عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضات

محمد عمار خان ناصر

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث کے حوالے سے بعض معروضات میں (مارچ ۲٠۲۱ء) یہ بنیادی نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ  عقل اور مذہب پر  گفتگو  کے سلسلے کو  تاریخی سیاق  میں  اور تہذیبی سطح پر  منظم کرنے کی ضرورت ہے۔  انفرادی سطح پر   اور مختلف مسائل کے حوالے سے      تاثرات اور ججمنٹس کے اظہار کا   سلسلہ پہلے سے موجود ہے اور     آئندہ بھی جاری رہے گا، لیکن دو تہذیبی مواقف کے مابین مکالمے  کی  نوعیت، شرائط اور  تقاضے کافی مختلف ہوتے ہیں اور دراصل  اسی سطح پر  ہمارے معاشرتی تناظر میں اس بحث کی   علمی تفہیم  کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں اہل دانش کا کردار اور ذمہ داری بہت  بنیادی ہے۔  

 اس ضمن میں  گفتگو  کا بنیادی محور، ہماری طالب علمانہ رائے میں، درج ذیل تین   سوالات کو ہونا چاہیے:

۱۔ انکارخدا کے موقف کا عقلی امکان اور جزوی سطح پر  اس کا وقوع انسانی تاریخ میں ہمیشہ  سے موجود رہا ہے۔  خاص طور پر مسلمانوں کی فکری روایت کے لیے دہریت اور  عقلی بنیادوں پر انکار نبوت وغیرہ کے مواقف نامانوس نہیں ہیں  اور ان موضوعات پر تفصیلی بحثیں  اسلامی روایت میں موجود ہیں۔ جدید دور کی غالب تہذیب نے  انسانی فکر واحساس کے لیے اس کی قبولیت کے ذرائع ووسائل پیدا کرنے میں غیر معمولی محنت کی ہے اور یوں اس کو  اسی طرح ایک تہذیبی طاقت حاصل ہو گئی ہے جیسے  اس سے  پہلے  مختلف مشرکانہ مذاہب کو اور توحید پر مبنی ابراہیمی روایت کو حاصل رہی ہے۔   اس پہلو سے   دنیا کے   دیگر معاشروں میں  بھی الحاد کی مختلف سطحوں اور صورتوں کے لیے  فکر واحساس میں قبولیت  کا پیدا ہونا  نہ تو کوئی اچنبھے کی بات ہے اور نہ  تاریخی عمل  کے لحاظ سے کوئی   بہت خلاف معمول یا غیر متوقع معاملہ ہے۔    تاہم  بحث طلب سوال یہ ہے کہ  دنیا کی موجودہ غالب تہذیب نے اپنے خاص تاریخی سیاق میں  جس تصور وجود کو  اپنے لیے اختیار کیا ہے اور    اب اسے  تاریخی تحدیدات سے ماورا   قرار دیتے ہوئے ایک آفاقی سچائی رکھنے والے تصور وجود  کا درجہ دینے  کا فطری داعیہ رکھتی ہے،  کیا  اس سے مختلف تصور وجود رکھنے والی تہذیبوں اور بالخصوص مسلم معاشروں سے اس بات کی توقع یا مطالبہ   کسی بھی اصول کے لحاظ سے روا ہے کہ وہ اس موقف کو  من وعن قبول کر لیں اور اپنی  تاریخ اور اپنی تہذیبی روایت سے متعلق  اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں کہ وہ ایک نابالغ ، ناپختہ اور مبتدی انسانی شعور کے مظاہر ہیں؟

جدید الحادی عقل کی طرف سے مذہب کی یہ توجیہ کہ یہ انسان میں خوف کے جذبے سے پیدا ہوا ہے، کوئی منطقی استدلال نہیں، بلکہ اس کی نوعیت تعلی کی ایک خاص نفسیاتی پوزیشن سے کسی موقف پر حکم لگانے کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ’’استدلال “ سرے سے نفس مسئلہ کو موضوع ہی نہیں بناتا۔ اگر کسی تجرباتی یا منطقی دلیل سے خدا کا موجود نہ ہونا ثابت کیا جا چکا ہو، تب تو مذہب کی توجیہ کرتے ہوئے مذکورہ حکم لگایا جا سکتا ہے، لیکن اصل دعوے کے بارے میں بڑے بڑے ملحدین (فلسفی اور سائنٹسٹ) یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ خدا کے وجود کی حتمی طور پر نفی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں یہ دعوی کہ انسانوں نے خوف کے جذبے کے زیر اثر تخیل کی مدد سے مذہب کو ایجاد کیا ہے، منطقی طور پر کوئی وزن نہیں رکھتا۔ یہ محض ایک ’’حکم “ ہے جو منطقی دلیل کی غیر موجودگی میں، ایک مفروضے کو درست مان کر مخالف موقف پر لگا دیا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجیے تو اسی طرح کا نفسیاتی حکم، مفروضاتی پوزیشن کو تبدیل کر کے جدید الحاد پر بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر وجود باری کی نفی ثابت نہیں، اور یہ مفروضہ قبول کر لیا جائے کہ خدا موجود ہے تو جدید الحادی رویے کی یہ نفسیاتی توجیہ بآسانی کی جا سکتی ہے کہ یہ انسان کے misplaced’’علمی تکبر“ سے پیدا ہوا ہے۔ انسان نے کائنات کے لا محدود نامعلوم حقائق کی ایک معمولی سی تجلی دیکھ لی اور کچھ طبیعی قوانین دریافت کر کے زندگی کی کچھ مشکلات کو آسان بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تو ایک تھڑ دلے انسان کی طرح اس زعم میں مبتلا ہو گیا کہ اس نے کائنات کی حتمی حقیقت جان لی ہے اور اب اسے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں رہی۔

جدید الحاد کی تہذیبی جائے پیدائش بھی اس توجیہ کی پوری تائید کرتی ہے۔ مغرب میں، جو جدید الحاد کی اصل جنم بھومی ہے، جدید علم اور طاقت سے پرورش پانے والا تعلی اور تکبر کا رویہ تو اب خود مغربی علوم میں طشت ازبام کیا جا رہا ہے۔ جس تہذیب نے اپنے علاوہ باقی ساری دنیا کے معاشروں اور تاریخ کا مطالعہ تکبر اور تعلی کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا ہو، اس کے بارے میں اس کی ضمانت کیسے اور کس اعتماد پر دی جا سکتی ہے کہ کائنات کی حقیقت طے کرتے ہوئے علم اور طاقت کے نشے سے اس کا دماغ خراب نہیں ہوا ہوگا اور ماضی کی ساری انسانی تاریخ پر یہ حکم کہ وہ جہالت اور خوف کی وجہ سے مذہب کے زیر اثر رہی، تکبر کی نفسیاتی کیفیت سے آازاد ہو کر لگایا ہوگا؟

۲۔ عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کے حوالے سے مغربی روایت اپنے تاریخی تجربے کی روشنی میں جس موقف تک پہنچی ہے، وہ تاریخی تجربہ غیر مغربی معاشروں کا نہیں ہے۔ تاہم  ایک خاص تہذیب کا تاریخی تجربہ ہونے کے باوجود جدید مغربی فکر میں ایک یونیورسل اپیل بھی پائی جاتی ہے۔  یہاں غور وفکر اور بحث  کا طلب گار نکتہ یہ ہے کہ اگر  تہذیبی سطح پر  یہ پوزیشن ہمارے لیے قابل قبول نہیں تو کیا  ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت نہیں کہ  غالب تہذیب کے موقف کی  تاریخی تشکیل کیسے ہوئی ہے اور  وہ اپنے اندر ایک یونیورسل اپیل پیدا  کرنے میں کیونکر کامیاب ہے؟  کیا ان سوالات کا ایک گہرا تہذیبی فہم ہمارے لیے کوئی معنویت رکھتا ہے یا نہیں کہ عالم غیب سے  بے اعتنائی اور  پھر  اس کی نفی   کا موقف اختیار کرنے والی عقل نے  کائنات، حیات وشعور  اور انسان کی  تفہیم کی کیا متبادل فکری اساسات مہیا  کی ہیں؟  عالم غیب کے اثبات پر مبنی    تفہیم کائنات  کو قبول کرنے میں   جدید عقل کے کیا تحفظات ہیں اور   مذہبی تفہیم پر  اس کی مختلف الجہات تنقید کیا ہے؟    عقل جدید نے  انسانی معاشرت کی تشکیل کے لیے درکار اہم اخلاقی وفلسفیانہ تصورات کو، جن کی  تشکیل    انسانی تاریخ   میں مذہبی  اعتقاد اور    عقلی  تصور سازی کے اشتراک سے ہوئی تھی،   کیسے غیر مذہبی   اساسات پر استوار  کر کے  اپنے لیے  کارآمد بنا لیا ہے؟ جدید سائنس، حیات وکائنات اور انسان کی اس نئی تفہیم کو  کیسے اور  کن پہلووں  سے براہ راست یا بالواسطہ تقویت فراہم کرتی ہے؟   اور  کائنات کی تفہیم کے غیر مذہبی سانچے میں رہتے ہوئے  جدید عقل انسانی معاشروں کی تنظیم اور اجتماعی سرگرمی   کے نظام قائم  کرنے میں  کیسے بالفعل  کامیاب ہے؟  

بحالت موجودہ یہ سب سوالات مذہبی فکر  کے سنجیدہ غور وفکر کا  موضوع نہیں ہیں  اور وہ  عقل جدید کی فکری،  عملی اور تاریخی  طاقت کا کماحقہ  اندازہ کیے یا جائزہ لیے بغیر  جزوی حوالوں سے  اس کے  نقائص، کمزوریوں یا داخلی تضادات  کا حوالہ دینے پر عموما اکتفا  کیے  ہوئے ہے۔ بالفاظ دیگر،   ہمارے ہاں ابھی تک جدید تصور وجود  اور اس سے متفرع ہونے والے تصور عقل کو ، جس کی قوت اور  نتیجہ خیزی تاریخ میں مشہود ومحسوس  ہے،  فکری سطح پر اہم سمجھنے  اور اس کی قوت وتاثیر کے منابع  کا علمی وعقلی فہم  حاصل کرنے  کی ضرورت  کا احساس پیدا نہیں ہو سکا اور ہم ا س کے غیر فطری ہونے    کی ججمنٹ  کے ساتھ اس اطمینان کو اپنے لیے  کافی سمجھتے ہیں کہ   یہ تہذیب اپنے خنجر سے آپ  ہی خود کشی کر لے گی، کیونکہ جو آشیانہ شاخ نازک پر بنایا جاتا ہے، وہ ناپائدار ہوتا ہے۔

۳۔ قرون وسطی کے یورپی معاشروں  کو چھوڑ کر،  جہاں مسیحی تہذیب نے  کلی مذہبی  یک رنگی کی صورت  پیدا کر دی تھی،  تمام تاریخی معاشروں اور تہذیبوں میں مذہبی  یا غیر مذہبی مواقف کا تنوع اور مختلف اعتقادی    مواقف رکھنے والے افراد اور گروہوں  کا وجود قبول کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی کیا جاتا ہے۔   تاہم   یہ توسع  اپنی تہذیبی شناخت سے دستبردار ہو کر یا اس کی قیمت پر   اختیار نہیں کیا جاتا۔   ہر تہذیب اپنی  نظریاتی اور سیاسی حاکمیت  کو قائم رکھتے ہوئے  ہی یہ توسع  پیدا کرتی ہے اور اسی شرط پر  اس توسع کو برقرار بھی رکھ سکتی ہے۔  اگر   توسع، اس کی شناخت اور حاکمیت کے لیے خطرہ بن رہا ہو    تو نہ صرف یہ کہ اس کا  جواز باقی نہیں رہتا، بلکہ عملا بھی اسے  برقرار رکھنا ناممکن ہو  جاتا ہے۔  یہ بنیادی بات سمجھنے کے لیے موجودہ غالب تہذیب کو  ہی دیکھ لینا کافی ہے۔  عقل اور مذہب  کی تقسیم   اور   مذہب کی ایک خاص دائرے میں تحدید اس تہذیب کی بنیادی شناخت ہے  اور اس کی ساری  رواداری، توسع، غیر جانب داری   اور اپنے شہریوں کے ساتھ  مساوی برتاو وغیرہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے  کہ تہذیبی شناخت    کو چیلنج نہیں کیا جائے گا، یعنی   اس کو تبدیل  کرنے کے لیے   سماجی یا سیاسی طاقت کو منظم نہیں کیا جائے گا۔  مسلمانوں کے ،مغربی معاشروں میں  دن بدن نمایاں ہوتے ہوئے  وجود کو اسی پہلو سے  ایک  مسئلے کے طو رپر دیکھا جاتا ہے کہ وہ  ان معاشروں کی  غالب مذہبی شناخت  اور    سیکولر تہذیبی شناخت، دونوں کے لیے امکانی مشکلات پیدا کرتے  ہوئے دکھاتی دے رہے ہیں۔

ہمارے تناظر میں اس حوالے سے  قابل بحث سوال یہ  بنتا ہے کہ کیا مسلمان معاشرے اپنی تہذیبی شناخت  کو قائم رکھنے اور  اپنی سیاسی حاکمیت کو تہذیبی شناخت  کے ساتھ وابستہ کرنے کا حق نہیں رکھتے؟  اگر نہیں رکھتے تو کیوں؟ اور اگر رکھتے ہیں تو  یہاں سیکولرزم کی بحث کا کیا مطلب ہے؟   کیا ہمارے ہاں یہ بحث  محض ایک نظری تحلیل وتجزیہ  کا عنوان ہے یا  اس کی نوعیت موجودہ تہذیبی شناخت  پر حکم  لگانے   اور اس شناخت کو عملا ختم یا کمزور کرنے کی ایک  باقاعدہ سیاسی جدوجہد ہے؟  اگر یہ بحث دوسری نوعیت کی ہے تو اس میں اور  یورپ میں  خلافت اسلامیہ کے قیام  کی جدوجہد منظم کرنے میں     کیا بنیادی فرق ہے؟

ہمارے نزدیک  یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کو تہذیبی  تناظر اور تاریخی سیاق میں موضوع بنانا    ازبس ضروری ہے  اور مسلم معاشروں کی تعمیر  واستحکام کی خواہش رکھنے والے   تمام اہل دانش کو، چاہے ان کے فکری وتہذیبی رجحانات کچھ بھی ہوں، ان سوالات پر ایک مسلسل اور سنجیدہ علمی مکالمے کا حصہ بننا چاہیے۔

ہماری نوجوان نسل اس وقت مختلف حوالوں سے ایک وجودی اضطراب اور شناخت کے بحران مختلف حوالوں سے دوچار ہے۔ آپ کسی بھی تقسیم کے حوالے سے دیکھ لیں، خط تقسیم کے دونوں طرف بڑی تعداد میں انتہائی مضطرب اور ’’مرو یا مار دو“ قسم کی ذہنی کیفیت کا شکار نوجوان ملیں گے جو اپنے کرب، اضطراب اور غصے کے اظہار کے لیے کسی نہ کسی سیاسی، معاشرتی یا مذہبی تقسیم کا حصہ بن گئے ہیں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر اس تقسیم کو وسیع اور گہرا کرنے میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

مثلا مذہب اور مذہبی عقائد واحساسات کے حوالے سے اس تقسیم کو دیکھ لیجیے جو پچھلی ایک دہائی میں بہت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ایک طرف مذہبی نوجوانوں کا ایک جم غفیر نظر آئے گا جس کو قطعی طور پر اندازہ نہیں اور نہ انھیں اس کی کوئی تفہیم بہم پہنچائی گئی ہے کہ جدید دور میں عالمی سطح پر مذہب کے حوالے سے کیا سوچ مستحکم ہو چکی ہے، اس کی فکری وتاریخی بنیادیں کیا ہیں اور وہ مسلمان معاشروں کے اندر کیسے اور کس پیمانے پر سرایت کر رہی ہے۔ صورت حال کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ان نوجوانوں کے لیے مذہب پر اٹھایا جانے والا کوئی بھی سوال، خاص طور پر جب اس کا پیرایہ اظہار کچھ نامناسب ہو، ایک وجودی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو، ظاہر ہے، اسی سطح کے رد عمل کا تقاضا کرتا ہے۔

خط تقسیم کی دوسری جانب بھی اسی طرح disgruntled نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس بیانیے کی قائل ہو گئی ہے کہ تمام تر یا زیادہ تر سیاسی وسماجی اور اخلاقی مسئلوں کی جڑ دراصل مذہب ہے اور معاشرے کی منصفانہ اور عقلی تشکیل مذہب کو اسی طرح حاشیے تک محدود کیے بغیر ممکن نہیں جیسے مغربی معاشروں میں عموما کی گئی ہے۔ چونکہ منصفانہ اور عقلی سماج کی خواہش فوری اور بے تاب ہے، جبکہ اس آئیڈیل کا حصول سردست مسلم معاشروں میں ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے ان نوجوانوں کے ہاں ردعمل کی غالب شکل وہ بن جاتی ہے جو ہمارے سامنے ہے، یعنی مذہبی عقائد و احساسات کی تحقیر اور ان سے متعلق تمسخر واستہزا کا اظہار۔

گویا دونوں طرف ذہنی رویوں میں جس چیز کا فقدان ہے، وہ ہے ایک تاریخی صورت حال کو سمجھنے کی صلاحیت اور اس بات کو ذہنی ونفسیاتی طور پر قبول کرنا کہ تاریخ اور معاشرہ اس کے پابند نہیں کہ وہ ہماری توقعات اور خواہشات کے مطابق پہلے سے بنے ہوئے موجود ہوں اور ہم اس میں کسی رکاوٹ کا سامنا کیے بغیر اپنے آئیڈیلز کے مطابق زندگی کے سفر کو آگے بڑھا سکیں۔ اس رویے کو پختہ کرنے کی خدمت پھر کچھ ایسے اہل قلم انجام دیتے ہیں جن کی تاریخ اور انسانی معاشرے کے فہم کی صلاحیت جیسی بھی ہو، کچھ پڑھ لکھ لینے اور اظہار کی صلاحیت حاصل کر لینے کی بدولت وہ ایک عصبیت کے ترجمان کے طور پر پہچان بنا لینے میں کامیاب ہیں۔

اس سارے منظر میں، ذمہ دار اور تعمیر معاشرہ سے دلچسپی رکھنے والے اہل دانش کے سامنے سوال یہ ہے کہ اس پوری نسل کو، جس کا بنیادی مسئلہ، فکری وابستگیاں مختلف اور متضاد ہونے کے باجود، اصلا ایک ہی ہے، کیسے یہ سکھایا جائے اور ان میں ایسی نفسیاتی اور فکری پختگی کیسے پیدا کی جائے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں جو ان کے تصورات کے لحاظ سے سخت ناپسندیدہ ہے، حقیقت پسندانہ رویے کے ساتھ رہ سکیں، صورت حال کے ساتھ بطور ایک امر واقعہ ذہنی ہم آہنگی پیدا کر سکیں، اور معاشرے میں اپنے لیے کوئی تعمیری کردار تلاش کریں؟ ان کے جوش وجذبہ کا رخ کیسے اس طرف موڑا جا سکتا ہے کہ ان کی توانائی موجود صورت حال پر شکایت اور اظہار نفرت تک محدود رہ جانے کے بجائے کسی مثبت اور تعمیری مصرف میں صرف ہو؟


آراء و افکار

(مئی ۲۰۲۱ء)

مئی ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۵

Flag Counter