ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

کل مضامین: 4

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد

یہ ستمبر ۱۹۹۸ء کی ایک سرد مگر اجلی صبح کا ذکر ہے۔ میں بنوں میں ہوں اور ایک آواز کانوں میں پڑتی ہے: آئیے، فاروقی صاحب! بیٹھیے۔ میں سامنے دیکھتا ہوں تو ایک وجیہ، معتدل القامہ اور روشن شخصیت چھوٹی سی کار میں پچھلی نشست پر بیٹھ کر دروازہ بند کررہی ہے۔ میرا قیاس یہی ہوا کہ یہ ڈاکٹر محمود احمد غازی ہیں۔ برابر میں کھڑے ایک صاحب سے پوچھا تو تصدیق ہوگئی۔ ان کے ساتھ ان کے بہنوئی ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی تھے جو اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے رئیس کلیہ علوم اسلامی تھے اور حال ہی ڈائریکٹر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے منصب سے ریٹائر...

امت مسلمہ کو درپیش چند فکری مسائل

امت مسلمہ آج جن مسائل سے دوچار ہے، ان سے کون ذی شعور شخص ناواقف ہوگا؟ اس حوالے سے جذبات، تاثرات، تحریریں اور پھر مذاکرات اور کانفرنسوں کے ذریعے تجاویز اور آرا وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن یہ صورت حال جس قدر گھمبیر، پیچ در پیچ الجھاؤ سے دوچار اور ہمہ جہت قسم کی ہے، اس اعتبار سے شاید غور وفکر کا حق ابھی تک ادا نہیں ہو سکا جس کا قرض اس امت کے ذمہ باقی ہے اور معاملے کی نوعیت کے پیش نظر ان امور کے بارے میں مزید غور وفکر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور فوری ضرورت ہے۔ یہ امور اپنی اہمیت کے پیش نظر اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اس امر کا تقاضا...

موجودہ نظام تعلیم کا ایک جائزہ

ہمارا موجودہ نظام تعلیم مختلف جہتیں رکھتا ہے لیکن اس کے دو پہلو نمایاں ہیں: ۱۔ دینی تعلیم ، ۲۔ عصری تعلیم جس میں عصری علوم وفنون کے تمام ادارے شامل ہیں۔ ذیل میں ان کی خصوصیات ونقائص کا مختصر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ (۱) یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی دینی مدارس میں اسلامیات کا جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، یونیورسٹی میں ایم اے کی سطح پر پڑھایا جانے والا نصاب اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ (۲) دینی مدارس میں آج کے گئے گزرے دور میں بھی استاد وشاگرد کے باہمی تعلق واحترام کی روایت موجود ہے۔ (۳) ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسکول وکالج کے مقابلے میں ان مدارس کے اخراجات...

اسلامی نظام تعلیم کے بنیادی خدوخال

اسلامی نظام تعلیم ایک ہمہ جہت تعمیری وانقلابی تعلیم کا خواہاں ہے جس کے جلو میں نہ صرف سیاسی ہنگامہ خیزی اور فکری آزاد روی پروان چڑھتی ہے بلکہ جو ہمہ نوع وہمہ جہت مثبت وتعمیری تبدیلیوں کا سبب وذریعہ بنتی ہے۔ اس کے بنیادی خدوخال پیش کرنا خود ایک طویل مقالے کا موضوع ہے۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ اس کے چند اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں۔ لازمی وجبری تعلیم: اسلا م میں تعلیم لازمی ہے۔ تعلیم کی ہمہ جہت اہمیت کے پیش نظر اختیاری تعلیم کا اسلام کے ہاں کوئی تصور نہیں۔ تعلیم ہر ایک کے لیے ہے اور لازمی ہے۔ خواندگی ایسی چیز نہیں ہے جسے عوام کی مرضی پر چھوڑا جا سکے...
1-4 (4)