دینی مدارس اور عصری رجحانات

غازی عبد الرحمن قاسمی

بر صغیر پاک وہند میں دینی مدارس کی بے مثال خدمات ہیں ۔اور ایسے مدارس کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں دین متین کی تبلیغ واشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور ان اداروں سے ایسی نامور علمی شخصیات تیار ہوئیں جن کی دینی روایات اور اسلامی اقدار کے لیے مساعی جمیلہ قابل ستائش اور وجد آفرین ہیں ۔ دور جدید میں نئے مسائل اور عصری تقاضے ہیں جن کی رعایت رکھتے ہوئے اگر دینی مدارس میں علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس ہو توا س عظیم الشان کا م کو مزید بہتر انداز میں کیا جاسکتاہے ۔زیر نظر مقالہ میں بالعموم پاکستان کے دینی مدارس اور بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحقہ دینی مدارس کو جن عصری تقاضوں کا سامناہے ان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

پاکستانی مدارس کا پس منظر

پاکستان میں اس وقت علوم اسلامیہ کی ترویج واشاعت کے سلسلے میں ہزاروں چھوٹے وبڑے مدارس اپنی اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں ۔جن کا تعلق مختلف مکاتب فکر سے ہے چنانچہ اس سلسلہ میں علماء دیوبند ،علماء بریلی،علماء اہل حدیث ،اورجماعت اسلامی کے مختلف شہروں میں قائم کردہ دینی مراکز ہیں جن میں علوم دینیہ کی تعلیم دی جارہی ہے۔اور ان تمام مدارس کا تعلق مدینہ منورہ سے قائم صفہ کے اس عظیم مدرسہ سے ہے جہاں سے دینی علوم کے چشمے جاری ہوئے اور وہاں کے فضلاء نے پوری دنیا میں اسلام کے پیغام کو پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور یوں شمع سے شمع روشن ہوتی گئی اور آج دینی مدارس کا جال ہمیں عالم اسلام اور دنیا کے مختلف خطوں میں نظرآرہاہے ۔

قیام پاکستان کے بعداولاً تو حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست میں ایسا نظام تعلیم رائج کرتی جو دینی اور دنیاوی تعلیم کا جامع ہوتا ۔ جس میں قرا ن وسنت کی مکمل تعلیم اور جدید علو م وفنون کو مد نظر رکھتے ہوئے مشترکہ نصاب تشکیل دیا جاتا جس کو پڑھنے کے بعد ہر مسلمان دینی تعلیم میں بھی مہارت ولیاقت رکھتا اور دنیاوی علوم پر بھی اس کی اچھی خاصی دسترس ہوتی،مگر افسوس کہ بعض ایسی وجوہات جن کے تذکرے کا نہ یہ موقع ہے اور نہ ہی وقت کی قلت اس کی گنجائش دیتی ہے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ۔چنانچہ جب حکومتی سطح پر یہ اقدامات نہیں ہوئے تو ارباب مدارس نے آپس میں اتفاق واتحادپیدا کرنے کے لیے اور نصاب میں ہم آہنگی اور طریقہ تدریس کو یکساں بنانے کے لیے کوششیں شروع کیں ۔

پاکستان میں مدارس کے مختلف بورڈزہیں جن میں ایک اہم تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان (علماء دیوبند) کے نام سے معروف ہے ۔جس کے تحت ایک بہت بڑی تعداد مدارس کی اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔

اسی سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔چنانچہ ان مدارس میں باہمی ربط اور نصاب تعلیم کو منظم کرنے کے لیے ایک اجلاس جامعہ خیرالمدارس ملتان میں 20 شعبان المعظم 1376ھ بمطابق 22 مارچ 1957ء کو مولانا خیرمحمد جالندھری ؒ کی زیر صدارت منعقدہوا اور ایک تنظیمی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ تنظیمی کمیٹی کے اجلاس منعقدہ 14-15ربیع الثانی 1379ھ مطابق 18-19اکتوبر 1959ء میں باقاعدہ طور پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نام سے ایک ہمہ گیر تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ اورملک گیر سطح پر تمام دینی مدارس کی ایسی فعال اور مربوط تنظیم کی مثال دیگر اسلامی ممالک میں نہیں ملتی۔ یہ امتیاز صرف پاکستان کے دینی مدارس کو حاصل ہے کہ وہ ایک مربوط تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں۔وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علماء کی تعدادایک لاکھ انیس ہزار آٹھ سو بانوے (119892)، عالمات کی تعدادایک لاکھ پچاس ہزار اٹھائیس(150028) اور حفاظ کی تعداد نولاکھ پچیس ہزار ایک سو بانوے(925192) ہے۔(1)

یہ تو صرف ایک مکتبہ فکر (علماء دیوبند )کے مدارس کے فضلاء اور فاضلات کی تعداد ہے جب کہ دیگر مکاتب فکر کے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء اور فاضلات کے اعداد وشمار کو بھی اگر اکھٹا کرلیا جائے تو یہ ایک بہت بڑی تعداد ہوگی جو ان مدارس سے دینی تعلیم وتربیت حاصل کررہی ہے ۔

اس وقت دینی مدارس صرف خالصتاً علوم اسلامیہ کی تعلیم کے ساتھ مختص ہوگئے ہیں اور سکول وکالجز اور یونیورسٹیز میں جدید علوم وفنون کی تدریس ہونے لگی ۔سکول وکالجز اور دینی مدارس میں نصاب تعلیم کی یہ دوری بڑھتی گئی بدقسمتی سے اس وقت دونوں طرفوں سے ایک دوسرے کے نصاب اور طریقہ تدریس پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔اور ہرطبقہ صرف خود کو ہی درست اور مبنی برحق سمجھتا ہے ۔جہاں تک ہے اصلاحات کا تعلق اس کی گنجائش تو یہ دونوں طرف رہے گی ۔اور ماہرین تعلیم اس ضرورت کو پورا کرتے رہیں گے ۔دینی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دینی مدراس کا نصاب نہایت جامع اور مفید ہے۔اس پر تو بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔دنیاوی اور جدید عصری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اس میں اگر اصلاحات ہوتی ہیں تو یہ اہم کام ہوگاجس پر اہل علم کی توجہ درکارہے ۔ 

عصر حاضر میں دینی مدارس کوبہت سے مسائل ، چیلنجزاور عصری تقاضوں کا سامنا ہے جن سے نبرد آزما ہوئے بغیر صحیح خطوط پر کام جاری رکھنا دشوار ہے ۔چند اہم مسائل کی نشاندہی اور اس کے لیے لائحہ عمل پیش کیا جاتاہے ۔

1۔انگریزی زبان کی تعلیم

اس وقت انگریزی زبان انٹرنیشنل زبان بن چکی ہے ۔اور مغربی علماء واسکالر ز کی بہت سی اہم کتب انگریزی زبان میں موجود ہیں ۔اور اسلام پر جو فکری اور نظریاتی بنیادوں پر اہل مغر ب کی طرف سے اشکالات واعتراضات کیے جارہے ہیں وہ سب انگریزی زبان میں ہیں ۔اسلام دشمنی اور مخالفت میں ہرروز کوئی نہ کوئی نیا مضمون،کتاب شائع ہو رہی ہے یا انٹر نیٹ پر اس قسم کا مواد آن لائن کیا جارہاہے ۔جب کہ جن علماء واسکالرز کاشرعی ودینی فریضہ ہے کہ وہ اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے ان شبہات واشکالات کا ازالہ کریں، ان میں اہل علم کی اکثریت چونکہ اس زبان سے نا آشنا ہے اس لیے کماحقہ یہ فریضہ ادا نہیں ہورہا ۔اور اگر یہ کہا جائے کہ علماء کو انگریزی زبان وغیرہ کو سیکھنا چاہیے تو اس پر بڑا شدید ردعمل سامنے آتاہے ۔

اب ایک تاریخی حقیقت کو دیکھیے آج یورپ اور مغرب کی امامت کا طلسم قائم ہے ۔کسی بھی چیز کے مستنداور معیار کے لیے مغرب کی مہر تصدیق لازمی سمجھی جاتی ہے ۔ایک وہ وقت تھا جب یورپ دور تاریک سے گزر رہا تھا ۔علم ومعرفت کی اصطلاحات سے ناواقف تھا ۔مسلمان علماء واسکالرز قرطبہ اور اندلس کی تعلیمی درسگاہوں میں تحقیقی اور علمی کام کررہے تھے، یورپ جہالت کے اندھیروں میں غائب تھا ۔مسلمان دانشور و علماء اس وقت کے رائج علوم وفنون کی تدوین کررہے تھے اور مختلف موضوعات پر تحقیقات کرکے کتابیں لکھ رہے تھے اور مغرب کاغذ وقلم کے استعمال سے کوسوں دور تھا ۔جس دور میں مسلمانوں کے علاقے اور شہر صفائی وستھرائی ،نظم وضبط اور عد ل وانصاف کے قیام میں اس وقت کی تہذیبوں کو شرمندہ کررہے تھے اس وقت مغرب اور یورپ پر غلاظت کے بادل منڈلارہے تھے ۔جس وقت مسلمانوں کے علمی وتحقیقی کارناموں سے ایک دنیا مستفید ہورہی تھی اس وقت یورپ اور مغرب مسلمانوں کے ان کارناموں پر حسرت ویاس سے انگلیاں مروڑ رہے تھے ۔پھر اچانک کیا ہوا کہ یورپی اقوام میں تبدیلیاں شروع ہوئیں اور وہ لوگ مادی ودنیاوی ترقی میں آگے بڑھتے گئے۔اس کے پیچھے کیا راز ہے ؟

یور پ نے اپنے طور طریقوں پر غور وفکر کیا اور ان اسباب کو تلاش کیا جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے آگے پسماندہ تھے ۔چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کی کامیابیوں اور عظمتوں کے راز جاننے کے لیے اولا ان کی زبان عربی کو سیکھا اور پھر جتنے اس وقت کے اہم علوم وفنون تھے ان کو انگریزی زبان میں منتقل کرنے لگے ۔اور وہ تمام روشنیاں حاصل کرنے میں کوششیں شروع کردیں جنہوں نے مسلمانوں کو جگمگایا تھا ۔اور دوسری طرف مسلمانوں کی بدقسمتی کے انہوں نے اپنے اسلاف واکابر کے طرز فکر وعمل کو پس پشت ڈال دیا اور اس کا وہ نتیجہ نکلا جو ہم سب دیکھ رہے ہیں ۔

مغرب کی اقوام نے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عربی زبان کو سیکھا اور جہاں تک ان سے ممکن ہوا انہوں نے مسلمانوں کے علوم وفنون کا مطالعہ کیا اور اس کے مطابق اصلاحات کیں اور اس طرز پرکام کیا اپنی تہذیب کوبھی زندہ رکھا۔آج مغر ب اور یورپ کی طرف سے اسلام کو جو فکری ونظریاتی طور پر جن مسائل کا سامناہے اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہم انگریزی زبان کو پڑھیں اور ان کے طرز استدلال کو سمجھیں اور انہی کے سکوں میں ادائیگی کی کوشش کریں ۔

آج مغربی افکار مسلمانوں میں انتشار کا باعث بن رہے ہیں اور اسی طرح دیگر غیرمسلموں تک اسلام کی صحیح ترجمانی کے لیے انگریزی زبان کا سیکھنا منع نہیں ہونا چاہیے ۔بلکہ دینی مدارس میں ایسے طلباء اور علماء کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جو انگریزی سیکھنے کے خواہاں ہیں۔اس مقصد کے لیے نصاب میں چند ایسی کتب شامل کرلی جائیں جو مفید ثابت ہوں یا سپیشل کورسز تیار کرائے جائیں جو ان کے لیے معاون ہوں۔اوردینی مدارس کے فضلا ء کے بارے میں یہ تاثر ختم ہو کہ یہ لوگ جدید معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوتے ہیں۔

2۔کتب اصول تحقیق کاخصوصی مطالعہ

عصر حاضر میں نت نئے چیلنجزر اور درپیش مسائل کے حل لیے تحقیق کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے ۔کسی بھی چیز کی اہمیت کااندازہ اس کی ضرورت سے ہوتاہے ۔اور موجودہ زمانہ میں انسان کی ضروریات دن بدن بڑھ رہی ہیں اس لیے مختلف شعبوں میں ضروریا ت کے پیش نظر تحقیق کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔

اس وقت تحقیق وتدوین کے حوالہ سے مختلف یونیورسٹیز اور ادارے کام کررہے ہیں ۔جن میں طلباء کو پہلے باقاعدہ اور باضابطہ طور پر تحقیق اور مبادیات تحقیق کے حوالہ سے مطالعہ کرایا جاتاہے ۔قران وسنت سے استدلال واستنباط کے اصول وقواعد ،موضوع کا انتخاب،عنوان سازی،امہات الکتب سے مراجعت،حوالہ دینے کے طرق وغیرہ سے واقفیت کرائی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہی تحقیقی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے کسی بھی علوم اسلامیہ سے متعلقہ موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتاہے ۔نگران مقالہ اس کی رہنمائی کرتاہے ۔اس طرح طلباء اور طالبات کو تحقیق کا طریق کار سکھایا جاتاہے۔ مگر دینی مدارس میں تحقیقی مقالہ جات کی کسی قسم کی کوئی مشق نہیں ہے ۔اور نہ اس حوالے سے کوئی کتب شامل نصاب ہیں جن سے مقالہ کی تیاری کے دوران رہنمائی حاصل کی جاسکے ۔حالانکہ اس وقت عرب کے علماء نے بہت سی شاندار کتب لکھی ہیں جو اسلامی تحقیق کے اصول ومبادی پر مشتمل ہیں ۔جن کو شامل نصاب کرکے فائدہ اٹھا یا جاسکتاہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مدارس کے فضلاء کے میں عام طلباء کی نسبت لیاقت اور استعداد بہتر ہوتی ہے ۔اور وہ علمی وتحقیقی کام عمدہ انداز میں کرسکتے ہیں ۔ مگر کتنی ہی پائیدار اور مضبوط عمارت کیوں نہ ہو۔اگر اس میں رنگ وروغن اور آرائش وزیبائش کی رعایت نہ کی گئی ہو تو وہ اصل قدروقیمت کھودے گی ۔اسی طرح کتنی ہی علمی تحریر ہو اگر تحقیقی اصولوں کے مطابق پیش نہ کی گئی ہو تو وہ اتنی جاذب نظر اور موثر ثابت نہیں ہوگی جتنا کہ اس کو ہونا چاہیے ۔

اس لیے ان حالات میں ارباب مدارس کو مضمون نویسی ،مقالہ نگاری کی فضا قائم کرنی چاہیے اور اصول تحقیق کو بطور موضوع پڑھایا جائے تاکہ آٹھ دس سال لگاکر علم دین حاصل کرنے والے طلباء دوران تحقیق ومطالعہ حاصل ہونے والے اس علمی سرمایہ کوجدید تحقیقی اصولوں کے مطابق پیش کر سکیں۔اور دوران تدریس استاد کا انداز تدریس بھی تحقیقی ہو۔ایک مناظرانہ اور ایک تحقیقی انداز میں فرق کرنا چاہیے ۔ہاں اگر موضوع کا تقاضا ہی مناظرانہ اسلوب کا ہو تو یہ صورت مستثنیٰ سمجھی جائے گی ۔

3۔کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کا استعمال

موجود ہ دور میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ نے علم کے حصول اور ماخد ومصادر تک رسائی اتنی آسان کردی ہے کہ اس سے زیادہ آسانی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔مکتبہ الشاملہ،الفیہ وغیرہ سافٹ ویئر کمپیوٹر میں انسٹال کرکے ،ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے مختلف تفاسیر،کتب حدیث وکتب فقہ وغیرہ کا نہ صرف مطالعہ کیا جاسکتاہے بلکہ ان سے مکمل حوالہ جات بھی دیے جاسکتے ہیں۔کوئی بھی عربی عبارت لکھ کر مطلوبہ حوالہ تلاش کیا جاسکتاہے ۔ جامعۃ الرشید کراچی، دارالعلوم کراچی،جامعہ اشرفیہ لاہور میں اس سلسلے میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے جو کہ بہت ہی مستحسن قدم ہے تاہم یہ سلسلہ دیگر مدارس میں جاری ہونا چاہیے ۔صرف کمپیوٹر کی لیب بنانا کافی نہیں ہے ۔بلکہ اس میں علوم اسلامیہ سے متعلقہ عربی ،اردو ،انگلش،لغات وغیرہ ہوں اور ان کے استعمال کا طریقہ بھی بتا یا جائے ۔تاکہ علماء ان جدید سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ بہتر انداز میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں ۔

اور یہ اعتراض کافی نہیں ہے کہ ہمارے بزرگوں نے کیا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت ہی علمی کام کیاتھا ؟اس لیے کہ ان بزرگوں کے پاس جو قوت حافظہ اور یادداشت تھی وہ آج نہیں ہے ؟اور جس قدر ان میں محنت ومشقت اٹھانے کا جذبہ تھا، وہ بھی مفقود ہے ۔آج ہمتیں پست ہیں ،اور ذہن خالی ہیں ۔اور نہ ویسی استعدادیں ہیں ،اس لیے اگر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھایا جائے تو بہت کم وقت میں بہت زیادہ حوالے تلاش کیاجاسکتے ہیں ۔ایک ہی جگہ بیٹھ کر تمام کتب کا مطالعہ کیا جاسکتاہے ۔اور بھی بہت سے فوائد ہیں جو کام کی نوعیت پر منحصر ہیں ۔

4۔میڈیا سیل کا قیام

عصر حاضر میں میڈیا کی ضرورت واہمیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ،ذہن سازی اور خاص مقاصد کے حصول کے لیے میڈیا نہایت موثر کردار ادا کرتاہے ۔اس وقت میڈیا نے جہاں ایک طرف فحاشی ،عریانی کو فروغ دیاہے وہاں دینی مدارس اور علماء کے بارے میں بھی مختلف ٹی وی چینلز پر بہت سے دانشور اور مفکر حضرات کے تجزیوں نے عوام الناس میں بہت سے شبہات پیدا کردیے ہیں ۔

اسی طرح بہت سے لوگوں کے حصول علم کا اہم ذریعہ ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مذہبی پروگرا م ہیں ۔مثلاً چند چینلز اسلامی نقطہ سے مختلف پروگرام کرنے میں شہرت رکھتے ہیں ۔مگر متعددبار ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ وہ ایسے پروگرام بھی کررہے ہوتے ہیں جن کو اسلامی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

اگر ایسے حالات میں دینی مدارس میڈیا سیل قائم نہیں کرتے، اور علماء وطلباء کو میڈیا کی تعلیم نہیں دیتے اور اس میدان کو کھلا چھوڑ تے ہیں تو پھر میڈیا ہماری نئی نسلوں کو جس رخ پر لے کر جارہا ہے، اس نقصان عظیم کا خمیازہ بھگتنے کے لیے ابھی سے تیار ہوجا ناچاہیے ۔ غیر ملکی میڈیا ہماری معاشرتی ، سماجی اور دینی اقدار کو آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہے اس کے تدراک کے لیے بھی لائحہ عمل ضروری ہے ۔محض یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ میڈیا برائیوں کی جڑ ہے ۔آج زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسکالر ز کی ایسی جماعت تیار کرنے کی ضروت ہے جوکسی بھی عالمی یا ملکی مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر کو واضح کر سکیں۔اور شرعی حدود وقیود میں رہتے ہوئے میڈیا پرآئیں اور اسلام کی ترجمانی کریں اگر ہم نے ماضی کے ورثہ کی حفاظت اور اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا نا ہے تو عصری تقاضوں کی رعایت ضروری ہے ۔

5۔فارغ التحصیل علماء کے معاشی مسائل کا حل

الحمدللہ اس وقت مختلف دینی مدارس سے ایک بڑی تعداد ہرسال فارغ التحصیل ہورہی ہے ۔جو الشہادۃ العالمیہ کی سند حاصل کرتے ہیں ۔عملی زندگی میں آنے کے بعد ان کو جہاں اور مسائل درپیش ہیں وہاں ایک اہم مسئلہ معاش سے متعلق ہے ۔معاشی مشکلات کا شکار کوئی بھی ذی استعداد پوری یکسوئی سے کام نہیں کرسکتا ۔بلکہ حدیث مبارکہ میں تو یہاں تک ہے ’’کہ فقر وفاقہ سے کفرتک نوبت جاسکتی ہے ۔‘‘(2) اس سلسلہ میں ارباب مدارس کو مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیے کہ فارغ التحصیل علماء کے معاشی مسائل کو کیسے حل کیا جاسکتاہے اور فارغ ہونے والے علماء کو کن میدانوں میں بھیجنا ہے ۔

چند ایک ہی علماء کی کسی مدرسہ میں درس وتدریس کی جگہ بنتی ہے اور وہ بھی معمولی سے وظیفہ پر کا م کرتے ہیں،اکثریت ٹیوشن وغیرہ کی تلاش میں رہتی ہے اورایک نہایت محدود آمدنی میں گزر بسر کرنے پرمجبور ہوتی ہے۔ حالانکہ خوشی وغمی اور بیماری بیسیوں ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بہت سے اہل علم بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کرپاتے ۔چند ہی لوگوں کا سکول وکالجز میں بطور معلم تقرر ہوتاہے ۔یہ لوگ قدرے آمدنی کے لحاظ سے دوسروں سے بہتر ہوتے ہیں یا پھر وہ علماء جن کومخیرحضرات کی معاونت سے اپنا ادارہ قائم کرنے کا موقع مل جاتاہے ۔

بہرکیف اکثریت اہل علم کی معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتی ،2003میں دینی مدارس کے ملازمین کی تنخواہوں کے بارے میں ایک سروے ہوا جس کی رپورٹ درج ذیل ہے :

’’حفظ وقراۃ کے مدارس کے ایک عام معلم کی تنخواہ 2500سے لے کر 6000ہزار روپے تک ہوتی ہے ۔اور مدارس کے ائمہ کی تنخواہیں بھی اسی رینج میں ہوتی ہیں ۔جبکہ مساجد کے موذن اور خادم حضرات کو500 روپے سے لے کر 3000 ہزار روپے تک ادا کیے جاتے ہیں۔درس نظامی کے فارغ التحصیل علماء بطور خطیب تقریباً4000 سے 8000 ہزار روپے تک تنخوہ پاتے ہیں ۔اور مدارس میں بطور معلم بھی زیادہ سے زیادہ اتنی ہی رقم حاصل کرتے ہیں ۔یہ اعدادوو شمار بھی بڑے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عام لوگ مساجد اور مدارس کو اچھی خاصی رقم بطور چندہ ادا کرتے ہیں۔‘‘(3)

ملک بھر میں چھوٹے بڑے مدارس کا اتنا بڑا جال پھیلا ہوا ہے کہ اس سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ ملک میں اتنی بڑی تعداد میں نہ تو مساجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور نہ ہی نئے مدارس وجود میں آ رہے ہیں۔ مدارس کے ذہین طلباء عموماً دین پر ریسرچ کا ذوق رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے ادارے بہت کم ہیں جہاں دین پر ریسرچ کی جارہی ہو۔ ان حالات کے پیش نظر اس طبقے میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل سوچنا نہ صرف ارباب حکومت کا کام ہے بلکہ مدارس کے منتظمین اور علماء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر خوب غور و خوض کرکے اس کا کوئی حل نکال سکیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ عوا م کی ذمہ داری ہے کہ وہ علماء کی معاشی ضروریات کو پوراکریں ،تو بظاہر یہ بہت اچھی بات ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر عوام ا س ذمہ داری کو کماحقہ پورا نہ کرے تو متبادل کیا حل ہے ؟

اور یہ کہنا بھی کافی نہیں ہے کہ کیا عصری اداروں کے فضلاء میں ہرایک کو جاب اور روزگار مل جاتاہے ۔؟اس لیے کہ علماء سے کام لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کو معاشی فکر سے آزاد کیا جائے ۔

6۔اسلامی بینکاری کی خصوصی تعلیم

اس وقت ایک اہم کام سود سے پاک بینکاری نظام کا قیام ہے جو عصری اور شرعی تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔اس بارے میں بعض علماء نے اپنی فہم وفراست سے شرعی حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے مگر دیگر معاصر علماء اس سے مطمئن نہیں ہیں گو اختلاف رائے شرعا باعث اشکال نہیں ہے تاہم عوام کو اس کشمکش سے نکالنا ضروری ہے ۔تمام جید علماء مل کر اس مسئلہ کا حل نکالیں ،کسی بھی چیز کو حرام قرار دینا کافی نہیں ہے ،بلکہ اس کا متبادل شرعی حل بھی پیش کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے ۔سود کی حلت کا تو کوئی مسلمان قائل نہیں ہے مگر اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ سود کی تعریف اور دائرہ کار میں کونسی صورتیں داخل ہیں ،اور یہ فیصلہ صرف چندعلماء کانہ ہو بلکہ اس میدان کے ماہر علماء وفقہاء تمام پہلوؤں ،جزئیات اور اشکالات کو سامنے رکھیں اور باہمی اتفاق رائے سے حل پیش کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ اختلاف رائے کرنے والے محض اس بات کا سہارا نہ لیں کہ ان کو مذکورہ صورتوں پر ’’شرح صدر‘‘ نہیں ہورہاہے یااس عمومی اصو ل’’جب حلت وحرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوگی ‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قول اختیار کریں کہ اس معاملہ میں سود کا احتمال اور اندیشہ ہے لہٰذا ’’حرمت ‘‘کا فتویٰ دے یدیا جائے ۔اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ اصول اس صورت میں کار آمد ہوتاہے جب حلت وحرمت کے اسباب جمع ہوں مگر ان کے تقدم وتاخر کا علم نہ ہو تووہاں احتیاطاً حرمت کو ترجیح ہوگی ۔لہذا قائلین اور مانعین دونوں کے دلائل اپنے موقف کی تائید میں صحیح وصریح ہوں اور ان پرجو اعتراضات ہوں ان کا بھی کافی وشافی دفاع ہو۔ 

اس حوالہ سے آخری بات یہ ہے کہ جب چند ایسے ممالک ایک دوسرے سے لین دین کریں جن میں مختلف فقہاء کے پیروکار ہوں تو وہاں حرمت کی سود کی علت کا تعین کیسے ہوگا ؟اس لیے کہ ہرامام نے نصوص پر گہری سوچ وبچار کے بعد جو علت مستنبط کی ہے وہ دیگر ائمہ کی بیان کردہ علتوں سے مختلف ہے تو پھر علی سبیل الفرض چار ایسے ملک جن میں ائمہ اربعہ کے متبعین ہوں تو وہاں اس مسئلہ کا کیاحل ہوگا ۔؟اس لیے دینی مدارس کو اسلامی بینکاری کی خصوصی تعلیم دینی چاہیے اور اس حوالہ سے کچھ جدید کتب شامل نصاب کرنی چاہئیں۔اس بارے میں زیادہ بہتر رہنمائی وہ اہل علم کرسکتے ہیں جو معاشیات پر کام کررہے ہیں ۔

7۔مذہبی انتہا پسندی اورفرقہ واریت کاخاتمہ

اس وقت مذہبی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور فرقہ واریت کے تسلسل نے بہت سے نئے مسائل سے دوچار کیاہے۔ انتہا پسندی فی نفسہ مذموم ہے خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ،اس لیے کہ کسی بھی کام اس انتہا تک چلے چا نا جو شرعاً اورعقلاً غیر مطلوب ہے، منع ہے ۔اس وقت پورے عالم اسلام کو بالعموم اور وطن عزیز پاکستان کو جن تباہ کن مسائل سے دور چار ہے، ان میں مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت بھی شامل ہے۔ آج کل ایک دوسرے کا قتل عین ثواب سمجھ کیا جارہاہے ۔ معمولی سے اختلاف رائے اور اظہار رائے کرنے پر ایک دوسرے پر سخت قسم کے فتوے لگائے جاتے ہیں اور بسا اوقات معاملات حد سے زیادہ سنگینی اختیار کرلیتے ہیں ۔ان حالات میں ضرورت ہے مذہبی انتہاء پسندی کے پس منظر،اسباب کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کے خاتمہ کے لیے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے اور دینی مدارس اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں جس سے معاشرہ میں وسعت نظری اور برداشت وتحمل پیدا ہو۔

خلاصہ بحث

علوم اسلامیہ کی ترویج واشاعت میں دینی مدارس کا کردار نہایت نافع اور مستحسن ہے ۔اوران مدارس سے تعلیم یافتہ علماء کی قران وسنت کے ساتھ گہری بصیرت اور علوم اسلامیہ کے ساتھ اچھی مناسبت ہوتی ہے ۔اور انہی مدارس سے بڑی بڑی علمی شخصیات پیدا ہوئیں جن کے علمی کام کو عرب وعجم میں سراہا گیا ۔ مگر آج ان اداروں میں سے ویسی شخصیات پیدا نہیں ہورہیں جوامت مسلمہ کوایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکیں،اور جن حالات سے امت مسلمہ گزررہی ہے ان مسائل کا حل پیش کرسکیں۔ا س کی وجہ محض نصاب نہیں ہے ۔بلکہ کچھ عصری تقاضے ہیں جن کو نظر انداز کیا جارہاہے ۔آج اگر ان عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دینی مدارس اپنے اہداف ومقاصد میں مزید وسعت پیدا کرلیں تو یقیناًمطلوبہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں ۔

سفارشات

  1. مغربی افکار سے واقفیت اور غیر مسلموں تک اسلام کی موثر ترجمانی کے لیے دینی مدارس کے طلباء اورعلماء جو انگر یزی سیکھنے کے خواہاں ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ۔
  2. نصاب میں چند ایسی کتب شامل کرلی جائیں جو مفید ثابت ہوں یا سپیشل کورسز تیار کرائے جائیں جو انگریزی زبان سیکھنے اور سمجھنے میں معاون ہوں۔
  3. مدارس میں اصول تحقیق کو بطورموضوع پڑھا یا جائے تاکہ اسلاف کے علمی سرمایہ کو جدید تحقیقی اصولوں کے مطابق پیش کیا جاسکے ،اور مناظرانہ و تحقیقی انداز میں فرق کو ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔
  4. کمپیوٹر ،علوم تک رسائی کا بہت بڑا موثر ذریعہ بن چکاہے ،برقی کتب خانے موجود ہیں جس میں دینی علوم کی بے شمار کتب کے آن لائن مطالعہ کی سہولت موجود ہے اس تناظر میں کمپیوٹر کی تعلیم ہر فاضل کے لیے لازمی قرار دی جائے اورمدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم کااہتمام ہونا چاہیے ۔
  5. مدارس میں اسلامی بینکاری کی تعلیم کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے اور اس حوالہ سے کچھ جدید کتب شامل نصاب کرنی چاہییں تاکہ سود کے خلاف جذباتی گفتگو کی بجائے کسی ٹھوس حل کی طرف پیش رفت ہو ۔
  6. مذہبی انتہا پسندی کے پس منظر ،اسباب کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کے خاتمہ کے لیے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے ،دینی مدارس معاشرہ میں وسعت نظری اور برداشت وتحمل کا ماحو بنا کر معاشرہ کو اس المناک صورت حال سے نکالنے میں خصوصی کردار ادا کریں ۔
  7. مدارس کو اپنے میڈیا سیل قائم کرنے چاہییں ،نیز زمانے کے بدلتے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے اسکالرز تیار کیے جائیں جو کسی بھی عالمی یا قومی مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر کو واضح کرسکیں ۔
  8. ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے مدارس ہر سال ہزارو ں کی تعداد میں علماء وفاضلین تیار کررہے ہیں اس تعداد کی نسبت سے روزگار کا اہتمام موجود نہیں ،جن کے لیے روزگار کا بندوبست ہے انہیں چندہ کے لیے مالدار طبقہ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جو ایک عالم کی شان اورعظمت سے تضاد رکھتا ہے چنانچہ اس پر ارباب مدارس کو غور کرنا چاہیے کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا اہتمام کریں نیز ایسے وسائل مہیا کریں جس سے فاضل علماء کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔


حوالہ جات و حواشی 

(1) http://www.wifaqulmadaris.org/intro.php

(2) البیہقی،احمد بن الحسین،ابوبکر،شعب الایمان،ریاض ،مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیغ ،1423ھ،جلد،صفحہ12

(3) http://www.mubashirnazir.org/ER/L0010-00-Career.htm

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

فروری ۲۰۱۷ء

جلد ۲۸ ۔ شمارہ ۲

اختلاطِ مرد وزن، پردہ اور سماجی حقوق و فرائض / دینی مدارس کا نصاب ونظام۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر - مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

’’سفر جمال: نبی مکرمؐ کی جمالیاتی مزاحمت کی پر عزم داستان‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور حضرت قاری محمد انورؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے فضلا کا یورپی ممالک کا مطالعاتی دورہ ۔ مختصر روداد اور تاثرات
مولانا محمد رفیق شنواری

دینی مدارس اور عصری رجحانات
غازی عبد الرحمن قاسمی

احمدی اور تصورِ ختم نبوت : ایک احمدی جوڑے سے گفتگو
ڈاکٹر محمد شہباز منج

مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ ۔ چند یادیں، چند باتیں
محمد عثمان فاروق

فقہائے احناف اور فہم حدیث ۔ اصولی مباحث (مصنف: محمد عمار خان ناصر)
ڈاکٹر حافظ مبشر حسین