عقیدہ، تہذیب اور سیاسی طاقت
(اسلامی تاریخ کے تناظر میں)

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

کسی مذہبی پیغام یا  عقیدےکے پھیلاؤ میں سیاسی طاقت کا کر دار کس قدر اہم  ہوتا ہے؟  دوسرے لفظوں میں  سیاسی طاقت  کی کسی اخلاقی یا مذہبی پیغام کے لئے  کیا معنویت ہے  ؟اسلام کے حوالے سے دیکھیں تو اسلام کی دعوت کے عمومی فروغ  میں سیاسی طاقت کا کتنا اثر ہے ؟ مزید  یہ کہ  کر ہ ارض کے ایک بڑے خطے پر مسلمانوں نے جو تہذیبی اثرات ڈالے ،اس میں ان کی فتوحات او ر سیاسی اثر و رسوخ  کا کس  قدر حصہ رہا  ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اسلامی روایت  کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف مغربی مفکرین  کے لئےاسلام کے آغاز و ارتقا  اور تہذیب ِ اسلامی کے عالمی اثرات  سے متعلق  درست پوزیشن  لینا دشوار  بنا رہا تو دوسر ی طرف خود مسلمانوں کو کئی حوالوں سے معذرت خواہانہ  موقف اپنانا پڑا۔

بہت سے مغربی معترضین نے اپنی منطقی و استدلالی قوت  اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کی ہے کہ اسلام  تلوار کے ذریعے پھیلاہے، یعنی اسلام خونریزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔ جواب میں مسلمانوں نےاسلام کے عسکری پہلو کو  ایک طرح کا  تاریخی دھبہ  سمجھتے ہوئے،اپنے تاریخی چہرے سے  دھونے کی ہر ممکن کو شش کی ،چاہے انہیں معذرت خواہانہ پوزیشن ہی کیوں نہ اپنا نی پڑے۔ یہاں تک کہ علامہ محمد  اقبال جیسے مفکر  کے ہاں بھی، جن کی شاعر ی میں قوموں کے لئے  طاقت و قوت اور حرکتِ پیہم کو زندگی کی علامت  کے طور پر بیان کیا  گیا اور جرم ِضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات قرار پائی  ، تاریخِ اسلام کے متعلق یہ فکری الجھاؤ موجود ہے جو ڈاکٹر سر نکلسن (Sir Nicolson) کے نام لکھے گئے ان کے خط میں صاف نظر آتا ہے ۔ لکھتے ہیں :

مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ  مسلمان  بھی دوسری قوموں کی طرح  جنگ کر تے رہے ہیں ۔ انہوں نے بھی فتوحات کی ہیں ۔ مجھے اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ  ان کے بعض  قافلہ سالار ذاتی  خواہشات  کو دین و مذہب کے لبا س میں جلو ہ گر  کرتے رہے ہیں  لیکن مجھے  پوری طرح  یقین ہے کہ  کشور کشائی  اور ملک گیری  ابتدا  ءاسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔ اسلام کو جہاں ستائی اور کشور کشائی میں جو کامیابی ہوئی ہے ، میرے نزدیک  وہ اس کے مقاصد کے حق میں  بے حد مضر تھی۔  اس طرح وہ اقتصادی  اور جمہوری  اصول  نشو و نما نہ  پاسکے  جن کا ذکر  قرآن ِ کریم  اور احادیث  نبویﷺ  میں جا بجا  آیا ہے۔بلاشبہ  کہ مسلمانوں  نے ایک عظیم الشان سلطنت  قائم کرلی ، لیکن  سا تھ ہی ان کے سیاسی  نصب العین  پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا  اور انہوں نے  اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بندکر لیں  کہ اسلامی اصولوں  کی گیرائی  کا دائرہ کس قدر  وسیع ہے ۔بلاشبہ اسلام کا مقصد  انجذاب ہے مگر انجذاب کے لئے کشور کشائی  در کا رنہیں بلکہ صرف  اسلا م کی سیدھی سادی تعلیم جو الٰہیات  کے دقیق  اور پیچیدہ مسائل سے پاک  اور عقل انسانی  کے عین مطابق  واقع ہوئی ہے  اس عقدہ  کی گرہ کشائی  کر سکتی ہے ۔اسلام کی فطرت میں  ایسے  اوصاف  پنہاں ہیں  جن کی  بدولت  وہ کامیابی  کے بام بلند  پر پہنچ  سکتا ہے۔ذرا چین کے حالات  پر نظر ڈالئےجہاں کسی  سیاسی قوت  کی پشت پناہی  کے بغیر اسلام  کے تبلیغی مشن  نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرلی  اور لاکھوں انسان  اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے ۔میں بیس سال سے  دنیا کے افکار  کامطالعہ کر رہا ہوں اور اس طویل عر صے نے مجھ میں  اس قدر صلاحیت  پیدا کر دی ہے کہ  حالات و واقعات پر غیر جانبدار انہ حیثیت سے  غور کر سکوں۔1

چین کے مسلمانوں کا معاملہ تو بہت بعد کا ہے ، غور کیجئے کہ آغاز اسلام اور اس کے بعد اسلامی تہذیب کے تشکیل و ارتقاکے دور میں کیا ممکن تھا کہ  محض تبلیغی مشن سے  یہ سارے   اثرات اور  مقاصد حاصل کیے جا سکتے ؟مزید گہر ائی سےدیکھا جائے تو   چین کے مسلم  دعوتی مشن  کے پسِ پشت بھی اسی اسلامی تہذیب  ہی کی پشت پناہی تھی جس  نے تاریخ انسانی میں ایک بڑا اثر ڈال رکھاتھا  ، جو دعوتی مشن میں   شعوری لاشعوری سطح پر  بہرحال  موجود رہی ہے ۔ ضرورت ا س امر کی ہے کہ  اسلام  کے پیغام کے پھیلا ؤ اور تہذیب ِ اسلامی کے تشکیلی دور  میں سیاسی طاقت کی  اہمیت اور اس کے بھر پور کردار  کو واضح کیا جائے۔

عقیدہ توحید کے فروغ میں سیاسی طاقت کا کردار

ماضی قریب  کی  معروف یہودی مصنفہ  پیٹریشا کرون2 (Patricia Crone:1945-2015) اس سوال کو جس زاویے سے دیکھتی ہیں ، وہ کافی دلچسپ ہے۔ان کے نزدیک دنیا  میں جتنے  بھی مذاہب زیادہ پھیلے  اور انہیں انسانی  تہذیب  و تمدن  پر  گہرے اثرات ڈالنے کا موقع ملا ،انہیں سیاسی طاقت  کی مدد ضرور حاصل رہی3 ۔ گویا جب کسی  اخلاقی یا مذہبی  پیغام کو سیاسی طاقت کی سپورٹ ملتی ہے تبھی وہ کوئی بڑا impact ڈال سکتاہے ۔وہ اپنے نقطہ نظر کو اس مقدمہ پر کھڑا کر تی  ہیں کہ عقیدہ توحید اصل میں یہودیت  کا ہے۔  یہودیت کے پا س خالص توحید تو تھی لیکن انہیں سیاسی طاقت نہیں ملی ۔ عیسائیت کو اگرچہ سیاسی طاقت ملی لیکن ان کے ہاں عقیدہ توحید  تثلیث سے گہنا چکا تھا  البتہ مسلمانوں کے ہاں  عقیدہ توحید بھی خالص تھا اور  سیاسی طاقت بھی موجود تھی ۔ یوں عقیدہ توحید جو دراصل یہود ی مذہب  کا بنیادی عقیدہ  تھا ،مسلمانوں  نے اسے   آگے بڑھایا اور آج عقیدہ توحید جو  خالص حالت میں پوری آب وتاب کے ساتھ  موجود ہے ،ا س کی بنیادی وجہ مسلمانوں کی  سیاسی طاقت  تھی جس کے زیرِ سایہ اسے پوری طرح پھلنے پھولنے کا موقع ملا ۔  گویا  یہودی عقیدے اور عربوں کی  غیر متمدن طاقت کے امتزاج  کے بغیر  عقیدہ توحید  خالص صورت میں تاریخ میں اپنا سفر طے نہیں کر سکتا تھا۔ اس خاص نکتے کو واضح کرنے کی پوری گنجائش موجودہےاور غالبا مغر بی مصنفین میں سے  تاریخ ِ اسلام کو اس خاص مذہبی  زاویے  سے دیکھنے والا اور کوئی نہیں۔ وہ  اپنی معروف کتاب "Hagarism" میں لکھتی ہیں:

Without the fusion of barbarian force with Judaic value there would have been no such thing as Islamic civilization, and the intransigent stance of Islam vis-a-vis the heritage of antiquity was consequently part of the price that had to be paid for its very existence.4

غیر متمدن قوت اور یہودی عقیدے (یعنی توحید) کے ملاپ کے بغیر اسلامی تہذیب  کا تصور ممکن  نہیں۔ قدیم ورثہ کے مقابلے میں  اسلا م کا  بے لچک غیر مصالحانہ موقف اس قیمت کا ایک حصہ تھا  جو اسلام کو اپنی بقا کے لیے دینی پڑی۔

ایک اور مقا م پر لکھتی ہیں:

The power of Hagarism to reshape the world of antiquity lay in its union of Judaic values with barbarian force.5

ہیگر ازم (یعنی اسلام) کی طاقت  جس سے اس نے قدیم دنیا کو  نئی شکل دے دی، یہودی اقدار کو غیر متمدن قوت کے ساتھ جوڑ  دینے میں مضمر تھی۔

پھر لکھتی ہیں :

Instead, barbarian conquest and the formation of the Judaic faith which was eventually to triumph in the east were part of the same historical event. What is more, their fusion was already explicit in the earliest form of the doctrine which was to become Islam. The preaching of Muhammad integrated a religious truth borrowed from the Judaic tradition with a religious articulation of the ethnic identity of his Arab followers. ……
The structure of Hagarene doctrine thus rendered it capable of long-term survival, and the consolidation of the conquest society ensured that it did survive. Judaic values had acquired the backing of barbarian force, and barbarian force had acquired the sanction of Judaic values: the conspiracy had taken shape.6

درحقیقت غیر متمدن  قوت  کی فتوحات  اور یہودی  عقیدے  (یعنی توحید) کی تشکیل  جو مشرق  میں آخر کار  فاتح ٹھہرا،  ایک ہی تاریخی واقعے کا حصہ تھے۔ مزید یہ کہ  ان کا باہمی ملاپ اس عقیدے کی ابتدائی ترین  شکل میں  ہی واضح تھا جو بعد میں اسلام بنا۔ محمد ﷺ کی تبلیغ  نے یہودی روایت سے  لی گئی ایک مذہبی صداقت (یعنی توحید) کو  اپنے عرب پیروکاروں  کی نسلی شناخت کے اظہار کے ساتھ  ضم کر دیا۔  

ہیگیرین  عقیدہ (یعنی اسلام) کی ساخت  نے اس میں  لمبے عرصے تک  باقی رہنے کی صلاحیت  پیدا کی، جبکہ  فتوحات  کے استحکام نے اس کی بقا کو یقینی بنایا۔ یہودی اقدار کو غیر متمدن طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو گئی جبکہ غیر متمدن قوت کو یہودی اقدار کا  جواز اور تقدس مل گیا۔ یوں (توحید کو تہذیبی سطح پر باقی رہنے کے لیے)  جس گٹھ جوڑ کی ضرورت تھی، وہ وجود میں آ گیا۔

غور کیا جائے تو  یہ بات جو پیٹریشیا کرون نے کی ہے، یہ تھوڑے مختلف انداز میں مسلمان فقہا بھی کہتے ہیں۔ وہ جہاد کی حکمت  یہی بیان کرتے ہیں کہ ہم کسی کو زبردستی اسلام  قبول نہیں کرواتے  لیکن جب ہم اپنی ایک سیاسی حاکمیت قائم کرتےہیں تو اس سے وہ ماحول پیداہوتا ہے جس میں غیر مسلم ،اسلام کے محاسن کو ایسی جگہ سے دیکھیں جس میں ان کے لئے اپیل اور کشش (Attraction)پیداہو۔ طا قت انسان کو مرعوب و متاثر کرتی ہے ۔طاقت محض طاقت ہونے کی بنیاد پر متا ثر کرے تو وہ الگ چیز ہے لیکن اگر کسی پیغام کے اندر محاسن اور  خوبیاں ہیں  تو ان خو بیوں اور محاسن  کا کسی طاقت کی چھتری  کے نیچے  اجاگر ہونا  اس کے فروغ  کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

فقہا جس دور میں یہ بات کر رہے ہیں، وہ اسلام کی سیاسی حاکمیت کا دور تھا ، اس لئے ان کے فکری زاویےمیں ایک طرح کی غالب پوزیشن  کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ۔ پیٹریشا کرو ن مسلمان نہیں ہے، بلکہ  وہ ایک تاریخی زاویے سے دیکھ  رہی ہےکہ  مسلمان کیونکر  وہ کارنامہ انجام دینے کے قابل ہو ئے جو یہودی نہیں دے سکے کیونکہ ان کے پاس عقیدہ تو خالص تھا لیکن طاقت نہیں تھی ،اور مسیحی اس لیے نہیں دے سکے کہ ان کے پا س  طاقت تو تھی  لیکن عقیدہ خالص نہیں تھا۔ اس نے تو حید کو ہی لیا ہے لیکن دیکھا جائے تو  پو ری اسلامی شریعت اسی طاقت کے ذریعے  آگے بڑھی۔یوں اسلام کے تاریخی کر دار کے بارے میں ایک مشترک نکتہ مل رہا ہے  جو مسلم روایت اور اور جدیدفکر میں کافی مشابہت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ ویسرسٹین (David Wasserstein) جو وینڈر بلٹ یونیور سٹی (Vanderbilt University) میں  یہودیت  اور  اسلام کے یہودی ورثہ کے پروفیسر ہیں ،اپنے ایک  خطبے میں ،پیٹریشیا کرو ن سے  آگے بڑھ کر  یہ موقف اختیار کیا کہ اسلام نے  یہودی مذہب ہی کو ختم ہونے سے بچالیا ۔گویا اسلام نے ابراہیمی روایت  کے بنیادی مذہب   کو ، جو بالکل ختم ہونے کے قریب تھا ، ایک نئی زندگی بخشی۔ انہوں نے اپنا موقف اسلامی خلافت کے تناظر میں  ان الفاظ میں بیان کیا  ہے:

Islam saved Jewry. This is an unpopular, discomforting claim in the modern world. But it is a historical truth. The argument for it is double. First, in 570 CE, when the Prophet Mohammad was born, the Jews and Judaism were on the way to oblivion. And second, the coming of Islam saved them, providing a new context in which they not only survived, but flourished, laying foundations for subsequent Jewish cultural prosperity – also in Christendom – through the medieval period into the modern world…. Had Islam not come along, Jewry in the west would have declined to disappearance and Jewry in the east would have become just another oriental cult.7

اسلام نے یہودیت کو بچا لیا۔ یہ جدید دنیا میں ایک غیر مقبول  اور اضطراب انگیز دعوی ہے۔ لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اس کی دلیل دوہری ہے۔ سب سے پہلے ، 570 عیسوی میں ، جب حضرت محمد کی ​​ولادت ہوئی ، یہودی اور یہودیت غائب ہونے کے راستے پر گامزن تھے۔ اور دوسرا ، اسلام کی آمد نے انھیں اس طرح بچایا کہ ایک نیا تناظر مہیا کیا جس میں وہ نہ صرف باقی رہ سکے بلکہ پھل پھول سکے، اور (اسلامی دنیا کے علاوہ) عالم مسیحیت میں بھی اس یہودی ثقافتی نشوونما  کی بنیاد رکھی  جو قرون وسطی کے دور سے لے کر جدید دنیا تک جاری ہے…. اگر اسلام معرض ظہور میں نہ آیا ہوتا تو مغرب میں یہودیت  منظر عام سے  غائب ہوجاتی، جبکہ  مشرق میں صرف ایک مشرقی  فرقہ بن کر رہ جاتی۔

تہذیب اور سیاسی طاقت

عقیدہ یا اخلاقی پیغام ،جیسا   کہ گزشہ  سطور میں واضح ہو ا، عموما  کسی سیاسی  طا قت  کے تحت   ہی تاریخ ِ انسانی میں ایک بڑا Impact  ڈال سکتے ہیں۔اسی طرح  کوئی تہذیب  اپنی تشکیل و ارتقا  اورایک بڑے خطے پر پھیلاؤ اور گہرے  اثرات  کے حوالے سے  سیاسی پشت پناہی  کی مر ہون  منت ہوتی ہے ۔مسلم تہذیب  کی تشکیل و ارتقا اور پھیلا ؤ بھی اسی اصول کے تحت  ہوا ۔اگر چہ ہر تہذیب کی طرح مسلم تہذیب نے بھی د یگر تہذیبوں کے اثرات بھی قبول کیے لیکن اپنے سیاسی اثر و رسو خ کی بدولت  دنیا کے ایک بڑے خطے کو  نہایت  مثبت  اور تعمیری اثرات سے  مالا مال بھی کیا ۔ جو تہذیبی اثرات مسلمانوں نے ایک بڑے خطہ ارض پر ڈالے،انہیں  اس زاویے سے بھی  دیکھا جاسکتا ہے کہ ان اثرات  کا مسلمانوں کی فتوحات کے ساتھ کیا تعلق بنتاہے ۔دوسرے لفظوں میں اگر یہ فتوحات ہی نہ ہوتیں تو کیا مسلمان  اس پوزیشن میں ہوتے کہ اس قدر تہذیبی اثرات ڈال سکتے ۔مثلا  سائنسی علوم ہی میں مسلمانوں  کی خدمات کو لیجئے ،کیا یونانی علوم  کے ترجمے کی اتنی بڑی تحریک  مسلمانوں کی سیاسی  پشت پناہی کے بغیر ممکن ہو سکتی تھی ؟ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہمارا معذرت خواہانہ ذہن  اس بات پر تو بڑا فخر محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں نہایت غیر معمولی  کارنامے سر انجام دیے ،لیکن اس  کے پیچھے جو سیاسی اور تہذیبی طاقت تھی ، اس پر شر مندگی محسوس کر تا ہے ۔

دیمتری گوٹاس (Dimitri Gutas) اپنی کتاب Greek Thoughts, Arabic Culture) )میں عرب فتوحات   کے تہذیبی ، علمی ، انتظامی ، سماجی  اور تاریخی  اثرات  کا بڑی تفصیل سے جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Certain material conditions that prepared a background against which a translation movement could take place and flourish were established by two momentous historical events, the early Arab conquests through the Umayyad period and the Abbasid revolution that culminated in 134/750.8

وہ خاص مادی  صورتحال  جس نے وہ  پس منظر تیار کیا جس میں  ترجمہ کی تحریک  رونما ہو سکتی اور پھل پھو ل سکتی تھی ، دو  اہم تاریخی واقعات  کی وجہ سے تھی ،ایک اموی دور کی ابتدائی عرب فتو حات اور  دوسرا عباسی انقلاب  جو  134 ہجری میں عروج کو پہنچا۔

عرب  فتوحات کی تاریخی اہمیت اور مہذب دنیا  کے ایک بڑے  حصے پر تجارتی سر گرمیوں کے آغاز  پر روشنی ڈالتے ہوئے  لکھتے ہیں:

The historical significance of the Arab conquest can hardly be overestimated. Egypt and the Fertile Crescent were reunited with Persia and India politically, administratively, and most important, economically, for the first time since Alexander the Great, and for a period that was to last significantly longer than his brief lifetime. The great economic and cultural divide that separated the civilized world for a thousand years prior to the rise of Islam, the frontier between the East and the West formed by the two great rivers that created antagonistic power in either side, ceased to exist. This allowed for the free flow of raw material and manufactured goods, agricultural products and luxury items, people and services, techniques and skills, and ideas, methods, and modes of thoughts.9

عرب فتوحات کی تاریخی اہمیت میں مشکل سے ہی کوئی مبالغہ کیا جاسکتا ہے۔ مصر اور زرخیز ہلالی خطہ سکندر اعظم کے بعد پہلی بار سیاسی اور  انتظامی طور پر ، اور سب سے اہم ، معاشی طور پر ،   فارس اور ہندوستان کے ساتھ متحد کر دیے گئے۔ یہ وحدت عرب فتوحات  کے اپنے مختصر زمانے کے بھی بہت بعد تک قائم رہی۔  عظیم معاشی اور ثقافتی تقسیم  جس نے اسلام سے پہلے ایک ہزار سال سے مہذب دنیا کو   ایک دوسرے سے جدا رکھا ہوا تھا،  اور  دو عظیم دریاوں  نے مشرق اور مغرب کے درمیان جو سرحد بنا رکھی تھی،   جس نے  دونوں جانب برسرپیکار طاقتیں پیدا کر دی تھیں،  ختم ہو گئی۔  اس کے نتیجے میں خام مال اور تیار شدہ اشیاء، زرعی مصنوعات اور سامان تعیش، افراد اور خدمات ، تکنیک اور مہارتوں اور نظریات ، طریقوں اور انداز ہائے فکر  کی آزادانہ نقل وحرکت ممکن ہو گئی۔

عرب فتوحات  کے علم  و فکر کے  پھیلاؤ  میں غیر معمولی کر دار کو  واضح کرتےہوئے رقمطرا ز ہیں:

An equally significant result of the Arab conquests and arguably the most important factor for the spread of knowledge in general was the introduction of paper-making technology into the Islamic world by Chinese prisoners of war in 134/751. Paper quickly supplanted all other writing material during the first decades of the Abbasid era, when its use was championed and even dictated by the ruling elite. It is interesting to note that the various kinds of paper that were developed during that time bear the name of some prominent patrons of the translation movement.10

عرب فتوحات کا ایک اتنا ہی اہم نتیجہ اور شاید  علم کے پھیلاؤ کا سب سے اہم عامل  134/751 میں چینی جنگی قیدیوں کے ذریعہ عالم اسلام میں کاغذ سازی کی ٹیکنالوجی کا تعارف تھا۔ عباسی دور کی پہلی دہائیوں کے دوران میں،کاغذ نے لکھنے کے دیگر تمام  قسم کے مواد کی جگہ لے لی ، جب اس کے  استعمال  کو حکمران طبقے کی حمایت  اور تائید  حاصل تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں جو مختلف قسم کے کاغذ تیار کیے گئے تھے، ان کے نام ترجمے کی تحریک کے کچھ ممتاز سرپرستوں کے نام پر رکھے گئے۔

مزید لکھتے ہیں:

In addition to the introduction of paper, the lifting of the barriers after the Arab conquests between the East and the West of Mesopotamia also had an extremely beneficial, though obviously unintentional, cultural consequence. It united areas and peoples that for a millennium had been subject to Hellenization ever since Alexander the Great while it isolated politically and geographically the Byzantines, i.e, the Greek-speaking Chalcedonies Orthodox Christians. This is doubly significant. First, it was the exclusionary theological policies and practices of Constantinopolitan "Orthodoxy" that created religious schisms in the first place and drove Syriac-speaking Christians into religious fragmentation and, in the case of the Nestorians, into Persia. The effective removal from the Islamic polity (the Dar al Islam) of this source of contention and cultural fragmentation, and their unification under a non-Persian overlord, the Islamic state, opened the way for greater cultural cooperation and intercourse. Second, the political and geographical isolation of the Byzantines also shielded these Christian communities under Muslim rule, and all other Hellenized peoples in the Islamic commonwealth, from the dark ages and aversion to Hellenism into which Byzantium slid in the seventh and eight centuries.11

کاغذ کے متعارف ہونے کے علاوہ، عرب فتوحات کے بعد  میسو پوٹیمیا  کے مشرق و مغرب  کے درمیان رکاوٹوں کے ہٹائے جانے کا بہت ہی مفید نتیجہ مرتب ہوا، جو ظاہر ہے کہ ارادی نہیں تھا۔ اس نے  ان خطوں اور لوگوں کو باہم ملا دیا جو اسکندر اعظم کے  بعد سے یعنی ایک ہزار سال سے یونانیت کےزیر اثر تھے، جبکہ سیاسی  وجغرافیائی  طورپر  بازنطینی یعنی یونانی بولنے والی اور خلقیدونی عقیدے پر کاربند  آرتھوڈوکس مسیحیت کو  الگ کر دیا۔اس کی دوہری  اہمیت تھی۔پہلی یہ کہ دراصل قسطنطنیہ  میں مرکوز  راسخ الاعتقادی  کی اخراجی الہیاتی پالیسیاں  اور اعمال ہی تھے جنہوں نے مذہبی تفریق پیداکی اور  شامی بولنے والے مسیحیوں کو مذہبی انتشار  کی طرف جبکہ نسطوریوں کو  ایران کی طرف دھکیل دیا۔ دارالاسلام  میں اس وجہ نزاع اور ثقافتی  تحزب کے موثر خاتمے سے ،اور ایک غیر جانبدار حاکمیت یعنی اسلامی ریاست کے تحت ان کے متحد ہو جانے  سے وسیع  تر ثقافتی تعاون اور میل ملاپ کےدروازے کھل گئے۔دوسری یہ کہ  بازنطینیو ں کی سیاسی اور جغرافیائی  علیحدگی نے مسلم حکومت کے تحت  رہنے والی مسیحی کمیونیٹیز کو اور ان دیگر تمام جماعتوں کو جو یونانی فکر سے وابستہ تھے، تاریک ادوار  سے اور یونانی ثقافت کی  نفرت سے محفوظ کر دیا جس کا بازنطینی  ثقافت ساتویں اور آٹھویں صدی میں شکار ہو چکی تھی۔

دیمتری  گوٹاس (Dimitri Gutas)اپنی تحقیق میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کا دیگر علوم سے متعلق رویہ کیاتھا اور وہ کس حدتک درست تھا  ۔ماضی میں مسلمانوں کے مزاج اور آج کے مزا ج میں بڑا فرق ہے۔مسلمانوں نے اپنے دور ِ عروج میں جو تہذیب تشکیل دی تھی وہ کازموپولیٹن(Cosmopolitan) تھی ، اس میں وسیع المشربی پائی جاتی تھی ۔مسلمانوں نے تہذیب اسلامی کی تشکیل کے لئے پہلے مرحلے میں ترجمے کاکام کیا ،اور اس وقت اس سر گر می کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اس کام میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شانہ بشانہ کام کررہے تھے ، ان  دور میں مسلمان،  عیسائی ، یہودی ، صائبین ایک ساتھ  بیت الحکمت میں مصروف ِ عمل تھے ۔اس کی بنیادی وجہ فکری آزادی تھی ۔اب مسلم دنیا میں فکری آزادی نہیں ہے ۔ ان کے ہاں اپروچ یہ تھی کہ جہاں سے بھی قابل استفادہ چیز ملی وہ لے لیتے تھے۔

ان کے نزدیک اسلامی تہذیب کے دیگر تہذیبوں پر اثرات یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ تھے ۔ جہاں اسلامی تہذیب کے دوسری تہذیبوں پر اثرات ڈالے وہاں اسلام تہذیب نے دیگر  تہذیبوں سے بھی اثرات قبول کیے ۔ جو تہذیبیں اسلامی تہذیب کے کے زیر نگیں تھی وہ تو  ایک طرح اس کا حصہ ہی بن گئیں لیکن  جو براہ راست زیر نگیں نہیں بھی تھیں ان کے ساتھ بھی ایک طرح کا تعامل جاری تھا ۔اسلامی تہذیب کے بعد جو تہذیب اپنے عرو ج میں آئی وہ یورپین تہذیب ہے۔ اس نے اپنی ماقبل اسلامی تہذیب سے افکار و نظریات، تہذیب و تمدن ، علو م وفنون اور اقدار واطوار کے حوالے سے کیا کیا سیکھا اور اسے آگے بڑھایا۔اس سلسلے میں عمومی طور پر سپین کا ذکر بڑی شدو مد سے کیا جاتاہے ۔ لیکن یورپ کے جنوبی علاقے میں خاص طور پر سسلی میں مسلمانوں نے وہاں کی تہذیب پر کیا اثرات ڈالے اس کا تذکرہ بہت کم کیاجاتا ہے ۔یہ علاقہ تقریبا دو سو سا ل تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا اور اس دوران میں مسلمانوں نے اس خطے پر انمٹ تہذیبی اور فکری نقو ش چھوڑے ۔اس کا انداز ہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے اقتدار  کے ختم ہو جانے کے بعد بھی جو ایک کا زموپولیٹن تہذیب یہاں ابھری، اس میں مسلم تہذیب و تمدن کے  نہایت گہرے اثرات دیکھے جا سکتے تھے ۔خاص طورپر روجردوم ، ولیم اور فیڈرک دوم کے دور حکومت میں نہ صر ف یہ کہ مسلم تہذیب کی باقیات الصالحات جاری و ساری تھیں بلکہ خود مسلمان بھی نہایت اہم انتظامی عہدوں پر فائز نظر آتے تھے ۔سلسلی میں ان بادشاہوں کی حیثیت ٹھیک وہی تھی جیسی اسلامی تہذیب کے عباسی دور میں ہارون الرشید اور مامون کی تھی۔پوری تہذیب وسیع المشربی کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی تھی۔

دیمتری گوتاس ترجمہ تحریک  (Translation Movement)سے متعلق لکھتے ہیں:

The Graeko- Arabic translation movement lasted, first of all, well over two centuries; it was no ephemeral phenomenon. Second, it was supported by the entire elite 'Abbasid society: caliphs and princes, civil servants and military leaders, merchants and bankers, and scholars and scientists.

یونانی عربی ترجمہ تحریک جو دو سو سال تک جاری رہی  ،پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی وقتی  مظہر نہ تھی  ،دوسری یہ کہ اس کو ساری عباسی  اشرافیہ، خلفاء، شہزادوں، سول  سرونٹس ، فو جی افسران ، تاجر برادری ، بینکرز ،علما اور سائنس دانوں کی  تائید حاصل تھی۔

دراصل دیمتری گو تا س نے جتنے طبقات گنوائے ہیں ، ان کے ہاں ترجمہ کی تحریک کو سپورٹ کرنا  ،خود حکمران طبقے کی دلچسپی کے باعث ہی تھا ۔ بادشاہوں اور شہزادوں کی  مسلسل دلچسپی نے اس وقت کی سوسائٹی میں یہ رجحان (Trend) بہر حال پیداکر دیا تھا اسی لئے تمام طبقات  اس میں دلچسپی ظاہر کر رہے تھے ۔اگر خود حکمرا ن ہی اس تحریک میں دلچسپی نہ لیتے تو  اس وقت کی سوسائٹی میں یہ عمومی رجحان پیدا ہی نہ ہو پاتا ،گویا ترجمہ تحریک کی شاخیں شاہی محل ہی سے پھوٹی تھیں اگر چہ  بعد میں دیگر طبقات نے بھی اس  کی آبیاری  میں اپنا اپناحصہ ڈالا۔

پاکستان کے معروف طبیعات دان ،پروفیسر پرویز ہود بھائی بھی   مسلم دانش وروں کی کامیابیوں کو  مسلم حکمرا ن طبقوں  کی حوصلہ افزائی اور حمایت  ہی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

اسلامی سائنسی  ارتقا  کا یہ  پہلا دور  در اصل یونان سے درآمد شدہ علوم  کو سمجھنے  اور ہضم  کرنے کا  عہد تھا ۔ اس دور میں  مسلمان  دانش وروں  سے مترجموں  کے طور پر  ثانوی حیثیت  سے حصہ  لیا تھا ۔اس ابتدائی  دور میں مسلمان دانش وروں  کا سائنس  کی ترقی  میں حصہ  کسی خاص اہمیت  کا حامل نہی تھا ۔ اگر  صرف ابتدائی  دور  کو  نظر میں رکھا جائے  تو رینان  کی دلیل صحیح ہے ۔  لیکن ہمیں  یہ بھی ماننا چاہیے  کہ مسلمان  حکمران طبقوں  کی مکمل  حوصلہ افزائی  اور حمایت  کے بغیر تراجم  کاکام بھی  ناممکن ہوتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ  خلفا کے  درباروں اور شرفا  کے محلوں  میں ہر مذہب  و ملت  کے دانش وروں  اور ہنر  مندوں کی پذیرائی  اور عزت افزائی  کی جاتی تھی۔ ان کے ساتھ  محض رواداری  نہیں برتی جاتی تھی  بلکہ  ان کی تعظیم  وتکریم  کی جاتی تھی ۔ رواداری  اور مذہبی  وسعت  نظری  کے اس ماحول میں  سائنس  کی جڑیں  اسلامی سر زمین  میں گہری ہوگئیں۔12

مسلمان حکمرانوں  کی اس سر پرستی  کا موازنہ  تنویری عہد میں فرانسیسی  اشرافیہ  کی سرپرستی  کے ساتھ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ایک بنیادی عنصر  سائنس  اور علوم  میں روشن خیال خلفا  اور شہزادوں  کی دلچسپی  معلوم ہوتی ہے  جس کی وجہ سے  انہوں نے دانش وروں  کی سر پرستی کی ۔ اس سر پرستی  کے مقابلہ  میں روشن خیالی کے عہد  میں فرانسیسی  اشرافیہ  کی سر پرستی  بھی ہیچ ہے ۔ دانش ورو ں  کو اپنے درباروں  میں بلانے کے لئے حکمران ایک دوسرے سے سبقت لے جانے  کی کوشش کرتے تھے۔خلیفہ مامون کے دربار میں الکندی ، سلطان محمد ابن تکوش کے در بار میں  فخر الدین رازی ، مختلف  سلطانوں  کے طبیب کی حیثیت سے  ابن سینا ، الحکیم  کے مشیر کی حیثیت سے ابن الہیثم ،المنصو ر کےتحت  ابن رشد ۔۔۔۔غر ضیکہ تمام عظیم دانش ور  ازمنہ وسطیٰ میں شاہی در باروں سے وابستہ تھے ۔ جس سے ان کو پیشہ وارانہ شہرت ،معاشرتی احترام، کتب خانوں  اور تجربہ گاہوں  سےا ستفادہ اور ( شاید سب سے اہم بات ) فیاضانہ وظائف  ملتے تھے۔13

 پیٹریشیا کرون(Patricia Crone)  اسلامی تہذیب  کی تشکیل میں مسلم فتوحات کے کر دار سے متعلق لکھتی ہیں :

Islamic civilization is the outcome of a barbarian conquest of lands of very ancient cultural traditions. As such it is unique in history. There is of course no lack of experiences of barbarian conquest in the history of civilization; but in so far as the barbarians do not destroy the civilization they conquer, they usually perpetuate it. Nor is there any lack of barbarian transitions to civilization in the history of barbarism; but in so far as the barbarians do not take millennia to evolve a civilization of their own, they usually borrow it. But the relationship of the Arabs to antiquity does not fit any of these patterns. It is not of course particularly remarkable that the Arabs were neither so barbarous as to eradicate civilization nor so original as to invent it for themselves. But they were indeed unusual in that they did not, sooner or later, acquire or lose themselves in the civilization they conquered. Instead, the outcome of their collision with antiquity was the shaping of a very new civilization out of very ancient materials, and that at such a speed that by the time the dust of conquest had settled the process of formation was already well under way. Any attempt to understand this unique cultural event must begin by showing what it was about the conquerors and the conquered that made such an outcome possible.14

اسلامی تہذیب  بہت قدیم تہذیبی روایات  و الے علاقوں کے غیر متمدن (عربوں) کے ہاتھوں مفتوح ہونے کا  نتیجہ ہے۔ اس لحاظ سے  یہ تاریخ میں منفرد ہے۔ تہذیب کی تاریخ میں یقینا غیرمتمدن قوموں کی  فتوحات  کی کوئی کمی نہیں، لیکن غیر متمدن عناصر ان تہذیبوں  کو جنھیں انھوں نے فتح کیا تھا، تباہ نہیں کرتے، بلکہ اسے برقرار رکھتے ہیں۔  غیر متمدن قوموں  کی  تاریخ میں  ان  کے تہذیب کی طرف منتقل ہو جانے کی مثالیں بھی کم نہیں، لیکن غیر متمدن قومیں خود اپنی ایک تہذیب  بنانے کے لیے ایک ہزار سال کا عرصہ  نہیں لیتیں، بلکہ عام  طور  پر اسے مستعار لے لیتی ہیں۔ لیکن عربوں کا قدیم تہذیبوں کے ساتھ تعلق   ان میں سے کسی بھی اصول پر پورا نہیں اترتا۔ یہ بات یقینا خاص طور پر قابل توجہ نہیں ہے  کہ عرب نہ تو اتنے وحشی تھے  کہ تہذیبوں  کا خاتمہ کر دیتے  اور نہ ہی وہ  اتنے  جدت پسند تھے  کہ اپنی نئی  تہذیب بنا لیتے ۔ لیکن وہ اس لحاظ سے  انوکھے تھے کہ انھوں  نے جلد یا بدیر  جو تہذیب فتح کی تھی  نہ تو اس کو اپنایا اور نہ خود کو اس میں ضم کر دیا۔ اس کے برعکس  قدیم تہذیبوں کے ساتھ ان کا  ٹکراؤ  کا نتیجہ  یہ نکلا کہ انھوں نے نہایت قدیم مواد  سے ایک بالکل نئی تہذیب  وضع کر لی اور وہ بھی اس قدر  تیز رفتاری سے کہ جب ان کی فتوحات  کی گرد بیٹھی تو تہذیبی تشکیل کا عمل  شروع ہو چکا تھا۔ اس تہذیبی واقعہ کو سمجھنے  کی کسی بھی کوشش  کا آغاز لازما  اس امر کی وضاحت سے ہونا چاہیے  کہ ان فاتحین اور مفتوحین میں وہ کیا بات تھی جس نے اس نتیجے کو ممکن بنایا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان تہذیبوں کے باہمی تعامل میں باہمی لین دین کو فطری عمل قرار دیتے ہوئے  اسلامی تہذیب کو اس سے مستثنی ٰ قرار نہیں دیتے ۔ ان کے نزدیک  عرب سلطنت جب فتوحات کے نتیجے میں  وسیع ہوئی تو اس نےدیگر تہذیبوں سے ضروری عناصر  حاصل کرکے ملکی نظم و نسق  اور دستور کی تشکیل  کی اور یہ چیز  اسلامی تہذیب  کے لئے امتیازی حیثیت  بھی رکھتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں:

عرب سے  باہر عربی  سلطنت کے  پھیلاؤ  کے ساتھ مسلمانوں  نے اپنے اپنے  قانون اور ملکی  نظم و نسق  کا ایک پورانظام قائم  کرنے کا ہدف  رکھا ، جس میں انہوں  نے بازنطینی  اور ایرانی  اداروں  اور دوسرے  مقامی  عناصر  کا نمونہ اپنا کر اس کو ایک اسلامی قالب کی شکل دی۔یہی وہ نظام  ہے  جس نے  اسلامی تہذیب  کو اس کی امتیازی خصوصیت  عطاکی اور جس نے اسلام کے بنیادی اخلاقی مزاج  کا اظہار  کرتے ہوئے  مسلم ریاست  کا یوں سمجھئے کہ حقیقی  دستور  مہیا کردیا اور اس کی حدود  واضح کر دیں۔15

وہ لکھتے ہیں کہ اسی  تعامل کی بدولت  ایک شاندار تہذیب وجود میں آئی جو بہت سے مادی ، معاشی  ،تاریخی اور ادبی اور سائنسی سرگرمیوں کا باعث بنی جن سے نوعِ انسانی نے بھر پور استفادہ کیا۔

عربی ذہن میں باہر کی ثقافتوں  کے اثر سے جو حرکت  پیداہوئی  وہ دوسری  سے چوتھی  صدی  ہجری (آٹھویں  سے دسویں  صدی عیسوی ) میں ایک کامیاب اور آب وتاب  والی مذہبی  عقلیتی اور مادی تہذیب کے ظہور  کا باعث بنی۔ مسلمانوں نے ایک ثروت مند تجارت  اور صنعت  کی بنیادرکھی اور پہلی دفعہ  سائنسی  مہارت  انسانیت  کی اصل  مادی ترقی  کے لئے  کام میں  لائی گئی اور عملی فائدے  کے لئے استعمال  کی گئی ۔ ذہنی و عقلی  اعتبار سے تاریخ اور  ادب کے  بنیادی عربی علوم  نے پھیل کر  عمومی  تاریخ ، جغرافیہ  اور ادب عالیہ  کی صورت  اختیار کرلی۔16

ایک اور جگہ مسلم عقلی اور ذہنی  نشوو نما کو بھی نہ صرف اسلامی اور  یونانی روایت  کے باہمی تعامل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں بلکہ انسانی عقلی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار دیتے ہیں:

مسلم فتوحات کی ایک صدی کے اندر اندر  مسلمان  اس قابل  ہوگئے تھے کہ  اپنی مخصوص  ذہنی و عقلی  زندگی کو  پروان چڑھا سکیں  اور حدیث  ،فقہ اور تاریخ  کے خالص  عر بی اسلامی علوم کی بنیاد رکھ دیں ۔  یہ عقلی نشوو نما  جو بہت زیادہ سرعت  کے ساتھ  واقع ہوئی ، اور جو شام  میں یونانی روایت  اور عر بی قرآن کی دی  ہوئی فکر  کے بنیادی ڈھانچے  کے باہمی  تعامل کا نتیجہ  تھی، انسان کی عقلی  تاریخ  کا ایک عجوبہ چلی آتی ہے۔17

اس سلسلے میں جرمن مستشرقہ زیغرید ھونکہ  کی کتاب جس  کا عربی ترجمہ  "شمس العرب تسطع علی الغرب "کے نا م سے ہوا ہے ، بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے  عربی تہذیب  کے مغربی تہذیب  پر اثرات  کانہایت تفصیل سے جائزہ پیش کیا ہے۔اس کتاب میں ایک جگہ  مسلمانوں کی سائنسی خدمات  جنہوں نے مغربی سائنس دانوں کو غیر معمولی طورپر متاثر کیا ، پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں :

لقد طور  العرب، بتجاربھم  وابحاثھم  العلمیۃ، مااخذوہ  من مادۃ خام عن الا غریق، وشکلوہ تشکیلا جدیدا۔ فالعرب، فی الواقع، ھم الذین  ابتدعوا  طریقۃ  البحث  العلمئ  الحق  القائم علی التجربۃ ۔لقد سرت بین العلماء  الاغریق ، الذین لم یکونوا  جمیعا  بالا غریقین  بل کان اغلبھم من  اصل شرقی، سرت بینھم  رغبۃ فی البحث  الحق، وملاحظۃ الجزئیات، ولکنھم  تقیدو ادائما بسیطرۃ الآراء النظریۃ۔ و لم یبدا البحث  العلمی  الحق  القائم علی  الملاحظۃ و التجربۃ الا عند العرب۔ فعند ھم فقط  بدا البحث  الدائب  الذی یمکن الاعتماد  علیہ۔ یتدرج من الجزئیات  الی الکلیات، واصبح منہج  الاستنتاج  ھو الطریقۃ  العلمیۃ السلیمۃ للباحثین۔ و برزت  الحقائق  العلمیۃ کثمرۃ للمجہودات المضنیۃ فی القیاس  و الملاحظۃ بصبر لا یعرف الملل۔ و بالتجارت العلمیۃ الدقیقۃ التی لا تحصی، اختبر العرب  النظریات  و القواعد الآراء العلمیۃ  مرار اَ وتکراراَ؛ فاثبتوا صحۃ  الصحیح  منھا، و عدلوا الخطاء فی بعضہا۔ ووضعوا بدیلا َ للخاطیء منہا متمتعین فی ذلک بحریۃ کاملۃ  فی الفکر و البحث، وکان شعارھم فی ابحاثھم – الشک ھو اول شروط  المعرفۃ – تلک ھی الکلمات  التی  عرفہا  الغرب  بعدھم  بثمانیۃ قرون طوال ۔ وعلی ھذا الآساس العلمی سار العرب فی العلوم الطبیعۃ شوطاَ کبیراَ۔ اثر فیما بعد، بطریق غیر مباشر، علی مفکری الغرب وعلمائہ امثال روجر باکون (Roger Bacon) وما جنوس (Magnus) وفیتلیو (Vetellio) ولیوناردو دافنشی (Leonardo da Vinci) و جالیلیو (Galileo)۔18

عربوں نے جو یونانیوں سے خام مواد لیا ،اسے اپنے تجربات  اور سائنسی تحقیقات  کی بدولت پروان چڑھایا اور جدید شکل میں ڈھالا۔ درحقیقت عربوں ہی نے  تجربے کی بنیاد  پر قائم  حقیقی  سائنسی  تحقیق کا منہج ایجاد کیا ۔ یونانی علما ء کے ہاں ، جو سب یونانی نہیں تھے،بلکہ ان کی اکثریت  مشرقی الاصل تھی ،  حقیقی تحقیق اور جزئیات بینی  کی جستجو اور رغبت  تو سرایت کر چکی تھی لیکن وہ ۔۔۔نظری آراء  کے جبر و تسلط  کے پابند رہے۔مشاہدے اور تجربے پر مبنی سچی سائنسی تحقیق  کا آغاز  عر بو ں کے علاوہ  اور کسی کے ہاں نہ ہوا ،صر ف ان کے ہاں سنجیدہ  اوردائمی  تحقیق کا آغاز ہوا  جس پر اعتماد کیا جا سکتاہے ۔ اس طریقہ کار میں جزئیات کی سیڑھی چڑھ کر کلیات تک پہنچا جا تا ہے ۔اور یہی منہج استنتا ج ، نتیجہ اخذ کرنے  کا طریقہ کار محققین کے ہاں  صحیح  سائنسی  منہج ٹھہرا ۔ قیاس اور مشاہدے میں صرف کی گئی  انتھک  محنتوں اور ناقابل شمار ،دقیق سائنسی تجربات  کے ثمرات  کے طور پر  سائنسی حقائق ابھر کر سامنے آئے ۔عربوں نے نظریات ، اصول اور علمی  آرا ء کو  بار بار آزما یا ،جنہیں درست پایا ان کی تصدیق کی اور جہاں غلطی دیکھی وہاں اصلاح کی ،اور غلط  کا متبادل بھی پیش کیا ۔انہوں نے مکمل فکری اور  تحقیقی آزادی  کے ساتھ یہ عمل سر انجام دیا ۔ان کی تحقیقات کا شعار اور بنیادی نکتہ " شک علم  کی پہلی شرط ہے " تھا ۔ اسی علمی / سائنسی اساس پر عر بوں نے نیچرل سائنسزمیں بڑے میدان مارے ۔اس سوچ نے بعد میں بالواسطہ  راجر بیکن ،  میگنس، ویتلیوس ،لیونارڈو ڈاونچی اور گلیلیو  جیسے  مغربی مفکرین او ر سائنس دانوں کو متا ثر کیا ۔

مارشل ہاگسن اپنی کتاب The Venture of Islam میں اسلامی تہذیب  کی تشکیل و ارتقا کے متعلق لکھتے ہیں:

اسلام جس خطے میں پروان چڑھناشرو ع ہوا اس خطے میں کوئی بھی تہذیبی روایت مستحکم نہ تھی ،دیگر تہذیبیں اور سلطنتیں اپنی جگہ مضبوط اور محکم تھیں لیکن غیرمعمولی طورپر اس خطے میں اورکوئی تہذیب اپنے قدم نہیں جما سکی تھی ،یوں کہا جاسکتاہے کہ اس خطہ ارضی میں ایک  طرح کا تہذیبی خلا تھا ، لہذا اسلام کو اپنی تہذیبی روایت کو پروان چڑھانے میں کسی  قسم کی دشواری یا رد عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور نہ ہی کسی مضبوط حریف سے نبرد آزما ہونا پڑا۔

تہذیبی  خلا سے متعلق اسی سے ملتا جلتا  موقف ڈاکٹر افتخار حسین آغا  کے ہاں بھی ملتا ہے ۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

انسان کی  تہذیبی تاریخ  میں اسلام کی حیثیت ایک دین ِ فطرت  ہی کی نہیں ، ایک عظیم ذہنی اورمعاشرتی انقلاب  کی بھی ہے۔اسلام کے ظہور  کے وقت  دنیا شدید تہذینی انحطاط  سے دوچار تھی ۔ آج  کا تہذیب  یافتہ   یورپ قرون ِ وسطی  کی تاریکیوں  میں ڈوبا ہواتھا ۔وادی نیل ، وادی دجلہ و فرات  او ر وادی  سندھ  کی قدیم تہذیبیں  عرو ج  پر پہنچ کر  زوا ل کا شکار  ہو چکی تھیں ۔۔۔یونانی افکار  کا سنہری  دور بھی ختم ہو چکاتھا ۔ اس عرصے میں یورپ میں مملکت ِ روما  تہذیب کی ایک نئی امید لے کر ابھری تھی لیکن ۔۔۔یہ عظیم مملکت  بھی زوال آمادہ  ہوگئی ۔اس طرح  مشرق و مغرب میں تہذیب  کاایک خلا   پیداہوگیاتھا ۔ اس خلاکو  اسلام نے نہایت کامیابی سے پُر کیا۔19

سراج منیر  بھی ظہور ِا سلام کے وقت عرب کے خطے میں ایک  تہذیبی خلا  کو محسوس کرتے ہیں ،البتہ  اس کے ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ کے خطوط  کےا ندر اشاعت ِ اسلام کے  تہذیبی امکانات  کو بڑی عبقری نگا ہ سے دیکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

اسلام جس سر زمین پر  ظاہر ہو ا ،اس نے ابھی مروجہ معنوں میں  تہذیب  کے مقام تک نزول  نہیں کیا تھا لیکن وہاں  مذاہب  کی کثرت موجودتھی ۔دین ِابراہیمی کے اجز ا ظہور اسلام تک موجود تھے ، یہودیت  اطراف مدینہ  میں مستحکم تھی،ارضِ فلسطین و شام اور دوسری  طرف یمن سے عیسائیت کے اثرات  بھی  وارد  ہو رہے تھے ۔مجوسیت  کی شکل میں  آریائی مذاہب کاایک بہت بڑا مظہر  ایران میں موجودتھا  اور تجارتی قافلے  اس سے کم و بیش  آشناتھے ۔ دوسری طرف تجارتی میلوں میں ہندوؤں اور چینیوں  سے بھی عربوں  کی ملاقاتیں رہتی تھیں ۔ جزیرہ نمائے عرب  معروف  اور مروج مسالک و مذاہب سے کم و بیش  آشناتھا ۔ اس ماحول میں اسلام  ایک بہت بڑے روحانی انفجار  کے طورپر  ظاہر ہوا۔پہلے مرحلے میں اسلا م نے  اپنی مذہبی اور تمدنی  بنیادیں مستحکم  کیں اور پھر اس میں پھیلنے کا رجحان  پیداہوا۔ نبی کریم ﷺ  نے جن  بادشاہوں  کو خطوط لکھے ،ان کا مطالعہ  اشاعت ِ اسلام  کی تہذیبی  نہج  کے امکانا ت  کی طرف بہت  اہم اشارے  کرتا ہے۔20

 مارشل ہاگسن تہذیب اسلامی کے ارتقا  و تشکیل کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو  یہ بیان کرتے ہیں  کہ آغاز میں اسلام اگر چہ ایک مذہب کے طورپر سامنے آیا  لیکن بعد میں ایک پوری تہذیب بنی جسے وہ Islamicate کےاصطلاح سے یاد کرتے ہیں۔ اپنی اس تشکیل کے لئے اسلا می تہذیب نے  اس خطے میں موجود ماقبل کے تمام انسانی ورثہ سے استفادہ کیا اور اس کے تمام اجزا کو اپنے اندر سمو لیا۔اسلام نے اس خطے کے عام کلچر ، زندگی کے طور واطوا ر اور اقدار کو ویسے ہی رہنے دیا جیسا کہ وہ تھا  ۔شروع میں تبدیلی نہایت کم سطح  پر کی گئی  اور اسلام ایک Sub Culture کے طور پر  اس تہذیبی  دھارے میں شا مل ہوا ۔اس وقت اسلامی تہذیب بطن مادر میں تھی  اور اس دور کو مصنف Gestation Period  کہتے ہیں ۔ پھر اس نے  اپنی ایک مستقل تہذیبی شناخت قائم کر لی۔

اس دورمیں اسلامی تہذیب کے ایک امتیازی پہلو  مار شل ہاگسن کے نزدیک یہ ہے  کہ اس نے دوسری تمام تہذیبوں کے بر عکس جو اس سے پہلے موجودتھیں ، حتی ٰ کہ وہ تہذیبیں جن کی یہ وارث تھی ، ان کے مذہبی متون اور لٹریچر کو اپنے ور ثے کے طور پر نہیں لیا بلکہ اپنی بنیاد بالکل الگ اور ایک نئے متن پر رکھی۔

مصنف موصوف  اموی اور عباسی دور  ِ خلافت  سے متعلق لکھتے ہیں:

Under the Marwanid caliphs and especially under the 'Abbasids who succeeded them, the barriers gradually fell away that had kept the evolution of the cultural life of the several conquered nations separated from each other and from the internal development of the Muslim ruling class. The leading social strata of the empire, of whatever background-even that minority that was not yet becoming Muslim-lived in a single vast society. Their common cultural patterns formed what can be called High Caliphal civilization.21

مروانی خلفا ء کے تحت اور خاص طور پر عباسیوں کے ماتحت جو ان کے بعد آئے ، آہستہ آہستہ وہ رکاوٹیں دور ہوگئیں جنہوں نے متعدد مفتوح قوموں کی ثقافتی زندگی کے ارتقا کو ایک دوسرے سے اور مسلم حکمران طبقے کی داخلی ترقی سے الگ رکھا ہوا تھا۔ سلطنت کا سرکردہ معاشرتی طبقہ ، اس کا تعلق کسی بھی پس منظر سے حتی کہ اس اقلیت سے جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئی تھی، ایک ہی وسیع معاشر ے میں رہ رہے تھے  ۔ ان کے  مشترکہ ثقافتی نمونوں نے  اس چیز کو  تشکیل دیا جس کو اعلی خلافتی تہذیب کہا جاسکتا ہے۔

مزید لکھتے ہیں:

These cultural patterns continued to be expressed, till almost the end of the period, in terms of a variety of linguistic and religious backgrounds. Syriac and Pahlavi continued to be major vehicles of high culture along with the newer Arabic. The revivifying of the Hellenic intellectual tradition, a most striking feature of the period, was marked by Greek translations into Syriac as well as into Arabic; Christians, Mazdeans, Jews, and even a group of Hellenistic pagans (at ij:arran in the Jazirah) alongside Muslims, shared in many of the concerns of the time either within their own religious traditions or across religious lines, often in co-operation with each other.22

متنوع لسانی اورمذہبی پس منظر  کے اعتبار سے تقریبا اس دور  کے اختتام تک ان ثقافتی نمونوں کا اظہار  جاری رہا ۔نئی عربی ( ثقافت )  کے ساتھ شامی  اور پہلوی تقا فتیں  اعلیٰ ثقافت کا ذریعہ  ترسیل بنی رہیں ۔یونانی دانش  ورانہ روایت  کا احیاء، جو کہ  اس دور کا اہم ترین مظہر تھا ،یونانی علوم  کے عربی اور شامی  ترجموں  کی صورت میں  سامنے آیا۔عیسائی، مزدکی ، یہودی حتی کہ  یونانی بت پرستوں کے ایک گروہ نے  مسلمانوں کے شانہ بشانہ ،اس زمانے کے بہت سے مسائل  میں دلچسپی لی اور اکثر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ،چاہے وہ ان کی مذہبی روایت کے اندر ہوں یا مختلف مذہبی روایتوں کے مشترک مسائل ہوں۔

Nevertheless, it was under the common administration and protection of the Muslim caliphate that the society prospered and the civilization flowered. What brought all the traditions together increasingly was the presence of Islam.23

بہر حال ، اسلامی خلافت کے عمومی انتظام اور تحفظ کے تحت ہی معاشرے نے ترقی کی اور تہذیب پھلی پھولی۔ جس چیز نے تمام روایات کو تیزی سے ایک  دوسرے کے  قریب کیا ،وہ اسلام کی موجودگی تھی۔

پروفیسر پرویز ہود بھائی لکھتے ہیں:

ابتدائی  طورپر اسلام  کی اشاعت  کے لئے جس طرح  فتوحات  اہم تھیں ،اسی طرح دوسری تہذیبوں پر اسلامی تہذیب کی فوقیت  قائم  کرنے میں  مسلمان دانش وروں  کی شاندار  کامیابیاں  بھی خالص مقام رکھتی ہیں۔ہمیں صرف  یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ منگول  حملے ،جو بظاہر عرب فتوحات سے مشابہ  تھے ،صر ف ایک عارضی  سلطنت  قا ئم کر سکے لیکن کسی  پائیدار  اور مستقل  تہذیب  کو جنم نہ دے سکے  ۔جب منگول  حملہ آوروں  کے جتھے بالآخر  گو بی کے ریگستان واپس چلے گئے تو اپنے پیچھے تباہی و بربادی  کے سوااور کچھ  نہ چھوڑا ۔اس کے برعکس  اسلامی فتوحات  نے دنیا  کو ایک نیا تمدن دیا اور یہ تمدن مسلمانوں کا غلبہ ختم ہونے کے بعد بھی صدیوں تک  پھولتا پھلتا رہا اور جاری و ساری رہا۔24

جارج سارٹن جنہوں نے سائنس کی تاریخ پر بڑی  وقیع علمی کام کیا ہے ، مسلمانوں کے سائنس سے متعلق  رویے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

Muslims had realized the need of science, mainly Greek science, in order to establish their own culture and to consolidate their dominion, even so the Latins realized the need of science, Arabic science, in order to be able to fight Islam with equal arms and vindicate their own aspirations. For the most intelligent Spaniards and Englishmen the obligation to know Arabic was as clear as the obligation to know English, French or German for the Japanese of the Meiji era. Science is power. The Muslim rulers knew that from the beginning, the Latin leaders had to learn it, somewhat reluctantly, but they finally did learn it. The prestige of Arabic science began relatively late in the West, say in the twelfth century, and it increased gradually at the time when Arabic science was already degenerating.25

مسلمانوں نے سائنس کی ضرورت کو محسوس کر لیا تھا، خصوصاً یونانی سائنس کی، تاکہ وہ اپنا کلچر قائم کر سکیں اور اپنے اقتدار کو مستحکم کر سکیں۔ حتی کہ لاطینیوں نے بھی سائنس یعنی عربی سائنس کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کر لیا تاکہ وہ اسلام کے ساتھ برابری کی بنیادوں پر لڑ سکیں اور اپنے تصورات کی تکمیل کر سکیں۔ اسپین اور انگلستان کے جو ذہین ترین لوگ تھے، ان کے لئے عربی جاننا بہت ضروری تھا، بالکل اسی طرح جیسے میجی دور کے جاپانیوں کے لیے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن جاننا  ضروری تھا۔ سائنس طاقت ہے، مسلمان حکمران یہ بہت پہلے سے جانتے تھے۔ لاطینی قائدین  کو بھی یہ بات  گو کچھ بے دلی کے ساتھ سیکھنی پڑی ، لیکن انجام کار انہوں نے اس کو سیکھ لیا۔ عربی سائنس کی عظمت کا احساس مغرب میں قدرے تاخیر سے یعنی تقریبا بارہویں صدی میں ہوا اور اس میں  ایسے وقت میں تدریجی اضافہ ہوتا چلا گیا جب عربی سائنس  روبہ زوال ہو رہی تھی۔

عصر حاضر کے معروف مغربی  مفکر  ایس ۔پی۔ ہنٹنگٹن   نے نزدیک اسلامی تہذیب نے نہ صرف  اپنے دورِ عرو ج میں ایک وسیع خطہ ارض کو متاثر کیا بلکہ جدید  مغربی تہذیب نے بھی  کئی صالح عناصر  اس سے اخذ کر تےہوئے اپنی ترقی کی بنیاد رکھی ۔ لکھتے ہیں:

Between the  eleventh and  thirteenth centuries, Europian culture began to develop, facilitated by the  eager  and systematic appropriation of suitable elements from the  higher civilizations  of Islam and Byzantium, together with adaptation of this  inheritance to the special conditions and interests of the west.26

گیارہویں  سے تیرہویں صدی کے درمیان، یورپی ثقافت نے  آگے بڑِھنا شروع کیا جس میں   اسلام اور بازنطینی کی اعلی ٰ تر تہذیبوں  سے   اپنے مناسب حال عناصر   بہت اشتیاق سے اور منظم انداز میں اخذ کرنے کے رویے نے بہت مدد دی اور اس ورثے کو  مغرب کی مخصوص صورت حال اور مفادات کے مطابق ڈھال لیا گیا۔

ڈاکٹر  بر نارڈ  لیوس  لکھتے ہیں:

For more than a thousand years, Islam provided the only universally acceptable set of rules and principles for the regulation of public and social life. Even during the period of maximum European influences, in the countries ruled or dominated by European imperial powers as well as in those, that remained independent, Islamic political notions and attitudes remained a profound and pervasive influence. In recent years there have been many signs that these notions and attitudes may be returning, albeit in modified forms, to their previous dominance.27

ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک  اسلام نے  پبلک اور سماجی زندگی  کی تنظیم کے لئے وہ واحد مجموعہ  اصول و ضوابط  مہیا  کیا  جو عالمی  طور پر قابل  ِ قبول تھا ۔ یہاں تک کہ جن ملکوں میں زیادہ سے زیادہ  یورپی  اثر و رسوخ  رہا ، جن پر یورپ کی حکومت رہی یا جو  ویسے  یورپ  کی شہنشاہی  طاقتوں  کے زیر تسلط رہے اور وہ بھی  جو یورپی  تسلط  سے بالکل آزاد رتھے ، وہاں  اسلام کے  سیاسی تصورات  اور رجحانات  کا گہرا  اور نفوذ پذیر اثر رہا۔  حالیہ  بر سوں میں  اس بات کے کئی اشارات  سامنے آئے ہیں کہ یہ تصورات  اور رجحانات  ، چاہے ترمیم شدہ شکل میں  سہی، دوبارہ غلبہ پا سکتے ہیں۔

اسلامی فتوحات کے عالمی تہذیب پر جو اثرا ت ہوئے ان میں سے ایک بین المذاہب رواداری  بھی ہے ۔عہد وسطی میں اسلامی سلطنت اور  یو رپ کے درمیان  جو کہ نصرانیت پر قائم تھا ، محققین نے ایک بڑا فرق یہ بتایا ہے کہ  اسلامی ریاست  کے اندر مختلف  مذاہب و ملت  کی ایک بڑی تعداد  موجود تھی ،  جبکہ عیسائی سلطنت میں رواداری  مفقود تھی ۔  مشترکہ  معیشت  اور بعض معاہدوں  کے وجود  ،رواداری  کی ایک عظیم مثال ہے اور اس کا  مظہر ملت و مذہب  کے تقابلی علم  کا آغاز تھا۔دوسرے معنوں میں  اختلاف  کے باوجود مذہب وملت  کا مطالعہ ہوتا تھا  بلکہ بطور خاص دوسرے مذاہب  کا مطالعہ بڑے شغف  سے کیا جاتا تھا۔28

ڈاکٹر فضل الرحمان  کے ہاں  بھی یہی پوزیشن نظر آتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

اس میں کوئی شک نہیں  کہ بازنطین اور ایران کی عظیم الشان سلطنتوں  کی اندرونی  کمزوری نے جو پیہم باہمی جنگوں کی وجہ سے  تھک چکی اور اندر سے ایک روحانی اور  اخلاقی جمود کی وجہ سے  کھوکھلی  ہو چکی  تھیں،مسلمانوں  کی اس شاندار پیش  قدمی کی  رفتار  کوتیز کر دیا ۔ لیکن آنکھیں خیرہ  کر نےوالی پیش رفت  کے اس فینامینا  کی توجیہ محض  اس صورت ِ حال سے نہیں کی جاسکتی ۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ  اسلامی تحریک  کے تازہ دم  اور قوت سے بھر پور  کر دار کو مناسب  اہمیت دی جائے مسلمانوں کی اس پیش  رفت  کے اصل کر دار  کے بارے میں ایک ناپسندیدہ  بحث چل پڑی  ہے اور  مسائل کو  اسلام پر تنقید کرنے   والوں نے اور سچی بات ہے ، خود مسلمانوں   کے معذرت خواہانہ  رویے نے  بھی دھندلا دیا ہے ۔  جہاں اس امر پر اصرار  کہ اسلام تلوار  کے زور  سے پھیلا  حقائق کے ساتھ مذاق  ہے ، وہاں یہ  کہنا بھی  حقائق کو توڑ نا مروڑنا ہے کہ  اسلام اسی طرح پھیلا جس طرح کہ  بدھ مت اور عیسائیت  پھیلے تھے ۔ اس کے باوجود کہ عیسائیت نے وقتا فوقتا  حکومت کی طاقت  استعمال کی تھی ۔ اس معاملے کی اصل توجیہ  اسلام کے ڈھانچے  کی اس خصوصیت  میں ہے کہ  وہ مذہب  اور سیاست کا امتزاج ہے ۔ جہاں یہ کہنا  صحیح ہے کہ  مسلمانوں  نے اپنا مذہب  تلوار  کے زور سے نہیں پھیلایا ، وہاں  یہ بات بھی  سچ ہے کہ اسلام  نے سیا سی طاقت  کے حصول پر زور دیا۔  اس لیے کہ یہ اپنے آپ کو  خداکے ارادے  کا محافظ  سمجھتا تھا ،جو زمین پر ایک سیاسی  نظام کے ذریعے ہی نافذ ہو  سکتا تھا ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام اشتراکی ڈھانچے  سے مشابہت  رکھتا ہے ، جو اگر لوگوں کو اپنا مسلک  قبول کر نے پر مجبور  نہ بھی کرے، پھر بھی وہ سیاسی  طاقت کوہاتھ میں لینے  پر ضرور زور دیتا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار کر نا تاریخ کے خلاف  جانا ہوگااور اس سے خود  اسلام کے ساتھ بھی انصاف  نہیں ہو سکے گا۔ہمارے نزدیک  اس میں ذرہ برابر  شک نہیں کہ اس حقیقت  نے اسلام  کے عقیدہ مساوات انسانی اور وسیع انسانی دوستی  کے جبلی خصائص  کے ساتھ مل کر  مفتوحہ قوموں  میں اسلام  کے نفوذ  کے عمل کو تیز  کر دیاتھا۔29

گزشتہ صفحات میں یہ بات  تفصیل سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عقید ہ یا اخلاقی  پیغام کےپھیلاؤ اور انسانی تاریخ  میں وسیع  اثرات مرتب  کرنے  کے لئے بھی  سیاسی غلبہ و طاقت  کی چھاؤں در کا رہوتی ہیں  اور یہ بات بھی واضح ہوئی کہ  دعوت یا عقیدے  میں سیاسی طاقت کی نفی یا اس  کی اہمیت کو کم کر نا درست نہیں۔

  اس کو آج کے تناظر میں یو ں سمجھا جا سکتاہے کہ  آج ان اقدار کو جنہیں  پوری دنیا میں اچھی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے یا کم از کم  پوری توجہ دی جارہی ہے ، جیسے حقوقِ انسانی ، مساوات  مر دوزن ، آزادی رائے ، مذہبی آزادی ،سیکولرازم وغیرہ ،کیا ان سب کو مغر ب کی سیاسی بالادستی اور طاقت کے دباؤ سے ہٹ کر  اس طرح دیکھا جاسکتا ہے؟اسی طرح اسلام نے جو عقیدہ پیش کیا ،جو قدریں پیش کیں ،ان کے دنیامیں متعارف ہونے میں اور مقبولیت  حاصل کرنے میں سیاسی طاقت کا کر دار  رہا ہے، ایسے ہی جیسے آج ہم ان چیزوں کو ویلیو (Value)مان رہے ہیں جومغرب کی سیاسی طاقت کے بغیر نہیں ہو سکتیں ۔ جن چیزوں کو ہم قدر یا اچھی چیزیں مانتے ہیں یا کچھ تہذیبی Contribution سمجھتے ہیں تو اس میں اور ان کی قبولیت میں طاقت کا دخل لازما ہوتا ہے۔

غر ض ایسےبے شمار پہلو  پیش کیے جاسکتےہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ  عرب فتوحات (Arab Conquests) اور  توسیع سلطنت  (Expansions) کا  اسلامی تہذیب کی تشکیل وارتقا میں بنیادی کر دار رہا ہے۔ یہ تہذیب دنیا کے ایک وسیع خطے پر نہایت گہرےمذہبی، سماجی، سیاسی ، اخلاقی ، تمدنی ، علمی ،معاشی اور انتظامی اثرات مرتب کرنے میں کامیا ب رہی۔ذرا  سوچئے کہ تہذیبی سطح پر اتنی بڑی سر گرمی کو عرب فتوحات  سے الگ کر کے دیکھا  جاسکتا ہے ؟کیا صدیوں پر محیط  یہ تہذیبی تعامل اور اس کے دیر پا اور دوررس اثرات و ثمرات  میں اسلامی فتوحات  اور مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت  کے کر دار  کو  خارج کیا جا سکتا ہے ؟گویا تاریخ اسلامی  کے تشکیلی دور  کا مطالعہ اگر اس تناظر میں کیا جا ئے جس کی طرف ان سطور میں توجہ دلانے کی ایک ابتدائی کوشش کی گئی ہے تو یقینا  عقیدہ ،  تہذیبی اثرات اور فتوحات  وسیاسی طاقت کے مابین  تعلق کی تفہیم کا نیا زاویہ سامنے آئے گا ۔اسلامی  تاریخ میں مسلمانوں کی فتوحات  اور ان کے نتیجے میں سیاسی حاکمیت  ، یہ ایسی چیزنہیں ہےکہ  ہم اس پر شر مندہ ہوں  یا اس کی تفہیم کا کوئی زوایہ ہی ہمارے پا س موجود نہیں ہے۔


مصادر و مراجع

  • افتخار حسین آغا،ڈاکٹر،قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ،مجلس ترقی ادب ،لاہور،1999
  • آدم میٹز(Adam Matez)، الحضارۃ الاسلامیہ فی القرن الرابع الہجری،ترجمہ : محمد علی ابو ریدۃ،قاہرۃ،1940
  • زیغریدھونکہ،شمس العرب تسطع علی الغرب ، دارالجیل ،بیروت،سن ندارد
  • سر اج منیر ،ملت ِ اسلامیہ :تہذیب وتقدیر ، مکتبہ روایت ،لاہور ،1997
  • فضل الرحمان ،ڈاکٹر،اسلام   ،ترجمہ :محمد کاظم ،مشعل بکس،لاہور،2006
  • محمد اقبال ،کلیات ِ مکاتیب ِ اقبال ،اردو اکادمی دہلی،2010
  • ہود بھائی ،پرویز امیر علی، مسلمان اور سائنس،مشعل بکس لاہور،2005
  • Bernard Lewis, The Crisis of Islam, Phoenix, London,2003.
  • Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture. Rutoledge, Taylor and Farncis Group, U.S, 1998.
  • George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952.
  • Huntington, Samuel , The clash of civilizations and remaking of world order, Penguin books USA,1996.
  • Marshall G.S. Hodgson .The Venture of Islam. University of Chicago Press, Chicago and London,1974.
  • Patricia Crone. Micheal Cook .Hagarism.Cambridge University Press ,London ,1977.


حواشی

(1) محمد اقبال،کلیات ِ مکاتیب ِ اقبال ،اردو اکادمی دہلی،2010، ج: 2 ،ص: 234-236

(2) پیٹریشیا کرون امریکی نزاد  یہودی مصنفہ ،مستشرقہ تھیں ۔ ان کامیدانِ تحقیق تاریخ  اور خصوصا ََ ابتدائی تاریخ ِ اسلام تھا ۔ پیٹریشیا کرون کی علمی زندگی کا سب سے اہم موضوع اسلامی مصادر کی تاریخی حیثیت کا بنیادی سوال تھا جس کا تعلق آغازِ اسلام سے ہے ۔ ان کے دو مشہور علمی کاموں کا موضوع: ہیگر ازم اور مکہ تجارت ہے ۔ ہیگر ازم کے تین دہائیوں بعد ، فریڈ ڈونر نے پیٹریشیا کرون  کے کام کو اسلام کے استشراقی مطالعے  کے میدان میں "سنگ میل" قرار دیا۔مصنفہ نے اپنی کتاب ہیگر ازم میں اپنے ساتھی  مائیکل کک (Michael Cook)کے ساتھ مل کر اسلام کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ایک نیا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔انہو ں نے آغازِ اسلام  کی پوری تصویر غیر عرب مصادر سے تیار کرنے کی کو شش کی ہے جو زیادہ تر  آرمینی ، یونانی ، آرامی اور سریانی زبانوں میں لکھے گئے تھے  ۔انہوں نے اسلام کے آغاز کی ایک کہانی کی تشکیل نو کی جو  اسلامی روایات کی کہانی سے مختلف ہے۔ کرون اور کوک نے دعویٰ کیا کہ عرب قیادت میں مشرق کی مختلف مشرقی تہذیبوں کے ملاپ کے  مطالعے کے ذریعےوہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ اسلام کیسے وجود میں آیا۔

(3) بد ھ مت کو  جب دو ہندو راجاؤں ،اشکوک اعظم اور کنشک، جنہوں نے خود یہ مذہب اختیار کرلیا ، کی سر پر ستی حاصل ہوئی تو اس دور میں دنیا کا سب سے بڑامذہب بن گیا ۔ یوں اس سیاسی پشت  پناہی کی بدولت  دنیا کے ایک بہت بڑے خطے پر  اثرات ڈالنے میں کامیاب ہوا۔ آ ج بھی جاپان سے لے کر کا بل تک  اس کے آثار اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔موجود دور میں بھی اس کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے ۔اسی طرح مسیحیت کو دیکھیے تو حضر ت مسیح کے بعد تقریبا  تین صدی تک  ان کا کوئی پرسان ِحال نہ تھا۔ ہر طرف انہیں دھتکارا جاتا تھا تاآنکہ  رومی سلطنت نے خود عیسائیت قبول کرلی اور  اور سلطنت کے زیر نگین علاقوں نے  جو تقریبا تین  بر اعظموں ایشیا ، یورپ اور افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے ، مسیحیت قبول کرلی ۔اسی کے اثرات ہیں کہ آج بھی دنیا کا سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہی ہے۔

(4) Crone, Patricia. Hagarism, p. 130.
(5) Ibid, p. 10.
(6) Ibid, p. 77.
(7) https://kavvanah.wordpress.com/2012/06/04/
how-islam-saved-the-jews-david-wasserstein/(
Accessed 01-04-2020).
(8) Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture, p:11
(9) Ibid, p:11-12.
(10) Dimitri Gutas. Greek Thoughts, Arabic Culture, p:13.
(11) Ibid, p. 13.

(12)  پرویز ہود بھائی ، مسلمان اور سائنس ، ص: 138

(13)  ایضا ََ ، ص: 142

(14) Ibid, p:74.

(15) ڈاکٹر فضل الرحمٰن ،اسلام ،ص:10

(16) ڈاکٹر فضل الرحمٰن ،اسلام ،ص:13

(17) ایضا

(18) زیغرید ھونکہ،  شمس العرب تسطع علی الغرب،ص:401

(19) ڈاکٹر افتخار حسین آغا،قوموں کی شکست و زوال  کے اسباب کا مطالعہ ، ص : 51

(20) سراج منیر، ملت ِ اسلامیہ : تہذیب و تقدیر  ، ص : 88

(21) Marshall G.S Hodgson۔ The Venture of Islam, Vol-1, p. 235.
(22) Ibid.
(23) Marshall G.S Hodgson. The Venture of Islam,Vol-1, p. 235.

(24)  پرویز ہود بھائی ، مسلمان اور سائنس ، ص: 163

(25) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 30.
(26) Huntington, The clash of civilizations and remaking of world order, p. 50.
(27) Bernard Lewis, The Crisis of Islam, Phoenix, London,2003, p. 11.

(28) آدم میٹز(Adam Matez)، الحضارۃ الاسلامیہ فی القرن الرابع الہجری،ترجمہ : محمد علی ابو ریدۃ، القاہرۃ، 1940، ج:1،ص:55-96

(29)  ڈاکٹر فضل الرحمان ،اسلام ،ص:10



آراء و افکار

(اپریل ۲۰۲۱ء)

اپریل ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۴

Flag Counter