انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اردو ترجمہ: محمد جان اخونزادہ

(ڈاکٹر شیر علی ترین کی کتاب  Defending Muhammad in Moderity کا دوسرا باب)


دوسرا باب:  اخلاقی اصلاح کے امکانات اور درپیش خطرات


شاہ محمد اسماعیل کی بکھری یادیں

برصغیر کی اسلامی تاریخ میں بہت کم ایسے مفکرین ہوں گے جن کا فکری ورثہ شاہ محمد اسماعیل (جو شاہ اسماعیل شہید کے نام سے بھی معروف ہیں) کی طرح متنازع اور اختلافی ہے۔ شاہ اسماعیل نے 1779 میں دلی کے ایک ایسے ممتاز گھرانے میں آنکھیں کھولیں جسے جدید ہندوستان کے یکتاے روزگار اور بااثر مسلمان اہلِ علم کی جاے پیدائش ہونے پر ناز تھا۔ ان کے دادا شاہ ولی اللہ اٹھارھویں صدی کے نہایت مشہور ومقبول مفکر تھے۔ شاہ اسماعیل کے والد شاہ عبدالغنی، شاہ ولی اللہ کے صاحب زادوں میں سے نسبتاً کم معروف تھے۔ شاہ اسماعیل نے اپنی دینی تعلیم بشمول قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور تصوف اپنے عظیم چچاؤں شاہ عبد العزیز اور شاہ رفیع الدین (م 1821) کی نگرانی میں مکمل کی۔

اہل علم کے اس روشن خاندان میں شاہ اسماعیل ایک انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔ ان بہت ساری چیزوں میں سے جو بعض اوقات ان کے خاندان کے بڑوں بالخصوص شاہ عبد العزیز کے لیے حیرانی کے ساتھ پریشانی کا سبب بنتی تھیں، ایک چیز شاہ اسماعیل کا جنگی فنون بالخصوص عسکری نوعیت کی جسمانی ریاضت کے ساتھ والہانہ تعلق تھا۔ شاہ اسماعیل کے سوانح میں انھیں ایک بہادر جنگ جو عالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو جوانی سے ہی نہ صرف علمی بلکہ جسمانی جہاد کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے۔ شاید انھیں پہلے سے اندازہ تھا کہ ان کی زندگی کیسے گزرے گی، اور یہ کہ ایک دن وہ میدان کارزار میں اتریں گے1۔ مثلاً ان کے سوانح میں آتا ہے کہ اکیس سال کی عمر میں انھوں نے گھڑ سواری، تیر اندازی، شمشیر زنی اور تیراکی پر دسترس حاصل کر لی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی مسلسل تین دن تک دریا میں تیراکی کرتے رہتے، اور اس دوران میں دریا کے کنارے صرف اپنے طلبہ کو سبق پڑھانے اور کھانا کھانے کی غرض سے وقفہ کرتے تھے۔[53] انھوں نے تھکاوٹ کے آثار ظاہر کیے بغیر ایک ہی سانس میں (دس سے گیارہ میل) طویل مسافت پیدل طے کرنے کی مہارت بھی بہم پہنچا لی تھی۔ اور نیند پر قابو پانے میں ان کی ریاضت اتنی کامل تھی کہ وہ بغیر کسی تکلیف کے آٹھ سے دس دن تک جاگتے رہتے، اور جب کبھی ان کا جی چاہتا، سو لیتے یا جاگ جاتے تھے۔2

مشقت کی عادی جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے ذریعے سے شاہ اسماعیل نے خود کو نہ صرف مسلمان اہل علم اشرافیہ کی تن آسانی سے خود کو الگ رکھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کی مغل سیاسی اشرافیہ سے بھی خود کو ممتاز کیا جو ان کی نظر میں عیاش، بگڑی ہوئی اور ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی اور اخلاقی زوال کی ذمہ دار تھی۔ یہ ایک ایسی سوچ تھی جس نے بعد میں ان کی اصلاحی کاوشوں میں بنیادی حیثیت حاصل کی۔ شاہ اسماعیل کے سوانح نگاروں نے تمام جزئی تفصیلات کے ساتھ مغلوں کے سیاسی اشرافیہ کے خلاف ان کی للکار وتنقید کو پیش کیا ہے۔ ایک واقعہ حسب ذیل ہے:

شاہ اسماعیل کو شمشیر زنی سکھانے والے استاذ، جن کا نام مرزا رحمت اللہ بیگ تھا، دلی میں بہت سے مغل شہزادوں اور نواب زادوں کے استاذ کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ایک بار شاہ اسماعیل اس اکھاڑے میں شمشیر زنی کی مشق کر رہے تھے جہاں پر مرزا بیگ اپنے شاگردوں کو تربیت دیتے تھے کہ دو شہزادوں نے انھیں دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کہ ایک "ملا" سیاسی اشرافیہ کے ساتھ مخصوص فنون حرب کو سیکھنے کے لیے  خواہ مخواہ خود کو مشقت میں ڈالے ہوئے ہے۔ اپنی مشق پوری کرنے کے بعد شاہ اسماعیل ان دو شہزادوں کی طرف متوجہ ہو کر گویا ہوئے:

"میں ان کی اولاد میں سے ہوں جنھوں نے ایسی ہی حالت سے دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت کی اور اسلامی سلطنتیں قائم کر دیں، اور آپ ان کی اولاد میں سے ہیں  جنھوں نے آرام طلب فطرت کی بدولت میں مسلمانوں کی حاکمیت  کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہزادے نہ تھے۔ پانچ لاکھ عرب جو آپ کی ماتحتی میں کسریٰ وقیصر کی سلطنت میں کام کر رہے تھے، لال قلعہ کے رہنے والے اور شہزادے نہ تھے۔ جو کچھ انھوں نے کام کیا، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ، اور جو کچھ آپ کے بزرگوں کی آرام طلب روح نے کیا، وہ بھی زمانہ نہیں بھولا ہے"3۔

یہ فرد جرم سن کر دونوں شہزادے پشیماں ہوئے اور معذرت چاہی۔ تاہم شاہ اسماعیل نے انھیں شمشیر زنی کے مقابلے کی دعوت دی جسے انھوں نے کچھ پس وپیش کے بعد قبول کر لیا۔ پہلے ہی چند مرحلوں میں شاہ اسماعیل کی زبردست مہارت وتربیت کی دھاک بیٹھ گئی۔[54]  خود سر شہزادوں نے اعتراف کیا کہ اشرافیہ سے منسوب فنون حرب میں یہ "ملا زادہ"، جس پر انھوں نے پھبتی کسی تھی، ان سے زیادہ ماہر ہے۔ یہ کہانی شجاعت وبہادری کی ٹوپی کو شاہی اشرافیہ کے سر سے اتار کر شاہ اسماعیل کے سر پر رکھتی ہے۔ مزید برآں یہ بتاتی ہے کہ مغلوں کی "عیش پرستانہ عادات" ہی ان کے زوال کا باعث تھیں۔ اس طرح یہ واقعہ کہانی کے انداز میں شجاعت وبہادری اور جسمانی مضبوطی کو سیاسی طاقت اور مقبولِ عام حاکمیتِ اعلیٰ سے جوڑ دیتا ہے۔

دراصل مضبوط جسم کو پروان چڑھانے کے لیے شاہ اسماعیل نے مذہبی اشرافیہ میں رائج عادات واطوار سے تعلق منقطع کر لیا۔ اگرچہ شاہ اسماعیل کے خاندان کے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا نہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم ان کے والد اور چچا اکثر اس کی فوجی تربیت پر حیرت سے ہنستے تھے۔ اپنے خاندان کے ایک ایسے فرد کو دیکھ کر انھیں الجھن ہوتی تھی  جس کی طرز زندگی مولویانہ معاشرت سے نہ صرف بہت دور بلکہ اس کے برعکس تھی4۔

شاہ اسماعیل کے طبعی میلانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ اپنے خاندان کے ساتھ ان کے مضبوط علمی روابط تھے، تاہم سید احمد بریلوی (م 1831، اس کے بعد اس کتاب میں انھیں سید احمد5 کے نام سے پکارا جائے گا) ہی وہ شخصیت تھی جس نے اس کے اصلاحی کردار پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سید احمد برصغیر میں اسلام کے علمی اور سیاسی نقشے پر ایک دل چسپ شخصیت ہیں۔ اگرچہ انھوں نے قرآن وحدیث کی تعلیم شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبدالقادر سے حاصل کی تھی، پھر بھی وہ ایک روایتی عالم سے زیادہ ایک عسکری جنگ جو اور صوفی مُصلح تھے۔ تاہم سید احمد نے اپنے گرد اشرافیہ اور عوامی دونوں حلقوں کے پیروکار جمع کیے۔ شاہ اسماعیل کے علاوہ سید احمد کے بڑے مریدوں میں شاہ عبد العزیز کے داماد اور نامور حنفی عالم مولانا عبد الحی (م 1828) بھی شامل تھے۔ سید احمد کے ساتھ شاہ اسماعیل کی پہلی ملاقات 1819 میں ہوئی جب وہ ریاستِ ٹونک (جو آج راجستھان کے نام سے جانا جاتا ہے) سے واپس لوٹے۔ وہاں انھیں شاہ عبد العزیز نے بھیجا تھا تاکہ وہ امیر علی خان (م 1834) سے، جو بعد میں ٹونک کے نواب بنے، مکمل عسکری تربیت حاصل کریں۔ سید احمد سے ملاقات شاہ اسماعیل کی زندگی میں انقلاب کا نقطۂ آغاز ہے6۔

اس دور سے پہلے اپنی علمی پختگی کے باوجود شاہ اسماعیل اپنے اصلاحی مشن کے لیے کوئی مربوط ایجنڈا ترتیب نہیں دے سکے تھے۔ آزاد منش ہونے کی وجہ انھوں نے کوئی مستقل پیشہ بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ اس بات کو بیسوی صدی کے سوانح نگار اور شاہ اسماعیل کے پرجوش حامی غلام رسول مہر (م 1971) نے کچھ یوں بیان کیا ہے: [55] "طبیعت میں ایک گونہ بے پروائی سی پائی جاتی تھی"7۔ لیکن سید احمد سے ملاقات وبیعت کے بعد شاہ اسماعیل کی زندگی میں ایک غیرمعمولی انقلاب برپا ہوا۔ ان کی سابقہ بے پروائی اور بد نظمی دینی اصلاح کے ایک منظم پروگرام میں تبدیل ہو گئی۔

جو خصوصیت شاہ اسماعیل کو اپنے خاندان کے اکثر افراد سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے علم وتحقیق کے ساتھ بھرپور انداز میں عوامی سرگرمیوں میں بھی شرکت کی۔ شاہ اسماعیل نے دلی کے مشہور اور مرکزی جامع مسجد کے سب سے زیادہ عوامی منبر تک اپنے اصلاحی مشن کو مدلل انداز میں پہنچایا۔ وہاں بیٹھ کر انھوں توحید کی تائید اور بدعات ورسومات کی تردید میں شعلہ انگیز خطباتِ جمعہ دیے۔ ان خطبوں کی بیک وقت پرجوش تائید یا تردید ہوئی۔ بعض لوگوں نے ہندوستانی مسلمانوں میں راسخ اعتقادی خرابیوں کی تشخیص کرنے اور انھیں طشت از بام کرنے پر ان کی تعریف کی، جبکہ کچھ لوگوں نے طویل عرصے سے رائج رسم ورواج کی توہین اور اولیاے کرام پر تنقید سے پیدا ہونے والے معاشرتی انتشار کی بنا پر انھیں برا بھلا کہا۔ سچ یہ ہے کہ شاہ اسماعیل کے خطبوں نے ایسا غم وغصہ پیدا کر دیا تھا کہ ایک موقع پر ان کے مستقل حریف مولانا فضل حق خیر آبادی نے دلی کے انگریز حاکم کی عدالت میں شاہ اسماعیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ وہ شاہ اسماعیل کو جامع مسجد کے منبر پر تقریر سے روکے۔ یہ مقدمہ منظور ہوا اور شاہ اسماعیل کو اس بنیاد پر خطبہ دینے سے منع کر دیا گیا کہ اس سے امنِ عامہ متاثر ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پابندی اس وقت اٹھا لی گئی جب شاہ اسماعیل نے انگریز افسر کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے خطبات میں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس کا مقصد توحید کا احیا ہے۔

عوامی اصلاح

1820 میں مشہور پریسبٹیرین مُصلِح چارلس فِنی (Charles Finney) نیو یارک کے شمال میں "گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر قریہ قریہ" اپنے اصلاحی پروگرام کی تبلیغ میں مصروف تھے، کیوں کہ وہ "دوسرے عظیم احیا" کے سرخیل تھے8۔ ہزاروں میل دور شاہ اسماعیل بھی دلی میں اور بالآخر پورے ہندوستان اور اس سے باہر بھی عوام کے سامنے اپنا اصلاحی منصوبہ پیش کر چکے تھے۔ جامع مسجد جیسے نمایاں مقامات میں رسمی تقریروں کے ساتھ ساتھ  انھوں نے بازاروں اور گلیوں کوچوں جیسے عوامی مقامات میں پورے جوش وخروش سے اصلاحی مہم چلائی۔ [56] اپنے خاندان کے افراد کی جھنجھلاہٹ کے باوجود وہ دلی کے مشہور قحبہ خانوں تک گئے  تاکہ طوائفوں اور ان کے سرپرستوں کو اس "عذابِ الٰہی" سے ڈرائیں جو ان کی تاک میں ہے۔ مثلاً ایک شام نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد شاہ اسماعیل نے موتی نام کی ایک مشہور طوائف کے قحبہ خانے کا رخ کیا۔ اس قحبہ خانے میں شہر کے دولت مند ترین لوگ بکثرت آتے تھے۔ شاہ اسماعیل نے خود کو بھکاری ظاہر کیا تو انھیں اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ جوں ہی وہ داخل ہوئے، انھوں نے صحن میں رومال بچھایا اور اس پر بیٹھ گئے اور زور زور سے ثم رددناہ اسفل سافلین تک  سورۃ التین9 کی تلاوت کی۔ اس کے بعد مولانا نے اس قدر بلیغ اور مؤثر تقریر کی گویا جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کروا دیا۔

اس کا اثر یہ ہوا کہ موتی اور اس کے سرپرستوں نے قحبہ خانے میں موجود ڈھولک، ستار اور دیگر آلاتِ موسیقی توڑنا شروع کر دیے۔ اسی رات کو جب شاہ اسماعیل جامع مسجد واپس پہنچے تو ان کے تایا زاد اور مشہور محدّث مولانا محمد یعقوب دہلوی نے انھیں سیڑھیوں پر روک لیا۔ مولانا یعقوب نے قحبہ خانہ جانے پر ان کی سرزنش کی۔ انھوں نے کہا: "اسماعیل میاں! تمھارے دادا ایسے تھے اور تمھارے چچا ایسے تھے، اور تم ایسے خاندان سے ہو جس کے سلامی بادشاہ رہے ہیں، مگر تم نے اپنے آپ کو بہت ذلیل کر لیا۔ اتنی ذلت ٹھیک نہیں"۔ اس پر اسماعیل نے پوری خود اعتمادی سے کہا: "مجھے آپ کی کہی ہوئی بات پر حیرت ہوتی ہے۔ میں تو اس روز سمجھوں گا کہ آج میری عزت ہوئی ہے  جس روز دلی کے شہدے میرا منہ کالا کرکے اور گدھے پر سوار کرکے مجھے چاندنی چوک میں لے جائیں گے، اور میں یہ کہہ رہا  ہوں گا کہ قال اللہ کذا وقال رسول اللہ کذا (یعنی اللہ نے یہ فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا)10۔

نکاحِ بیوگان

شاہ اسماعیل نے جن بنیادی امور کی اصلاح کا جوش وجذبے کے ساتھ بیڑہ اٹھایا، ان میں ایک نکاح بیوگان تھا۔ ہندو بیواؤں کے عقدِ ثانی سے متعلق اپنی کتاب میں تانیثی (feminist) مؤرخ تانیکا سرکار نے ثابت کیا ہے [57] کہ انیسویں صدی کے وسط میں نکاحِ بیوگان کا موضوع انتہائی حساس اور اشتعال انگیز تھا جس سے متعدد اور عموماً مخالف فرقوں کے ہندو اہل علم اور کارکن نبرد آزما تھے۔ مزید برآں سرکار کی نظر میں نکاحِ بیوگان کی مخالفت نے کم از کم مذہبی اتحاد کی حد تک "نہ صرف بہت سی ہندو ذاتوں کو متحد کیا، بلکہ اس نے ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان خط امتیاز بھی کھینچ دیا"11۔ چند دہائیوں کی کش مکش اور بحث کے بعد بالآخر ہندؤوں کا اصلاحی مشن قانون کے میدان میں فتح یاب ہوا۔ 1856 میں استعماری ریاست نے ایک قانون (ایکٹ نمبر XV، جولائی 1856) پاس کیا جس نے "ہندو بیواؤں کے عقدِ ثانی کے خلاف سابقہ قانونی اور جبری بندش" کو منسوخ کر دیا۔ اس سے ستائیس سال قبل 1829 میں ایک اور قانون پاس ہوا تھا جس کے ذریعے ستی (ہندو بیوہ کا اپنے مردہ شوہر کی چتا میں زندہ جلا دیا جانا) کی رسم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ جیسا کہ سرکار نے تفصیل سے بیان کیا ہے: "ان کے درمیان ستی اور نکاحِ بیوگان (کی بندش) کو دو قوانین کے ذریعے جرم قرار دیا گیا جو کسی زمانے میں ایک مقدس رسمیں تھیں، اور جو طویل عرصے سے مذہب کی رو سے حیاتِ جاودانی کی ایک شکل سمجھی جاتی تھیں"12۔

انیسویں صدی میں برصغیر کے مذہبی، سیاسی اور قانونی دائروں میں نکاحِ بیوگان اور ستی کے الجھے ہوئے مسائل پر کافی عمدہ علمی تحقیقات سامنے آئی ہیں13۔ تاہم برصغیر سے متعلق تحقیقات کے میدان میں ان سوالات پر بحث ومباحثہ بنیادی طور پر انیسویں صدی کی ہندو فکر، کارکنوں اور استعماری ریاست کی بدلتی ترجیحات پر مرکوز ہوتا ہے۔ تاہم نکاح بیوگان کے حوالے سے یہ ناخوش گوار تنازعات صرف ہندؤوں اور ہندو مت میں پیدا نہیں ہوئے، بلکہ انیسویں صدی کے اوائل سے برصغیر کی مسلم اصلاحی فکر کے لیے بھی یہ ایک بنیادی مسئلہ تھا۔ متعدد ہندو روایات میں نکاحِ بیوگان سے ایک سماجی نفرت پائی جاتی ہے، تاہم اس مسئلے میں شاہ محمد اسماعیل جیسے مسلمان مصلحین کے لیے بھی دل چسپی کا کافی سامان تھا جن کی خواہش تھی کہ ہندوستانی اسلام کو "ہندو" اثرات سے پاک کیا جائے۔ جیسا کہ ہم آنے والے صفحات میں بیان کریں گے، جس طرح نکاح بیوگان کی مخالفت بہت سی ہندو ذاتوں کے لیے مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان خطِ امتیاز تھی، اسی طرح بہت سے مسلمان مصلحین کے لیے بھی نکاحِ بیوگان کی ممانعت کے خلاف جد وجہد  (ہندووں اور مسلمانوں میں) اہم خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتی تھی۔ یوں  انیسویں صدی میں نکاح بیوگان کے حق میں مسلم مصلحین کی مہم کا مفاد ایک طرف ان ہندو اصلاحی آوازوں کے ساتھ مشترک تھا جو ہندو بیواؤں کی عقد ثانی کی بندش کے مخالف تھے، اور دوسری طرف ان ہندو اہل علم کے ساتھ جو پورے جوش سے اس بندش کا دفاع کر رہے تھے۔[58]

اول الذکر کے ساتھ، مسلم مصلحین نکاح بیوگان کے خلاف بندش کو ہٹانے کے نظریاتی حکم پر متفق تھے، جبکہ موخر الذکر کے ساتھ شاہ اسماعیل جیسے مسلمان مصلحین اس نکتے پر   ایک پرجوش اعتقادی اور جذباتی اتفاق رکھتے تھے کہ ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان خط امتیاز اور واضح حدود برقرار رکھی جانی چاہییں۔ ازدواجیت اور جنسیت کے انتہائی قریب لیکن متلون دائرے بطور خاص ایسا زرخیز میدان تھے جن میں یہ حدود نمایاں کیے گئے، ان پر بحث ہوئی، اور ان کی تحدید کی گئی۔ ذیل میں میری کوشش ہے کہ اس مناقشے میں مسلمان مصلحین کے کردار کے اہم اجزا کو زیر غور لا کر اس بحث کا ایک نقشہ پیش کروں۔ مقصد کے لیے میں اس مسئلے میں شاہ اسماعیل کے بنیادی کردار کا ایک بیانیہ (narrative) خاکہ پیش کروں گا۔

نکاح بیوگان کا موضوع شاہ اسماعیل کے لیے بہت ذاتی نوعیت کا تھا۔ ان کی بڑی ہمشیرہ بیوہ تھیں جن کا کئی سال تک عقد ثانی نہیں ہوا تھا۔ بعد میں شاہ اسماعیل نے خود اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس وقت شمالی ہندوستان میں نکاح بیوگان سے متعلق بندش کو ایک لحاظ سے معمول سمجھ کر قبول کیا تھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں یہ واقعہ کچھ یوں ہے: "جب میں اپنی ہمشیرہ کو (محمد تبریزی، م 1340 کی) حدیث کی کتاب مشکاۃ پڑھایا کرتا تو میں ارادی طور نکاح بیوگان کے فضائل سے متعلق احادیث کو چھوڑ دیتا۔ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ عقد ثانی کی خواہش نہ کر بیٹھے"14۔ جب شاہ اسماعیل سید احمد سے بیعت ہوئے تو یہ قابل اعتراض رویہ ایک دم بدل گیا۔

شاہ اسماعیل کے مطابق سید احمد ہی وہ شخصیت تھے جنھوں نے اس "حقیقت" کے بارے میں ان کی آنکھیں کھولیں کہ نکاح بیوگان کو برا سمجھنا دراصل "ایک ہندو رسم ہے جو سنت نبوی کے خلاف ہے"۔ بعد ازاں شاہ اسماعیل نے اپنی ہمشیرہ کا عقد ثانی اپنے ایک قریبی دوست سے کیا۔ اس عقد ثانی کا قصہ دل چسپی سے خالی نہیں۔

ایک دن شاہ اسماعیل جامع مسجد میں نکاح بیوگان کے موضوع پر وعظ کہہ رہے تھے۔ مجمع میں بیٹھے ایک شخص نے سوال پوچھنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ اسماعیل کو فورًا محسوس ہوا کہ یہ آدمی ان کی اپنی بیوہ ہمشیرہ، جس کا تاحال عقد ثانی نہیں ہوا، کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے15۔ وہ بڑے پریشان ہوا اور پیشگی اقدام کے طور پر مجمع کو فوراً‌ برخاست کرکے یہ کہا: "مجھے ایک اہم بات یاد آگئی۔ چلیں اگلے ہفتے پھر ملتے ہیں"۔ شاہ اسماعیل مسجد سے جلدی سے نکلے اور بھاگتے ہوئے اپنی بڑی ہمشیرہ کے گھر گئے۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، شاہ اسماعیل اس کے پاؤں میں گر گئے اور زار وقطار روتے ہوئے کہنے لگے: "اے بہن! میری ساری تگ ودو آپ کے ہاتھوں میں ہے، میرے وعظ کی تاثیر کا انحصار آپ پر ہے"۔ مکمل حیرت کے عالم میں اس نے پوچھا: [59] "آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟" شاہ اسماعیل نے جواب میں کہا: "اگر تم شادی کر لو تو ایک اہم سنتِ نبوی کو زندہ کرنے میں میری مدد ہو جائے گی اور میں بغیر کسی جھجھک کے اپنا سلسلہ وعظ جاری رکھ سکوں گا"۔ بہن نے جواب میں کہا: "میرے پیارے بھائی! مجھے بھی سنت نبوی کا احیا اتنا ہی عزیز ہے، لیکن میں اتنی بوڑھی اور بیمار ہوں کہ عقد ثانی کر نہیں سکتی"۔ لیکن جب اسماعیل نے اپنا اصرار جاری رکھا تو آخر کار اس نے اپنے بھائی کی بات مان لی۔ ان کا نکاح شاہ اسماعیل کے ایک قریبی دوست کے ساتھ کر دیا گیا۔16

اس شخصی کام یابی سے حوصلہ پاتے ہوئے شاہ اسماعیل نے بڑے پیمانے پر شمالی ہندوستان کی مسلمان بیواوں کے عقد ثانی کی تحریک شروع کی۔ اس کام کے لیے انھیں معاونین کی ایک فوج ظفر موج دست یاب ہوئی جو قریہ قریہ جا کر عقد ثانی کے قابل بیوہ مسلمان خواتین کو ڈھونڈتے تھے۔ ایک شخص مولوی عبد الرحیم صاحب نکاح بیوگان کے سلسلے میں اتنے سرگرم تھے کہ وہ "رانڈوں کی شادی والے ملا" کے لقب سے مشہور ہو گئے17۔

شاہ اسماعیل کی اصلاحی بیداری پر سید احمد کے نقوش واثرات ان مٹ ہیں، اگر چہ علمی اعتبار سے شاہ اسماعیل ان سے زیادہ کامل اور پڑھے لکھے تھے۔ ایک خاص جذباتی موقع پر کسی نے شاہ اسماعیل سے پوچھا: "آپ کے تایا شاہ عبد العزیز اور شاہ عبد القادر دونوں آپ کو بے حد چاہتے ہیں، اور سید احمد ان کے شاگردوں میں ہیں۔ پھر آپ اپنے تایاؤں کے مقابلے میں ان سے اتنے قریب کیوں ہیں؟" شاہ اسماعیل نے  اختصار کے ساتھ جواب دیا: "میں بس اتنا کہوں گا کہ جب میں اپنی (بیوہ) ہمشیرہ کو حدیث کی کتاب مشکاۃ پڑھایا کرتا تو میں قصداً نکاح بیوگان کی فضیلت میں وارد احادیث کو چھوڑ دیتا، اس خدشے کی بنا پر کہ وہ عقد ثانی کی خواہش نہ کر بیٹھے۔ لیکن جب سید احمد کے ساتھ میرا تعلق مضبوط ہوا تو میں نے خود اس کا عقد ثانی کرا دیا۔ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں ان کے اتنے قریب کیوں ہوں!"18

درج بالا واقعے کا ایک دل چسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلے سے نہ صرف عام مسلمانوں بلکہ مسلمان علما کے درمیان بھی "ہندوانہ رسومات" کی جڑوں کی گہرائی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسماعیل کا اپنی ہمشیرہ کو درس حدیث دینے کے وقت نکاح بیوگان سے متعلق احادیث نبویہ کو چھوڑ دینے کا اعتراف بہت اہم ہے، کیوں کہ اس سے نکاح بیوگان کو رائج کرنے کے لیے ان کے مشن کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مقصد دوسروں کی اصلاح سے زیادہ اپنی اصلاح تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں میں رائج نکاح بیوگان کی بندش کو ہٹانے کی خواہش اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ رسوم ایک ایسے ہندوستانی ماحول میں پیچ درپیچ پیوست ہونے کی وجہ سے خاموش طور پر قبول کیے گئے تھے جس میں "ہندوؤں" اور "مسلمانوں" کی مذہبی وابستگیوں کے درمیان امتیاز اس قدر واضح نہیں تھا۔ [60] اگر چہ ہندو اور مسلمان مصلحین اپنی کوششوں کے تناظر اور مقاصد کے حوالے سے ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف تھے، تاہم یہ کہنا فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ وہ نہ صرف نکاح بیوگان کی تائید میں بلکہ نکاح بیوگان کی بندش کو مذہبی تعلیمات کی مخالفت پر مبنی ایک غلط رسم قرار دینے میں بھی ایک دوسرے سے متفق ہیں- ایک ایسی جد وجہد جو تعبیر وتشریح کے اصولوں کے اعتبار سے مسلمانوں کے بجاے ہندؤوں کے لیے نسبتاً زیادہ بڑا چیلنج تھا۔ دونوں کا یہ نقطۂ نظر بھی ایک جیسا تھا کہ ایک بیوہ خاتون ہمیشہ جنسی آوارگی اور بداخلاقی کا بآسانی شکار ہو سکتی ہے، اگر اسے رشتۂ ازدواج کے اخلاقی بندھن میں نہ باندھا جائے19۔  

یہ نکتہ غور طلب ہے کہ کہیں شاہ اسماعیل اور ان کے رفقاے کار نے اس صورت حال کے پیدا کرنے میں کوئی کردار تو ادا نہیں کیا جس کی بنیاد پر استعماری ریاست نے ہندو بیواؤں کے عقد ثانی کی قانونی اجازت فراہم کی۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی اس امکان کو کیسے دیکھتا ہے، جس طرح کہ گزشتہ بحث سے معلوم ہوتا ہے، یہ مفید ہوگا کہ روایتی طور پر "ہندو مذہب" یا ہندو کرداروں کے اصلاحی اقدامات میں برصغیر کے مسلمان مصلحین کے مداخلتی کردار کو کم از کم زیرِ غور ضرور لایا جائے۔ ان بالعموم نظر انداز شدہ نکات اتفاق کی نشان دہی اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے  اصلاح پسندوں کی  اس خوش گمانی  کا پردہ چاک کیا جا سکتا ہے کہ مذہبی شناخت میں امتیاز اور اختلاف  کی کچھ   ہمیشہ سے چلی آنے والی اور بہت ہی واضح حدود ہوتی ہیں  (جن کے تحت کسی مذہبی روایت میں اصلاح کا عمل انجام دیا جاتا ہے)۔

غیر الوہی کرشماتی طاقت کی تسخیر

ایک اور  دلچسپ واقعہ جس سے اسماعیل کی اصلاحی کاوشوں کی بنیاد میں کارفرما  متعلق مختلف قسم کی تنقیدات یکجا سامنے آتی ہیں،  ایک خلوت پسند لیکن مسحور کن صوفی پیر جلال شاہ کے ساتھ ان کی ملاقات ہے20۔  اسماعیل ایسے کئی مشہور اجتماعات وتقریبات میں از خود شریک ہوتے تھے جو صاحب کرامت صوفیا کی غیرمعمولی روحانی صلاحیتوں کا اظہار ہوتے، اور جس میں عام لوگوں اور شاہی خاندان کے افراد کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی تھی۔ اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے وہ ایسے مقامات پر فوجی وردی میں جاتے تھے۔ شاہ جلال کی عمر 38 سال تھی، اور وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل اور صاحب کشف وکرامت تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ کسی پر ایک نظر ڈالنے سے اسے اپنی مرضی کا تابع بنا سکتے ہیں۔ روحانی کشش کے ساتھ ساتھ شاہ جلال حیرت انگیز طور پر وجیہ تھے۔ وہ ہر سال ماہِ ربیع الاول میں میلاد النبی کے پہلے بارہ دنوں میں دہلی میں قدم شریف کی درگاہ پر روحانی اجتماعات کا انعقاد کیا کرتے تھے۔

ان اجتماعات میں شاہ جلال کے ساتھ سفر کرنے والے مصاحبین کے علاوہ  مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے فقرا، تاجر برادری اور اشرافیہ کے تقریباً دو سو لوگ شریک ہوتے۔ اگر چہ شاہ ایک صوفی تھے، لیکن ان کا طرز  زندگی پر تعیش تھا۔ ان کے ہاں ایرانی قالینوں اور زیورات جیسے سامانِ عیش کی فراوانی تھی۔ اس ٹھاٹھ باٹھ اور پرتعیش زندگی کے باوجود شاہ کی یہ بات قابل تعریف تھی کہ وہ غریبوں پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے، اور ان میں پاک بازی کی علامات جھلکتی تھیں، ایسے جیسے اصلاح اور غفلت سے بیداری  کا  موقع ملنے کے منتظر ہوں۔ اپنے مصلح سے ان کی ملاقات بہت جلد ہونے والی تھی  جب  چھ ربیع الاول کی رات کو شاہ اسماعیل نے شاہ جلال کے مشہور اجتماع میں شرکت کی۔ وہ قدم شریف میں تقریباً رات کے دس بجے داخل ہوئے جب روحانی محفل عروج پر تھی۔ شاوہ اسماعیل کو حیرت ہوئی جب شاہ جلال نے انھیں اپنے پاس بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا۔ کچھ لمحوں کے لیے شاہ اسماعیل کو اجتماع کی سرگرمیوں میں کوئی قابل اعتراض بات معلوم نہ ہوئی21۔

تاہم یہ اطمینان اس وقت ختم ہو گیا جب تبرُّکاتِ نبوی کو لایا گیا۔ جلال شاہ اور دوسرے تمام لوگ سراپا احترام بن کر کھڑے ہو گئے۔ شاہ اسماعیل چپکے  سے وہاں سے پیچھے ہٹ گئے تاکہ ایسی رسم کو بجا لانے سے احتراز کریں جس کی وہ پرزور انداز میں تردید کرتے تھے۔ اگر چہ کسی اور کو پتا نہیں چلا، لیکن شاہ جلال نے یہ بات نوٹ کی۔ تاہم انھوں نے کچھ نہ کہا، نہ ہی ناگواری یا ناراضگی کا کوئی تاثر ظاہر کیا۔ جب محفل دوبارہ جمی تو شاہ جلال نے دوبارہ شاہ اسماعیل کو اپنے پہلو میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ کچھ دیر کے لیے وہ دونوں کچھ نہ بولے۔ قدم شریف پر ایک پرشکوہ سکوت طاری تھا۔ آخر کار جلال شاہ نے مہر سکوت توڑی اور آہستہ لیکن قابل سماعت آواز میں اسماعیل سے گویا ہوئے: "کیا آپ دہلی سے ہیں"؟ شاہ اسماعیل نے اثبات میں جواب دیا تو جلال شاہ نے کہا: "ہر سال ہم آپ کی وجہ سے دہلی آ جاتے ہیں تاکہ آپ جیسے اہل دہلی کی نیک صحبت سے فیض یاب ہوں"22۔ جب وہ کچھ مزید بے تکلف ہو گئے تو شاہ اسماعیل کی خوش کلامی اور ان کی حکیمانہ گفتگو کا شاہ جلال پر اس قدر اثر ہوا کہ انھوں نے فورًا محفل برخواست کر دی، اور اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ سب کچھ لپیٹ کر وہاں سے چلے جائیں۔ جو دوسروں کو مسحور کرتا تھا، وہ خود شاہ اسماعیل کے سحر میں گرفتار ہو گیا۔ جلد ہی اسماعیل اور شاہ دونوں تنہا رہ گئے۔ اگر چہ روحانی محفل  جس میں ایک بھاری مجمع شریک تھا، قبل از وقت اختتام کو پہنچ گئی، تاہم اسماعیل کے اصلاحی کردار کی ابتدا ہوا چاہتی تھی۔

اس سے پہلے کہ شاہ اسماعیل اپنا جادو چلاتے، شاہ جلال نے کہا: "کیا آپ شاہ اسماعیل نہیں ہیں؟" اس نے ایک ایسے پراعتماد طالب علم کے انداز میں سوال کیا جس نے ابھی اپنا امتحان پاس کیا ہو۔23 پہلے شاہ اسماعیل تھوڑا ہچکچائے لیکن شاہ جلال کے اصرار پر انھوں نے آخر کار اپنی شناخت کی تصدیق کر دی۔ انھیں اس بات پر حیرت تھی کہ شاہ جلال کو کیسے پتا چلا کہ وہ کون ہیں۔ شاہ جلال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے مخالفین نے آپ کی تصویریں اور حلیے لکھ لکھ کے بھیجی ہیں  اور استدعا کی ہے کہ میں اپنے روحانی تصرف کو بروے کار لاتے ہوئے آپ پر قابو پا کر قتل کر دوں۔ لیکن شاہ جلال نے شاہ اسماعیل کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بغیر کسی وجہ کے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔24

اس کے بعد شاہ اسماعیل نے انھیں ایک شخصی اور فی البدیہہ تقریر کے ذریعے وعظ ونصیحت کی۔ انھوں نے ان غلطیوں سے پردہ اٹھایا جن میں شاہ جلال مبتلا تھے، اور جس نے ان کے پیروکاروں اور مریدوں کو غلط رستے پر ڈال دیا تھا۔ شاہ اسماعیل کی زبان سے قرآن وحدیث کا منشا غور سے سننے کے بعد شاہ جلال کانپ اٹھے۔ انھوں نے لجاجت بھری آواز میں کہا: "آپ کا ارشاد بجا ہے۔ حقیقت میں اب تک میں نے جو کچھ ثواب جان کر کیا ہے وہ سب اسلام کے خلاف ہیں۔ میں نے قبور کی زیارت کے لیے سفر کیے، مزارات پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور اس جیسے جو کام کیے، وہ سب درحقیقت شرک وبدعت ہیں۔ میں اپنے کیے گئے گناہوں کا جواب تو خدا کو دوں گا ہی، لیکن ان لوگوں کے جواب کا کیا کروں گا جو میری وجہ سے بہکاوے میں آ گئے"۔ یہ کہتے ہی وہ بلک بلک کر رونے لگے۔25 شاہ  اسماعیل نے انھیں تسلی دی اور انھیں خدا سے فوراً معافی مانگنے کی تلقین کی۔ یہ رات دو بجے کا وقت تھا۔ دہلی میں ہو کا عالم تھا اور سوائے کوتوال کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

شاہ اسماعیل اور جلال شاہ نے آنکھیں بند کرکے پورے دل سے خدا کے حضور شاہ جلال کی توبہ کی قبولیت اور مغفرت کے لیے گڑگڑا کر دعا  کی۔ ان کی دعا کی قبولیت اس طرح ہوئی کہ ایک گرجتی ہوئی لیکن تسکین بخش آواز آسمان سے سنائی دی: "اے جلال! ہم نے تیرے گناہ معاف کیے، اور آج سے تو ہمارے دوستوں میں سے ہے۔" یہ سنتے ہی شاہ جلال اور شاہ اسماعیل دونوں بے ہوش ہو گئے۔ گھنٹہ بھر بے ہوش رہنے کے بعد جب شاہ جلال اٹھے تو "انھوں نے اپنا دل ربانی جلووں سے معمور پایا"26۔ وہ بدعت سے سنت کی طرف آ گئے، اور اسلام کے سچے پیروکاروں کے قافلے میں شامل ہو گئے۔  

اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد شاہ اسماعیل کے سوانح نگار مرزا حیرت دہلوی ایک دل چسپ حاشیہ چڑھاتے ہیں جس کا نشانہ واضح طور پر معقولات کے ساتھ اشتغال رکھنے والا خیرآبادی مکتب فکر ہے: "یوں آسمانی آواز کا آنا ایک فلسفی کے دماغ کو خلجان میں مبتلا کرے گا، مگر جب وہ دل اور قوتِ یقین کی پرزور حالت کو دیکھے گا تو اسے اس بات میں کوئی شک نہیں ہوگا کہ دل میں خدا کی آواز سننے کی صلاحیت ہے، جب وہ دنیوی تعلقات سے پاک وصاف ہو جائے"27۔

مرزا حیرت کے نزدیک جلال شاہ اپنے دل کی پاکیزگی کی وجہ سے خدائی آواز سننے کے قابل ہوئے۔ جو کوئی اس جیسے واقعے کو بے بنیاد سمجھتا ہے، وہ دل اور خدا کے درمیان قریب تعلق کو نہ سمجھ سکتا ہے نہ اس کی قدر کر سکتا ہے۔ ہر اصلاح شدہ پاک باز شخص کے دل کی آواز خدا کی آواز ہے۔ جلال شاہ کے انقلابِ حال کی کہانی شاہ اسماعیل کے اصلاحی منصوبے کے تمام مرکزی موضوعات کو سامنے لاتی ہے: پیری اور ولایت کی غیرشرعی اساسات پر تنقید، ایسی رسموں کا انکار جو اسی پیری اور ولایت سے جنم لیتی ہیں، اور ان دو بنیادی ذرائع سے جڑے اشرافی طرزِ حیات کی تردید۔ جلال شاہ کے انقلابِ حال کی اس عجیب حکایت میں برصغیر میں انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے اس تصور اور خواہش کو واضح طور پر پیش کیا گیا ہے جو صرف اور صرف خدا کی مطلق اور امتیازی حاکمیتِ اعلیٰ (خالص توحید) کے قیام کا خواہاں ہے۔


حواشی

  1. مرزا حیرت دہلوی، حیاتِ طیبہ (لاہور: اسلامی اکیڈمی ناشران کتب، 1984)، 41-51۔
  2. ایضاً، 47۔
  3. ایضاً، 44۔ یہ پیراگراف براہ راست اردو متن سے لیا گیا۔ مترجم
  4. ایضاً، 43۔
  5. کسی ابہام سے بچنے کے لیے میں اگلے صفحات میں ان کے نام کا 'بریلوی' لاحقہ ذکر کرنے کے بجاے سید احمد استعمال کروں گا۔
  6. سید احمد کی علمی اور سیاسی زندگی کے ایک عمدہ مطالعے کے لیے دیکھیے: جرنل آف رائل ایشیاٹک سوسائٹی 21، نمبر 2، (اپریل 2011): 98-177 میں ثنا ہارون کا آرٹیکل بعنوان: Reformism and Orthodox Practice in Early Nineteenth-Century Muslim North India: Sayyed Ahmad Shaheed Reconsidered پڑھیں۔ اس آرٹیکل میں ثنا ہارون ہمیں بتاتی ہیں کہ ٹونک میں عسکری تربیت حاصل کرنے کے دوران سید احمد ایک صوفی شیخ کی حیثیت سے شہرت حاصل کر چکے تھے، جن سے لوگوں اور بسا اوقات جانوروں کی مادی وروحانی فوائد کی خاطر کرامات کا ظہور ہوتا تھا، اور وہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی بھی کرتے تھے۔ مثال کے طور پر: "وہ بیمار لوگوں پر ہاتھ پھیر تے اور دعائیں پڑھ کر پانی پر دم کرتے، پھر اسے مریضوں کو پلاتے جس سے وہ شفایاب ہو جاتے۔ ان کے دم سے ایک ایک نابینا آدمی دوبارہ بینا ہو گیا، ایک بیمار بیل دوبارہ ریڑھی کھینچنے کے قابل ہو گیا، اور ایک سوکھی گائے دوبارہ دودھ دینے لگی (182)۔
  7. غلام رسول مہر، تقویۃ الایمان کا مقدمہ (کراچی: صدیقی ٹرسٹ، تاریخ اشاعت ندارد)، 37۔
  8. چارلس ہیمبرک-سٹوو، Charles Finney and the Spirit of American Evangelicalism (گرینڈ ریپڈز، ایم آئی: ولیم بی ایرڈمینز، 1996) 37۔
  9. انگریزی متن میں سورۃ التوبۃ ہے، جو درست نہیں، مترجم۔ اشرف علی تھانوی، ارواحِ ثلاثہ (کراچی: دارالاشاعت، 2001)، 56-58۔ چاندنی چوک پرانی دہلی میں قدیم ترین اور مصروف ترین تجارتی بازاروں میں سے ہیں، جو آج تک دہلی کے شمال مرکز میں واقع ہے۔ اسے اصل میں سترھویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہان نے تعمیر کیا تھا، اور اس کا نقشہ اس کی بیٹی جہان آرا (م 1681) نے بنایا تھا۔
  10. تانیکا سرکار، Rebels, Wives, Saints: Designing Selves and Nations in Colonial Times (لندن: سیگل بکس، 2009)، 122۔
  11. ایضاً، 121۔
  12. ایضاً، 68۔  
  13. مثلاً سرکار، Rebels, Wives, Saints: Designing Selves and Nations in Colonial Times (لندن: سیگل بکس، 2009)؛ تانیکا سرکار، Hindu Wife, Hindu Nation: Community, Relgion, and Cultural Nationalism (بلومنگٹن: انڈیانا یونیورسٹی پریس، 2001)؛ لتا مانی، Contentious Traditions: The Debated on Sati in Colonial India (برکلے: یونیورسٹی آف کیلی فورنیا پریس، 1998)؛ اشیس نندی، The Savage Freud and Other Essays on Possible and Retrievable Selves (پرنسٹن، این جے: پرنسٹن یونیورسٹی پریس، 1995)۔
  14. تھانوی، ارواح ثلاثہ، 71۔
  15. اسماعیل کی ہم شیرہ (جس کا نام نہیں بتایا گیا) پہلے ان کے تایا زاد مولوی عبد الرحمان (شاہ رفیع الدین کے صاحب زادے) سے بیاہی گئی تھی، جو شادی کے چند دن بعد وفات پا گئے تھے۔
  16. تھانوی، اَرواح ثلاثہ، 68-78۔
  17. دل چسپ بات یہ ہے کہ دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کے سوانح نگار مولانا مناظر احسن گیلانی کے مطابق چند دہائی بعد بعینہ یہی سلسلۂ واقعات نانوتوی صاحب کے ساتھ پیش آیا۔ واضح طور پر یہ مولانا گیلانی کی کوشش معلوم ہوتی ہے کہ بیانیے کے انداز میں شاہ اسماعیل اور مولانا نانوتوی (بلکہ اس کو دیوبندی تحریک تک وسعت دے کر) کے اصلاحی پروگراموں کو ملائیں۔ مناظر احسن گیلانی، سوانح قاسمی، جلد 2 (لاہور: مکتبہ رحمانیہ، 1976)، 10۔
  18. تھانوی، ارواحِ ثلاثہ، 71۔
  19. تانیکا سرکار کے مطابق: "اصلاح پسندوں نے قدامت پرستوں کا نکاح بیوگان کو مکمل غیر اخلاقی قرار دینے کے دعوے کے مقابلے میں یہ جواب دعوی پیش کیا کہ نکاح بیوگان کی عدم موجودگی اخلاق باختگی اور گناہ کا سبب ہے"۔ (Rebels, Wives, Saints, 144)
  20. مرزا دہلوی، حیاتِ طیبہ، 135-148۔
  21. ایضاً۔
  22. ایضاً، 140۔
  23. ایضا، 141
  24. ایضاً، 141-42۔
  25. ایضاً، 144-45۔
  26. ایضاً، 146۔
  27. ایضاً، 147۔


آراء و افکار

(اپریل ۲۰۲۲ء)

اپریل ۲۰۲۲ء

جلد ۳۳ ۔ شمارہ ۴

مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین سے متعلق ہمارا موقف
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

مطالعہ سنن ابی داود (۴)
ادارہ

علم ِرجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۹)
مولانا سمیع اللہ سعدی

کم عمری کا نکاح: اسلام آباد ہائیکورٹ کا متنازعہ فیصلہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قادیانیوں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں میں فرق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قادیانیوں کے بطورِ اقلیت حقوق اور توہینِ قرآن و توہینِ رسالت کے الزامات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مسلم وزرائے خارجہ سے توقعات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

صغر سنی کی شادی پر عدالتی فیصلے کا جائزہ
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ماں باپ کی زیادہ عمر اور ڈاؤن سنڈروم کا تعلق
خطیب احمد

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)
ڈاکٹر شیر علی ترین

الشریعہ اکادمی کا سالانہ نقشبندی اجتماع
مولانا محمد اسامہ قاسم

ولی کامل نمونہ اسلاف حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی ؒکی رحلت
مولانا ڈاکٹر غازی عبد الرحمن قاسمی

تلاش کریں

Flag Counter