اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ : ایک تقابلی مطالعہ (۷)

مولانا سمیع اللہ سعدی

نقدِ حدیث  کا  اصولی منہج، چند سوالات

 حدیث کو پرکھنے  کے لئے اہل تشیع کے اصولی منہج میں ایک مہیب خلا کا ذکر ہوچکا ہے کہ متقدمین اہل تشیع نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کا جو طرز اختیار کیا تھا ،جس میں رواۃ ،قواعد ِجرح و تعدیل ،سند کا اتصال و ارسال جیسے امور کی بجائے  اپنے اسلاف سے منقول ذخیرہ اصل  بنیاد تھا ،اور اسی منقول ذخیرے کو "صحیح "سمجھتے ہوئے اسے اپنی کتب میں نقل کیا ،(یہی طرز اہل تشیع کے اخباریوں کا تھا )جبکہ ساتویں صدی ہجری اور بعد کے اہل تشیع محدثین نے حدیث کی تصحیح و تضعیف  کے سلسلے میں اہل سنت کے طرز کی پیروی اختیار کرتے ہوئے  رواۃ اور ان کی جرح و تعدیل کو معیار قرار دیا ،لیکن اس جدید طرز پر   اہل تشیع کی کتب اربعہ کا اکثر حصہ ضعیف ہوگیا ،جن میں خاص طور پر عقائد اور ائمہ کی عصمت و محیر العقول صلاحیتوں سے متعلق احادیث کا حصہ بھی ہے ،نقدِ حدیث کے اصولی منہج میں اہل تشیع کے متقدمین و متاخرین کے الگ الگ مناہج  سے   چند اہم سوال پیدا ہوتے ہیں:

پہلا سوال

 پہلا سوال یہ ہے کہ اہل تشیع  ان دو مناہج میں سے کس منہج کو حدیث کی تصحیح و تضعیف میں  "اصل " مانتے ہیں ؟چونکہ اہل تشیع کے سنجیدہ علمی حلقوں سے سوشل میڈیا اور حقیقی دنیا میں واسطہ   پڑتا رہتا ہے اور معروف شیعہ محققین کی کتب کا مطالعہ بھی  وقتا فوقتا جاری رہتا ہے ،تو  اس سلسلے میں اہل تشیع  کا دوہرا معیار سامنے آتا ہے  کہ جب کتب اربعہ یا دیگر کتب سے الزام کے طو رپر آپ اہل تشیع کے سامنے کوئی حدیث پیش کریں ،تو وہ فورا "متاخرین " کے منہج پر چلتے ہوئے اس حدیث کا ضعف ثابت کریں گے ،کیونکہ متاخرین کے طرز پر اہل تشیع کی اکثر احادیث ضعیف ہیں ،اس لئے بڑی آسانی سے اس کا ضعف ثابت ہوجاتا  ہے ،لیکن جب اپنے مذہب کے مسائل و عقائد کے اثبات کا مرحلہ آتا ہے ،تو وہاں وہ متقدمین کے منہج پر چلتے ہوئے کسی بھی روایت سے  بلا پرکھے بڑی آسانی سے استدلال کر جاتے ہیں ،یہاں "متاخرین "   کے منہج  کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ،اس  دوہرے معیار کا بہترین نمونہ اہل تشیع کی ان کتب میں ملتا ہے ،جن میں  شیعہ مصادر میں تحریف ِقرآن کی روایات پر رد  کیا گیا ہے ،چنانچہ معاصر شیعہ محققین جیسے   علامہ فتح اللہ محمدی  نے  اپنی کتاب "سلامۃ القرآن من التحریف" میں ،مشہور شیعہ مناظر و مولف سید مرتضی عسکری نے اپنی کتاب "القرآن  فی روایات المدرستین" میں ،معروف  شیعہ عالم محمد ہادی معرفہ  نے  "صیانۃ القرآن من التحریف" میں تحریف ِقرآن کی  شیعی روایات پر "متاخرین" کے منہج کے مطابق سند و رواۃ کے اعتبار سے جرح کرتے ہوئے اکثر روایات کو ضعیف قرار دیا ،جن سے معروف شیعہ عالم مرزا حسین نوری طبرسی نے اپنی کتاب "فصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب" میں تحریف َقرآن پر استدلال کیا تھا۔ لیکن یہی مصنفین   پھر اسی قسم کی احادیث سے  بلا  نقد علی وجہ المتاخرین  استدلال کرتے ہیں ، بطور ِنمونہ صرف ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا ،علامہ فتح اللہ محمدی نے اپنی ضخیم کتاب "سلامۃ القرآن میں التحریف"  میں تحریف کی روایات پر صحت و ضعف   کے اعتبار سے  بحث کرتے ہوئے  سید مرتضی عسکری کی درجہ ذیل عبارت اپنی تائید میں لائے ہیں :

"88 روايۃ من كتاب تفسير العياشي، وروايات ھذا التفسير إما مرسلۃ أو مقطوعۃ"

یعنی تحریف کی 88 روایات  تفسیر عیاشی سے ہیں ،اور تفسیر عیاشی کی روایات مرسل اور منقطع ہیں۔

لیکن جب مصحف الامام علی   یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاص مصحف کے  اثبات پر دلائل دیے ،تو  استدلال تفسیر عیاشی  کی درجہ ذیل روایت  سے بھی  کرتے ہیں:

فلما قبض نبي اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ كان الذي كان لما قد قضی من الاختلاف وعمد عمر فبايع أبا بكر ولم يدفن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ بعد، فلما رأی ذلك علي عليہ السلام ورأي الناس قد بايعوا أبا بكر خشي أن يفتتن الناس ففرغ إلی كتاب اللہ وأخذ يجمعہ في مصحف"1

بجا طور پر سوال  پیدا ہوتا ہے کہ جب  تفسیر عیاشی میں تحریف کی 88 روایات سے اس وجہ سے تحریف ثابت نہیں ہوتی ،کہ  اس تفسیر کی روایات مرسل و منقطع ہیں ،تو پھر ا سی کتاب کی ا یک روایت سے  حضرت علی رضی اللہ  عنہ کے مصحف خاص   کو ثابت کرنے کے لئے استدلال کیونکر درست ہوگا ؟اور اس تفسیر کی روایات کو جب مرسل و منقطع کہہ کر رد  کرچکے  ، تو ان سے اپنے حق میں دوبارہ استدلال علم و تحقیق کی میزان میں    کیسا درست ہوگا؟(ہمارا مقصد یہاں حضرت علی رضی اللہ کے مصحف کی تاریخی حیثیت پر بحث نہیں ،صرف اہل تشیع محققین کے دوہرے معیار کے لئے ایک مثال ذکر کی )

اس طرح سے بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ اہل تشیع  متاخرین کے منہج کو  اپنی روایات میں سے صحیح و ضعیف کی چھانٹی کرنے کی بجائے صرف  اپنے مخالفین کا منہ بند  رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جس شیعہ محقق نےمتاخرین کے  منہج سے صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی کا کام لیا ،انہیں شیعہ حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،چنانچہ جب   امام خمینی ،ابو القاسم خوئی  جیسے اساطین علمائے شیعہ کے  شاگرد محمد باقر بہبودی نے قواعد رجال و جرح و تعدیل کی روشنی میں الکافی کی  صحیح احادیث کو الگ کیا ، اور تین جلدوں پر مشتمل صحیح الکافی لکھی ،تو ان پر شیعہ حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ،یہ رد عمل صرف  علمی نہیں تھا ،بلکہ معروف شیعہ عالم جعفر سبحانی کے بقول امام خمینی کے نائب شیخ حسین علی منتظری نے مصنف کو بلا کر  بازار سے ان کی کتاب کے تمام  نسخے تلف کرنے کا حکم دیا تھا۔2

اسی طرح معروف شیعہ محقق محمد آصف محسنی نے علامہ باقر مجلسی کی کتاب "بحار الانوار" میں  سے جب معتبر روایات کی  تنقیح کی ،تو بحار لانوار کی ایک سو دس جلدوں کی روایات  صرف دو جلدوں میں سماگئیں ، یہ کتاب "مشرعۃ بحار الانوار" کے نام سے چھپ گئی ہے۔ تو ان پر بھی کڑی تنقیدات ہوئیں ،اور  شیعہ ویب سائٹس پر انہیں "المنحرف البتری" کے القابات سے نوازا گیا۔3

کسی مسلک کے علماء کے درمیان علمی اختلافات ہوتے رہتے ہیں ،اور بسا اوقات وہ مناقشات شدت کے مرحلے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں ،ان جیسے مناقشات سے  اہلسنت کے حلقے بھی خالی نہیں ،لیکن    باقر  بھبودی  و علامہ محسنی پر اہل تشیع کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا ،ان کے پیچھے دراصل یہ خوف چھپا تھا کہ اگر قواعد ِرجال پر    شیعہ تراث حدیث میں سے صحیح احادیث کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا ،تو  شیعہ تراث ِحدیث  پر اعتماد و یقین ہی اٹھ جائے گا اور اہل تشیع کو اپنے تراث کے اکثر حصے سے ہاتھ دھونا پڑے گا ،چنانچہ  شیعہ محقق  شیخ حیدر  حب اللہ نے اپنی کتاب "نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی" کے  آخر میں  باقر بہبودی اور آصف محسنی کے ساتھ اپنے مکالمے نقل کیے ہیں ،ان میں شیعہ حلقوں کی مخالفت کی وجہ یہی بتائی گئی ہے کہ اس سے شیعہ تراث حدیث  ناقابل ِاعتماد بنتا ہے۔4 حالانکہ بہبودی اور آصف محسنی جیسے  حضرات  کا علمی جواب یہ بنتا تھا کہ شیعہ حوزات اور شیعہ علماء ان حضرات کی تحقیقات کو رجال کی کسوٹی پر کھتے اور اپنی تراث ِحدیث کی صحت کو قواعد ِرجال  کی روشنی میں ثابت کرتے  اور ان حضرات کی تنقیدات کا جواب دیتے ،جیسا کہ اہل سنت کے حنفی  حلقوں نے معروف محدث علامہ ناصر الدین البانی کی السلسلۃ الضعیفہ و دیگر کتب کا دیا ،کہ علامہ البانی نے  جن روایات کو قواعد رجال کی روشنی میں ضعیف کا موضوع قرار دیا تھا ،اہلسنت علماء نے ان میں سے بہت سی روایات کو  قواعد رجال کی روشنی میں صحیح  ثابت کیا ،لیکن یہ صورتحال شیعہ تراث میں جاری نہیں ہوسکتی، کیونکہ  شیعہ اہل علم بھی جانتے ہیں کہ قواعد ِرجال کی روشنی میں ہماری کتب کی صورتحال یہی بنتی ہے ، کہ اکثر حصہ ضعیف ہے ،یہ بات بارہا   اخباری شیعہ کہہ چکے ہیں کہ اگر قواعد رجال پر ہم اپنی تراث کو پرکھیں گے ،تو اکثر ضعیف ثابت ہوگا ،اس لئے باقر بہبودی و محسنی جیسے حضرات کا علمی رد کرنے کی بجائے انہیں دیگر طریقوں سے زباں بندی اور ان کی کتب  کو غائب کرنے کی کوشش کی گئی۔

دوسرا سوال

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب   شیعہ تراث ِحدیث کے بنیادی مصنفین (اصحاب کتب اربعہ ) نے اپنی کتب کے مقدمات میں یہ تصریح کر دی تھی کہ ہم نے ان کتب میں شیعہ کی معتبر روایات جمع کیں ، اور انہوں نے احادیث کی تصحیح و تضعیف کا ایک منہج بھی بنایا تھا ،تو کئی صدیوں بعد اہل تشیع   متاخرین نے علم الدرایہ کے نام سے ایک الگ منہج کیوں اختیار کیا ؟

اس سوال کا جواب اہل تشیع کے اخباری علماء کے ہاں یہ ملتا ہے کہ  جب شیعہ اہل علم اہلسنت کے ساتھ مناظرے کرتے تھے ،تو اہل سنت انہیں حدیث کو پرکھنے کے معیارات اور قواعد ِجرح و تعدیل  کہ نہ ہونے کے طعنے دیتے تھے،اس لیے علامہ ابن حلی و ابن طاووس نے "تعییر العامہ"یعنی اہلسنت کے عار دلانے کی وجہ سے علم الدرایہ کا علم ترتیب دیا ،چنانچہ معروف اخباری شیعہ حر عاملی سند و رجال  کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"ودفع تعيير العامۃ الشيعۃ بأن أحاديثھم غير معنعنۃ، بل منقولۃ من أصول قدمائھم"5

یعنی سند کے ذکر کا ایک فائدہ اہلسنت کے عار دلانے کو ختم کرنا ہے ،کہ اہلسنت شیعہ کو کہتے ہیں کہ ان کی حدیث میں عنعنہ (حدیث کو رواۃ سے نقل کرنا ) نہیں ہے ،بلکہ ان کے قدماء کی کتب سے منقول ہیں۔

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

"والاصطلاح الجديد موافق لاعتقاد العامۃ واصطلاحھم، بل ھو مأخوذ من كتبھم كما ھو ظاھر بالتتبع"6

یعنی یہ اصطلاح جدید اہلسنت کے اعتقاد و اصطلاحات کے موافق ہے ،بلکہ ان کی کتب سے ماخوذ ہے ،جیسا کہ تتبع سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے۔

جبکہ اصولی شیعہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ  بعد ِزمانہ سے ہماری اصل کتب و اصول مٹ گئیں ،جن میں یہ احادیث تھیں ، اب ہمارے پاس اپنی  احادیث کو پرکھنے کا کوئی  ذریعہ نہیں ہے ،اس لئے ذخیرہ حدیث سے ضعیف و موضوع روایات کی چھانٹی کے لئے ان اصطلاحات کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی ،چنانچہ شیخ حیدر حب اللہ متاخرین کاادفاع کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

"ان الشیخ حسن و الشیخ البھائی حاولا  الاعتذار للمتاخرین بان القرائن قد ضاعت فی العصور المتاخرہ و اندرست شواہد الیقین بالاخبار ،من ھنا سلک العلامہ و من بعدہ مسلکھم ھذا تمییزا للنصوص و ضبطا لالیات التعامل معھا  بعد ظاہرۃ الانسداد المعرفی ھذا7

شیخ حسن اور شیخ بھائی نے متاخرین کی طرف سے عذر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صحتِ حدیث کے قرائن متاخرین کے زمانے میں ضائع ہوگئے ،اور روایات کے بارے میں یقین کے شواہد مٹ گئے ،اس لئے علامہ (حلی) اور ان کے بعد آنے والے اس طریقے (سند و رجال ) پر چلے تاکہ نصوص میں (صحیح و ضعیف ) کی  تمیز کی جاسکے اور   قرائن کی بنیاد پر نصوص کی معرفت کا راستہ بند ہونے کے بعد ان کے ساتھ تعامل کے ذرائع کو منضبط کیا جاسکے۔

لیکن یہ وجہ محلِ نظر ہے ،اس لئے شیخ حیدر حب اللہ نے بھی "وھذ ا لتبریر غیر صحیح" کہہ کر اس کو رد کر دیا ،نیز اخباریوں نے اس پر ایک مضبوط اعتراض یہ کیا ہے کہ جب متقدمین نے قرائن کی بنیاد پر صحیح احادیث کی چھانٹی کر کے کتب اربعہ تیار کیں ،تو ان کا اعتماد اور اپنی کتب میں ان کی روایت خود حدیث کے صحیح ہونے کا مضبوط قرینہ ہے ،چنانچہ شیخ حر عاملی لکھتے ہیں :

"فروايتھم لہ وشھادتھم بہ قرينۃ كافيۃ، لأنہ خبر واحد محفوف بالقرينۃ لثقۃ راويہ، وجلالتہ. واعترافھم بالقرائن: من جملۃ القرائن عندنا8

ترجمہ :متقدمین کا ان روایات کو روایت کرنا اور ان کی صحت کی گواہی دینا خود ایک ایک کافی قرینہ ہے ،کیونکہ  اب خبر واحد اپنے راوی کی ثقاہت  و جلالت ِشان کی وجہ سے محفوف بالقرینہ ہوگئی ،نیز متقدمین کا  اعترافِ قرائن  بھی ایک قرینہ صحت ہے۔

خلاصہ یہ نکلا تو متاخرین نے احادیث کو پرکھنے کا جو نیا منہج ایجاد کیا ،جو قدمائے شیعہ کے منہج کے خلاف  تھا ،اس کے ایجاد کی کوئی واضح وجہ علمائے اصول نہیں دے سکے ،اور اخباریوں کا اعتراض وزنی تھا کہ یہ طریقہ محض اہل سنت کی اتباع  میں اپنا یا گیا اور ان کی کتب سے ماخوذ ہے

تیسرا سوال

تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل تشیع  متاخرین نے علم الدرایہ کے نام سے جو علم تیار کیا ،جو تعریفات و حدود طے کیں ،ان کا ماخذ کیا تھا؟متقدمین اہل تشیع   کی کتب تو اس کا ماخذ نہیں تھیں ،کیونکہ حدیث کو پرکھنے کا منہج قدماء کا بالکل الگ تھا،لا محالہ یہی صورت بنتی ہے  کہ متاخرین نے اہل سنت  کے علم مصطلح الحدیث میں کچھ تبدیلیاں کر کے علم الدرایہ کے نام سے ایک فن ایجاد کیا ،جیسا کہ اخباری شیعہ کہتے ہیں۔ (اگر ماخذ کےحوالے سے  تیسری کوئی صورت بنتی ہے ، تو اہل تشیع محققین ضرور مطلع فرمائیں )تو اس کے برخلاف اہل سنت کا علم المصطلح الحدیث اولین مراجع ِحدیث لکھنے والوں کے زمانے سے ہی ایک مربوط شکل اختیار کر گیا تھا ،چنانچہ امام مسلم نے   اپنی کتاب کے مقدمے میں ،امام ترمذی نے اپنی کتب علل صغیر  میں ،امام ابو داود و امام نسائی نے اپنی  سنن میں رواۃ و روایات کے تبصروں میں ،امام طحاوی کی مشکل الاثار میں مباحث تعارض ،امام شافعی کی الرسالہ ،الغرض قدمائے اہل سنت کی کتب میں مصطلح الحدیث کے مباحث بکثرت موجود ہیں ،انہی مباحث کو بعد میں الرامھرمزی نے  اپنی کتاب المحدث الفاصل میں جمع کیا ،جو تدوین کے اعتبار سے علم مصطلح الحدیث کی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے۔

چوتھا سوال

چوتھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متاخرین نے علم الدرایہ کے نام سے  حدیث کو پرکھنے کا جو علم ایجاد کیا ،اس کا علمی فائدہ کیا مرتب ہوا؟ علم مصطلح الحدیث سے بنیادی طور پر تین کام لئے جاتے ہیں :

1۔علم مصطلح الحدیث کی روشنی میں  مجموعات حدیث مرتب کرنا ،یہ  کام تو اہل تشیع نے نہیں لیا ،کیونکہ اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ  پہلے ہی قدماء مرتب کر چکے  تھے۔

2۔ مرتب شدہ مجموعاتِ حدیث کو پرکھنے اور ان میں صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی کاکام ،یہ کام بھی اہل تشیع کے حلقوں میں شجر ِ ممنوعہ ہے ،کیونکہ باقر بھبودی اور آصف محسنی جیسے حضرات نے جب علم الدرایہ کی مدد سے کتب حدیث میں صحیح و ضعیف روایات کی چھانٹی کی ،تو انہیں اہل تشیع کے روایتی حلقوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا  سامنا کرنا پڑا ،جیسا کہ ما قبل میں اس پر بحث ہوچکی ہے۔

3۔ فقہی  روایات  میں قابلِ عمل روایات کی چھان بین ،تاکہ فقہ  کے دلائل و مستدلات کا ذخیرہ تیار کیا جاسکے ،یہ کام بھی اہل تشیع کے علماء پہلے کر چکے تھے، کیونکہ کتب اربعہ کے مصنفین نے حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ کو بھی مرتب کر دیا تھا ،اور فقہی مستدلات جمع کئے تھے

جب  علم الدرایہ کو کسی میدان میں استعمال میں نہیں لا یاگیا ،تو اس کو مرتب کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟َیہاں بجا طور  پر اخباری مکتب کی بات درست ثابت ہوتی ہے کہ علامہ حلی و ابن طاووس نے علم الدرایہ کا فن   اہل سنت مناظرین کے  اس اعتراض کے جواب میں مرتب کیا ،کہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کو پرکھنے کا کوئی فن نہیں ہے۔

 جبکہ اس کے برخلاف اگر اہل سنت کے علم مصلح الحدیث کو دیکھا جائے تو   اس کی مدد سے مجموعاتِ حدیث بھی مرتب ہوئے (جیسا کہ اصحاب صحاح ستہ نے جمع کئے، اصحاب صحاح ِ ستہ میں سے ہر محدث نے اپنی خاص شرائط کے تحت کتاب تیار کی ،جیسا کہ  شروط الائمہ الستہ کی کتب  اور خود صحاح ستہ کے مقدمات اور  اصحاب ِ صحا ح ستہ کے تبصروں سے واضح ہے  ) اس  فن کی مدد سے مجموعاتِ حدیث میں صحیح و ضعیف  روایات کی چھانٹی اور کتب حدیث کی درجہ بندی بھی کی گئی ،جیسا کہ صحاح ستہ کی درجہ بندی اسی بنیاد پر کی گئی ،چنانچہ صحت میں  صحیحین کو فائق قرار دیا گیا ،اس کے بعد نسائی ،پھر ابو داود، اس کے بعد جامع ترمذی اور آخر میں سنن ابن ماجہ کو قرار دیا گیا ہے ۔اور اسی فن کی مدد سے کتب حدیث سے موضوع احادیث   کو الگ کیا  گیا ،اسی فن کی مدد سے رواۃ کی درجہ بندی بھی کی گئی ،فقہی مستدلات بھی الگ ہوئے ، اسی فن کی مدد سے تفسیری روایات کی درجہ بندی بھی کی گئی ،الغرض  تفسیر ،حدیث  اور فقہ سب میادین میں اس سے  کام لیا گیا ،یوں علم مصلح الحدیث کا فن  بھر پور تطبیق سے گزرا اور علوم ِاسلامیہ میں اس  کو خوب استعمال کیا گیا ،بلکہ تاریخی واقعات میں بھی اس سے کام لیا گیا ۔جبکہ اہل تشیع کا علم الدرایہ محض تعریفات اور خالی قواعد تک محدود ہے ،اس کی تطبیق اور اس کی مدد سے حدیثی ،تفسیری ،فقہی اور تاریخی تراث کی درجہ بندی اہل تشیع کے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی اس کی مدد سے درجہ بندی کرتا ہے ،تو اہل تشیع کے روایتی حلقے اسے تراث کا دشمن اور مخالف گردانتے ہیں ،کما مر

پانچواں سوال

اہل تشیع کی علم الدرایہ کی کتب اگر دیکھیں ،تو حدیث  و رواۃ کی اقسام و انواع بیان کرتے ہوئے اکثر مثالیں اہل سنت کی روایات سے دی گئیں ہیں ،اس سے بجا طور پر اخباری مکتب کے اس دعوے  کی تصدیق ہوتی ہے  کہ  اصولیین نے علم الدرایہ اہل سنت کی کتب سے اخذ کیا ہے ،نیز اس سے یہ  نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ اہل تشیع کے   کتب ِ اربعہ کی روایات پر علم الدرایہ کی تطبیق نہ ہونے کے برابر ہے ، اس لئے حدیث  کی اقسام  سمجھانے کے لئے بھی مثالیں  اہل سنت سے اخذ کرنی پڑیں ،ہم یہاں معروف معاصر شیعہ محقق جعفر سبحانی کی کتاب "اصول الحدیث و احکامہ  فی علم الدرایہ" سے  چند  مقامات کی ایک فہرست پیش کرتے ہیں ،جن میں اہل سنت  کی  روایات کو مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے :

1۔حدیث قدسی کی مثال دیتے ہوئے  شیخ جعفر سبحانی لکھتے ہیں :

"مثلا اخرج مسلم فی صحیحہ  عن ابی ذر عن النبی ﷺ فیما یرویہ عن اللہ عز وجل :یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی ۔۔۔9

2۔تواتر لفظی کی مثال میں معروف حدیث "انما الاعمال بالنیات" پیش کی ہے ۔10

3۔ اضطراب فی السند کی مثال میں ابو داود کی حدیث  "اذا  صلی احدکم  فلیجعل تلقاء وجھہ شیئا" پیش کی ہے اور حاشیہ میں ابو داود کا حوالہ بھی دیا ہے ۔11

4۔ حدیث مفرد کی مثال میں اہلسنت مراجع کی  معروف حدیث "نحن معاشر الانبیاء لا نورث،ما ترکناہ صدقۃ" پیش کی ہے ۔12

5۔ غرابت فی ابتداء  السند کی مثال میں "انما الاعمال بالنیات" پیش کی ہے ،کہ یہ  ابتداء میں حضرت عمر سے مروی ہے ۔13

6۔ تصحیف فی المتن کی مثال میں معروف حدیث  "من صام رمضان و اتبعہ ستا من شوال" پیش کی ہے ۔(یہی مثال کتب اہلسنت میں بھی ہے

7۔تدلیس فی الشیوخ  کی مثال میں سفیان بن عیینہ کی روایات پیش کی ہیں ۔14(یہی سفیان بن عیینہ   اہل سنت کی کتب مصطلح الحدیث میں تدلیس کی مثال میں پیش کئے جاتے ہیں )

8۔ موضوع حدیث کی مثال میں وہ مشہور روایت پیش کی ہے ،جو اہل سنت کی مصطلح الحدیث میں بالعموم نقل کی گئی ہے "لا سبق  الا فی  خف او حافر او نصل او جناح"15

9۔وجادہ کے معتبر ہونے کے لئے  تدریب الراوی میں منقول حدیث نقل کی ہے ۔اور حاشیہ میں تدریب الراوی کا  حوالہ دیا ہے ۔16

10۔کتبِ حدیث کی اقسام ،جامع،سنن ۔مسند ،معجم ،مستخرج ،مستدرک  کے لئے  کتب اہل سنت کی مثالیں دی ہیں ،اور اسی ترتیب سے دی ہیں ،جس کا ذکر اہل سنت کی کتب مصطلح الحدیث میں مذکور ہے ،جیسا کہ جامع کے لئے بخاری و ترمذی ،سنن کے لئے ابوداود و نسائی وغیرہ ،مسند کے لئے مسند امام احمد بن حنبل ،معجم کے لئے طبرانی کی معاجم ثلاثہ ،مستخرج کے لئے مستخرج ابی عوانہ  اور مستدرک کے لئے مستدرک حاکم ۔17

11۔حافظ الحدیث کی تعریف  مکمل طور پر تدریب الراوی سے لفظ بہ لفظ نقل کی ہے اور حاشیہ میں تدریب کا حوالہ دیا ہے ۔18

 یہ چند مقامات ایک سرسری نظر ڈالنے سے ملے ،ہم نے  اہل تشیع کے معاصر مصنف کی کتاب سے  یہ فہرست پیش کی ہے ، جس کے سامنے علم الدرایہ کا  پورا شیعی ذخیرہ     تھا ، اگر  متقدمین  اہل تشیع کی کتب عِلم الدرایہ    کا اس حیثیت جائزہ لیا جائے  تو  کتب اہل سنت سے امثلہ  اس سے زیادہ تعداد میں   ملیں گی۔

اس موقع پر بجا طور  سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت کا علم ِحدیث جب اول تا  آخر ایک دوسرے کے مباین ہے (جیسا کہ اس سلسلے میں اس کی بہت سی وجوہات آپ پڑھ چکے ہیں ) تو اہل تشیع محققین نے  علم الدرایہ  میں امثلہ  کے بیان کے لئے اہل سنت کی روایات و عبارات سے کیوں کام لیا؟ اس طرز کی  وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ علم الدرایہ کے مصنفین کو  کتب ِاربعہ کی روایات سے  اس کی مثالیں نہیں مل سکیں یا علم الدرایہ کو کتب ِاربعہ پر منطبق نہ کرنے کی وجہ سے امثلہ کے لئے کتب ِ اہل سنت کی طرف رجوع کرنا پڑا؟ ہر دو صورتوں  سے یہ بات بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ متاخرین اہل تشیع کا مرتب کردہ علم الدرایہ تطبیقی  اعتبار سے  ایک ناقص فن ہے، یہاں تک کہ   امثلہ میں اہل سنت کے علم مصطلح الحدیث کا  محتاج ہے۔

حواشی

  1.  تفسیر عیاشی ،محمد بن مسعود العیاشی ،ج2،ص308 بحوالہ سلامۃ القرآن من التحریف ،فتح اللہ محمدی ،ص65
  2.   دیکھیے:

    https://ar.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%87%D8%A8%D9%88%D8%AF%D9%8A

  3.   دیکھیے :

    https://www.shia-documents.com

  4.  دیکھیے :نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی ،ص784
  5.  وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،
  6.  وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،
  7.  نظریۃ السنۃ فی الفکر الامامی الشیعی ،حیدر حب اللہ ،ص269
  8.  وسائل الشیعہ ،حر عاملی ،ج30،ص275
  9.  اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ،جعفر سبحانی ،دار جواد الائمہ ،بیروت ،ص20
  10.  ایضا :ص35
  11.  ایضا:ص58
  12.  ایضا :ص71
  13.  ایضا :ص74
  14.  ایضا:ص115
  15.  ایضا:ص120
  16.  ایضا:ص 230
  17.  ایضا:ص230
  18.  ایضا:ص235

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث