بے اصل فقہی احادیث کی فنی حیثیت اور اصحاب الحدیث کا معتدل اسلوبِ نقد

مولانا محمد عبد اللہ شارق

(زیرِ ترتیب مقالہ ”احادیثِ ہدایہ ۔۔۔ فنی حیثیت اور غیر علمی رویہ“ سے ایک انتخاب)

محدثین کی تخریجات کیا ہیں؟

  کسی حدیث کی سند او رحوالہ تلاش کرنے کے عمل کو ”تخریج“ کہتے ہیں۔ اس عمل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آیا اس حدیث کی کوئی سند ہے بھی یا نہیں، اگر ہے تو وہ کس درجہ کی ہے؟ اس سے حدیث کی فنی پوزیشن واضح ہوجاتی ہے۔ محدثین نے مختلف ادوار میں کئی کتابوں پر مایہ ناز تخریجات لکھیں۔ یہ تخاریج دراصل وہ حواشی ہوتے تھے جو متعلقہ کتاب میں مذکور احادیث کی فنی حیثیت کو واضح کرتے اور مصنف سے کسی بے اصل حدیث کو نقل کرنے میں اگر تساہل ہوگیا تھا تو وہ بھی اس سے واضح ہوجاتا۔ یہ تخریجات محدثین نے خود محدثین کی کتابوں پر بھی لکھیں اور فقہ، تصوف وتفسیر کی کتابوں پر بھی لکھی گئیں۔ مثلا

(۱) ابن عبدالبر نے موطا امام مالک میں بغیر سند کے مذکور ایک سو کے قریب احادیث کی تخریج لکھی ۔

(۲) امام بغوی کی کتاب ”مصابیح السنۃ“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزی نے لکھی اور ”مشکوة المصابیح“ کے نام سے معروف ہے۔ ”مصابیح السنۃ“ احادیث کا گراں قدر مجموعہ تھا، لیکن اس میں تمام احادیث بغیر سند اور حوالہ کے مذکور تھیں۔ یہی مجموعہ حوالہ جات کے ساتھ اب ”مشکوة المصابیح“ کے نام سے مشہور ہے۔

(۳)علامہ زمخشری کی تفسیر ”الکشاف“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو امام جمال الدین ابو محمد یوسف بن محمد الزیلعی الحنفی نے لکھی۔

(۴) تصوف کے موضوع پر امام غزالی کی گراں مایہ کتاب ”احیاءالعلوم“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو حافظ ابو الفضل العراقی نے لکھی۔ اس کا نام ہے: ”المغنی عن حمل الاسفار“۔

(۵) فقہِ حنفی کی کتاب ”الہدایہ“ میں مذکور احادیث کی تخریج جو مذکور الصدر امام زیلعی نے ”نصب الرایۃ“ کے نام سے لکھی اور حافظ ابن حجر نے ”الدرایۃ“ کے نام سے اس کی تلخیص کی۔

(۶) فقہِ شافعی کی کتاب ”شرح الوجیز“ میں مذکور احادیث کی تخریج، جو سراج الدین ابن الملقن الشافعی نے ”البدر المنیر“ کے نام سے اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے ”التلخیص الحبیر“ کے نام سے لکھی۔

(۷)قاسم ابن قطلوبغا کی تخریج ”منیۃ الالمعی“ جو دراصل ہدایہ کی ان احادیث کی تخریج ہے جن کا ماخذ امام زیلعی کو نہ مل سکا اور ”نصب الرایۃ“ میں انہوں نے ان کے حوالہ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تاہم کچھ احادیث کے بارہ میں ابن قطلوبغا نے غالبا صرف اتنا بتایا ہے کہ ”الہدایہ“ سے پہلے یہ روایت کون کون سی کتبِ فقہ میں نظر آتی ہے۔ اگرچہ یہ علمِ حدیث کے اصولوں کی رو سے کوئی ”معیاری تخریج“ نہیں ہے، تاہم آئندہ ہونے والی گفتگو سے معلوم ہوگا کہ اس قدر تخریج بھی فائدہ سے خالی نہیں۔

  الکشاف، احیاءالعلوم اور الہدایہ جیسی کتابوں میں چونکہ تمام احادیث بغیر سند کے مذکور تھیں، اس لیے ان کی تخریج کرنے کی ضرورت پیش آئی۔  ان تخریجات کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کسی ایک علمی موضوع کی بہت سے احادیث یکجا ہوگئیں اور ان کی فنی حیثیت بھی واضح ہوگئی۔ یوں تو فقہ وتصوف کی اور بھی بہت سی کتابوں پر تخریجات لکھی گئی ہوں گی،لیکن فقہ پر ”نصب الرایۃ“ اور تصوف پر ”المغنی“ اس لیے زیادہ مشہور ہوئیں کہ ان میں فقہ وتصوف کی بہت سی متعلقہ احادیث پر جامع گفتگو ہوگئی تھی۔ چنانچہ ”نصب الرایۃ“ کو فقہی احادیث اور ”المغنی“ کو احادیثِ تصوف کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں فقہ وتصوف کی ان بہت سی احادیث پر جامع کلام ہوگئی ہے جو عموما فقہاءاور صوفیاءکے ہاں متداول ہیں اور مذاکرہ کا موضوع بنتی ہیں۔

  لطف کی بات یہ ہے کہ ”نصب الرایۃ“کے مصنف امام زیلعی اور ”المغنی“ کے مصنف حافظ عراقی دونوں ہم عصر ہیں، دونوں نے بیک وقت یہ کام کیا اور دونوں کو اس میں ایک دوسرے کی معاونت بھی حاصل رہی۔ (الدررالکامنۃ جلد۳، صفحہ۹۶) فقہ وتصوف کے موضوعات پر لکھی جانے والی بعد کی اکثر تخریجات میں انہی دو حضرات کی تخاریج سے مدد لی جاتی رہی اور یہ ان موضوعات پر ”نقشِ پائے دار“ اور ”نقشِ یادگار“ ثابت ہوئیں۔چنانچہ مثلا ابن الملقن اور ابن حجر باوجود خود ماہرِ فن ہونے کے اپنی مذکورہ تخریجات میں اپنے پیش رو زیلعی کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بے اصل احادیث اور محدثین کا معتدل اسلوبِ نقد

  تخریج کا عمل کرنے والے محدثین کا طریقہ یہ ہے کہ جب انہیں کسی حدیث کا حوالہ نہیں ملتا تو وہ اس پر نقد کے لیے عموما اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں: (۱) لم اجدہ (مجھے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملا)، (۲) لم یوجد (اس کا کوئی حوالہ نہیں مل سکا)، (۳) لا اعرفہ (میں اس کے ماخذ سے واقف نہیں ہوسکا)، (۴) لم اظفر لہ باسناد (اس کی کوئی سند مجھے نہیں مل سکی)، (۵) لا اصل لہ، (یہ حدیث بے اصل ہے)، وغیرہ وغیرہ یہ سب الفاظ متواضعانہ ہیں اور ان کا معنی کم وبیش یہ ہے کہ مجھے اس حدیث کا کوئی ثبوت نہیں ملا یا اس حدیث کی کوئی سند میرے علم میں نہیں۔ مفہوم اور حاصلِ معنی ان جملوں کا بھی یہی ہوتا ہے کہ سند سامنے آنے تک یہ حدیث غیر مستند سمجھی جائے، مگر صاف الفاظ کی بجائے ذومعنی انداز اختیار کرنا ان کی احتیاط کا غماز ہے، ورنہ کہنے کو تو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹ اور من گھڑت ہے۔

  صرف ”لا اصل لہ“ (یہ حدیث بے اصل ہے) کا ایک اسلوب ایسا ہے جس سے قطعیت کا رنگ سا جھلکتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ شاید محدث اس پہ دوٹوک فتوی عائد کررہا ہے،یہی وجہ ہے کہ بعض محدثین نے اس اسلوب پہ اعتراض بھی کیا ہے۔ علامہ کورانی امام سیوطی کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں:

”ومثل ہذا یقول فیہ الحفاظ المتاخرون: لا اصل لہ، والمتورعون یقتصرون علی قولہم: لم نقف علیہ“ (المسلک الوسط الدانی۔ صفحہ۲)

”یعنی” جن حدیثوں کی تخریج نہ ہوسکے، متاخرین ان کے بارہ میں ”بے اصل“ کا لفظ استعمال کردیتے ہیں، ورنہ محتاط محدثین ان کے بارہ میں صرف یہ کہنے پر اکتفاءکرتے ہیں کہ ہم ان کی سند سے آگاہ نہیں ہوسکے۔ (یعنی وہی ”لم اجدہ“ والا اسلوب ہی اختیار کرتے ہیں۔) “

  ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو متاخرین کہیں کہیں ایسی حدیثوں کے لیے ”لااصل لہ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیںتو وہ بھی در اصل اسی معنی میں ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی سند اور ”اصل“ میرے علم میں نہیں آسکی، نہ یہ کہ اس کی کوئی سند سرے سے ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جو محدثین ایسی حدیثوں کے لیے کہیں کہیں ”لا اصل لہ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، وہی محدثین ایسی حدیثوں کے لیے موقع بموقع ”لم اجدہ“ کے الفاظ بھی بکثرت استعمال کرتے نظر آتے ہیں، مثلا ابنِ حجر ہی کی تخریجات کو دیکھ لیجئے۔ ہاں، سیوطی کی عبارت سے البتہ اتنا سمجھا جاسکتا ہے کہ متاخرین کے عمومی طرزِ عمل کے برعکس، محتاط محدثین ”لا اصل لہ“ جیسے ان موہوم الفاظ سے کلی اجتناب کرتے ہیں جن سے غلط تاثر کا کوئی شائبہ بھی پیدا ہوتا ہواور ”لم اجدہ“ جیسے متواضعانہ الفاظ کی ہی وہ مکمل پابندی کرتے ہیں۔

مناظرانہ افراط وتفریط نے اس اعتدال کو کیا رنگ دیا؟

  ا ٓپ نے جانا کہ مذکورہ الفاظ کے ذریعہ کس طرح محدثین بے اصل حدیث کی پوزیشن بھی واضح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تواضع اور اعتدال کا دامن بھی نہیں چھوڑتے۔ اب جن حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح فقہ وتصوف کی کتابوں میں مذکور بے سند احادیث من وعن قبول کرلی جائیں، وہ کہتے ہیں کہ صاحبِ تخریج محدث نے مذکورہ الفاظ کے ذریعہ صرف اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے، حدیث کو غلط نہیں کہا۔ ان کے مطابق یہ عین ممکن ہے کہ اصل مصنف کے پاس اس کی سند موجود ہو اور حسنِ ظن کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہی گمان رکھا جائے۔ ہمارے نزدیک یہ بات ٹھیک ہے اور ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ بھی اسی حسنِ ظن کے متقاضی ہیں۔مگر اس کا یہ نتیجہ نکالنا ٹھیک نہیں کہ محض اس امکان اور گمان کے زور پر اب وہ حدیث قبول بھی کرلی جائے، کیونکہ اگر انہی امکانات اور حسن ظن کی بناءپر حدیث کو قبول کرنا ہے تو پھر علم الاسناد کی کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے؟ محدث کی طرف سے کسی حدیث کے بارہ میں لاعلمی کا اظہار‘ ایک ذومعنی اظہار ہے اس بات کا کہ یہ حدیث باوجود تلاش کے نہیں مل سکی، تلاش جاری رکھی جائے، مگر سند نہ ملنے تک اس کو غیر ثابت ہی سمجھا جائے۔

  آپ اپنے گرد وپیش کے عرف کو دیکھ لیجئے کہ اس اسلوب میں کہی جانے والی بات کا کیا مفہوم لیاجاتا ہے؟ مثلا آپ اپنے معالج سے پوچھتے ہیں کہ کیا چاول کھانے سے قبل پانی پینا نقصان دہ ہے، جس پر وہ کہتا ہے کہ میرے علم میں تو ایسی کوئی بات نہیں، ذرا سوچئے کہ اس بات کا کیا مطلب لیا جائے گا کہ اگرچہ میرے علم میں نہیں مگر تم اس کو نقصان دہ ہی سمجھو، ظاہر ہے کہ نہیں۔ مذکورہ حضرات نے ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کے اسلوب کو تو دیکھا ہے، اس کے مقصد، ما فی الضمیراور حاصلِ معنی کو نظر انداز کردیا ہے۔ امام سیوطی نے تصریح کی ہے کہ جب کوئی حافظ الحدیث کسی حدیث کی سند اور اس کے ماخذ کے بارہ میں لاعلمی کا اظہار کردے تو اس سے مقصود اس حدیث کی نفی کرنا ہوتا ہے کہ یہ لائقِ استناد نہیں ۔ (تدریب الراوی۔ صفحہ۲۶۳)اگر اس لاعلمی کے اظہار کا مطلب یہ ہے کہ تم اس حدیث کو اصل میں ثابت ہی سمجھو، خواہ اس کی سند مجھے نہیں ملی تو پھر تخریج کے لیے اس کی ساری محنت ہی لغو ہوجاتی ہے کہ جب حدیث بغیر سند کے علم میں آئے ہی مستند تھی تو اس کی سند تلاش کرنا اور تخریجات لکھنا ایک بے سود کام ہوجاتا ہے۔

  دوسری طرف وہ اینٹی احناف مصنف ہیں جنہوں نے ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کے حاصلِ معنی پر سارا زور صرف کیا اور ان کے اسلوب کو نظر انداز کردیا۔ چنانچہ انہوں نے پہلے تو ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کو ”موضوع“ کے ہم معنی وہم پلہ قرار دیا اور پھر ”موضوع“ کا معنی یہ متعین کیا کہ یہ سو فی صد جھوٹ ہے۔ اس لیے جس حدیث کے بارہ میں کوئی محدث ”لم اجدہ“ جیسا لفظ کہہ دے، وہ حدیث ان مصنفین کی نظر میں سو فی صد جھوٹ اور من گھڑت ہے، بلکہ ان کے نزدیک اس کے بارہ میں اس سے زیادہ یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ اس حدیث کو خود نقل کرنے والے مصنف نے خود ایجاد کیا ہے، والعیاذ باللہ۔ محدثین ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کس تواضع سے استعمال کرتے ہیں، اس کے لیے ”مشکاۃ المصابیح“ کا ایک اقتباس سنئے۔ مشکاة المصابیح کے مصنف نے ”مصابیح السنۃ“ کی تمام احادیث کی مقدور بھر تخریج کی، مگر بعض حدیثوں کی تخریج وہ نہ کرپائے، ایسی حدیثوں کے بارہ میں وہ کہتے ہیں:

”وقلیلا ما تجد اقول: ما وجدت ہذہ الروایة فی کتب الاصول او وجدت خلافہا فیہا فاذا وقفت علیہ فانسب القصور الی لقلة الدرایة ، لا الی جناب الشیخ“ (مشکاة المصابیح۔ صفحہ۱۱)

یعنی ”جب تم دیکھو کہ میں کسی حدیث کے بارہ میں لاعلمی کا اظہار کردوں کہ یہ حدیث بنیادی کتابوں میں مجھے نہیں ملی تو اس کو میرا قصور سمجھو، جنابِ شیخ کا نہیں۔“

  ”لم اجدہ“ اور اس جیسے دوسرے الفاظ کے مفہوم اور اسلوب کو بیک وقت ملحوظ رکھنے سے ہی اس کا صحیح اطلاق سمجھ میں آسکتا ہے۔ اصل میں یہ اطلاق اور اس میں کارفرما اسلوب ومفہوم معمولی شعور سے بھی سمجھ میں آسکتا ہے، مگر طرفین کے افراط وتفریط نے اس کے اصل اطلاق کو دھندلادیا ہے۔

کیا موضوع کا قطعی طور پر جھوٹ ہونا ضروری ہے؟

  ”لم اجدہ“ جیسے اطلاقات کواگر” موضوع“ کے اطلاق کے ہم پلہ بھی فرض کرلیا جائے تو ابنِ حجرنے تصریح فرمائی ہے کہ خود جو حدیث اصطلاحِ حدیث کی رو سے ”موضوع“ ہوتی ہے، اس کا سو فی صد جھوٹ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ہم اس بات کو تھوڑا وضاحت سے عرض کرتے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ جس حدیث کی سند میں کوئی ایسا راوی ہو جس کے بارہ میں احادیث کے اندر جھوٹ بولنا ثابت ہے تو ایسی حدیث اصطلاحا”موضوع“ کہلاتی ہے اور جس حدیث میں کوئی ایسا راوی ہو جس کے بارہ میں حدیثِ رسول کے اندر تو نہیں، البتہ عمومی معاملات میں جھوٹ بولنا ثابت ہے، تو ایسی حدیث ”متروک“ کہلاتی ہے۔ غور کیجئے ! ”موضوع“ اور ”متروک“ دونوں میں جو نقص آرہا ہے‘ وہ محض اس وجہ سے ہے کہ ان کا راوی جھوٹا اور غیر مستند ہے، اب چونکہ غیر مستند آدمی کی بات بھی غیر مستند ہوتی ہے‘ اس لیے حدیث موضوع اور متروک بھی غیر مستند ہیں‘ مگر یقین سے یہ دعوی کرنا کہ ہر ہر موضوع حدیث قطعی طور پر جھوٹ ہے، یہ ممکن نہیں کیونکہ غیر مستند آدمی کی بات غیر مستند ضرور ہوتی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کی ہر بات سو فی صد جھوٹ پہ مبنی بھی ہے اور وہ کبھی سچ بولتا ہی نہیں۔ ہم اسے ناقابلِ اعتماد تو کہہ سکتے ہیں ‘ سو فی صد جھوٹ نہیں کیونکہ جھوٹا آدمی بھی کبھی کبھی سچ اور صحیح بات کہہ دیتا ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے زیرِ غور حدیث میں سچ ہی بیان کیاہو۔اگر محدثین اسے من گھڑت او رجھوٹ کہتے ہیں تو وہ بھی محض غالبِ ظن کی حدتک ہوتا ہے۔چنانچہ ابنِ حجر اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”والحکم علیہ بالوضع انما ہو بطریق الظن الغالب لا بالقطع ‘ اذ قد یصدق الکذوب“ (نزہۃ النظر۔ صفحہ۸۴)

یعنی ”موضوع حدیث کوموضوع اورمن گھڑت کہنے کا معاملہ صرف ظن غالب کی حد تک ہے‘ قطعی اور یقینی طور پر نہیں‘ کیونکہ کبھی کبھی جھوٹا آدمی بھی سچ کہہ دیتا ہے۔“

تاہم چندمستثنیات کا معاملہ اور ہے کہ ان میں بعض اضافی قرائن ان کے سوفیصد جھوٹ ہونے پر دلالت کر رہے ہوتے ہیں۔

  شاید یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر اور ان کے استاد حافظ عراقی اس وقت تک کسی حدیث کو ”موضوع“ نہیں کہتے جب تک کہ (اضافی قرائن کی رشنی میں) اس کا واقعتا موضوع ومن گھڑت ہونا نصف النہار کی طرح واضح نہ ہوجائے اور ایسی احادیث کو اکثر اوقات صرف ضعیف کہنے پر اکتفاءکرتے ہیں جن کی سند میں کوئی کذاب ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ حدیث اصطلاحا ”موضوع“ کہلائی جاسکتی ہے۔ شیخ عبد الفتاح ابو غدہ سمیت بعض حضرات کی نگاہ چونکہ ابنِ حجر اور عراقی کی احتیاط کے اس پسِ منظر کی طرف نہیں جاسکی، اس لیے انہیں ابنِ حجر اور حافظ عراقی کی یہ عادت قابلِ اشکال محسوس ہوئی ہے (الاجوبۃ الفاضلۃ، مولانا عبد الحی لکھنوی فرنگی محلی، تعلیق: شیخ عبد الفتاح ابو غدہ، صفحہ ۱۲۵، ۱۲۶)، مگر راقم کی رائے میں ابن حجر اور حافظ عراقی کی یہ عادت قابلِ اشکال نہیں، قابلِ تقلید ہے۔

  وجہ یہ کہ جس طرح کسی بات کو آنحضور کی طرف منسوب کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے، یوں ہی کسی حدیث کی نسبت آنحضور سے بایقین قطع کرنے میں بھی احتیاط درکار ہے اور سند نہ ہونے کی وجہ سے کسی حدیث کا مشتبہ، ناقابلِ قبول اور غیر مستند ہوناایک بات ہے، جبکہ قطعی طور پر آنحضور کا قول نہ ہونا چیزے دیگر۔ بہت سے لوگ جو ”موضوع“ کی اصطلاحی تعریف سے ناواقف ہوتے ہیں اور وہ ”موضوع“ کے لغوی معنی کو دیکھتے ہوئے اس کا مطلب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ حدیث قطعی طور پر جھوٹ اور من گھڑت ہے۔

زیلعی وابن الملقن کی خاص اصطلاح

  امام زیلعی اور ابن الملقن دو محدث ایسے ہیں جو اپنی تخریجات میں بے اصل احادیث کے لیے ”لم اجدہ“ وغیرہ کی بجائے ”غریب“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور یہ ان کا خاص اسلوب ہے۔ اصل میں یہ اسلوب زیلعی کا ہے اور لگتا ہے کہ ابن الملقن نے انہی کی پیروی کرتے ہوئے یہ اسلوب اختیار کیا۔ ”غریب“ کا لغوی معنی ہے: ”انجان“، ”اجنبی“۔ ایسی حدیث جو محدثین کی کتابوں میں اور ان کی روایات میں نہ ملے، یہ دو حضرات اس کو غریب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ جانی پہچانی، معلوم اورمستند احادیث میں سے نہیں۔ دیگر محدثین کے ہاں بھی غریب کا لفظ استعمال ہوتا ہے مگر وہ اس معنی میں نہیں ہوتا۔ اصولِ حدیث میں ”غریب حدیث“ کی اصطلاح اس حدیث کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کو ہر دور میں نقل کرنے والے ایک آدھ لوگ ضرور موجود رہے ہوں، محدثین کے ہاں عام طور پر ”غریب“ کی اصطلاح انہی معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔اس معنی کی رو سے لازم ہے کہ غریب حدیث بے اصل نہ ہو، بلکہ اس کی ایک مکمل سند موجود ہو اور وہ کبھی ضعیف، کبھی حسن اور کبھی صحیح بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی سند ضرور موجود ہوگی، خواہ اس کے راوی ہر دور میں ایک ایک رہے ہوں اور ایک سے زیادہ نہ ہوں۔ جبکہ زیلعی اور ابن الملقن غریب کی اصطلاح اس حدیث کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی سرے سے کوئی سند موجود نہ ہو اور نہ ہی کتبِ حدیث میں وہ روایت ملے، بلکہ وہ بے اصل ہو۔

  چونکہ معروف تعریف کی رو سے ”غریب“ وہ حدیث کہلاتی ہے جس کی ایک مکمل سند بہرحال موجود ہو، اس لیے بعض حنفی علماءکو یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ زیلعی جہاں احادیثِ ہدایہ کے لیے غریب کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ان کی مراد بھی یہی ہوتی ہے کہ اس کی ایک مکمل سند موجود ہے اور یہ بے اصل نہیں، تاہم یہ بات درست نہیں۔ قاسم بن قطلوبغا نے ”منیۃ الالمعی“ (صفحہ۹، ۰۱) میں اور دیگر دسیوں علماءنے تصریح کی ہے کہ زیلعی اور ابن الملقن ”غریب“ کی اصطلاح کو ”بے اصل“ کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اس سے ان کی مراد معروف معنی بالکل نہیں ہوتا، زیلعی اور ابن الملقن جہاں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، وہاں پر سیاق وسباق کو دیکھ کر بھی بآسانی یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی مراد اس لفظ سے بے اصل ہی ہے، نہ کہ کچھ اور، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ زیلعی ”نصب الرایۃ“ کے اندر جہاں ”غریب“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، نصب الرایۃ کے تلخیص نگار حافظ ابنِ حجر عسقلانی اس حدیث کے لیے کئی جگہ ”لم اجدہ“ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

  مقصود اس گفتگو سے یہ واضح کرنا ہے کہ بے اصل حدیث کے لیے”لم اجدہ“ جیسے الفاظ کی بجائے، بعض محدثین کا ”غریب“ کا لفظ استعمال کرنا بھی باقی الفاظ کی طرح ان کی تواضع او راحتیاط کا مظہر ہے کہ وہ اس کو نامعلوم اور انجانی کہتے ہیں، جھوٹ، بہتان اور من گھڑت نہیں، تاہم دوسری طرف ڈھیلے ڈھالے انداز میں یہ لفظ اس حدیث کی استنادی حیثیت کو بھی واضح کردیتا ہے کہ بے سند، بے ثبوت اور انجان ہونے کی وجہ سے یہ قابلِ استدلال نہیں، جب تک کہ اس کی تخریج نہ ہوجائے۔

بے اصل فقہی احادیث کی فنی حیثیت

  ہدایہ کی بے اصل احادیث کے حوالہ سے برصغیر کے بعض مصنفین نے مناظرانہ اسلوب میں جو لے دے کی ہے، خدا جانے انہیں اس کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی کیونکہ استاذانِ فن ”اصول الحدیث“ آج سے صدیوں قبل اپنی کتابوں میں تصریحا واضح کرچکے ہیں کہ کتبِ فقہ میں مذکور بے اصل احادیث کی فنی حیثیت کیا ہے اور ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہئے، مثلا ابن الصلاح کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:

”قلت: وقول المصنفین من الفقہاءوغیرہم: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کذا وکذا ونحو ذلک کلہ من قبیل المعضل“ (صفحہ۲۸)

یعنی ”فقہاءکا اپنی تصانیف میں کسی حدیث کو بغیر سند کے نقل کرنا اور اسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا بھی معضل ہی کے قبیل سے ہے۔“

  ”معضل“ ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے، اس کو نہ تو موضوع کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ ”موضوع“ کے ہم پلہ ہے، بلکہ غیر مستند اور ضعیف ہونے کے باوجود یہ بہر حال ”موضوع“ سے بہتر درجہ کی حدیث ہے۔ ”معضل“ کی اصل تعریف یہ ہے: ”وہ حدیث جس کی سند میں دو یا دو سے زیادہ راوی لگاتار غائب ہوں۔“ (نزہۃ النظر۔ صفحہ۷۸) چونکہ اب ایسی احادیث جن میں مصنفینِ فقہ اپنے اوپر کسی بھی راوی کا ذکر نہیں کرتے یا بالفاظِ دیگر کسی حدیث کو بلا سند نقل کرتے ہیں، ان پر بھی یہ تعریف صادق آتی ہے، اس لیے انہیں بھی محدثین ”معضل“ کہتے ہیں۔ امام مالک کی موطا میں ایسی احادیث موجود ہیں جو بلا سند ہیں یا نامکمل سند کے ساتھ نقل کی گئی ہیں جنہیں معضلات، مراسیل یا بلاغاتِ مالک کہا جاتا ہے، ان کا حکم بھی معضل والا ہے۔ اسی طرح امام بخاری کی ”الجامع الصحیح“ میں بھی کئی بلا سند احادیث موجود ہیں جنہیں ”تعلیقاتِ بخاری“ کہا جاتا ہے۔ ابن الصلاح نے ان کو بھی معضل کی بحث میں شامل کیا ہے، البتہ ان کے نزدیک ان کا حکم معضل والا نہیں، یعنی یہ ضعیف نہیں بلکہ بوجوہ صحیح ہیں۔ (مقدمہ ابن الصلاح۔ صفحہ ۳۱)

  واضح رہے کہ ابن کثیر نے ”الباعث الحثیث“ (صفحہ۴۳) میں اور امام سیوطی نے ”تدریب الراوی“ (صفحہ۱۸۷) میں بھی فقہاءکی نقل کردہ بے اصل احادیث کے بارہ میں ابن الصلاح کا یہی قول بعینہ نقل کرکے اس کی توثیق کی ہے کہ یہ حکما معضل و ضعیف ہی ہیں اور بس۔ خدا جانے، استادانِ فن کی ان تصریحات کے بعد ہم جیسے طفلانِ مکتب کو ان احادیث کی فنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ذہنی مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟

بے اصل کا معنی ہمیشہ موضوع نہیں ہوتا

  اب ”بے اصل“ کا معنی خود محدثین کی تصریح کے مطابق چونکہ ”بلا سند“ ہے (تدریب الراوی۔ صفحہ۲۶۳) اور بے سند حدیث چونکہ کبھی کبھی معضل ہوتی ہے جیساکہ ابھی بیان ہوا ہے، اس لیے محدثین بعض اوقات معضل کو بھی ”بے اصل“ لکھ دیتے ہیں کیونکہ اس کی بھی ابتدائی راوی کے علاوہ بعض اوقات پوری سند غائب ہوتی ہے۔ عام طور پر چونکہ ”بے اصل“ کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے کہ یہ موضوع کی طرح غیر مستند ہے، اس لیے جب کبھی محدثین کسی معضل کو بے اصل لکھ دیں تو بعض لوگ اس کو موضوع ہی ثابت کرنے پر مصر ہوجاتے ہیں حالانکہ وہ حدیث فی الواقع صرف معضل ہوتی ہے اور محدث محض بے سند ہونے کی وجہ سے اسے بے اصل لکھ رہا ہوتا ہے، جبکہ بعض حضرات کو خود اس محدث کا قول ہی قابلِ اعتراض محسوس ہوتا ہے جو ایک ضعیف اور معضل حدیث کو ”بے اصل“ لکھ کر گویا اسے موضوع کہہ رہا ہے، حالانکہ بے اصل کا مطلب صرف ”بے سند“ اور غیر مستند ہے، ضروری نہیں کہ وہ موضوع یا موضوع کے ہم وزن بھی ہو۔

  چنانچہ اس کی ایک مثال موطا امام مالک کی وہ معضل حدیث (رقم۳۳۱) ہے جس کے بارہ میں ابنِ حجر نے ”لا اصل لہ“ (بے اصل) کا لفظ لکھا (فتح الباری۔ جلد۳، صفحہ۱۳۱) اور مولانا زکریا کاندھلوی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ ابنِ حجر ایک ضعیف حدیث کو ”موضوع“ کیوں لکھ رہے ہیں؟ (اوجز المسالک، جلد۱، صفحہ۳۱۷) مذکورہ وضاحت کی روشنی میں واضح ہے کہ مولانا کاندھلوی کا یہ اعتراض درست نہیں اور ابنِ حجر کا اسے ”بے اصل“ کہنا معضل وضعیف ہی کے معنی میں تھا، نہ کہ موضوع کے معنی میں۔

حدیث صرف تدوینِ حدیث کے زمانہ کی معتبر ہے

  مذکورہ گفتگو پر یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ اگر آج کے دور میں کوئی آدمی بغیر سند کے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جو کتبِ حدیث میں مذکور نہیں ہے تو کیا اس کا حکم بھی وہی معضل والا ہوگا؟ جواب ہے کہ نہیں کیونکہ ضعیف، معضل، موضوع اور صحیح کے درجے تدوینِ حدیث کے دور میں بیان ہونے والی احادیث سے متعلق ہیں ، اُس دور کا کوئی آدمی اگر حدیث نقل کرے تو دیکھا جائے گا کہ اصولِ حدیث کی رو سے اِس کا کیا درجہ ہے؟تدوینِ حدیث کا یہ دور ابن المرابط کے بقول چوتھی صدی ہجری تک جاری رہا۔ (فتح المغیث۔ جلد۳، صفحہ۳۵۷) البتہ شیخ عبدالفتاح اپنے جلیل القدر استاد عبداللہ بن الصدیق الغماری سے نقل کرتے ہیں (جس کا خلاصہ ہے) کہ ”تدوینِ حدیث کا یہ سلسلہ پانچویں صدی ہجری کے درمیان تک جاری رہا، جوابو نعیم، ابنِ مندہ اور بیہقی کا زمانہ ہے۔ البتہ پانچویں صدی ہجری کے بعد صرف دو کتابیں ان کی نظر میں ایسی ہیں جن کو تدوینِ حدیث کے مجموعوں میں شمار کرنا چاہئے۔ ان میں ایک ابنِ عساکر کی ”تاریخِ دمشق“ ہے اور دوسری ضیاءمقدسی کی کتاب ”المختارة“ ہے۔ ان دو کتابوں میں سند کے ساتھ چند ایسی نئی روایات بھی نقل کی گئی ہیں جو حدیث کے سابقہ مجموعوں میں نظر نہیں آتیں۔اس کے بعد تدوینِ حدیث کا کام اپنے حتمی انجام کو پہنچا۔“ (حاشیة: الاجوبة الفاضلة، صفحہ۱۴۹، ۱۵٠) تو گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تدوینِ حدیث کا کام تکمیل پذیر ہونے تک کا دور تدوینِ حدیث کا دور ہے۔

  تدوینِ حدیث کا یہ دور مکمل ہوجانے کے بعد اب ضعیف، معضل اور صحیح کے درجے نہیں ہیں، بلکہ بے سند تو کجا، اگر اب سند کے ساتھ بھی کوئی آدمی کوئی ایسی حدیث بیان کرے جو تدوینِ حدیث کے دور کی کتابوں میں نہیں ہے تو اس کا بس ایک ہی حکم ہے کہ وہ غیر مستند، ناقابلِ استدلال اور ناقابلِ التفات ہے۔ ابن الصلاح کی عبارت کا مفہوم ہے:

”تدوینِ حدیث مکمل ہونے کے بعد چونکہ متاخرین میں راویوں کے احوال کو ضبط کرنے اور ان پر نقد وجرح کرنے کا کام پہلے جیسی شان اور ذمہ داری کے ساتھ باقی نہیں رہا، اس لیے اب تمام تر اعتماد تدوینِ شدہ کتابوں پر ہے، اگر کوئی آدمی سند کے ساتھ کوئی ایسی حدیث نقل کرے جو تدوین شدہ کتابوں میں نہیں ملتی تو باوجود سند کے اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔“ (مقدمہ ابن الصلاح۔ صفحہ۵۸)

ہدایہ کی بے اصل احادیث معضل ہیں یا موضوع؟

  الہدایہ کے مصنف علی بن ابی بکر المرغینانی چھٹی صدی ہجری کے آدمی ہیں اور یہ زمانہ تدوینِ حدیث ہی کا آخری زمانہ ہے۔ ۵۱۱ھ میں پیدا ہوکر انہوں نے ۵۹۳ھ میں وفات پائی۔ لہذا ابن الصلاح، ابنِ کثیر اور امام سیوطی کی مذکورہ تصریحات کے مطابق، اب ہدایہ (ودیگر کتبِ فقہ) میں مذکور بے اصل احادیث کی فنی حیثیت کا صحیح تناظر یہی بنتا ہے کہ وہ ”موضوع“ کے ہم پلہ نہیں، بلکہ معضل اور ضعیف ہیں اور محدثین جو ان کے بارہ میں بے اصل کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ بھی اسی معنی میں ہے، خصوصا جبکہ ان احادیث کا ذکر تیسری اور چوتھی صدی میں لکھی گئی کتبِ فقہ کے اندر بھی (خواہ بغیر سندکے) پایا جاتا ہو۔

  چنانچہ الہدایہ کی ایسی بہت سی احادیث کہ جن کی تخریج عام طور محدثین نہیں کر پائے، وہ امام محمد وغیرہ کی کتب میں (خواہ بغیر سند کے) موجود ہیں جو کہ الہدایہ سے بھی پہلے لکھی گئی ہیں اور امام محمد توخود راویءحدیث بھی ہیں۔ لہذا ایسی احادیث لامحالہ صرف ضعیف ہی ہوں گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے احادیثِ ہدایہ کے بارہ میں لکھے گئے اپنے تنقیدی نوٹ میں یہ تو کہا ہے کہ صاحبِ ہدایہ ضعیف احادیث سے استدلال کرتے ہیں، مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ موضوع احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں۔

ہدایہ کے جوشیلے معتقد اور شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ

  شیخِ محدث کی عبارت یہ ہے:

”در اذہانِ بعض مردم چناں آمدہ کہ مذہبِ امام شافعی موافقِ احادیث است وسلوک طریقہء اقتداء واتباع در مذہبِ ایشان بیشتر است.... وکتابِ ہدایہ کہ در دیار مشہور ومعتبر ترین کتابہا است نیز دریں وہم انداختہ ، چہ مصنفِ وی رحمہ اللہ در اکثر بنائِ کار بر دلیلِ معقول نہادہ و اگر حدیثی آوردہ نزدِ محدثین خالی از ضعفے نہ، غالبا اشتغالِ وقتِ آں استاد در علمِ حدیث کم تر بودہ است،لیکن شرح شیخ ابن الہمام جزاہ اللہ تعالی خیر الجزاءتلافئی آن نمودہ وتحقیقِ کار فرمودہ است“ (شرح سفر السعادة، شیخ عبد الحق محدث دہلوی۔صفحہ ۲۳)

”بعض ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ امام ابوحنیفہ کی نسبت امام شافعی کا مذہب حدیث وسنت سے زیادہ قریب ہے.... کتابِ ہدایہ جو فقہِ حنفی کی شہرہ آفاق اور معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اس نے بھی اس وہم میں ڈال دیا ہے (کہ شاید فقہِ حنفی کی نسبت، فقہِ شافعی حدیث سے زیادہ قریب ہے) کیونکہ اس کے مصنف رحمہ اللہ مسئلہ کو زیادہ تر عقلی دلیل کی بنیاد پر ثابت کرتے ہیں اور اگر کوئی حدیث لے بھی آتے ہیں تو وہ محدثین کے ہاں ضعف سے خالی نہیں ہوتی، غالباعلمِ حدیث سے ان کا تعلق کم رہا تھا، لیکن شیخ ابن الہمام کو اللہ جزائے خیر دے کہ ان کی شرح نے ہدایہ کی اس کمی کی تلافی کردی ہے اور تحقیقِ کار فرمادی ہے۔“

  شیخ محقق نے ہدایہ کے بارہ میں جو تاثر لکھا ہے کہ اس کے اسلوبِ دلیل کی وجہ سے بعض لوگ حنفیت کی نسبت شافعیت کو اتباعِ حدیث کے قریب سمجھنے لگ جاتے ہیں، وہ غلط نہیں اور راقم خود ایک عرصہ تک عملا اس تاثر سے مغلوب رہا۔ شیخِ محقق کے اس اقتباس میں برصغیر کے جوشیلے حنفیوں کے لیے بھی سیکھنے کو کافی کچھ ہے جو ہدایہ کے بارہ میں اعتدال پر مبنی کوئی تبصرہ سن کر بر افروختہ ہوجاتے ہیں اور ان کے نزدیک ہدایہ کی تعظیم کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدایہ کو ہر قسم کی انسانی کوتاہی سے معری قرار دے کر اس کی شان میں زمین وآسمان کے قلابے نہ ملائے جائیں اور قرآن کی طرح (خواہ مجازی مفہوم ہی میں سہی) اسے ایک معجزہ نہ قرار دے دیا جائے۔ والی اللہ المشتکی!

آخری بات

  ہمارے اس مقالہ کا مقصودِ اصلی ہدایہ کی بے اصل احادیث کو باوقعت ثابت کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کس طرح ہمارے اسلاف اعتدال کے دائرہ میں رہتے ہوئے علمی معاملات کا ضعف وسقم واضح کرلیتے تھے، جبکہ ہم لوگوں کے لیے یہ کام اعتدال کے دائرہ میں رہتے ہوئے کرنا مشکل وقریب از محال ہوچکا ہے۔ اگر کوئی حدیث ضعیف ہے تو اس کو ضعیف کہئے، اگر کوئی موضوع ہے تو اسے موضوع کہئے اور اگر کسی مصنف سے تساہل ہوا ہے تو اس کو تساہل کہئے، اگر حسنِ ظن کے نمبر اسے دیے جاسکتے ہیں تو اسے وہ دیجئے اور خدا را جو بات جس درجہ کی ہے، اسے اسی درجہ میں رکھتے ہوئے اسلاف کے علمی رویوں کی ترجمانی کیجئے۔ ہمارے اس مقالہ کی صدا یہ نہیں کہ بے اصل احادیث قابلِ استدلال ہیں، نہیں ہرگز نہیں! بلکہ یہ کہ ان احادیث کی پوزیشن کو علمی اسلوب میں واضح کیجئے اور مناظرانہ افراط وتفریط سے احتراز کرتے ہوئے خواہ مخواہ رائی کا پہاڑ نہ بنائیے۔

حدیث و سنت / علوم الحدیث