دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد اور موجودہ مدارس کا کردار ۔ تاریخی و تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد انس حسان

دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی دینی فراست اور علمی ذکاوت کا عملی نمونہ تھا۔ انقلاب 1857ء کی نا کامی کے بعد جب مسلمان انتہائی کس مپرسی کے عالم میں تھے مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ نے ایک ایسے دینی مرکز کی نیو اٹھائی جس کا مقصد مسلمانوں کی مذہبی اقدار کی حفاظت اور وقت کی جابر سلطنت یعنی حکومت برطانیہ کے خلاف ایسی جماعت تیار کرنا تھا جو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کردے۔ سید محبوب رضوی لکھتے ہیں کہ: 

’’اس وقت بنیادی نقطۂ نظر یہ قرار پایا کہ مسلمانوں کے دینی شعور کو بیدار رکھنے اور ان کی ملی شیرازہ بندی کے لیے ایک دینی وعلمی درسگاہ کا قیام ناگزیر ہے ۔ چنانچہ طے ہوا کہ اب دہلی کی بجائے دیوبند میں یہ دینی درسگاہ قائم ہونی چاہیے۔‘‘ (1)

حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو جب بتایا گیا کہ دیوبند میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا ہے تو اس پر آپ نے فرمایا کہ : 

’’سبحان اللہ! آپ فرماتے ہیں ہم نے مدرسہ قائم کیا ہے۔ یہ خبر نہیں کہ کتنی پیشانیاں ، اوقات سحر میں سربسجود ہوکر گڑگڑاتی رہیں کہ خدا وندا! ہندوستان میں بقاءِ اسلام اور تحفظِ علم کا کوئی ذریعہ پیدا کر۔ یہ مدرسہ ان ہی سحرگاہی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔‘‘ (2) 

مولانا نانوتویؒ نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد کے نامساعد حالات میں جو طریقہ کار وضع کیا اس کے بنیادی اصول اور مقاصددرج ذیل تھے:

(1) شاہ ولی اللہ کے اسلوب تدریس کی اساس پر دینی علوم وفنون کی طرف دعوت دینا۔ 

(2) عیسائیت اور ہندووں کی جانب سے اسلام کے حوالے سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات کا ازالہ کرنا۔

(3) کتاب وسنت کو مسلم و غیر مسلم طبقات میں پھیلانے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنا۔ 

(4) قابض اور مسلط حکومت سے تعاون لیے بغیر دین اسلام کی بیداری کے لیے اپنا مال اور جان خرچ کرنا۔ 

(5) شاہ ولی اللہ کے فلسفے میں تجدید کرکے ہندوستان میں دین کے غلبے کی تحریک کو نئے رخ پر ڈالنا۔ 

(6) قدیم علوم وفنون میں انتہائی عمیق غوروخوض کرکے اسے ہندوستان کے لوگوں کی ذہنیت کے قریب بنانا۔ 

(7) ماہرین فلسفہ کی ’’مخصوص اصطلاحات‘‘ کو چھوڑ کر ، عام ہندوستانیوں کی زبان میں بات کرنا۔ 

(8) عدم تشدد کے اصول پرقائم رہتے ہوئے منظم علمی وفکری شعور بیدار کرنا۔

ان اصول ومقاصد کے حصول کے لیے ہی دار العلوم دیوبند قائم کیا گیا تھا۔بتانا یہ مقصود ہے کہ دارالعلوم کوئی رسمی علمی ادارہ نہیں تھا بلکہ یہ اعلی مقاصد کے حصول کے لیے قائم کیا گیا تھا۔اگرچہ مولانا نا نوتوی ؒ کے وصال کے کچھ عرصہ بعد ہی دارالعلوم کے مقاصد کی تعیین کے حوالے سے معروضی بحث کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا اور بعض اکابرین کی رائے یہ تھی کہ دارالعلوم کو محض تعلیم وتعلم تک محدود رکھنا مناسب ہوگا کیونکہ یہی اس کی علت غائی تھی۔تاہم بعض اکابرین کی رائے یہ تھی دارالعلوم کا مقصد محض تعلیم و تعلم ہی نہیں تھابلکہ قومی و سیاسی نوعیت کے گھمبیر مسائل سے نبرد آزما ہونے اورحکومت برطانیہ سے آزادی کے حصول کے لیے منظم جماعت تیار کرنا تھا۔مولانا نانوتویؒ خود فرماتے ہیں:

’’ہم نے دارالعلوم کے اصل مقصد پر درس و تدریس ، علوم اسلامی کا پردہ ڈال دیا ہے۔‘‘ (3) 

چنانچہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ (جو کہ اس مدرسہ کے سب سے پہلے طالب علم تھے ) نے ایک موقع پر فرمایا:

’’حضرت الاستاذ نے اس مدرسہ کو کیا درس و تدریس ، تعلیم و تعلم کے لئے قائم کیا تھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا،جہاں تک میں جانتا ہوں ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کی نا کامی کے بعد یہ ارادہ کیا گیا کہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے، جس کے زیر اثر لوگوں کو تیار کیا جائے تا کہ ۱۸۵۷ء کی ناکامی کی تلافی کی جائے۔‘‘ (4) 

حضرت شیخ الہندؒ نے مزید فرمایا:

’’تعلیم و تعلم، درس و تدریس جن کا مقصد اور نصب العین ہے ،میں ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوں، لیکن خود اپنے لئے تو اسی راہ کا میں نے انتخاب کیا ہے، جس کے لئے دارالعلوم کا یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ نے قائم کیا تھا۔‘‘(5) 

مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ دارالعلوم کے قیام کے پس منظر کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’جس وقت شاملی کے میدان سے وہ خود (مولانا نانوتویؒ ) اور ان کے رفقائے کار بہ ظاہر ناکامی کے ساتھ واپس ہوئے تویقیناًان کی یہ واپسی یاس ونامرادی کی واپسی نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔ واپس تو وہ بیشک ہوئے تھے لیکن یقیناًیہ واپسی مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزاً اِلٰی فِئَۃٍ (الانفال) ’’جنگ ہی کے لئے کتراتے ہوئے یا کسی ٹولی سے ملنے کے لئے ‘‘ہو سکتی تھی اور یقینااسی کے لئے تھی۔‘‘(6) 

دارالعلوم کے قیام کو انگریز سامراج کے خلاف نئے محاذ اور میدان کی تیاری سے تعبیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’۱۸۵۷ء کی کشمکش کی نا کامی کے بعد قتال اور آویزش کے نئے محاذوں اور میدانوں کی تیاری میں آپ (حضرت نانوتویؒ ) کا دماغ مصروف ہو گیا۔ دارالعلوم دیوبند کا تعلیمی نظام اس لائحہ عمل کا سب سے زیادہ نمایاں اور مرکزی وجوہری عنصرتھا۔‘‘(7) 

دیوبندمکتب فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات کو موجودہ دور کے تناظر میں دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

(الف) پہلا طبقہ وہ ہے جو دارالعلوم کو محض ایک رسمی تعلیمی ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے۔اکابرین علماء دیو بند کا حقیقی تعارف اوران کی مساعی جمیلہ کا شعور نئی نسل میں منتقل کرنا ان کے مقاصد سے خارج ہے۔

(ب) دوسرا طبقہ وہ ہے جوتحریک بالاکوٹ اور معرکہ شاملی جیسی عسکری مثالوں کو اکابرین دیوبندکی سنت قرار دیتے ہوئے فی زمانہ غلبہ دین کے لیے عسکری طریقہ کار اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔شیخ الہند ؒ کی قائم کردہ جمعےۃعلماء ہند کی پالیسی ان کی نظر میں بے معنی ہے۔

ہمارے خیال میں یہ دونوں مکاتب فکر دار العلوم دیوبند کے مقاصدسے کما حقہ آگاہی نہیں رکھتے ۔چنانچہ پہلا طبقہ تو محض اپنے مدارس کی چار دیواری اور اس سے بھی بڑھ کر اپنی موروثی شہنشاہیت اور امارت قائم رکھنے کے لیے نئی نسل کو بے شعور رکھنا چاہتا ہے۔جبکہ دوسرا طبقہ اپنی کم علمی اور بے شعوری کے باعث غلبہ دین کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ حالانکہ یہ بات آشکار ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا نانوتویؒ ؒ کے مقاصد کے حصول کے لیے عدم تشدد کے اصول پرپر امن جدوجہدکا طریقہ اختیار کیا تھا اور اسی مقصد کے تحت جمعےۃعلماء ہند کا قیام عمل میں آیاتھا۔

بدقسمتی سے ہمارے مدارس میں تاریخ و مقاصد دیوبند کے حوالے سے کچھ زیادہ آگاہی نہیں دی جاتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس اس نظریاتی دیوبند سے دور ہوتے جارہے ہیں جس کی بنیاد مولانا نانوتویؒ نے رکھی تھی۔ چنانچہ آج یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ اس کا تقاضہ پیدا ہو رہا ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ کیا ہمارے مدارس مولانا نانوتویؒ کے وضع کردہ اصولوں پر چل رہے ہیں یا نہیں؟

یقیناًاس گئے گزرے دور میں قال اللہ و قال رسول  کی صدائیں غنیمت ہیں مگر کیا ہمارا دینی تقاضا بس یہی ہے کہ ہم اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ جائیں اوراقامت دین کے لیے اپنے اکابرین کے طرز عمل کو یکسر نظر انداز کر کے تحفظ مدارس کی فکر میں خود کو ہلکان کرتے رہیں؟ یہ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ جو دارالعلوم اقامت دین کے لیے مورچے کاکردار ادا کرنے کے لیے قائم ہوا تھا، آج اس کے نام لیوا وں کو یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ مدارس کا وجود مٹادیا جائے گا۔در حقیقت یہ مسئلہ مدارس کے وجود وعدم وجود کا نہیں بلکہ اپنی وراثت اور امارت کی بقاء ودوام کا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا نانوتویؒ کے قائم کردہ دارالعلوم دیوبند کی نسبت سے آج ہم دیوبندی کہلاتے ہیں، لیکن ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ دیوبند کسی عمارت یا رسمیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مستقل نظریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے راستے پر چل کر ایک آزاد اسلامی نظام کے قیام کے لئے منظم جدو جہد کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ ہمارے اکابرین کی جدو جہدِ آزادی اور وقت کی ظالمانہ اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف قربانیاں اس نظریے کی زندہ مثالیں ہیں۔

مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دارالعلوم دیوبند کے جو اصول و ضوابط وضع کئے تھے وہ ’’اصول ہشتگانہ ‘‘ کے نام سے موسوم ہیں۔ذیل میں ہم محض پہلے اصول پر اپنی معروضات پیش کرتے ہیں۔ پہلے اصول کی پہلی شق کے الفاظ یہ ہیں :

’’آزادیِ ضمیر کے ساتھ ہر موقع پر کلمۃ الحق کا اعلاء ہو۔ کوئی سنہری طمع ، مربیانہ دباؤ یا سرپرستانہ مراعات اس میں حائل نہ ہوسکے۔‘‘(8) 

لیکن آج بدقسمتی سے محض چند مدارس کو چھوڑ کر ہمارے مدارس کی اکثریت مولانا کے اس اصول پر پورانہیں اترتی۔ ہمارے مدارس میں آہستہ آہستہ آزادیِ ضمیر کے ساتھ وقت کی جابر طاقتوں کے خلاف’’ اعلاء کلمۃ الحق‘‘ کی اہلیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند اس لئے قائم ہوا تھا کہ1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کو ہونے والے عظیم نقصان کاازالہ کیا جا سکے۔جنگِ آزادی کی نا کامی کے بعد مسلمانانِ ہند ہندوستان میں جس کسی مپرسی کی حالت میں زندگیاں گزار رہے تھے اور عیسائی مشنریاں جس دیدہ دلیری سے شعائر اسلام کا مذاق اڑانے اور مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں سرگرم تھیں، اس کا تقاضہ تھا کہ ایک ایسا مرکز قائم کیا جائے، جہاں مسلمانوں کی دینی، سیاسی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ وقت کی جابر طاقت یعنی حکومتِ برطانیہ کے خلاف ایسے رجال تیار کئے جائیں جو انہیں اس شکست کا مزا چکھادیں۔

بنا بریں دارالعلو م کے قیام کا مقصد صرف درس وتدریس نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا مرکز قائم کرنا مقصود تھا جہاں مسلمانوں کی بچی کھچی انفرادی صلاحیتوں کو اجتماعی شکل دیدی جائے۔ اور یہ اجتماعی طاقت اس مقصد کا احیاء کرے اور اس کام کو مکمل کرے، جو حضرت سیدین رحمہم اﷲ کے ہاتھوں انجام نہ پاسکاتھا۔ چنانچہ حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکیؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ اور خود مولانا نانوتویؒ کی زندگیاں اور کردار اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ ان کی زندگی کا طویل حصہ انگریز حکومت کے خلاف علمی وعملی جہاد میں گزرا۔نیز حضرت نانوتویؒ کا وضع کردہ پہلا اصول ہی ایسا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سنہری طمع، سرپرستانہ مراعات اور مربیانہ دباؤ میں آئے بغیر آزادی ضمیر کے ساتھ حق گوئی سے باز نہیں آنا۔ لہذا یہ اصول ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ایک ایسے غلام ملک میں جہاں مذہب، حکومت اور آزادی رائے پر کسی جابر وقت کا تسلط ہو، کیا یہ اصول بلواسطہ نہ سہی بلاواسطہ ایک انقلابی دعوت نہیں ہے۔

اگر ہم اپنے گرد وپیش کا جائزہ لیں تو آج ملک بھر میں ہزاروں مدارس درس و تدریس میں مشغول ہیں اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی تعدادلاکھوں میں ہوتی ہے۔ لیکن اگر ان طلباء سے اپنے اکابرین کی جد وجہد کے بارے میں پوچھیں تو سخت مایوسی اور ناخوشگوار حیرت ہوتی ہے۔در حقیقت ہمارے مدارس نظریہ دیوبند سے بہت دور ہو چکے ہیں اور اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

(1) آج ملک بھر میں کوئی ایک مدرسہ بھی ایسا نہیں جو آزادیِ ضمیر اور حریت رائے کے ساتھ مربیانہ دباؤ اور سرپرستانہ مراعات میں آئے بغیر عصرِ حاضرکے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے واضح لائحہ عمل یا پروگرام رکھتا ہو۔ اگر کوئی حق گو ’’ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘ کرتا بھی ہے تو اس کی اس انفرادی صدا کو مجذوب کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

(2) آج ہمارے مدارس کے مسندنشینوں کی حق گوئی محض اخباری بیانات اور جذباتی تقریروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ ایک دوسرے پر تکفیر کے فتاوی جاری کرنے کو’’ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘ سمجھ لیا گیا ہے۔جہاں ایک طرف دہشت گردی کا عذاب مسلط ہے وہیں فتوی گردی کے عمل سے بھی کوئی دامن محفوظ نہیں رہاہے۔

(3) ایک طرف تو تکفیری فتاویٰ کی بھر مار ہے تو دوسری طرف سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بڑی فراخ دلی سے من پسند فتاویٰ جاری کیے جاتے ہیں۔انہی سرمایہ داروں کے مال سے اگر مدارس چلانے ہوتے تو حضرت نانوتویؒ سمیت بہت سے اکابرین کے لیے یہ عمل ناممکن نہیں تھا۔مضاربہ اسکینڈل جیسی دو نمبریوں سے معصوم عوام کو دھوکہ دینے کے عمل میں بعض جیدمدارس کے’’دار الافتاء‘‘ کا بڑا نمایاں کردار رہاہے جو سب پر آشکار ہے۔

(4) اکابرین دیو بند کاعمل تو یہ تھاکہ تنخواہ کے حوالے سے خود کو بطور مثال پیش کرتے تھے اور مالی حوالے سے بہت احتیاط برتتے تھے۔لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ مدارس کے مہتممین اور ان کی اولادیں توشاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ غریب مدرس کی انتہائی بری حالت ہے۔اگر مالی حوالے سے کوئی احتجاج کی آواز بلند ہوتی بھی ہے تواسے اکابرین کے اخلاص وتقویٰ کے وعظ پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔

(5) آج ہمارے مدارس کی اکثریت مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھنے پر مصر ہیں۔ چنانچہ اس رویے نے ہمارے معاشرے میں دین و دنیا کی تفریق کے تصور کومزید مستحکم کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مدارس اورسماج کے درمیان وسیع خلیج حائل ہوگئی ہے ۔عوام میں یہ تاثر قائم ہوگیا ہے کہ علماء کا کام محض نکاح و وفات کی رسوم سر انجام دینا ہے،دیگر سماجی مسائل کا حل ان کے پاس نہیں ہے۔

(6) ہمارے وہ احبابِ مدارس جنہوں نے افغانستان کے حوالے سے جہاد کے فتاویٰ شائع کروا کر بلکہ اس میں خود عملاً شریک ہو کر ’’ شیخ المجاہدین ‘‘ اور ’’ سرپرست مجاہدین ‘‘ کے القابات پائے اور اس عمل کو ’’ اعلاء کلمۃ الحق‘‘ کا عظیم فریضہ قرار دیا، آج پاکستان کے معروضی حالات میں ان کی فقہی بصیرت نے انہیں خاموش کرا رکھا ہے ۔

(7) ہمارے مدارس کے وہ لوگ جو سیاست کو دین سے الگ تصور نہیں کرتے اور مذہبی سیاست کی دعوت دیتے ہیں،آج ملک کے سیکولر اور لا دینی نظام کا حصہ بن چکے ہیں اور بزعم خویش اسی پر مطمئن ہیں کہ نظام کا حصہ بن کر نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو ’’کچھ دو کچھ لو ‘‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور دوسری طرف اسلامی شریعت کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے۔ اس دو عملی نے ناصرف آزادیِ ضمیر کو متاثر کیا ہے بلکہ عوام بھی مدارس کی پروردہ مذہبی و دینی جماعتوں سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ 

(8) فرو عی مسائل پر بحث شر وع دن سے رہی ہے لیکن آج ہمارے دینی مدارس دین کے اس ایک محاذ کو محاذ کل سمجھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم معمولی اختلافات کا شکار ہو کر فرقہ درفرقہ بٹتے چلے جا رہے ہیں۔اس پر مستزادیہ کہ یہ فرقہ بندی مسلکِ دیوبند سے باہر کی نہیں بلکہ آج دیوبندی کہلوانے والی بیسیوں جماعتیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ چنانچہ نظریہ دیوبند انہی جماعتوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔

بہرحال مولانا نانوتویؒ کے گذشتہ ذکر کئے گئے پہلے اصول کی دوسری شق کے الفاظ یہ ہیں:

’’اس کا (دیوبند ) کا تعلق عام مسلمانوں کے ساتھ زائد سے زائد ہو۔ تاکہ یہ تعلق خود بخود مسلمانوں میں ایک نظم پیدا کردے جو ان کو اسلام اور مسلمانوں کی اصل شکل پر قائم رکھنے میں معین ہو۔اور اس طرح اسلامی عقائد اور اسلامی تہذیب ہمیشہ کے لئے ورنہ کم از کم اس وقت تک کے لئے محفوظ ہو جائے ۔ جب تک کہ یہ مرکز اپنے صحیح اصول پرقائم رہے، نیز توکل علی اﷲ اور عوام کی طرف سے احتیاج خودکارکنانِ مدرسہ کو اسلامی شان پر باقی رکھ سکے اور جابرانہ استبدادیا ریاست کا ٹھاٹھ ان میں قطعاً نہ پیدا ہو، بلکہ ایک جمہوری تعلق ہو جو ایک کو دوسرے کا محتاج بنائے رکھے۔ اور اس طرح آپس میں خود ایک دوسرے کی اصلاح ہوتی رہے ۔‘‘ (9) 

بدقسمتی سے ہمارے موجودہ مدارس مولانا نانوتویؒ کے اس اصول پر بھی پورا نہیں اترتے۔دیوبند کا مقصد تو یہ تھا کہ عوام الناس سے زیادہ سے زیادہ تعلق پیدا ہو اور اس کا سیاق و سباق یہ تھا کہ 1857ء کی تحریک آزادی میں انقلابی سوچ کی حامل ایک جماعت صفحہ ہستی سے مٹائی جا چکی تھی اور مسلمان قوم ہر جگہ انگریزوں کے شکوک و شبہات اور ظلم و ستم کانشانہ بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں مسلمانوں کے علمی حلقوں میں دو سوچیں ابھر کر سامنے آئیں۔ 

(الف) پہلی سوچ کے حامل وہ لوگ تھے جو انگریز سامراج سے قطعی مرعوب نہیں تھا بلکہ ان سے شدید نفرت کے جذبات رکھتے تھے اور اپنی مذہبی ، ثقافتی اور علمی روایات کو کسی طور پر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس فکر کی نمائندگی ’’مدرسہ دیوبند‘‘ کررہا تھا۔ 

(ب) دوسری سوچ کے حامل وہ لوگ تھے جو انگریز سامراج سے متاثرہو کر ہر میدان میں مدافعانہ اور غلامانہ سوچ کو پروان چڑھا رہے تھے اور اس فکر کی نمائندگی سرسید احمد خان کا قائم کردہ کالج علی گڑھ کررہا تھا۔ 

ہمارے لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ’’علی گڑھ‘‘ کا ادارہ ’’دارالعلوم‘‘ کے مقابلے میں قائم کیا گیا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ انگریز سامراج نے اپنی حکمت عملی سے ان ہر دواداروں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا اور ان کی باہمی رقابت سے سیاسی فوائد حاصل کیے۔ اس باہمی رقابت کو ولی اللّٰہی جماعت کے تیسرے دور کے امام شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے دور کیا اور اجتماعی ترقی وملی آزادی کے لیے ایک دوسرے کو مل جل کر کام کرنے کی دعوت دی ۔ تاہم اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مولانا نانوتویؒ جدید علوم وفنون یا انگریزی زبان کے مخالف تھے۔ حضرت نانوتویؒ اور سر سید احمد خاںؒ کے ایک استاد مولانا مملوک علی نانوتویؒ تھے جو کہ شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے شاگرد تھے۔ حضرت نانوتویؒ جدید علوم وفنون کے قائل تھے اور ان علوم کا حصول طلباء کے لیے ضروری خیال فرماتے تھے۔ چنانچہ سید محبوب رضوی نے مولانا نانوتویؒ کی یہ تحریر نقل کی ہے کہ: 

’’اگر طلباء مدرسہ ہذا ، مدارس سرکاری میں جاکر علومِ جدید حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ موید ہوگی۔‘‘(10) 

مولانا احمد عبدالمجیب قاسمی حضرت نانوتویؒ کے تصور علوم جدیدہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : 

’’جدید تعلیم کے حصول سے حضرت نانوتویؒ نے منع نہیں فرمایا اور کیسے منع کرتے وہ تو باخبر، زمانہ شناس اور صاحب بصیرت عالم تھے اورتقاضائے زمانہ سے آگاہ تھے، بلکہ ایک گونہ ترغیب بھی دلائی۔‘‘ (11) 

تاہم ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا نانوتویؒ نے عصری اور دینی تعلیم کے مشترکہ نصاب کو دارالعلوم میں کیوں جاری نہیں فرمایا ؟ تو اس کا جواب مولانا نے خود یہ دیا ہے کہ: 

’’زمانہ واحد میں علوم کثیرہ کی تحصیل، سب علوم کے حق میں باعثِ نقصان استعداد رہتی ہے۔‘‘(12) 

مولانا کے اس جملہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ بیک وقت دینی وعصری تعلیم کی تدریس کو استعداد پیدا نہ ہونے کا باعث قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ دینی تعلیم کے حاملین فراغت کے بعد عصری تعلیمی اداروں میں آئیں اور عصری تعلیم کے حاملین مدارسِ دینیہ میں آئیں۔ اگر وہ جدید علوم وفنون کے حوالے سے عصری تعلیمی اداروں کے مخالف ہوتے تو خود مولانا مملوک علیؒ سے کیوں پڑھتے جو شاہ عبدالعزیزؒ کے فتویٰ کی روشنی میں انگریز کے قائم کردہ کالج میں نوجوانوں کی تربیت کا محاذ سنبھالے ہوئے تھے۔ بلکہ مولانا گیلانیؒ کے مطابق تو مولانا نانوتویؒ خود انگریزی زبان سیکھنے کے خواہش مند تھے اور دارالعلوم دیوبند میں سنسکرت زبان سیکھنے کا اہتمام بھی تھا۔ (13) 

ان دونوں مکاتب فکر کا مقصد آزادی تھا لیکن حصول مقصد کے طریقے میں اختلاف تھا اور یہ اختلاف وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر طویل ہوا کہ انگریزوں کے خلاف دو الگ محاذ جنگ قائم کرنے کی بجائے مسلمان خود آپس میں محاذ آرا ہوگئے اور یہ فکری محاذ آرائی اب تک قائم ہے۔ حالانکہ ان دونوں فکری تحریکوں کا ملاپ سماجی تبدیلی کا صحیح راستہ متعین کرنے میں معاون و مددگار ہوسکتا تھا۔

حضرت شیخ الہند ؒ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس کمی کو شدت سے نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان دونوں تحریکات کے اشتراک کے نتیجے میں ایک قومی انقلاب برپا کرنے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے۔مولانا اپنی مستقبل بینی اور عبقریت کی بناپر بھانپ گئے تھے کہ غلبہ دین کو جدید دور کے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کی بنیاد پر حریت وآزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے دارالعلوم (دینی) اور علی گڑھ (عصری) کے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی اس سوچ کا اظہار جامعہ ملیہ کے تاسیسی جلسے میں اپنی آخری تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ: 

’’اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس میں میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں) مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا ۔اور جس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا، کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو محروم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتلائیں۔ لیکن اہلِ نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں، لیکن اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے ۔‘‘ (14) 

حضرت شیخ الہند نے مزید فرمایا:

’’آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں ، وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان کے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ ہاں! یہ بیشک کہا گیا کہ اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اڑائیں ..........تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کا جاہل رہنا ہی اچھا ہے ازراہ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بد سے ۔‘‘ (15) 

حضرت شیخ الہند ؒ نے ہی علی گڑھ کے فاضل اور شہرہ آفاق مقرر مولانا محمد علی جوہر مرحوم کو دیوبند آنے کی دعوت دی اور باوجود اس کے کہ وہ کوئی عالم دین یا فقیہہ نہیں تھے اپنی دستار ان کے سر پر رکھ دی۔ حضرت شیخ الہندؒ کے اس عمل سے دو نتائج برآمد ہوئے۔

(الف) اول مولانا کی وسیع القلبی اور اخلاق و محبت کے اس عظیم مظاہرہ سے بہت سے علیگ یا غیر درسی حضرات تحریک دیوبند کے حوالے سے اپنے نکتہ نظر پر نظر ثانی کے لئے آمادہ نظر آنے لگے۔ چنانچہ حضرت شیخ الہندؒ کا وسیع حلقہ ایسے حضرات کا تھا جو مذہبی معاملات میں محض نمودو نمائش کا قائل نہیں تھا۔ نیز حضرت کی انہی پالیسیوں کی بدولت (جو کہ دراصل حضرت نانوتویؒ ہی کے پہلے اصول کی دوسری شق کا احیاء تھا ) ما سوائے انگریز حکومت اور اس کے گماشتوں کے کوئی دو سرا دشمن نہ تھا۔

(ب) دوسرا نتیجہ مولانا کے اس عمل کا یہ ہوا کہ ارباب دیوبند کا ایک مخصوص ذی اقتدار طبقہ ان کا مخالف ہو گیا اور ان کی راہ میں مزاحم ہوگیا۔ چونکہ مولانا کی ذاتی علمی و جاہت اورمقام و مرتبہ کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت تو نہ ہوئی کہ وہ علی الاعلان ان کی مخالفت کرتا لیکن شیخ الہند ؒ کی پالیسیوں کو ناکام بنانے اور ان کی طاقت ختم کرنے کے لئے ان کے قریبی ساتھیوں کو ان سے الگ کرکے اور دارالعلوم بدر کرکے حضرت کی طاقت اور زور بازو کو کمزور کردیا گیا۔ اس حلقہ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا لازمی جواب یہی ہے کہ یہ حلقہ دارالعلوم کی عمارت اور طریقہ تعلیم کو ان تخریبی عوامل سے بچانا چاہتے تھے جو حضرت شیخ الہندؒ کی پالیسیوں کے نتیجے میں مدرسہ کو لاحق تھے۔

وہ لوگ جو حجرہ نشینی کے قائل تھے اوراقامت دین کے حوالے سے عملی جد وجہدسے فرار اختیار کرتے ہوئے دار العلوم کو محض درس وتدریس تک محدود رکھنا چاہتے تھے، ان کے بارے میں حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا: 

’’اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ تمام مذہبی، تمدنی ، اخلاقی ، سیاسی ضرورتوں کے متعلق ایک کامل ومکمل نظام رکھتا ہے ۔ جو لوگ کہ زمانہ موجودہ کی کشمکش میں حصہ لینے سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور صرف حجروں میں بیٹھ رہنے کو اسلامی فرائض کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھتے ہیں ، وہ اسلام کے پاک وصاف دامن پر ایک بدنما دھبہ لگاتے ہیں ۔ ان کے فرائض صرف نماز ، روزہ میں منحصر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام کی عزت برقرار رکھنے اور اسلامی شوکت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ ‘‘(16) 

بہر حال آج اکثر مدارس حضرت نانوتویؒ کے پہلے اصول کی دوسری شق پربھی پورا نہیں اترتے ۔حضرت نانوتویؒ کا فرمانا تو یہ تھا کہ عام مسلمانوں سے زیادہ تعلق ہولیکن آج ہمارے ارباب مدارس عام مسلمانوں سے اتنے ہی دور ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوریاں ختم ہوتیں مگر یہ جوں کی توں قائم ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے استاد کی وضع کردہ اس شق کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مساعی کیں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا تا کہ وہ اس اجتماعی نظام کا حصہ بن سکیں اور خود کو الگ جنس تصور نہ کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی مساعی سے انحراف ان کی موت کے کچھ ہی عرصے بعد شروع ہوگیا تھا۔ ’’مولوی‘‘ اور ’’بابو‘‘ کی اصطلاحات نے اسے مزید ہوا دی اور آج یہ حال ہے کہ ہمارے ارباب مدارس کالج اور یونیورسٹی کے نیم مذہبی طلباء کو بنظرِ حقارت دیکھتے ہیں۔نیز اسلام اور عصری تقاضوں سے متعلقہ ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کی بجائے اپنے اخلاقی ، سماجی اور معاشرتی رویوں سے انہیں خود سے مزید دور کرتے جا رہے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہوا ہے کہ آج ہمارے کالج اور یونیورسٹیوں کے قابل قدر اور مستقبل کے سیاسی و معاشرتی معمار اپنی لگامیں لا دینی قوتوں کے سپرد کر چکے ہیں اور یہ سب حضرت نانوتویؒ کے اصول سے انحراف کا نتیجہ ہے۔

حضرت نانوتوی ؒ کے اس زریں اصول میں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اللہ پر توکل اور عوام کی طرف سے احتیاج کی وجہ سے مدرسہ کے کارکنوں میں جابرانہ استبداد اور ریاست کا ٹھاٹھ پیدا نہ ہو گا۔ کراچی کے بعض بڑے مدارس کے وارثین اور مفتیان سے ملنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ شاید گورنر سے ملنا اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان حضرات سے ملنے میں دقتیں پیش آئیں۔علماء حق اور صوفیاء کا شیوہ تو یہ تھا کہ وہ امراء سے کتراتے او رغرباء کے پاس خود چل کر جاتے تھے۔ اسی وجہ سے ایک بوسیدہ جھونپڑی میں بیٹھے حق گو عالم و صوفی کی حق گوئی سے قصرِ خلافت کانپتا تھا۔ لیکن آج کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

حضرت نانوتویؒ کا یہ فرمانا بھی قابل توجہ ہے کہ اس طرح کا ٹھاٹھ اور جابرانہ تعلق پیدا نہ ہو بلکہ ایک جمہوری تعلق ہو جو فریقین کو ایک دوسرے کا محتاج بنا کر رکھے اور اس طرح خود ایک دوسرے کی اصلاح ہوتی رہے۔ لیکن آج یہ احتیاج اور اصلاح یکطرفہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ یعنی مدارس عوام کی مالی امداد کے محتاج ہیں لیکن عوام ان کی طرف سے اپنی اصلاح کے نہ محتاج ہیں اور نہ اس پر آمادہ نظر آتے ہیں اور اس ساری خرابی کی اصل یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس اس زعم میں بری طرح مبتلاء ہیں کہ اصلاح کرنا صرف انہی کا حق ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل نہیں کہ اگر وہ ان میں کوئی خامی دیکھیں تو ان کی اصلاح کردیں۔چنانچہ اس عمل نے مذہبی اجارہ داری کی فکر کو ہوا دی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہوا ہے کہ آج ہمارے علماءِ مدارس کے اصلاحی احکامات مدارس تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور عوام پر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔

غرض اربابِ مدارس کو آج اس بات پر سنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے کہ آج کے مدارس اس نظریاتی دارالعلوم دیوبند سے کس قدر دور ہیں جس کی نیو حضرت نانوتویؒ نے اٹھائی تھی۔ اگر دارالعلوم کسی نظریاتی جدوجہد کا نام ہے تو آج ہمارے مدارس بانجھ کیوں ہو گئے ہیں؟ ہمیں سوچنا چاہئے کہ آج ہندوستان کی سب سے بڑی تحریک آزادی (دارالعلوم دیوبند) کے نام لیوا اسلامی نظام کے قیام میں اپناکیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ آج کتنے مدارس ایسے ہیں جو حضرت نانوتویؒ کے اس پہلے اصول پر عمل پیرا ہیں؟ یہ بات بھی سوچنے کے قابل ہے کہ ارباب مدارس دیوبند کی تاریخ، اس کے مقاصد اور ان مقاصد کے حصول کے لئے علماء دیوبند کی شاندار اور بے مثال قربانیوں کو اپنے نصاب تعلیم کا حصہ کیوں نہیں بناتے؟آخر کیا وجہ ہے کہ منطق وفلسفہ کی فرسودہ کتابیں اوراراکین وفاق المدارس کی کتب تو نصاب کا حصہ بن سکتی ہیں مگر شاہ ولی اللہ(الفوز الکبیر کے علاوہ) ،شاہ عبد العزیز،مولانا نانوتوی ،مولانا گنگوہی،شیخ الہند،مولانا مدنی اور سید محمد میاں رحمہم اللہ جیسے اکابر علماء دیوبند کی کتب کیوں نہیں پڑھائی جاتیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس کے فاضلین اپنے اکابرین کے حقیقی تعارف سے محروم ہوچکے ہیں اور یہ ایک المیہ ہے جس کی ذمہ داری ارباب مدارس اور اس سے بھی بڑھ کر وفاق المدارس پر عائد ہوتی ہے۔اگر آج ہم اس نظریاتی دیوبند کے اصول و ضوابط وحصول و مقاصد پر عمل پیرا ہیں تو اس کی عملی توجیہ ہو، بصورت دیگر ہمارے ان بانجھ اداروں کو اپنا تعلق اس عظیم نظریاتی دارالعلوم کے ساتھ جوڑنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔


حواشی

(1) محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 169،المیزان،لاہور،2005ء

(2) گیلانی، مناظر احسن، سوانح قاسمی، ج 2، ص 223،مکتبہ رحمانیہ، لاہور

(3) ماہنامہ الولی حیدر آباد،ج 14،شمارہ11،ص27،1991ء

(4) گیلانی،مناظر احسن ،احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے ایام،ص170،ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان،1997

(5) ایضاً ،ص171

(6) گیلانی، مناظر احسن، سوانح قاسمی، ج 2، ص 222-223

(7) ایضاً ،ص223

(8) سید محمد میاں،علماء ہند کا شاندار ماضی ،ج5،ص48،مکتبہ رشیدیہ ،کراچی، 1992ء

(9) ایضاً

(10) محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج2، ص 302

(11) حجتہ الاسلام الامام محمد قاسم نانوتوی: حیات۔ افکار۔ خدمات (مجموعہ مقالات)، ص 280، تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند، نئی دہلی، 2005ء

(12) ایضاً،ص281

(13) گیلانی، مناظر احسن، برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت، ج 2، ص 40

(14) مدنی،حسین احمد،مولانا،نقشِ حیات ،ج2،ص677،دارالاشاعت ،کراچی

(15) ایضاً

(16) شاہجہان پوری، شیخ الہند مولانا محمود حسن: ایک سیاسی مطالعہ، ص 211،مجلس یادگار شیخ الاسلام، کراچی، 1988ء

تعارف و تبصرہ

(جون ۲۰۱۴ء)

Flag Counter