مطالعہ سنن ابی داود (۱)

ادارہ

محمد عمار خان ناصر / ڈاکٹر سید مطیع الرحمن

مطیع سید: رفع حاجت کے وقت استقبالِ قبلہ سے متعلق مختلف احادیث آتی ہیں۔بعض حدیثوں کے مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ ہو بھی جائے تو خیر ہے، بس کسی کھلے میدان میں قبلہ رخ ہونا منع ہے۔مثلاً‌ حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ وفات سے ایک سال قبل میں نے نبی ﷺ کو دیکھاکہ آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کر رہے تھے۔(سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذلک، حدیث نمبر ۱۲) یہ کیا مسئلہ ہے؟

عمارناصر: آپ نے دونوں طرح کی حدیثیں دیکھی ہیں۔حدیثوں میں اختلاف ہے اور اسی لیے یہ ایک اجتہادی بحث ہے۔شوافع کے ہاں کھلی فضا میں اور ایک بند عمارت میں فرق کیا جاتا ہے۔لیکن احناف کھلی فضا پر یہ معارضہ کر دیتے ہیں کہ کھلی فضا میں کو ن سا قبلہ بالکل سامنے ہوتا ہے، وہاں بھی درمیان میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔تو بس ٹھیک ہے، جس رائے پر بھی اطمینان ہو، اس پر عمل کر لینا چاہیے۔

مطیع سید : اگر گھر بناتے ہوئے مستری یا نقشہ نویس کہتا ہے کہ آپ کے گھر میں واش روم کا رخ قبلہ کی طرف کر دیں تو جگہ کی تقسیم بہت مناسب ہو جائے گی تو کیا ہم اس طرح کی گنجائش نکال سکتے ہیں؟

عمارناصر:دیکھیں، ایک تو آپ کا اپنا فہم ہے، اس کے لحاظ سے آپ کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آپ کے علاوہ گھر میں دوسرے لوگ بھی ہیں اور مہمانوں نے بھی آنا ہے۔تو ان سب کے اطمینا ن کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔آپ شافعی تعبیر پر مطمئن ہو کر بیت الخلاء بنا لیں اور کوئی اس میں جائے ہی نا تو یہ بھی تو ٹھیک نہیں۔

مطیع سید: نبی ﷺ نے فرمایا کہ حاجت کے وقت نماز نہ پڑھے، اجازت کے بغیر امامت نہ کروائے اور اکیلے اپنے لیے دعا نہ کر ے۔یہ روایت لکھ کر امام ابو داؤد فرماتے ہیں: ھذا من سنن ِ اھل الشام لم یشرک فیھا احد۔ (کتاب الطہارۃ، باب ایصلی الرجل وہو حاقن، حدیث نمبر ۹۱) اس سے کیا مراد ہے ؟

عمارناصر: سنن سے یہاں مراد ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے میں اہل شام کے ساتھ کوئی شریک نہیں، یعنی یہ شامی راویوں نے ہی نقل کی ہے۔

مطیع سید:میرے ایک دوست ہیں جنہیں ایک ٹانگ کا پولیوہے۔وہ چلنے کے لیے بر یسز لگاتے ہیں جو ان کے جوتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔وہ وضو کے وقت جوتوں کے اوپر ہی مسح کر لیتے ہیں، کیونکہ انہیں دھو کر دوبارہ بریسز لگانے میں دقت بھی ہے اور وقت بھی کافی لگتا ہے۔تو کیا وہ بغیرپاؤں دھوئے ایسا کر سکتے ہیں ؟

عمارناصر:جی، صبح پہلی دفعہ وضو کرتے ہوئے وہ بریسز لگانے سے پہلے پاؤں کو دھو لیں۔پھر اگلے دن تک جوتوں پر ہی مسح کر تے رہیں۔موزوں یا جوتوں پر مسح اسی حالت میں درست ہے جب آپ نے وضو کر کے پاکی کی حالت میں پاؤں پر جرابیں یا جوتے پہنے ہوں۔

مطیع سید: شرم گاہ کو چھو نے سے وضوکا ٹوٹنا، اس حوالے سے بڑی مختلف روایات آتی ہیں۔(کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من مس الذکر وباب الرخصۃ فی ذلک، حدیث نمبر ۱۸۱، ۱۸۲) بعد میں صحابہ کے ہاں بھی بحث چلتی رہی ہے اور دونوں اپنے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں۔

عمارناصر: اس حوالے سے علامہ انور شاہ نےسب سے معقول بات کہی ہے کہ اگر آپ اس کو فقہی مفہوم میں لیں کہ اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں توپھر روایتیں متعارض ہیں۔آپ کو کچھ چھوڑنی پڑتی ہیں، کچھ لینی پڑتی ہیں۔لیکن اگر آپ اس کو نقض ِ وضو کے پہلو سے نہیں، محض پاکیزگی کے احساس کے پہلوسے دیکھیں تو پھر دونوں ٹھیک ہیں۔فقہی طور پر یہ ناقضِ وضو نہیں ہے لیکن اگر آپ کا ہاتھ بغیر حائل کے شرم گاہ کو لگ جائے تو ظاہر ہے، ایک پاکیزہ آدمی اس پر ایک نفور سا محسوس کرتا ہے۔تو اس پہلو سے کہا گیا ہے کہ آدمی وضو کرلے۔

مطیع سید: کیا اس کو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ وضو کے آداب کے خلاف ہے کہ آدمی باوضو ہونے کی حالت میں ایسا کرے؟

عمارناصر:اس طرح کہہ لیں۔حاصل یہی ہے کہ اگرچہ فقہی مفہوم میں تو وضو نہیں ٹوٹا، لیکن بہتر ہے کہ وضوکرلے۔یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس صورت میں وضو کرنا مستحب ہے۔

مطیع سید: اسی طرح آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کی روایات بھی مختلف ہیں۔(کتاب الطہارۃ، باب فی ترک الوضوء مما مست النار وباب التشدید فی ذلک، حدیث نمبر ۱۸۷ تا ۱۹۵) صحابہ بھی موافق و مخالف دلائل دیتے رہے ہیں۔

عمارناصر: وہ بھی ایسی ہی بات لگتی ہے۔بعض روایتوں سے ایسے لگتا ہے کہ اس وضو سے مراد شاید کلی وغیرہ کرنا ہے۔عربی میں وضو منہ دھونے اورکلی وغیرہ کرلینے کے معنی میں بھی آتا ہے۔یا اگر وضو سے اصطلاحی وضو مراد ہے تو وہ استحباب کے درجے میں ہے۔یہ ساری چیزیں اصل میں استنباطی ہیں۔

مطیع سید: ام حبیبہ بنت جحش مستحاضہ تھیں اور ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔(کتاب الطہارۃ، باب من روی ان المستحاضۃ تغتسل لکل صلاۃ، حدیث نمبر ۲۸۹) یہ روایت بڑی کثرت سے آئی ہے ، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو آج کے سہولیات والے دور میں بھی ممکن نہیں کہ ہر نماز سے پہلے آدمی سر دیوں اور گرمیوں میں غسل کرے۔

عمارناصر: جی، معروف روایت ہے۔اصل میں راوی جب قصہ بیان کر تا ہے تو ایک سادہ سا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا وہ ان کے پورے سال کے معمولات نوٹ کر تا تھا؟ ظاہر ہے، نہیں۔تو مراد یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جب ان کو یہ طریقہ تجویز فرمایا تو وہ اس راوی کے مشاہدے یا معلومات کی حد تک عمومی طور پر یا حتی الامکان اس کے مطابق عمل کرتی ہوں گی۔

مطیع سید: ایک خاتون سے آپ ﷺ نے فرما یا کہ وہ ایک غسل کر کے دو نمازیں اکٹھی پڑھ لیا کریں۔(کتاب الطہارۃ، من قال تجمع بین الصلاتین وتغتسل لھما غسلا، حدیث نمبر ۲۹۴) کیا وہ یہی ام حبیبہ تھیں؟

عمارناصر: غالباً‌ یہی تھیں، لیکن مجھے حتمی طور پر مستحضر نہیں۔ایک دو اور خواتین کا بھی ذکر ملتا ہے جو مستحاضہ تھیں۔ممکن ہے، ان میں سے کسی کو کہا گیا تھا کہ ایک غسل کر کے دو نمازوں کو اکٹھا کر لیا کریں۔

مطیع سید:فقہا تو کہتے ہیں کہ حیض کے علاوہ عورت کو جو کچھ آتا ہے، اس پر غسل واجب نہیں ہوتا۔

عمارناصر: ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے وجوب کے معنی میں غسل کا حکم نہیں دیا، یہ استحباب ہی کے درجے میں ہے۔اصل میں تو وہ مریض ہے، اس کا پہلا کیا ہوا وضو ہی اصولی طور پر قائم ہے۔تاہم آپﷺ نے استحباب کے درجے میں فرمایا کہ اگر وہ غسل کرلے تو یہ بہتر ہے۔

مطیع سید:تیمم کے حوالے سے محدثین کا موقف ہے کہ ایک ہی ضرب کافی ہے، جبکہ احناف کہتے ہیں کہ دو ضربیں ہونی چاہییں۔

عمارناصر:روایتیں دونوں طرح کی ہیں اور وہ دونوں ہی ٹھیک ہیں۔ایک ضرب لگا کر تیمم کرلیں تو بھی ٹھیک ہے اور دو الگ الگ ضربیں لگا کر کرلیں تو بھی درست ہے۔

مطیع سید: حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے پوچھا کہ اگر مجھ پر غسل واجب ہو جائے اور ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو کیا میں پھر بھی تیمم نہ کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، تیمم نہ کرو۔ان کو حضرت عمار بن یاسر کی روایت بتائی گئی تو انھوں نے کہا کہ حضرت عمر، عمار کی روایت پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔یعنی وہ بھی قائل نہیں تھے کہ غسل واجب ہونے پر تیمم کیا جا سکتا ہے۔(کتاب الطہارۃ، باب التیمم، حدیث نمبر ۳۲۱)

عمارناصر: حضرت ابن مسعود کا عام موقف تو یہی نقل ہوا ہے، لیکن روایات میں اس کی وضاحت ہے کہ وہ محض احتیاطاً‌یہ کہتے تھے۔صحیح بخاری میں یہ مکالمہ اس طرح منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ اگر ہم لوگوں کو اس کی رخصت دینے لگے تو لوگ تھوڑا سا پانی ٹھنڈا لگنے پر غسل چھوڑ کر تیمم کرنے لگ جائیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جواز کے تو قائل تھے، لیکن کہیں لوگ بلاضرورت تیمم نہ لگیں، اس پہلو سے ذرا شدت اختیار کرتے تھے۔

مطیع سید: آپ ﷺ قضائے حاجت سے واپس آئے تو ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کو سلا م کیا، لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔آپ نے پہلے تیمم کیا اور پھر سلام کا جواب دیا۔(کتاب الطہارۃ، باب التیمم فی الحضر، حدیث نمبر ۳۳۰) یہ کس پہلو سے تھا؟

عمارناصر:یہ کوئی فقہی یا قانونی حکم نہیں ہے۔آپ ﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا کہ پاکی کے بغیر جوا ب دیں۔اس میں دیکھیں، بعض دفعہ جو فوری کیفیت انسان پر طاری ہوتی ہے، اس کا بھی دخل ہوتا ہے۔آپ ﷺ ابھی رفع حاجت سے فارغ ہو کر آئے تھے اور ساتھ ہی کسی نے سلام کہہ دیا۔اگر آپ ویسے ہی بیٹھے ہوں اور فوری طورپر رفع حاجت سے فارغ ہو کر نہ آئے ہوں تو آپ کو احساس نہیں ہوگا کہ میں ناپاکی کی حالت میں ہوں، لیکن بیت الخلاء سے نکل کر آدمی کو تھوڑا سا احساس ہوتا ہے کہ میں ناپاکی کی حالت میں ہوں۔

مطیع سید: ظواہر نے تو اس سے مسئلہ بھی نکا ل لیا ہوگا کہ ناپاکی کی حالت میں سلام کا جواب نہ دیا جائے۔

عمارناصر:میرے ذہن میں نہیں۔میرے خیال میں اس حدتو نہیں گئے ہوں گے، لیکن اگر وہ جانا چاہیں تو اپنے اصول کے تحت جا سکتے ہیں۔

مطیع سید: شدید سردی میں جب گیس بھی نہ ہو تو صبح کے وقت اگر کسی کو غسل کی حاجت ہوتی ہے اور پانی برف کی طرح ٹھنڈا ہے تو کیا وہ تیمم کر سکتا ہے ؟

عمارناصر: ہاں، اگر فوری طورپر گرم پانی کاانتظام نہیں ہے تو تیمم کر کے نمازپڑھ سکتے ہیں۔

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر بس چھینٹے مار لینا کافی ہے۔(کتاب الطہارۃ، باب بول الصبی یصیب الثوب، حدیث نمبر ۳۷۵، ۳۷۶) بچے اور بچی کے پیشاپ کو دھونے میں فر ق کیوں رکھا گیا ہے ؟

عمارناصر:حدیث میں تو کوئی وجہ بیان نہیں ہوئی۔شارحین کی طرف سے ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لڑکی کے پیشاب کی بدبو زیادہ ہوتی ہے یا وہ زیادہ گاڑھا ہوتا ہے، اس لیے اس کو دھوئے بغیر بدبو کا ازالہ نہیں ہوتا۔

مطیع سید: حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبر ستا ن میں نماز پڑھنے سے اور بابل میں نماز پڑھنے سے منع کیا کیونکہ اس پر لعنت کی گئی تھی۔(کتاب الصلاۃ، باب فی المواضع التی لا تجوز فیہا الصلوۃ، حدیث نمبر ۴۹۰) قبرستان میں نماز کی ممانعت کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، لیکن بابل پر لعنت کیوں کی گئی؟

عمارناصر:گذشتہ قوموں میں سے کسی پر یہاں عذاب آیا تھا۔ایسی جگہ جو خداکے عذاب کے نزول کی جگہ ہو، وہاں پر ٹھہرنا یا عبادت کرنا پسندیدہ نہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی جب تبوک کے سفر میں قوم ثمود کے علاقے سے گزرے تو صحابہ سے فرمایا کہ یہاں سے تیزی سے گزرو۔البتہ یہاں فقہی مفہوم میں نماز کا ادا ہونا یا نا ہونا زیرِ بحث نہیں ہے۔اگر نماز پڑھ لی تو ادا ہو جائے گی۔

مطیع سید: لیکن آج اگر وہاں آبادی بن چکی ہے، شہر آباد ہو چکا ہے تو وہاں تویہ مسئلہ نہیں ہوناچاہیے۔

عمارناصر: اب وہ مخصوص علاقہ اگر جانا پہچانا نہیں رہا تو ظاہر ہے، نماز کی ادائیگی میں بھی فرق ملحوظ نہیں رکھا جا سکتا۔لیکن اگر معلوم ہو کہ کو ن سا علاقہ ہے جہاں پر عذاب اتراتھا تو پھر اس کا علم ہونا انسان کے اندر ایک کیفیت پیدا کرتا ہےکہ یہ علاقہ تو خدا کے عذاب کی جگہ ہے، مجھے تو یہاں رکنا ہی نہیں چا ہیے چہ جائیکہ وہاں نماز ادا کی جائے۔

مطیع سید: اذان اور اقامت کے الفاظ میں فر ق ہے اور اختلافات بھی ہیں۔ان کلمات کا اختلاف کیسے پیداہوا؟

عمارناصر: اصل میں نبی ﷺ سے مختلف طریقے ثابت ہیں۔ہوایہ کہ جب صحابہ مختلف علاقوں میں پھیلے ہیں تو جس علاقے میں کچھ صحابہ چلے گئے، وہاں ان کا عمل جاری ہو گیا۔دوسرےعلاقے میں دوسرے صحابہ کا عمل اختیار کر لیا گیا۔اس دور میں ابھی روایتیں اس طرح مدون نہیں تھیں۔بعد میں جب روایتیں جمع ہوگئیں تو اس سے واضح ہو گیاکہ یہ سارے طریقے رسو ل اللہ ﷺ سے ہی ثابت ہیں۔

مطیع سید: تشبیک (ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسانے) سے کیوں منع فرمایا گیا ؟ (کتاب الصلوۃ، باب ما جاء فی الہدی فی المشی الی الصلاۃ، حدیث نمبر ۵۶۲)

عمارناصر: بس یہ کیفیت پسند نہیں کی گئی۔بعض جسمانی ہیئتیں نماز کی حالت میں پسند نہیں کی گئیں اور اس میں پیغمبر کا ذوق بڑا اہم ہے۔

مطیع سید: کیا یہ ذوق بدل بھی سکتا ہے ؟

عمارناصر:وہ تو اس وقت بھی ہو سکتا ہے، بد ل گیا ہو، لیکن ذوق سے پھوٹی ایک چیز ہے تو اس میں آپ کو ذوق ہی کی پیروی کرنی چاہیے۔یعنی اس کا تعلق علت سے نہیں، علت ایک اور چیز ہے۔قانونی طور پر اس کو متعین کرنا آسان ہوتا ہےکہ اب حکم کی علت بدل گئی ہے۔لیکن یہ جو ذوق کی چیزیں ہوتی ہیں، اس میں تو آپ کو اتباع ہی کرنی چا ہیے۔

مطیع سید: اس میں ہم کیا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اپنے دور کے لحاظ سے کچھ اور چیزیں بھی اس میں شامل کر لیں ؟

عمارناصر: آپ اور چیزیں جو آپ کے عرف میں ہیں یا آپ کے ذوق یا ذاتی احساس کے لحاظ سے لگے کہ بری ہیں یا حالت نماز کے کے منافی ہیں تو آپ ان کو شامل کر سکتے ہیں۔بعض روایتوں میں ہے کہ آدمی جب بیٹھتا ہے تو فرشتے اس کے سامنے آ کر اس دیوار کی طرف جدھر قبلہ ہے، کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں آتا ہے کہ وہ فجر کے وقت مسجد میں آتے تھے تو اگر ان کے سامنے کوئی شخص دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہتا تو وہ اس کو ہٹا دیتےتھے۔یہ چیزیں اس طرح کے روحانی احساس سے پیداہوتی ہیں۔

مطیع سید: نمازی کے سامنے سے گدھے یا کتے کے گزرنے سے نماز کے ٹوٹ جانے کی جو روایت ہے، (کتاب الصلوۃ، باب ما یقطع الصلوۃ، حدیث نمبر ۷۰۲) اس کا کیا مطلب ہے؟

عمارناصر: مطلب یہ ہے کہ نماز کا ایک روحانی ماحول ہوتا ہے، وہ اس سے ٹوٹ جاتا ہے۔قطع اسی مفہوم میں ہے۔علامہ انورشاہ صاحب نے اس اصول کو باربار اور بڑی تاکید سے بیان کیا ہے کہ پیغمبر کی حدیثوں کو ہم ایک فقیہ کے بیانات نہ سمجھیں۔پیغمبر بہت مختلف جگہ سے، بڑی اعلیٰ جگہ سے بات کرتا ہے۔بہت سے مسئلے فقہا کے ہاں اس لیے پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ ہر بات کو فقہی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔

مطیع سید:ایک معذور شخص نے بتایا کہ جب وہ لڑکا تھاتو ایک جگہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔وہ سامنے سے گزرا تو آپ نے اس کو بد دعا دی اور وہ پاؤں سے معذور ہوگیا۔(کتاب الصلوۃ، باب ما یقطع الصلوۃ، حدیث نمبر ۷۰۷) روایت بڑی عجیب لگی کہ آپ ﷺ تو بڑے شفیق تھے۔سامنے گزرنے پر اتنی سخت بددعا دے دی؟

عمارناصر: وہ شخص اس وجہ سے معذور ہوا، یہ اس کا اپنا قیاس بھی ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ایسا ہوا ہو تو آپ ﷺ کا شفیق ہونا بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے، لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس کا اس طرح بے پرواہی سے آگے سے گزرنا ایک روحانی احساس کے تحت ناگوار گزرا ہو او راس پر آپ نے بد دعا کر دی ہو۔ایسی چیزوں میں ظاہری عمل سے زیادہ وہ رویہ اہم ہوتا ہے جس سے وہ عمل وجود میں آیا۔ایک اور واقعے میں آپ نے ایک آدمی کو دائیں ہاتھ سے کھانے کے لیے کہا تو اس نے برا مانتے ہوئے کہا کہ جی، میں بائیں سے نہیں کھا سکتا۔آپ نے کہا کہ اچھا، اللہ کرے نہ ہی کھا سکو اور اس کا ہاتھ پھر بعد میں مفلوج ہو گیا۔ایسا لگتا ہے کہ آگے سے گزرنے والے نے بھی ایسا ہی کوئی رویہ ظاہر کیا ہو۔

مطیع سید: کیا یہ روایت ٹھیک ہے ؟

عمارناصر: مجھے تحقیق نہیں، لیکن اگر ایسے ہوا ہو تو ایسی ناقا بل ِ فہم نہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راوی کا قیاس ہو۔

مطیع سید: آج کا ذہن اور خاص طورپر مغربی لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ کیسے آپ کے نبی تھے۔ایک بچہ تھا اور اس کی غلطی پر اتنی سخت بددعا دے دی۔

عمارناصر: بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو دیکھنے کا زاویہ بہت ہی مختلف ہو سکتا ہے۔آپ ایک زاویے سے اسے بہت غلط سمجھ سکتے ہیں، لیکن ایک دوسرے زاویے سے وہ بالکل مختلف دکھائی دے گی۔چیزوں کی تفہیم میں زاویہ بڑا اہم ہوتا ہے۔اسی طرح بعض باتیں کچھ ذہنی سانچوں میں قابل فہم بنتی ہیں، کچھ میں نہیں بنتیں۔تو اگر اعتراض پیداہو تو جواب میں زیادہ بہتر یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کی ایسی توجیہ کریں کہ وہ مخاطب کے ذہن کےلحاظ سے قابل فہم ہو تاکہ وہ تشویش میں مبتلا نہ ہو۔مثلاً‌ آپ اس طر ح کی توجیہ کر سکتے ہیں کہ یہ راوی کا قیاس ہے، اس لیے کہ بعض اوقات بات اتنی لطیف ہوتی ہے کہ اس کو سمجھانا بڑ امشکل ہو جاتا ہے۔

مطیع سید: فاتحہ خلف الامام کے بارے میں احناف یہ دلیل دیتے ہیں کہ سورہ اعراف میں کہا گیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس کو سنو اور خاموش رہو۔یہ جہری نمازو ں میں تو چل سکتی ہے، لیکن سری نمازوں کے لیے یہ دلیل کیسے بنے گی ؟

عمارصاحب: جی، سری میں تو یہ دلیل نہیں بنتی۔احناف براہ راست اس سے جہری میں ہی استدلا ل کرتے ہیں، اگرچہ بعض حضرات کھینچ تان کر اسے سری پر بھی منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اصل میں اس آیت کا براہ راست نماز سے تعلق نہیں اور وہ اس تناظر میں نہیں آئی۔اس میں تو یہ ادب بیان کیا گیا ہے کہ قرآن جب پڑھاجا رہا ہو تو اس وقت شور شرابہ نہ کرو اور اس سے بے توجہی نہ برتو۔اس کا نمازسے، یعنی جہری نماز سے بھی کوئی تعلق نہیں۔نماز میں اگر مقتدی قرآن پڑھتا ہے تو اس کی وجہ قرآن سے بے توجہی یا اس کا معارضہ نہیں ہوتا۔وہ چیز ہی بالکل اور ہے۔بہرحال ظاہری الفاظ کی حد تک آپ اس سے جہری نماز کے لیے بھی استدلال کرسکتے ہیں۔بعض آثار میں اس سے خطبہ جمعہ کے وقت خاموش رہنے کا حکم بھی اخذ کیا گیا ہے۔

مطیع سید: اس حوالے سے آپ کے خیال میں کون سا موقف زیادہ بہتر ہے ؟ امام مالک کا، امام شافعی کا یا امام ابوحنیفہ کا ؟

عمارناصر: مجھے امام مالک کا موقف زیادہ معقول لگتا ہے کہ سری نمازوں میں قراءت کی جا سکتی ہے۔اسی طرح جہری نمازوں کی آخری دو رکعتوں میں بھی کی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: کیاانور شاہ صاحب بھی اس کے قائل تھے ؟

عمارناصر: وہ بھی امام مالک کے موقف کے قائل تھے، اگر چہ انھوں نے اس کا جواز فقہ حنفی کے اندر سے ہی نکالنے کی کوشش کی ہے۔احناف کے ہاں ایک کمزور سی روایت ہے جو صاحب ہدایہ نقل کرتے ہیں کہ امام محمد سری نمازوں میں قراءت کے قائل تھے۔مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا تقی عثمانی کا بھی یہی رجحان ہے۔

مطیع سید: یہ ذراموضوع سے ہٹ کر سوال ہے کہ عمر احمد عثمانی صاحب کی فقہ القرآن کیسی کتاب ہے ؟

عمارناصر: اچھی علمی کتا ب ہے۔فقہی ذخیرے کی جو اہم بحثیں ہیں، ان کا انہوں نے محاکمہ کیا ہے۔ان کے بعض نتائج ِفکرسے اتفاق ہے، بعض سے نہیں ہے۔لیکن ان کا جو طرزِ استدلال ہے، اس میں کافی کمزوری ہے۔چیزیں سامنے ہو ں تو آدمی کمزوری سمجھ جاتاہے۔ان کا طرز استدلال اور نصوص کو دیکھنے کا انداز مجھے زیادہ متاثر کن نہیں لگا۔

مطیع سید :حدیث میں ہے کہ بیٹھے ہوئے امام کی اقتدا مقتدی بھی بیٹھ کر کریں۔(کتاب الصلوۃ، باب الامام یصلی من قعود، حدیث نمبر ۶۰۱) آپ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ انور شاہ صاحب اس کے قائل تھے۔

عمارناصر: جمہور تو قائل ہیں کہ یہ ہدایت منسوخ ہو گئی ہے، لیکن حنابلہ جواز کے قائل ہیں۔شاید علامہ انور شاہ صاحب کا رجحان بھی حنابلہ کی طرف ہے، لیکن مجھے مستحضرنہیں ہے۔

مطیع سید: امام ابوداود نے رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرنے کی روایتیں نقل کی ہیں اور ان کو ضعیف بتایا ہے۔(کتاب الصلوۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع، حدیث نمبر ۷۴۸ تا ۷۵۲) اس کے علاوہ صحیح مسلم میں رفع یدین کرنے کو گھوڑوں کی دم سے تشبیہ دینے کی روایت کو احناف دلیل کے طورپر پیش کرتے ہیں، اسے آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

عمارناصر: نہیں، اس کا رفع الیدین جو مشروع ہے، اس سے تعلق نہیں ہے۔رفع یدین ایک اصطلاح بھی ہے، اور رفع یدین کا ایک لغوی مفہوم بھی ہے۔اس روایت میں تو ایسے لگتا ہے کہ لوگ قعدے میں بیٹھے ہوئے، بے توجہی سے ہاتھ اوپر نیچے کررہے تھے۔مثلاً‌ کوئی ہاتھ سے کان پر خارش کر رہا ہے، کوئی ڈاڑھی کھجا رہا ہے، وغیرہ۔لغوی معنوں میں یہ بھی رفع یدین ہے جس کو آپ ﷺنے گھوڑے کی دم سے تشبیہ دی ہے۔گھوڑے کی دم بھی ایک جگہ ٹکی نہیں رہتی، کبھی ادھر اٹھتی ہے، کبھی ادھر اٹھتی ہے۔تو آپﷺ نے اس طرح بے ضرورت ہاتھوں کو حرکت دینے سے منع کیا ہے نہ کہ مشروع رفع یدین کو اس سے تعبیر کیا ہے۔

مطیع سید:یہ جو ذکر ملتا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز کی رکعتیں زیادہ یا کم پڑھا دیں، کیا وہ ایک ہی واقعہ ہے یا مختلف واقعات ہیں ؟

عمارناصر: ایسا مختلف واقعات میں ہوا۔

مطیع سید: ایک واقعے میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺنے سہواً‌ سلام پھیر دیا اور پھر لوگوں سے باتیں کیں اور اس کے بعد باقی نماز پڑھا دی۔(کتاب الصلوۃ، باب السہو فی السجدتین، حدیث نمبر ۱۰۰۸) توہمارے فقہا کیوں کہتے ہیں کہ بات کی تو نماز ٹوٹ گئی، اب دوبارہ پڑھیں ؟

عمارناصر: یہ احناف کا موقف ہے۔احناف کہتے ہیں کہ بنیادی طورپر کلام کرنا تو نماز کے منافی ہے، تو بہتر یہ ہے کہ اس کو ہم اس زمانے پر محمول کریں جب پہلے پہل نماز میں کلا م کی اجازت تھی، پھر بعد میں منسوخ کر دی گئی۔لیکن مالکیہ اس کے قائل ہیں کہ اگر اس طرح کی صورت حال میں نماز کی اصلاح کے لیے کلام کیا گیا ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔کلام کے بعد باقی ماندہ نماز مکمل کی جا سکتی ہے۔

مطیع سید: نماز کے فوراً‌ بعد ایک صحابی کھڑے ہوکر نفل پڑھنے لگے تو حضرت عمر فاروق نے روک دیا اور کہا کہ یہود عبادت کے اندر فاصلہ نہیں رکھتے۔کیا محض یہود کی مشابہت کی وجہ سے انہوں نے اس سے منع فرمایا ؟

عمارناصر: نہیں، یہود سے مشابہت تو ضمنی وجہ ہے۔مقصد یہ ہے کہ فرض نماز اور نفل نماز کو بالکل الگ الگ نظر آنا چاہیے۔اس کے لیے عام طورپر کہتے ہیں کہ یا تو صفیں توڑ دیں جس سے باجماعت نماز کی ہیئت باقی نہ رہے یا یہ کہ جگہ بدل لیں تا کہ یہ نظر آئے کہ فرض نماز ہو گئی ہے، اب یہ الگ نفل نماز پڑھ رہا ہے۔

مطیع سید: یہود نے ایسا کیا کیاتھا ؟

عمارناصر: یہ پتہ نہیں یہود کے ہاں ایسا کیا تھا۔ممکن ہے عرب میں جو یہود تھے، ان کا ایسا کوئی عمل سامنے ہواور انہوں نے چیزیں گڈ مڈ کر دی ہوں۔مجھے اس کی تحقیق نہیں ہے، لیکن یہ تلاش کرنی چاہیے جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے ہیں۔

مطیع سید: حضرت عبد اللہ بن زبیر کے دور میں ایک ہی دن جمعہ اور عید آگئی تو جمعہ اور عید کی نمازیں اکٹھی پڑھی گئیں۔(کتاب الصلوۃ، باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید، حدیث نمبر ۱۰۷۲)

عمارناصر: جی، صحابہ میں یہ عمل ملتا ہے کہ جمعہ اور عید اکٹھی آجائے تو عید کو تھوڑا موخر کر کے جمعہ کے ساتھ ادا کر لیا جائے تاکہ لوگوں کو بار بار گھر سے آنے کی دقت نہ ہو۔ابن ابی شیبہ میں تفصیلی روایات ہیں۔غالباً‌ نبی ﷺ کے متعلق بھی اس طرح کی کوئی روایت منقول ہے۔یہ ذہن میں رکھیں کہ اس دور میں جمعہ اور عید کی نماز مرکزی مقامات پر ہی ہوتی تھی اور مضافات وغیرہ سے لوگوں کو خاص اہتمام کر کے مکہ یا مدینہ جانا پڑتا تھا تاکہ جمعہ یا عید کی نماز ادا کر سکیں۔اس لیے صحابہ نے جمع بین الصلوتین کی جو سہولت شریعت نے خاص حالات میں دی ہے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جمعہ اور عید کو اکٹھا اد ا کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔

مطیع سید: نبی ﷺ سے جوروایت آتی ہے، اس میں تو ایسے لگ رہا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جماعت ایک ہی کافی ہے۔ایک پڑھ کر چلے جائیں، دوسری گھروں میں جا کر پڑھ لیں۔(کتاب الصلوۃ، باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید، حدیث نمبر ۱۰۷۰)

عمار ناصر: وہ روایت الگ ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ نماز عید کے لیے آئے ہیں، وہ عید پڑھ کرچلے جائیں اور انہیں جمعے کے لیے دوبارہ آنا ضروری نہیں۔یہ الگ مسئلہ ہے کہ دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیں۔

مطیع سید: جمعے کی اذان جس کا حضرت عثمان غنی نے اضافہ فرمایا، یہ کون سی اذان تھی؟ پہلی ہے یا دوسری ؟ (کتاب الصلوۃ، باب النداء یوم الجمعۃ، حدیث نمبر ۱۰۸۷)

عمارناصر:جو مسجد میں ہوتی تھی، وہ تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے ہو رہی ہے۔اضافہ جو حضرت عثمان نے جو کیا، وہ مسجد سے باہر اذان کا تھا۔خطبے سے پہلے جو دی جاتی ہے، وہ اصل اذان ہے۔

مطیع سید:وہ اس وقت کی ایک مجبوری تھی۔کیا آج بھی وہ وجہ ہے؟ اگر نہیں تو اس کی کیا ضرورت ہے ؟

عمارناصر:جی، اسے چھوڑ سکتے ہیں۔امام شا فعی اس کے قائل نہیں ہیں۔کتاب الام میں کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک وہ پہلا طریقہ ہی پسندیدہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔

مطیع سید: تو اس اضافی اذان کو کیوں جاری رکھا گیا، چھوڑ کیوں نہیں دیا گیا ؟

عمار ناصر: اصل میں ایک روایت چلی آرہی ہو تو اس کی بھی اپنی ایک حیثیت بن جاتی ہے۔صحابہ سے چلی آرہی تھی، فقہا نے بھی اس کو اختیار کرلیا تو ٹھیک ہے۔بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہے جو شروع تو ایک خاص تناظر میں ہوتی ہیں، لیکن پھر تعامل کی وجہ سے ان کی اپنی اہمیت بن جاتی ہے۔

مطیع سید:سہل بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو منبر پر یا منبر کے علاوہ کبھی دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے نہیں دیکھا۔(کتاب الصلوۃ، باب رفع الیدین علی المنبر، حدیث نمبر ۱۱۰۵)اس سے کیا مراد ہے ان کی ؟

عمارناصر: اصل میں وہ تبصرہ کر رہے ہیں کہ بعض خطباء خطابت کرتے ہوئے ہاتھوں اور بازووں کو جو بہت زیادہ حرکت دیتے ہیں، یہ طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں تھا۔

مطیع سید: گویا یہاں دعا کی بات نہیں ہورہی، تقریرکی بات ہو رہی ہے ؟

عمارناصر: مجھے تو ایسے ہی لگ رہا ہے کہ وہ اس تناظر میں ہے۔

مطیع سید: یہ باب رفع الیدین علی المنبر کے تحت روایت آئی ہے۔

عمارناصر: جی۔مراد یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ادھر ہاتھ چلا رہے ہیں، ادھر ہاتھ اٹھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہاتھ سے اور ایک انگلی کے اشارے سے جو کہنا ہوتا، وہ کہہ دیتے تھے۔

مطیع سید: امام ابوداؤد گوٹھ ما ر کربیٹھنے سے متعلق آپ ﷺ کے منع فرمانے کی روایت لائے ہیں اور ساتھ ہی صحابہ کا عمل بھی نقل کرتے ہیں کہ وہ ایسے بیٹھا کرتے تھے۔(کتاب الصلوۃ، باب الاحتباء والامام یخطب، حدیث نمبر ۱۱۱۰، ۱۱۱۱)

عمارناصر: گوٹھ مار کر بیٹھنا اصولا ً‌ تو منع نہیں ہے۔یہ کسی خاص پہلو سے اس سے منع کیا گیا ہوگا۔ہو سکتا ہے کہ گوٹھ مار کر بیٹھنے سے ستر کے کھلنے کا اندیشہ ہو یا اس لیے منع کیا گیا ہو کہ سستی اور نیند طاری نہ ہو اور آدمی توجہ سے خطبہ سنے۔

مطیع سید: امام جب خطبہ دے رہا ہوتا ہے تو احناف تو کہتے ہیں کہ اس وقت نفل نماز ادا نہ کریں، بلکہ خطبہ سنیں۔لیکن ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ایک آدمی آکر بیٹھنے لگا تو آپ نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کے لیے کہا۔(کتاب الصلوۃ، باب اذا دخل الرجل والامام یخطب، حدیث نمبر ۱۱۱۵)

عمارناصر: یہ سلیک غطفانی کا واقعہ ہے۔احناف یہ کہتے ہیں اور قرائن بھی یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت اصل مقصد اس کو نماز پڑھوانا نہیں تھا۔ورنہ تو ایک عمومی حکم بن جاتا کہ جو بھی آئے اور امام خطبہ دے بھی رہا ہو تو وہ نوافل پڑھے۔اصل حکم تو یہ ہے کہ امام جب آگیا تو خطبہ خود نماز کا ایک حصہ ہے۔مجھے اس میں احناف کی بات زیادہ وزنی لگتی ہے کہ اس صحابی کو ایک خاص مقصد کے لیے آپ ﷺ نے کھڑاکیا تھا۔وہ بیان بھی ہوئی ہے کہ اس پر مفلوک الحالی نمایاں تھی۔آپ نے اس کو کھڑا کر کے لوگوں کو صدقے کی ترغیب دی اور اس کے لیے کچھ سامان جمع ہو گیا۔

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(جنوری ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter