دینی مدارس کا نصاب، جہاد افغانستان اور عسکریت پسندی

محمد عرفان ندیم

سر سیداحمد خان کے بیٹے سیدمحمود احمد ہندوستان کے مشہور وکیل تھے۔ ان کی یاد داشت بڑی کمزور تھی۔ ایک دفعہ ایک مقدمے میں پیش ہوئے اور یہ یا دہی نہ رہا کہ وہ استغاثہ کے وکیل ہیں یا وکیل صفائی۔ انہوں نے موقع ملتے ہی وکیل صفائی کے دلائل دینا شروع کر دیے اور بڑی مہارت سے ملزم کی صفائی میں دلائل پیش کیے۔ موکل اور جج دونوں پریشان ہو گئے۔ موکل نے انہیں ایک چٹ پیش کی جس میں انہیں یاد کر وایا کہ آپ وکیل صفائی نہیں بلکہ استغاثہ کے وکیل ہیں۔ محمود احمد نے بڑے اطمینان سے چٹ پر نظر دوڑائی اور ذرہ بھر توقف کیے بغیر اسی جوش و خروش سے دوبارہ بولنا شروع کیا ’’می لارڈ ! یہ سب وہ دلائل تھے جو وکیل صفائی زیادہ سے زیادہ اس کیس کے حق میں دے سکتے تھے، مگر می لارڈ ! ان دلائل میں کوئی جان نہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے استغاثہ کے حق میں دلائل دینا شروع کیے اور اپنے ہی دلائل کو جھوٹا ثابت کر دکھایا ۔ جج سمیت تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور سید محمود احمد کیس جیت گئے۔ 

اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کرنا اہل علم کے ہاں کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ ایک ہی بات کو قوت بیان کے ساتھ بیک وقت سچا اور جھوٹا ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ اصل کمال نہیں۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ آپ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے مخالف کے نقطہ نظرکو بیان کریں۔ اس کے اصل موقف کو ٹھیک انداز میں پیش کریں اور اس پر ایسی باتوں کا الزام نہ دھریں جس کا اس کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ ہو۔

ہمارے ہاں عسکریت پسندی اور جہادی بیانیے کے حوالے سے بحث ایک عرصے سے چل رہی ہے۔ پہلے پہل یہ بحث اخبارات تک محدود تھی،وہاں سے یہ ٹی و ی چینلز پر آئی اور اب اس کا مرکز سوشل میڈیا ہے۔ اس بحث کے حوالے سے ایک گروہ کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ عسکریت پسندی اور جہادی بیانیے کو فروغ دینے والے اصل عوامل جہاد افغانستا ن اور دینی مدارس ہیں۔ یہ موقف اس بنیاد پر قائم ہے کہ افغانستان میں جب روس نے چڑھائی کی تو ضیا ء الحق نے امریکہ کی فہمائش پر اس جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے پاکستان کی دینی جماعتوں اور دینی مدارس کو استعمال کیا۔اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان میں جہادی بیانیے کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور یہ وہ وقت تھا جب سرکاری سطح پر " جہاد" کی سرپرستی کی گئی اور ایسے عناصر کو خوب نوازا گیا اور انہیں سو سائٹی میں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ اس موقف کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ عسکریت پسندی اور جہادی بیانیے کے فروغ میں دوسرا اہم ترین عامل دینی مدارس ہیں اور دینی مدارس میں باقاعدہ اس نظریے اور بیانیے کو پڑھایا جاتا ہے۔دینی مدارس میں باقاعدہ جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے اور جہاد کے حوالے سے قرآنی آیات، کتب احادیث ، فقہ اور معاصر اسلامی اسکالرز کے فکر کی روشنی میں طلباء کو باقاعدہ جہادکا درس دیا جاتا ہے۔ خصوصاً ضیاء الحق کے دور میں دینی مدارس کے طلباء نے باقاعدہ میدان جنگ میں جا کر جہاد میں حصہ لیا اور ایسے سینکڑوں نوجوان اس جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ وہ بنیادی استدلال ہے جو اس موقف کے قائلین کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے الشریعہ کے صفحات پر ڈاکٹر عرفان شہزاد نے بھی اسی طرح کے موقف کا اظہار کیا اوربزعم خود حوالوں کے ساتھ اس موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جہاد افغانستان کے حوالے سے انہوں نے اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے یہ سین پیدا (create ) کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح اس دور میں جہاد کی آواز بلند کی جاتی تھی، مجاہدین کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا،مساجد میں اعلانات ہوتے تھے ،چندہ جمع کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جاتی تھی ، عوام خصوصاً نوجوانوں کو جہا د کا شوق اور رغبت دلائی جاتی تھی اور شہید ہونے والوں کو جنت کی بشارت دی جاتی تھی۔ محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد کا کہنا ہے کہ آج بھی دینی مدارس عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں پیش پیش ہیں اور آج بھی دینی مدارس میں باقاعدہ اس بیانیے کو پڑھایا جا رہا ہے۔ قرآن کی تفاسیر اور احادیث کی روشنی میں نوجوان طلباء کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور جہاد کے ساتھ ساتھ انہیں خلافت کے قیام کا بھی درس دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ فقہ اور معاصراسلامی فکر کی روشنی میں انہیں کفار کو نیست و نابود کرنے اور سارے عالم میں اسلامی نظام کے نفاذ کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ ماضی میں دینی مدارس نے عسکریت پسندی کا جو بیج بویا تھا، آج پورا ملک اس کی فصل کاشت کر رہا ہے۔ الغرض یہ اور اس جیسے دیگر دلائل پیش کر کے محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں اصل کردار جہاد افغانستان اور دینی مدارس کا ہے، لیکن آج اہل مدارس عسکریت پسندی کے اس یتیم بچے کو گود لینے کے لیے تیار نہیں۔

جہاں تک بات ہے اس یتیم بچے کو گود میں لینے کی، اس کی طرف ہم بعد میں آئیں گے۔ پہلے ہم جہاد کی بنیادی اور اصولی حیثیت کو واضح کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ شریعت کے احکام معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس سب سے بنیادی اور اہم ذریعہ قرآن کریم اور اس کے بعدصحیح حدیث ہے۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ اورحج کی طرح جہاد کا حکم بھی اسلام میں بڑی صراحت ووضاحت سے بیان ہوا ہے۔ جہاد کا مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی صاف ،شفاف اور غیر مبہم بھی ہے۔ شاہ ولی اللہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تمام شریعتوں میں سب سے کامل شریعت وہ ہے جس میں جہاد کا حکم نازل ہوا ہو۔ قرآن پاک نے جس قدر تفصیل سے جہاد کے مسئلے کو بیان فرمایا، اتنی تفصیل کسی اور فریضے کی بیان نہیں فرمائی۔ قرآن میں جہاد فی سبیل اللہ کا صیغہ62 اور قتال کا صیغہ 97 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ سورہ توبہ اور انفال سمیت قرآن کی آٹھ سورتیں مکمل طور پر جہاد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بعض سورتوں کے تو نام ہی جہاد کے موضوع پر ہیں جیسے سورہ احزاب، سورہ محمد،سورۃ الفتح، سورۃ الصّف۔ مولانا احمد علی لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کا موضوع ہی جہاد ہے۔ قران کی مختلف سورتوں میں آیات جہاد کی تعداد کچھ اس طرح ہے : سورہ بقرہ میں 35، آلِ عمران میں 26، النساء میں 24، المائدہ میں 2، الانفال مکمل سورہ، التوبہ مکمل سورہ، الحج میں 71، النور میں 4، الاحزاب میں 22، محمدمکمل سورہ، اکفتح مکمل سورہ، الحجرات میں 5، الحدید میں 4، المجادلہ میں 9، الحشر میں 17، الممتحنہ مکمل سورہ، الصف مکمل سورہ، المنافقون مکمل سورہ، التحریم میں 1، العادیات میں 8، اور النصر مکمل سورہ۔ 

اس کے علاوہ احادیث کی کتب میں محدثین کرام نے " کتاب السیر" کاایک باب باندھا ہے۔ سیر، سیرت کی جمع ہے لیکن اس میں جہاد کے متعلق احادیث ذکر کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ علماء کرام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا غالب حصہ جہاد، غزوات و سرایا پر مشتمل ہے، اس لیے اس باب کا نام " کتاب السیر" رکھ دیا گیا۔ کتب احادیث میں جہاد کے بارے میں سینکڑوں احادیث اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم  ’’حَرِّضِ المُومِنِینَ عَلَی القِتَالِ‘‘ یعنی مسلمانوں کو جہاد کاشوق دلائیے ،کا حق ادا فرما دیا۔ جہاد کے بارے میں مسلمانوں کی عملی کوتاہیوں اور اسے ناپسند کرنے کی نفسیات کے پیش نظر قرآن نے واضح طور پر اعلان کر دیا تھا 

کْتِبَ عَلَیکُمُ القِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ، وَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوا شَیْءًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ، وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوا شَیْءًا وَّھُوَ شَرٌّ لَّکُم، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرہ:216)

’’تم پرقتال فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو برا لگتا ہے، ممکن ہے کہ تم کسی بات کو برا سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور ممکن ہے، تم ایک کام کو اچھا سمجھو اور وہ تمہارے حق میں برا ہو اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں، تم نہیں جانتے۔‘‘

جہاد کے حوالے سے قرآن و حدیث میں مذکور ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم صرف جہاد کی فرضیت اور احکام بیان فرمانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ ایک مسلمان کو مختلف پیرایوں میں جہاد کی ترغیب دے کر جہاد کے لیے کھڑا کرتا ہے، جہاد کے لیے تحریض کے الفاظ استعمال کر کے اسے گھر سے باہر نکالتا ہے اور پھر اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے جہاد کے میدان میں لے جاتا ہے، مسلمانوں کی تسلی کے لیے پہلی امتوں کی مثالیں اور جہاد کے قصص بیان کر کے اُن کے جذبہ جہاد و شہادت کو بیدار کرتا ہے، ترک جہاد پر وعیدیں سناتا ہے، مشکلات پر اُس کو صبر اور ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے، جہاد کے احکام و فضائل سناتا ہے اور اجرو ثواب کے وعدے کرتا ہے۔مجاہد ین کے گھوڑوں کی قسمیں کھاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فرشتوں کے اُترنے کی بشارتیں سناتا ہے، جنگ کا طریقہ بیان کرتا ہے، دشمنوں کی چالیں اور حیلے بتا کر اُن سے خبردار کرتا ہے، مجاہدین اگرڈرجائیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ کرام کے واقعات بیان کرکے اُس کے حوصلے بلند کرتا ہے اور ظاہری شکست پر اں ن کو تسلیاں دیتا ہے۔ 

اس ساری وضاحت کے ساتھ ضمناً یہ بات بھی سمجھ لی جائے کہ موجودہ دور میں اکثر اہل مدارس اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اقدامی جہاد کا حکم نہیں دیا جا سکتا بلکہ مسلمانوں کے وہ خطے جہاں کفار کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی ہے، انہیں اپنے دفاع کا مکمل حق ہے اور اس کے لیے وہ جو طریقہ بھی اپنائیں، ان کے حق میں جائز ہے۔ اور جہاں مسلمان اس قدر کمزور ہوں کہ اپنا دفاع بھی نہ کر سکیں، وہاں یہ فرض ان کے قریبی مسلمانوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں اور انہیں کفار کے شر سے محفوظ رکھیں۔ اسی اصول کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ 1979 میں جب روسی فوجوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تو پاکستانی مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے افغانستان جا کر جہاد میں حصہ لیا۔اس جہاد میں حصہ لینے والے کون لوگ تھے؟ بلاشبہ یہ دینی مدارس کے طلباء اور پاکستان کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے معاصر جہادی تنظیموں کے ساتھ وابستگی اختیار کی تھی اور اپنی مرضی اور شوق جہاد کی وجہ سے افغانستان گئے تھے۔ 

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی مسلمانوں کے لیے جہاد افغانستان میں حصہ لینے کی شرعی حیثیت کیا تھی؟ اس حوالے سے یہ اہم بات ذہن میں رہے کہ جہاد کے وجوب کے لیے امام کا ہونا ضروری ہے اور امام سے مراد وقت کا حکمران اور خلیفہ ہے۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جہاد افغانستان اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی نہ صرف مرضی سے ہوا بلکہ مجاہدین کو اس سیاسی و عسکری قیادت کی مکمل سرپرستی حاصل تھی ۔ یہ اعتراض کہ یہ جہاد امریکی شہ پر ہوا تھا اور اس کے پیچھے امریکی مفادات کار فرما تھے، یہ ایک الگ پہلو ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ امریکہ ہمیں اپنے مفادات کے تحت استعمال کر رہا تھا اور ہم اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اس کے اپنے مقاصد تھے اور ہماری اپنی ترجیحات، اور قوموں اور ملکوں کے درمیان یہ سیاست ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور اس سے اس جہاد کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسری بات یہ کہ اگر اس جہاد کے پیچھے امریکی مفادات کار فرما تھے اور پاکستان استعمال ہو رہا تھا تو اس کا وبال حکمرانوں پر ہے نہ کہ ان مجاہدین اور جہادی تنظیموں پر جو میدان جنگ میں برسر پیکار تھیں کیونکہ رعایا اپنے امام اور حکمران کی پابند اور ماتحت ہوتی ہے، خواہ یہ پابندی مرضی سے ہو یا بادل نخواستہ۔ آسان لفظو ں میں ہم اسے یہ تعبیر دے سکتے ہیں کہ سیاسی و عسکری قیادت صرف بظاہر اور سیاسی مفادات کے تحت اس جنگ میں حصہ لے رہی تھی اور مجاہدین اور جہادی تنظیمیں مکمل اخلاص اور جہاد سمجھ کر اس جنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ اب ان دونوں کی نیتوں کا فیصلہ اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ وہ جس کو چاہے نواز دے، جس کو چاہے اپنی پکڑ میں لے لے۔ 

اس بات کی وضاحت کے بعد کہ افغانستان کا جہاد شرعی و فقہی اصطلاح کے مطابق وقت کے امام اور خلیفہ کی اجازت بلکہ اس کی بھرپور سرپرستی سے ہوا، اس بات کی قطعا گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس جہاد کو پرائیویٹ جہاد کا نام دیا جائے یا اس پر عسکریت پسندی کے لیبل چسپاں کیے جائیں۔ ایک ایسا جہاد جو شرعی اور فقہی اصطلاح کے مطابق وقت کے امام اور خلیفہ کی اجازت اور سرپرستی سے ہوا ، اگر وہ بھی جہاد نہیں تو آج کے دور میں جہاد کی اور کون سے صورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور اگر یہ جہاد ہے اور یقیناًجہاد ہے تو پھر اس پر کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 

اب ہم آتے ہیں محترم عرفان شہزاد کے مضمون کی طرف ۔ انھوں نے اپنی بات کا آغاز انتہائی نامناسب الفاظ کے ساتھ کیا ہے، حالانکہ ان کے نام کے ساتھ لگے ہوئے ڈاکٹر کے سابقے سے اس طرح کے الفاظ کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو ’’جہاد افغانستان‘‘ کی ترکیب قبول نہیں اور وہ اسے عسکریت پسندی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا، وہ جہاد نہیں بلکہ عسکریت پسندی کی شروعات تھیں اور ہماری ہاں موجودہ عسکریت پسندی کی جو شکل پائی جاتی ہے، اس کے بیج افغانستان کی سرزمین پر بوئے گئے تھے۔ ان کے اس موقف کے پیچھے کوئی واضح دلائل نہیں بلکہ وہ خاص ذہنی سانچہ ہے جس میں ان کا ذہن ڈھل گیا اور اب انہیں ہر بات اسی خاص زاویہ کے تحت دیکھنی پڑتی ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی بھی استدلال خواہ کتنا ہی مضبوط ہو، وہ ان کے اس ذہنی سانچے کے مطابق فٹ نہیں بیٹھتا۔ کافی عرصہ پہلے ڈاکٹر عرفان شہزاد کے بارے میں فیس بک پر محترم ڈاکٹر طفیل ہاشمی کی وال پر ایک جملہ پڑھا تھا ، اس وقت سمجھ نہیں آیا، لیکن ان کی اس تحریر سے اس جملے کا مفہوم واضح ہو گیا۔ طفیل ہاشمی صاحب نے لکھا تھا کہ جس طرح کچھ لوگوں کا ذہن ایک خاص نکتے پر جا کر رک جاتا ہے، اسی طرح موصوف کی سوئی بھی ایک امام پر ہی اٹکی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے اگر میرے ہم نام کو ’’ جہاد افغانستان‘‘ کی ترکیب ہضم نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کا جی بھر کر مذاق اڑایا تویہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ ان کا ذہنی سفر انہیں جس جگہ پر لے گیا ہے، وہاں شعائر اسلام کا مذاق اڑانا کوئی بری بات نہیں سمجھا جاتا۔ 

جہاد افغانستا ن کے دنوں میں جہادی تنظیموں کی طرف سے جس طرح جہاد کی ترغیب دی جاتی تھی(حالانکہ اس سے پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ یہ جہاد باقاعدہ شرعی اور فقہی اصطلاح کے مطابق تھا)، اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ’’ مساجد اور مدارس میں جہادی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، جہادی مقررین اپنی شعلہ بار تقاریر سے نوجوان طلبہ کے جذبات کو برانگیختہ کیا کرتے تھے، جہادیوں کے شانوں تک چھوڑے ہوئے لمبے بال، گھنی داڑھیاں، کسرتی جسم، فولادی ہاتھ اور ان ہاتھوں میں اسلحہ، طلبہ کے لیے ہیروازم جیسی کشش رکھتے تھے، جہادی تنظیموں کے چندے کی مہم ایسی شان سے چلائی جاتی تھی جیسے عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے چلائی تھی، جہادی تربیتی کیمپ لگائے جاتے تھے جن میں جذبہ جہاد سے سرشار نوجوانوں کی تربیت کی جاتی اور پھر محاذ پر بھیج دیا جاتا تھا۔ مدارس کی چھٹیوں میں طلبہ کو جہادی کیمپوں میں جانے کی ترغیب دی کی جاتی تھی، دارالعلوم کراچی سے لے کر خیر المدارس ملتان تک سب مدارس کے طلبہ جہادی کیمپوں میں آتے تھے۔‘‘

دیکھیں اس عبارت میں موصوف نے اپنا سارا زور اس بات کا تمسخر اڑانے پر صرف کیا ہے کہ نوجوانوں کو کس طرح جہاد کی ترغیب دی جاتی تھی، حالانکہ جہاد کی ترغیب کا حکم خود قرآن نے دیا ہے ، اللہ کے نبی خود میدان میں نکل کر جہاد کی ترغیب دیا کرتے تھے اور ان بیسیوں آیات اور سینکڑوں احادیث کا کیاکیا جائے جو جہاد کی ترغیب کے حوالے سے قرآن و سنت میں مذکور ہیں۔کیا انہیں بھی طعن و تشنیع کا مرکز بنا لیا جائے اور ان پر آرٹیکلز لکھے جائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح میدان جنگ میں نکل کر اپنے صحابہ کو جہاد کی ترغیب دیا کرتے تھے؟ بات پھر وہی ہے کہ اصل مسئلہ اس ذہنی ساخت کا ہے جس میں موصوف کا ذہن ڈھل چکا ہے اور انہیں اس جراء ت پر آمادہ کر رہا ہے۔ 

اس کے بعد موصوف لکھتے ہیں ’’جمعہ و عیدین کی نمازوں میں افغانستان، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں برسرپیکار مجاہدین کے غلبہ و نصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں (دعاؤں کا تسلسل اب بھی جاری ہے)، جہادی نغمے اور ترانے جگہ جگہ اونچی آواز میں بجائے جاتے تھے۔‘‘ دیکھیں ان جملوں میں موصوف کے اندر کاتعصب کس طرح واضح ہو کر سامنے آ گیا ہے کہ انہیں امت مسلمہ کے حق میں ہونے والی دعائیں بھی ہضم نہیں ہوئیں۔ چلیں افغانستان کو چھوڑیں ، کیا فلسطین ، چیچنیا اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم نہیں ہو رہا اور کیا ان مسلمانوں کے حق میں دعا کرنا بھی جرم اور عسکریت پسندی ہے؟ کیا ان ملکوں کے مسلمان ظالم کے خلاف اگر ہتھیار اٹھا کر مزاحمت کر رہے ہیں تووہ بھی عسکریت پسند ہیں کہ ان کے حق میں دعا بھی نہیں کی جا سکتی؟ فیا للعجب! میں یہ سمجھنے سے قا صر ہوں کہ آخر موصوف کس قسم کے دین اور مذہب کے پیرو کار ہیں کہ دین محمدی تو ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا۔ اس دین میں تو ایک مسلمان کی تکلیف کو پوری امت کا درد مانا گیا ہے اور موصوف کو یہاں دعا تک گوارا نہیں اور انہیں امت مسلمہ کے لیے دعا کرنے سے بھی چڑ ہے اور اس سے انہیں عسکریت پسندی کی بو آتی ہے۔ 

میں نے پہلے عرض کیا کہ اصل مسئلہ عسکریت پسندی نہیں بلکہ اصل خار جہاد اور جہادی تعلیمات سے ہے اور اس خار کے پیچھے وہ خاص ذہنی سانچہ کار فرما ہے جو اصل حقائق کو پرکھنے نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ سانچہ ایک خاص فکر کے تحت وجود میں آیا ہے اور اس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ کس طرح امت کے اجتماعی تعامل کو پس پشت ڈال کر ایک نیا، جدید اور ماڈرن اسلام پیش کیا جائے، خواہ اس کے لیے امت کے مسلمہ عقائد کا انکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ آپ موصوف کی مزید جراء ت دیکھیں، وہ کیا لکھتے ہیں :

’’انہیں (دینی مدارس کے طلبہ کو) یہ بتایا جاتا ہے کہ جس نے جہاد نہ کیا اور نہ اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کیا، وہ منافقت کے درجے پر مرے گا۔ ان کا بیانیہ ایک شاعر کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے:

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا‘‘

میں موصوف کی جراء ت پر انہیں داد دیتا ہوں، لیکن خدا گواہ ہے کہ مجھے ان کی اس جراء ت پر ڈر لگ رہا ہے۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ مدارس کے طلباء کو بتایا جاتا ہے کہ جس نے جہاد نہ کیا اور نہ اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کیا، وہ منافقت کے درجے پر مرے گا، اگر میں غلط نہیں کہہ رہا تو یہ ایک حدیث کا مفہو م ہے اور موصوف ڈائریکٹ حدیث پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ایک امتی ہونے کے ناتے ہمارا اس حدیث پر مکمل ایمان اور یقین ہے اور ہم اس پر عمل کواپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ ہاں جہاد کی صورت اور نوعیت میں فرق ہو سکتا ہے۔اگر موصوف کو اس حدیث سے عسکریت پسندی کے بیانئے کی بو آتی ہے تو ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں بلکہ موصوف کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔

جہاں تک تعلق ہے دوسری بات کا جس میں موصوف نے ایک شعر پیش کر کے کہا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کا بیانیہ یہ شعر ہوتا ہے، میں آپ سے حلفیہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کا ایمان اس شعر کے مطابق نہیں؟ کیا اس شعر کا کسی بھی طرح سے عسکریت پسندی سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے ؟ دوسرے لفظوں میں کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی عسکریت پسندی ہے ؟ اگر یہ شعر عسکریت پسندی کا بیانیہ ہے تو اس شعر کے خالق مولانا ظفر علی خان سب سے بڑے عسکریت پسند ہیں ۔ مولانا ظفر علی خان کون ہیں؟ یہ بتانے کی البتہ ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس ملک کی بنیاد رکھنے والے لوگ ہی عسکریت پسند تھے اور اس ملک کی بنیاد ہی عسکریت پسندی پر رکھی گئی۔ حیران ہوں کہ موصوف کس دین اورکس مذہب کے پیرو کار ہیں کہ جس میں نبی اکرم کی محبت بھی عسکریت پسندی کا عنوان بن جاتی ہے۔ اور اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سورہ احزاب کی اس آیت کا مفہوم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نبی مومنین کی جانوں سے زیادہ ان پر حق رکھتے ہیں۔ اور یہ شعر اس حدیث کا مفہوم ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ کوئی مومن اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اگر مذکورہ شعر عسکریت پسندی کا بیانیہ ہے تو قرآن کی یہ آیت اور اور حدیث اس سے زیادہ شدت کے ساتھ عسکریت پسندی کا عنوان بن رہی ہیں، کیا ان کو قرآن و حدیث سے نکال دیا جائے؟

بعض اوقات ایک بات مکمل طور پر بدیہی اور واضح ہوتی ہے، لیکن مخاطب کا ذہن اسے اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کے مخصوص ذہنی سانچے کے مطابق فٹ نہیں بیٹھتی اور اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے اس بات کو قبول کر لیا تو وہ اس مخصوص ذہنی سانچے سے باہر نکل جائے گا اور اس سے اس کے مفادات پر زد پڑے گی۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک بات مکمل طور پر واضح اور غیر مبہم ہوتی ہے، لیکن مخاطب کسی خاص گروہ سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس بات کو قبول نہیں کرتا کیونکہ اس گروہ سے اس کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔اورکبھی خود کو ماڈرن اور جدت پسند ثابت کرنے کے لیے مسلمہ اور متفقہ مسائل پر چھیڑ خانی شروع کر دی جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ جراء ت اس لیے کی جاتی ہے کہ مخاطب اپنے حالات اور زمانے سے اس قدر متاثر ہوجاتا ہے کہ صحیح اور غلط کی پہچان ہی کھو دیتا ہے۔ اس کی اپنی علمی پختگی، اپنے موقف پر ثابت قدمی اور اپنے عقائد و نظریات پر تصلب محض ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے عقائد و نظریات موسم کی طرح بدلتے رہتے ہیں، جہاں جدت پسندی کا کوئی نیا علمبردار اٹھا، یہ جمپ لگا کر فوراً اس کیمپ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ان کی اپنی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ انہیں خود اپنے نظریات اور عقائد کی پہچان نہیں ہوتی کہ یہ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، یہ خود اپنے نظریات اور تفردات کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔

میرے ہم نام کا پورا مضمون غلط تجزیے اور غلط حقائق پر مبنی ہے۔ وہ اپنے مخالف فریق کے موقف کو اپنی مرضی کا جامہ پہناتے ہیں اور اس کی ایسی تشریح کرتے ہیں جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ 

جہاد افغانستان کے بعد موصوف کا دوسرا دعویٰ یہ تھا کہ عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں دوسرا اہم ترین عامل دینی مدارس اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب ہے۔ اس سے بھی پہلے وہ برصغیر کی قدیم جہادی تحریکوں اور خلافت کے قیام کے حوالے دیتے ہیں۔ پہلے وہ خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خلافت کے قیام کا انکار کوئی عام مسلمان بھی نہیں کر سکتا، لیکن اس سے اگلی سطر پر وہ قیام خلافت کے لیے کی جانے والی کوششوں پرعسکریت پسندی کا لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ تحریر داخلی تضادات کا بہترین شاہکار ہے جس میں خود انہیں معلوم نہیں کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں اور ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ بس اندر کا ایک تعصب ہے جس نے انہیں بے چین کر رکھا ہے اور انہیں خود معلوم نہیں کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں اور ان کا اصل مدعا کیا ہے۔ سید احمد شہید کی تحریک جہاد کا حوالہ دیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں ’’ اگرچہ کفار اور سرکشوں سے ہر زمانے اور ہر مقام میں جنگ کرنا لازم ،ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ اس زمانے میں کہ اہل کفر و طغیان کی سرکشی حد سے گزر چکی ہے، مظلوموں کی آہ و فریاد کا غلغلہ بلند ہے، شعارِ اسلام کی توہین ان کے ہاتھوں صاف نظر آ رہی ہے، اس بنا پر اب اقامت رکن دین، یعنی اہل شرک سے جہاد، عامہ مسلمین کے ذمے کہیں مؤکد اور واجب ہو گیا ہے۔‘‘ (ابو الحسن علی ندوی ، سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم، ص 388)

سید احمد شہید کی اس عبارت کا حوالہ دینے کے بعد موصوف اس پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ بیانیہ غلط ہے کہ اس میں ’’ہر حال اور ہر مقام‘‘ پر کفار سے جنگ کا داعیہ پایا جاتا ہے اور یہی بیانیہ موجودہ جہادی تنظیموں کا بنیادی ماخذ ہے۔ میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ اگرموصوف ذرا سی عقلمندی کا مظاہرہ کرتے اور اس بیانیے کو اس دور اور ان حالات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے تو شاید انہیں بات کی پوری طرح تفہیم ہو جاتی لیکن چونکہ ان کا مقصد محض تنقید برائے تنقید ہے، اس لیے انہوں نے یہ زحمت کرنا گوارا نہ کیا۔ اس لحاظ سے تو موصوف ہمیں اسی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جن کا موقف تھا کہ 1857 کی جنگ آزادی جہاد نہیں بلکہ غدر تھا اور مسلمانوں کو حکومت برطانیہ کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھانے چاہیے تھے۔ 

اس کے بعد موصوف کا اگلا استدلال دیکھیں ’’جو حکومت اور سیاست کے مردِ میدان تھے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اس لیے مجبوراً چند غریب و بے سروسامان کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور محض اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے۔‘‘ (سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم، ص 389)

اس عبارت سے بھی میرے ہم نام کو عسکریت پسندی کے بیانیے کی بو آتی ہے اور وہ انہیں موجودہ حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر اس عبارت کو ان حالات کے تناظر میں دیکھاجائے جب یہ عبارت لکھی گئی تھی تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ مثلاً انیسویں صدی کے آغاز میں جب سید احمد شہید جہاد کی دعوت لے کر اٹھے تھے، اس وقت تک مغلیہ سلطنت محض دہلی کے لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ، قلعے کے اندر بھی بادشاہ کی بات نہیں سنی جاتی تھی اور یہ محض برائے نام بادشاہت تھی، اصل حکومت انگریز سرکار کے پا س تھی۔ اب ان حالات میں اگر کوئی اللہ کا بندہ برصغیر کے مسلمانوں کی عظمت گزشتہ کی بحالی اور خلافت کے قیام کے لیے جد جہد کرتا ہے تو اس میں کیا برائی تھی؟ اس وقت کون سا امام یا خلیفہ موجود تھا جس کی طرف سے اعلان جہاد کا انتظار کیا جاتا؟ فرض کریں اگر آج پاکستان برطانیہ کے قبضے میں چلا جائے اور پورے ملک پر انگریز کا قبضہ ہو جائے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ اس لیے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے کہ جہاد کا حکم خلیفہ دے گا اور وہ موجود نہیں، لہٰذا ہم انگریزوں کی غلامی کو قبول کرلیں، یا آپ اپنے طور پر انگریزوں کو اس ملک سے نکالنے کے لیے جد وجہد کریں گے۔ سید احمد شہید نے بھی یہی کیا تھا کہ جب انہیں نظر آیا کہ مغلیہ سلطنت محض لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے تو انہوں نے اپنے طور پر دفاعی جہاد کی ایک شکل پر عمل کرتے ہوئے یہ حکمت عملی اختیار کی۔ اگر موصوف کے دعوے کو سچ مان لیا جائے تو اس طرح تو برصغیر میں آزادی کے نام پر ہونے والی ہر جد وجہد عسکریت پسندی کا عنوان بن جائے گی۔ کیا آپ اپنی ساری تاریخ کو یہ عنوان دینے اور اس پر عسکریت پسندی کا لیبل چسپاں کرنے کے لیے تیار ہیں؟

موصوف کے دعوے کا دوسرا جز یہ تھا کہ عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں دوسرا اہم ترین عامل دینی مدارس اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب ہے۔ موصوف نے دینی مدارس میں پڑھائی جانے والی مختلف کتب کے حوالے دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عسکریت پسندی کا جہادی بیانیہ ان کتب سے ماخوذ ہے۔ میں پہلے موصوف کے وہ حوالے نقل کرتا ہوں جو انہیں نے اپنے مضمون میں پیش کیے ہیں :

’’کفار سے جنگ کرنا واجب ہے، خواہ وہ ہم سے جنگ کرنے میں ابتدا نہ کریں۔‘‘ 

’’جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو، ان سے جنگ کرنا جائز نہیں، البتہ دعوت کے بعد جنگ کرنا جائز ہے۔ بہتر ہے کہ جس تک دعوت پہنچ چکی ہو، اسے بھی دعوت دی جائے، تاہم یہ واجب نہیں ہے۔ پھر اگر مخاطبین دعوت کا انکار کر دیں تو مسلمان اللہ کی مدد طلب کریں، ان منکرین پر جنگ مسلط کر دیں، ان پر منجنیقیں نصب کریں، آگ لگا دیں، ان پر پانی چھوڑ دیں، ان کے درخت کاٹ دیں، ان کے کھیت برباد کر دیں۔ ان منکرین پر تیر چلانے میں بھی کوئی حرج نہیں، چاہے وہاں مسلمان قیدی یا تاجر بھی ہوں، یا مسلمانوں کے بچوں یا مسلمان قیدیوں کو انہوں نے ڈھال بنایا ہوا ہو، مسلمان تیر چلانے سے ہاتھ مت روکیں، البتہ تیر چلاتے ہوئے کفار کو مارنے کی نیت کر لی جائے۔‘‘ (کتاب السیر، 52، مختصر القدوری)

قدوری کا یہ حوالہ نقل کرنے کے بعد موصوف اپنے فاسد خیالات کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ دیکھیں یہاں دینی مدارس کے طلباء کی ذہن سازی کی جا رہی ہے اور انہیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ وہ کفار پر حملہ کردیں، ان کی فصلوں کو تباہ کردیں، ان کے درخت کاٹ دیں ۔۔۔الخ۔پہلی بات یہ ہے کہ اگر موصوف کو صاحب قدوری کی یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تو قرآن تو اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں کہتا ہے کہ اگر کفار سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو ان کی گردنیں اڑا دو اور ان کے پور پور پر ضرب لگاؤ۔ (سورہ انفال، 12)، اس کے علاوہ قرآن کی سینکڑوں آیات اور سینکڑوں احادیث جہاد کی ترغیب دیتی ہیں بلکہ ہاتھ پکڑ کر اسے میدان جنگ میں لا کر کھڑا کر دیتی ہیں، لہٰذا موصوف کو چاہیے کہ قرآن کی ان سینکڑوں آیا ت اور احادیث کو بھی عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کا بنیادی ماخذ قرار دے دیں اور پھر اس کا تمسخر اڑائیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ موصوف اگر ذرا سی بھی علمی دیانت کا مظاہرہ کرتے اور بات کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتے تو انہیں نظر آجاتا کہ صاحب قدوری یہاں اقدامی جہاد کی بات کر رہے ہیں اور اس دور میں مسلمان اقدامی جہاد کے قابل تھے، لہٰذا یہ عبارت اقدامی جہاد سے متعلق ہے۔ اور آج جب مدارس میں یہ عبارت پڑھائی جاتی ہے تو اس کی وضاحت کر دی جاتی ہے کہ یہ سب تعلیمات اقدامی جہاد سے متعلق ہیں۔اور یہ تعلیمات اس وقت قابل عمل ہوں گی جب مسلمان اس قابل ہوئے کہ وہ اقدامی جہاد کے لیے قدم بڑھا سکیں۔ میں اسے موصوف کی کم ظرفی سمجھوں کہ وہ عبارت کو اصل سیاق و سباق میں پیش کرنے کی بجائے اپنے مطلب کا جامہ پہنا رہے ہیں یا موصوف کی کم علمی کہ جنہیں عبارت کا اصل مفہوم سمجھ ہی نہیں آیا؟ موصوف جمع خاطر رکھیں کہ ان کی فرمائش پر دینی مدارس کے نصاب سے یہ عبارات نکالی نہیں جا سکتی۔

موصوف کا اگلا حوالہ دیکھیں : ’’قتال کی نصوص کے عموم کی رو سے کفار سے قتال واجب ہے، اگرچہ جنگ کی ابتدا ان کی طرف سے نہ ہو۔‘‘ (کتاب السیر، الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی)

یہ عبارت پیش کرنے کے بعد بھی موصوف وہی پہلے والا اعتراض دہراتے ہیں لیکن یہاں بھی موصوف کی کم علمی اور کم ظرفی پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے کہ یہاں بھی اقدامی جہاد کی بات ہو رہی ہے۔ 

آگے موصوف امام سرخسی کی کتاب المبسوط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال جاری رکھوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں، جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جان اور مال بچا لیا، سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

’’اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر نہ ہو تو صلح نہیں کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ نیز اس وجہ سے بھی صلح نہیں کرنی چاہیے کہ مشرکین سے جنگ کرنا فرض ہے اور بلا عذر فرض کو ترک کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘ (باب صلح الملوک و الموادعۃ، المبسوط ج 10 ص 86)

دیکھیں امام سرخسی کی یہ عبارت بھی اقدامی جہاد سے متعلق ہے۔ امام سرخسی نے پہلے ایک حدیث اور بعد میں قرآن کی آیت پیش کی ہے اور ان دونوں عبارات سے صاف واضح ہے کہ یہ اقدامی جہاد سے متعلق ہیں لیکن موصوف کو قرآن کی اس آیت اور حدیث سے عسکریت پسندی کے بیانیے کی بو آتی ہے۔میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آیا موصوف کی علمی قابلیت ہی اتنی ہے کہ وہ اس صاف اور واضح بات کو نہیں سمجھ سکے یا اس میں موصوف کے کچھ ذاتی مفادات وابستہ ہیں جو انہیں اس تجاہل عارفانہ پر مجبور کر رہے ہیں۔ 

اس کے بعد موصوف اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں ’’ مدرسے کا ایک طالب علم جب فقہ کا یہ بیانیہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف یہ دیکھتا ہے کہ مسلم حکومتیں غیر مسلم ریاستوں پر جنگ مسلط نہیں کرتیں اور نہ اس کا کوئی ارادہ ہی رکھتی ہیں، بلکہ الٹا بلا عذر ان کے ساتھ صلح کر کے جہاد کے فریضے کو ہی ترک کرنے کی مرتکب ہو چکی ہیں، تو وہ اس مثالی اسلامی خلافت کے قیام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے، جس کا بیانیہ وہ فقہ میں پڑھتا ہے، یعنی ایسی خلافت جو آگے بڑھ کر اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ سر انجام دے اور غلبہ حق کے لیے غیر مسلموں پر جنگ مسلط کر دے اور انہیں محکوم بنا لے۔‘‘

ویسے میرے ہم نام ہوائی باتیں چھوڑنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ پہلے اپنے ذہن میں کچھ چیزیں فرض کرتے ہیں، ذہن میں ایک خاکہ بناتے ہیں، پھر اس میں رنگ بھرنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی مفروضہ تصویر بن کر منصہ شہود پر آجاتی ہے۔ اس فن کا استعمال انہوں نے مذکورہ بالاعبارت میں خوب کیا ہے۔ موصوف کی مذکورہ بالا عبارت دوبارہ پڑھیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک مدرسے کا طالب علم جب یہ بیانیہ پڑھتا ہے تو ۔۔۔الخ۔ ڈاکٹر صاحب، آپ حوصلہ رکھیں، گزشتہ عرصے میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ہیں، ان میں دینی مدرسے کا کوئی طالبعلم ملوث نہیں اور نہ مستقبل میں ایسا ہو گا۔ آپ نے جو نقشہ کھینچا ہے، یہ محض آپ کی ذہنی اختراع ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کے بعد موصوف شاہ ولی اللہ اور مولانا مودودی کی جہادی تعلیمات کا تذکرہ کر کے اپنے تعصب کا اظہار کرتے ہیں۔ حیرت اس بات کی ہے کہ موصوف کس مکتبہ فکر کی جہادی تعبیر کو مانتے ہیں ،کم از کم انہیں اتنا تو واضح کرنا چاہیے تھا۔جہاں تک ان کے مضمون کا تعلق ہے، اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ سرے سے جہاد کے ہی قائل نہیں یا انہیں جہاد سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

اس کے بعد موصوف جمہوریت کے بارے میں اصحاب مدارس کے نقطہ نظر کے حوالے دیتے ہیں۔آپ پہلے وہ حوالے دیکھیں: 

قاری طیب قاسمی اپنی کتاب ’’فطری حکومت‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’یہ (جمہوریت) رب تعالیٰ کی صفت ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفت علم میں بھی شرک ہے۔‘‘

احسن الفتاویٰ میں مفتی رشید احمد،ج 6 ص 26 میں لکھتے ہیں : ’’یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘

مولانا یوسف لدھیانوی آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج 8 ص 176 میں لکھتے ہیں: ’’جمہوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے (ظاہر ہے اسلام کی ضد کفر ہی ہے)۔‘‘

مولانا عاشق الٰہی بلند شہری، تفسیر انوار البیان ، ج 1 ص 518 میں لکھتے ہیں : ’’ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل جاہلانہ جمہوریت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

مولانا فضل محمد، اسلامی خلافت، ص 117 میں لکھتے ہیں: ’’اسلامی شرعی شوریٰ اور موجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں۔ وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے جس کا شرعی شورائی نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔‘‘

مولانا تقی عثمانی دور حاضر کے معتدل ترین علما میں سے ہیں، لکھتے ہیں: ’’جمہوریت میں عوام خود حاکم ہوتے ہیں، کسی الٰہی قانون کے پابند نہیں تو وہ خود فیصلہ کریں گے کیا چیز اچھی ہے یا بری۔ ۔۔۔جمہوریت سیکولرازم کے بغیر نہیں چل سکتی۔‘‘ (اسلام اور سیاسی نظریات، مولانا تقی عثمانی، ص 146)

پہلی بات یہ کہ موصوف نے جمہوریت کے حوالے سے احباب مدارس کی جو عبارات اور حوالے نقل کیے ہیں، ان کا تعلق مغربی جمہوریت سے ہے کہ مغرب میں جمہوریت نے جو گل کھلائے ہیں، ان کے پیش نظر اسلام میں اس تصور کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیا موصوف کے علم میں نہیں کہ مغرب میں اس جمہوریت نے ہم جنس پرستی ، زنا کو قانونی درجہ دینے، والدین کو اولڈ ہومز میں بھیجنے ، والدین کو جیلوں میں بند کر وانے ، خاندانی نظام ختم کرنے اور اس جیسے دیگر قوانین کو صرف اس بنیاد پر قانون کا درجہ دے دیا کہ اس کو جمہوریت نے سپورٹ کیا تھا۔ اب جب ان علماء اور اصحاب مدارس کے سامنے یہ مسائل تھے اور یہ صرف اور صرف جمہوریت کا ثمر تھے تو آپ ایک سلیم الفطرت انسان سے اس تصور کو غلط قرار دینے کے سوا کیا توقع کر سکتے ہیں۔ مغربی جمہوریت کے بارے میں یہی بات تو قرآن نے بھی کہی ہے، ’’ان الحکم الا للہ‘‘  کہ اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کے پاس ہے جبکہ جمہوریت کے تصور میں اقتدار اعلیٰ کا مالک عوام کو مانا جاتا ہے۔ جو بات قرآن کہتا ہے، ان اصحاب مدارس نے قرآن کی اسی بات کو مد نظر رکھ کر اس کے خلاف اپنی آرا ء کا اظہار کیا ہے ، اب موصوف کو چاہیے کہ قرآن کی اس آیت کو بھی جمہوریت کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر پیش کردیں اور اس کا تمسخر اڑائیں۔ 

جہاں تک بات ہے اس جمہوریت کی جو پاکستان اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں رائج ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ اب اصحاب مدارس اس تصور جمہوریت کو قابل قبول قرار دیتے ہیں بایں طور کہ اس تصور جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ اللہ کے پاس ہو گا اور اس جمہوریت کے نتیجے میں منتخب افراد قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کریں گے۔ اگرچہ ابھی تک اس پر ٹھیک طرح سے عمل نہیں ہو رہا، لیکن بہر حال علماء اس تصور کی گنجائش کے قائل ہیں مگر ان شرائط و ضوابط کے ساتھ جو انہوں نے اس کے ساتھ عائد کیے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اقتدار اعلیٰ اللہ کے پاس ہونے کی صورت میں ایسا کوئی بھی قانون جو خلاف شریعت ہو گا اسے منظور نہیں کیا جائے گا اور ہم ممکنہ طور پور مغربی جمہوریت کے ان ثمرات سے محفوظ رہیں گے جن کا مظاہرہ ہم آئے روز دیکھتے ہیں۔ موصوف ان اہل مدارس سے کیا توقع کر رہے ہیں کہ مغربی تصور جمہوریت کی غلطیوں اور برائیوں کوکھلی آنکھوں دیکھنے اور جاننے کے باوجود اس کے حق میں فتویٰ دیں اور اس کے حق میں جلسے اور جلوس نکالیں۔ ایسا کام صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں نہ خدا کا ڈر ہو نہ احادیث رسول کا کوئی احترام۔ جنہیں اسلام کے سیدھے سادھے نظام میں بھی غلطیاں دکھائی دیں لیکن مغربی کا غیر انسانی اور غیر اخلاقی نظام انہیں آئیڈیل دکھائی دے یا جن کے پیش نظر ذاتی مفادات ہوں اور انہیں آخرت کی فکر نہ ہو۔ 

یہ حوالے اور عبارات نقل کرنے کے بعد موصوف نے انتہائی تعصبانہ تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ’’ اب جب طلبہ کو یہ بتایا جائے گا کہ جمہوریت غیر اسلامی نظام ہے تو وہ اس نظام حکومت اور آئین کے بارے میں جو موقف اپنائیں گے، وہ ظاہر ہے۔ علما تو اپنی دو عملی کے لیے گنجائش نکال لیتے ہیں یعنی ایک طرف وہ جمہوریت کو بھی غلط کہتے ہیں، لیکن آئین سے وفاداری کا اعلان بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے سادہ مزاج طلبہ پوچھتے ہیں کہ کیا آئین بھی انسانوں نے جمہوریت کے اکثریتی رائے کے اصول پر نہیں بنایا ہے؟ کل اگر اکثریتی رائے سے اس میں غیر اسلامی شقیں ڈال دی جائیں یا پورے آئین کو ہی سیکولر بنا دیا جائے تو کیا جمہوری اصولوں پر اسے بھی مان لیا جائے گا؟ اگر نہیں، تو پھر آج اس کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے؟ اس لیے نہ جمہوریت درست ہے نہ انسانوں کا بنایا ہوا آئین۔ یہ طلبہ اپنے اساتذہ کو ان کا ہی پڑھایا ہوا سبق سنانے لگتے ہیں اور اساتذہ کے پاس کوئی جواب بھی نہیں ہوتا۔‘‘

اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان کے اس تعصبانہ تجزیے پر ماتم کرنے کے لیے عرب کے کسی جاہلی شاعر کو بلاتا اور اس سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے پورے جلال و کمال کے ساتھ موصوف کی اس عبارت کا ماتم کرے۔ مدارس میں طلبہ کو جمہوریت کے اسی تصور سے روشناس کرایا جاتا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا، اس لیے موصوف کو چاہیے کہ اپنا ذہن کلیئر کر لیں اور اگر چاہیں تو کسی دن میرے ساتھ جا کر کسی مدرسے کا وزٹ کر لیں۔ اگر وہ سلیم الفطرت انسان ہیں اور ان میں بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہے تو یقیناًوہ اپنی اس بات سے رجوع کر لیں گے۔ اور اس سے اگلی بات کہ علماء کو اپنی دوعملی کے لیے گنجائش مل جاتی ہے، یہ مقدمے کے پہلے قضیے پر موقوف ہے اور جب مقدمے کا پہلا قضیہ ہی غلط ہے تو اس سے برآ مد ہونے والا نتیجہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ یعنی علماء پاکستان میں رائج جمہوریت کو( اس کی شرائط کے ساتھ ) غیر اسلامی نہیں مانتے اور نہ ہی اس کے خلاف فتوے دیتے ہیں تو اس سے اگلی بات کہ وہ طلبہ کو کچھ بتاتے ہیں خود کسی اورموقف کا اظہار کرتے ہیں، یہ بات کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے۔ 

موصوف کی ان سطروں کو پڑھنے کے بعد مجھے گمان ہو نے لگا ہے کہ شاید موصوف ماضی کی الف لیلہ داستان کے قصہ گو رہے ہیں کہ جنہیں قصہ گوئی اور خود سے کہانیاں گھڑنے کا بہت شوق اور مہارت حاصل ہے۔ وہ کسی بھی راہ چلتے انسان کے متعلق کوئی بھی کہانی بآسانی گھڑ کر اس کے سر تھونپ سکتے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مدارس نے عسکریت پسندی کے خلاف جوابی بیانیہ جار ی نہیں کیا تو موصوف کے علم میں ہونا چاہئے کہ جب سے یہ مسائل پیش آئے، علماء کی جانب سے حکومت کی غلط پالیسیوں پر مثبت تنقید کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں بڑا واضح موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد ناجائز ہے ، قرآن و حدیث میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہی کاؤنٹر نیریٹو تھا جو علماء کے بس میں تھا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے پر اپنی رائے کو واضح کریں۔ ار باب مدارس کا کام کسی چیز کا ابلاغ اور اس کو پہنچا دینا ہی تھا، کسی کو زبردستی اس پہ لانا ان کے اختیار میں تھا اور نہ ان کے لیے ایسا ممکن تھا۔ 

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض ارباب مدارس کو عسکریت پسندوں کے گروپوں تک رسائی تھی تو عسکریت پسند گروپوں نے اربا ب مدارس کی یہ بات مانی کیوں نہیں، یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس مسئلے کے پس پردہ جو محرکات ہیں، وہ مذہبی نہیں سیاسی یا کچھ اور ہیں۔ اور اب اس راز سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے ، حال ہی میں خود کو رضا کارانہ طور پر پاک فوج کے حوالے کرنے والے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان کے یہ انکشافات اس حوالے سے چشم کشا ہیں :

’’ہم اسلام کا نعرہ لگاتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے، طالبان نے خاص طور پر اسلام کے نام پر نوجوان طبقے کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملایا، میں نے ان تنظیموں کے اندر رہ کر بہت کچھ دیکھا، یہ لوگوں کو اسلام کے نام پر ورغلا کر بھرتی کرتے تھے جبکہ یہ خود اس تعریف پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ایسے لوگ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوا تو ہم سب افغانستان چلے گئے۔را نے ہر کارروائی کی قیمت ادا کی، جب ہم افغانستان پہنچے تو میں نے وہاں دیکھا کہ ٹی ٹی پی کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ تعلقات بڑھنے لگے ہیں۔ را نے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مالی معاونت فراہم کی اور ٹی ٹی پی کو اہداف دیے اور پاکستان میں کی جانے والی ہر کارروائی کی قیمت بھی ادا کی۔ جب ٹی ٹی پی نے بھارت سے مدد لینی شروع کی تو میں نے عمر خالد خراسانی کو کہا کہ یہ تو ہم کفار کی مدد کر رہے ہیں، اس سے ہم اپنے لوگوں کو مروائیں گے جو کہ کفار کی خدمت ہو گی ،عمر خالد خراسانی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں تخریب کاری کرنے کے لیے مجھے اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو میں لوں گا۔ ان تنظیموں نے مختلف کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط رکھتے ہیں۔ بھارت نے ان لوگوں کو"تذکرہ" دیا تھا۔ یہ تذکرہ افغانستان کے قومی شناختی کارڈ کی طرح استعمال ہوتا ہے اور اس کے بغیر سفر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی تمام تر نقل و حمل کا عمل افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کو بھی ہوا کرتا تھا اور این ڈی ایس ہی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتی تھی۔‘‘

کیا ان انکشافات کے بعد بھی موصوف عسکریت پسندی کا دوش ار باب مدارس کو دیں گے ؟ 

ویسے میں موصوف سے پوچھنا چاہوں گا کہ عسکریت پسندی کا یہی مسئلہ عراق، شام، لیبیا اور مصر میں بھی موجود ہے تو سوال یہ ہے کہ وہاں پر کون سے مدارس ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے یا جنہوں نے عسکریت پسندی کے بیانیے کو فروغ دیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بین الاقوامی طاقتوں کا کھیل ہے، سامراجی طاقتیں دنیا کے نئے جغرافیے بنارہی ہیں، اسلامی ملکوں کو میدان جنگ بنا کر انہیں ڈی سٹیبلائز کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پورا عالم اسلام اسی قسم کے حالات سے دوچار ہے، وگرنہ عسکریت پسندی سمیت اس وقت ہم جن مسائل کا شکار ہیں، ان کی مدت زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال ہے اور مدارس اس خطے میں سو ڈیڑھ سو سال سے موجود ہیں تو اس وقت سے یہ مسائل کیوں پیدا نہیں ہوئے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی مسئلے میں سامراجی طاقتوں کے مفادات شامل ہوجائیں تو وہاں صرف مقامی افراد کو گناہگار ڈکلیئر نہیں کیا جا سکتا۔ان مسائل کے پیچھے یقیناًبہت سے عناصر ہیں جن میں کچھ عالمی اور کچھ مقامی ہیں جن میں سے ایک عنصر مذہب کا بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ جن کے اس مسئلے سے مفادات وابستہ ہیں، انہوں نے جہاں اور بہت ساری چیزوں کو استعمال کیا، وہاں انہوں نے مذہب کو بھی استعمال کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذ ہب کو ہی آڑے ہاتھوں لے لیا جائے اور سارے الزام مذہب اور اہل مذ ہب کے سر تھوپ دیے جائیں۔ 

اس لیے ڈاکٹر عرفان شہزاد سے گزارش ہے کہ حالات کو ان کے اصل تناظر میں دیکھیں۔ تجزیہ کرتے وقت زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں۔ اب ساری چیزیں واضح ہو چکی ہیں ، بار بار گڑے مردے اکھاڑنے اور لکیر کو پیٹتے رہنے سے اب کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ اس لیے اپنا اور قوم کا وقت ضائع نہ کریں۔ آگے بڑھیں اور پہلے سے طے شدہ امور اور بار بار ڈسکس ہونے والی بحثوں سے کنفیوڑن نہ پھیلائیں۔ بات اب آگے بڑھ چکی ہے ، دینی مدارس ان عسکریت پسند گروہوں سے اعلان براء ت کر چکے ہیں اور اس حوالے سے ان کا کردار واضح ہے۔ تفرقہ پھیلانے کی بجائے ایسی بحثوں کا آغاز کریں جن میں اجتماعی او رقومی مفاد کی بات کی گئی ہو۔ اور اگر اب بھی آپ کی سوئی اسی مقام پر اٹکی ہوئی ہے تو پھر آپ اپنا منجن بیچتے رہیں، یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی قسمت میں یہی لکھا ہے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس