مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی

کل مضامین: 4

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ...

دینی مدارس اور عصری رجحانات

بر صغیر پاک وہند میں دینی مدارس کی بے مثال خدمات ہیں ۔اور ایسے مدارس کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں دین متین کی تبلیغ واشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور ان اداروں سے ایسی نامور علمی شخصیات تیار ہوئیں جن کی دینی روایات اور اسلامی اقدار کے لیے مساعی جمیلہ قابل ستائش اور وجد آفرین ہیں ۔ دور جدید میں نئے مسائل اور عصری تقاضے ہیں جن کی رعایت رکھتے ہوئے اگر دینی مدارس میں علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس ہو توا س عظیم الشان کا م کو مزید بہتر انداز میں کیا جاسکتاہے ۔زیر نظر مقالہ میں بالعموم پاکستان کے دینی مدارس اور بالخصوص وفاق...

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)

اس مقام پر ایک وزنی سوال ہے کہ شاہ صاحب جیسے جلیل القدر عالم جن کی پہچان ہی محدث دہلوی کے نام سے ہے، ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ صحیح احادیث کے ساتھ ضعیف احادیث بھی نقل کریں اور ان سے استدلال کریں؟ علامہ زاہد الکوثری ؒ کے شاہ صاحب پر اعتراضات: علامہ زاہد الکوثریؒ (م -۱۳۶۸ھ)نے شاہ صاحب پر جواعتراضات کیے ہیں، ان میں سے ایک یہی ہے’’ کہ آپ کی نظر صرف متون حدیث کی طرف ہے ،اسانید کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔‘‘علامہ کوثری ؒ نے شاہ صاحب کی علمی خدمات کو کھلے دل سے سراہا ہے مگر اس کے بعد چند مقامات پر آپ کے بعض افکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گرفت...

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۱)

تعارف: اس کائنات کی رنگ وبو میں بہت سے افراد واشخاص پید ا ہو ئے اور اپنی مقررہ زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے،ان کی وفات کے بعد ان کا ذکر کچھ عرصہ ہوا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ ان کے تذکرے ختم ہوگئے ،مگر کچھ ہستیاں اور شخصیات ایسی بھی گزر ی ہیں جن کی علمی کاوشوں ،مجتہدانہ صلاحیتیوں اوربلندپایہ استنبا ط واستدلال سے مزین کتب کی بدولت وہ آج بھی اہل علم کے حلقہ میں زندہ ہیں ۔ان کے بیان کردہ تحقیقی مضامین اسلامیات کے محقق کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان میں نمایاں نام مجد د الملت ،حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا ہے ۔آپ ۱۷۰۳ء...
1-4 (4)