مسائل حسن و قبح پر معتزلہ و تنویری فلاسفہ کے موقف کا فرق

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

تحریر کا مقصد اسلامی تاریخ کے گروہ "معتزلہ" سے متعلق ہماری  تحریر و تقریر میں درآنے والی ایک عمومی غلط فہمی کی نشاندہی کرنا ہے۔ معتزلہ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ شاید اسی قبیل کے افکار کا حامل گروہ تھا جیسے کہ جدید مغربی فلاسفہ یا ان سے متاثر جدید مسلم مفکرین کے افکار ہیں۔ یہ تاثر غلط بھی ہے اور غیرمفید  بھی ۔ اس کی غلطی اور غیر افادیت دونوں کو مختصرا چند نکات کی صورت واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

غلطی کی نوعیت

معتزلہ کے بارے میں جس بنا پر درج بالا تاثر قائم کیا جاتا ہے، وہ مسئلہ حسن و قبح (good and bad) پر ان کی خاص رائے ہے ۔ اسلامی تاریخ میں اس مسئلے کی نوعیت اس سوال سے متعلق ہے کہ آخرت میں خدا کے سامنے  جوابدہی  کی بنیاد کیاہے؟ اللہ تعالی اپنے بندوں کو کس عمل پر جزا دے گا اور کس پر سزا، انسان یہ کیسے جان سکتا ہے؟ یہ سوال اپنی وضع میں "اخروی" جہت لئے ہوئے ہے، یعنی خیر و شر کا تعلق محض اعمال کے دنیوی نتائج یا دنیوی خصائص کے اعتبار سے ان اعمال کی بناوٹ کے لحاظ سے نہیں بلکہ  آخرت میں نتائج کے اعتبار سے ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں معتزلہ کے موقف کا خلاصہ یہ ہے:

  • اخروی جوابدہی کی بنیاد عقل اور وحی دونوں ہیں
  • انسانی عقل سے معلوم کئے جاسکنے کے امکان کے لحاظ سے معتزلہ تمام انسانی افعال کو تین اقسام میں رکھتے ہیں: (1) وہ جن کا حسن ہونا عقل سے معلوم ہوسکتا ہے جیسے کہ اللہ پر ایمان لانا اور سچ بولنا وغیرہ،  (2) وہ جن کا قبیح ہونا عقل سے معلوم ہوسکتا ہے جیسے کہ کفر، بلا سبب جھوٹ بولنا وغیرہ، (3) وہ جن کے حسن و قبح کا ادراک عقل سے  نہیں ہوسکتا بلکہ شرع سے ہوتا ہے جیسے نمازوں کی تعداد و اوقات، روزے کے مہینے کا تعین وغیرہ۔
  • معتزلہ کے نزدیک وہ اعمال جن کے حسن و قبح کو عقل پہچان سکتی ہے، ان معاملات میں بھی وحی آتی ہے جو عقل سے معلوم شدہ نتائج کی تائید کرتی ہے  
  • اعمال کا یہ حسن و قبح اللہ تعالی کی صفت حکمت کے مضمرات میں سے ہے کہ حکیم ذات ایسے  افعال سرانجام دیتی ہے جو بامعنی (معتزلہ کی اصطلاح میں "اصلح للعباد") ہوں اور ایسی ذات ان اعمال کا حکم صادر نہیں کرتی جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہوں ہی قبیح۔ یہی وجہ ہے کہ معتزلہ کے نزدیک خدا کفر اور جھوٹ جیسے قبیح لعینہ کا حکم صادر نہیں کرسکتا کہ یہ اس کی صفت حکمت کے خلاف ہے، اسی طرح معتزلہ خدا کی طرف سے ایسے اعمال کی تکلیف لازم کئے جانے کے بھی قائل نہیں جن کی  ادائیگی کی استطاعت بندے میں نہ ہو کیونکہ ایسا حکم عبث کہلاتا ہے اور ایک حکیم ذات سے عبث عمل کی توقع نہیں کی جاسکتی (اس بحث کو  تکلیف مالا یطاق  کہتے ہیں)
  • معتزلہ کے نزدیک جن لوگوں تک نبی کی بات نہ پہنچے، ان پر بھی نجات کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ خدا پر ایمان لائیں اور چند کم از کم نیک اعمال کی ادائیگی اور برے اعمال سے اجتناب کا اہتمام کریں جن کے حسن و قبح کو  عقل  پہچان سکتی ہے
  • علمائے معتزلہ کا ماننا ہے کہ اگر بعض اعمال کی اخلاقی حیثیت کے درج بالا  عقلی پہلو کو قبول نہ کیا جائے تو نبی کی تصدیق کے استدلال کا دروازہ مسدود ہوجائے گا۔

چنانچہ درج بالا نکات سے یہ واضح ہے کہ:

  • معتزلہ کے پیش نظر کوئی ایسا عقلی پراجیکٹ   وضع کرنا مقصود نہیں تھا  جو وحی کو انسانی خیالات کے تحت وضع کردہ کسی اخلاقی سسٹم سے بدل دے جیسا کہ ھیوم، سمتھ یا کانٹ وغیرہ کے پیش نظر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان فلاسفہ کے ہاں مثلاً بائیبل سے ہدایت حاصل کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں جبکہ معتزلہ قرآن و سنت سے ہدایت کے سختی سے قائل تھے۔ اسی طرح معتزلہ کے ہاں ایسے تصورات بھی نہیں پائے جاتے جو منصوص شرعی احکامات کو کسی قسم کی تاریخی معاشرتی صف بندی (social construct) کا نتیجہ ثابت کردیں جیسا کہ ان مفکرین کا کہنا ہے جو ہیگل یا مارکس وغیرہ سے متاثر ہیں۔
  • جدیدیت کے  مباحث میں حسن و قبح کی تمام بحثوں کا محور یہ دنیا (this worldly) ہے جبکہ معتزلہ ہوں یا اشاعرہ و ماتریدیہ، سب کے ہاں یہ سوال اخروی (that worldly) ہے۔ حسن و قبح کی نوعیت پر بحث کا یہ زاویہ نگاہ علم کلام کے تقریبا تمام مکاتب فکر کے مابین یکساں ہے اور اس بحث کی یہ وہ بنیادی خصوصیت ہے جو اسلامی علم کلام میں ہونے والی اس بحث کو مابعد تحریک تنویر اس موضوع پر ہونے والے  مباحث سے ممیز کرتی ہے۔ تنویری مفکرین کے ہاں حسن و قبح کا یہ سوال اخروی زاویہ نگاہ سے زیر بحث نہیں آتا بلکہ ان کی فکر اسے محض دنیوی نکتہ نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس فکر کے مطابق اچھائی و برائی کا تعلق اس سوال سے نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے، بلکہ یہ سوال دنیا میں انسان کی حصول آزادی کی جدوجہد میں اضافے یا کمی سے عبارت ہے۔ چنانچہ حسن وہ ہے جو انسان کی آزادی (بعض مفکرین کے مطابق لذت) میں اضافے کا باعث بنے اور قبیح وہ ہے جو اس کی آزادی میں کمی لائے۔اس اعتبار سے اسلامی علم کلام میں ماضی کا کوئی بھی گروہ  حسن و قبح کے مسئلے پر تنویر ی موقف کا قائل نہیں رہا۔ محض دنیوی نکتہ نگاہ سے اعمال کی قدر متعین کرنے کا یہ زاویہ نگاہ اسلامی تاریخ و علمیت کے لیے اجنبی ہے۔
  • معتزلہ کے ہاں چند گنے چنے اعمال کے عقلی حسن و قبح سمیت سب معاملات میں وحی کی حاکمیت نافذ ہے اور انفرادی و اجتماعی تمام زندگی کو اسی کے مطابق مرتب کرنا لازم ہے۔ شریعت پر عمل کے اس معاملے میں وہ اس قدر سخت گیر تھے کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو ایمان و کفر کے مابین معلق قرار دیتے تھے۔ پس اس اعتبار سے انہیں آج کے سیکولر مسلمان مفکرین کی طرح بھی نہیں گردانا جاسکتا۔  

ان امور کے پیش نظر معتزلہ کو مغربی فلاسفہ کی طرح یا بعض سیکولر قسم کے مسلم مفکرین کی طرح قرار دینا نہ صرف غلط ہے بلکہ ان نئے لوگوں کو اسلامی  تاریخ سے ایک بنیاد یا نظیر فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ درست بات یہ ہے کہ ان نئے قسم کے لوگوں کی بات کے لئے اسلامی تاریخ میں کوئی نظیر موجود نہیں۔ رہا اشاعرہ کا معتزلہ کی اپروچ کو رد کرنا، تو اس بحث کا اپنا الگ مقام و حیثیت ہے لیکن اس تردید کا ان تاثرات سے تعلق نہیں جو عام طورپر معتزلہ کے بارے میں مشہور ہوگئے ہیں۔ یہ بات بھی یادر رکھنا چاہئے کہ محض مجرد اصول کسی کے موقف کو متعین کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتے بلکہ یہ بھی دیکھنا لازم ہوتا ہےکہ اس فکر کے حاملین نے ان اصولوں کو کیسے اور کس حد تک برتا۔ چنانچہ حسن و قبح کی بحثوں میں معتزلہ ان اصولوں کو کیسے برتتے ہیں، اس کے لئے اصول فقہ پر ان کے علماء کی نمائندہ کتب دیکھنا چاہئیں  (جیسے کہ قاضی عبد الجبار کی "العمد" نیز ابو الحسین البصری کی "المعتمد") ۔

غیر افادیت کی نوعیت

مسئلہ حسن و قبح پر بحث میں جن امور کے پیش نظر معتزلہ کو تنویری فلاسفہ کے ساتھ ملایا جاتا ہے، ان مسائل میں اصولا علمائے ماتریدیہ کی بھی قریب قریب وہی رائے ہے جو معتزلہ کی ہے۔  چنانچہ علمائے ماتریدیہ بھی اللہ کی حکمت کے پیش نظر اعمال کے خصائص کے قائل ہیں، وہ بھی اعمال کو انہی تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں جو اوپر ذکر کی گئیں نیز  ان کی ایک اکثریت کے نزدیک بھی نبی کی بات پہنچے بغیر بذریعہ عقل اللہ پر ایمان لانا لازم ہے۔ جن اصولوں کے پیش نظر معتزلہ تکلیف مالایطاق کے قائل نہیں، انہی کے پیش نظر ماتریدیہ بھی قائل نہیں۔ معتزلہ کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے گویا ان کے نزدیک بعض اعمال کی تکلیف واجب کرنے والی شے عقل ہے حالانکہ ان کا موقف یہ ہے کہ عقل ان کی تکلیف واجب کرنے والی نہیں  بلکہ اس کی کاشف یعنی وضاحت کرنے والی ہے، موجب خدا ہی کی ذات ہے اور یہی موقف ماتریدیہ کا ہے۔  یہ بات معلوم ہے کہ ماتریدی روایت اہل سنت میں احناف  کی روایت ہے۔ نہ صرف ماتریدی علماء بلکہ مسائل حسن و قبح میں علامہ ابن تیمیہ بھی تقریبا علمائے ماتریدیہ والی  رائے ہی رکھتے ہیں اور آپ بھی اللہ کی حکمت کے تقاضوں کے تحت تکلیف مالایطاق  جیسے امور کو ناجائز کہتے ہیں نیز علمائے معتزلہ  و ماتریدیہ کی طرح اعمال کے حسن و قبح کے عقلی ادراک کے لحاظ سے انہیں تین اقسام کے تحت رکھتے ہیں البتہ وہ ان کی تکلیف شرعی کے لئے صرف وحی کو بنیاد بناتے ہیں (علمائے ماتریدیہ  اور آپ کی رائے میں تعلق  و فرق یہ ہے کہ بعض ماتریدیہ کے نزدیک شکر منعم ماقبل شرع بھی واجب ہے جبکہ بعض ماتریدیہ  کے نزدیک یہ  واجب نہیں، اس اعتبار سے علامہ ابن تیمیہ  کی رائے ان دوسرے بعض کی طرح ہے)۔  ان سب کے برعکس علمائے اشاعرہ خیر و شر کے ادراک اور اس کی تکلیف ہر دو میں صرف شرع کو بنیاد بناتے ہیں۔ گوشوارہ نمبر 1 میں مختلف آراء کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔


چنانچہ جب ہم معتزلہ کو ان کے موقف کی بنا پر مغربی فلاسفہ یا سیکولر قسم کے مسلم مفکرین کے ساتھ ملاتے ہیں ، تو انجانے میں نہ صرف خود اہل سنت میں ماتریدی /  حنفی روایت کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں بلکہ ان گمراہ فلسفیوں اور مسلم مفکرین کی آراء کو اہل سنت ہی کے اندر سے سند جواز فراہم کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک  غلط فہمی ابو نصر فارابی اور ابن سینا جیسے مسلم فلاسفہ  کو معتزلہ کے ساتھ ملادینا ہے حالانکہ ان دونوں کی اپروچ میں بنیادی نوعیت کا فرق تھا (مثلا یہ کہ مسلم فلاسفہ نیو افلاطونی فکر کے زیر اثر تھے جبکہ معتزلہ اٹامسٹ تھیوری کے قائل تھے اور اسی نظرئیے  کو اشاعرہ و ماتریدیہ نے بھی قبول کیا، اسی طرح مسلم فلاسفہ کا تصور نبوت و معجزہ معتزلہ کے تصور نبوت و معجزہ سے مختلف ہے)۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی "تھافت الفلاسفۃ " کے بعد علمائے معتزلہ نے بھی اسی طرز پر مسلم فلاسفہ کے رد پر کتب لکھیں (مثلا ابن الملاحمی کی کتاب "تحفۃ  المتکلمین فی الرد علی الفلاسفۃ")۔

الغرض معتزلہ کے پیش نظر نہ وحی کو رد کرکے من جملہ کسی عقلی اخلاقی نظام کو کھڑا کرنا مقصود تھا  اور نہ ہی ان کے ہاں انفرادی اور اجتماعی زندگی جیسی کوئی ایسی تقسیم موجود تھی جو شرع کو انفرادی زندگی تک محدود کرسکے۔ پس ان امور کے پیش نظر  تنویری فکر کے تناظر میں معتزلہ کے افکار پر گفتگو و بحث کرتے ہوئے ہمیں احتیاط سے کام لینا چاہئے  اور ایسے عمومی بیانات سے گریز کرنا چاہئے جو  نہ صرف یہ کہ علمی طور پر غلط ہیں  بلکہ جدید فاسد خیالات کو تاریخی سند فراہم کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں  ۔ اس بے احتیاطی کا ایک بڑا نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم معتزلہ کے بارے میں یہ تاثر قائم کرواتے رہے کہ وہ مسائل خیر و شر میں مغربی فلاسفہ جیسے خیالات رکھتے تھے اور پھر  کل کلاں کو مخلص مسلمان اصل ماخذات (یا پھر ثانوی انگریزی ماخذات) سے  یہ جانیں  گے کہ خود اہل سنت میں ماتریدی روایت کے حاملین  اور اسی طرح دیگر اہم افراد بھی تقریبا یہی خیالات رکھتے تھے تو ہم ان مسلمانوں کو اہل سنت ہی کے ایک گروہ سے برگشتہ کرنے کا باعث بن جائیں گے نیز ساتھ ہی ساتھ سیکولر و متجددین قسم کے مسلم مفکرین  کے مدعا کو مضبوط کردیں گے۔ اس ضمن میں زیادہ علمی اور محفوظ طریقہ بحث معتزلہ کو جدید فکر کے حاملین کی صفوں میں  لا کھڑا کرنا نہیں بلکہ ان سے الگ کرنا ہے۔

ہذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب۔

آراء و افکار

(ستمبر ۲۰۲۱ء)

Flag Counter