فضلائے مدارس کے معاشی مسائل ۔ حالات، ضروریات اور ممکنہ راستے

مولانا مفتی محمد زاہد

الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین و بعد۔

میں اپنی بات کا آغاز قرآن کریم کی ایک آیت مبارکہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مبارک حدیثوں سے کروں گا۔ سورہ نوح میں آتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے، اللہ کی طرف بلاتے ہوئے ان سے کہا کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ مغفرت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان دوزخ سے بچ جائے گا اور جنت میں چلا جائے گا۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا:

اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ اِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا o یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا o وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا o

کہ اگر تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو گے تو دنیا میں تمہیں یہ یہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اور یہ بات قرآن مجید میں ایک جگہ نہیں ہے، اور جگہوں پر بھی ہمیں ملتی ہے کہ انبیاء کرامؑ نے اپنے مدعوین کو مخاطب بناتے ہوئے، اپنی قوموں کو مخاطب بناتے ہوئے ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی کہ اس چیز کا تمہیں دنیا میں کیا فائدہ ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا مقصوود ہے۔ دنیا مقصود نہیں ہے، محض ذریعہ ہے۔ اصل مقصود آخرت ہے۔ 

فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز۔

ایک مومن کا مقصودِ اصلی تو یہی ہے، لیکن بہرحال دنیوی مفاد جب انسان کے سامنے آتا ہے تو اس سے کام کی رغبت بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ کام کرنا آسان بھی ہو جاتا ہے۔ حضرت نوحؑ کا یہ خطاب تو ان لوگوں کو تھا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے اور ان کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی۔ سرور دو عالم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات کے اندر ایک اعلان فرمایا اور یہ اعلان ان لوگوں کے لیے نہیں تھا جون کی ایمان کی دعوت دی جانی تھی، بلکہ یہ وہ ہستیاں تھیں جو آنحضرتؐ پر ایمان لا چکی تھیں، ان کے ایمان کی گواہی قران مجید دے چکا تھا، اور وہ اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے میدان جہاد میں نبی اکرمؐ کے ساتھ تھے۔ ان کی کارکردگی بہتر ہو جائے، جہاد میں محنت کے لیے ان میں رغبت پیدا ہو جائے اور جس نے جو کام کیا ہے، اس کو اس کا صلہ دنیا کے اندر بھی مل جائے، اس مقصد کے لیے آنحضرتؐ نے یہ اعلان فرمایا کہ من قتل قتیلا فلہ سلبہ جو آدمی کسی کافر کو قتل کرے گا تو اس کا سلب یعنی اس کے جسم سے جو ساز و سامان اتارا گیا ہے، وہ اسی قتل کرنے والے کو ملے گا۔ 

غزوہ حنین میں حضرت ابو قتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک مشرک کو قتل کیا جو بڑا ہٹا کٹا تھا، لیکن اس کا سلب حاصل نہیں کر سکے، وہ سلب کسی اور کے پاس تھا۔ رسول اللہؐ نے جب یہ اعلان فرمایا کہ ثبوت پیش کر کے جو اس کا سلب لینا چاہتا ہے، لے لے۔ جس نے قتل کیا ہے، وہ ثبوت پیش کرے اور سلب لے جائے۔ جنہوں نے اس ہٹے کٹے مشرک کو قتل کیا تھا، وہ مشرک بڑے مسلمانوں کی جان لے چکا تھا۔ بڑا خطرناک قسم کا جنگجو تھا۔ اب اس کو قتل کرنے والے کے پاس بظاہر کوئی ثبوت نہیں تھا۔ آکر کھڑے ہوئے، آنحضرتؐ سے عرض کرنے لگے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ میرے پاس ثبوت نہیں ہے، بیٹھ گئے۔ دو تین مرتبہ ایسا ہوا، آنحضرتؐ نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس مشرک کو اس طریقے سے قتل کیا ہے اور اس کا سلب مجھے ملنا چاہیے، لیکن ثبوت اور گواہ میرے پاس نہیں ہے۔ اس پر وہ جو متعلقہ شخص تھا، خود کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قتل تو اس نے کیا ہے اور سلب میرے پاس ہے۔ لیکن آپ ایسا کریں کہ یہ ان کو دینے کی بجائے ان کو کہیں کہ وہ مجھے معاف کر دیں، ان کو راضی کروا دیں میرے بارے میں۔ رسول اللہؐ نے تو ابھی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، اس سے پہلے ہی حضرت صدیق اکبرؓ اٹھ کر کھڑے ہوگئے، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی موقع پر بات کرنی ہو تو حضرت عمرؓ اپنے جذبات کا اظہار فرماتے ہیں۔ حضرت صدیق اکبرؓ اکثر و بیشتر جگہ پر خاموش رہتے تھے۔ چند جگہیں ہیں پوری سیرت میں جہاں ہمیں حضرت صدیق اکبرؓ بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک تو حدیبیہ کے موقع پر مشرک کو پکی قسم کی گالی دی تھی جس کا ترجمہ شاید پنجابی کے علاوہ کسی زبان میں نہ ہو سکے، کیونکہ گالیوں کے بارے میں شاید افصح اللغات پنجابی ہی ہے۔ تو یہاں حضرت صدیق اکبرؓ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، ایسا نہیں ہو سکتا کہ محنت کوئی اور کرے اور اس کا صلہ کسی اور کو ملے۔ جس نے محنت کی ہے، اس کو اس کا صلہ اس دنیا کے اندر بھی ملنا چاہیے۔ آخرت میں جو اجر و ثواب ہے وہ تو پکا ہو چکا تھا۔ اور اگر ان کو سلب نہ ملتا تو ظاہر ہے ان کا اجر و ثواب کم نہیں ہونا تھا، بڑھنا تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک آدمی محنت کرے اور اس کو اس کا صلہ نہ ملے۔ 

دوسری حدیث رسول اللہؐ کا ایک ارشاد ہے، آپؐ نے اس شخص کا ذکر فرمایا جو حلال طریقے سے دنیا کماتا ہے۔ اس میں آپ نے دو صورتیں بیان فرمائیں۔ ایک تو مکاثرا مفاخرا مراتبا دکھاوے کے لیے، دوسروں پر اپنی دولت کی دھونس جمانے کے لیے حلال کما رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے کما رہا ہے تو رسول اللہؐ نے اس پر وعید بیان فرمائی۔ لیکن اس کے برعکس آپؐ نے ذکر فرمایا کہ جو شخص حلال طریقے سے کسی مقصد کے لیے مال طلب کرتا ہے۔ فرمایا سعیًا علیٰ اھلہ و تعطفًا علی جارہ تاکہ اپنے گھر والوں کی، اہل خانہ کی دیکھ بھال کر سکے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی، اپنی سوسائٹی کی مدد کر سکے، اپنے معاشرے کے لیے مددگار ثابت ہو سکے تو فرمایا کہ جب یہ شخص قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش ہوگا تو اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہوگا۔ 

اور جو آنحضرتؐ کی حدیث ہے جس میں من طلب الحلال کے الفاظ آتے ہیں تو ظاہر ہے کہ من عام ہے، اس کے عموم میں جس طرح عام آدمی داخل ہے، اسی طریقے سے اس کے عموم میں ایک عالم دین بھی داخل ہو سکتا ہے۔ تو دنیا ایک عالم کے لیے کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے۔ ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کے لیے گناہ کی چیز ہو، ناجائز ہو، حرام ہو۔ ہاں البتہ پچھلے زمانے میں ہمارے بزرگان دین یہ کہتے رہے ہیں کہ ایک عالم اپنی توجہات کا اصل مرکز اور محور دین کی خدمت کو، دین کی تدریس کو، دین میں تحقیق کو، دین میں تصنیف و تالیف کو بنائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ایک ضرورت ہے۔ جیسے حضرت فرما رہے تھے کہ ایک طبقہ ایسا موجود ہو جس کا کام صرف اور صرف دین کی خدمت ہو اور اس کے بدلے میں مسلمان معاشرہ اس کی کفالت کرے۔ 

حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے اپنی وصیتوں میں ایک بات لکھی ہے۔ بصائر میں یہ بات ہے، امداد الفتاویٰ میں بھی غالبًا ہے اور کچھ نہ کچھ اشرف السوانح میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ حضرت تھانویؒ کے ملفوظات میں بھی یہ بات بکثرت ملتی ہے کہ ایک عالم کی نظریں محض لوگوں پر نہیں رہنی چاہئیں بلکہ مستقل کوئی ذریعہ معاش بھی ہونا چاہیے تاکہ وہ استغناء کے ساتھ دین کی خدمت سر انجام دے سکے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک وضاحت میں یہ بھی کر دوں کہ حضرت کا مقصد کیا ہے۔ حضرت تھانویؒ نے جہاں یہ بات لکھی ہے، وہیں بہت سارے پیشوں کی فہرست بھی ذکر کی ہے کہ مثلاً یہ یہ پیشے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک جگہ پر ایک فہرست ان حضرات کی بھی دی ہے جو علماء کو فی سبیل اللہ یہ ہنر سکھانے کے لیے تیار ہوں، اور اگر کوئی سیکھنا چاہے تو ان سے سیکھ سکے۔ مثلاً طبابت کا پیشہ ہے۔ اس زمانے میں طب کا کام جو ہماری مقامی طب ہے، اس کا کام بہت زیادہ چلتا تھا، اب اگرچہ اتنا زیادہ نہیں رہا۔ جلد سازی ہے، خطاطی ہے، اور دیگر پیشے ہیں۔ وہیں حضرت تھانویؒ نے دینی مدارس کی تدریس وغیرہ، یہ جو ملازمت ہوتی ہے جس کے اندر انسان معاوضہ لیتا ہے، تنخواہ لیتا ہے، اور اس کے بدلے میں دین کی خدمات سر انجام دیتا ہے، اس کو بھی انہوں نے اس فہرست کے اندر شامل فرمایا ہے۔ اس لیے کہ ایک آدمی اگر اپنی زندگی کو دین کے کاموں کے لیے وقف کر دیتا ہے اور اس کے بدلے میں تنخواہ لیتا ہے اور اس پر اپنا گزر اوقات کرتا ہے تو یہ بھی حضرت تھانویؒ کی اس نصیحت یا اس وصیت کے منافی نہیں ہے، یہ بھی اسی کے اندر داخل ہے۔ 

آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کا اپنا اچھا خاصا بزنس تھا، کپڑے کا کاروبار تھا۔ جب وہ خلیفہ بنے تو فرمایا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ میرا جو پیشہ تھا، وہ میرے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے کافی تھا، کوئی کمی مجھے نہیں تھی۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ شغلت بامر المسلمین مسلمانوں کے معاملے میں مجھے مشغول کر دیا گیا ہے۔ اب اگر میں اپنے کاروبار کی طرف توجہ کروں گا تو خلافت کے امور کی طرف سے میری توجہ کم ہوگی۔ اس لیے یہ فرمایا فسیاکل اھل ابی بکر من ھذا المال و یحترف للمسلمین ۔۔۔ ابوبکر کے گھرانے کی معاشی ضرورتیں بیت المال سے پوری ہوں گی اور اس کے بدلے میں ابوبکر اپنا کام کرنے کی بجائے مسلمانوں کا کام کرے گا۔ اس سے ایک اصول یہ سمجھ میں آیا کہ جب کوئی شخص کسی اور کے کام کے لیے اپنی زندگی کو یا اپنے اوقاف کو وقف کر دیتا ہے تو جس کا وہ کام ہے، اس کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اس کی کفالت کرے اور اچھے طریقے سے اس کا خرچہ اٹھائے۔ دین کی حفاظت، دین کی تدریس، دین کی تعلیم، دین میں تحقیق، دین کی اشاعت، یہ کام بنیادی طور پر زید عمر و بکر کا نہیں ہے، کسی مولانا صاحب کا یہ کام نہیں ہے بلکہ یہ ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پوری امت مسلمہ پر عائد کی گئی ہے۔ پوری مسلمان سوسائٹی کے ذمے ہے، معاشرے کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ دین کی خدمت کرے۔ تو جو آدمی دین کا کام کر رہا ہے، وہ در حقیقت اپنا کام نہیں کر رہا بلکہ وہ سارے مسلمانوں کا کام کر رہا ہے۔ چونکہ اس نے سارے مسلمانوں کے کام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیا ہے، اس لیے اس کا خرچہ، اس کی کفالت بھی مسلمانوں کے ذمے ہے۔ 

یہاں میں یہ بات عرض کر دوں کہ دینی خدمات پر جو ہمارے ہاں تنخواہ کا تصور ہے، اس پر خاصی لمبی چوڑی فقہاء کی بحث ہے۔ لیکن ایک نکتے کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، غالباً حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے ہی کہیں فرمایا ہے کہ یہ جو تنخواہ ہوتی ہے یہ در حقیقت اس کام کا معاوضہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نفقہ ہے۔ جس طرح بیوی اپنے اوقات کو خاوند کے لیے محبوس کر دیتی ہے تو بیوی کا نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے، اسی طرح سے اس عالم دین نے، اس امام نے، اس خطیب نے، اس موذن نے یا جو بھی کوئی اس طرح کی خدمت سر انجام دے رہا ہے، اس نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے کام کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے ذمے اس کا نفقہ ہے۔ جس طرح انتظامی امور سر انجام دینے والا ایک ڈی سی او ہے کسی اور شعبے میں ہے تو ظاہر ہے وہ اپنا کام نہیں کر رہا، وہ ساری سوسائٹی کا کام کر رہا ہے، تو اس کی مناسب کفالت بھی ساری سوسائٹی سے لیے گئے جو ٹیکسز ہوتے ہیں، ان کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی در حقیقت معاوضہ نہیں ہوتا بلکہ نفقہ ہوتا ہے۔ اور نفقے کا جو اصول ہے، وہ قرآن نے بیان کیا ہے، اس کو معروف کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ اور یہ کہا ہے: علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ کہ جس کے ذمہ میں نفقہ ہے، اس کی اپنی مالی حالت دیکھی جائے گی۔ ایک غریب ملک کے اندر یا غریب گاؤں کے اندر یا ایک غریب محلے کے اندر اگر کوئی شخص دینی خدمات انجام دے رہا ہے تو جس طرح کی زندگی ان کی ہے، اسی معیار کی زندگی اس امام کو دینا، عالم کو دینا، یہ اس محلے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ایک عالم یا ایک خطیب یا ایک امام یا ایک استاد کسی اچھے شہر میں، بڑے شہر میں، کھاتے پیتے علاقے میں دینی خدمات سر انجام دے رہا ہے تو جو وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی ہے، یہ ان لوگوں کا فرض ہے۔ ان پر فرض عائد ہوتا ہے، ان کی ذمہ داری ہے، یہ مولوی پر احسان نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ جو ان کا اپنا معیار زندگی ہے، تقریباً وہی اپنے علاقے میں کام کرنے والے عالم دین کو بھی مہیا کریں۔ 

یہ بات میں نے ابتداء میں اس لیے عرض کی کہ ایک زمانہ تھا کہ دینی مدارس میں پڑھنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی تھی، اور جتنے فارغ ہوتے تھے، تقریباً وہ سارے کے سارے مدارس اور مساجد میں ہی کھپ جاتے تھے۔ بلکہ ڈیمانڈ زیادہ ہوتی تھی اور رسد کم ہوتی تھی، سپلائی کم ہوتی تھی۔ فارغ التحصیل ہونے والے تھوڑے ہوتے تھے، مدارس اور مساجد میں ضرورت زیادہ کی ہوتی تھی۔ اس زمانے میں جو اساتذہ ہوتے تھے، سارے آسانی سے کھپ جاتے تھے۔ وہ مشورہ بھی یہی دیتے تھے کہ چونکہ تعداد محدود ہے اس لیے اگر یہ بھی کسی اور طرف نکل گئے تو پھر مدارس بے آباد ہو جائیں گے، مساجد ویران ہو جائیں گی۔ اس لیے یہ مشورہ دیتے تھے کہ ہمارے فضلاء کو اسی لائن میں رہنا چاہیے، کسی اور لائن میں نہیں جانا چاہیے۔ لیکن ۱۹۸۲ء کے بعد جب دینی مدارس کی اور وفاقوں کی سند کو اس وقت کی حکومت نے باقاعدہ ایم اے کے برابر قرار دیا تو بات وہی تھی جو حضرت نوح علیہ السلام نے دنیا کو لالچ دیا تھا۔ بہرحال یہ عاجلہ ہے اور آخرت آجلہ ہے، یہ نقد ہے وہ ادھار ہے۔ انسان کی قریب کی نظر زیادہ کام کرتی ہے، دور کی نظر کم کام کرتی ہے۔ اس لیے جب دنیا کا فائدہ بھی نظر آتا ہے، دین کا ایسا کام جس میں دنیا کا فائدہ بھی نظر آرہا ہو، انسان اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ 

پہلے لوگ مدارس میں اپنے بچوں کو کم بھیجتے تھے، لیکن جب یہ دیکھا کہ گورنمنٹ بھی اس کی سند کو تسلیم کرتی ہے، ملازمت ملنے کے بھی امکانات ہیں تو لوگوں نے زیادہ تعداد میں اپنے بچوں کو مدارس کی طرف بھیجنا شروع کیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابھی تک وہ سلسلہ چل رہا ہے، اگرچہ اس میں کچھ پچھلے پانچ سات سال میں تھوڑی سی کمی آئی ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے، یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن بحیثیت مجموعی وہ سلسلہ بہرحال چل رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس میں فضلاء کی تعداد مدارس اور مساجد کی ضروریات سے زیادہ ہوگئی ۔ ایک زمانہ وہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ مدارس کے فاضل کے لیے بے روزگاری کوئی مسئلہ نہیں ہے، کوئی نہ کوئی روزگار اسے مل ہی جاتا ہے۔ لیکن اب صورتحال بہت ہی مختلف ہو چکی ہے۔ بڑی تعداد میں دینی مدارس کے فضلاء ایسے ہوتے ہیں جو فون کرتے ہیں، کسی سے رابطہ کرتے ہیں، کوئی کسی سے رابطہ کرتا ہے کہ میں فارغ ہو چکا ہوں، کوئی جگہ ہو چھوٹی موٹی پڑھانے کی، کوئی بھی کام مل جائے، میں کرنے کو تیار ہوں۔ اور اس کی وجہ وہی ہے کہ رسد بڑھ گئی ہے اور ضرورت اس کے مقابلے میں اتنی زیادہ نہیں بڑھی۔ یہ ایک صورتحال پچھلے پچیس تیس سال میں ہمارے ہاں پیدا ہوگئی ہے۔ 

یہ صورتحال جہاں ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، وہیں ہمارے لیے ایک شاندار موقع بھی ہے۔ پہلے تو ہم اس پر مجبور تھے کہ اپنے پڑھے ہوئے لوگوں کو اپنے ہی اداروں میں رکھنے پر آمادہ کریں، لیکن اب ہمارے لیے یہ موقع آگیا ہے کہ ہم اپنی ضرورت بھی پوری کریں اور اپنا مال، اپنی پراڈکٹس ایکسپورٹ بھی کریں۔ دوسرے محکموں کے اندر، دوسری جگہوں پر ہم بھیجیں۔ وہاں جب جائیں گے تو جس نے دین پڑھا ہوگا تو ظاہر ہے دین کا کچھ نہ کچھ رنگ وہ وہاں چھوڑے گا۔ فضلاء کی تعداد جو بڑھ گئی ہے، ایک چیلنج کی بجائے ہمیں ایک اچھا موقع سمجھنا چاہیے۔ اور موقع کے نقطہ نظر سے ہم دیکھیں گے تو اس موقع سے ہم فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں کہ ہم اپنی منتجات اور اپنی پیداوار کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اچھی ایکسپورٹ پالیسی وہ ہوتی ہے جس میں مقامی ضرورتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ آپ کے ہاں اگر آلو کی پیداوار زیادہ ہو رہی ہے تو اگر آپ سارا آلو اٹھا کر بھارت بھیج دیں گے تو ظاہر ہے کہ آپ کے ہاں کھانے کو کچھ نہیں ملے گا۔ تو آپ یہ دیکھیں گے کہ ہمیں کتنی ضرورت ،ہے کس قسم کی ضرورت ہے، اچھا خود رکھیں گے اور جو ضرورت سے زائد ہے، وہ آپ باہر بھیجیں گے۔ یہی طریقہ ہم یہاں اختیار کر سکتے ہیں۔ 

ایک ہماری اپنی ضرورت ہے کہ ایک طبقہ ایسا ہونا چاہیے جس کا کام صرف دین کی تعلیم، تدریس، دین میں تحقیق، دین کی روشنی میں نئے مسائل کا حل پیش کرنا، دین کی دعوت دینا، اس نوعیت کا کام ہو۔ یہ کام جز وقتی نہیں ہے، یہ کام وقت بھی پورا مانگتا ہے، توجہ بھی پوری مانگتا ہے۔ خاص طور پر علم دین سے منسلک جتنے کام ہیں، چاہے وہ تدریس کا ہو، تحقیق کا ہو، اس نوعیت کے جتنے کام ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، ہر وقت اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی مسئلہ گھوم رہا ہو، گردش کر رہا ہو۔ کہتے ہیں کہ حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ کے گھر میں شاید بیٹی کی یا کسی اور کی شادی تھی۔ گھر والے پوچھ رہے ہیں کہ کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا، یہ ہو جائے یا نہ ہو۔ تو فرمایا، اگر یہ فتح الباری میں کہیں لکھا ہے پھر تو میں بتا دیتا ہوں۔ نہیں تو تم جانو اور تمہارا کام جانے۔ آدمی اس طرح بنتا ہے اور ہر زمانے میں ادریس کاندھلوی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جو سوال ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے مان لیا کہ ادریس کاندھلوی کی ضرورت ہے، لیکن آج اگر کوئی ادریس کاندھلوی بنتا ہے تو ہمارے مدارس، ہمارا نظام اہتمام اور ہماری سوسائٹی یا ہماری مساجد کے منتظمین اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، کیا برتاؤ کرتے ہیں اور اس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک پورا کرتے ہیں؟

دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے حضرات کے حوالے سے ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کو دین کے لیے وقف کر دیا ہے اور ان کی تعداد محدود ہوگی، ان کی کفالت پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس طریقے سے ضرورت پوری نہیں ہو پا رہی۔ (جو اس ضرورت سے زائد ہوں گے، ان کو ظاہر ہے کہیں اور کھپانا پڑے گا۔ اس کی طرف میں بعد میں آتا ہوں۔) جس شخص کو کسی وجہ سے معاشرے میں اپنا نام بنانے کا موقع مل جائے، وہ کوئی اچھا لیڈر بن جائے یا وہ پیری فقیری کا راستہ اختیار کر لے، اس کی معاشی زندگی چل جاتی ہے، لیکن جو شخص خالص علمی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے، اس کے بارے میں ہمارے مدارس کے منتظمین ہوں، مساجد کے منتظمین ہوں، یا بحیثیت مجموعی ہماری سوسائٹی ہو، خاص طور پر دیندار لوگ جو کاروباروں میں موجود ہیں، وہ اپنی ذمہ داری کا کس حد تک احساس کرتے ہیں؟

پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ ایک مدرس خاص طور پر، یا علمی کاموں کے ساتھ جڑا ہوا آدمی، اس کے معاشی مسائل ہوتے کیا ہیں؟ میں نے اس کی ایک مختصر سی فہرست بنائی اور یہ اس کی بہت بنیادی ضرورتیں یا بہت ہی جائز قسم کی خواہشات ہیں۔ اس میں کوئی تعیش کا پہلو نہیں ہے اور اس سے تھوڑا سا یہ بھی اندازہ ہوگا کہ جو آدمی اپنے آپ کو دین کے علم کے لیے وقف کرتا ہے تو وہ کتنی بڑی قربانی دے رہا ہوتا ہے اور اپنی کتنی بڑی ضرورتوں کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔ ایک تو اس کی اپنی روز مرہ کی ضرورتیں ہیں، اس کی بیوی کی ضرورتیں بھی ہیں، اس کو مناسب رہائش مل جائے، اچھی رہائش مل جائے جو آرام دہ ہو، پر سکون ہو، پر تعیش نہ ہو، لیکن آرام دہ ہو۔ ظاہر ہے، ہم جانتے ہیں کن چیزوں میں گزارہ ہوتا ہے۔ رہائش بقدر ضرورت، کھانے پینے کا جو نظام ہوتا ہے، وہ بھی گزارے پر ہی چل رہا ہوتا ہے۔ 

دوسرا مسئلہ ہوتا ہے خاندانی اور سماجی تعلقات کا۔ ظاہر ہے کہ ہر آدمی کا خاندان ہے، اس کے روابط ہیں، تعلقات ہیں، اس کو جاننے والے لوگ ہیں، شادی بیاہ وغیرہ کے موقع پر لین دین کا معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی سماجی زندگی تبھی چلتی ہے۔ لیکن ایک عالم کی جب ہم ضروریات مرتب کر رہے ہوتے ہیں تو شاید اس چیز کو ہم اس کی ضرورتوں میں شامل نہیں کرتے۔ ہمارے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ اگر خاندان میں کوئی ایسی شادی ہو رہی ہے جس میں وہ سمجھتے تھے کہ عین تقریب میں میرا جانا مناسب نہیں ہے، کوئی ایسی چیزیں (خلاف شریعت) وہاں پر ہوں گی، تو بالکل نہ جانے والی بات نہیں کرتے تھے، بلکہ ایک دن پہلے چلے جاتے تھے اور جو دینا دلانا ہوتا تھا، وہ کر کے آجاتے تھے اور مصروفیت کا عذر کر لیتے تھے کہ میں اس وجہ سے کل نہیں آسکوں گا، اس لیے آج آگیا ہوں۔ اور کہتے تھے کہ میں یہ اس لیے کرتا ہوں کہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ مولوی صاحب نے شریعت کا بہانہ بنالیا ہے، اور در اصل مولوی صاحب کچھ دینا نہیں چاہتے، اور سمجھتے ہیں کہ میں شریک ہوا تو مجھے کچھ دینا پڑے گا۔ لیکن یہ وہی کر سکے گا جس کے پاس کچھ ہوگا۔ ہر مولوی تو ظاہر ہے ایسا نہیں کر سکتا۔ تو یہ بھی انسان کی ضرورت ہے۔ 

اس کے علاوہ بچوں کی کچھ سالانہ ضرورتیں ہوتی ہیں، بچے عید کے موقع پر جوتوں کا، کپڑوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم جو تنخواہ دے رہے ہوتے ہیں، اس سے تو مہینہ بھی نہیں گزرتا۔ ہم نے کبھی ایک عالم کی ضروریات مرتب کرتے ہوئے اس چیز کو مدنظر نہیں رکھا ہوتا۔ اس کے بچوں کے مسائل ہوتے ہیں، وہ بچوں کو اگر اچھی تعلیم دلانا چاہتا ہے، کسی بھی شعبے میں تعلیم دلانا چاہتا ہے تو اس کے پاس اس کی جیب میں اتنی گنجائش ہونی چاہیے۔ یعنی وہ اگر مدرسے میں ہی اپنے بچوں کو لگا رہا ہے تو وہ جبر نہ ہو بلکہ اس کا اپنا اختیار ہو۔ ہمارے ہاں تو صورتحال یہ ہے کہ چونکہ سکول بھیجنے یا فلاں جگہ بھیجنے کی اس کے اندر سکت نہیں ہے، اس لیے وہ بھی اپنے بچوں کو اسی مدرسے میں پڑھانے پر مجبور ہے۔ جب اس مدرسے سے فارغ ہو جائیں گے تو پھر مہتمم صاحب کی مرضی کہ وہ اس کو وہاں پر رکھیں یا نہ رکھیں۔ ظاہر ہے کہ گنجائش کی بھی بات ہوگی۔ تو بچوں کی مناسب تعلیم، بچوں کی صحت، بچوں کی پرورش، یہ ساری چیزیں ضروریات ہیں۔ 

ایک مدرس جب پینتالیس پچاس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے تو اس کے ساتھ کچھ اور بھی مسائل آجاتے ہیں۔ کچھ تو اس کی صحت کے مسائل ہیں، کسی کو بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہوگیا، کسی کو شوگر، کسی کو کوئی اور مسئلہ۔ یہ عوارض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مسلسل اچھے ڈاکٹر سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، مسلسل علاج معالجے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے ماہانہ اخراجات کافی بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کسی عالم کی ضروریات کو مرتب کرتے ہوئے اور ان کا جائزہ لیتے ہوئے اس پہلو کو شاذ و نادر ہی کسی نے دیکھا ہوگا کہ یہ عالم ہیں، یہ مدرس ہیں، اتنے سال سے یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں تو ان کو چالیس یونٹس انسولین صبح لگ رہی ہے، چالیس یونٹس شام کو لگ رہی ہے۔ یہ ضرورت کہاں سے پوری ہوگی!

اسی طریقے سے ایک اور مسئلہ جو اس عمر میں ہوتا ہے کہ بچے اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری نبھائی جائے۔ انسان کی زندگی میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کا بڑا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ بھی اس کی ضروریات میں داخل ہے۔ اس کی اتنی بچ نہیں ہوتی، زندگی بھر کی اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ آسانی سے یہ ذمہ داریاں ادا کر سکے۔ 

اب تک جو ضروریات میں نے ذکر کی ہیں، ان میں سے کسی کو بھی آپ تعیش میں شامل نہیں کر سکتے، یہ بہت بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اس کے بعد پھر مرحلہ آتا ہے ایک عالم دین کے لیے بڑھاپے کا۔ بڑھاپے میں ظاہر ہے کہ انسان کے اپنے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ علماء ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بچے اس عمر تک پہنچنے تک اتنے خوش حال ہو چکے ہوتے ہیں، کسی نہ کسی جگہ اپنے آپ کو اچھی پوزیشن میں لا چکے ہوتے ہیں کہ واپنے والدین کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔ اور والدین کو بھی احساس ہوتا ہے کہ مسجد کے صدر صاحب یا مدرسے کے مہتمم صاحب سے کسی قدر ہم آزاد ہو رہے ہیں، لیکن ایسے بہت کم ہوتے ہیں۔ اپنے بڑھاپے کے مسائل اور پھر اس عمر کو پہنچ کر انسان کو ایک اور احساس ہوتا ہے کہ میں تو جا رہا ہوں۔ چلو میری تو جیسی تیسی کفالت کرنے والوں نے کر دی، مدرسے نے تنخواہ دے دی، مسجد نے تنخواہ دے دی، کم از کم اپنے بچوں کے لیے سر چھپانے کی کوئی جگہ چھوڑ جاؤں۔ میں نے تو کرایے کے یا مدرسے کے چھوٹے سے مکان میں، ایک چھوٹے سے ڈربے کے اندر زندگی گزار دی، یہ ڈربہ بھی اللہ کی نعمت ہوتا ہے۔ لیکن میرے بچے کیا کریں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ انسان کی فطری چیز ہے، اس کو بھی آپ تعیش میں داخل نہیں کر سکتے۔ لیکن کبھی ہم نے نہیں سوچا کہ جس عالم دین نے اپنی پوری زندگی، جوانی سے بڑھاپے تک اس کام کے اندر لگا دی، پگھلا لی، اس کی یہ جائز ضرورت اور خواہش بھی پوری ہونی چاہیے۔ ہم اس کو خراج تحسین پیش کردیں گے، اس کے انتقال کے بعد ان کی منقبت میں ایک شاندار جلسہ منعقد کردیں گے، ان کے حالات زندگی پر کسی شمارے کا کوئی خاص نمبر شائع کر دیں گے، یہ سب کچھ ہم کر لیں گے لیکن جس نے سارے مسلمانوں کا کام کیا ہے، اپنا ذاتی کام نہیں کیا، بحیثیت مسلمان معاشرہ کے ہم نے اس کی کفالت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا کس حد تک احساس کیا ہے؟ 

یہ ایک سوال ہے جو صرف مدارس کے منتظمین سے ہی نہیں بلکہ مساجد کے منتظمین سے بھی ہے۔ 

اب اس طرف آتے ہیں کہ اس کا عملی حل کیا ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کو اس کام کے لیے وقف کیا ہے، وہ فارغ البالی کی زندگی گزار سکیں، اور اطمینان کے ساتھ وہ اپنی تمام توجہات اپنے کام پر صرف کر سکیں۔ اس کے لیے بنیادی طور پر دو کام کرنے کے ہیں۔ ایک تو وہی جو دنیا میں فطری اصول ہے طلب اور رسد کا۔ اس کو ہم مد نظر رکھیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک شعبے میں تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی، ضرورت سے زیادہ ہو جائے گی تو پہلے سے جو لوگ موجود ہیں، ان کی حق تلفی بھی ہوگی، ان کی قیمت بھی گر جائے گی۔ جس چیز کی بھی رسد بڑھتی ہے، سپلائی بڑھ جاتی ہے، تعداد بڑھ جاتی ہے، اس کی پھر قیمت کم ہو جاتی ہے، اس کی ویلیو کم ہو جاتی ہے۔ اس کا طریقہ کیا ہے؟ طلب اور رسد کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ اتنی تعداد میں علماء ہم نے بنانے ہیں، اس سے زائد کسی کو ہم نے مدارس میں داخلہ نہیں دینا۔ ظاہر ہے کہ یہ مناسب بھی نہیں ہے اور شاید عملاً ممکن بھی نہیں ہے۔ جو دین سیکھنے کے لیے آرہا ہے تو ہم کیوں مناع للخیر بنیں، بھلائی کے کام سے دین کے علم سے کیوں روکیں؟ یہ تو ظاہر ہے کہ حل نہیں ہے۔ دوسرا متبادل یہ ہے کہ جو ضرورت سے زائد تعداد ہے، اس کو ہم ڈائیورٹ کریں، کسی اور طرف اس کا رخ کریں۔ خاص طور پر وہ جو اتنی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ بہت اعلیٰ قسم کی تدریس، بہت اعلیٰ قسم کی تحقیق، اور بہت اعلیٰ قسم کا دین کا کام کر سکیں، ان کو اگر ہم دوسری طرف کر دیں اور اِدھر تعداد مناسب بچ جائے تو پھر ان کی کفالت کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، وگرنہ یہ کام مشکل ہے۔ تو ایک کرنے کا کام یہ ہے۔ 

دوسرا جو کرنے کا کام ہے، وہ ہر سطح پر اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کا ہے کہ اس نوعیت کے جو اہل علم ہوتے ہیں، ان کو محض خراج تحسین پیش کرنے سے معاشرے کی ذمہ داری ادا نہیں ہو جاتی۔ ابھی صبح ایک عالم دین بتا رہے تھے کہ ہمارے استاد یہ کہا کرتے تھے کہ جو کچھ تم پڑھ رہے ہو، اس سے صرف تمہیں جزاک اللہ، ما شاء اللہ ہی ملے گا۔ اور یہ فرماتے تھے کہ جزاک اللہ کسی ہانڈی میں نہیں پکتا، اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔ ہمارے ہاں ہم نے خود شاید ایک تاثر پیدا کیا ہے کہ ایک عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ فقر و فاقے کی اور بھوک و افلاس کی زندگی گزارے۔ اس سے ہٹے گا تو وہ معیوب ہوگا۔ ایک عالم اچھا کپڑا پہن لے اس پر اعتراض ہوتا ہے، چاہے اپنے آباؤ اجداد کی کمائی سے ہی پہنے۔ کوئی اچھی گاڑی لے لے، اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ یہ جامعہ امدادیہ ابھی نیا نیا بنا تھا۔ ہمارے والد صاحبؒ اس سے پہلے مفتی زین العابدینؒ کے مدرسہ، دارالعلوم فیصل آباد میں ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو آخر عمر میں اچھی بلکہ بہت خوشحال زندگی عطا فرما دی تھی، لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں مجاہدے کی زندگی بھی گزاری ہے ۔یہ چیز لوگوں کو بہت کم نظر آتی ہے۔ لیکن بہرحال ان کا آخری دور بڑا خوشحالی اور فراخی کا گزرا۔ تو وہ مسجد میں جہاں اعتکاف کے لیے بیٹھتے تھے، وہاں ایک کیبن سا بنا کر انہوں نے ایئر کنڈیشنر لگایا ہوا تھا۔ یہ ۱۹۸۳ء کی بات ہے، اس زمانے میں ایئر کنڈیشن اتنا عام نہیں تھا۔ بظاہر یہی ہے کہ وہ اس کی بجلی کے اخراجات اپنی جیب سے ہی ادا کرتے ہوں گے۔ والد صاحب کے سامنے ایک شخص نے کسی حوالے سے اس پر اعتراض کیا تو والد صاحبؒ نے فرمایا کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ بات نہیں ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ذہن بن گیا ہے کہ ہم لوگ کسی مولوی کو خوشحال نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ فقر و افلاس کی زندگی گزارے۔ 

جو ہماری ذمہ داری تھی کہ ایک عالم کو اچھی حالت میں رکھیں، نفقہ کی جو ہماری ذمہ داری تھی، اس کو الٹا کر کے اس پر ڈال دیا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم تم کو کھلائیں بلکہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم بھوکے رہو۔ ہمارے ایک بہت اچھے دوست تھے، اچھی زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ اچھی گاڑی، اچھا رہنا، اچھا کھانا، اچھا پینا۔ عالم تھے اور ایک مسجد میں ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ ظاہر ہے جو بھی مسجد میں ذمہ داری ادا کر رہا ہوتا ہے، اس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ تھوڑا بہت کاروبار بھی کر سکے۔ بہت اچھی زندگی گزارتے تھے اور اردگرد کے جو لوگ تھے کھاتے پیتے لوگ تھے، ان کے برابر کی سطح پر بیٹھتے تھے۔ یہ عالم صاحب ان سے کھانے والے نہیں تھے بلکہ ان کو کھلانے والے تھے۔ تو ایک بڑے پڑے لکھے آدمی جو کچھ عرصہ جج بھی رہے، وہ کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ قاری صاحب سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ قاری صاحب! آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ کاروبار کریں۔ 

اس طرح کی ایک مثال حضرت مولانا شریف کشمیریؒ صاحب کی بھی ہے جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھایا بھی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد زیادہ عرصہ ان کا ملتان میں گزرا۔ ہمارے والد صاحب کے شاگرد تھے۔ ابتداء میں یہ پلندری میں تشریف لائے، جہاں ایک بڑا مشہور دارالعلوم ہے۔ وہاں کچھ عرصہ انہوں نے پڑھایا۔ حالات میں کچھ تنگی پیش آئی، کچھ مشکلات پیش آئیں۔ کئی مہینے گزر گئے، تنخواہ نہیں مل رہی۔ اہل حل و عقد کا ایک اجلاس ہوا، اس میں کشمیری صاحب بھی تشریف فرما ہیں اور اس میں یہی بات چل پڑی کہ دین کا کام تو ایسے ہی ہوتا ہے، قربانیاں دینی پڑتی ہیں، فلاں نے بھی قربانی دی، فلاں نے یہ قربانی دی وغیرہ۔ حضرت مولانا شریف کشمیریؒ کا مزاج بڑا مزاح والا تھا، ان کا درس بھی اسی انداز کا ہوتا تھا۔ ہمارے والد صاحب کا طریقہ تدریس یہ تھا کہ جس کی بات کرتے تھے، اس کی پوری نقل اتارتے تھے اور وہ ایک خاص انداز تھا۔ در حقیقت انہوں نے یہ مولانا شریف کشمیریؒ سے لیا تھا۔ ان کا یہ انداز بڑا مزاحیہ تھا۔ تو سب کی باتیں سن کر وہ فرمانے لگے کہ آپ کو صرف بھوکے ننگے بزرگ ہی یاد آئے ہیں۔ تاریخ میں کوئی کھاتا پیتا بزرگ نہیں گزرا؟ اس کا نام تمہیں نہیں آتا؟ ہماری تاریخ میں خواجہ عبید اللہ احرارؒ بھی تو گزرے ہیں، اس طرح کے لوگ بھی گزرے ہیں، ان کا نام تمہیں نہیں آتا؟ اگر ذکر کروں تو اس طرح کے اور بھی ذہن میں نام آرہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے معاشرے کا خود ذہن بنایا ہے یا ان کا ذہن بن گیا ہے۔ جب تک ہم اسے تبدیل نہیں کریں گے، یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔

آپ کسی صنعت کار کے پاس جائیں، کسی تاجر کے پاس جائیں کہ ہمیں اپنے طلباء میں تقسیم کرنے کے لیے اتنے ہزار مصحف چاہئیں، اس پر اتنے پیسے لگیں گے۔ وہ اس کو ثواب کا کام سمجھ کر فوری طور پر آپ کو چیک کاٹ کر دے دے گا۔ لیکن اگر آپ اسی تاجر، اسی صنعت کار کے پاس جائیں کہ ہم اپنے مدرسین کی خوشحالی کے لیے،، بہتری کے لیے کوئی پروگرام کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اتنے پیسے چاہئیں۔ وہ آپ کو نہیں دے گا، کیونکہ وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس کام پر تو ثواب ملے گا، لیکن اِس کام پر ثواب نہیں ملے گا۔ حالانکہ یہ ثواب ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا فرض ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ یہ نفقہ ہے اور نفقہ سب مسلمانوں کے ذمہ میں فرض ہے۔ جس نے اپنے آپ کو علم دین کے لیے وقف کیا ہے، اس کے اخراجات کو اٹھانا، یہ فرض کفایہ ہے۔ اور جو میں نے فہرست ذکر کی ہے جس میں کوئی بھی تعیش نہیں ہے، کم از کم ان حوالوں سے اسے فارغ البال کرنا فرض کفایہ ہے۔ فرض کفایہ اسے کہتے ہیں کہ افراد پر تو عائد نہیں ہوتا لیکن بحیثیت معاشرہ پورے معاشرے کی طرف جو فرض متوجہ ہو، وہ فرض کفایہ ہے۔ ہم نے اس فرض کفایہ کا احساس لوگوں کے اندر پیدا نہیں کیا۔ یہ ہماری ایک کوتاہی ہے۔ اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کی اور لوگوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری ضرورت سے جو زائد فضلاء ہیں، وہ ظاہر ہے مسجدوں، مدرسوں میں کبھی کھپ نہیں سکیں گے، ان کے لیے متبادل راستہ کیا ہو؟ تو بہت سارے راستے ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم جو ان کے لیے راستہ ہے، جو ان کی سند کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے، وہ تو یہی ہے کہ کسی جگہ ملازم بن جائے۔ مثلاً سرکاری ملازمت یا پرائیویٹ اداروں میں ملازمت۔ اس کے لیے ہمیں ابتداء ہی سے اپنے نظام تعلیم میں اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے، اس کو چھوڑ کر جتنا ہم کر سکتے ہیں، اس کے اعتبار سے اپنے بچوں کو ابتداء ہی سے اس کے لیے تیار کریں، تاکہ ان کے لیے شروع ہی سے راستے کھل جائیں۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ مدرسے سے باہر ملازمتوں کے لیے کاغذ کے ٹکڑے چلتے ہیں، سرٹیفکیٹ چلتے ہیں۔ آپ کے پاس میٹرک کی سند ہے یا نہیں، ایف اے ہے یا نہیں، بی اے ہے یا نہیں، آپ کے پاس فلاں سند ہے یا نہیں۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے چلتے ہیں۔ تو اگر تھوڑی سی محنت کر کے یہ کاغذ کے ٹکڑے حاصل کر لیں تو یہ لوگ بہتر جگہ پر پہنچ جائیں گے اور آپ کے مدرسے کا فارغ التحصیل جب بہتر جگہ پر موجود ہوگا اور کوئی بھی فارغ التحصیل بے روزگار نظر نہیں آئے گا تو لوگوں کے اندر رغبت پیدا ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو مدارس کی طرف بھیجیں۔ وگرنہ لوگ اگر مدرسوں سے فارغ ہو کر نکلنے والے بکثرت طلباء کو فارغ دیکھیں گے تو مدرسوں کی طرف تعداد کا جو رخ ہے، وہ کم ہو سکتا ہے، اللہ ہمیں ایسے وقت سے بچائے۔ 

ایک تو تعلیم میں اس چیز کو ہم شامل کریں اور مجھے توقع ہے کہ الشریعہ اکادمی نے جو یہ پہلا قدم اٹھایا ہے، اس حوالے سے یہ قدم اٹھاتی چلی جائے گی کہ ملازمت کے حوالے سے ہم اپنے فضلاء کو کیا راہ نمائی فراہم کر سکتے ہیں اور کن کن راستوں پر ہم انہیں ڈال سکتے ہیں۔ ایک تو مساجد و مدارس کا کام ہے، اصل کام تو ظاہر ہے علماء کا یہی ہے۔ لیکن ہمارے پاس ان کاموں کے لیے ضرورت سے زیادہ تعداد موجود ہے، اس لیے ہمیں دوسری طرف بھی رخ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے چند باتیں میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کر کے اجازت چاہوں گا۔ میں بہت ہی اختصار کے ساتھ جو اصل روزگار اور متبادل روزگار ہیں، ان کا ذکر کر رہا ہوں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے، جو صبح کی مجلس میں بھی کئی حضرات نے کہی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہماری جو وفاقوں کی سند ہے، وہ در حقیقت ایم اے نہیں بلکہ مساوی ایم اے ہے اور دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایم اے کی سند کے پیچھے کوئی نہ کوئی قانون کھڑا ہوتا ہے، مثال کے طور پر کسی بورڈ نے آپ کو میٹرک یا ایف کی سند دی ہے یا کسی یونیورسٹی نے ایم اے کی ڈگری دی ہے تو وہ بورڈ کسی قانون کے تحت وجود میں آیا ہوتا ہے، وہ یونیورسٹی کسی قانون یا آرڈیننس وغیرہ کے تحت وجود میں آئی ہوتی ہے۔ ہر کسی کے لیے اس کو ایم اے ماننا ہی پڑتا ہے۔ باقی آپ کی صلاحیت کی بنیاد پر ہے کہ آپ کو کوئی قبول کرے یا نہ کرے، یہ ان کا اختیار ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ ایم اے نہیں ہیں، لیکن جب مساوی ایف اے، مساوی ایم اے سند لے کر جائیں گے تو اس میں بہت ساری جگہوں پر صوابدیدی اختیارات آجاتے ہیں۔ ہر ادارے کے اپنے صوابدیدی اختیارات ہیں، قانوناً اس کو بی اے، ایم اے ماننا ضروری نہیں ہوتا۔ 

اس لیے اگر ہم اس لائن میں جانا چاہتے ہیں تو میں کہا کرتا ہوں کہ واتوا البیوت من ابوابھا یہ مساوی سند ایک بھیک ہوتی ہے۔ اگر ہمیں ایک کام کرنا ہی ہے تو بھیک مانگ کر کرنے کی بجائے اس راستے سے آئیں جس میں کوئی ہمیں روک نہ سکے، کوئی ہمیں چیلنج نہ کر سکے۔ تب آپ کہہ سکتے ہیں جو کاغذ کا ٹکڑا کسی اور کے پاس ہے، وہی میرے پاس ہے۔ اس کے پاس ایک یونیورسٹی کے کاغذ کا ٹکڑا ہے، میرے پاس بھی ایک یونیورسٹی کے کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ اور یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ سب سے زیادہ مشکل مرحلہ میٹرک کا ہوتا ہے کیونکہ اس میں سائنس بھی پڑھنی پڑتی ہے، ریاضی بھی اور انگلش بھی پڑھنا پڑتی ہے۔ اس کے بعد جو مشکل لازمی مضمون رہ جاتا ہے، وہ صرف انگلش کا رہ جاتا ہے۔ انگلش زبان کا آنا ویسے ہی اچھی بات ہے۔ جتنی زبانیں آدمی کو آتی ہوں، اتنا اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے، اتنا ہی اس کے مطالعے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تو جو آپ چاہیں، آسان آسان مضمون منتخب کر سکتے ہیں، ایف اے کر سکتے ہیں، بی اے کر سکتے ہیں، آسانی سے آگے جا سکتے ہیں۔ 

دوسری بات یہ کہ بہت سے فضلاء ایسے ہوتے ہیں جن کے اپنے گھر کے، اپنے آبائی کاروبار ہوتے ہیں۔ وہ کاروبار ایسے ہوتے ہیں جنہیں وہ آسانی سے سیکھ سکتے ہیں، ان کے لیے یہ سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ تو ہمیں اس معاملے میں حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے۔ عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ جو کسی دوسری طرف جانے لگے، ہم اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ لیکن اگر مدرسے کی طرف آئے گا تو مدرسے میں اس کے لیے جگہ نہیں ہے ، تو پھر آخر وہ کہاں جائے؟ فرض کریں ایک صاحب، فاضل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مجھے جامعہ امدادیہ میں رکھ لیں۔ میں کہتا ہوں کہ میرے پاس جگہ نہیں ہے۔ یہ کہتے ہیں، اچھا پھر میں اپنی دکان ڈال لیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ تم دکان ڈالو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا، مجھ سے ملنے کے لیے نہیں آنا کہ تم نے دین کی لائن چھوڑ دی ہے۔ تو پھر آخر وہ جائے کہاں؟۔ تو جو شخص اپنے آبائی کاروبار میں آنا چاہتا ہے، اس سے بہتر کوئی اور چیز اس کے لیے نہیں ہے۔ اگر وہ مسجد و مدرسے کی لائن میں نہیں رہ سکتا تو وہ چیز ایسی ہے کہ وہ اسے آسانی سے سیکھ سکتا ہے۔ پھر اس کا جو خاندان ہے، اس اس کی ایک سماجی سطح ہے اور ظاہر ہے کہ جو اس کا رشتہ ہوگا، وہ بھی اسی سطح کی کسی جگہ پر ہوگا۔ آپ اسے اس بات پر مجبور کریں کہ چند ہزار کی تنخواہ پر گزارہ کرو اور اپنی بیوی کو بھی اس کا قائل کرو، تو ظاہر ہے کہ یہ اس کے لیے مشکل ہوگا۔ 

کچھ چیزیں وہ ہوتی ہیں جن کا تعلق ڈگریز سے ہے کہ آپ نے ایم اے کر لیا، ایم فل کر لیا، پی ایچ ڈی کر لی۔ یقیناًیہ ڈگریز بھی آپ کے لیے بہت سارے راستے کھولتی ہیں۔ مزید سیکھنے کے راستے بھی کھولتی ہیں اور آپ کے لیے روزگار کے راستے بھی کھولتی ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ روزگار کی جو مجموعی صورت حال ہے، ہمارے ملک میں وہ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اور شعبوں میں بھی جو یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل ہیں، بڑی بڑی ڈگریاں لیے ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹی سی چپڑاسی کی جگہ آتی ہے تو ایم فل والے وہاں اپلائی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈگری روزگار کی کوئی حتمی ضمانت نہیں ہے۔ ڈگری کی بہ نسبت روزگار کے حوالے سے زیادہ اہم چیز ہنر اور skills ہوتے ہیں، وہ ہمیں حاصل کرنے چاہئیں اور اپنے فضلاء کو سکھانے چاہئیں۔ ہمارے ہاں ایک رجحان پچھلے پچیس تیس سال سے پروان چڑھا ہے کہ دورہ پر اپنی تعلیم کا اختتام نہیں کرنا بلکہ اس کے بعد بھی ایک آدھ سال لگانا ہے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جس سے بھی پوچھیں، دورے کے بعد کیا کرنا ہے تو جواب ملتا ہے، جی مفتی کا کورس کرنا ہے، تخصص کرنا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ متبادل نہیں ہے، حالانکہ یہ تخصص فی الفقہ ہو یا تخصص فی الحدیث ہو یا کسی اور چیز میں تخصص ہو، یہ اس کے لیے ہوتا ہے جس نے دینی علوم میں تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہے اور اس سطح کی استعداد کے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی بات میں پہلے کر چکا ہوں کہ ان کو ہم نے مدرسوں میں مسجدوں میں رکھنا ہے اور خوشحال بنا کر رکھنا ہے۔ لیکن میں ان کی بات کر رہا ہوں جن کو ہم نے دوسری طرف بھیجنا ہے۔ 

کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو ہمارے مدارس کے فضلاء بہت آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں اور ان سے جلد ان کو مناسبت ہوتی ہے۔ اور بعض ایسی ہیں جو ان کے شعبے سے بہت زیادہ گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ ان میں مثال کے طور پر ایک شعبہ پبلشنگ کا ہے کہ آپ کتابیں چھاپیں۔ اگرچہ دینی کتابوں کی پبلشنگ کے مسائل ہیں، مشکلات ہیں، اتنا زیادہ نفع آور نہیں رہا جتنا پہلے ہوتا تھا، مجموعی طور پر اپنی اور ان کی ناعاقبت اندیشیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ صورتحال بن چکی ہے، لیکن بہرحال یہ بھی ایک شعبہ ہے جو ان کی فیلڈ سے مناسبت رکھتا ہے۔ اگر اچھی چیزیں آپ کو مل جائیں، آپ چھاپیں اور بیچیں تو ایک یہ راستہ آپ کے لیے بن سکتا ہے۔ 

دوسرا شعبہ جس میں ہمارے فضلاء بہت آسانی سے چل جاتے ہیں، میڈیا کا شعبہ ہے، چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ہو، کیونکہ ابلاغ کی عادت اور رجحان درس و تدریس کے دوران ان کا بن چکا ہوتا ہے، کچھ الفاظ جوڑنے کا کام آہی جاتا ہے۔ اس میں تھوڑی سی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد وہ یہ کام آسانی سے سیکھ جاتا ہے۔ 

تیسرا کام کمپیوٹر کا ہے۔ میں صرف کمپوزنگ کی بات نہیں کر رہا، بلکہ اس سے آگے کی بات کر رہا ہوں۔ تجربہ یہ ہوا ہے کہ ہمارے طلبہ جلدی یہ چیز سیکھ جاتے ہیں اور بعض اچھی جگہوں پر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے جامعہ امدادیہ کے ایک فاضل ہیں، ایک اچھے ملک میں وہ کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کے شعبے میں ایک اچھی کمپنی میں کام کر رہے ہیں، حالانکہ دورۂ حدیث تک ان کی عصری تعلیم شاید مڈل تک بھی نہیں تھی۔ تو یہ بھی ایک صاف ستھرا شعبہ ہے کام کا۔ آرام سے بیٹھ کر کرنے کا کام ہے اور علم سے مناسبت بھی رکھتا ہے۔

چوتھا ایک اہم شعبہ زبان کا شعبہ ہے۔ چونکہ دنیا ایک دوسرے کے قریب آرہی ہے، روابط بڑھ رہے ہیں، تو اس میں ترجمانی اور زبانوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ زبان سیکھنا سکھانا مستقل فن بن گیا ہے اور اسی کا امتیازی فن ترجمانی بن گیا ہے۔ ترجمہ کی مہارت پیدا کرنے کے لیے کچھ تو ڈگری لیول کے کورسز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں وقت زیادہ لگتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ مختلف جگہوں پر اس میں ڈپلومہ لیول کے مختلف کورسز بھی سال یا چھ مہینے کے کہیں نہ کہیں ہوتے ہوں گے، ورنہ زبان سکھانے کے کورسز تو ہوتے ہی ہیں۔ یونیورسٹی تقریباً ہر زبان کے کورسز کرواتی ہے۔ ہمارے فضلاء عربی زبان خاص طور پر بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں، فارسی زبان بھی آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور زبانیں بھی چونکہ پہلے سے پڑھنے لکھنے کے عادی ہوتے ہیں، اس لیے زبان سیکھنا نسبتاً ان کے لیے آسان ہوتا ہے اور زبان ان کے لیے بہت سارے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ 

پانچواں ایک شعبہ جس میں کافی گنجائش ہمارے فضلاء کے لیے موجود ہے اور ان کے فیلڈ سے مناسبت بھی رکھتی ہے، وہ ہے پرائیویٹ سکولوں کا شعبہ، خاص طور پر دیہات اور قصبات میں۔ اگر ان کے لیے کچھ مختصر کورسز چھ مہینے، نو مہینے کے ایسے ڈیزائن ہو جائیں جن میں ان کو اسکول مینجمنٹ سکھا دی جائے، بحیثیت مجموعی مینجمنٹ کے کچھ اصول ان کو بتا دیے جائیں، کچھ موٹی موٹی اور چیزیں ان کو سکھا دی جائیں اور ایک دو چیزیں ان کو پڑھانے کی ٹریننگ دے دی جائے تاکہ خود ریاضی، انگریزی اور سائنس وغیرہ کی تدریس کر سکیں۔ یہ لوگ اپنے گاؤں میں، قصبے میں جا کر، چھوٹے شہر میں جا کر چھوٹا سا اسکول بنائیں، لوگوں سے فیسیں لیں، لوگوں سے روزگار مانگنے کی بجائے دوچار بندوں کو آپ روزگار دینے والے بن جائیں۔ اس شعبے میں ابھی اچھی خاصی گنجائش موجود ہے، چونکہ تعلیم کے شعبے سے حکومت نے تو ہاتھ پیچھے کر لیا ہے۔ کسی زمانے میں یہ اسکول بنانا حکومتوں کا کام ہوتا تھا، لیکن اب وہی پرانے زمانے کے آثار قدیمہ میں سے جو سرکاری اسکول ہیں، وہی ہیں۔ ان کے علاوہ نئے سرکاری اسکول نہیں بن رہے، جبکہ تعلیم لوگوں کی ضرورت ہے۔ تو پرائیویٹ اسکولوں کے شعبے سے معلق میرا اندازہ یہ ہے کہ ابھی گنجائش موجود ہے اور اس میں نفع آوری بھی ہے۔ یہ کام ہمارے فضلاء بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں، تھوڑا سا سیکھ کر کر سکتے ہیں۔ اسکول چلانے کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے، جو اسکول پہلے سے چل رہے ہیں، آپ ایک آدھ مہینہ اس کے ساتھ لگائیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کام کیسے کرتے ہیں۔ یوں آپ اپنا اسکول چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔ ایک آدھ مضمون خود پڑھائیں، ایک آدھ ٹیچر اور رکھیں۔ اللہ اللہ خیر صلا، آپ کا کام چل جائے گا۔ بچیوں کے اسکول، مدرسے تو چل ہی رہے ہیں، لوگوں کے لیے یہ بھی مسئلہ ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ بچیوں کو تعلیم نہیں دلایا کرتے تھے، لیکن اب ہر کوئی چاہتا ہے کہ میری بچی تعلیم یافتہ ہو۔ تو یہ بھی آپ کر سکتے ہیں۔ اس میں نئی نسل کی تربیت کا پہلو بھی ہے، اس میں دعوت کا پہلو بھی ہے اور روزگار کا پہلو بھی ہے۔ 

اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اور کئی کام ہو سکتے ہیں۔ 

حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے پہلا قدم اٹھایا ہے تو اس حوالے سے میں ایک مشورہ دوں گا کہ اس طرح کی مجالس میں بزنس سے تعلق رکھنے والے حضرات کو بھی دعوت دی جائے اور ان کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ وہ ہمیں کچھ بتائیں کہ فضلاء کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ 

اور آخر میں ایک اور بات مولویوں کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ بڑی ماریں کھالی ہیں، یہ دور نفع کے لیے کسی کو پیسے دینے کا نہیں ہے۔ اس میں بعض دینی ادارے ایسے میرے علم میں ہیں جو تین مرتبہ تو میرے علم کے مطابق ڈنگ کھا چکے ہیں، حالانکہ حدیث میں آتا ہے کہ مومن صرف ایک مرتبہ ڈنگ کھاتا ہے، ایک سے زیادہ مرتبہ نہیں کھاتا۔ تو ہمیں اتنا سیدھا سادا نہیں ہونا چاہیے کہ ہر دفعہ ڈنگ کھانے کے لیے تیار ہوں۔ میں انھی گزارشات پر اکتفا کرتا ہوں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس