اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۶)

مولانا سمیع اللہ سعدی

نقد احادیث کا اصولی منہج

اخباری شیعہ کا نقطہ نظر سامنے آنے کے بعد نقدحدیث کے اصولی منہج پر ایک نظر ڈالتے ہیں،اہل تشیع سے جب اخباری شیعہ کے غیر علمی ،غیر منطقی اور محض اعتقاد پر مبنی غیر عقلی موقف کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو سنجیدہ اہل تشیع اصولی منہج کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر اخباری شیعہ نے حدیثی ذخیرے سے متعلق قطعیت کا قول اپنایا ہے،تو اصولیین نے کتب اربعہ سمیت جملہ حدیثی ذخیرے کو قواعد ِجرح و تعدیل پر پرکھنے کی روش اپنائی ہے، اور اس حوالے سے اپنی کتب رجال اور علم درایۃ کی کتب کا ذکر کرتے ہیں ،یوں اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کی طرح حدیث کو پرکھنے کا باقاعدہ فن پیش کرتے ہیں،لیکن اصولی منہج میں بھی بعض ایسے مہیب خلا موجود ہیں ،جن کی وجہ سے یہ منہج بعض جہات سے شیعہ ذخیرہ حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے بے فائدہ بن جاتا ہے۔ ہم ان میں سے صرف ایک بات کا ذکر کرنا چاہیں گے اور اس سے جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ،اس کا ذکر کرتے ہیں ،دیگر امور ایک مستقل بحث میں ذکر کریں گے ۔

سب سے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ حدیث کی تصحیح اور حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے(یعنی اصولی منہج میں ( اہل تشیع کے قدماء محدثین)جن میں خاص طو رپر کتب اربعہ کے مصنفین شامل ہیں ( اور متاخرین(ساتویں صدی ہجری کے علامہ حلی و ابن طاووس (کے منہج میں اصولی و بنیادی فرق ہے ،ہم پہلے اس فرق پر شیعہ محققین کی عبارات ذکر کرتے ہیں ،پھر دونوں مناہج کے درمیان اصولی فرق سے پیدا شدہ نتائج و سوالات کا ذکر کریں گے :

معروف شیعہ محقق ومحدث جعفر سبحانی متاخرین کے منہج کا متقدمین کے منہج سے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"المعروف انہ لم یکن من تلک المصطلحات اثر بین اصحابنا ،و انما حدثت فی اثناء القرن السابع ،وقد عرفت حقیقۃ الحال ،واللازم بیان ما ھو الدافع الی اصطناعھا ، فقد اشبع بہاء الدین العاملی الکلام فی ذلک فنحن ناتی بہ برمتہ ،یقول : ھذا لاصطلاح لم یک معروفا بین قدمائنا قدس اللہ ارواحہم کما ھو الظاہر لمن مارس کلامہم ،بل کان المتعارف بینہم اطلاق الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتمادھم علیہ ،او اقترن بما یوجب الوثوق بہ ،الرکون الیہ "1

ترجمہ :معروف یہ ہے کہ یہ اصطلاحات ہمارے متقدمین کے درمیان معروف نہ تھیں ،بلکہ ساتویں صدی ہجری میں ظہور پذیر ہوئیں ،اس کی حقیقت حال ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں ،اب ضروری یہ ہے کہ ان اسباب کا ذکر کیا جائے ،جس کی وجہ سے ان اصطلاحات کے وضع کی ضرورت پیش آئی ،تو بہاء الدین عاملی نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اصطلاح ہمارے قدماء کے درمیان معروف نہ تھی ، ہر وہ آدمی جو قدماء کی کتب سے ممارست رکھتا ہو ،اس پر یہ بات ظاہر ہے ،بلکہ ان کے درمیان ہر اس حدیث کو صحیح کہا جاتا تھا ،جس کی تائید میں ایسے اسباب ہوتے تھے ،جن پر ان علماء کا اعتماد ہوتا ،یا اس حدیث کے ساتھ ایسی مویدات مل جاتیں ،جن کی وجہ سے اس پر وثوق اور اس کی طرف میلان ہوجاتا۔

شیعہ عالم حسن زین الدین عاملی متاخرین کے اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"فان القدماء لا علم لھم بھذا الاصطلاح قطعا ۔۔ولا یکاد یعلم وجود ھذا لاصطلاح قبل زمان العلامہ"2

ترجمہ :قدماء کو متاخرین کی اصطلاح کا علم بالکل نہیں تھا ،نہ ہی علامہ (ابن حلی) کے زمانے سے پہلے اس اصطلاح کا وجود تھا۔

محمد جواد کاظم لکھتے ہیں:

اختلفت انظار المتاخرین للحدیث الصحیح عن القدماء "3

یعنی حدیث صحیح سے متعلق متاخرین کے نظریات قدماء سے مختلف ہیں ۔

قدما و متاخرین کے طریقہ تصحیح میں فرق

شیعہ کے بنیادی مصادر ِحدیث کے مولفین اور دیگر قدما محدثین نے حدیث کی تصحیح کا جو طریقہ اختیار کیا تھا ،وہ قریب قریب اخباریوں کی طرح تھا ،کیونکہ اس میں اسناد ،رواۃ ،اتصال و ارسال ، قواعد ِجرح و تعدیل وغیرہ کی بجائے متن ِحدیث پر کسی بھی وجہ سے دلی اطمینان و میلان کو معیار بنایا جاتا تھا ،جبکہ متاخرین یعنی ابن طاووس و علامہ حلی نے احادیث کو پرکھنے کا جو منہج اپنایا تھا ،اس میں رجال و اسناد کی بحث مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔  معروف محقق علامہ کلباسی لکھتے ہیں :

"ان الصحیح عند القدماء لیس المراد بہ ما یرویہ الامامی بل معناہ ما ثبت بالاصل الماخوذ منہ بای کان من انواع الثبوت "4

ترجمہ : قدماء کے نزدیک صحیح اس صرف روایت کا نام نہیں ہے ،جو امامی شیعہ سے مروی ہو ،بلکہ صحیح کا مطلب یہ ہے کہ جو کسی ا صل ماخوذ منہ میں کسی بھی طریقہ ثبوت سے ثابت ہو ۔

عبد النبی جزائری لکھتے ہیں :

اما القدماء من اصحابنا فالذی یظہر من عباراتھم و تصفح کلامھم انھم یریدون بالصحیح غالبا المعمول بہ و المفتی بمضمونہ او احتف بالقرائن و غیر ذلک مما یوجب العمل "5

ہمارے قدماء اصحاب کی عبارات اور ان کی کلام کی چھان بین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک صحیح سے مراد وہ روایت ہے ،جس پر عمل ہو ،اس کے مضمون پر فتوی دیا گیا ہو یا وہ ایسے قرائن سے مزین ہو ،جو اس پر عمل کو واجب کرے۔

معروف شیعہ محقق عبد اللہ مامقانی لکھتے ہیں:

"ان الصحیح و الضعیف کان مستعملا فی السنۃ القدما ء ایضا،غایۃ ما ھناک انھم کانوا یطلقون الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتمادھم علیہ "6

یقینا صحیح اور ضعیف کا لفظ قدماء میں بھی مستعمل تھا ،زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ قدما ء صحیح حدیث کا اطلا ق ہر اس روایت پر کرتے تھے ،جو ایسے قرائن سے موید ہو ،جن کی وجہ سے وہ ان کے نزدیک معتمد بن جاتا۔

معروف شیعہ ویب سائٹ "مرکز الابحاث العقائدیہ"پر قدماء و متاخرین کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

"أن للتضعيف والتصحيح معنيان عند الإماميۃ ـ أحدھما عند المتقدمين ـ ويمثلھم الشيخ الكليني ومن في طبقتہ ـ والثاني عند المتأخرين ـ ويمثلھم العلامۃ الحلي ومن في طبقتہ ـ ومعنی الصحيح عند المتقدمين ھو القبول بالحديث والعمل بہ لاحتفائہ بقرائن تدل علی صحۃ صدورہ، وھذا عندھم بغض النظر عن وثاقۃ رواۃ السند.أما المتأخرون فھم لا يرون الحديث صحيحاً إلا إذا ثبت عندھم وثاقۃ رواتہ بالخصوص7

امامیہ کے ہاں تصحیح و تضعیف کے دو مطلب ہیں ،پہلا مطلب متقدمین ،جیسے شیخ کلینی اور ان کے ہم عصر و ہم طبقہ محدثین کے ہاں ہے ،دوسرا مفہوم متاخرین یعنی علامہ حلی اور ان کے ہم طبق محدثین کے ہاں ہے ،متقدمین کے نزدیک صحیح کا مطلب حدیث کو قبول کرنا اور اس پر ایسے قرائن کی وجہ سے عمل کرنا ،جو اس کے صدور کی صحت پر دلالت کرے ،اور متقدمین رواۃ کی توثیق سے صرف نظر کرتے تھے ،جبکہ متاخرین رواۃ کی توثیق کے بغیر کسی روایت کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسے قرائن ہیں ،جن کی بنیاد پر قدماء محدثین کسی حدیث کو صحیح قرار دیتے تھے ،تو معروف شیعہ محقق محمد بن حسین بہائی نے اپنی کتاب "مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین " میں درجہ ذیل قرائن لکھے ہیں:

1۔حدیث کا اصول اربعمائۃ میں پایا جانا (اصول اربعمائۃ کی حقیقت و استنادی حیثیت و ثبوت پر ہم ماقبل میں مفصلا بحث کرچکے ہیں )۔

2۔حدیث کا ایک یا ایک سے زیادہ اصول میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہونا (یہ وجہ مستقل وجہ نہیں ،بلکہ پچھلی وجہ ہی کی توسیع ہے۔فافہم(

3۔حدیث کا ان حضرات کی کتب میں پایا جانا ،جن کی تصدیق پر اجماع ہے ،جیسے زرارۃ،محمد بن مسلم فضل بن یسار وغیرہ

4۔حدیث کا ان کتب میں سے کسی کتاب میں پایا جانا ،جو ائمہ معصومین پر پیش کئے جاچکے ہیں ،جیسے عبید اللہ حلبی کی کتاب ،جو امام صادق پر پیش کی جاچکی ہے ،یونس بن عبد الرحمان کی کتاب ،جو امام عسکری پر پیش کی جاچکی ہے ۔

5۔حدیث کا ان کتب میں پایا جانا ،جو سلف میں معروف تھیں خواہ اس کے مصنفین امامی شیعہ ہوں جیسے حریز بن عبد اللہ اور علی بن مھزیار کی کتب یا ان کے مصنفین امامی شیعہ نہ ہوں ،جیسےحفص بن غیا ث اور حسین بن عبد اللہ کی کتب 8

اسی قسم کے قرائن معروف شیعہ محقق محمد جواد کاظم نے اپنی کتاب"المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ "میں ذکر کی ہیں ۔9

ان قرائن سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کے متقدمین اور بنیادی حدیثی ذخیرے (الکافی،من لا یحضرہ الفقیہ، الاستبصار اور تہذیب الاحکام ) کے مصنفین کے نزدیک حدیث کی صحت میں رجال ،اسناد ،قواعد ِجرح و تعدیل، اتصال و ارسال کی بجائے اصل بنیاد حدیث کا اصول اربعمائۃ یا ان سے پہلے علمائے شیعہ کی لکھی گئی کسی بھی کتاب میں پایا جا نا،اب ان کتب سے ائمہ معصومین تک حدیث میں کتنے رواۃ کا واسطہ آتا ہے ؟واسطے متصل ہیں یا منقطع ؟ یہ رواۃ قواعد جرح و تعدیل کے اعتبار سے کس معیار پر تھے ؟ان کتب کے مخطوطات کتب اربعہ کے مصنفین تک کیسے پہنچے ؟ ان سب علمی مباحث سے اہل تشیع کے قدماء نے صرف ِنظر کرتے ہوئے ایک ہی بنیاد کو معیار مانا کہ چونکہ یہ حدیث معتبر اصول و کتب میں منقول ہے ،اس لئے یہ حدیث کی صحت کے لئے مضبوط قرینہ ہے،یوں ان احادیث کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے مصادر میں انہیں جگہ دی ۔

اب سوال یہ ہے کہ قدماء کے نزدیک جو احادیث صحیح تھیں اور انہوں نے ان احادیث کو اپنی کتب خاص طور پر کتب اربعہ میں جگہ دی ،ان احادیث کا سندو رجال کے اعتبار سے کیا مقام ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں قدماء کے منہج کے مطابق صحیح روایات کا متاخرین کے منہج کے مطابق صحت کا کیا مقام ہے ؟ تو اہل تشیع کے بقول اگر قدماء کی نظر میں صحیح احادیث کو متاخرین کی اصطلاح کے مطابق رجال و اسناد(یعنی متاخرین کے علم الدرایہ ) کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو کتب اربعہ کی اکثر احادیث ضعیف ثابت ہونگی۔

شیخ جعفر سبحانی لکھتے ہیں :

"وقد جری رئیس المحدثین محمد بن بابویہ قدس سرہ علی متعارف المتقدمین فی اطلاق الصحیح علی ما یرکن الیہ و یعتمد فحکم بصحۃ جمیع ما اوردہ من الاحادیث فی کتاب من لایحضرہ الفقیہ ،و ذکر انہ استخرجھا من کتب مشہورۃ علیھا المعول و الیھا المرجع ،وکثیر من تلک الاحادیث بمعزل عن الاندراج فی الصحیح علی اصطلاح المتاخرین ،ومنخرط فی سلک الحسان و الموثقات بل الضعاف "10

رئیس المحدثین ابن بابویہ قمی نے متقدمین کےعرف کے مطابق انہی احادیث کو صحیح سمجھا ،جن کی طرف دلی میلان ہو اور وہ کسی بھی وجہ سے معتمد ہوں ،اس لئے اپنی کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں مذکور جملہ احادیث کو صحیح قرار دیا کہ انہوں نے یہ احادیث ان کتب سے لی ہیں ،جو معتمد و مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں ،لیکن من لا یحضرہ الفقیہ کی اکثر احادیث متاخرین کی اصطلاح کے مطابق صحیح کی درجہ بندی میں نہیں آتیں ، حسن موثق بلکہ ضعیف کی درجہ بندی میں آتی ہیں ۔

شیعہ محقق رضا ہمدانی شیعہ کتب اربعہ میں مذکور روایات کے رواۃ سے متعلق لکھتے ہیں :

"فلا یکاد توجد روایۃ یمکننا اثبات عدالۃ رواتھا علی التحقیق ۔۔۔۔۔و لاجل ما تقدمت الاشارۃ الیہ جرت سیرتی علی ترک الفحص عن حال الرجال ،والاکتفاء فی توصیف الروایۃ بالصحۃ کونھا موصوفۃ بھا فی السنۃ مشائخنا المتقدمین "11

ترجمہ :کوئی ایسی روایت بڑی مشکل سے ملے گی ،جس کے رواۃ کی عدالت تحقیقی طور پر ثابت ہو ۔۔۔اسی وجہ سے میرا طرز یہ ہے کہ رجال کے احوال سے متعلق چھان بین نہیں کرتا ،صرف مشائخ متقدمین کی زبان ان کو صحیح کہنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔

ماقبل میں ہم معروف شیعہ محدث حر عاملی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ علوم مصطلح الحدیث کے قواعد پر اگر کتب اربعہ کی روایات کو پرکھا جائے تو اکثر یا سب کی سب احادیث ضعیف ثابت ہونگی ۔

اسی وجہ سے اخباریوں نے متاخرین کے منہج کو "ہدم الدین "یعنی دین کی بنیادوں کو مٹا دینے اور گرادینے کے مترادف قرار دیا ،چنانچہ معروف اخباری شیعہ عالم محمد امین استرابادی لکھتے ہیں :

"و بالجملۃ، وقع تخريب الدين مرتين مرۃ يوم توفي النبي صلی اللہ عليہ وآلہ و مرۃ يوم أجريت القواعد الأصوليۃ –العامۃ- و الاصطلاحات التي ذكرتھا العامۃ في الكتب الأصوليۃ و في كتب درايۃ الحديث في أحكامنا و أحاديثنا"12

ترجمہ :خلاصہ یہ کہ دین کی تخریب دو موقعوں پر ہوئی ،ایک اس دن جب نبی پاک ﷺ کی وفات ہوئی (اور خلافت حضرت علی کی بجائے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی) دوسرا اس دن ،جب اہلسنت کی اصطلاحات اور ان کے قواعد اصولیہ کو ہمارے احکام و احادیث میں جاری کرنے کا عمل شروع ہوا۔

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جن اہل تشیع اہل علم نے متاخرین کے منہج کے مطابق الکافی کی صحیح و ضعیف احادیث کی تنقیح کی ہے ،تو الکافی کے دو ثلث ضعیف ثابت ہوئے ہیں ،معروف شیعہ عالم مرتضی عسکری اپنی کتاب "معالم المدرستین " میں لکھتے ہیں:

وان اقدم الكتب الأربعۃ زماناً، وأنبھھا ذكراً، وأكثرھا شھرۃ ھوكتاب الكافي للشيخ الكليني وقد ذكر المحدثون بمدرسۃ أھل البيت فيھا (9485) حديثاً ضعيفاً من مجموع (16121) حديثاً13

ترجمہ :کتب اربعہ میں زمانے کے اعتبار سے قدیم ترین کے کتاب ،زیادہ آہنگ کے ساتھ علمی حلقوں میں مذکور کتاب اور سب سے مشہور ترین کتاب الکافی ہے ،اور مدرسہ اہل بیت کے محدثین (شیعی محدثین (نے اس کتاب کی 16121 احادیث میں سے 9485 احادیث (یعنی دو ثلث ) کو ضعیف قرار دیا ہے۔

معاصر شیعہ محقق باقر بہبودی نے جب الکافی کی صحیح احادیث پر تحقیق کی تو ضعیف احادیث کی تعداد اس سے کہیں زیادہ نکلی ،چنانچہ مرتضی عسکری لکھتے ہیں:

" وقد ألف أحد الباحثين – وھو محمد باقر البھبودي - في عصرنا صحيح الكافي واعتبر من مجموع (16121) حديثاً من أحاديث الكافي (4428) صحيحاً، وترك (11693) حديثاً منھا لم يرھا حسب اجتھادہ صحيحۃ 14

’’ایک معاصر محقق محمد باقر بھبودی نے صحیح الکافی لکھی ہے ،اور انہوں نے 16121 احادیث میں سے صرف 4428 احادیث کو صحیح قرار دیا ،اور 11963 احادیث کو اپنے اجتہاد کے مطابق ضعیف قرار دیا۔

جب سب سے صحیح ،سب سے مشہور اور سب سے زیادہ مرجعیت کی حامل کتاب الکافی کے دو ثلث ضعیف احادیث پر مشتمل ہیں ،تو بقیہ کتب کا صحت و ضعف کے اعتبار سے کیا حال ہوگا ؟اہل علم پر مخفی نہیں ۔


حوالہ جات

    1. اصول الحدیث و احکامہ فی درایۃ الحدیث ،جعفر سبحانی ،ص 43

    2. زین الدین حسن عاملی ،منتقی الجمان،ج1،ص14،15

    3. المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،محمد جواد کاظم ،ص46

    4. الرسائل الرجالیہ ،محمد بن محمد کلباسی ،ج1،ص250،

    5. حاوی الاقوال ،عبد النبی جزائری ،ج1،ص100

    6. مقباس الھدایہ ،عبد اللہ مامقانی ،ج1،ص139

    7. http://www.aqaed.com/faq/3442

    8. مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین ، بہاء الدین محمد بن حسین عاملی ،مجمع البحوث الاسلامیہ ،مشہد ،ص26 تا 30

    9. المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،دار الرافدین ،بیروت ،ص 79 تا 84

    10.  ایضا:ص45

    11.  مصباح الفقیہ ،رضا ہمدانی ،ج1،ص12

    12.  الفوائد المدنیہ ،محمد امین استرابادی ،قم مقدسہ ،ص 368

    13.  معالم المدرستین ،مرتضی عسکری ،مرکز الطباعۃ والنشر للمجمع العالمی لاہل البیت ،ج3،ص343

    14.  ایضا :ج3،ص344

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث