جنوبی ایشیا کے دینی مدارس، عالمی تناظر میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا، امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر، ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی کتاب ?What is a Madrasa کے اردو ترجمہ ’’دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے‘‘ (از قلم: ڈاکٹر وارث مظہری) کے لیے لکھا گیا پیش لفظ۔)


جنوبی ایشیا کے دینی مدارس اس وقت علمی دنیا میں مختلف سطحوں پر گفتگو ومباحثہ کا اہم موضوع ہیں اور ان کے تعلیمی ومعاشرتی کردار کے مثبت ومنفی پہلوؤں پر بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ آج کے تعلیمی وتہذیبی ماحول میں ان دینی مدارس کی ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد کے اثرات مثبت اور منفی دونوں حوالوں سے بتدریج واضح ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی افادیت وضرورت کے ساتھ ساتھ مضرات ونقصانات پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔ خود ان دینی مدارس کے ارباب حل وعقد بھی کچھ عرصہ سے اس بحث ومباحثہ میں شریک ہیں اور اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ نظام کو بہتر بنانے اور اس کی افادیت کو بڑھانے کے لیے ان کی طرف سے تجاویز واقدامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

دینی مدارس کی افادیت وضرورت اور اثرات وثمرات کا سب سے بڑا پہلو یہ سامنے آیا ہے جو ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلم معاشرہ میں قرآن وسنت کے علوم وروایت اور مسلمانوں کی تہذیبی اقدار کی حفاظت میں گذشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کی صبر آزما جدوجہد کے باعث اسلامی علوم ماضی کا حصہ بننے اور آثار قدیمہ میں شامل ہونے سے نہ صرف محفوظ رہے ہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور فعال نظام کی صورت میں آج کے تعلیمی نظام کا باقاعدہ حصہ ہیں، جبکہ فکری محدودیت، مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے فروغ کو بھی غلط یا صحیح ان مدارس کے کھاتے میں ہی ڈالا جا رہا ہے اور تہذیبی وفکری کشمکش کے اس دور میں یہی دائرہ سب سے زیادہ موضوع بحث ہے۔

اس تناظر میں بہت سے ارباب دانش اس کوشش میں ہیں کہ بحث ومباحثہ کے اس ماحول کو معروضی صورت حال، زمینی حقائق اور اوریجنل معلومات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ وقت اور تاریخ کو صحیح نتائج تک پہنچنے میں سہولت حاصل ہو اور یہ کسی بھی مباحثہ ومکالمہ کے لیے سب سے زیادہ ضروری اور مفید ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے دینی مدارس میں ایک عرصہ گزار کر ان کے اندرونی ماحول کو دیکھا بلکہ بھگتا ہے جبکہ مغربی دنیا کے تعلیمی اداروں میں بیٹھ کر ان مدارس کے بارے میں دنیا کے تاثرات ومشاہدات کا جائزہ لیا ہے جسے انھوں نے زیر نظر کتاب کی صورت میں پیش کر کے اپنی شہادت ریکارڈ کرائی ہے۔ وہ اس کاوش پر تاریخ وسماج کے میرے جیسے طالب علموں کے شکریہ کے مستحق ہیں اور میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو قبول فرماتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مقصدیت سے نوازیں اور اس موضوع کے طلبہ کے لیے راہ نمائی کا موثر ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین

تعلیم و تعلم / دینی مدارس