دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریات زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے جس میں سر فہرست جامعۃ الرشید ہے اور اس کے علاوہ بہت سے دیگر دینی تعلیمی ادارے بھی اس کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مختلف حوالوں سے یہ بحث و مباحثہ دیکھ کر مجھے قرن اول کا ایک مباحثہ یاد آگیا ہے جو حدیث و تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مسجد نبویؐ کو شہید کر کے اس کی جگہ پختہ اور وسیع مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا تو اس پر چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں اور بعض حضرات کی طرف سے یہ اشکال سامنے آیا کہ یہ مسجد جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے بنوائی ہے اور جس کی دیوار یں اور چھت جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے ڈالے گئے تھے، اسے آخر کس طرح شہید کیا جائے گا؟ یہ عقیدت و محبت کی بات تھی جو اپنے دائرہ میں بالکل درست تھی، لیکن دوسری طرف ضرورت کا دائرہ اس سے مختلف تھا کہ آبادی میں اضافہ اور نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد میں توسیع ناگزیر ہوگئی تھی اور اردگرد پختہ اور مضبوط عمارتوں کے درمیان یہ کچی مسجد عجیب سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اسی وجہ سے حضرت عثمانؓ نے پرانی مسجد کو گرا کر نئی، وسیع اور پختہ مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ایک طرف محبت، عقیدت اور تقدس و احترام کی بات تھی اور دوسری طرف اجتماعی ضرورت کا مسئلہ تھا، اس لیے حضرت عثمانؓ نے ایک روز خطبۂ جمعہ میں لوگوں کے تحفظات کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا کہ ’’لقد اکثرتم‘‘ تم نے بہت زیادہ باتیں شروع کر دی ہیں، لیکن میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا گھر یعنی مسجد تعمیر کی، اللہ تعالیٰ اس کا اسی طرح کا گھر جنت میں بنائے گا۔ چنانچہ سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان تحفظات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پرانی مسجد کو شہید کر کے وسیع بنیادوں پر پختہ مسجد تعمیر کردی جبکہ اس کے بعد سے مختلف ادوار میں مسجد نبویؐ کی عمارت میں توسیع کے ساتھ ساتھ اس کی پختگی اور تزئین میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور آج یہ دنیا کی عظیم الشان عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

مجھے دینی مدارس کے نصاب تعلیم کے حوالہ سے ہونے والا یہ مباحثہ بھی کچھ اسی طرح کا محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف اکابر کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار ہے جو اپنی جگہ درست اور قابل قدر ہے جبکہ دوسری طرف عصری تقاضوں اور ضروریات زمانہ مسلسل دامن گیر ہیں جن سے کوئی مفر نہیں ہے اور ہم کسی طرح بھی انہیں نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمارے ہاں احناف میں بہت سے مسائل میں متاخرین نے متقدمین کے اقوال و آراء سے اختلاف کرتے ہوئے الگ موقف اختیار کیا ہے جو ظاہر ہے کہ اپنے زمانہ کے حالات و ضروریات کے تناظر میں تھا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ متقدمین سے الگ موقف اختیار کرنے والے فقہاء کرام کے دور کے حالات کا تسلسل کا اب تک قائم رکھنا ضروری نہیں ہے کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں اور ضروریات میں تغیر و تنوع کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے، اس لیے اگر کسی مسئلہ میں آج کے حالات و ضروریات متاخرین کی بجائے متقدمین کے موقف کی طرف واپس جانے کا تقاضہ کر رہے ہوں تو ہمیں اس میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے مسئلہ بنا لینا چاہیے۔ حنفیت علمی بحث و مباحثہ کے نتیجے میں تشکیل پانے والی فقہ کا نام ہے اور اختلافِ رائے اس کا سب سے بڑا حُسن ہے، بعد کے ادوار میں اس فقہ پر نظر ثانی یا اس کی تدوینِ نو کی ضرورت پیش آنے پر بھی اجتماعی علمی بحث و مباحثہ کی طرز ہی اختیار کی گئی تھی جیسا کہ ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ اور ’’مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘‘ کی صورت میں موجود ہے، اس لیے ہمیں علمی بحث و مباحثہ کی ضرورت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ 

ضرورت زمانہ اور عصری تقاضوں کو محسوس کرنا اور انہیں اپنے نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا خود ہمارے اکابر و اسلاف کی روایت چلا آرہا ہے حتیٰ کہ درس نظامی کا مروجہ نصاب اپنے دور کے عصری تقاضوں کو قبول کرنے کے نتیجہ میں ہی تشکیل پایا تھا، مثلاً فارسی زبان کا دینی حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایران و فارس کی زبان تھی اور اسے درس نظامی میں شامل کرنے بلکہ اس کی بنیاد بنانے کی وجہ یہ تھی کہ مغل سلطنت کے دور میں برصغیر کی دفتری زبان فارسی تھی اور عدالتی زبان بھی فارسی تھی، اسے سیکھے بغیر ہم ملک کے نظام میں شریک نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ہی ملی مقاصد میں اس سے استفادہ کر سکتے تھے، اس لیے فارسی زبان کو درس نظامی کا جزوِ لازم بنایا گیا مگر آج کی صورت حال یہ ہے کہ فارسی نہ ملک کی دفتری زبان ہے اور نہ ہی عدالتی زبان ہے، دونوں شعبوں میں اس کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے، اس لیے ملک کے دفتری اور عدالتی نظام میں شرکت کے لیے آج انگریزی زبان سیکھنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح مغلوں کے دور میں علماء و طلبہ کے لیے فارسی زبان سیکھنا ضروری ہوگیا تھا، آج فارسی کی ضرورت ہمارے دینی حلقوں میں صرف اس قدر باقی رہ گئی ہے کہ فارسی زبان میں لکھے گئے اس وسیع دینی لٹریچر کے ساتھ ہمارا تعلق باقی رہے جو اس زبان میں ہمارے بہت سے بزرگوں نے مختلف اداروں میں تحریر فرمایا تھا اور اسلامی علوم کا ایک معتد بہ ذخیرہ اس زبان میں موجود ہے، اس کے علاوہ فارسی زبان کا اور کوئی مصرف ہمارے ہاں نہیں ہے، اس کے باوجود جائز ضرورت کی حد تک فارسی زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

اسی طرح یونانی فلسفہ و منطق اپنے دور کا رائج الوقت فلسفہ تھا اور دنیا بھر میں گفتگو اور مباحثہ و مکالمہ کے دائرہ میں اسی کے اسلوب کی حکمرانی تھی، چنانچہ جب عباسی دور میں یونانی فلسفہ کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا اور اس فلسفہ کی بنیاد پر معتزلہ نے اسلامی عقائد میں شکوک و شبہات پھیلانا شروع کیے تو دفاعی ضرورت کے لیے اس فلسفہ کا سیکھنا ضروری قرار پایا، ورنہ ابتداء میں اس فلسفہ کی زبان میں عقائد کی بات کرنے کو اس دور کے اکابر اہل علم و فضل نے ناپسند کیا تھا اور اسے بدعت قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا، لیکن جب دنیا میں اس فلسفہ و منطق کا چلن عام ہوا اور معتزلہ وغیرہ نے اس سے غلط فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو خراب کرنا شروع کر دیا تو علماء اور فقہاء نے اس فلسفہ کی تعلیم کی ضرورت محسوس کی اور امام ابوالحسن اشعریؒ ، امام ابو منصور ماتریدیؒ ، امام غزالیؒ ، ابن رشدؒ اور ابن تیمیہؒ جیسے عظیم متکلمین نے اس فلسفہ پر عبور بلکہ گرفت حاصل کر کے اسلام کے نظام عقائد کو معتزلہ وغیرہ کی یلغار سے محفوظ رکھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے یہ بزرگ عقائد کے باب میں ہمارے ائمہ اور مقتدا شمار کیے جاتے ہیں۔ 

درس نظامی میں یونانی فلسفہ و منطق کی شمولیت اسی ضرورت کے تحت لازمی سمجھی گئی تھی اور اس پس منظر میں یہ ایک حد تک آج بھی ضروری ہے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی عالمی زبان اور بحث و مباحثہ کے اسلوب میں یونانی فلسفہ کا کوئی عمل دخل باقی نہیں رہا کیونکہ مغرب کے سیاسی، سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد دنیا کی زبان، اسلوب اور منطق یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور اب دنیا میں کہیں بھی یونانی فلسفہ میں بات کرنے کا اسلوب موجود نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ ہیومینیٹی یعنی انسانی حقوق کے فلسفہ نے لے لی ہے اور اب دنیا میں ہر جگہ سیاسی، معاشرتی اور معاشی مسائل و معاملات پر گفتگو اسی نئے فلسفہ و اسلوب میں ہو رہی ہے۔ اس لیے اپنی ضرورت کی حد تک یونانی فلسفہ و منطق کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل رکھنے کے ساتھ ساتھ اس نئے فلسفہ و منطق کو نصاب تعلیم میں شامل کرنا اسی طرح ضروری ہوگیا ہے جیسے یونانی فلسفہ و منطق کو ایک زمانہ میں عصری تقاضہ سمجھ کر نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ 

کمپیوٹر سائنسز کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے، باقی سارے شعبوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو بھی آج کے زمینی حقائق اس حوالہ سے ہمارے سامنے ہیں کہ کتابیں کمپیوٹر پر منتقل ہو رہی ہیں اور جدید دور میں لائبریری کا تصور کتاب اور الماریوں کی صورت میں نہیں بلکہ کمپیوٹرائزڈ سٹوریج کی شکل میں ہے جن سے موبائل ڈیوائسز پر انٹرنیٹ کے ذریعہ سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں اپنے طالب علم کو کمپیوٹر سائنس سے دور رکھنے کا مطلب اسے کتاب، علم اور لٹریچر کی ایک وسیع دنیا سے الگ رکھنا ہے جو کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ 

اس لیے گزشتہ تین عشروں سے میری طالب علمانہ رائے مسلسل یہی چلی آرہی ہے کہ:

  • جہاں تک قرآن و سنت اور حدیث و فقہ کے علوم کا تعلق ہے اس میں تو رد و بدل کی کوئی گنجائش اور ضرورت نہیں ہے البتہ جدید تحقیقات اور عرف و تعامل کے حوالہ سے تغیر پذیر مسائل و احکام کو نصاب میں وقت کے ساتھ ساتھ سموتے رہنا ہر دور کی ضرورت رہا ہے جو اب بھی ہے۔ 
  • عربی زبان اور اپنے ملک کی قومی زبان یعنی اردو کی تعلیم دینی مدرسہ کے طلبہ کے لیے اس درجہ میں لازمی ہے کہ وہ فی البدیہہ گفتگو کر سکیں، مقالہ نویسی کی صلاحیت رکھتے ہوں، علمی و عوامی مباحثوں میں پورے اعتماد کے ساتھ شریک ہو سکیں اور فصاحت کے معروف معیار پر پورے اترتے ہوں۔ 
  • دفتری اور عدالتی زبان ہونے کی وجہ سے انگریزی کی تعلیم بھی اس وقت تک ضروری ہے جب تک اس کی یہ حیثیت تبدیل نہیں ہو جاتی اور اس کی جگہ عملی طور پر اردو رائج نہیں ہو جاتی۔ 
  • عالمی سطح پر دین کی دعوت، اسلامی عقائد و احکام و قوانین کی تشریح اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے رد و جواب کے لیے انگریزی زبان کی ضرورت اپنی جگہ الگ طور پر موجود ہے۔
  • ابلاغ کا موثر ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ علمی سرمایے کی کمپیوٹر پر مسلسل منتقلی کے باعث کمپیوٹر کی تعلیم بھی علماء کرام اور دینی طلبہ کے لیے ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
  • آج کے اس عالمی فلسفہ اور اسلوب سے واقفیت بلکہ اس کے دائرے میں گفتگو اور مباحثہ کی صلاحیت بھی علماء کرام اور دینی طلبہ کی اہم ترین ضرورت ہے جس فلسفہ و اسلوب میں اسلام کے عقائد و احکام اور شریعت اسلامیہ کے مختلف قوانین پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی دعوت اور اس کا دفاع اب ممکن نہیں رہا۔ 


دینی مدارس کے نصاب و نظام کے بارے میں بہت سے دوست مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس حوالے سے آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف اور طرز عمل کیا تھا؟ یہ سوال بہت سے ذہنوں میں آیا ہوگا، اس لیے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کے تعلیمی رجحانات اور طریق کار کی بابت کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں۔

اس حوالے سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ میری یہ مجبوری ہے جو بہت سے دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی اور بعض دوستوں کو تو ہضم بھی نہیں ہو رہی کہ میں نے ان دو بزرگوں کے زیر سایہ تعلیم و تدریس اور فکری و ذہنی تربیت کے ماحول میں چار عشروں سے زیادہ وقت گزارا ہے اور سب سے زیادہ انہی سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی جس خوبی نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ علمی مسائل میں اختلاف کا حق دیتے تھے، اس اختلاف کو سنتے تھے، برداشت کرتے تھے، بڑے تحمل کے ساتھ دلیل اور منطق کے ساتھ اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کرتے تھے، اختلاف رائے کو اختلاف کے درجے میں رکھتے تھے اور اسے مسئلہ نہیں بنا لیتے تھے اور بحث و تمحیص اور تجربہ و مشاہدہ کی بنا پر اگر اپنے کسی موقف اور رائے سے رجوع کی ضرورت محسوس کرتے تھے تو اس میں کسی تامل سے کام نہیں لیتے تھے۔ 

چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی یہ بات میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گا کہ جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیت علماء اسلام دو حصوں میں تقسیم ہوئی تو میں ’’درخواستی گروپ‘‘ کے متحرک ترین کارکنوں میں سے تھا اور حضرت درخواستیؒ کے موقف کے اظہار اور دفاع میں پیش پیش تھا۔ اس پر دوسرے گروپ کے بعض سرکردہ بزرگ میرے خلاف شکایت لے کر حضرت صوفی صاحبؒ کے پاس آئے تو حضرت صوفی صاحبؒ نے میرے بارے میں فرمایا کہ اگر اس نے کوئی اخلاقی یا مالی بد دیانتی کی ہے یا کسی بزرگ کی توہین کی ہے تو ابھی اسے آپ حضرات کے پاس بلا کر ڈانٹوں گا، لیکن اگر صرف رائے کی بات ہے تو رائے کا حق جیسے آپ حضرات کو ہے، اسے بھی وہی حق حاصل ہے۔ اس سلسلے میں اسے کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ وہ اپنی رائے میں آزاد ہے۔ 

اس ضروری وضاحت کے بعد دوسری گزارش یہ ہے کہ والدِ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا اب سے نصف صدی قبل خیال تھا کہ درس نظامی کے مروّجہ نصاب میں قرآن کریم ترجمہ و تفسیر کے ساتھ شامل نہیں ہے۔ صرف اوپر کے درجوں میں جلالین اور بیضاوی کا کچھ حصہ پڑھا دینا کافی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی ہے۔ اس لیے انہوں نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ترجمہ قرآن کریم مناسب تفسیر کے ساتھ مستقل طور پر پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا جس میں اس دور میں کافیہ کے درجہ سے اوپر تک کے طلبہ کی شرکت لازمی ہوتی تھی۔ باقاعدہ حاضری ہوتی تھی، غیر حاضری پر ہمارے طالب علمی کے دور میں جرمانہ ہوتا تھا جو چار آنے (پچیس پیسے) فی غیر حاضری ہوتا تھا اور مدرسہ میں تعلیم کا آغاز درس قرآن کریم کے اسی پیریڈ سے ہوتا تھا۔ بحمد اللہ تعالیٰ اب یہ سعادت میرے حصہ میں ہے اور ترجمہ قرآن کریم کے پون گھنٹے کے اس پیریڈ کے بعد باقی اسباق کی ترتیب شروع ہوتی ہے۔ مکمل ترجمہ قرآن کریم دو سال میں مکمل ہوتا ہے، پندرہ پارے ایک سال اور پندرہ پارے دوسرے سال میں پڑھائے جاتے ہیں۔ دورۂ حدیث اور اس کے بعد کے دو درجات کے طلبہ کی شرکت لازمی ہوتی ہے اور اس کی باقاعدہ حاضری لگتی ہے، البتہ جرمانے کا سلسلہ اب نہیں ہے۔ جرمانے کے سلسلے میں ایک لطیفہ یہ ہے کہ میں نے یہ ترجمہ طالب علمی کے دور میں کم از کم تین بار حضرت والد محترمؒ سے پڑھا ہے۔ اس دوران غیر حاضریاں بھی ہوتی تھیں اور جرمانہ بھی دینا پڑتا تھا۔ حضرت والد محترمؒ جب جرمانے والوں کے نام پکار کر جرمانے کی رقم کا اعلان کرتے تو فہرست میں عام طور پر میرا نام بھی ہوتا تھا۔ میں اپنے نام کے ساتھ جرمانے کا اعلان سن کر حضرت والدِ محترمؒ کے جیب کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا کہ ادا تو وہیں سے ہونا ہے۔ اس پر تھوڑی بہت ڈانٹ پلا کر وہ جرمانہ ادا کر دیتے تھے۔

بعد میں ۱۹۷۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور اس کی ملحقہ جامعہ مسجد نور کو محکمہ اوقات پنجاب نے سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو اس کے خلاف مزاحمتی تحریک کے دوران یہ ضرورت پیش آئی کہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات میں مدرسہ خالی نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ سالانہ تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر شروع کر دیا گیا جو پچیس برس تک مسلسل جاری رہا اور ہزاروں علماء کرام اور طلبہ نے اس سے استفادہ کیا۔ یہ دورۂ تفسیر حضرت والدِ محترمؒ کی آواز میں آڈیو سی ڈی کی صورت میں مکمل طور پر موجود و محفوظ ہے اور برادرِ عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن اسے تحریری صورت میں مرتب کر رہے ہیں اور یہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا ذوق رکھنے والے علماء کرام اور طلبہ کے لیے ایک عظیم علمی تحفہ ہوگا۔ 

کم و بیش ربع صدی تک مسلسل پڑھانے کے بعد یہ سلسلہ حضرت والد محترمؒ نے ترک کر دیا تو بہت سے دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ میں نے بھی ان سے عرض کیا کہ دورۂ تفسیر کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب معذور ہوگیا ہوں اور مسلسل پڑھانا میرے بس میں نہیں رہا۔ میں نے عرض کیا کہ چند پارے آپ پڑھا دیں، باقی میں اور قارن صاحب مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ جو علماء اور طلبہ دورۂ تفسیر پڑھنے کے لیے آئیں گے، وہ اس اعتماد کے ساتھ آئیں گے کہ سارا قرآن کریم میں خود (یعنی حضرت شیخ ؒ ) پڑھاؤں گا۔ اگر میں نے چند پارے پڑھا کر چھوڑ دیا تو ان کا اعتماد مجروح ہوگا جو دیانت کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے فرمایا کہ اب چونکہ وفاق المدارس نے مکمل ترجمہ قرآن کریم نصاب میں شامل کر دیا ہے جو مختلف مراحل میں باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے، اس لیے اب اس کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ چنانچہ سالانہ دورۂ تفسیر کا سلسلہ موقوف ہوگیا جبکہ دو سال والا ترجمہ قرآن کریم وفاق المدارس کے ترجمہ قرآن کریم کے نصاب کے باوجود الگ طور پر اب بھی ہوتا ہے اور حضرت والدِ محترمؒ کی زندگی میں ہی ان کے حکم پر یہ سعادت میرے حصہ میں آگئی تھی جو مسلسل جاری ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ 

میرے ساتھ ابتدائی سالوں میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسین نور اللہ مرقدہ کے بھتیجے قاضی مشتاق احمد صاحب بھی شریک سبق رہے ہیں۔ غالباً شرح ملا جامی تک ہم نے اکٹھے پڑھا ہے۔ بڑے ذہین طالب علم تھے۔ بعض باتیں جو سبق کے دوران سمجھ میں نہیں آتی تھیں، میں تکرار کے دوران ان سے سمجھا کرتا تھا۔ انہوں نے پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان دیا اور فرسٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی۔ یہ دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا اور میں نے میٹرک کا پرائیویٹ امتحان دینے کا ارادہ کر لیا۔ خیال تھا کہ انگریزی اور حساب کے علاوہ دوسرے مضامین میں کچھ زیادہ محنت درکار نہیں ہوگی، اس لیے پہلے مرحلہ میں انہیں کلیئر کرلیتا ہوں اور اگلے سال تیاری کر کے انگریزی اور حساب کا امتحان دے دوں گا۔ اس کے لیے میں نے داخلہ فارم حاصل کر لیا جس کا حضرت والد محترمؒ کو علم ہوا تو انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا حتیٰ کہ دھمکی دی کہ اگر تم نے امتحان دیا تو میں تم سے لا تعلقی اختیار کر لوں گا۔ چنانچہ میں نے ارادہ ترک کر دیا حتیٰ کہ جب میرے ساتھی قاضی مشتاق احمدؒ نے میٹرک کے امتحان میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے پر تعلیمی لائن بدل کر سکول و کالج کی لائن اختیار کر لی تو مجھے حضرت والدِ محترمؒ کے اس فیصلے پر اطمینان بھی ہوگیا کہ ان کی ناراضگی اور دھمکی فراست و بصیرت پر مبنی تھی۔ 

لیکن اس کے بعد دو عشروں کا وقفہ نہیں گزرا تھا کہ ہم نے گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہل سنت کے زیر اہتمام ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے قیام کا پروگرام بنا لیا جس کا ٹائٹل ’’دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج‘‘ تھا اور اہداف میں یہ بات شامل تھی کہ علماء اور فضلاء کو یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کے باقاعدہ امتحانات دلوائے جائیں اور دو تین سال تک ہم نے بہت سے فضلاء کو بی اے اور ایم اے کے امتحانات دلوائے۔ اس سارے پروگرام کی سرپرستی حضرت والدِ محترمؒ اور حضرت عم مکرمؒ فرما رہے تھے۔ دونوں بزرگ شاہ ولی اللہ ٹرسٹ کے رکن بلکہ باقاعدہ سرپرست تھے۔ اس کے اجلاس عام طور پر مدرسہ نصرۃ العلوم میں ہوتے تھے اور حضرت والد محترمؒ ان کی صدارت کیا کرتے تھے۔ اس دوران ایک بات یہ ہوئی کہ ۱۹۸۶ء میں جمعیۃ علماء برطانیہ کی دعوت پر حضرت والدِ محترمؒ اس کی ’’سالانہ توحید وسنت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے تو تین ہفتے وہاں کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ ہمارے محترم دوست اور حضرت والد محترمؒ کے عزیز شاگرد مولانا عبد الرؤف ربانی خطیب مکی مسجد رحیم یار خان ان کے رفیق سفر تھے۔ اس سفر سے واپسی پر ایک مجلس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مجھے فرمایا کہ ’’او خبطی!‘‘ تم ٹھیک کہتے تھے۔ انگریزی زبان اور جدید تعلیم بھی ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا کہ یہ بات شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے کسی پروگرام میں سب لوگوں کے سامنے فرما دیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی ایک عمومی طرز کی نشست میں حضرت والدِ محترمؒ نے نہ صرف یہ بات فرما دی بلکہ عصری تعلیم کی ضرورت پر پندرہ بیس منٹ تک گفتگو بھی فرمائی جو اس ادارے کی آئندہ تعلیمی پالیسی کی بنیاد بنی۔ 

یہ ہمارے بزرگوں کا ذوق اور مزاج ہے کہ دینی اور قومی حوالے سے وہ جس چیز کی ضرورت محسوس کر لیتے تھے، اسے نظرانداز نہیں کرتے تھے اور انہیں اس کے لیے اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرنا پڑتا تو وہ اس سے گریز نہیں کرتے تھے۔ 

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق اس بارے میں یہ تھا کہ وہ درس نظامی کی تعلیم کے دوران جہاں خلا محسوس کرتے تھے، اسے پُر کرنے کی اپنے طور پر کوشش کرتے تھے، چنانچہ وہ دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ سبقاً سبقاً پڑھاتے تھے۔ صبح کا دو سالہ ترجمہ قرآن کریم اور ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی تدریس بحمد اللہ تعالیٰ جامعہ نصرۃ العلوم کے نصاب تعلیم کے امتیازی شعبے ہیں جو ہمارے ان دو بزرگوں کے ذوق کی علامت اور ان کا صدقۂ جاریہ ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ دورۂ حدیث کے نصاب میں اب بھی شامل ہے اور یہ خدمت بھی میرے سپرد ہے۔ البتہ اب اس کے چند ابواب پڑھائے جاتے ہیں اور مکمل تدریس کی حسرت ہی رہتی ہے۔ 

اس سلسلہ میں میرا ذاتی ذوق اور نقطۂ نظر یہ ہے کہ (۱) عصر حاضر کے مسائل کے تناظر میں احکام القرآن (۲) طحاوی شریف اور (۳) حجۃ اللہ البالغۃ کی مکمل طور پر تدریس دورۂ حدیث سے قبل ہونی چاہیے کیونکہ اسی صورت میں دورۂ حدیث کے طلبہ احادیث نبویہؐ کے عظیم الشان ذخیرے سے صحیح طور پر استفادہ کر سکتے ہیں اور اگر پہلے نہ ہو سکے تو فضلاء درس نظامی کو فراغت کے بعد تکمیل یا تخصص کی صورت میں یہ کورس ضرور پڑھنا چاہیے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اگر باذوق فضلاء کی ایک مناسب تعداد ایک سال کا وقت فارغ کر سکے تو آج کی عالمی فکری و تہذیبی کشمکش کے تناظر میں احکام القرآن کے ساتھ ساتھ حجۃ اللہ البالغۃ اور طحاوی شریف کی مکمل تدریس کا موقع اور سعادت حاصل کر لوں مگر ذوق و شوق، وسائل اور فکری و علمی استعداد میں مسلسل کمی کی وجہ سے اس کی کوئی صورت نہیں بن رہی۔ اپنے اس ذوق کی کسی حد تک تکمیل کے لیے میں نے دورۂ حدیث شریف میں حجۃ اللہ البالغۃ کے ساتھ ایک اور پیریڈ کے اضافے کی ’’بدعت‘‘ شروع کر رکھی ہے جو سالہا سال سے جاری ہے اور اس کے نصاب میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا اسلامی احکام و قوانین کے ساتھ تقابلی مطالعہ اور دور حاضر کے معاصر ادیان و مذاہب کا اجمالی تعارف شامل ہے۔ یہ ہر جمعرات کو ہوتا ہے اور سال بھر کی پچیس نشستوں میں ’’خلاصۃ الخلاصۃ‘‘ کے درجے میں ان دو موضوعات کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ 

حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا اس سلسلہ میں ایک ذوق یہ بھی تھا کہ وہ چند طلبہ کو منتخب کر کے انہیں نصاب سے ہٹ کر بعض کتابیں الگ طور پر پڑھاتے تھے۔ ان خوش نصیبوں میں میرا شمار بھی ہوتا ہے اور میں نے ملا علیّ القاریؒ کی شرح نقایہ، مقامات ہمدانی، کلیلہ و دمنہ، رسائل اخوان الصفاء، مصطفی لطفی منفلوطیؒ کی العبرات اور الأستاذ محمد خضری بک کی کتاب نور الیقین ان سے سبقاً سبقاً پڑھی ہے۔ نور الیقین سیرت نبویؐ کی کتاب ہے، حضرت صوفی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے درس نظامی کے (اس وقت کے) نصاب میں سیرت النبیؐ اور سیرت الخلفاء شامل نہیں ہے، حالانکہ اس کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے کئی سال تک طلبہ کی متعدد کلاسوں کو ’’نور الیقین فی سیرت سید المرسلین‘‘ پڑھائی ہے۔ اس سلسلے میں لطیفہ کی بات یہ ہے کہ مدرسہ انوار العلوم میں تدریس کے دوران میں نے بعض طلبہ کو ’’ورغلا کر‘‘ سیرت النبیؐ کی ایک کتاب ’’عین الیقین‘‘ درساً پڑھائی جو مصری عالم عبد الحمید الخطیب کی تصنیف ہے اور مجھے وہ اس وقت اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں محسوس ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امام سیوطیؒ کی ’’تاریخ الخلفاء‘‘ کی تدریس بھی شروع کر دی مگر بمشکل ایک سال ایسا کر سکا اور اگلے سال کسی طالب علم کو ’’ورغلانے‘‘ میں مجھے کامیابی حاصل نہ ہوئی۔

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ہم نے جب گوجرانوالہ میں جدید اور قدیم علوم کے امتزاج کے ٹائٹل کے ساتھ ایک نئے تعلیمی ادارے کے قیام کا پروگرام بنایا تو اس کا ابتدائی نام ’’نصرۃ العلوم اسلامی یونیورسٹی‘‘ تھا اور اس منصوبے کا پہلا تعارف پمفلٹ اور اشتہارات کی صورت میں اسی نام سے شائع ہوا تھا، اس سے عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اختلاف کیا ۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم کے مہتمم تھے اور ہمارے اس نئے تعلیمی پروگرام کے سرپرست تھے، انہوں نے فرمایا کہ اس نئے تعلیمی نظام کے لیے الگ نام سے ادارہ بناؤ، یہ بہت ضروری کام ہے لیکن اس کے لیے جو تعلیمی نظام تسلسل کے ساتھ دینی مدارس میں چلا آرہا ہے اسے ڈسٹرب نہ کرو، ان کے اس اختلاف کی وجہ سے ہم نے اس کا نام تبدیل کر کے ’’فاروق اعظمؓ اسلامی یونیورسٹی‘‘ رکھا اور پروگرام کا دوسرا تعارف اس نام سے شائع ہوا۔ حضرت صوفی صاحبؒ نے اس سے بھی اختلاف کیا اور فرمایا کہ ’’بھائی ! جس کے مشن پر کام کرنا چاہتے ہو اس کا نام تمہیں کیوں یاد نہیں آرہا؟‘‘ ان کا اشارہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی طرف تھا جن کے علوم کے وہ اپنے دور کے متخصصین میں شمار ہوتے تھے اور حضرت شاہ صاحبؒ کی تعلیمات پر ان کی گہری نظر تھی۔ چنانچہ ہم نے اپنے اس نئے تعلیمی پروگرام کو شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا نام دے دیا اور اس کے بعد کی پیش رفت گزشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں۔ 

حضرت صوفی صاحبؒ کا موقف یہ تھا اور خود میرا ذاتی موقف بھی یہ ہے کہ دینی مدارس کا جو روایتی تعلیمی نظام تسلسل کے ساتھ چلا آرہا ہے اسے چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے البتہ عصری تقاضوں کے حوالہ سے ایک نئے تعلیمی تجربے کا اہتمام ضرور ہونا چاہیے جو بحمد اللہ تعالیٰ بہت سے اداروں کی صورت میں ہو رہا ہے، میرے نزدیک جس طرح عصری تقاضوں کو محسوس کرنا اور انہیں پورا کرنے کی محنت کرنا ضروری ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تعلیمی نظام کے روایتی تسلسل کو قائم رکھنا اور اس کا تحفظ کرنا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم کا ذمہ دار فرد ہونے کے باوجود ایسے علمی و فکری مباحث کے لیے میں نے ’’الشریعہ اکادمی‘‘ اور ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نام سے الگ فورم قائم کر رکھا ہے جن مباحث میں زیادہ سے زیادہ اور مختلف الخیال اصحابِ فکر کا شریک ہونا مجھے ضروری محسوس ہوتا ہے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(جنوری ۲۰۱۳ء)

Flag Counter