔ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
حکیم محمد عمران مغل

Flag Counter