مدارس کے ساتھ یونیورسٹی بل بھی!

چند دن قبل پنجاب یونیورسٹی میں ایک طالب علم کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ مقتول اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا، گاڑی کے ڈیش بورڈ پر اسلحہ رکھا تھا، پیچھے بیٹھے دوست نے اسلحہ دیکھنے کی فرمائش کی، دوست نے پستول اٹھا کر پیچھے پکڑا دیا۔ پیچھے بیٹھے دوست نے چیک کرنے کے لیے بٹن دبایا جس سے گولی چلی اور فرنٹ پر بیٹھے نوجوان کو جا لگی۔ نوجوان شدید زخمی ہو ااور ہسپتال منتقلی کے دوران وفات پا گیا۔

جیسے ہی نوجوان کے قتل کی خبر پھیلی طلبا تنظیموں کے جتھے سڑکوں پر نکل آئے۔ ہر تنظیم مقتول نوجوان کو اپنی جماعت کا رکن ڈکلیئر کر کے اس کی لاش کو کیش کرنے لگی۔ یونیورسٹی، وائس چانسلر آفس اور مختلف ڈیپارٹمنٹس کے سامنے احتجاج اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی۔ یونیورسٹی کے اطراف میں تمام شاہراؤں کو بند کر دیا گیا اور ہزاروں گاڑیاں اور لاکھوں لوگ ٹریفک میں پھنس گئے۔ طلبا و طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یونیورسٹی کی بسیں روک دی گئیں اور ہزاروں طالبات کو گھر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا و طالبات کے والدین فون کر کے اپنے پیاروں کے خیر خبر دریافت کرنے لگے۔

دو تین گھنٹے بعد پولیس نے طلبا کو منتشر کر کے صورتحال پر قابو پایا۔ تحقیق ہوئی تو پتا چلا یہ حادثاتی قتل تھا اور نوجوان کسی تنظیم کا رکن بھی نہیں تھا۔ لیکن جب تک تحقیق ہوتی نوجوانوں کے جتھے یونیورسٹی کو تباہ کر چکے تھے اور لاکھوں کروڑوں کی املاک جلا چکے تھے۔ لاکھوں لوگ اذیت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا اور ہزاروں لاکھوں لوگ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت چکے تھے۔

آج کل مدارس ایشو زبان زد عام ہے، میرا خیال ہے اس کے ساتھ ہمیں یونیورسٹیوں کے نظامِ تعلیم کو بھی اپنی فہرست میں شامل کر لینا چاہیے۔ یونیورسٹیوں کے ماحول اور نظامِ تعلیم پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن سردست ہم مذکورہ واقعے تک محدود رہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ جس عمر اور جس ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی اس عمر اور اس ہاتھ میں اسلحہ آ گیا؟ یقیناً‌ اس کے پیچھے کسی کو ’’انسپائر‘‘ کرنے کا جذبہ یا کسی کو ’’دھمکی‘‘ دینے کی وجہ کارفرما ہو گی۔ یونیورسٹی کے مخلوط تعلیمی ماحول کی وجہ سے اب یہ مفاسد عام ہیں۔ اگر مخلوط تعلیمی ماحول کو کسی سنجیدہ ریسرچ کا موضوع بنایا جائے تو اس کے ہوش ربا نتائج سامنے آئیں گے۔

ہم اسی موضوع پر بات کو آگے بڑھاتے ہیں، مخلوط تعلیم میں لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ بیٹھنے کا تجربہ انہیں ایک ایسی عادت کا شکار بنا دیتا ہے جو بہت سارے مفاسد اور خرابیوں کا باعث بنتی ہے۔ مسلسل ایک ساتھ بیٹھنے اور بے تکلفی اختیار کرنے سے ایک خاص طرح کی لذت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ لذت دراصل ’’ڈوپا مین‘‘ جیسے کیمیکلز کے اخراج سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل جب پہلی بار خارج ہوتا ہے تو ایک خاص لطف کا احساس دیتا ہے۔ مسلسل مخلوط ماحول میں رہنے سے لڑکے لڑکیاں اس کیمیکل کے اخراج کے عادی ہو جاتے ہیں اور نکاح کے بعد لطف کی یہ کمی ازدواجی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ نکاح کے بعد جو رشتہ بنتا ہے مخلوط ماحول میں بننے والے تعلقات کی وجہ سے اس میں لطف اور احترام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

ان اخلاقی برائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ طلبا کی توجہ تعلیم سے ہٹ کر غیر ضروری باتوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں تعلیم کے بجائے ایک دوسرے پر توجہ دینے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے کو متاثر کرنے کے لیے لباس، بات چیت کے انداز اور رویوں میں مصنوعی پن لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی اصلی شخصیت کو نظر انداز کرتے ہوئے مصنوعی طور پر جنس مخالف کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کے کردار اور اخلاقیات میں منفی رویے جنم لیتے ہیں۔ اس طرح ان کی زندگی میں ایک طرح کی بے سکونی اور کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے، اور ان کا وقت حقیقت پر مبنی رویے سیکھنے کے بجائے غیر ضروری باتوں اور بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع ہونے لگتا ہے۔ تعلیم کے بجائے ان کی توجہ بات چیت، دوستی، ایک دوسرے کو متاثر کرنے اور غیر ضروری سرگرمیوں پر مرکوز ہو جاتی ہے جس سے ان کا تعلیمی ہدف پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

مخلوط اداروں میں پڑھنے والی لڑکیوں میں ایک رجحان یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو لڑکیاں عموماً پہلے سمسٹر میں عبایا پہنتی ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے لباس اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لے آتی ہیں۔ ان پر فیشن اور جدید رجحانات کا اثر غالب آنے لگتا ہے اور صرف چند سمسٹر بعد ان کا عبایا اتر جاتا اور وہ بھی فیشن کی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہیں۔

مخلوط ماحول میں پیدا ہونے والی قربت اور بے تکلفی شعوری یا لاشعوری طور پر شادی کے بعد کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ شادی کے بعد زندگی میں ایک خاص قسم کی یکسانیت اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ جبکہ مخلوط اداروں میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے والی زندگی کی توقع کر رہے ہوتے ہیں اور یہ فرق ازدواجی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 20 فیصد شادی شدہ جوڑوں نے تسلیم کیا کہ ان کے ازدواجی مسائل کی جڑ ان کے شریکِ حیات کے مخلوط تعلیمی ماحول میں گزرے وقت کے تعلقات یا دوستیاں ہیں جو شادی کے بعد شکوک و شبہات کا باعث بنتی ہیں۔ 15 فیصد شادی شدہ افراد نے اعتراف کیا کہ مخلوط تعلیم کے دوران سیکھے گئے آزادانہ رویے یا بات چیت کے انداز ان کے شریکِ حیات کی روایتی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے ازدواجی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

مخلوط تعلیمی نظام کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 45 فیصد طالبات نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ مخلوط تعلیم کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ 30 فیصد طلبہ نے تسلیم کیا ہے کہ مخلوط ماحول میں پڑھائی کی وجہ سے ان کی توجہ تعلیم سے ہٹ کر دیگر غیر ضروری سرگرمیوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ 40 فیصد والدین مخلوط تعلیم کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خواتین کی تعلیمی شرح متاثر ہوتی ہے۔

بات بہت دور نکل گئی، ہم طالب علم کے قتل کے پیچھے مخلوط تعلیمی ماحول کی وجہ تلاش کر رہے تھے لیکن یہاں تو اور بہت زیادہ مفاسد سامنے آ گئے۔

علم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور دورِ جدید میں ہر مرد و عورت دونوں کو یہ حق یکساں فراہم ہونا چاہیے، لیکن اس حق کی فراہمی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ثقافتی اور مذہبی اصولوں کو مدنظر رکھ رہے ہیں یا نہیں؟ تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ، مگر تربیت کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی اخلاقی اور روحانی تربیت کو ترجیح نہیں دیں گے تو معاشرتی بگاڑ کے دروازے کھلتے جائیں گے۔

آج ہمارے لیے نژاد نو کی تربیت ایک نہایت اہم اور حساس معاملہ ہے بن چکا ہے جس میں کسی قسم کی غفلت مستقبل میں ہماری قوم اور تہذیب کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مدارس و جامعات / تعلیم و تعلم

(الشریعہ — جنوری ۲۰۲۵ء)

الشریعہ — جنوری ۲۰۲۵ء

جلد ۳۶ ، شمارہ ۱

مطبوعات

شماریات

Flag Counter