اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

پچھلی قسط میں انواعِ حدیث کے عنوان کے تحت مقبول حدیث   اور اس کی اقسام سے متعلق سنی و شیعہ مواقف کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا تھا ،اس قسط میں اسی موضوع کے دوسرے جزو یعنی مردود  حدیث کی اقسام  کے بارے میں سنی مصطلح الحدیث و شیعہ علم الدرایہ کا تقابلی جائزہ  نکات کی شکل میں لیا جائے گا :

(1) اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی جملہ اقسام میں ایک منطقی ترتیب ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ علمائے اہل سنت ضعیف حدیث کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں :

پہلی قسم وہ ضعیف حدیث ،جس کا سبب سقط فی السندیعنی سند میں کسی راوی کا سقوط ہو ،پھر  سقوط کو بھی دو قسموں میں منقسم کیا جاتا ہے:

اگر سقط ظاہر ہو تو اس سے ضعیف حدیث کی درجہ  ذیل اقسام بنتی ہیں:

معلق ،معضل ،مرسل ،منقطع

اور اگر سقط خفی ہو تو اس سے درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں :

مدلس اور مرسل خفی

دوسری قسم وہ ضعیف حدیث ،جس کا سبب طعن فی الراوی ہو ،یعنی راوی کی عدالت و ضبط میں کوئی مسئلہ ہو :

اگر عدالت میں مسئلہ ہو تو اس سے درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں :

موضوع،متروک ،منکر ،مجہول(حدیث مستور ،حدیث مبھم)

اگر ضبط میں مسئلہ ہو تو  اس سے درجہ ذیل اقسام بنتی ہیں:

مقلوب،مدرج،مضطرب،مصحف ،محرف ،شاذ،معلل(یہ وہم راوی سے پیدا ہوتا ہے ،جو ضبط سے متعلق ہے)منکر(یہ کبھی عدالت اور کبھی ضبط سے پیدا ہوتا ہے ،اس لئے دونوں جگہ اس کا ذکر ہے )1

علمائے اہل تشیع نے (اہل سنت کی متابعت میں )بھی کم و بیش یہی اقسام ذکر کئے ہیں ،لیکن  علمائے شیعہ نے ان اقسام کو ذکر کرنے وقت چند باتیں نظر انداز کی ہیں ،جن کا ذکر کیا جاتا ہے:

  • اہل تشیع محدثین نے ان اقسام کو بعینہ اہل سنت سے لے کر پہلی   بات   یہ نظر انداز کی ہے کہ  اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی یہ اقسام اصلا صحیح  حدیث کی شرائط ِخمسہ کے مفقود ہونے پر مبنی ہیں ،جب اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں صحیح حدیث کی تعریف ،اقسام و شرائط ہی مختلف ہیں ،جیسا کہ ما قبل میں مقبول حدیث کی اقسام کے تحت اس  کا ذکر ہوچکا ہے ،تو پھر صحیح حدیث کی شرائط کے عدم وجود پر مبنی ضعیف حدیث کی اقسام ایک جیسی کیونکر ہو سکتی ہیں؟(اس کی کچھ تفصیل  متصل  نکات میں آرہی ہیں)
  • ضعیف حدیث کی آٹھ اقسام   (مقلوب،مدرج،مضطرب،مصحف ،محرف ،شاذ،معلل  اور منکر)راوی کے ضبط کے نقص پر مبنی ہیں ،اہل تشیع محدثین کے ہاں جب راوی کے ضبط اور اس کے مختلف درجات معلوم کرنے کے لئے  کتب جرح وتعدیل  میں الفاظ   ہی موجود نہیں ہیں ،جیسا کہ ماقبل میں علامہ مامقانی  و علامہ بہائی کا حوالہ گزر چکا ہے ،تو اہل تشیع محدثین  کس بنیاد پر اپنے ذخیرہ حدیث میں ان  آٹھ اقسام کو معلوم کریں گے؟مثلا اہل تشیع محدثین کسی حدیث میں اضطراب ،ادراج یا قلب کس بنیاد پر معلوم کریں گے؟اہل سنت محدثین تو یوں معلوم کرتے ہیں کہ  جن دو یا دو سے زیادہ احادیث میں ادراج ،قلب یا تحریف و تصحیف معلوم کرنی  ہوتی ہے ،تو ان احادیث کے رواۃ  کا  ضبط کے اعتبار سے جائزہ لیتے ہیں اور کثیر الوہم و سوء الحفظ رواۃ کی روایات کو قلب ،ادراج یا تحریف و تصحیف پر محمول کر لیتے ہیں۔اہل تشیع محدثین نے ضعیف حدیث کی اقسام جوں کے توں اہل سنت سے لیکر اس جیسے  اساسی مفاہیم نظر انداز کر  دیے ہیں ۔
  • اہلسنت سے ضعیف حدیث کی اقسام جوں کا توں نقل کرنے کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ  اہل تشیع مصنفین نے حدیث ِشاذ اور حدیث معلل کو بھی ضعیف حدیث کی اقسام میں ذکر کیا ہے ،حالانکہ شہید ثانی کے بقول  حدیث کی صحت کے لئے  اس کا شذوز و علت سے خالی ہونا شرط نہیں ،کما مر ،بعض معاصر مصنفین جیسے جعفر سبحانی وغیرہ  نے شہید ثانی سے اختلاف کرتے ہوئے شذوذ و علت سے خالی ہونے کی شرط لگائی ہے ،ان کا ضعیف حدیث کی اقسام میں مذکورہ دونوں اقسام  کا ذکر درست ہے ،لیکن تعجب شہید ثانی پر ہے کہ ایک طرف صحتِ حدیث کے لئے شذوذ و علت سے خالی ہونے کو ضروری نہیں سمجھتے ،دوسری طرف ضعیف حدیث کی اقسام میں شاذ و معلل کو ذکر بھی کرتے ہیں ۔2
  • اہل تشیع کے ہاں حدیث  کی صحت کے لئے امامی ہونا شرط ہے ،اگر غیر امامی کی توثیق شیعہ علماکے نزدیک ثابت ہوچکی ہو تو اس کی حدیث حسن کہلاتی ہے ،لیکن اگر غیر امامی  غیر موثق راوی کی حدیث ہو تو وہ حدیث کی کونسی قسم بنتی ہے؟شیعہ محدثین کے ہاں ضعیف حدیث کی اقسام میں  یہ قسم نہیں ملتی ،اہل سنت  کے ہاں  یہ قسم متصور نہیں ہے  اور شیعہ اہل علم نے چونکہ ضعیف حدیث کی ساری اقسام اہل سنت محدثین سے بعینہ نقل کی ہیں ،اس لئے شیعہ علما کے ہاں بھی یہ قسم معدوم ہے ،حالانکہ اصولی  طور پر مقبول حدیث کی ایک اہم شرط "امامی " کے مفقود ہونے کی بنا پر ضعیف حدیث کی  جو قسم بنتی ہے ،اس کا ذکر ضعیف حدیث کی اقسام میں ہونا چاہیے ۔
  • اہل سنت کے ہاں  حدیث میں تدلیس اور ارسال خفی معلوم کرنے کے    بارہ کے قریب طریقے ہیں 3،اہل سنت محدثین نے ان طرق کی مدد سے  مدلس رواۃ کی فہرستیں مرتب کی ہیں 4، اور ان  فہارس کی مدد سے مدلس روایات  کا تعین کیا ہے ،یوں اہل سنت نے   تدلیس کی بحث ایک بھر پور تطبیقی عمل سے  گزر کر احادیث میں  مدلس روایات اور رواۃ میں مدلس رواۃ کا تعین کردیا ہے ،اہل تشیع نے بھی اہل سنت کی متابعت میں حدیث ضعیف کی اقسام میں مدلس و مرسل خفی کو ذکر تو  کردیا  ،لیکن اہل تشیع  نے اپنے ذخیرہ روایات سے مدلس احادیث و  تدلیس کرنے والے رواۃ کے تعین پر کوئی کام نہیں کیا ہے ،نیز اہل تشیع کے علم رجال و علم جرح و تعدیل کے اعتبار سے  اس کا تعین  کافی حد تک  مشکل بلکہ ناممکن ہے ،اس کی تفصیل ہم  ان شا اللہ اہل سنت اور اہل تشیع کے علم رجال و علم جرح و تعدیل کے تقابلی مطالعے میں پیش کریں گے ۔ اس لئے اہل تشیع کے ہاں  تدلیس و ارسال خفی کی بحث  صرف نظریے کی حد تک موجود ہے ۔
  • اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی ایک اہم ترین قسم حدیث ِمعلول  یا حدیث معلل ہے ،(بعض حضرات  اسے معل  سے بھی تعبیر کرتے ہیں)جہابذہ فن نے اس حدیث کی نظریاتی تشریح اور اس  کی عملی تطبیق پر بھر پور کام کیا ہے ، بطورِ نمونہ   چند ان کا ذکر کرنا چاہوں گا ،جو حدیثِ معلول کی کسی نہ کسی جہت سے متعلق ہیں :
    1. التاریخ و العلل ،ابو زکریا البغدادی
    2. الجامع فی العلل  و معرفۃ الرجال،امام احمد بن حنبل بروایۃ ابنیہ و تلامیذہ
    3. العلل الکبیر ،امام ترمذی
    4. العلل ،ابن ابی حاتم الرازی
    5. العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویہ ،امام دار قطنی
    6. العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیہ ،ابو الفرج الجوزی
    7. الالزامات و التتبع ،امام دار قطنی
    8. تقیید المہمل و تمییز المشکل ،ابو علی الغسانی
    9. العلل ،علی بن مدینی
  • محقق علی بن عبد اللہ الصیاح نے  اپنے رسالے "جہود المحدثین فی  بیان علل الاحادیث " میں  نویں صدی ہجری تک  حدیث معلول سے متعلق 149 بڑے محدثین کی تصنیفات کا ذکر کیا ہے ،اگر بقیہ پانچ صدیوں کی کتب کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو سو تک با آسانی پہنچ سکتی ہے ،ان کاوشوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہل سنت محدثین نے اس فن پر کس قدر توجہ دی ،یوں بظاہر بہت ساری  صحیح احادیث  میں   اس فن کی مددسے  متعدد علل خفیہ کا تعین کیا ہے ،جبکہ اس کے برخلاف اہل تشیع   علم الدرایہ کے اولین مصنفین  جیسے شہید ثانی کے ہاں تو علت سے خالی ہونا صحتِ حدیث کے شرط ہی نہیں ہے ، کما مر ،جبکہ بعض معاصر مصنفین نے اہل سنت کی متابعت میں  حدیث ِمعلول کو ضعیف حدیث کی اقسام میں ذکر تو کردیا ،لیکن اس کی عملی تطبیق   اور اس کی دوسری  جہات پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں ہوا ہے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل تشیع کے ہاں   اپنے ذخیرہ حدیث  میں سے ضعیف حدیث کے تعین   و تطبیق کا مسئلہ کتنا "سنجیدہ  " ہے؟
  • موضوع حدیث سے متعلق ہم اس سلسلے کی ایک قسط میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ خود   اہل تشیع کے  بقول  چودہویں صدی تک  موضوع احادیث پر شیعہ حلقوں میں کوئی کام نہیں ہوا ہے ،یوں ضعیف حدیث کی اقسام میں سے موضوع حدیث کا بیان بھی شیعہ علم الدرایہ میں نظریے کی حد تک موجود ہے ،لیکن  اس کی عملی تطبیق پر کام   نہ ہونے کے برابر ہے ،بلکہ ہوا ہی نہیں ،جیسا ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔
  • حدیث میں سقط ظاہری یعنی ارسال و انقطاع کا   علم بنیادی طور پر علم رجال میں طبقاتِ رواۃ اور رواۃ کے وفیات  پر لکھی گئی کتب سے ہوتا ہے ،کہ کونسا راوی کس طبقے میں آتا ہے ؟ کن کن شیوخ سے سماع و   لقا ثابت ہے ؟اور  کس راوی کا سن وفات کیا ہے ؟یوں اس کی مدد سے  احادیث میں انقطاع سند کا پتا لگایا جاتا ہے ،اہل تشیع کے علم رجال کو اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے ،تو اس حوالے سے بھی مایوسی ملتی ہے ،کیونکہ ان کے ہاں طبقاتِ رواۃ اور وفیات پر کام نہایت کم ہوا ہے ،محقق  حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:
    "إنّ الحديث عن عدم ذكر الإماميّۃ لتواريخ الرواۃ من حيث الوفاۃ، يمكن القول بأنّہ صحيح في الجملۃ،"5
    یعنی یہ بات کہ امامیہ نے رواۃ کے تواریخ وفات  کا ذکر نہیں کیا ہے ،فی الجملہ درست قرار دی جاسکتی ہے ۔حیدر حب اللہ نے اس قضیے کو اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کی ہے ،ہم اس پر تبصرہ بحث رجال و جرح  و تعدیل پر  ان شا اللہ کریں گے ۔اسی طرح طبقات کے تعین پر بھی اہل تشیع  کے ہاں جو کام ہوا ہے ،وہ اس لحاظ سے ناکافی ہے ،اس پر ہم اگلی بحث میں روشنی ڈالیں گے ،لھذا اہل تشیع کے ذخیرہ حدیث میں ارسال و انقطاع کا تعین بھی نہایت مشکل کام ہے ،یوں ضعیف حدیث کی سقطِ سند والی اقسام بھی ایک حد تک نظری ہیں ،ان کی  اہل تشیع کے پورے ذخیرہ حدیث پر تطبیق کافی مشکل ہے۔
  • یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب  ضعیف حدیث کی بنیادی اقسام (منقطع ،مدلس ،معلول ،موضوع وغیرہ ) پر اہل تشیع کے ہاں تطبیقی کام نہ ہونے کے برابر ہے اور  اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے میں ان تعریفات کی روشنی میں ان اقسام  کا تعین نہیں ہوا ،یا بہت کم ہوا ہے ،تو پھر  علم الدرایہ میں ضعیف حدیث اور اس کی اقسام محض نظریے کی حد تک  ذکر کرنے میں کیا فائدہ ہے؟یوں بات وہی ہے ،جو ہم اس بحث کے شروع میں ذکر  کر چکے ہیں کہ چونکہ علم الدرایہ شیعہ حدیث کی تدوین کے  تین صدیوں بعد منظر عام پر آیا ،یوں تدوینِ حدیث کا پیریڈ پورا ہونے کی وجہ سے علم الدرایہ تطبیق کے عمل سے نہیں گزرا اور محض نظری ہو کر رہ گیا،جیسا کہ مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے ۔

(2) اہل سنت کی علم مصطلح الحدیث کی کتب میں ضعیف حدیث  کی  بحث میں اوھی الاسانید کا ذکر ہوتا ہے ، یعنی سلاسل ِرواۃ  میں سے کون سے کون سے رواۃ کا سلسلہ ضعیف ہے ،اس  بحث سے معروف ائمہ حدیث ،بلدان اور حفاظ ِحدیث کے ضعیف طرق و اسناد سے واقفیت ہوجاتی ہے ، چنانچہ  محقق عبد الماجد غوری نے المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث  میں جو اوھی الاسانید ذکر کیے ہیں ،بطورِ نمونہ چند ملاحظہ فرمائیں :

  • اہل بیت  سے مروی  روایات میں اوھی الاسانید  یہ ہے:
    عمرو بن شمر عن جابر الجعفی ،عن الحارث الاعور،عن علی رضی اللہ عنہ
  • حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کی روایات  میں اوھی الاسانید یہ ہے:
    صدقہ بن موسی الدقیقی ،عن فرقد السبخی ،عن مرۃ الطیب ،عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ
  • حضرت عمر و حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  کی روایات میں ضعیف ترین سند یہ ہے:
    محمد بن القاسم بن عبد اللہ بن معر بن حفص بن عاصم بن عمر ،عن ابیہ ،عن جدہ
  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات میں اوھی الاسانید یہ ہے:
    السری بن اسماعیل ،عن داود بن یزید الاودی ،عن ابیہ ،عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایات کی ضعیف ترین سند یہ ہے:
    نسخۃ عند البصریین ،عن لحارث بن شبل ،عن ام الکندیہ ،عن عائشۃ رضی اللہ عنھا
  • حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات میں اوھی الاسانید یوں ہے:
    شریک عن ابی فزارہ عن ابی زید عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
  • حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایات کی اوھی الاسانید یہ ہے:
    داود بن المحبر بن قحذم ،عن ابیہ ،عن ابان بن ابی عیاش عن انس رضی اللہ عنہ
  •  مکی  رویات و رواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
    عبد اللہ بن میمون القداح ،عن شہاب بن خرا ،عن ابراہیم بن یزید الخوزی ،عن عکرمۃ ،عن ابن عباس رضی اللہ عنھما
  • یمنی روایات و راۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
    حفص بن عمر العدنی ،عن الحکم بن ابان ،عن عکرمۃ ،عن ابن عباس رضی اللہ عنھما
  • مصری روایات و رواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
    احمد بن محمد الحجاج بن رشدین بن سعد ،عن ابیہ ،عن جدہ ،عن قرۃ بن عبد الرحمان بن حیوئیل
  • شامی روایات ورواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
    محمد بن قیس المصلوب ،عن عبید الہ بن زحر ،عن علی بن یزید ،عن القاسم ،عن ابی امامۃ  رضی اللہ عنہ
  • خراسانی  روایات و رواۃ کی اوھی الاسانید یہ ہے:
    عبد اللہ بن عبد الرحمان بن ملیحۃ ،عن نہشل بن سعید،عن الصحابی ، عن ابن عباس رضی اللہ6

اس فہرست سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل سنت محدثین نے ضعیف رواۃ و روایات کی  تعیین میں کس قدر باریکی سے کام کیا ہے ،کیونکہ اوھی الاسانید فی فلاں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ویسے تو ممکن ہے کہ یہ رواۃ اپنی جگہ ثقہ و معتمد ہوں ،لیکن خاص اس سلسلے میں فلاں فلاں وجہ سے  ان رواۃ کی روایات قابلِ اعتماد نہیں ہونگی ،یوں حدیث کے ضعف میں محض رواۃ کی انفرادی ثقاہت  و ضعف  کی بجائے اجتماعی سلسلہ سند کو بھی  اہل سنت محدثین نے پیش ِ نظر رکھا ہے ،لیکن اس قسم کی  تفصیل اور یوں مفصل اوھی الاسانید کی فہارس اور ان کی رواۃ کا ذکر شیعہ علم الدرایہ میں مفقود ہے ۔

(3) اہلسنت محدثین نے ضعیف حدیث کی صحیح حدیث سے تمییز کے سلسلے میں مزید کام یہ  بھی کئے ہیں :

  • اشہر المولفات فی حدیث الضعیف  یعنی ان جملہ کتب کی تعیین کی ہے ،جو احادیث ِ ضعیفہ پر مشتمل ہیں ،جیسے  حکیم ترمذی کی نواد الاصول ،مسند شہاب ،مسند فردوس وغیرہ
  • الکتب الخاصہ بانواع الحدیث الضعیف ،یعنی وہ کتب جن میں ضعیف حدیث کی خاص خاص اقسام کو جمع کیا گیا ہے ،جیسے  ابو داود کی المراسیل ، الرازی کی العلل ،یا البانی کی سلسلہ الاحادیث الضعیفہ و الموضوعہ وغیرہ
  • الکتب المولفۃ فی تراجم الرواۃ  الضعفاء یعنی وہ کتب رجال جن میں خاص طور پر غیر ثقہ رواۃ کے حالات درج ہوں ،جیسے  عقلیلی کی الضعفاء الکبیر ،ابن حبان کی معرفۃ المجروحین ، ابن عدی کی الکامل فی ضعفا ء الرجال ، عسقلانی کی لسان المیزان وغیرہ

جبکہ شیعہ محدثین کے ہاں اس قسم کی سرگرمیاں نایاب یا نہایت کمیاب ہیں ۔

حواشی

  1.  دیکھیے:الحدیث الضعیف و حکم الاحتجاج بہ ،عبد الکریم بن عبد اللہ الخضیر،دار المسلم للنشر و التوزیع ،ریاض
  2.  دیکھیے:البدایہ فی علم الدرایہ ،زین الدین عاملی ،قم مقدسہ ،ص30،36
  3.   المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ،ص765
  4.   ایضا:ص 395
  5.  المدخل الی موسوعۃ الحدیث ،حیدر حب اللہ ،ص515
  6.  المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث ،عبد الماجد غوری ، 692-693

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(مئی ۲۰۲۰ء)

Flag Counter