اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی

 تعداد ِروایات

اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے  کا ایک بڑا فرق فریقین کے مجموعات ِحدیث  میں مدون روایات کی تعداد کا   مسئلہ ہے ، اس فرق سے متنوع سوالات جنم لیتے ہیں ،اولا فریقین کے مصادر ِحدیث میں موجود روایات کا ذکر کیا جاتا ہے ، ثانیا اس فرق سے پیدا شدہ بعض اہم نتائج کو سوالات کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے :

اہل سنت کے اساسی مصادر کی مرویات

اہل سنت کے بنیادی مصادر حدیث صحاح ستہ اور مسند احمد و موطا ہیں ،ان آٹھ کتب کی مجموعی  مرویات مکررات سمیت یوں ہیں:

تعداد مرویات بلا تکرار تعداد مرویات مع التکرار کتاب کا نام
2362
7008
بخاری
2846
5362
مسلم
2515
5662نسائی
3784
4590
ابو داود
3367
3891
ترمذی
3978
4332
ابن ماجہ
9339
26363
مسند احمد
745
2081
موطا (بروایاتہ الثمانیہ) 
30604
62169
مجموعہ روایات









ان آٹھ کتب کی روایات     انہی میں سے  دوسری کتب  میں بھی مذکور ہیں ،اگر ہم آٹھ کتب کی انفرادی زوائد مرویات کو  الگ کر کے دیکھیں ،تو تعداد اسے کہیں کم بنتی ہے ،ذیل میں ان  کی انفرادی زوائد روایات کا ذکر کیا جاتا ہے :

بخاری کے زوائد : 430

بخاری پر  مسلم کے زوائد : 578

صحیحین پر ابو داود کے زوائد :1337

صحیحین و ابو داود پر ترمذی کے زوائد :561

صحیحین ابوداود و ترمذی پر نسائی کے زوائد :163

کتب خمسہ پر ابن ماجہ کے زوائد :184

صحاح ستہ پر موطا کے زوائد :138

صحاح ستہ و موطا پر مسند احمد کے زوائد :548

مجموعہ روایات :3939

نسخ و طبعات  کے فروق  کو شامل کرتے ہوئے ہم اس تعداد کو 4000  شمار کر سکتے ہیں ،یوں اہل سنت کی آٹھ کتب میں موجود بلا تکرار و مشترکات کے کل روایات تقریبا  4000 ہیں ،یہی   چار ہزار روایات    اسانید و تکرار کے ساٹھ  باسٹھ ہزار مرویات میں ڈھل جاتی ہیں ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  اہلسنت کی ایک ایک  حدیث کتنی  کثیر طرق کے ساتھ نقل ہوئی  ہے کہ صرف چار ہزار روایات  کے  طرق و  رواۃ اتنے زیادہ ہیں ،جس سے چار ہزار روایات  باسٹھ ہزار روایات میں تبدیل ہوگئی ہیں۔1

اہل تشیع کے اساسی مصادر کی مرویات

اہل تشیع کے اساسی مصادر بھی آٹھ ہیں ،جن میں چار کتب متقدمین اور چار کتب متاخرین کی ہیں ،معروف شیعہ عالم محمد صالح الحائری لکھتے ہیں :

و اما صحاح الامامیہ فھی ثمانیۃ ،اربعۃ  منھا للمحمدین الثلاثۃ الاوائل ،و ثلاثۃ بعدھا  للمحمدین الثلاثۃ  الاواخر ،و ثامنھا لمحمد حسین المعاصر النوری 2

ان آٹھ کتب میں متقدمین کی چار کتب یہ ہیں :

1۔ الکافی  ،ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی

2۔من لا یحضرہ الفقیہ ،ابن بابویہ القمی

3۔تہذیب الاحکام ،ابو جعفر الطوسی

4۔الاستبصار فیما اختلف  فیہ من الاخبار ،ابو جعفر الطوسی

جبکہ متاخرین کی مرتب کردہ چار کتب یہ ہیں :

1۔بحار الانوار ،محمد باقر مجلسی

2۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ ،محمد بن حسن حر عاملی

3۔الوافی ،محسن کاشانی

4۔مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،محمد حسین نوری الطبرسی

ان کتب کی روایات مکررات سمیت کچھ یوں ہیں :

کتب اربعہ متقدمہ:

1۔ الکافی   :16000

من لا یحضرہ الفقیہ :5963

تہذیب الاحکام :13590

الاستبصار :5511

مجموعہ روایات :41064

کتب اربعہ متاخرہ:

1۔بحار الانوار (شبکہ اہل المدینہ ):72000

2۔وسائل الشیعہ(موسسہ اہل  البیت لاحیاء التراث ) :35844

3۔الوافی (مکتبہ امیر المومنین  ، اصفہان )25703

4۔ مستدرک الوسائل (موسسہ اہل البیت ،بیروت )23129

مجموعہ روایات :156676

یوں آٹھ کتب کی مجموعی روایات مع مکررات: 41064+ 156676= 197740

اب ان میں کتب اربعہ متقدمہ کی کل روایات کو مکررات و مشترکات کے حذف کے ساتھ محسن کاشانی نے الوافی میں جمع کیا ،جس کی روایات 25703 ہیں ،اس طرح سے کتب اربعہ سے مکررات و مشترکات کو نکال کر کل روایات 25703 بنتی ہیں ،اب بحار الانوار اور وسائل الشیعہ  میں  کتب اربعہ کی  جملہ روایات کو اگر فرض کیا جائے ،تو  اہل تشیع کی احادیث بلا تکرار و مشترکات کچھ یوں بنتی ہیں :

کتب اربعہ کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات :25703

بحار الانوار کی روایات(کتب اربعہ کی روایات نکال کر ) :72000-25703=   46297

وسائل الشیعہ کی روایات (کتب اربعہ کی روایات نکال کر ):35844-25703= 10141

مستدرک الوسائل کی روایات:23129

مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکا ت:105270

(  یاد رہے ،مستدرک الوسائل   سے کتب اربعہ کی روایات منفی نہ ہونگی ،کیونکہ یہ  کتاب متقدمین کے جملہ ذخیرے سے الگ جو روایات بچی ہیں ،ان پر مشتمل ہے )

اس ساری تفصیل کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے :

اہل سنت کی آٹھ بنیادی کتب کی  مجموعی روایات مع مکررات و مشترکات :62129(باسٹھ ہزار ایک سو انتیس)

اہل تشیع کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات مع مکررات و مشترکات :197740(ایک لاکھ ستانوے ہزار سات سو چالیس )

اہل سنت کی آٹھ مصادر کی بنیادی کتب کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات :4000(چار ہزار )

اہل تشیع کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات :105270(ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو ستر)

تعداد ِمرویات کا عظیم فرق اور اس کے نتائج

اہل سنت و اہل تشیع کی بنیادی کتب میں موجود روایات کی تعداد میں اس عظیم الشان فرق  سے متعدد سوالات جنم لیتے ہیں :

1۔اہل سنت کا ذخیرہ مرویات  تکرار  کی بھٹی سے گزرا ہے ،چار ہزار روایات تعدد طرق و اسناد سے باسٹھ ہزار مرویات  کی شکل میں ہم تک پہنچا ہے ،اس طرح سے ہر روایت اوسطا پندرہ بار  سے زائد  مختلف کتب  میں مکرر آئی ہے ،جبکہ اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے میں تکرار تقریبا ناپید ہے ،کیونکہ ایک لاکھ ستانوے ہزار روایات  میں سے مکررات نکال کر بقیہ ایک لاکھ پانچ ہزار بچتی ہیں ،یوں  تکرار کا تناسب دو کو بھی نہیں پہنچتا ،اہل علم جانتے ہیں کہ تکرار و شواہد  روایت کی قوت و استنادی حیثیت میں  بنیادی عامل ہے ،خاص طور پر جب ایک روایت مختلف خطوں کے افراد و مصنفین ذکر کرتے ہیں ،تو اس سے  وضع و کذب کا عنصر تقریبا ختم ہوجاتا ہے ،یہی صورتحال اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں ہے ،جبکہ اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ جب تکرار و شواہد سے خالی ہے ،تو یقینا اس میں کذب و وضع کا احتمال قوی تر ہوجاتا ہے ۔

2۔اہل سنت کی چار ہزار روایات قبل از تدوین تحریرو تقریر کی صورت میں محفوظ رہا ،تحریری ثبوت ڈاکٹر مصطفی اعظمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ میں دی ہے ،جن میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات ِحدیث مرتب ہوئے ،جبکہ تقریری  ثبوت الرحلہ فی طلب الحدیث اور اسفار ِمحدثین کی کتب میں  مذکور ہے کہ  حجاز ،یمن ،بغداد ،بصرہ ،کوفہ اور شام کی علمی درسگاہوں میں یہ احادیث تعلیم و تعلم کی بھٹی سے گزریں ہیں ،  جب صرف  چار ہزار مرویات کی حفاظت کے لئے بڑے پیمانے پر جتن کئے گئے ،تو  یقینا ایک لاکھ سے زائد روایات کو محفوظ کرنے کے لئے اس سے بڑی کاوشیں و کوششیں درکار ہونگی ،لیکن  باعث صد تعجب  ہے کہ اہل تشیع کی ایک لاکھ مرویات کی حفاظت کے لئے قبل از تدوین تحریری و تقریری کوششیں تقریبا  عنقا ہیں ،تحریری ثبوت کے لئے الاصول  الاربعمائہ کی اصطلاح مشہور کی گئی ،جس کے تاریخی استناد پر ہم بحث کر چکے ہیں ،کہ دو سو اٹھتر اصول کے مصنفین ہی نامعلوم ہیں ،چہ جائیکہ دیگر تفاصیل موجود ہوں ،جبکہ تقریری  طور پر  خود اہل تشیع  محققین  اور ائمہ کرام کی شہادتیں  ہم پیش کر چکے ہیں کہ تقیہ کی وجہ سے  ائمہ  معصومین نے اہل تشیع  کی مرویات کے لئے کھلم کھلا دروس  اور تعلیمی مجالس کا انعقاد نہیں کیا ،یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک لاکھ مرویات کی حفاظت کے لئے جس  بڑے پیمانے پر تحریری و تقریری کوششوں کی ضرورت تھی ،وہ  ناپید کیوں ہیں ؟اور  کوششوں کی عدم موجودگی سے  ایک لاکھ روایات کا یہ ذخیرہ  استناد و ثبوت کی کس  درجہ بندی میں آتا ہے ؟ غیر جانبدار محققین پر یہ بات مخفی نہیں ۔

3۔اہل تشیع کے مصادر ِحدیث میں اکثر روایات امام جعفر صادق اور ان کے والد امام باقر کی ہیں ،معروف شیعہ محقق ڈاکٹر محمد حسین الصغیر اپنی کتاب "الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت " میں لکھتے ہیں :

کتب الاحادیث الاربعۃ و مستدرکاتہا  و ما جری مجراہا  تعد المصدر الرئیس لحادیث اہل البیت عامۃ و احادیث الامام الصادق و ابیہ الامام باقر خاصۃ  3

یعنی کتب اربعہ اور اس کے مستدرکات اور دیگر کتب ِحدیث عمومی طو رپر اہل  بیت  کی احادیث کا مصدر ہیں، لیکن   اہل بیت میں سے خاص طور پر امام جعفر صادق اور ان کے والد امام باقر کی روایات کا ماخذ ہیں ۔

اگر ایک لاکھ روایات کا نصف حصہ بھی دونوں ائمہ کرام کا مان لیں (اگرچہ فی الواقع یہ تعداد دو تہائی تک پہنچتی ہے )تو پچاس ہزار روایات ہر دو حضرات کی بنیں گی ،یوں ہر ایک امام کی پچیس ہزار مرویات بنتی ہیں ،تو سوال یہ بنتا ہے کہ پچیس ہزار مرویات لینے کے لئے کتنے تلامذہ چاہیئے ،آپ علیہ السلام کی چار ہزار   احادیث کو روایت کرنے والے رواۃ صحابہ کی تعداد ایک ہزار یا پندرہ سو  تک پہنچتی ہے ،تو پچیس ہزار روایات کو لینے کے لئے کم از کم چھ ہزار تلامذہ کی ضرورت ہوگی ،لیکن امام باقر کے تلامذہ  استقصا کے بعد 482 تک پہنچتے ہیں ،یہ تعداد  معروف شیعہ عالم باقر قریشی نے اپنی ضخیم کتاب "حیاۃ الامام  الباقر "کی دوسری جلد(ص 189 تا 383) میں ذکر کی ہے ،جبکہ امام جعفر صادق کے تلامذہ کی تعداد  بقول ڈاکٹر محمد حسین الصغیر   ساڑھے تین ہزار تک پہنچتی ہے،4 یہاں بجا طور پر سوال بنتا ہے کہ چار سو بیاسی حضرات نے پچیس ہزار روایات کیسے  محفوظ کیں ؟جبکہ صرف چار ہزار مرویات کو ایک ہزار حضرات  جان توڑ کوششوں کے بعد ہی محفوظ  کر سکے ؟اس پر مستزاد یہ کہ آپ علیہ السلام نے پوری زندگی ابلاغ و تبلیغ پر مبنی تھی ،ہر لحظہ اور ہر  گھڑی آپ اللہ کا پیغام صحابہ کرام تک پہنچاتے رہے ،تئیس سالہ دور ِنبوت  کی  بھر پور تبلیغی زندگی کے بعد بھی  آپ کے ارشادات چار  ہزار بنتے ہیں ،تو امامین کریمین  نے کیسے پچاس ہزار ارشادات اپنی زندگی میں صادر کئے ؟اگر تئیس سال  کی انتھک محنت و ابلاغ کے بعد بھی اقوال چار ہزار بنتے ہیں ،تو پچیس ہزار اقوال کے لئے  کم از کم  ایک سو اڑتیس (138) سال (تئیس کو چھ گنا کر کے )درکار  ہیں ،جبکہ امام باقر  کی عمر 57 سال اور امام جعفر صادق کی عمر شریف 65 یا 68 سال تھی ؟ان میں بھی بلوغ اور حصول تعلیم کا کم ترین عرصہ بیس سال نکال کے امام باقر کی زندگی 37 اور امام جعفر صادق کی 48 سال بچتی ہے ۔کیا ایک سو اڑتیس سال میں بولے جاسکنے والے کلمات محض 37  یا 48 سال میں کہنا عقلا ممکن ہے ؟

4۔ اہل سنت کے ہاں چونکہ ذخیرہ روایات کم ہیں ،اس لئے بنیادی کتب میں موجود روایات میں مکررات، شواہد ،مشترکات اور ایک روایت کے مختلف طرق و اسانید پر بے تحاشا کام ہوا ہے ،مثلا بخاری شریف کی روایات میں کتنی روایات مکرر ہیں ؟بخاری شریف  میں کتنی ایسی روایات ہیں ،جو بقیہ ساتوں کتب میں نہیں ہیں ؟بخاری شریف کی روایت اگر دیگر کتب میں آئی ہے ،تو سند میں کتنے رواۃ کا اضافہ ہے؟متن میں کس قسم کی تبدیلیاں ہیں ؟اس روایت کے ہم معنی روایت اور کن کن کتب میں کس کس صحابی سے مروی ہے ؟الغرض ہر  کتاب پر اس طرح کا تفصیلی کام موجود ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس قسم کا مواد معدوم ہے ،کیونکہ دو لاکھ  کے قریب روایات  کے انبار میں اس طرح کی چھان بین بے حد مشکل کام ہے ،اہل تشیع کی سب سے صحیح و مقبول ترین کتاب الکافی پر بھی اس طرح کا کام نہیں ہوا ،چہ جائیکہ بقیہ کتب پر ہوا ہو ،البتہ الکافی کی  تازہ طبعات میں اس کی روایات کی دیگر کتب سے تخریج کی گئی ہے ،یہی وجہ ہے کہ کتب اربعہ میں مکرر  و مشترک روایات کتنی ہیں ،اس پر کافی تلاش و جستجو کے بعد بھی  کسی شیعہ محقق کی تحقیق نظر سے نہیں گزری ،معروف شیعہ محقق  شیخ عبد الرسول عبد الحسن الغفار  نے کافی کے تعارف پر ایک ضخیم کتاب "الکلینی و الکافی "لکھی ہے ،اس میں کافی کی روایات کی تعداد پر تو بحث ہے ،لیکن مکررات یا دیگر کتب میں مشترکات پر کوئی  تحقیق موجود نہیں ہے ،حالانکہ یہ کتاب کافی کے تعارف پر سب سے تفصیلی کتاب شمار ہوتی ہے ،اس مضمون میں  کتب اربعہ کی مکرر و مشترک روایات جاننے  کے لئے  کتب اربعہ کی روایات کو یکجا کرنے والے محسن کاشانی کی کتاب الوافی سے  اندازہ لگایا گیا، بعد کے  ادوار میں لکھنے جانی والی  ضخیم کتب جیسے بحار و وسائل الشیعہ وغیرہ   پر  بھی اس قسم کا کوئی مواد موجود نہیں ہے ۔

4۔زمانہ روایت

اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی مفاہیم و اصطلاحات کا ایک بڑا فرق زمانہ روایت کا فرق ہے ،زمانہ روایت سے مراد  وہ زمانہ ہے ،جس میں محدثین اپنی سند کے ساتھ احادیث و روایات جمع کرتے ہیں  ، زمانہ روایت کی لکھی گئی کتبِ احادیث عمومی طور پر اصلی  مصادر  و ماخذ شمار ہوتی ہیں ،بعد والے  انہی مصادر پر اعتماد کرتے ہیں  اور کسی حدیث کا حوالہ دیتے وقت عموما  انہی کتب کے مصنفین کی تخریج کا حوالہ دیتے ہیں ، اہلسنت کے حدیثی ذخیرے میں زمانہ روایت ایک قول کے مطابق تیسری صدی ہجری اور دوسرے قول کے مطابق پانچویں صدی ہجری تک ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمان الاعظمی رواۃ کی تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

إن هذا التقسيم الذي ذكره الحافظ ابن حجر من أنسب التقاسيم للرواة؛ حيث ينتهي عصر الرواية بآخر المئة الثالثة على رأي بعض العلم ، وهو عصر الأئمة الستة ومن معهم، كبقي ابن مخلد (ت 276هـ)، والإسماعلي القاضي (ت 282هـ)، والإسماعيلي أبو بكر محمد بن إسماعيل (ت 289هـ)، والبزار (ت292هـ)، ومحمد بن نصر المروزي (ت294هـ)، وغيرهم ، لذا يرى الذهبي عام ثلاثمائة حدّاً فاصلاًبين المتقدم والمتأخر.إلا أن عصر الرواية استمر إلى نهاية القرن الخامس؛ لأنه توجد روايات مخرجة في مصنفات البيهقي، والخطيب، وابن عبد البر، وابن حزم، وغيرهم من الحفاظ5

ترجمہ :حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے رواۃ کے طبقات کی جو تقسیم کی ہے ،وہ مناسب تقسیم ہے ،کیونکہ بعض اہل علم کے نزدیک تیسری صدی ہجری کے اختتا م پر زمانہ روایت ختم ہوجاتا ہے ،تیسری صدی ہجری  صحاح ستہ اور دیگر جیسے بقی بن مخلد ،اسماعیل قاضی ،محمد بن اسماعیل ،امام بزار ،امام مروزی وغیرہ کا زمانہ ہے ،اسی وجہ سے علامہ ذہبی نے متقدمین و متاخیرین کے درمیان حد فاصل تیسری صدی ہجری کو قرار دیا ہے۔ البتہ صحیح بات یہ ہے کہ زمانہ روایت پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک جاتا ہے ،کیونکہ  امام بیہقی ،خطیب بغدادی ،ابن عبد البر اور بن حزم جیسے حفاظ حدیث  کی تصانیف میں ایسی روایات ملتی ہیں ،جن کی تخریج انہی حضرات نے کی ہے ۔

اہل سنت میں پانچویں صدی ہجری  کے بعد حدیث کی مستقل  کتاب نہیں لکھی گئی ،بلکہ پانچویں صدی کے بعد پچھلی کتب کی شرح ،جمع ،تلخیص ،تخریج  و غیرہ پر کام ہوا ہے ۔

اہل  سنت کے برعکس اہل تشیع اس معاملے میں  الگ زاویہ نظر کے حامل ہیں ،اہل تشیع کے ہاں زمانہ روایت  کی کوئی تحدید نہیں ہے ،بلکہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کی مستقل کتب  زمانہ حال یعنی تیرہویں    اور چودہویں صدی  میں بھی لکھی گئیں ہیں ،چنانچہ مرزا حسین نوری طبرسی کی کتاب مستدرک الوسائل  اہل تشیع کے آٹھ مصادر اصلیہ میں سے  ایک اہم کتاب ہے اور اس کتاب کے مصنف   علامہ طبرسی 1320ھ میں وفات پاگئے ، یعنی  چودہویں صدی ہجری کے مصنف کی لکھی گئی کتاب بھی اصلی حدیثی مصادر میں شمار ہوتی ہے ،یا للعجب۔

اس کتاب کے بارے میں معروف شیعہ محقق آغا بزرگ طہرانی لکھتےہیں :

"وھو رابع المجامیع الثلاثۃ  الاخیرۃ المعتمدۃالمعول علیھا فی ھذہ الاعصاراعنی الوافی ،والوسائل والبحار"6

مستدرک الوسائل آخری زمانے میں لکھی گئی تین معتمد کتب(وافی ،وسائل الشیعہ ،بحار الانوار )  کے بعد چوتھی کتاب ہے ،جن پر اس  زمانےمیں  حدیث کے معاملے میں اعتماد کیا جاتا ہے ۔

مرزا حسین نوری طبرسی نے اس کتاب میں جتنی احادیث نقل کی ہیں ،کتاب کے خاتمے میں ان تمام  مصادر تک اپنی سند ذکر کی ہیں ،یوں یہ کتاب مرزا نوری طبرسی کی سند و تخریج  کے ساتھ حدیث کی مستقل کتاب ہے ،یہی وجہ ہے  کہ اسے شیعہ کے آٹھ مصادر ِحدیث میں شمار کیا جاتا ہے ۔

اب یہاں بجا طو رپر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہلسنت کے ہاں تیسری یا  پانچویں صدی ہجری میں زمانہ روایت و تخریج کا اختتام ہوتا ہے ،کیونکہ بعد ِزمانہ کے ساتھ سند کی تصحیح و اتصال کا احتمال کم سے کم ہوتا جاتا ہے ،بلکہ کثرت ِوسائط کی وجہ سے باجود اتصال ِ سند کے روایت میں ضعف کا عنصر قوی ہوجاتا ہے ،تو  اہل تشیع کے ہاں جو کتاب ائمہ معصومین کے  بارہ سو سال بعد لکھی گئی ہے ،اس کتاب میں موجود احادیث کی سند کی کیا وقعت ہوگی؟

نیز مولف کتاب علامہ  طبرسی نے کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں :

"وقد عثرنا  علی جملۃ وافرۃ من الاخبار ،لم یحوھا کتاب الوسائل ،و لم تکن مجتمعۃ فی مولفات الاواخر و الاوائل "7

ہم  احادیث کے ایسے بڑے حصے پر مطلع ہوچکے ہیں ،جن کا ذکر کتاب الوسائل میں نہیں ہے ،نہ ہی وہ روایات اولین و آخرین شیعہ مصنفین کی کتب میں اکٹھی  تھیں "

مصنف نے کتاب  کے خاتمے میں ان کتب میں سے    پینسٹھ اہم مصادر کا ذکر کیا ہے ،مولف کے بقول ان کتب تک رسائل پچھلے مصنفین کی نہ ہوسکی ہے ،میری دستر س میں  یہ کتب آچکی ہیں ،اس لئے میں نے  ان سے  روایات لی ہیں ،تو سوال یہ ہے کہ ایسی کتب جو اتنی نایاب اور پردہ خفا میں تھیں ، جن تک  ایک ہزار سالہ شیعہ محدثین کی رسائی نہ ہوسکی ، ان کتب  تک صدیوں بعد صرف  علامہ طبرسی کی رسائی ہوئی ،تو  صدیوں تک پردہ خفا میں رہنے والی   کتب کی استنادی ،ثبوتی ،خطی ،نسبت الی المصنف ،و حفاظت من الاخطاء و الاغلاط  وغیرہ  کا معیار  کیا ہوگا ؟اہل علم و اہل تحقیق پر اس کا جواب مخفی نہیں ۔ اتنی غیر معروف مصنفین یا کتب سے  جس کتاب میں احادیث نقل ہوئی ہیں ،وہ کتاب پھر بھی اصلی و معتمد مصادر میں شمار ہو ،جیسا کہ اوپر علامہ طہرانی کا قول گزر چکا ہے ،تو اس سے اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی استنادی  حیثیت اور صحت  و ضعف  کے معیارات کا پتا چلتا ہے ۔

حواشی

    1.  احصائیۃ حدیثۃ تبین العلاقۃ بین الکتب التسعۃ و حجم التوافق فی الاحآدیث ،عبد اللہ بن مبارک ،المجلس الالوکہ

http://www.alukah.net/sharia/0/79936/

    2.   الوحدۃ الاسلامیہ بحوالہ علم الحدیث بین اصالۃ اہل السنہ و انتحال الشیعہ ،ص107

    3.  الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت ،ص 386

    4.  ایضا ،ص 303

    5.  معجم مصطلحات الحدیث و لطائف الاسانید ،ضیاء الرحمان الاعظمی ،دار ابن حزم ،بیروت ،ص246

    6.  الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ،آغا بزرگ طہرانی ،دار الاضواء ،بیروت ،ج21،ص7

    7.  مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ،مرزا حسین نوری طبرسی ،موسسہ ال البیت لاحیاء التراث ،قم،ج1،ص60

 (جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث